(سائرہ غفار)
قسط نمبر 1
”مج……مجھ……جھ……ے……ے……ے……بچ……چا……لل……وووو……“اس کی آواز اُسے صاف سنائی دے رہی تھی۔ وہ اس کے سامنے کھڑی ا س کی ابلتی ہوئی آنکھیں دیکھ رہی تھی۔ وہ دیکھ رہی تھی کہ کیسے اس کی بہن تڑپ تڑپ کر منہ سے خون کی الٹیاں کررہی ہے۔ وہ دیکھ رہی تھی ……صاف……اور واضح……اسے دکھائی دے رہاتھا……سب کچھ……ایک دم صاف ……ایک ایک چیز اسے نظر آرہی تھی……اسے وہ میرون اور گولڈن چوڑیاں بیڈ سے ٹکرا کر ٹوٹتی ہوئی نظر آرہی تھیں جو اس نے خو داس کے ساتھ جا کر پسند کروائیں تھیں۔
”دیکھو ذرا……یہ چوڑیاں میرے لہنگے کے ساتھ کیسی لگیں گی؟“
”بہت پیاری……تم یہی لینا۔“
اس کے سامنے وہی چوڑیاں اس کی کلائی میں پیوست ہوتی جارہی تھیں۔وہ درد کے مارے تڑپ کر کبھی اِدھر گر رہی تھی تو کبھی اُدھر۔ اس سب میں اس کی جیولری ہر طرف سے بے ترتیب ہورہی تھی۔ اس کا نیکلس گردن میں پھندا ڈال رہاتھا۔یہ تنگ نیکلس بھی اُسی نے پسند کروایا تھا۔
”یہ لمبا نیکلس مت لو……اچھا نہیں لگے گا……کوئی چھوٹے سائز کا لو……جو گلے میں فٹ آتا ہو……اس سے تمہاری صراحی دار گردن بہت ہی خوبصورت لگے گی۔“
”ٹھیک ہے پھر میں یہ پرلز کا نیکلس لے لیتی ہوں۔“
”ہاں یہ بہت خوبصورت ہے……“
اسے صاف دکھائی دیا جب وہ ایک دم سے اپنے بھاری بھرکم لہنگے میں اٹک کرمنہ کے بل گری……
یہ لہنگا اسی کی پسند کے رنگ کا لیا گیا تھا……میرون اور گولڈن لہنگا……ایک خوبصورت اور مہنگا لہنگا جو اس نے خود ڈیزائنر کو ایک ماڈل کی تصویر دکھا کر بنوایا تھا……جب پہلی بار فٹنگ ٹرائی کرنے کے لئے اس نے لہنگا پہنا تھا تب سب نے خوب سراہاتھا……
”واہ تم تو اس ماڈل سے بھی زیادہ حسین لگ رہی ہو……“
اُ س کا دل تو اُسی لمحے چاہاتھا کہ اس لہنگے میں چیونٹیاں چھوڑ دے مگر دل پہ جبر کر کے مسکرا کر اس کے قصیدے گاتی رہی۔
اس کو نظر آرہاتھا کہ اس کی بہن کا میک اپ آنکھوں سے آنسو نکلنے کی وجہ سے خراب ہوگیا ہے۔جب وہ پارلر سے دلہن بن کر آئی تھی تب سب سے زیادہ تعریف اسی نے کی تھی:
”ماشاء اللہ چشم بد دور……کتنی حسین لگ رہی ہو……بہت نور آیاہے……“
اس کا کاجل بہہ گیاتھا۔ اور اس کی آنکھیں عجیب سی ہوگئی تھیں۔ اس کا بلش آن خراب ہوگیاتھا۔ بیس پھٹ رہی تھی۔ آہستہ آہستہ اس کے ہاتھ پاؤں ڈھیلے پڑنے لگے اور منہ سے جھاگ نکلنے لگا۔ وہ بت بنی سارا تماشہ دیکھتی رہی۔اس نے دیکھا کہ اس کی بہن کی ابلی ہوئی آنکھوں میں زندگی کی رمق ختم ہوگئی ہے،تسلی کے لئے اس کی نبض چیک کی، پھر اُس نے ایک ٹھنڈی سانس بھری اور کمرے کا دروازہ کھول کر وحشت زدہ انداز میں چلاتی ہوئی دوڑنے لگی:امی ……بابا……حمنیٰ……اقصیٰ……لبنیٰ کو دیکھو کیا ہوگیا……“
وہ ہانپتی کانپتی سیڑھیاں پھلانگتی نیچے پہنچی اور سب کو روتے روتے بتایا کہ لبنیٰ کو کچھ ہوگیاہے۔ہچکیوں سے روتے ہوئے اس نے اپنے ماں باپ اور دونوں بہنوں کو آگے پیچھے اپنے ہیوی ڈریسز کو سنبھالتے دوڑتے دیکھا۔ آناًفاناً شادی کے گھر میں ہلچل سی مچ گئی۔
وہ بالکل چپ بظاہرسکتے کی سی کیفیت میں بیٹھی تھی لیکن دل ہی دل میں وہ ڈانس کررہی تھی۔ اس کا من جھومنا چاہتا تھا……گانا چاہتا تھا……ہنسنا چاہتا تھا……چیخ کر چلا کر ساری دنیا کو بتانا چاہتا تھا کہ وہ جیت گئی ہے……عظمیٰ مغل نے ہارنا سیکھا ہی نہیں ……بالکل بھی نہیں ……
…………٭٭٭…………٭…………٭٭٭…………
قسط نمبر 2
احمد مغل اور عالیہ مغل کی چار بیٹیاں تھیں۔ حمنیٰ مغل، اقصیٰ مغل، عظمیٰ مغل اور لبنیٰ مغل۔احمد مغل کا ٹائلز کا کاروبار تھا اور ان کے گھر میں خدا کے فضل سے ہر چیز کی فراوانی تھی۔ یہ ایک کھاتا پیتا گھراناتھا۔عالیہ مغل کا اپنا بوتیک تھا۔ حمنیٰ مغل اردو ادب میں ماسٹرز کرچکی تھی اور اب ایک اسکول میں پڑھارہی تھی۔ اقصیٰ مغل ماسٹرزکی اسٹوڈنٹ تھی اس کا مضمون سوشل ورک تھا۔ عظمیٰ مغل ایم بی بی ایس کی اسٹوڈنٹ تھی اور ابھی اس کا فائنل ایئر چل رہاتھا جبکہ لبنیٰ مغل فیشن ڈیزائننگ میں بی ایس کررہی تھی۔اور تیسرے سال میں تھی۔
…………٭٭٭…………٭…………٭٭٭…………
وہ اگست کا ایک سہانا دن تھا جب عظمیٰ نے پہلی بار ارمغان کو دیکھا تھا۔وائٹ شرٹ بلیک پینٹ اور بلیک کوٹ پہنے وہ اپنے کسی دوست کے ساتھ اس کے سامنے سے نکلتا چلا گیا۔ اس کے سامنے سے گزرتے ہوئے اپنے دوست سے باتیں کرتے وہ ایک دم کھلکھلا کر ہنسا تھا اور بس یہی وہ لمحہ تھا جب وہ عظمیٰ کے دل کی مسند پرپوری شان و شوکت سے براجمان ہوگیا۔
اب وہ عظمیٰ کو ہر دوسرے دن نظر آنے لگا تھا۔ کبھی بلو شرٹ میں کبھی گرین شرٹ پہنے تو کبھی بلیک شرٹ میں ……اس پہ ہر رنگ جچتا تھا۔ کم از کم عظمیٰ کو تو یہی لگتا تھا کہ وہ کچھ بھی پہن لے اس پہ سوٹ کرتا ہے۔
عظمیٰ نے محسوس کیا کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ وہ اس کی محبت میں اور بھی زیادہ شدت سے گرفتار ہوتی جارہی ہے۔
ایک دن وہ اوورآل ہنے سامنے سے آرہاتھا۔ وہ کسی فائل میں منہمک چلتا چلا جارہاتھا……دنیا و مافیہا سے بے خبر……
عظمیٰ فرسٹ فلور کے کوریڈور سے جھانک رہی تھی…… اس کی نظر ارمغان پر پڑی اور وہ اسے یک ٹک دیکھنی لگی……دنیا و مافیہا سے بے خبر……
اچانک ارمغان ایک لڑکی سے ٹکرا گیا……عظمیٰ کی ہلکی سی چیخ نکل گئی: ”سنبھل کر……“
ارمغان کے ہاتھ سے فائل گر گئی تھی۔لیکن لڑکی زمین پر گر گئی تھی۔ اِدھر اُدھر سے کئی لڑکیاں اسے اٹھانے کو آگے آگئیں۔اس کے گلابی سوٹ پہ مٹی لگ گئی تھی وہ اسے جھاڑتی بڑبڑ کرتی آگے بڑھ گئی۔ ارمغان سوری کہہ کر اپنی فائل اٹھا کر آگے بڑھ گیا۔ وہ جہاں تک نظر آتا رہا وہ اسے دیکھتی رہی۔
جب وہ نظر آنا بند ہوگیا تو اس نے مایوسی سے ٹھنڈی آہ بھری اور اپنی ہتھیلی پہ اپنی ٹھوڑی رکھ کر اردگرد کا نظارہ کرنے لگی،جبھی ایک آواز پر اس نے چونک کر پیچھے دیکھا:”ہیلو عظمیٰ بی بی کیسی ہیں آپ؟“
”ارے لبنیٰ تم……تم یہاں کیسے؟“لبنیٰ کو یہاں دیکھ کر اسے حیرت ہوئی تھی۔
