Skip to main content

Ik Khwab ki Dehleez per (Ep 07) By Saira Ghaffar Complete Online Urdu Novel

     

#SairaGhaffarWriter ,   #Saira ,    #SairaGhaffar    #Urdunovels      #OnlineUrduNovels


Ik Khwab ki Dehleez per

By Saira Ghaffar 

Complete Online Urdu Novel



#SairaGhaffarWriter ,   #Saira ,    #SairaGhaffar    #Urdunovels      #OnlineUrduNovels


اک خواب کی دہلیز پر

(سائرہ غفار)


قسط نمبر 07

 

بہن ہمیں جہیز کی بالکل بھی حاجت نہیں ہے۔اللہ کا دیا ہمارے گھر میں سب کچھ موجود ہے بس آپ کی بیٹی جلدی سے ہمارے گھر آکررونق بڑھا دے۔“صوفیہ خاتون منگنی کے بعد سے روزانہ  ہی فون کرتی تھیں اور بجو سے ان کی پسند نا پسند پوچھتی رہتی تھیں۔آج وہ زیب النساء کو جہیز کی تیاری کرنے سے منع کر رہی تھیں۔

ارے ہم سے جو بن پڑا اپنی بیٹی کے لئے کریں گے۔خالی ہاتھ تھوڑی بھیج سکتے ہیں اب……بچوں کے بھی کچھ ارمان ہوتے ہیں اس دن کو لے کر……“زیب النساء کے لہجے میں خلوص کی چاشنی کے ساتھ محبت بھی گھلی ہوئی تھی۔

ارے تو نورین بیٹی سے بات کروائیں میری……اسے جو بھی لینا ہے مجھے بتائے کیونکہ اب سے وہ میری بیٹی ہے……“

زیب النساء ہنس دیں۔اتنے میں بجو بھی آگئیں:”لیجئے بات کیجئے اپنی بیٹی سے

نورین،صوفیہ خاتون سے باتیں کرنے لگیں اور زیب النساء نگار کی طرف چل پڑیں کیونکہ ان کو مہمانوں کے رہنے کے انتظامات کرنے کے لئے نگار اور ساران سے کچھ مشورہ طلب کرنا تھا۔

……٭……٭……

اور دلہے میاں کیسی جا رہی ہیں تیاریاں؟“ساران نے عرفان کو چھیڑا۔

عرفان شرما گیا،اس کے چہرے پر بہت ہی خوبصورت مسکراہٹ سجی ہوئی تھی۔ساران اسے دیکھتا ہی رہ گیا۔عرفان جھینپ کر بولا:”نظر لگانے کا ارادہ ہے کیا؟

نہیں یار!میں اپنی بجو کی زندگی سے جڑے کسی انسان کو نظر لگانے کے متعلق سوچ بھی نہیں سکتا

کیوں؟تمہاری بجو اتنی بھی کوئی اچھی نہیں ہے اب۔“اب کے عرفان نے ساران کو چھیڑا۔

خبردار جو میری بجو کے متعلق ایک بھی لفظ منہ سے نکالا تو……“ساران نے خفا ہوتے ہوئے کہا۔

ارے ارے ابھی تو میں نے اسے کچھ بھی نہیں کہا تم تو خوامخواہ ہی طیش میں آرہے ہو۔

ساران مسکرا دیا:”چلو جاؤ یار معاف کیا ……کیا یاد کرو گے تم بھی۔بجو کے منگیتر نہ ہوتے تو کان کے نیچے بجا ڈالتا۔

عرفان نے اس کی طرف جھکتے ہوئے سرگوشی کی:”یار میں نے تو تمہاری بجو کو ٹھیک سے دیکھا بھی نہیں۔

ساران اس کی بات سمجھ کر مسکرانے لگا:”نو چانس میرے پیارے دوست!انتظارفرمائے ویسے بھی صرف ہفتے بھر کی تو بات ہے۔پھر جی بھر کے دیکھتے رہئے گا۔

عرفان نے اسے گھورتے ہوئے کہا:”کیسے دوست ہو تم؟اپنے دوست کی ذرا سی خواہش پوری نہیں کرسکتے؟

