#SairaGhaffarWriter , #Saira , #SairaGhaffar #Urdunovels #OnlineUrduNovels
Ik Khwab ki Dehleez per
By Saira Ghaffar
Complete Online Urdu Novel
#SairaGhaffarWriter , #Saira , #SairaGhaffar #Urdunovels #OnlineUrduNovels
اک خواب کی دہلیز پر
(سائرہ غفار)
قسط نمبر 06
رومی کا پیغام نگار بیگم تک سدرہ نے پہنچا دیا تھا اور وہ اپنے گھر والوں سمیت آکر مل کے بھی جا چکا تھا۔ساران نے ساری چھان بین مکمل کر کے لڑکے والوں کو رضامندی دے دی تھی اور اب منگنی کی رسم کی تیاریاں زوروشوروں سے جاری تھیں۔سدرہ اور امل نے نگہت کی منگنی کے لئے ایک جیسے کپڑے،سینڈل اورآرٹیفیشل جیولری خریدی تھی۔
منگنی والے دن نگہت کو پارلر لے جانے کی ذمہ داری بجو کو سونپی گئی تھی۔ان دونوں کو مصطفی پارلر چھوڑ آئے تھے۔آمنے سامنے گھر ہونے کی وجہ سے ان کے گھرانے دو نہیں بلکہ ایک سے تھے۔
سدرہ اور امل،امل کے کمرے میں تیار ہورہیں تھیں جبکہ زیب النساء، نگار بیگم کا ہاتھ بٹانے کی غرض سے صبح سے ہی ان کے گھر پر تھیں۔
سدرہ اور امل ایک جیسی تیار ہوئیں تھیں ا ور دونوں ہی پرپل اور پنک کلر کے کنٹراسٹ کی آٹھ کلیوں والی فراک میں خوب جچ رہی تھیں۔میچنگ کی جیولری اور چوڑیوں نے ان دونوں کے حسن کو دوآتشہ کر دیا تھا۔ہائی ہیل کی سینڈل نے ان کی چال کو ایک خوبصورت وقار عطا کیا تھا تو لمبے سیاہ گھنگھور گھٹاؤں جیسے بالوں کی چٹیا گوندھ کر دونوں نے ہی گجرے باندھ رکھے تھے۔ہلکے ہلکے میک اپ اور مسحور کن مہک ان دونوں کو پریوں کا سا روپ سروپ عطا کر رہی تھی۔
نگہت کے آنے کا شور مچتے ہی دونوں دوڑتی ہوئی سدرہ کے گھر میں داخل ہوئیں۔سدرہ آگے تھی اور امل پیچھے۔آگے پیچھے دوڑتے دوڑتے امل ایک دم ساران سے ٹکرا گئی۔
”سوری“وہ ایک پیچھے ہٹی۔ساران نے بڑی فرصت سے اس کا جائزہ لیا،ایک خواہش نے بڑی شدت سے اس کے دل میں انگڑائی لی مگر ا سنے اپنے دل کو ڈپٹ کر خاموش کروادیا۔وہ گھبرا کر دوڑی اور نگہت کے کمرے میں ا ٓکر سکون کا سانس لیا۔
سدرہ اور امل حیرت سے نگہت کو دیکھ رہی تھیں وہ بالکل پہچانی ہی نہیں جارہی تھی۔بجو بھی اس کے ساتھ ہی پارلر سے تیار ہوکر آئیں تھیں وہ بھی بہت زیادہ پیاری لگ رہی تھیں۔
رومی اپنے گھر والوں کے ساتھ اور چند ایک رشتے داروں کے ساتھ آیا تھا۔اسٹیج چھت پر بنایا گیا تھا۔ساران نے بہت محنت سے اپنی بہن کی خوشی کے لئے اتنا خوبصورت اسٹیج تیار کیا تھا۔سب نے دل کھول کر تعریف کی۔رومی آف وائٹ شیروانی میں ملبوس تھا اور آج اس نے موٹا چشمہ نہیں لگایا تھا اس کی جگہ اس نے لینسز لگائے تھے۔جس کی بدولت اس کی شخصیت کھل کر سامنے آئی تھی۔وہ بہت نکھرا نکھرا سا محسوس ہورہا تھا۔محبت کو پالینے کی ……اپنے نام کروالینے کی خوشی اس کی آنکھوں ……س کے چہرے اور اس کے روم روم سے پھوٹتی ہوئی محسوس ہورہی تھی۔
منگنی کی تقریب ادا کی گئی۔نگہت اور رومی نے ایک دوسرے کو انگوٹھی پہنائی۔اور سب لوگ خوشگوار یادیں سمیٹے اپنے اپنے گھروں کو لوٹ گئے۔سب کے چلے جانے کے بعد سدرہ،بجو اور امل ،نگہت کے کمرے میں گھس کر بیٹھ گئیں۔
”اے وہ کان میں کیا کھسر پھسر کر رہا تھا؟“سدرہ نے اسے ٹہوکا مارتے ہوئے پوچھا۔