”اگر مابدولت اپنا موبائل چیک کرلیں تو ہمارے یہاں تشریف فرما ہونے کی وجہ سمجھ لیں گی۔“لبنیٰ کے کہنے پہ عظمیٰ نے سر پہ ہاتھ مارتے ہوئے اپنا موبائل نکال کر دیکھا۔وہ کلاس سے نکل کر اپنا موبائل آن کرنا بھول گئی تھی۔ موبائل آن کیا تو گھر سے آنی والی کالز کے مس ہونے کے نوٹیفیکیشنز سامنے تواتر سے آنے لگے۔
عظمیٰ نے سر پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا ”اتنی ساری مسڈ کالز……؟“
”جی جناب……مجھے آپ کو لینے کے لئے بھیجا گیا ہے۔“
”خیریت ہے ناں؟“
”ارے بھئی حمنیٰ کے رشتے کے لئے ان کے کولیگ روحان حیدر صاحب تشریف لارہے ہیں تو امی نے کہا کہ میں ا ٓپ سمیت فوراً گھر پہنچ جاؤں۔“لبنیٰ نے تفصیل بتائی تو عظمیٰ نے ایک دم آنکھیں پٹپٹائیں:”سیریسلی؟“
”جی جلدی چلیں۔“
”چلو چلو بھاگو……“
وہ دونوں تیزی سے آگے پیچھے چلنے لگیں۔
”رستے سے کچھ سامان بھی لیتے جانا ہے۔“لبنیٰ نے موبائل پہ لسٹ دیکھتے ہوئے کہا۔
عظمیٰ کے قدم ایک دم سست ہوئے۔وہ دھیرے دھیرے چلتی ہوئی سامنے دیکھ رہی تھی۔ ارمغان پوری وجاہت کے ساتھ ایک بنچ پہ بیٹھا تھا اور ایک فائل کے مطالعے میں منہمک تھا۔
لبنیٰ نے ایک دم باتیں کرتے کرتے پیچھے مڑ کر دیکھااور عظمیٰ کو تیز تیز چلنے کی تاکید کی۔ عظمیٰ نے اسے دیکھا اور ٹھنڈی آہ بھر کر تیزی سے اس کے پیچھے پیچھے گیٹ کراس گئی۔
…………٭٭٭…………٭…………٭٭٭…………
گھر میں خوشی کا سماں تھا……ہر طرف مسکراہٹ تھی……روحان حیدر صاحب کا رشتہ قبول کرلیا گیاتھا۔ایک ہفتے کے بعد منگنی کی رسم ادا کردی گئی جس میں سب سے زیادہ عظمیٰ اور لبنیٰ نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔
حمنیٰ نے اپنے سسرال سے آیا ہوا غرارہ پہنا تھا۔ ٹی پنک غرارہ کے ساتھ پرپل کلر کی لانگ شرٹ جس پر نفیس سی ایمبرائیڈری غضب ڈھا رہی تھی۔ اس کے ساتھ ٹی پنک اور پرپل دوپٹہ فیشن اسٹائل سے پن اپ کیا گیاتھا۔ میک اپ اور اسٹائلش ہیئر اسٹائل سے اس کی شخصیت کو چار چاند لگادئیے تھے۔ روحان حیدر نے آف وائٹ کلر کی شیروانی پہنی تھی اور وہ بہت ہی ڈیسنٹ لگ رہاتھا۔
غرض کہ دونوں کی جوڑی بے حد خوبصورت لگ رہی تھی۔
انگوٹھیوں کا تبادلہ کر کے منگنی کی رسم ادا کردی گئی۔ اس کے بعد سب نے خوشگوار موڈ میں کھانا کھایا اور یوں ایک یادگار شام کا پرلطف اختتام ہوا۔ کئی دنوں تک سب کی زباں پر اسی تقریب کا چرچارہا۔
حمنیٰ اور روحان کی شادی چھ ماہ ہونا قرار پائی تھی۔
…………٭٭٭…………٭…………٭٭٭…………
عظمیٰ اپنی دوست نتاشہ کے ساتھ کلا س ختم ہونے کے بعد بھی کلا س میں ہی بیٹھی ہوئی تھی۔ نتاشہ کتاب پڑھ رہی تھی اور عظمیٰ اپنی ہتھیلی پہ ٹھوڑی ٹکائے سامنے بورڈ کو گھورے جارہی تھی۔نتاشہ نے اسے دیکھا……پھر بورڈ کو دیکھا……پھر پانچ منٹ بعد نتاشہ نے اسے دیکھا…… اور پھر بورڈ کو دیکھا…… پھر نتاشہ نے اپنی کتاب بند کی اور اس کو کندھے سے پکڑ کر ہلایا:”کیا ہوا ہے عظمیٰ؟“”آں ……ہاں ……کچھ نہیں یار……“عظمیٰ نے ایک دم چونک کر کہا۔
”کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے……“نتاشہ نے اسے کندھے سے دھکا دیا تھا۔
”یار وہ ارمغان دیکھا ہے تم نے؟“عظمیٰ نے کھوئے کھوئے انداز میں پوچھا۔
”جی بالکل دیکھا ہے……اتنا ہینڈسم بندہ انسان خود سے نہ بھی دیکھے تب بھی دکھائی دے ہی جاتا ہے……“نتاشہ نے شوخی سے کہا۔
”یار……وہ ناں ……مجھے ……وہ ……بہت……زیاہ اچھا لگتا ہے۔“عظمیٰ نے ج شرما کر جلدی سے اپنا منہ دونوں ہاتھوں میں چھپا لیا۔
”ہائیں ……یہ کیابات ہوئی بھلا؟پوری آدھی سے زیادہ اور پونی سے ذرا کم یونی ورسٹی کو وہ بوووووووہت ہی زیادہ اچھا لگتا ہے۔اس میں شرمانے والی کون سی بات ہے بھئی……“نتاشہ نے کرسی سے ٹیک لگاتے ہوئے پوچھا۔
عظمیٰ نے اسے گھور کردیکھا۔انداز میں خفگی تھی۔
”کیا معاملہ سیریس ہے؟“نتاشہ ایک دم سیدھی ہوئی۔
عظمیٰ نے تائید میں سرہلایا۔
”پھر کیا کرنا ہے؟“
”پتہ نہیں یار……سمجھ نہیں آتا کہ اس کو اپروچ کیسے کروں؟“عظمیٰ نے کہا۔
”چلو کوئی نی……نکالتے ہیں کوئی رستہ……چلو کینٹین چلتے ہیں ……مجھے بہت بھوک لگی ہے۔“
عظمیٰ نے اسے غصے سے اپنا بیگ مارتے ہوئے کہا:”ایک تو تمہیں بھوک بہت لگتی ہے۔“
نتاشہ ہنسنے لگی۔ دونوں اٹھ کر کینٹین کی طرف چل پڑیں۔
…………٭٭٭…………٭…………٭٭٭…………
جاوید مغل،احمد مغل کا بھتیجا تھا۔ اس کے ماں باپ صمد مغل اور شازیہ مغل کا تین سال پہلے ایک کار ایکسیڈنٹ میں انتقال ہوچکاتھا۔ جاوید اپنے فلیٹ میں رہتا تھا جو کہ احمد مغل کے گھر سے زیادہ دور نہیں تھا۔وہ اکثر ان کے گھرا ٓجاتا تھا۔ آج بھی وہ آیا تو اس کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی۔”تم اپنا ٹھیک سے چیک اپ کیوں نہیں کرواتے؟“احمد مغل نے ناراض ہوتے ہوئے پوچھا تھا۔
”جی چچا جان میں نے دکھایاتھا ڈاکٹر کو۔ابھی میں رپورٹس لے کر آیا عظمیٰ کو دینے کے لئے کہ وہ اپنے سینئر ڈاکٹر کو دکھا سکے۔“
”ہاں ہاں کیوں نہیں ……“احمد مغل عظمیٰ کو آوازیں دینے لگے:”عظمیٰ……عظمیٰ بیٹا جلدی سے ادھر آؤ۔“
عظمیٰ سیڑھیاں پھلانگتی اترتی آتی ہے:”جی ابو……ارے جاوید بھائی کیسے ہیں آپ؟“
”میں ٹھیک ہوں تم کیسی ہو؟“
”میں تو فرسٹ کلاس……جی ابو؟“
”بیٹا جاوید کی رپورٹس لے لو……یہ اپنے سینئرز کو دکھا نا اور بالکل درست مشورہ لے کر آنا۔“
جاوید سے رپورٹس لے کر عظمیٰ نے کھول کر دیکھیں پھر ایک نظر جاوید کو دیکھا پھر رپورٹس کو دیکھا……پھر جاوید کو دیکھا……پھر رپورٹس تہہ کر کے لفافے میں رکھتے ہوئے بولی:”میں آپ کو ایک دو دن میں بتاتی ہوں۔“
عظمیٰ رپورٹس لے کر چلی گئی۔اتنے میں عالیہ چائے اور دیگر لوازمات کے ساتھ تشریف لے آئیں:”تم تو بالکل عید کے چاند ہی ہوگئے ہو۔ آتے رہے کرو ناں بیٹا……“
”چاچی جان میں آتا رہو ں گا انشاء اللہ……“جاوید نے چائے کا کپ پکڑتے ہوئے کہا۔
احمد مغل اس سے اس کی جاب کے متعلق پوچھنے لگے اور وہ کافی دیر تک باتیں کرتے رہے۔
پھر جاوید رخصت ہوگیا۔
…………٭٭٭…………٭…………٭٭٭…………