ساران نے نفی میں سرہلاتے ہوئے کہا:”نو نیور جناب کبھی بھی نہیں کرسکتا۔

عرفان پیچ و تاب کھا کر رہ گیا وہ غصے سے اٹھ کر جانے لگا تو ساران نے ہنستے ہوئے اس کا ہاتھ پکڑ کر کہا:”آج شام کو نگہت،سدرہ،امل اور بجو کو آئس کریم کھلانے لے آؤں گا میں۔

عرفان کے لبوں کو خوبصورت سی مسکان نے چھوا:”کس جگہ پر؟

ساران زور سے ہنسا:”وہ جگہ ڈھونڈنا تیرا کام ہے۔

ساران کے بچے میں تجھے جان سے مارڈالوں گا……“

ساران کا جاندار قہقہہ فضا میں بلند ہوا۔

عرفان نے غصے سے کہا:”مرو تم!“اور پیر پٹختا ہوا وہاں سے چل دیا۔

……٭……٭……

ساران شام کو ان چاروں کو آئس کریم کھلانے ایک آئیس کریم پارلر میں پہنچ گیااور اس کی سوچ کے مطابق عرفان وہاں پہلے سے موجود تھا۔بجو عرفان کو دیکھ کر پزل ہوگئیں۔ساران نے بجو کو عرفان کی ٹیبل پر چھوڑا اور اس کے بالکل ساتھ والی ٹیبل پر ان تینوں کے ساتھ خود بیٹھ گیا۔عرفان نے اسے دیکھتے ہوئے کہا:”یار اب چوکیداری تو مت کرو پلیز!“

ساران کے ساتھ وہ چاروں بھی ہنسنے لگیں۔

نگہت مسکراتے ہوئے بولی:”عرفان بھائی پہلے آپ وعدہ کریں کہ کوئی شرارت نہیں کریں گے۔“عرفان کھسیانا سا ہوگیا۔

ساران بولا:”یار وہ کیا ہے ناں کہ جہاں بات میری بجو کے متعلق ہو وہاں میں کوئی رسک نہیں لے سکتا۔میں بجو کے متعلق بہت زیادہ ٹچی ہوں۔“ساران کے لہجے میں بجو کے لئے عزت،احترام اور پیار سبھی کچھ تھا۔بجو نے بھی اسے جواباً عقیدت بھری نظروں سے سراہا۔

عرفان بولا:”یار ایسا کرو کہ یہ دونوں کرسیاں بھی وہیں لگا لو۔تم لوگوں نے مجھے تو ویسے بھی کوئی بات کرنے نہیں دینی۔“وہ کھڑا ہوا تو بجو اور اپنی کرسی کو بھی ساران کی میز کے گرد لگا کر دونوں ان کے ساتھ ہی بیٹھ گئے۔

خوش گپیوں میں انہوں نے بہت سارا وقت گزاردیا۔پھر اچانک سدرہ کی نظر گھڑی پر پڑی تو وہ چلائی:”بھائی……بارہ بج گئے……“

وہ سب اٹھے اور گھر کی طرف دوڑیں لگادیں۔

……٭……٭……

امی آپ کچھ پریشان سی لگ رہی ہیں کیا بات ہے؟“ساران کئی دنوں سے نگار بیگم کو پریشان محسوس کر رہا تھا۔

کک……کچھ نہیں!“نگار بیگم اسے شبانہ کے متعلق ابھی کچھ بھی نہیں بتانا چاہتی تھیں۔

کچھ تو ہے امی……پلیز بتائیں ناں؟کیا میں آپ کا اچھا بیٹا نہیں ہوں؟“ساران ان کے گھٹنوں پر سر رکھ کر لیٹ گیا۔

نگار بیگم اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے سسکنے لگیں۔وہ ایک دم سیدھا ہو کر بیٹھ گیا:”کیا ہوا امی……پلیز کچھ تو بولیں ……امی……امی پلیز

وہ……ان……جم……شبا……نہ……انجم……“

کیا ہوا ہے خالہ کو؟اور کیا ہو اہے شبانہ کو؟“ساران پریشان ہوگیا تھا۔

کچھ نہیں ہوا!شبانہ کا رشتہ ……کہیں اور کردیا ہے……انجم نے“نگار بیگم نے بمشکل بات مکمل کی۔

