Skip to main content

Ik Khwab ki Dehleez per (Ep 08) By Saira Ghaffar Complete Online Urdu Novel

#SairaGhaffarWriter ,   #Saira ,    #SairaGhaffar    #Urdunovels      #OnlineUrduNovels

Ik Khwab ki Dehleez per

By Saira Ghaffar 

Complete Online Urdu Novel


#SairaGhaffarWriter ,   #Saira ,    #SairaGhaffar    #Urdunovels      #OnlineUrduNovels

اک خواب کی دہلیز پر

(سائرہ غفار)

قسط نمبر 08


امل،نگہت،سدرہ اور رومی چاروں وہاں موجودتھے۔

کیوں آنٹی آپ کی بیٹی تو بہت ہی زیادہ پارسا تھی ناں؟لیکن یہ کیا؟یہ تو کسی لڑکے کو اپنی باتون اور اداؤں میں پھنسا کر یہاں تک لے آئی……چچ چچ چچ……“امل نے طنزیہ انداز میں کہا۔

تم……تم……تمہیں کس نے کہا؟ہم تو یہاں کھانا کھانے آئے ہیں ……“نور بی بی نے خود پر قابو پاتے ہوئے بات بنائی۔

اوہ رئیلی؟“امل نے ٹھنڈے ٹھار لہجے میں پوچھا:”تو یہ جو ساری ساری رات میرے بہنوئی سے فون پر باتیں کر کے ان کورجھانے کی کوشش میں مصروف رہتی تھی تو گویا وہ آپ کی بیٹی نہیں بلکہ آپ خود تھیں؟

اور یو شٹ اپ!“عمر زور سے دھاڑا۔

یو شٹ اپ مسٹر!“امل بھی غصے سے دھاڑی:”تم لوگوں کی اوقات ہی نہیں ہے کہ تم لوگوں سے بات کی جائے……جن کے اپنے من میں کھوٹ ہو وہی لوگ دوسروں پر چلاتے ہیں۔سمجھے؟

رومی نے آرام سے کہا:”چلو امل ہمیں دیر ہو رہی ہے۔“امل نے سر ہلایا اور ایک تیز نظر ان تینوں میں ڈالتی ہوئی وہاں سے چل پڑی۔

……٭……٭……

شادی کی تیاریاں زوروشوروں سے جاری تھیں۔ساران بھی بری طرح مصروف تھا مگر وہ چاہتا تھا کہ نگار بیگم سے امل کے لئے بات کرے۔لیکن وہ ہمت ہی نہیں جمع کر پا رہا تھا۔ وہ اپنی ماں کے سامنے اپنی خواہش کا اظہار کرنے سے کترا رہا تھا۔ اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ اپنے دل کی بات کیسے کرے۔ اس کا دل شدتوں سے کسی معجزے کی راہ تک رہا تھا۔ کسی ایسے معجزے کی راہ……جس کے ہونے کی اسے رتی برابر بھی توقع نہیں تھی۔

……٭……٭……

وہ صبح صبح اپنے کمرے سے نکلا تو نگہت اورسدرہ اپنی ماں کے کان میں گھسی کوئی کھچڑی پکا رہی تھیں۔ اسے دیکھ کر ایک دم سے تینوں خاموش ہو گئیں۔ اس نے تعجب سے تینوں کو دیکھا اور معنی خیز نظروں سے ایک دوسرے کودیکھنے لگیں۔

کیا ہوا ہے؟ سب خیریت ہے؟“اس نے شرٹ کے بازو فولڈ کرتے ہوئے پوچھاتھا۔

بالکل بھائی سب خیریت ہے۔“نگہت نے مسکراتےہوئے کہا۔

لگ تو نہیں رہا۔“اس نے فریج سے پانی کی بوتل نکالی تھی۔

’’ارے بھئی چپ کرو کیوں تنگ کرتی رہتی ہو میرے معصوم بچے کو۔“نگار نے نگہت کو ڈپٹا:”جاؤ سدرہ بھائی کے لئے چائے بنا کر لاؤ۔

نہیں امی چائے نہیں پیوں گا۔ عرفان کے یہاں جا رہا ہوں۔ اس کے ساتھ پیوں گا چائے۔“ساران نے پانی کا گلاس خالی کر کے رکھا اور بائیک کی چابی اٹھالی۔