”ڈاکٹر عظمیٰ……“وہ کوریڈر سے گزر رہی تھی جب ایک آواز نے ا سکے قدم روک دئیے۔ یہ آواز اس نے اس سے پہلے صرف ایک ہی بار سنی تھی جب وہ اس کے سامنے سے گزری تھی۔اور یہ آواز اس کے کانوں میں رس گھولتے ہوئے اس کے دل پہ نقش ہوچکی تھی۔وہ ایک دم پلٹی تو وہ پوری وجاہت کے ساتھ اس کے سامنے آکھڑا ہوا۔
اسکائی بلو کلر کی فل سلیوز شرٹ اور بلو جینز پہنے وہ کسی یونانی دیو مالائی کہانی کا دیوتا لگ رہاتھا۔ اس کی آنکھیں براؤن تھیں عظمیٰ نے آج ہی نوٹ کیا تھا۔اسے لگا جیسے وہ آنکھیں اسے دیکھ کر مسکرا رہی ہوں۔
وہ اسے محویت سے تکے جارہی تھی……
وہ اس کی محویت کو نوٹ کئے بغیر اس سے مخاطب تھا یا شاید اسے ایسی محویت کی عادت تھی:”ڈاکٹر عظمیٰ مجھے آپ سے کچھ پرسنل بات کرنی تھی……آپ فری ہیں؟“
”جج……جی……بالکل……بالکل فری……ہوں ……“وہ اٹک اٹک کر بولی۔ اسے یقین ہی نہیں تھا کہ وہ اس سے مخاطب تھا۔
”وہ میں آپ سے کہنا چاہتا تھا کہ میں آپ کے گھر آنا چاہتا ہوں ……اپنے رشتے کے سلسلے میں ……کل میں نے آپ کی……“
”کیا……؟؟؟آپ سچ کہہ رہے ہیں؟؟؟“عظمیٰ نے اس کی بات مکمل ہی نہیں ہونے دی۔حیرت اور خوشی کے مارے وہ گنگ سی رہ گئی تھی۔
قسط نمبر 3
”جی……میں بالکل سچ کہہ رہاہوں۔“
”آج شام کو آجائیں گے آپ؟“اس کی اس معصومیت سے پوچھے گئے سوال پہ بے اختیار ارمغان کو ہنسی آگئی۔وہ کھلکھلا کر ہنسنے لگا۔عظمیٰ کو اپنے اردگرد ستارے ناچتے محسوس ہوئے……
”ٹھیک ہے……میں آج شام کو ہی آجاؤ ں گا……آپ کی……“
”میں انتظا رکروں گی……میں چلتی ہوں ……مجھے بہت کام کرنے ہیں ……شام کو ملتے ہیں ……“عظمیٰ نے پھر سے اس کی بات مکمل نہیں ہونے دی۔ اور دوڑتی ہوئی یونی سے باہر نکل گئی۔ ارمغان اسے مسکراتے ہوئے تب تک دیکھتا رہا جب تک وہ نظروں سے اوجھل نہیں ہوگئی۔
…………٭٭٭…………٭…………٭٭٭…………
عظمیٰ کی خوشی دیدنی تھی۔ وہ چہک چہک کر گھر میں سب کو بتا رہی تھی کہ ان سب کے لئے سرپرائز مہمان آنے والے ہیں۔ سب نے بہت پوچھا لیکن اس نے بتا کے نہیں دیا کہ کون آرہاہے اور کیوں آرہاہے؟
شام کو جب ارمغان اپنی ماں زینا شاہ کے ساتھ گھر آیا تو عظمیٰ نے سب کا تعارف کروایا۔ عظمیٰ تیار ہوکر بے حد خوبصورت لگ رہی تھی۔ اس نے اپنی تیاری میں اس بات کا خاص خیال رکھا تھا کہ وہ اوور نہ لگے بلکہ اس نے بہت ہی ڈیسنٹ ڈریسنگ کر کے لمٹ میں ہلکا پھلکا نیچرل میک اپ کر کے خود کو بہت ہی زبردست تیار کیا تھا۔ابھی وہ سب کو چائے کے کپ اٹھا اٹھا کر دے ہی رہی تھی کہ زینا شاہ کی بات سن کر اس کا ہاتھ کانپ گیا اور اس کے ہاتھ سے کپ چھوٹ کر زمین پر گر گیا۔
”عظمیٰ نے آپ کو بتایا ہی ہوگا کہ ہم اس کی چھوٹی بہن کے سلسلے میں آئے ہیں۔“
ہاتھ کپکپایا……کپ گرا……اس کے دل کی کرچیوں سے کچھ کم ہی کرچیاں ہوئی تھیں کپ کی……اس نے غور سے کپ کے دھندلاتے ٹکڑوں کو دیکھا……
”ارے ہاتھ مت لگانا……میں سکینہ کو کہتی ہوں صاف کر لے گی……“عالیہ مغل نے اپنی ماسی کو آواز دے کر بلایا وہ خاموشی سے کرچیوں کو سمٹتے ہوئے دیکھنے لگی……لیکن وہ کبھی نہیں سمٹ سکتی تھی……اس کی کرچیاں کون اٹھاتا……؟کسی کو معلوم ہی نہیں تھا کہ وہ کرچیوں میں بٹ رہی ہے……دھیرے دھیرے بکھر رہی ہے……
”دراصل ارمغان نے آپ کی چھوٹی بیٹی کو اپنی یونی ورسٹی میں دیکھاتھا۔ وہ اس سے ٹکرا گیاتھا……“زینا شاہ نے ہنستے ہوئے انکشاف کیا۔
عظمیٰ نے حیرت سے ارمغان کو دیکھا……اسے ایک دم سے یاد آیا کہ اس دن لبنیٰ اس کی یونی آئی تھی تو وہ بڑبڑاتی ہوئی آرہی تھی:”یہاں کے لڑکے بھی ناں ……بالکل اندھے ہیں ……“
اسے یاد آرہاتھا کہ لبنیٰ ہی تھی جو ارمغان سے ٹکرائی تھی……اس نے گلابی فراک سوٹ پہنا تھا……وہ وہی تھی……
اب کرچیاں اس کی آنکھوں میں چبھنے لگی تھیں ……
”میں نے ابھی تک آپ کی بیٹی کو نہیں دیکھا اسے بلائیے ناں تاکہ میں بھی اپنی ہونے والی بہو کو دیکھ کر آنکھیں ٹھنڈی کر سکوں۔“ زینا شاہ محبت کرنے والی خاتون تھیں۔ ان کا اخلاق ان کے لہجے سے ظاہر ہورہاتھا۔
عالیہ مغل نے مسکراتے ہوئے عظمیٰ کو دیکھا:”تمہارا سرپرائز مجھے بہت پسند آیا……جاؤ جا کر بہن کو لے آؤ۔“
عظمیٰ مغل مرے مرے قدموں سے چلنے لگی……ہرقدم پہلے سے زیادہ بھاری تھا……سامنے کا کچھ دکھائی نہیں دے رہاتھا……صرف پانی تھا……جسے جذب کرنے کی پوری کوشش وہ کررہی تھی……وہ مر رہی تھی……لیکن کسی کو معلوم نہیں تھا…… وہ اپنی لاش کا وزن اٹھاتی مرے مرے قدموں سے ڈرائنگ روم سے نکل کر لاؤنج میں آگئی اور دھم سے صوفے پہ بیٹھ گئی۔
اس کا وجود دھواں دھواں ہورہاتھا……
تھوڑی دیر بعد وہ اٹھی اور گرتے پڑتے سیڑھیاں طے کر کراپنے کمرے میں آکر قید ہوگئی۔
اسے ماتم منانا تھا……عشق کے ہجر کا نوحہ پڑھنا تھا……اسے سوچنا تھاکہ اس میں وہ کون سی کمی ہے جو وہ ارمغان کے دل پہ دستک نہ دے سکی……اسے رونا تھا……دریا بہانے تھے……آخر کو پہلا عشق تھا……اور وہ ناکام ہواتھا……اس لئے گریہ تو اس پر فرض تھا۔
…………٭٭٭…………٭…………٭٭٭…………
لبنیٰ کی منگنی کی تاریخ طے کردی گئی تھی۔ ارمغان سب کو بہت زیادہ پسند آیاتھا۔ سب لوگ اتنے اچھے رشتے کا کریڈٹ عظمیٰ کو گردان رہے تھے۔ لبنیٰ ہواؤں میں اڑ رہی تھی کہ اسے اتنازبردست جیون ساتھی نصیب ہورہاہے۔ اس کے پیر زمین پہ نہ ٹکتے تھے۔
وہ ساتویں آسمان پر تھی اور عظمیٰ اسے دیکھ دیکھ کر کڑھتی رہتی تھی لیکن اپنی منہ سے کیسے بتاتی کہ جس نے اسے دیکھنا تک پسند نہ کیا وہ اسے اپنا دل دے چکی ہے۔ یہ اس کی انا کو گوارا نہ تھا۔
لبنیٰ سب کو اپنی شاپنگ دکھا رہی تھی۔ وہ اور حمنیٰ مل کر شاپنگ کرنے گئے تھے۔
”امی دیکھیں میں نے اقصیٰ اور عظمیٰ کے لئے بھی اپنے جیسی جیولری لی ہے۔“حمنیٰ نے عالیہ مغل کو اپنی جیولری دکھاتے ہوئے بتایا۔
”امی آپ نے ہمارا ڈریس ڈیزائن کرلیاکیا؟“
”ہاں میں نے ایک سوٹ بنوالیا ہے اب تم دیکھ لو کوئی کمی بیشی ہو تو بتا دو ابھی سے ورنہ بعد میں نہ خامیاں نکالنا۔“عالیہ مغل نے اس کا کان ہلکے سے کھینچا۔
حمنیٰ نے ہنستے ہوئے کان چھڑاوایا۔
”میرا بہت ارمان تھا کہ پہلے تمہاری شادی ہو اور پھر اقصیٰ، عظمیٰ بعد میں جا کر لبنیٰ کی……لیکن دیکھو جو قسمت کو منظور……“عالیہ مغل نے جیولری ہاتھ میں لیتے ہوئے کہا۔
