Skip to main content

Phantosmia (EP 3) By Saira Ghaffar Complete Online Urdu Novel

Phantosmia

By Saira Ghaffar 

Complete Online Urdu Novel


فینٹوسمیا

(سائرہ غفار)


قسط نمبر 3

”یہ تم کیا کرتی رہتی ہو ہروقت؟ کیا فالتو کے اخبار پھاڑ پھاڑ کر پھول بنا کر ان گملوں میں سجاتی رہتی ہو؟“دلاور کے جانے کے بعد سارا نزلہ معصوم سی کائنات پہ گرنے لگاتھا۔ کائنات نے سہم کر ماں کو دیکھا جو جارحانہ انداز میں کاغذ کے پھولوں سے سجے گملوں کی طرف پیش قدمی کر رہی تھی۔ کائنات نے ایک دم سامنے آکر ماں کو روک دیا:”امی یہ میرے پھول ہیں پلیز ان کو کچھ مت کریں۔“ ”فالتو کام تم دونوں باپ بیٹی کے شوق ہیں۔ بیکار اور فضول کاموں میں اپنا وقت برباد کرتے رہتے ہو۔ جاؤدفع ہوجاؤ یہاں سے۔“شاہدہ نے غصے سے بیٹی کو دھکا دیا۔ اور خود دوسرے کمرے میں چلی گئیں۔ کائنات نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ اس کے پھول اور گملے بچ گئے ورنہ شاہدہ کے غصے سے وہ خود بھی واقف تھی۔ وہ پھر سے اپنے محبوب مشغلے یعنی اخبار اور مختلف کترنوں سے پھول بنانے میں نئے سرے سے جت گئی۔ ………………………… دلاور گھر واپس آیا تو گیٹ پہ اس کی ملاقات شہزاد اور اس کی فیملی سے ہوگئی۔ شہزاد اور دلاور سلام دعا کرنے لگے تو طوبیٰ چابی سے اپنا گیٹ کھولنے لگی۔ بائیک کی آواز سن کر شاہدہ نے اوپر سے جھانکا اور طوبیٰ کو اس کے گیٹ کے پاس دیکھ کر اس کا پارہ ایک دم ہائی ہوگیا۔ اس نے شہزاد اور حارم کو نہیں دیکھا تھا بس طوبیٰ کو دیکھتے ہی وہ شروع ہوگئی:”آؤ آؤ مہارانی صاحبہ……حسن کی دیوی……پریوں کی ملکہ……آؤ……میری بات کان کھول کر سن لو میں تمہاری چالبازیاں خوب سمجھتی ہوں میرے شوہر سے دور رہو ورنہ میں تمہیں چھٹی کا دودھ یاد…… “شاہدہ زور زور سے بولتی نیچے تک آئی اور شہزاد پہ اچانک نظر پڑی تو چپ ہوگئی۔ ”کیا ہوا ہے؟“شہزاد ایک دم بائیک سے اترا اور سنجیدگی سے پوچھنے لگا۔ طوبیٰ کا دل ایک لمحے کو زور سے دھڑکا تھا۔ اس نے شاہدہ کو پتھرائی ہوئی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ ”کچھ نہیں ہوا شہزاد بھائی اس عورت کا دماغ خراب ہے۔“دلاور نے بائیک کو گیٹ سے لگاتے ہوئے کہا: ”گیٹ کھولواور اندر چلو۔“ ”کیوں اندر چلو۔ ان کو بھی تو ان کی بیگم کے کرتوت پتہ چلنے چاہئیں۔“شاہدہ نے ہاتھ نچاتے ہوئے کہا۔ ”فارگاڈسیک شاہدہ جو بات ہے ہی نہیں تم کیسے ایسی کوئی بات کر سکتی ہو۔“ اردگرد کے کئی گھروں میں تماشائی گیلریوں اور دروازوں سے آکھڑے ہوئے تھے۔ شاہدہ کی چیخیں بہت سے کانوں میں تجسس کا کیڑا پیداکرچکی تھیں۔ ”آپ کہنا کیا چاہتی ہیں؟ کیا بات ہے صاف صاف بتائیں مجھے……“شہزاد نے ڈوبتے دل کے ساتھ پوچھا۔ ”صاف صاف بات یہ ہے کہ آپ کی بیگم صاحبہ میرے شوہر پہ ڈورے ڈال رہی ہیں۔