ساران کو لگا کہ جیسے اس کے سر سے کوئی بھاری بوجھ ہٹ گیا ہو۔وہ اٹھا اور پانی کا گلاس بھر کر لے آیا۔اس نے گلاس نگار بیگم کے ہونٹوں سے لگایا۔نگار بیگم نے دو گھونٹ بھر کر اسے دیکھا۔ انہیں ساران کے چہرے پر کوئی ملال کوئی دکھ محسوس نہ ہوا۔ان کو محسوس ہوا جیسے وہ بھی ہلکی پھلکی ہو گئیں ہیں۔

……٭……٭……

شبانہ چلی گئی ہے……“

جانتی ہوں ……“

جانتی ہو تو اتنی خاموش کیوں ہو؟

کیا کہوں؟

مجھ سے شادی کرو گی؟

خیالوں میں؟

نہیں حقیقت میں!“

تم تو مجھے خواب کی دہلیز پر دھرے رہتے ہو……حقیقت میں کیسے حاصل کرو گے؟

وہ تم مجھ پر چھوڑ دو!“

ٹھیک ہے……چھوڑ دیا!“

ساران نے تھک کر آنکھیں موند لیں۔امل کی شبیہہ کے اقرار نے ہی اسے بہت ہلکا پھلکا کردیا تھا۔بہت عرصے کے بعد وہ سکون کی نیند سویا۔

……٭……٭……

کئی روز سے باتوں کا سلسلہ جاری تھا۔دونوں رات بھر باتیں کرتے رہتے تھے۔اب ملاقات کا دن آرہا تھا۔سیما اس سے ملاقات کے لئے تیار ہوگئی تھی بہت ہی آرام سے……وہ اس کے شکنجے میں بری طرح سے پھنس چکی تھی۔

ملاقات کے لئے انہوں نے ایک ریسٹورنٹ کا انتخاب کیا تھا۔سیما نے اس ملاقات کے لئے خصوصی تیاری کی تھی۔وہ مقررہ وقت پر جب ریسٹورنٹ پہنچی تووہاں اپنے نور بی بی اور عمر کو موجود پا کر بوکھلا گئی۔

نور بی بی نے اس کا سر تا پیر جائزہ لیتے ہوئے پوچھا:”یہ تمہاری دوست کا گھر ہے جس سے ملنے تم آئیں تھیں؟

سیما کو پہلی بار خوف محسوس ہوا۔عمر اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھ رہا تھا۔اتنے میں سیما کا موبائل بجا تو عمر نے فوراً اچک لیا:”کون بات کر رہا ہے؟سامنے آؤ؟

سامنے نہیں ہم آپ کے پیچھے کھڑے ہیں ……“نسوانی آواز  سن کر وہ پلٹا تو پلک جھپکنا بھول گیا


                              پچھلی قسط                                       اگلی قسط


#SairaGhaffarWriter ,   #Saira ,    #SairaGhaffar    #Urdunovels      #OnlineUrduNovels


Comments

Popular posts from this blog

Wo merey dil ka malal hay by Saira Ghaffar Complete Online Urdu Novel

Wo merey dil ka malal hay  By Saira Ghaffar  Complete Online Urdu Novel وہ میرے دل کاملال ہے (سائرہ غفار) قسط نمبر 1 ”مج……مجھ……جھ……ے……ے……ے……بچ……چا……لل……وووو……“اس کی آواز اُسے صاف سنائی دے رہی تھی۔  وہ اس کے سامنے کھڑی ا س کی ابلتی ہوئی آنکھیں دیکھ رہی تھی۔ وہ دیکھ رہی تھی کہ کیسے اس کی بہن تڑپ تڑپ کر منہ سے خون کی الٹیاں کررہی ہے۔ وہ دیکھ رہی تھی ……صاف……اور واضح……اسے دکھائی دے رہاتھا……سب کچھ……ایک دم صاف ……ایک ایک چیز اسے نظر آرہی تھی……اسے وہ میرون اور گولڈن چوڑیاں بیڈ سے ٹکرا کر ٹوٹتی ہوئی نظر آرہی تھیں جو اس نے خو داس کے ساتھ جا کر پسند کروائیں تھیں۔ ”دیکھو ذرا……یہ چوڑیاں میرے لہنگے کے ساتھ کیسی لگیں گی؟“ ”بہت پیاری……تم یہی لینا۔“ اس کے سامنے وہی چوڑیاں اس کی کلائی میں پیوست ہوتی جارہی تھیں۔وہ درد کے مارے تڑپ کر کبھی اِدھر گر رہی تھی تو کبھی اُدھر۔ اس سب میں اس کی جیولری ہر طرف سے بے ترتیب ہورہی تھی۔ اس کا نیکلس گردن میں پھندا ڈال رہاتھا۔یہ تنگ نیکلس بھی اُسی نے پسند کروایا تھا۔ ”یہ لمبا نیکلس مت لو……اچھا نہیں لگے گا……کوئی چھوٹے سائز کا لو……جو گ...