”امی……یہ تو سب نصیب کی بات ہے۔ لبنیٰ بھی تو بڑی ہوگئی ہے۔ اور جہاں تک میری شادی کا تعلق ہے تو چھ ماہ کی تو بات ہے۔“
”ہاں یہ تو ہے……خیر تم نے کیا کیا شاپنگ کی مجھے دکھاؤ ذرا……“
”امی دیکھیں یہ ہائی ہیلز میں نے لی ہیں۔“
”ارے یہ تو بہت ہی خوبصورت ہیں ……اور لبنیٰ تم نے کیا کیا لیا؟“عالیہ مغل نے لبنیٰ کو مخاطب کیا جو موبائل پہ ارمغان سے میسیجز کے ذریعے بات کررہی تھی۔
”جی امی……ابھی دکھاتی ہوں ……“اس نے موبائل ایک طرف رکھا اور اپنی چیزیں دکھانے لگی۔
”امی میں نے بہت ساری جیولری لی ہے۔ میں اپنے ڈریسزلے گئی ساتھ میں میچنگ کرنے کے کئے……میں نے ہیلز بھی لی ہیں اور اس کے علاوہ مجھے ایک موبائل فون بھی اچھا لگا تو میں نے لے لیا۔ اور یہ دیکھیں ذرا……“لبنیٰ نے جوتے سائیڈ پہ رکھے اور ایک شاپر میں سے میک اپ کٹ نکالنے لگی……”امی مجھے اتنا اچھا میک اپ ملا ہے کہ کیا بتاؤں بالکل میری پسند کا……“
عالیہ مغل اس کی شاپنگ دیکھ کر خوش ہورہی تھیں ……
آخری سیڑھی پہ کھڑی تھی وہ……اور سب دیکھ رہی تھی……اس کی آنکھوں میں شرارے لپک رہے تھے……اس کی کنپٹیاں سلگ رہی تھیں ……وہ ریلنگ کو ہاتھ سے نہ تھامے ہوتی تو شاید دھم سے نیچے آگرتی لیکن اس نے خود کو سنبھالا اور خو دکو کمپوز کرتی نیچے پہنچ گئی……
”ارے دیکھو عظمیٰ ……لبنیٰ نے کتنی اچھی شاپنگ کی ہے……“عالیہ مغل نے اسے دیکھ کر کہا۔وہ بے دلی سے مسکرائی…… بہت کٹھن تھا اس کے لئے مسکرانا……بہت زیادہ……بلکہ زیادہ سے بھی زیادہ مشکل……
اس نے ایک ایک چیز کو ہاتھ لگاکر دیکھا……اسے محسوس ہورہاتھا کہ وہ لبنیٰ کی کی گئی شاپنگ نہیں چھو رہی کوئی تیز دھار آلہ چھو رہی ہے جو اسے ہر بات چھو جانے پہ تکلیف کی نئی کیفیت سے روشناس کروارہاہے۔
اس کی آنکھوں میں جیسے کچھ چبھنے لگا لیکن اس نے خود پہ ضبط کیا ……
اس نے مسکراتے ہوئے لبنیٰ سے پوچھا:”تم لوگ مجھے کیوں نہیں لے کر گئیں تھیں؟“
”تم گھر پہ نہیں تھیں ناں ……“لبنیٰ نے مصروف انداز میں جواب دیا۔ اس کے لب مسکرا رہے تھے اور آنکھیں موبائل اسکرین پہ تھیں اور انگلیاں تیزی سے ٹائپ کررہی تھیں۔
اسے ارمغان سے باتیں کرتا دیکھ کر عظمیٰ کا صرف خون ہی کھول سکتا تھا……اور اس لمحے اس کا خون ہی کھول اٹھا تھا……لیکن بظاہر اس نے چہرے پہ ایک پھیکی سی مسکان سجا کر کہا:”کوئی بات نہیں اگلی بار مجھے بھی ساتھ لے چلنا۔ میں بھی ڈاکٹر ہوں تو اس وجہ سے میں تمہیں ارمغان کے متعلق اس کی پسند ناپسند کے متعلق گائیڈ بھی کرسکتی ہوں۔“
”اس کا تو کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے۔ میں ارمغان سے ان پسند ناپسند کے بارے میں بہت اچھی طرح سے پوچھ چکی ہوں۔“ لبنیٰ مسکراتے ہوئے ذرا سی گلابی ہوئی تھی اور عظمیٰ کا چہرہ لال بھبھوکا ہوا تھا……لیکن اس نے خودکو فوراً سنبھال لیا۔
”امی میرا سوٹ بن گیا؟“اس نے غصہ دبا کر عالیہ مغل سے پوچھا۔
”ایک بنوایا ہے۔ اب تم لوگ چیک کر لو کہ ٹھیک بنا ہے کہ نہیں ……پھر میں ویسے ہی دو اور بنوالوں گی ماسٹر جی سے……“
”میں ٹرائی کرتی ہوں۔“عظمیٰ کے لئے وہاں بیٹھنا محال ہورہاتھا سو جلدی سے بہانہ بنا کر اٹھ گئی۔
…………٭٭٭…………٭…………٭٭٭…………
عظمیٰ کو جس بات کا ڈر تھا وہی ہوا۔ وہ ڈاکٹر میران سکندر کے پاس جاوید کی رپورٹس لائی تھی۔ انہوں نے رپورٹس دیکھیں اور سر ہلاتے ہوئے اسے بتانے لگے:”اس کا علاج توہے لیکن بہت وقت لگتا ہے ایسے مریضوں کو صحت یاب ہونے میں ……اور اچھی دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے ان مریضوں کو۔“
”ڈاکٹر صاحب مجھے شک تو تھا لیکن میں جاویدبھائی کو ایسے کیسے بتا سکتی تھی۔ اب تو بالکل کنفرم ہوگیا ہے کہ ان کو یہی بیماری ہے۔“ عظمیٰ کچھ سوچتے ہوئے بولی۔
”جی ڈاکٹر عظمیٰ……آپ کے کزن کو کینسر ہی ہے……آپ ان کو اعتماد میں لیں اور جلد از جلد یہ خبر ان کو بتائیں تاکہ نا ک اپراپر علاج شروع کیا جاسکے۔ ایسے ان کو آسرے پہ رکھے رہیں گے تو بیماری بڑھتی جائے گی۔“
”جی ڈاکٹر صاحب مجھے اندازہ ہے۔ میں آج ہی ابو سے بات کرتی ہوں۔“عظمیٰ نے رپورٹس اٹھائیں اور شکریہ اد اکر کے ڈاکٹر میران سکندر کے کمرے سے باہر نکلی تو سامنے سے ارمغان سیڑھیاں اترتا نظر آیا۔ جب تک وہ سیڑھیوں تک پہنچی ارمغان غائب ہوچکاتھا۔ وہ بے دلی سے رپورٹس تھامے گیٹ کی طرف چل دی۔
”ڈاکٹر صاحب……ڈاکٹر……عظمیٰ……“یہ آواز تو وہ بھیڑ میں بھی پہچان سکتی تھی……وہ بجلی کی سی تیزی سے پلٹی تھی…… اسے سامنے دیکھ کر اس کے دل کی دھڑکن تیز ہوئی تھی……
”جج……جی……“وہ بولنا جیسے بھول گئی تھی۔ یک ٹک اسے دیکھے جارہی تھی……
”میں آپ کا کس منہ سے شکریہ ادا کروں؟“وہ دشمن جاں اتنا قریب تھا کہ وہ چاہتی تو چھو سکتی تھی……لیکن مجبور تھی۔
”شکریہ؟“وہ حیران ہوئی۔
”جی……آپ اس یونیورسٹی میں نہ ہوتیں تو میں کبھی بھی لبنیٰ سے نہ مل پاتا……اس لئے آپ کا بہت بہت بہت شکریہ……“وہ کس قدر خوش تھا عظمیٰ کو اندازہ ہورہاتھا۔
وہ بے مزہ ہوئی لیکن اس کے پاس سے ہلنا اسے گوارا نہیں تھا سو خاموشی سے دل پہ جبر کئے مسکراتی رہی۔
”آپ کو پتہ ہے ڈاکٹر عظمیٰ میں روزانہ اس جگہ جاتا ہوں جہاں میں لبنیٰ سے ٹکرایاتھا……مجھے تو اس جگہ سے بھی محبت ہوگئی ہے……“
وہ مسکرایا تو اس کی مسکان میں وہ کھونے لگی۔
”میں آپ کا بہت زیادہ شکر گزار ہوں کہ لبنیٰ آپ کی بہن ہے اور آپ کی وجہ سے وہ یہاں آئی اور میں اس سے مل سکا۔“وہ اس کا شکریہ ادا کرتا کب کا جاچکاتھا۔لیکن وہ بت بنی اسے جاتا دیکھ رہی تھی……
اس کے دل پہ منوں بوجھ تھا……وہ اپنی لاش کو گھسیٹے پھرتی تھی……لیکن ارمغان کو کیسے بتاتی ……کہ وہ اس کے ارمانوں کا خون کرتا آیاہے اور کیسے اس کے نازک ریشوں کو ابھی بھی چیرکے گیاتھا۔وہ بے بسی سے ٹھنڈی آہ بھرتی اپنی لاش کو عشق کا مرثیہ سناتی گیٹ کی طرف چل دی۔
…………٭٭٭…………٭…………٭٭٭…………
عظمیٰ نے سب گھر والوں کو جمع کیا اور انہیں جاوید کے کینسر کے متعلق آگاہ کیا۔ ہر کوئی اس کی بیماری کا سن کر شاک کی کیفیت میں آگیاتھا۔