“شاہدہ کی آواز نہیں تھی کوئی بم تھا گویا جو شہزاد اور طوبیٰ کی سماعتوں پہ ایک ساتھ پھوٹا تھا۔ ”شہ……شہزاد یہ……یہ جھوٹ کہہ رہی ہے……یہ جھوٹ کہہ رہی ہے…… شہ……شہ……زا……“طوبیٰ اپنی صفائی دیتے ہوئے گیٹ سے ٹکراتی زمین بوس ہوچکی تھی۔ حارم جو ان سب باتوں کو سمجھنے کی کوشش میں مبتلا ایک سائیڈ پہ کھڑا تھا فوراً سے ماں کو سنبھالنے آگے بڑھا۔ شہزاد نے اسے لپک کر اٹھایا اور حارم کی مدد سے بائیک پہ سہارا دے کر بٹھایا اور قریبی کلینک پر لے گیا۔ ”ہونہہ ……کلموہی کہیں کی……آجاتے ہیں کہاں کہاں سے ……گندی نالی کے کیڑے……شرم حیا لحاظ کچھ بھی نہیں۔“شاہدہ کی زبان قینچی کی طرح چل رہی تھی۔ ”تمہیں ہے شرم حیا لحاظ وغیرہ؟“دلاور نے اندر بائیک کھڑی کرتے ہوئے کاٹ کھانے کے انداز میں پوچھا۔ ”ڈرو شاہدہ ڈرو اللہ کے انصاف سے ڈرو……تمہاری بھی بیٹی ہے اور اللہ نہ کرے تمہارا لگایا ہوا یہ بہتان تمہاری بیٹی کے آگے آیا تو کیا کرو گی؟“دلاور نے کپکپاتی آواز میں کہا کیونکہ یہ جملہ سوچ کر وہ خود ہ ڈر گیاتھا۔ ”زبان کھینچ لوں گی جہل بکنے والوں کی۔“ ”پھر تو اس کی ماں کو آکر تمہاری زبان کھینچ لینی چاہئے۔“ ”میں کوئی جھوٹی نہیں ہوں سمجھے تم۔میں سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہی اور کانوں سے سن رہی ہوں۔تم دونوں کو میں بخشنے والی نہیں ہوں۔ کوئی جاہل ان پڑھ گنوار عورت نہیں ہوں میں ……“ ”مجھے تو تم صرف جاہل ان پڑھ اور گنوار ہی لگ رہی ہو۔ اس کے علاوہ مجھے تمہارے اندر کوئی اور خوبی نظر ہی نہیں آرہی۔میں جا رہا ہوں باہر ……اس گھر میں تو سکون نام کی چیز ہی نہیں ہے۔“دلاوہ نے بائیک کی چابی زور سے زمین پہ پٹخی تھی اور اب دوبارہ اٹھا کر باہر نکلنے لگا تو پیچھے سے کائنات کی آواز نے اسے رکنے پہ مجبور کردیا۔ اس نے مڑ کر ایک نظر مسلسل بک بک کرتی شاہدہ کو دیکھا اور پھر کائنات کو گود میں اٹھا کر باہر نکل گیا۔ وہ اپنی ماں کے گھر جا رہاتھا۔ ………………………… طوبیٰ کو شہزاد گھر تو لے آیا تھا لیکن شاہدہ کی باتوں کی وجہ سے اس کے دل میں شک کی گرہ لگ چکی تھی اور وہم اور شک کا علاج تو حکیم لقمان کے پاس بھی نہیں تھا۔ وہ اب طوبیٰ کی ایک ایک حرکت کو نوٹ کررہاتھا۔ اسے اوریگامی کا بہت شوق تھا۔ وہ نجانے کیا کچھ بناتی اور حارم کو سکھاتی رہتی تھی۔ وہ اس کے اوریگامی آرٹ کے تمام کاغذ چیک کرتا کہ کہیں کچھ لکھا ہوا تو نہیں ہے۔ حارم اور طوبیٰ صرف دیکھتے رہتے۔ وہ فون پہ اپنی بہن سے یا ماں سے بات کرتی تو شہزاد کال ختم ہونے کے بعد اس کا فون چیک کرتا۔ وہ ہنستی تو وہ اس کے سامنے آکھڑا ہوتااور عجیب طریقے سے گھورتا رہتا۔۔۔ اسے شک نے ایسا بنادیاتھا کہ وہ خود کو خود بھی نہیں پہچان پارہاتھا۔۔۔۔ …………………………