ارے بیٹا پانچ منٹ رکو تو سہی تم سے ضروری بات کرنی ہے مجھے۔“نگار بیگم نے ضروری بات کا کہا تو ساران نے چونک کر ان کی طرف دیکھا۔اور پھر ان کے برابرمیں آکر بیٹھ گیا:”جی امی۔ کہیے؟

بیٹا میں نے تمہارے لئے ایک لڑکی پسند کی ہے۔“ساران کے چہرے پہ ایک سایہ سا آکر گزر گیا۔وہ خاموشی سے بائیک کی چابی کو گھورنے لگا۔

بھائی پوچھیں گے نہیں لڑکی کون ہے؟“سدرہ نے چائے کا کپ سامنے لا کر رکھتے ہوئے پوچھا۔

ساران نے سر ہلا کر کہا:”ہاں بتاؤ کون لڑکی ہے؟“اس کا لہجہ ہر تاثر سے خالی تھا۔

سدرہ اور نگہت ایک ساتھ چلائیں:”امل……ہماری اپنی امل……“ساران نے ایک دم حیرت سے ان دونوں کو دیکھا اور پھر بے یقینی سے نگار کو دیکھاتو انہوں نے مسکراتے ہوئے سر ہلایا۔ساران کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کس طرح ری ایکٹ کرے،خوش ہو، چلائے، چیخے کیا کرے۔ وہ ہلکا سا مسکایا اور چائے کا کپ لبوں سے لگا لیا۔

وہ بہت خوش تھا……اتنا خوش وہ زندگی میں آج سے پہلے کبھی نہیں ہوا تھا……وہ معجزہ جس کے ہوجانے کی اسے بالکل توقع نہیں تھی وہ معجزہ حقیقت بن گیا تھا۔ اسے بالکل یقین نہیں آرہاتھا۔ اپنی قسمت پہ  ناز کرنے کا دل چاہ رہاتھا۔ نیت صاف ہو تو منزل آسان ہو ہی جاتی ہے۔ اس کے عشق کا سفر طویل ضرور تھا مگروہ منزل پہ پہینچ گیا تھا۔ اور منزل ایسی پیاری تھی کہ اسے خود پہ ہی رشک آرہاتھا۔ وہ گھر سے چابی لہراتا نکلا۔ اس نے اپنی چال میں اعتماد محسوس کیا۔ اس نے سر اٹھا کر سامنے والے گھر کو دیکھا تھا۔ اس کی منزل بھی یہیں تھی اور سفر شروع بھی یہیں سے ہوا تھا۔ وہ خوش قسمت تھا کہ منزل کو حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا تھا۔ دل ہی دل میں اپنے رب کا بے پناہ شکر ادا کر تے ہوئے اس نے بائیک کواسٹارٹ کیا اور عرفان کے گھر کی طرف روانہ ہو گیا۔

……٭……٭……

پچھلی قسط                                     

#SairaGhaffarWriter ,   #Saira ,    #SairaGhaffar    #Urdunovels      #OnlineUrduNovels

Comments

Popular posts from this blog

Wo merey dil ka malal hay by Saira Ghaffar Complete Online Urdu Novel

Wo merey dil ka malal hay  By Saira Ghaffar  Complete Online Urdu Novel وہ میرے دل کاملال ہے (سائرہ غفار) قسط نمبر 1 ”مج……مجھ……جھ……ے……ے……ے……بچ……چا……لل……وووو……“اس کی آواز اُسے صاف سنائی دے رہی تھی۔  وہ اس کے سامنے کھڑی ا س کی ابلتی ہوئی آنکھیں دیکھ رہی تھی۔ وہ دیکھ رہی تھی کہ کیسے اس کی بہن تڑپ تڑپ کر منہ سے خون کی الٹیاں کررہی ہے۔ وہ دیکھ رہی تھی ……صاف……اور واضح……اسے دکھائی دے رہاتھا……سب کچھ……ایک دم صاف ……ایک ایک چیز اسے نظر آرہی تھی……اسے وہ میرون اور گولڈن چوڑیاں بیڈ سے ٹکرا کر ٹوٹتی ہوئی نظر آرہی تھیں جو اس نے خو داس کے ساتھ جا کر پسند کروائیں تھیں۔ ”دیکھو ذرا……یہ چوڑیاں میرے لہنگے کے ساتھ کیسی لگیں گی؟“ ”بہت پیاری……تم یہی لینا۔“ اس کے سامنے وہی چوڑیاں اس کی کلائی میں پیوست ہوتی جارہی تھیں۔وہ درد کے مارے تڑپ کر کبھی اِدھر گر رہی تھی تو کبھی اُدھر۔ اس سب میں اس کی جیولری ہر طرف سے بے ترتیب ہورہی تھی۔ اس کا نیکلس گردن میں پھندا ڈال رہاتھا۔یہ تنگ نیکلس بھی اُسی نے پسند کروایا تھا۔ ”یہ لمبا نیکلس مت لو……اچھا نہیں لگے گا……کوئی چھوٹے سائز کا لو……جو گ...