”پہلے میرے بھائی بھابھی چلے گئے……اور اب میرے اکلوتے بھتیجے کو بھی اتنی موذی بیماری……؟“احمد مغل آبدیدہ ہوگئے۔ اقصیٰ ان کے پہلو میں بیٹھی تھی اور ان کو دلاسہ دینے کی کوشش کررہی تھی۔
”لیکن علاج تو ہوسکتا ہے ناں؟“عالیہ مغل نے تشویش سے پوچھاتھا۔
”جی امی علاج تو ہو سکتاہے لیکن جاوید بھائی کو بھرپور کیئر کی ضرورت ہے۔“عظمیٰ نے بتایا۔
”ہاں بیٹا تم ٹھیک کہتی ہو……میں جاوید کو یہاں بلا لیتا ہوں۔ کم از کم مجھے پریشانی تو نہیں ہوگی ناں ……اس کے آس پاس لوگ ہوں گے تو وہ اچھا محسوس کرے گا۔“احمد مغل نے فوراً فیصلہ کیا۔
”انیکسی میں ہم جاوید کا سامان رکھوادیتے ہیں۔وہاں چھوٹا سا کچن بھی ہے اسے پریشانی نہیں ہوگی۔ اور ہم سکینہ کے میاں بہادر کو کہہ دیں گے کہ وہ جاوید کے چھوٹے موٹے کام کردیا کرے گا۔“عالیہ مغل نے اپنے میاں کے فیصلے کی تائید کی۔
”بس پھر ٹھیک ہے میں اسے لے کر آتاہوں۔تم لوگ ذرا صفائی وغیرہ کروالو۔“احمد مغل اٹھ کر چلے گئے۔ ماحول میں افسردگی چھائی ہوئی تھی۔
عالیہ مغل نے انیکسی کی صفائی کروا کر جاوید کے لئے سیٹ کروادی۔ بہادر کو ضروری ہدایات دے کر وہ انیکسی سے باہر آئیں تو احمد مغل جاوید کو ساتھ لئے کار کو پورچ میں لے آئے۔ جاوید بالکل چپ چاپ بیٹھا تھا۔ اس کی آنکھیں سوجی ہوئی تھیں اور متواتر اس کی آنکھوں سے پانی نکل رہاتھا جسے وہ بے دردی سے بار بار رگڑ کر صاف کررہاتھا۔
حمنیٰ، اقصیٰ، عظمیٰ اور لبنیٰ چاروں اس کے سامنے صوفے پہ بیٹھی تھیں۔ احمد مغل جاوید کو اپنے بازو کے حلقے میں لئے اس کے پہلو میں بیٹھے تھے۔ عالیہ مغل اس کے دوسرے پہلو پہ براجمان تھیں۔
”بیٹا اللہ تمہیں جدی صحت یاب کردے گا۔“احمد مغل نے بلکتی آواز میں اسے دلاسہ دیاتھا۔
اس نے اپنا چہرہ ہاتھوں سے چھپا لیا……
”جاوید بھائی کینسر لاعلاج تو نہیں ہے ناں ……آپ کا علاج ممکن ہے۔ ہم کروائیں گے ناں آپ کا علاج۔ ہم سب آپ کے ساتھ ہیں۔ آپ پریشان کیوں ہوتے ہیں؟“عظمیٰ نے اس کی ڈھارس بندھانے کی کوشش کی۔
”ہاں بیٹا اللہ سب بہتر کردے گا۔ ہم سب سے بہترین ڈاکٹر سے تمہارا علاج کروائیں گے۔“
جاوید لال سوجی آنکھوں سے سب کو دیکھنے لگا……اس کی آنکھوں کا خالی پن سب کو افسردہ کررہاتھا۔
”کاش……میں ……اس ……اذیت بھری زندگی کے بجائے……امی ابو کے ساتھ ہی……“وہ ہچکیوں سے رونے لگا تو احمد مغل نے اسے اپنی بانہوں میں بھینچ لیا۔وہ خود بھی رورہے تھے۔ ان کے بھائی بھابھی کی یہی ایک نشانی ان کے پاس باقی بچی تھی اور وہ اسے کھونانہیں چاہتے تھے کیونکہ وہ ان کا اپنا خو ن تھا۔
وہ اسے تسلیاں دینے لگے۔ باقی سب لوگ ایک ایک کر کے انیکسی سے باہر نکل گئے۔ وہاں صرف احمد مغل ہی جاوید کے پاس بیٹھے رہے اور دیر تک اسے مثبت باتیں کرتے رہے۔
…………٭٭٭…………٭…………٭٭٭…………
ارمغان اور اس کی ماں زینا شاہ نے جلدی شادی کی تاریخ لی تھی کیونکہ ارمغان کا ارادہ تھا کہ وہ اسپیشلائزیشن کے لئے یوایس جائے گا۔ اس سلسلے میں اسے بہت کام نمٹانے تھے اور ان کاموں میں سرفہرست شادی کا کام تھا۔ سو انہوں نے جھٹ منگنی پٹ شادی کا ارادہ کیاتھا۔
احمد مغل نے شادی کے اکثر کام جاوید کے سپرد کئے تھے تاکہ وہ مصروف رہے اور اس کا دھیان نہ بھٹکے۔ اس کے ساتھ ہر وقت بہادر موجود رہتاتھا تاکہ اسے وقت پہ دوا بھی دے سکے اور ا سکا خیال بھی رکھ سکے۔جاوید واقعی دل جمعی کے ساتھ سب کاموں میں مصروف تھا اور اس کی طبیعت بھی بہتر تھی۔
عظمیٰ شادی کی تیاریوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی تھی۔ وہ لبنیٰ کی ساری شاپنگ اپنے ہاتھوں سے کر رہی تھی۔
”میں نے ارمغان سے کہا ہے کہ شادی اور ولیمہ دونوں کا ڈریس میں ڈیزائن کرواؤں گی تمہارے لئے……“
”تم ارمغان بھائی کو صرف ارمغان کیوں کہتی ہو؟“اقصیٰ ہمیشہ نوٹ کرتی تھی لیکن پہلی بار اس نے ٹوکا تھا۔
”اس لئے کہ وہ میرا کولیگ ہے۔ اچھا تھوڑی لگتا ہے کہ میں اسے بھائی کہوں۔“عظمیٰ نے منہ بنا کر کہا لیکن دل میں اسے خوب کوسا تھا۔
”لیکن ارمغان نے تو کہا تھا کہ وہ خود اپنی پسند کا ڈریس ڈیزائن کروائیں گے۔“لبنیٰ نے تعجب سے اسے دیکھاتھا۔
”میں نے کہاں ناں میں نے بات کرلی ہے۔ اور اس طرح تم اپنی مرضی بھی ڈریس میں شامل کرسکو گی۔ کیا پتہ تمہیں اس کا ڈیزائن کروایا ہوا ڈریس پسند نہ آئے۔“عظمیٰ نے اسے قائل کرنے کی کوشش کی۔
”ہاں کہہ تو تم ٹھیک رہی ہو۔ مگر……“
”ارے کیا اگر مگر؟ہمارا تو گھر کا ہی بوتیک ہے بھئی……کہو ارمغان سے کہ میں تو اپنے گھر میں ہی ڈریس ڈیزائن کرواؤں گی۔ تم تو ابھی سے صاف بات کرنے سے گھبرا رہی ہو۔ بعد میں کیا کرو گی؟“عظمیٰ نے اسے شر م دلائی تھی۔
”ہاں ٹھیک ہے۔ میں کہتی ہوں ارمغان سے۔ویسے تم نے کون سے ڈیزائن نکالے ہیں؟“لبنیٰ نوے فیصد قائل ہوگئی تھی اب بس آخری ضرب باقی تھی۔
”چلو میں تمہیں ڈیزائن دکھاتی ہوں۔ اور میں نے تو دیپیکا، انوشکااور پریانکا کے ڈریسز کے ڈیزائنز کو موڈیفائی کروایا ہے۔ ماسٹر جی تعریفیں کرتے نہیں تک رہے تھے کہ واہ جی واہ کیا ڈیزائن لائی ہو ڈاکٹرنی ……“وہ اپنے منہ میاں مٹھو بنتی اسے ساتھ لئے بوتیک کی طرف چل دی جو گھر کے ساتھ ہی منسلک تھا۔
آخر اس نے لبنیٰ کو قائل کرہی لیا کہ وہ اس کی پسند کا ڈریس ڈیزائن کروا کر وہی ڈریس اپنی شادی میں پہنے گی۔
وہ عظمیٰ ہی تھی جو اس کے ساتھ بازاروں اور شاپنگ مالز کی خاک چھانتی پھر رہی تھی اور اس کے لئے شاپنگ کرتی جارہی تھی ہر چیز کی میچنگ ا س نے بڑی ہی عرق ریزی کر کے خریدی تھی۔
بالآخر وہ دن آہی گیاجس کا ارمغان اور لبنیٰ کو تو شدت سے انتظار تھاہی لیکن سب سے زیادہ بے چینی عظمیٰ کو تھی……اس کے ذہن نے ایک ایک لمحہ تازہ تھا……اس کے عشق کا سوز جو ا سکے دل میں آگ کا الاؤ روشن کئے رکھتا تھا……وہ کچھ بھی نہیں بھولی تھی……اس کی سرشت میں بھولنا تھا ہی نہیں ……اس نے یہ سب سیکھا ہی نہیں تھا……وہ صرف ایک ہی بات جانتی تھی کہ اسے لبنیٰ سے بدلہ لینا ہے۔
