Skip to main content

Phantosmia (EP 11) By Saira Ghaffar Complete Online Urdu Novel

Phantosmia

By Saira Ghaffar 

Complete Online Urdu Novel


فینٹوسمیا

(سائرہ غفار)


قسط نمبر 11

چند دن بعد وہ لوگ رپورٹس لے کر دوبارہ ڈاکٹرشانزے کے پاس پہنچے۔ڈاکٹر نے تمام رپورٹس چیک کرنے کے بعد ان کو خوش خبر ی سنائی۔ ”سب کچھ بالکل پرفیکٹ ہے۔ میرا ڈر صرف وہم تھا۔ “ ”ڈاکٹر کیا آپ ہمیں بتا سکتی ہیں کہ آپ کو کیا وہم تھا؟“کائنات نے پہلی بار سوال کیا تھا۔ ”جی بالکل بیٹا میں بتا سکتی ہوں ……دراصل یہ جو مسئلہ آپ کے ساتھ ہے آپ کو مختلف اچھی بری قسم کی بو محسوس ہوتی ہے۔ یہ اصل میں فینٹوسمیا کہلاتی ہے۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کا کوئی مستقل علاج نہیں ہے۔ اصل میں یہ مسئلہ بذات خود کوئی مسئلہ نہیں بلکہ یہ ایک علامتی مسئلہ ہے۔ جن لوگوں کو یہ بو محسوس ہونے کی شکایت رہتی ہے ان کو ایک یا پھر دونوں نتھنوں سے بو محسوس ہوتی ہے۔ یہ برین ٹیومر کی نشاندہی ہوتی ہے۔“ڈاکٹرسانس لینے کو رکی۔ ”برین ٹیومر؟“شاہدہ اور دلاور ایک دم پریشان ہوگئے تو ڈاکٹر شانزے نے مسکرا کر ان کو دیکھا:”آپ لوگ شکر کریں کہ آپ کی بیٹی کا ایم آر آئی بالکل کلئیر اور بالکل صاف ہے۔ اسے صرف فینٹوسمیا ہے۔ جو کہ کچھ نیزل اسپرے کے استعمال سے کم ہوجائے گا۔ اور انڈر کنٹرول آجائے گا۔ پھر ہم کچھ دن دیکھنے کے بعد ان کے سائیکا ٹرسٹ کے ساتھ سیشنز شروع کردیں گے۔ پھر یہ مسئلہ بہت کم ہوجائے گا۔ ہو سکتا ہے کہ بالکل ختم ہی ہوجائے۔“ڈاکٹر مسکراتے ہوئے رائٹنگ پیڈ پہ جھکی۔ ”یہ کتنے دنوں میں ٹھیک ہوجائے گا ڈاکٹر؟“کائنات نے دھیرے سے پوچھا۔ ”اتنے سارے دن آپ نے بہادری سے صبر کیا ہے ناں بیٹا…… بس کچھ دن اور ……پھر آپ خوش باش زندگی گزارو گے ان شاء اللہ۔“ ڈاکٹر نے کچھ نیزل اسپرے لکھ کر دیئے اور ایک سائیکاٹرسٹ کا پتہ بھی دیا کہ اس کوجا کر ملو۔ اس دن کائنات نے سکھ کا سانس لیا۔ آخر اسے اپنی بیماری کا سراغ مل گیا تھا۔سراغ ملنے کا مطلب تھا کہ حل بھی مل ہی جانا تھا۔ ………………………… ڈاکٹر شانزے کے بتائے گئے علاج پر عمل کرتے ہوئے ان کو تیسرا دن تھا۔ کائنات بنا ناغہ کئے اسپرے استعمال کررہی تھی۔ کچھ دوائیں بھی تھیں جو وہ باقاعدگی سے کھا رہی تھی۔ اسے ان تین دنوں میں صرف ایک بار ایک بدبو کا بھبھکا محسوس ہواتھا اس کے علاوہ وہ بالکل نارمل تھی اور بہت خوش تھی۔ وہ اس لئے زیادہ خوش تھا کیونکہ وہ اپنی پڑھائی دوبارہ سے شروع کرنا چاہتی تھی۔ اور پڑھائی شروع کرنے کے خیال نے ہی اس کا موڈ بہت ہی اچھا کردیاتھا۔ اس اچھے موڈ کے ساتھ اس نے اپنے گملوں میں ڈھیر سارے نئے رنگ برنگے پھول بنا کر اگائے تھے۔ اور ان پھولوں کو وہ باقاعدگی سے پانی بھی دیتی تھی ان سے باتیں بھی کرتی تھیں۔ دلاور اور شاہدہ اس کی باتیں سن کر محظوظ ہوتے تھے۔ ”پتہ ہے میں بالکل ٹھیک ہوجاؤں گی۔“ ”پھر میں کالج جاؤں گی۔“ ؔؔؔ”میں جب اپنی پڑھائی دوبارہ سے شروع کروں گی تو دیکھنا میں کلاس میں فرسٹ آؤں گی۔“ وہ بے حد خوش تھی۔ حد سے بھی زیادہ اور دلاور اسے دیکھ کر شکر انہ ادا کرنے کے متعلق سوچ کو عملی جامہ پہنانے کے متعلق سوچ رہاتھا۔ ………………………… اگلے دن وہ ٹریول ایجنٹ کے پاس بیٹھا تھا اور اکیس دن کے پیکج کی تمام تر تفصیل کے ساتھ واپس گھر آیا۔اس نے پندرہ دن بعد روانہ ہونے والے گروپ میں شمولیت کا ایڈوانس بھی دے دیاتھا اور پاسپورٹ بھی جمع کروادئیے تھے۔ کائنات اور شاہدہ کو جیسے ہی عمرے کے متعلق پتہ چلا۔ کائنات تو خوشی کے مارے سارے گھر میں قلقاریاں مارنے لگی۔کئی سالوں بعد اس گھر میں رونق کا سا ماحول بنا تھا۔ دو تین دن بعد وہ لوگ ڈاکٹر شانزے کے پاس چیک اپ کے لئے گئے تو انہوں نے کہا کہ ایک بار سائیکاٹرسٹ سے ملو اس کے بعد عمرے پہ جاؤ۔ وہ لوگ گھر واپس آئے اور عمرے کی تیاری کرنے لگے۔ ان کی زندگی میں جیسے بہار آگئی تھی۔ اسی لئے وہ سائیکاٹرسٹ سے ملے بغیر ہی عمرہ ادا کرنے چلے گئے۔
پچھلی قسط                                       اگلی قسط