Phantosmia (EP 3) By Saira Ghaffar Complete Online Urdu Novel

Phantosmia By   Saira Ghaffar   Complete Online Urdu Novel فینٹوسمیا (سائرہ غفار) قسط نمبر 3 ”یہ تم کیا کرتی رہتی ہو ہروقت؟ کیا فالتو کے اخبار پھاڑ پھاڑ کر پھول بنا کر ان گملوں میں سجاتی رہتی ہو؟“دلاور کے جانے کے بعد سارا نزلہ معصوم سی کائنات پہ گرنے لگاتھا۔ کائنات نے سہم کر ماں کو دیکھا جو جارحانہ انداز میں کاغذ کے پھولوں سے سجے گملوں کی طرف پیش قدمی کر رہی تھی۔ کائنات نے ایک دم سامنے آکر ماں کو روک دیا:”امی یہ میرے پھول ہیں پلیز ان کو کچھ مت کریں۔“ ”فالتو کام تم دونوں باپ بیٹی کے شوق ہیں۔ بیکار اور فضول کاموں میں اپنا وقت برباد کرتے رہتے ہو۔ جاؤدفع ہوجاؤ یہاں سے۔“شاہدہ نے غصے سے بیٹی کو دھکا دیا۔ اور خود دوسرے کمرے میں چلی گئیں۔ کائنات نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ اس کے پھول اور گملے بچ گئے ورنہ شاہدہ کے غصے سے وہ خود بھی واقف تھی۔ وہ پھر سے اپنے محبوب مشغلے یعنی اخبار اور مختلف کترنوں سے پھول بنانے میں نئے سرے سے جت گئی۔ ………………………… دلاور گھر واپس آیا تو گیٹ پہ اس کی ملاقات شہزاد اور اس کی فیملی سے ہوگئی۔ شہزاد اور دلاور سلام دعا کرنے لگے تو طوبیٰ چا...

Phantosmia (EP 11) By Saira Ghaffar Complete Online Urdu Novel

Phantosmia By   Saira Ghaffar   Complete Online Urdu Novel فینٹوسمیا (سائرہ غفار) قسط نمبر 11 چند دن بعد وہ لوگ رپورٹس لے کر دوبارہ ڈاکٹرشانزے کے پاس پہنچے۔ڈاکٹر نے تمام رپورٹس چیک کرنے کے بعد ان کو خوش خبر ی سنائی۔ ”سب کچھ بالکل پرفیکٹ ہے۔ میرا ڈر صرف وہم تھا۔ “ ”ڈاکٹر کیا آپ ہمیں بتا سکتی ہیں کہ آپ کو کیا وہم تھا؟“کائنات نے پہلی بار سوال کیا تھا۔ ”جی بالکل بیٹا میں بتا سکتی ہوں ……دراصل یہ جو مسئلہ آپ کے ساتھ ہے آپ کو مختلف اچھی بری قسم کی بو محسوس ہوتی ہے۔ یہ اصل میں فینٹوسمیا کہلاتی ہے۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کا کوئی مستقل علاج نہیں ہے۔ اصل میں یہ مسئلہ بذات خود کوئی مسئلہ نہیں بلکہ یہ ایک علامتی مسئلہ ہے۔ جن لوگوں کو یہ بو محسوس ہونے کی شکایت رہتی ہے ان کو ایک یا پھر دونوں نتھنوں سے بو محسوس ہوتی ہے۔ یہ برین ٹیومر کی نشاندہی ہوتی ہے۔“ڈاکٹرسانس لینے کو رکی۔ ”برین ٹیومر؟“شاہدہ اور دلاور ایک دم پریشان ہوگئے تو ڈاکٹر شانزے نے مسکرا کر ان کو دیکھا:”آپ لوگ شکر کریں کہ آپ کی بیٹی کا ایم آر آئی بالکل کلئیر اور بالکل صاف ہے۔ اسے صرف فینٹوسمیا ہے۔ جو کہ کچ...