اور انتقال بھی ایسا لینا ہے کہ لبنیٰ ساری زندگی یاد رکھے۔ اس کے ذہن میں ایک خطرناک منصوبہ ترتیب پا رہاتھا اور اسے خود پہ پورا یقین تھا……یا شاید اس کے عشق نے اسے اندھا کردیاتھا……
…………٭٭٭…………٭…………٭٭٭…………
شادی سے دو دن پہلے وہ ایک بنگلے میں شفٹ ہوگئے تھے۔ یہ بنگلہ شہر سے باہر ایک ایسی جگہ پہ تھا جو کہ زیادہ آباد نہیں تھی۔ یہ ایک ڈیسٹینیشن (Destination) ویڈنگ تھی جو کہ بطور خاص لبنیٰ نے اپنی ذاتی خواہش پر ارینج کروائی تھی۔
یہ بنگلہ ایک وسیع و عریض رقبہ پر واقع تھا۔سامنے لش گرین لان تھا۔ اس کی ہری بھری گھاس کی تازہ کٹائی کی گئی تھی۔ اس لان میں کرسیاں رکھ کر مہمانوں کے بیٹھنے کا انتظام کیا گیاتھا۔ مردوں کے لئے بطور خاص پیچھے واقع سوئمنگ پول پہ پارٹی کرنے کا بندوبست کیاگیاتھا۔ اس پول میں سب مہمان مرد حضرات اپنے اپنے پاؤں ڈال کر کولڈ ڈرنک کے گلاس پکڑے مزے سے انتاکشری کھیل رہے تھے۔دلہن، اس کی بہنوں اور ماں باپ کے کمرے سیکنڈ فلور پہ تھے۔ جبکہ دولہا اور اس کی فیملی کے لئے ایک کاٹیج تھا جو بنگلہ کے ساتھ ہی متصل تھا لیکن اس کا دروازہ لان میں ہی کھلتا تھا۔
ایک مشہور پارلرسے انہوں نے اپائنٹمنٹ لیاتھا۔۔ عظمیٰ بیوٹیشن کا دماغ کھا گئی ”ایسے میک اپ کریں ……ایسے نہ کریں ……وغیرہ وغیرہ……“
عظمیٰ نے اپنا میک اپ بھی بہت ہی اعلیٰ کروایا تھا۔ وہ خود بھی غضب ڈھا رہی تھی۔
لبنیٰ کی ایک ایک چیز پہ عظمیٰ نے بطور خاص محنت کی تھی۔
اور اس کا نتیجہ یہ نکلا تھا کہ جس نے بھی لبنیٰ کو دیکھا بس دیکھتا رہ گیا۔
وہ اس قدر خوب صورت لگ رہی تھی کہ خواتین بھی پلکیں جھپکانا بھول گئیں تھیں۔ ابھی عالیہ مغل لبنیٰ کی بلائیں ہی اتار رہی تھیں کہ ان کے فون کی بیل بجی اور انہیں بارات کی آمد کی اطلاع دی گئی۔
جاوید کی بدولت یہ ممکن ہوا تھا کہ کاٹیج سے سب لوگوں کو اس نے مین گیٹ پہ کھڑا کیا پھر وہاں سب لوگوں نے بارات کا استقبال کیا اور سب کا پھولوں سے استقبال کرتے ہوئے انہیں اندر لے آئے۔
کمرے میں صرف عظمیٰ اور لبنیٰ ہی موجود رہ گئیں تھیں۔
وہ دونوں کمرے کی کھڑکی سے سارا منظر دیکھتی رہیں۔ لبنیٰ کی خوشی دیدنی تھی……
اور عظمیٰ کا حسد ……وہ بھی دیدنی تھا……
لبنیٰ انہماک سے کھڑکی سے جھانک کر ارمغان کا سراپا نظرو ں ہی نظروں میں دل میں اتار رہی تھی۔
عظمیٰ نے خاموشی سے روم فریج سے دودھ کا گلاس نکالا اور اس میں ایک بوتل سے دو ٹیبلٹ ڈال دیں ……پھر کچھ سوچ کر اس نے دو ٹیبلٹ اور ڈال دیں۔ چمچ سے اچھی طرح مکس کر کے اس نے یہ گلاس لبنیٰ کی طرف بڑھایا……
”لبنیٰ یہ پی لو۔“
”نہیں مجھے نہیں پینا۔“اس کا سارا دھیان باہر کی طرف تھا۔
”لبنیٰ ……“عظمیٰ کے تحکم بھرے انداز پہ لبنیٰ نے اسے چونک کر دیکھا تھا……
”کیا ہوا ہے عظمیٰ؟“
”میں کہہ رہی ہوں یہ پی لو……“عظمیٰ کے لہجے کی غیریت اسے محسوس ہورہی تھی۔
لبنیٰ کھڑکی سے ہٹ کر کھڑی ہوئی:”لیکن مجھے نہیں پینا۔“
”پھر میں زبردستی پلاؤں گی۔“عظمیٰ کے لہجے کی پھنکار اسے ڈرا رہی تھی۔
”کک……کیوں؟“
”اس لئے کہ میں نے اس میں زہر ملایا ہے۔میں تمہیں مار ڈالنا چاہتی ہوں۔“عظمیٰ کا ایک ایک لفظ زہر میں ڈوبا ہوا تھا اور لبنیٰ کو اس کا انداز بتا رہاتھا کہ وہ مذاق نہیں کررہی ہے۔
”زز……ہر……کک……کیوں ……؟؟“لبنیٰ کا چہرہ زرد پڑنے لگا۔
”کیونکہ تم نے ارمغان کو مجھ سے چھین لیا ہے……“عظمیٰ نے زبردستی گلاس اس کے منہ سے لگا لیا اور اس کے حلق میں انڈیل دیا۔
لبنیٰ اسے ہٹانے کی کوشش کررہی تھی……لیکن عظمیٰ کے سر پہ جنون اور خون سوار تھا اور اس لمحے لبنیٰ اس کی طاقت کا مقابلہ نہیں کر پارہی تھی۔وہ اسے ہٹانے کی کوشش کررہی تھی لیکن وہ سارا دودھ پلا کر پیچھے ہٹی۔ لبنیٰ کی آنکھیں وحشت کے مارے ابلنے لگیں۔ اس نے لپک کر موبائل فون اٹھانا چاہا تو عظمیٰ نے موبائل کو زور سے پھینک کر ٹکڑے ٹکڑے کردیا۔
لبنیٰ دروازے کی طرف لپکی تو عظمیٰ نے اسے گھسیٹ کر کمرے کے وسط میں لاکھڑا کیا۔
”بس پانچ منٹ لبنیٰ……بس پانچ منٹ……اس کے بعد تمہیں ایسا ہارٹ اٹیک آئے گا کہ تم کسی صورت زندہ نہیں بچو گی……“ا س کے لہجے کی سفاکیت لبنیٰ کو خوف زرہ کررہی تھی۔
”تم ……ایسا مت کرو پلیز……میں ……مرنا نہیں چاہتی……“اس کی رگیں درد کرنے لگیں تھیں ……اس کا سانس پھول رہاتھا…… لبنیٰ کو لگ رہاتھا کہ جیسے کمرے سے آکسیجن غائب ہوچکی ہے……اسے ایک دم حبس کا احسا س ۔۔۔
.ہونے لگا……شدید حبس کا احساس…… اس کا دم گھٹ رہاتھا……
قسط نمبر 4
”مج……مجھ……جھ……ے……ے……ے……بچ……چا……لل……وووو……“اس کی آواز اُسے صاف سنائی دے رہی تھی۔ وہ اس کے سامنے کھڑی ا س کی ابلتی ہوئی آنکھیں دیکھ رہی تھی۔ وہ دیکھ رہی تھی کہ کیسے اس کی بہن تڑپ تڑپ کر منہ سے خون کی الٹیاں کررہی ہے۔ وہ دیکھ رہی تھی ……صاف……اور واضح……ا سے دکھائی دے رہاتھا……سب کچھ……ایک دم صاف ……ایک ایک چیز اسے نظر آرہی تھی……اسے وہ میرون اور گولڈن چوڑیاں بیڈ سے ٹکرا کر ٹوٹتی ہوئی نظر آرہی تھیں جو اس نے خو داس کے ساتھ جا کر پسند کروائیں تھیں۔
”دیکھو ذرا……یہ چوڑیاں میرے لہنگے کے ساتھ کیسی لگیں گی؟“
”بہت پیاری……تم یہی لینا۔“
اس کے سامنے وہی چوڑیاں اس کی کلائی میں پیوست ہوتی جارہی تھیں۔وہ درد کے مارے تڑپ کر کبھی اِدھر گر رہی تھی تو کبھی اُدھر۔ اس سب میں اس کی جیولری ہر طرف سے بے ترتیب ہورہی تھی۔ اس کا نیکلس گردن میں پھندا ڈال رہاتھا۔یہ تنگ نیکلس بھی اُسی نے پسند کروایا تھا۔
”یہ لمبا نیکلس مت لو……اچھا نہیں لگے گا……کوئی چھوٹے سائز کا لو……جو گلے میں فٹ آتا ہو……اس سے تمہاری صراحی دار گردن بہت ہی خوبصورت لگے گی۔“
”ٹھیک ہے پھر میں یہ پرلز کا نیکلس لے لیتی ہوں۔“
”ہاں یہ بہت خوبصورت ہے……“
اسے صاف دکھائی دیا جب وہ ایک دم سے اپنے بھاری بھرکم لہنگے میں اٹک کرمنہ کے بل گری……