جواب میں نگہت شرما کر رہ گئی۔اس کا چہرہ اس لمحے اس قدر خوبصورت لگ رہا تھا کہ تینوں بس اسے دیکھتی ہی رہ گئیں۔ایہ محبت کا ہی اعجاز تھا جو وہ دنوں میں ہی نکھر گئی تھی۔
بجو نے بھی مسکراتے ہوئے پوچھا:”یار شرماؤ مت……بتاؤ ناں کیا کہہ رہا تھا؟“
”وہ کہہ رہے تھے……تم آج بہت اچھی لگ رہی ہو۔“نگہت نے فوراً اپنا چہرہ دونوں ہاتھوں میں چھپا لیا۔تینوں کا قہقہہ بے اختیار نکلا۔
امل نے اس کے چہرے سے دونوں ہاتھ ہٹاتے ہوئے شرارت سے پوچھا:”اور کیا کہہ رہے تھے……وہ“
”وہ کہہ رہے تھے کہ……وہ مجھ سے ……اللہ نہیں کرو ناں مجھے شرم آرہی ہے۔“نگہت سے کچھ ڈھنگ سے بولا ہی نہیں جارہا تھا۔
بجو نے ان دونوں کو وہاں سے بھگاتے ہوئے کہا:”چلو بہت دیر ہوگئی ہے سب لوگ چل کر آرام کرو۔“دل تو کسی کا بھی نہیں چاہ رہا تھا مگر اٹھنا پڑا۔
……٭……٭……
اسے چار دن سے پیغامات مل رہے تھے۔آج اس نے غصے سے ایک پیغام کا جواب لکھا:”کون ہو تم؟“
جواب ملا:”تمہارا عاشق……وہ بھی سچا……“
”کیا چاہتے ہو؟“
”صرف تمہاری محبت!“
”تم مجھے کیسے جانتے ہو؟“
”جنم جنم سے جانتا ہو……تم تو میری رگوں میں خون کی مانند شامل ہو مجھ سے زیادہ تمہیں کون جان سکتا ہے؟“
”میرا موبائل نمبر تمہیں کس سے ملا؟“
”کہہ تو رہا ہوں کہ تم میری روح میں شامل ہو……تو کسی سے لینے کی کیا ضرورت؟تم نے خود ہی دیا تھا……اک خواب کی دہلیز پر……“
”خواب کی دہلیز پر؟“
”ہاں تم روز میرے خواب کی دہلیز پر مجھ سے ملنے آتی ہو……مگر میری روح کو سیراب کئے بنا ہی چلی جاتی ہو۔“
”نام کیا ہے تمہارا؟“
”تم جو چاہو کہہ لو……ویسے لوگ مجھے رمیض خان کے نام سے جانتے ہیں ……“
سیما نے زیرِ لب ا سکا نام دہرایا:”رمیض……نائس نیم……“
سیما کو اس سے باتوں میں لطف آنے لگا تھا وہ دیر تک اسے پتغامات بھیجتی رہی اور وہ اسے جوابات دیتا رہا۔اسے پتہ ہی نہیں چلا کب وہ اس سے باتیں کرتے کرتے نیند کی وادیوں میں اتر گئی۔
……٭……٭……
”اپنی نورین کے لئے ایک بہت ہی اچھا رشتہ ہے۔اپنے ساران کا دوست ہے عرفان نام ہے۔بینک میں آفیسر ہے۔اپنا گھر ہے ماشاء اللہ سے اور تین بھائیوں میں سب سے چھوٹا ہے۔“نگار بیگم نے زیب النساء کو تفصیلات بتاتے ہوئے کہا۔زیب النساء نے ساری توجہ ان کی طرف مبذول کر لی۔
”ارے ساران تو مجھ پر بگڑ رہا تھا کہ پہلا نمبر بجو کا تھا تو نگہت کی منگنی میں اتنی جلدی کیوں مچائی؟لو بھلا بتاؤ جب بچی کا نصیب لکھا ہو گا تو کوئی روک ٹوک سکتا ہے بھلا۔“ نگار بیگم نے بتایا۔
”ہاں ساران خیال بھی تو کتنا رکھتا ہے اپنی بجو کا۔یاد ہے بچپن میں نگہت سے لڑتا تھا کہ تم میری بہن نہیں ہو میری بہن بجو ہیں۔“زیب النساء مسکرادیں۔
”ہاں وقت بڑی جلدی بیت جاتا ہے۔اب دیکھو ناں کل تک یہی بچے آپس میں لڑتے جھگڑتے تھے اور آج یہی بچے ایک دوسرے سے اتنا پیار جتاتے ہیں کہ جس کی کوئی حد نہیں۔“نگار بیگم نے بھی ماضٰ کو یاد کیا۔
”ساران نے چھان بین کر لی ہے؟“زیب النساء نے پوچھا۔
”ارے وہ تو ہتھیلی پر سوسوں جمانے کی بات کررہا ہے۔بہت ہی دیکھا بھالا خاندان ہے۔کل ہی لانے کا کہہ رہا ہے وہ بس تم مصطفی بھائی کو بتا دینا کہ کل گھر پر رہیں۔“نگار بیگم اٹھ کھڑی ہوئیں۔