Phantosmia (EP 3) By Saira Ghaffar Complete Online Urdu Novel

Phantosmia By   Saira Ghaffar   Complete Online Urdu Novel فینٹوسمیا (سائرہ غفار) قسط نمبر 3 ”یہ تم کیا کرتی رہتی ہو ہروقت؟ کیا فالتو کے اخبار پھاڑ پھاڑ کر پھول بنا کر ان گملوں میں سجاتی رہتی ہو؟“دلاور کے جانے کے بعد سارا نزلہ معصوم سی کائنات پہ گرنے لگاتھا۔ کائنات نے سہم کر ماں کو دیکھا جو جارحانہ انداز میں کاغذ کے پھولوں سے سجے گملوں کی طرف پیش قدمی کر رہی تھی۔ کائنات نے ایک دم سامنے آکر ماں کو روک دیا:”امی یہ میرے پھول ہیں پلیز ان کو کچھ مت کریں۔“ ”فالتو کام تم دونوں باپ بیٹی کے شوق ہیں۔ بیکار اور فضول کاموں میں اپنا وقت برباد کرتے رہتے ہو۔ جاؤدفع ہوجاؤ یہاں سے۔“شاہدہ نے غصے سے بیٹی کو دھکا دیا۔ اور خود دوسرے کمرے میں چلی گئیں۔ کائنات نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ اس کے پھول اور گملے بچ گئے ورنہ شاہدہ کے غصے سے وہ خود بھی واقف تھی۔ وہ پھر سے اپنے محبوب مشغلے یعنی اخبار اور مختلف کترنوں سے پھول بنانے میں نئے سرے سے جت گئی۔ ………………………… دلاور گھر واپس آیا تو گیٹ پہ اس کی ملاقات شہزاد اور اس کی فیملی سے ہوگئی۔ شہزاد اور دلاور سلام دعا کرنے لگے تو طوبیٰ چا...

Phantosmia (EP 11) By Saira Ghaffar Complete Online Urdu Novel

Phantosmia By   Saira Ghaffar   Complete Online Urdu Novel فینٹوسمیا (سائرہ غفار) قسط نمبر 11 چند دن بعد وہ لوگ رپورٹس لے کر دوبارہ ڈاکٹرشانزے کے پاس پہنچے۔ڈاکٹر نے تمام رپورٹس چیک کرنے کے بعد ان کو خوش خبر ی سنائی۔ ”سب کچھ بالکل پرفیکٹ ہے۔ میرا ڈر صرف وہم تھا۔ “ ”ڈاکٹر کیا آپ ہمیں بتا سکتی ہیں کہ آپ کو کیا وہم تھا؟“کائنات نے پہلی بار سوال کیا تھا۔ ”جی بالکل بیٹا میں بتا سکتی ہوں ……دراصل یہ جو مسئلہ آپ کے ساتھ ہے آپ کو مختلف اچھی بری قسم کی بو محسوس ہوتی ہے۔ یہ اصل میں فینٹوسمیا کہلاتی ہے۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کا کوئی مستقل علاج نہیں ہے۔ اصل میں یہ مسئلہ بذات خود کوئی مسئلہ نہیں بلکہ یہ ایک علامتی مسئلہ ہے۔ جن لوگوں کو یہ بو محسوس ہونے کی شکایت رہتی ہے ان کو ایک یا پھر دونوں نتھنوں سے بو محسوس ہوتی ہے۔ یہ برین ٹیومر کی نشاندہی ہوتی ہے۔“ڈاکٹرسانس لینے کو رکی۔ ”برین ٹیومر؟“شاہدہ اور دلاور ایک دم پریشان ہوگئے تو ڈاکٹر شانزے نے مسکرا کر ان کو دیکھا:”آپ لوگ شکر کریں کہ آپ کی بیٹی کا ایم آر آئی بالکل کلئیر اور بالکل صاف ہے۔ اسے صرف فینٹوسمیا ہے۔ جو کہ کچ...