یہ لہنگا اسی کی پسند کے رنگ کا لیا گیا تھا……میرون اور گولڈن لہنگا……ایک خوبصورت اور مہنگا لہنگا جو اس نے خود ڈیزائنر کو ایک ماڈل کی تصویر دکھا کر بنوایا تھا……جب پہلی بار فٹنگ ٹرائی کرنے کے لئے اس نے لہنگا پہنا تھا تب سب نے خوب سراہاتھا……
”واہ تم تو اس ماڈل سے بھی زیادہ حسین لگ رہی ہو……“
اُ س کا دل تو اُسی لمحے چاہاتھا کہ اس لہنگے میں چیونٹیاں چھوڑ دے مگر دل پہ جبر کر کے مسکرا کر اس کے قصیدے گاتی رہی۔
اس کو نظر آرہاتھا کہ اس کی بہن کا میک اپ آنکھوں سے آنسو نکلنے کی وجہ سے خراب ہوگیا ہے۔جب وہ پارلر سے دلہن بن کر آئی تھی تب سب سے زیادہ تعریف اسی نے کی تھی:
”ماشاء اللہ چشم بد دور……کتنی حسین لگ رہی ہو……بہت نور آیاہے……“
اس کا کاجل بہہ گیاتھا۔ اور اس کی آنکھیں عجیب سی ہوگئی تھیں۔ اس کا بلش آن خراب ہوگیاتھا۔ بیس پھٹ رہی تھی۔ آہستہ آہستہ اس کے ہاتھ پاؤں ڈھیلے پڑنے لگے اور منہ سے جھاگ نکلنے لگا۔ وہ بت بنی سارا تماشہ دیکھتی رہی۔اس نے دیکھا کہ اس کی بہن کی ابلی ہوئی آنکھوں میں زندگی کی رمق ختم ہوگئی ہے،تسلی کے لئے اس کی نبض چیک کی، پھر اُس نے ایک ٹھنڈی سانس بھری اور کمرے کا دروازہ کھول کر وحشت زدہ انداز میں چلاتی ہوئی دوڑنے لگی:امی ……بابا……حمنیٰ……اقصیٰ……لبنیٰ کو دیکھو کیا ہوگیا……“
وہ ہانپتی کانپتی سیڑھیاں پھلانگتی نیچے پہنچی اور سب کو روتے روتے بتایا کہ لبنیٰ کو کچھ ہوگیاہے۔ہچکیوں سے روتے ہوئے اس نے اپنے ماں باپ اور دونوں بہنوں کو آگے پیچھے اپنے ہیوی ڈریسز کو سنبھالتے دوڑتے دیکھا۔ آناًفاناً شادی کے گھر میں ہلچل سی مچ گئی۔
وہ بالکل چپ بظاہرسکتے کی سی کیفیت میں بیٹھی تھی لیکن دل ہی دل میں وہ ڈانس کررہی تھی۔ اس کا من جھومنا چاہتا تھا……گانا چاہتا تھا……ہنسنا چاہتا تھا……چیخ کر چلا کر ساری دنیا کو بتانا چاہتا تھا کہ وہ جیت گئی ہے……عظمیٰ مغل نے ہارنا سیکھا ہی نہیں ……بالکل بھی نہیں ……
…………٭٭٭…………٭…………٭٭٭…………
ارمغان اس کی لاش کے سامنے بیٹھا تھا……وہ لاش نہیں تھی……اس کے ارمانوں کی چِتا تھی جسے اسے اپنے ہاتھوں آگ لگانی تھی۔ اس کے کتنے خواب آنکھوں میں سجائے تھے ……کیسے کیسے پلان بنائے تھے لیکن سب اس کے ہاتھ سے ریت کی طرح پھسل گیا……
عظمیٰ روتی آنکھوں سے اسے ہی دیکھ رہی تھی……مسلسل……یک ٹک……
اور وہ ابھی بھی لبنیٰ کو دیکھ رہا……مسلسل……یک ٹک……
اگر کوئی اسے پوچھتا کہ مردہ انان سے نفرت کی جاسکتی ہے……؟تو وہ چیخ چیخ کر بتاتی کہ اسے لبنیٰ کی لاش سے بھی نفرت محسوس ہورہی ہے……اس سے اپنی سگی ماں جائی بہن کا مردہ وجود بھی برداشت نہیں ہورہاہے……
اقصیٰ اور حمنیٰ دونوں روتے روتے لبنیٰ کے زیور اتارنا شروع کئے۔
عالیہ مغل رو رہی تھیں ……بلک رہی تھیں ……فریاد کررہی تھیں ……”اس کی شادی ہورہی ہے۔ اس کے زیور مت اتارو۔دیکھو تو سہی……میری بیٹی کتنی پیاری لگ رہی ہے……کتنی خوبصورت……کتنی حسین……آہ……کیسی نظر لگی ہے میری پیاری بیٹی کو……“
وہ پھر سے رونے لگیں۔
احمد مغل ایک طرف اداس بیٹھے تھے……بالکل چپ……پھٹی پھٹی آنکھوں سے وہ صرف اس لاش کو دیکھ رہے تھے ……انہیں یقین ہی نہیں آرہاتھا کہ یہ رہی لڑکی ہے جو آج صبح تک ان سے لاڈ اٹھوا رہی تھی……یہ وہی لڑکی تو نہیں تھی جو چڑیا کی طرح چہکتی رہتی تھی…… انہیں یقین ہی نہیں تھا کہ آج کے بعد وہ اس چوں چوں کو دوبارہ نہیں سن پائیں گے……
انہیں یقین کرنا مشکل تھا کہ یہ لڑکی جس کو کفن میں لپیٹا جارہاہے اسے وہ آج کے بعد کبھی نہیں دیکھ پائیں گے……اسے وہ آخری بار دیکھ رہے ہیں ……وہ ان سے کبھی بات نہیں کرے گی……وہ کبھی ان کو فون نہیں کرے گی……”فون……فون……“وہ اپنا موبائل ٹٹولنے لگے:”میرا فون……یہ رہا……میں ابھی لبنیٰ کو کال کرتا ہوں ……بارات آگئی ہے……ہ لڑکی کہاں رہ گئی ہے……ابھی تک پارلر سے کیوں نہیں لوٹی……میں ……میں کال کرتاہوں ……“انہوں نے لبنیٰ کا نمبر ملایا……
”آپ کا مطلوبہ نمبر اس وقت بند ہے……براہ مہربانی تھوڑی دیر بعد کوشش کریں۔“
انہوں نے عالیہ مغل کو آواز دی:”عالیہ لبنیٰ کو فون کرو ناں ……کدھر رہ گئی ہے وہ……ابھی تک آئی کیوں نہیں؟“
عالیہ مغل نے روتے روتے اپنے میاں کو دیکھا۔اور پھر دوپٹے میں منہ چھپا کر رونے لگیں ……ان کے آنسوؤں کی شدت میں اضافہ ہو گیاتھا۔
حمنیٰ اپنے ابو کے ساتھ آکر بیٹھی اور انہیں اپنے گلے سے لگالیا۔ وہ بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔
لبنیٰ اپنے آخری سفر پہ روانہ ہوچکی تھی……
اس کا شادی کا جوڑا……جیولری……سب چیزیں ویسی ہی دھری کی دھری رہ گئیں تھیں ……انسان سب یہیں چھوڑ جاتا ہے……بس اکیلا چلا جاتا ہے۔
…………٭٭٭…………٭…………٭٭٭…………
بہت سارے دنوں کے بعد آج عظمیٰ کو گہری اور پرسکون نیند آئی تھی۔وہ اپنے کمرے میں سو رہی تھی کہ اچانک کسی آواز سے اس کی آنکھ کھل گئی۔ اس نے آنکھیں کھول کر بغور آواز کی سمت کا تعین کرنے کی کوشش کی۔چادر ہٹا کر وہ بیڈ سے اتری……ایک ہلکی سی آواز آاہی تھی……وہ کمرے کا دروازہ کھول کر باہر آئی تو آواز کا منبع سیڑھیوں کی طرف محسوس ہونے لگا……
اس نے پہلی سیڑھی پہ قدم رکھا تو آواز ذرا تیز ہوئی……
وہ کسی کے قدموں کی چاپ تھی……مدھم مگر سریلی چاپ……
وہ دو تین سیڑھیاں اتر کر ذرا نیچے آئی تو اس کی چیخ نکل گئی……
سیڑھیوں کے درمیان لبنیٰ کھڑی تھی اور عظمیٰ کو دیکھ کر مسکرا رہی تھی……اس نے ہاتھ کے اشارے سے عظمیٰ کو بلایا……جیسے کہہ رہی ہو کہ میرے پیچھے آؤ……اور نیچے کی طرف جانے لگی……اس کے پائل کی ہلکی ہلکی سی چھن چھن اسے سنائی دے رہی تھی……
عظمیٰ کانوں پہ ہاتھ رکھے چیخنے لگی……وہ زور زور سے چیخ رہی تھی……
گھر کے سب لوگ جمع ہوگئے……سب اس سے پوچھ رہے تھے:”کیا ہوا ……کیا ہوا……کیا ہوا……“
وہ صرف سیڑھیوں کی طرف اشارہ کئے جارہی تھی:”لب……لب……نیٰ……“
”لگتا ہے ڈر گئی ہے۔“حمنیٰ نے اسے پچکارتے ہوئے کہا۔
عالیہ مغل نے اسے بیڈ پہ لٹات ہوئے پیار کیا:”بیٹا ……خود کو سنبھالو……“وہ جانے لگیں تو دروازے پہ رک کر بولیں:”اُسے زیادہ یاد مت کیا کرو بیٹا……“عالیہ مغل بھیگی پلکیں لئے تیزی سے باہر نکل گئیں۔