پچھلی قسط                                       اگلی قسط

Comments

Popular posts from this blog

Wo merey dil ka malal hay by Saira Ghaffar Complete Online Urdu Novel

Wo merey dil ka malal hay  By Saira Ghaffar  Complete Online Urdu Novel وہ میرے دل کاملال ہے (سائرہ غفار) قسط نمبر 1 ”مج……مجھ……جھ……ے……ے……ے……بچ……چا……لل……وووو……“اس کی آواز اُسے صاف سنائی دے رہی تھی۔  وہ اس کے سامنے کھڑی ا س کی ابلتی ہوئی آنکھیں دیکھ رہی تھی۔ وہ دیکھ رہی تھی کہ کیسے اس کی بہن تڑپ تڑپ کر منہ سے خون کی الٹیاں کررہی ہے۔ وہ دیکھ رہی تھی ……صاف……اور واضح……اسے دکھائی دے رہاتھا……سب کچھ……ایک دم صاف ……ایک ایک چیز اسے نظر آرہی تھی……اسے وہ میرون اور گولڈن چوڑیاں بیڈ سے ٹکرا کر ٹوٹتی ہوئی نظر آرہی تھیں جو اس نے خو داس کے ساتھ جا کر پسند کروائیں تھیں۔ ”دیکھو ذرا……یہ چوڑیاں میرے لہنگے کے ساتھ کیسی لگیں گی؟“ ”بہت پیاری……تم یہی لینا۔“ اس کے سامنے وہی چوڑیاں اس کی کلائی میں پیوست ہوتی جارہی تھیں۔وہ درد کے مارے تڑپ کر کبھی اِدھر گر رہی تھی تو کبھی اُدھر۔ اس سب میں اس کی جیولری ہر طرف سے بے ترتیب ہورہی تھی۔ اس کا نیکلس گردن میں پھندا ڈال رہاتھا۔یہ تنگ نیکلس بھی اُسی نے پسند کروایا تھا۔ ”یہ لمبا نیکلس مت لو……اچھا نہیں لگے گا……کوئی چھوٹے سائز کا لو……جو گ...

Phantosmia (EP 11) By Saira Ghaffar Complete Online Urdu Novel

Phantosmia By   Saira Ghaffar   Complete Online Urdu Novel فینٹوسمیا (سائرہ غفار) قسط نمبر 11 چند دن بعد وہ لوگ رپورٹس لے کر دوبارہ ڈاکٹرشانزے کے پاس پہنچے۔ڈاکٹر نے تمام رپورٹس چیک کرنے کے بعد ان کو خوش خبر ی سنائی۔ ”سب کچھ بالکل پرفیکٹ ہے۔ میرا ڈر صرف وہم تھا۔ “ ”ڈاکٹر کیا آپ ہمیں بتا سکتی ہیں کہ آپ کو کیا وہم تھا؟“کائنات نے پہلی بار سوال کیا تھا۔ ”جی بالکل بیٹا میں بتا سکتی ہوں ……دراصل یہ جو مسئلہ آپ کے ساتھ ہے آپ کو مختلف اچھی بری قسم کی بو محسوس ہوتی ہے۔ یہ اصل میں فینٹوسمیا کہلاتی ہے۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کا کوئی مستقل علاج نہیں ہے۔ اصل میں یہ مسئلہ بذات خود کوئی مسئلہ نہیں بلکہ یہ ایک علامتی مسئلہ ہے۔ جن لوگوں کو یہ بو محسوس ہونے کی شکایت رہتی ہے ان کو ایک یا پھر دونوں نتھنوں سے بو محسوس ہوتی ہے۔ یہ برین ٹیومر کی نشاندہی ہوتی ہے۔“ڈاکٹرسانس لینے کو رکی۔ ”برین ٹیومر؟“شاہدہ اور دلاور ایک دم پریشان ہوگئے تو ڈاکٹر شانزے نے مسکرا کر ان کو دیکھا:”آپ لوگ شکر کریں کہ آپ کی بیٹی کا ایم آر آئی بالکل کلئیر اور بالکل صاف ہے۔ اسے صرف فینٹوسمیا ہے۔ جو کہ کچ...