زیب النساء نے سر ہلایا اور کل کی تیاریوں میں مصروف ہوگئیں۔
……٭……٭……
”بھئی ہمیں تو اپنے بیٹے کے لئے ایک سلجھی ہوئی بیوی کی تلاش تھی اور وہ تلاش میرے خیال سے تو یہاں آکر ختم ہو گئی ہے۔“جمیل احمد نے سموسہ منہ میں ڈالتے ہوئے اپنی رائے دی۔
”ہاں اور آپ کو جو کچھ بھی پوچھنا ہے ابھی پوچھ لیں کیونکہ اب ہم اگلی ملاقات منگنی والے دن کریں گے ہاں!“صوفیہ خاتون بھی صاف گوئی سے بولیں۔
ان دونوں کو واقعی بہت جلدی تھی اپنے بیٹے کی شادی کی۔ساران کے دیکھے بھالے لوگ تھے اس لئے انکار کی تو کوئی گنجائش نکلتی ہی نہیں تھی۔سو فوراً ہاں کی گئی اور اگلے دن ہی منگنی کی رسم ادا کی گئی۔ سدرہ، نگہت اور امل نے بہت احتجاج کیا کہ ہم نے کوئی تیاری نہیں کی یہ ظلم ہے مگر ان میں سے کسی کی ایک نہ سنی گئی یوں آنا ًفاناً بجو کی منگنی عرفان احمد سے ہوگئی۔اور محض دو ہفتے کے بعد شادی کی تاریخ بھی مقرر کر دی گئی پھر تو تیاریوں کے چکر میں سبھی کے ہاتھ پاؤں پھول گئے۔
……٭……٭……
”میں تم سے ملنا چاہتا ہوں ……“
”کیوں؟“
”تمہارا دل نہیں بھرتا کیا؟“
”کس بات سے؟“
”بار بار میرے منہ سے اظہارِ محبت سننے کے باوجود تم دوبارہ سننے کی ضد کرتی ہو……تمہارا دل ہی نہیں بھرتا۔“
سیما شرما سی گئی۔
”کیا ہوا؟“بے تابی کا اظہار کیا گیا۔
”کچھ نہیں ……“
”تو جواب دینے میں اتنی دیر کیوں؟“
”ایویں ……“
”تمہارا یہ ایویں کہنا تو میری جان ہی لے جائے گا کسی دن……“
”میری بلا سے جان جائے یا مال مجھے اس سے کیا؟“سیما کے لہجے میں ایک ادا تھی۔
”تم میرا امتحان مت لو……پچھتاؤ گی……“
”میں نے پچھتانا نہیں سیکھا۔“
”اچھا!“
”جی ہاں!“
دونوں یونہی باتوں میں مصروف تھے کہ اچانک نور بی بی نے اسے آواز دی تو وہ رمیض کو ”خدا حافظ“ کہتی ہوئی دوڑتی ہوئی کمرے سے باہر لپکی۔
……٭……٭……
”لیکن ایسا کیسے ہوسکتا ہے؟“نگار بیگم کو اب تک یقین نہیں آرہا تھا کہ ان کی بہن انجم نے اپنی بیٹی شبانہ کا رشتہ کہیں اور طے کردیا ہے۔
”انجم تم ایسا کیسے کرسکتی ہو؟تمہیں پتہ ہے ناں کہ میرا کتنا اارمان تھا کہ شبانہ میرے گھر کی بہو بنے؟“ان کا دل ٹوٹ سا گیا تھا۔
”ہاں جانتی ہوں مگر کیا کروں ……تم تو جانتی ہو کہ شبانہ امریکہ میں اپنے چچا کے ہاں گئی تھی رہنے کے لئے تو وہیں سے اس کے لئے ایک اچھا رشتہ آگیا اور لڑکے کا وہاں جماجمایا کاروبار بھی ہے۔آج کل کے دور میں اچھا رشتہ ملنا بہت مشکل کام ہے اور تمہارے ساران کے ساتھ تو وہ نجانے کتنی خواہشوں کو ترستی ہی رہتی،مگر میثم کے ساتھ وہ ماشاء اللہ خوش رہے گی بہت زیادہ خوش۔“انجم نے انہیں مزے سے تفصیلات بتائیں۔نگار بیگم خالی خالی آنکھوں سے فون کو تکے جارہی تھیں ان کو یقین نہیں آرہا تھا کہ ان کی اپنی سگی بہن بھی ان کے ساتھ ایسا کر سکتی ہیں۔
انجم نے بات ختم کرتے ہوئے کہا:”میں فون رکھتی ہوں نگار……تم تو جانتی ہو کہ شادی والے گھر میں سو طرح کے کام ہوتے ہیں۔ابھی بھی شاپنگ پر جانا ہے۔اچھا اللہ حافظ۔“
انجم نے رابطہ منقطع کر دیا تھا،نگار بیگم خاموشی سے فون کوتکے جا رہی تھیں،آنسو ان کے گالوں کو بھگو رہے تھے۔
……٭……٭……

Comments
Post a Comment