Comments

Popular posts from this blog

Wo merey dil ka malal hay by Saira Ghaffar Complete Online Urdu Novel

Wo merey dil ka malal hay  By Saira Ghaffar  Complete Online Urdu Novel وہ میرے دل کاملال ہے (سائرہ غفار) قسط نمبر 1 ”مج……مجھ……جھ……ے……ے……ے……بچ……چا……لل……وووو……“اس کی آواز اُسے صاف سنائی دے رہی تھی۔  وہ اس کے سامنے کھڑی ا س کی ابلتی ہوئی آنکھیں دیکھ رہی تھی۔ وہ دیکھ رہی تھی کہ کیسے اس کی بہن تڑپ تڑپ کر منہ سے خون کی الٹیاں کررہی ہے۔ وہ دیکھ رہی تھی ……صاف……اور واضح……اسے دکھائی دے رہاتھا……سب کچھ……ایک دم صاف ……ایک ایک چیز اسے نظر آرہی تھی……اسے وہ میرون اور گولڈن چوڑیاں بیڈ سے ٹکرا کر ٹوٹتی ہوئی نظر آرہی تھیں جو اس نے خو داس کے ساتھ جا کر پسند کروائیں تھیں۔ ”دیکھو ذرا……یہ چوڑیاں میرے لہنگے کے ساتھ کیسی لگیں گی؟“ ”بہت پیاری……تم یہی لینا۔“ اس کے سامنے وہی چوڑیاں اس کی کلائی میں پیوست ہوتی جارہی تھیں۔وہ درد کے مارے تڑپ کر کبھی اِدھر گر رہی تھی تو کبھی اُدھر۔ اس سب میں اس کی جیولری ہر طرف سے بے ترتیب ہورہی تھی۔ اس کا نیکلس گردن میں پھندا ڈال رہاتھا۔یہ تنگ نیکلس بھی اُسی نے پسند کروایا تھا۔ ”یہ لمبا نیکلس مت لو……اچھا نہیں لگے گا……کوئی چھوٹے سائز کا لو……جو گ...

Phantosmia (EP 3) By Saira Ghaffar Complete Online Urdu Novel

Phantosmia By   Saira Ghaffar   Complete Online Urdu Novel فینٹوسمیا (سائرہ غفار) قسط نمبر 3 ”یہ تم کیا کرتی رہتی ہو ہروقت؟ کیا فالتو کے اخبار پھاڑ پھاڑ کر پھول بنا کر ان گملوں میں سجاتی رہتی ہو؟“دلاور کے جانے کے بعد سارا نزلہ معصوم سی کائنات پہ گرنے لگاتھا۔ کائنات نے سہم کر ماں کو دیکھا جو جارحانہ انداز میں کاغذ کے پھولوں سے سجے گملوں کی طرف پیش قدمی کر رہی تھی۔ کائنات نے ایک دم سامنے آکر ماں کو روک دیا:”امی یہ میرے پھول ہیں پلیز ان کو کچھ مت کریں۔“ ”فالتو کام تم دونوں باپ بیٹی کے شوق ہیں۔ بیکار اور فضول کاموں میں اپنا وقت برباد کرتے رہتے ہو۔ جاؤدفع ہوجاؤ یہاں سے۔“شاہدہ نے غصے سے بیٹی کو دھکا دیا۔ اور خود دوسرے کمرے میں چلی گئیں۔ کائنات نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ اس کے پھول اور گملے بچ گئے ورنہ شاہدہ کے غصے سے وہ خود بھی واقف تھی۔ وہ پھر سے اپنے محبوب مشغلے یعنی اخبار اور مختلف کترنوں سے پھول بنانے میں نئے سرے سے جت گئی۔ ………………………… دلاور گھر واپس آیا تو گیٹ پہ اس کی ملاقات شہزاد اور اس کی فیملی سے ہوگئی۔ شہزاد اور دلاور سلام دعا کرنے لگے تو طوبیٰ چا...