عظمیٰ خاموشی سے بیڈ پہ لیٹے لیٹے آج کا واقعہ سوچنے لگی……”لگتا ہے کہ میں نے لبنیٰ کی موت کا زیادہ اثر لے لیا ہے۔
اس نے کروٹ بدلی تواس کے موبائل پہ واٹس ایپ میسج کی ٹون بجی۔
اس نے ہاتھ بڑھا کر موبائل فون اٹھالیا۔جاوید نے اسے ایک ویڈیو بھیجی تھی۔ ویڈیو دیکھ کر وہ ایک دم سیدھی ہوکر بیٹھ گئی۔
”پھر میں زبردستی پلاؤں گی……کک……کیوں ……؟؟اس لئے کہ میں نے اس میں زہر ملایا ہے۔میں تمہیں مار ڈالنا چاہتی ہوں ……زز……ہر……کک……کیوں ……؟؟“اسے اپنا اور لبنیٰ کا چہر ہ بالکل واضح نظر آرہاتھا……اتنا واضح کہ اسے لبنیٰ کے چہرے پہ پھیلتی زردی بھی محسوس ہورہی تھی……اور ایسی ہی زردی ابھی اس کے چہرے پہ بھی پھیلتی جارہی تھی۔
”کیونکہ تم نے ارمغان کو مجھ سے چھین لیا ہے……عظمیٰ نے زبردستی گلاس اس کے منہ سے لگا لیا اور اس کے حلق میں انڈیل دیا۔
لبنیٰ اسے ہٹانے کی کوشش کررہی تھی……اس نے سارا دودھ لبنیٰ کے حلق میں زبردستی انڈیل دیا……لبنیٰ نے لپک کر موبائل فون اٹھانا چاہا تو عظمیٰ نے موبائل کو زور سے پھینک کر ٹکڑے ٹکڑے کردیا۔لبنیٰ دروازے کی طرف لپکی تو عظمیٰ نے اسے گھسیٹ کر کمرے کے وسط میں لاکھڑا کیا۔”بس پانچ منٹ لبنیٰ……بس پانچ منٹ……اس کے بعد تمہیں ایسا ہارٹ اٹیک آئے گا کہ تم کسی صورت زندہ نہیں بچو گی……“عظمیٰ کو اپنے لہجے کی سفاکیت واضح محسوس ہورہی تھی۔جیسے جیسے ویڈیو آگے بڑھ رہی تھی ویسے ویسے اس کے ہاتھ پاؤں ٹھنڈے پڑتے جارہے تھے۔
”تم ……ایسا مت کرو پلیز……میں ……مرنا نہیں چاہتی……“
”مج……مجھ……جھ……ے……ے……ے……بچ……چا……لل……وووو……“لبنیٰ کے منہ سے جو خون نکل رہاتھا اس کا رنگ پہلے سے زیادہ لال نظر آرہاتھا……اتنا لال پہلے تو نہیں تھا عظمیٰ بڑبڑائی تھی۔
”لبنیٰ کی میرون اور گولڈن رنگ چوڑیاں بیڈ سے ٹکرا کر ٹوٹیں۔چوڑیوں کے کچھ ٹکڑے اس کی کلائیوں میں پیوست ہوگئے۔عظمیٰ کو ان چوڑیوں کے ٹوٹنے کی ہلکی سی آواز بھی محسوس ہوئی۔وہ ایک دم سے اپنے بھاری بھرکم لہنگے میں اٹک کرمنہ کے بل گری……لبنیٰ کا میک اپ خراب ہورہاتھا اور وہ سب دیکھ رہی تھی۔ لبنیٰ کے ہاتھ پاؤں ڈھیلے پڑنے لگے اور منہ سے جھاگ نکلنے لگا۔عظمیٰ نے تسلی کے لئے اس کی نبض چیک کی، پھر اُس نے ایک ٹھنڈی سانس بھری اور کمرے کا دروازہ کھول کرچلاتی ہوئی دوڑنے لگی:امی ……بابا……حمنیٰ……اقصیٰ……لبنیٰ کو دیکھو کیا ہوگیا……“
ویڈیو ختم ہوگئی تھی۔وہ بت بنی ابھی تک موبائل کی اسکرین کو دیکھے جارہی رتھی۔اسے یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ اس نے لبنیٰ کا قتل کرتے ہوئے خود کو دیکھا ہے……اور جاوید نے اس کی ویڈیو بنالی ہے……
5قسط نمبر
ابھی وہ سوچوں میں گم ہی تھی کہ فون کی بیل بجی……جاوید کالنگ……اس نے یس کا بٹن دباکر فون کان سے لگالیا……
”کیسی ہے ویڈیو؟اصل میں شادی کی وجہ سے لائٹنگ اتنی زبردست تھی کہ ایک ایک چیز زبردست ریکارڈ ہوئی ہے……“وہ شاید مسکرایا تھا۔
”آ……آپ نے……کیوں ……کیسے……ویڈیو……؟؟“عظمیٰ کے منہ سے بے ربط جملے نکل رہے تھے۔
”اصل میں میں نے ایک ٹیسٹ کروایاتھا اور مجھے ڈاکٹر کا اپائمنٹ ملا تھا شادی کی اگلی صبح آٹھ بجے کا……تو میں رپورٹس دکھانے لایاتھا……لیکن میں نے تمہاری ہی رپورٹ دیکھ لی……وہ بھی زبردست رپورٹ……مزہ ہی آگیا۔“
”کیا چاہتے ہو تم؟“عظمیٰ حواسوں میں بھی لوٹ آئی تھی اور اس کو ایک دم سے غصہ بھی آگیاتھا۔
”زیادہ کچھ نہیں بس دو لاکھ روپے……فی الحال……“
”کیا مطلب؟“
”مطلب یہ کہ فی الحال دو لاکھ روہے دے دو باقی کا حساب بعد میں کرلیں گے۔“
”میرے پاس پیسے نہیں ہیں۔“
”سوچ لو……پیسے نہیں ہیں تو یہ ویڈیو سب کو دیکھنی چاہئیے۔“اس کی خباثت عظمیٰ کو صاف سنائی دے رہی تھی۔
”اگر میں تمہیں پیسے دے دوں تو تم ویڈیو ڈیلیٹ کردو گے؟“
”آں ناں ناں ناں ناں ناں ……ایسی غلطی میں کیوں کروں گا بھلا؟اور آگے کی ساری پلاننگ میں کروں گا تم صرف میری کٹھ پتلی ہو سمجھیں؟“
”میں تمہاری بات کیوں مانوں؟“
”ٹھیک ہے تو میں یہ ویڈیو سب کو دکھا دیتا ہوں۔“
”اچھا ٹھیک ہے میں پیسے دے دوں گی لیکن اتنی بڑی رقم میرے پاس گھر میں نہیں ہے۔ مجھے دو دن لگیں گے تمہیں پیسے دینے میں۔“
”کوئی بات نہیں صبح مجھے اتنے پیسے دے دینا جتنے تمہارے پاس گھر میں ہیں۔ باقی بعد میں دے دینا……اب کھاتہ کھل ہی گیا ہے تو حساب کتاب تو چلتا ہی رہے گا……“جاوید نے مسکراتے ہوئے کہا تھا۔
عظمیٰ نے فون بند کر زور سے بیڈ پہ پٹخا تھا……اسے یاد آرہاتھا کہ جب وہ سب کو بلا کر لائی تھی تو جاوید لبنیٰ کی لاش کے پاس پہلے سے موجود تھا۔یعنی وہ ریکارڈنگ ختم کرکے لبنیٰ کو دیکھنے آگیاتھا۔
عظمیٰ اپنے ذہن میں نیا جال بُننے لگی تاکہ جاوید کو راستے سے ہٹا سکے۔
…………٭٭٭…………٭…………٭٭٭…………
یہ تیسری بار تھا جب عظمیٰ نے جاوید کو پیسے دئیے تھے۔ پہلی بار دو لاکھ اور اس ہر مہینے وہ دس ہزار دے رہی تھی۔ ان تین مہینوں میں اس نے کئی بار کوشش کی کہ جاوید کو کسی طریقے سے راستے سے ہٹا ئے لیکن ہر بار اس کی پلاننگ فیل ہوجاتی تھی۔
دوسری طرف وہ ارمغان کی ہر ممکن دل جوئی کر رہی تھی تاکہ اس کے نزدیک آسکے۔ ارمغان اس سے کافی اٹیچ ہوگیاتھا۔
زینا شاہ سے بھی وہ کافی قریبی تعلق قائم کرچکی تھی۔وہ روزانہ اسپتال سے سیدھا ارمغان کے گھر پہنچ جاتی تھی ارمغان گھر پہ ہوتا تو ملاقات ہوجاتی ورنہ زینا شاہ سے اس نے اچھی دوستی گانٹھ لی تھی۔زینا شاہ کے کھانے کی جی کھول کر وہ تعریفیں کرتی رہتی تھی۔ اپنے مریضوں کے قصے کہانیاں سناتی۔ کچھ زینا شاہ کے دکھڑے سنتی پھر لوٹ کے اپنے گھر آجاتی تھی۔
جاوید کی من مانیاں بھی روبروز بڑھتی جارہی تھیں۔ دوسری طرف ارمغان سے دوستی بھی بڑھتی جارہی تھی۔
جس دن وہ ارمغان کے گھر نہ جاتی وہ فون کر کے خیریت پوچھتا اور اس کے اندر تک سکون اتر جاتا……
…………٭٭٭…………٭…………٭٭٭…………
وہ ایک خوب صورت سہانا دن تھا……ہلکی ہلکی پھوار نے موسم کو رومان پرور بنادیاتھا……عظمیٰ صبح جاگی تو ارمغان کا میسج دیکھا:”ناشتہ میری طرف کرنا،امی نے آلو کے پراٹھے بنائے ہیں۔“
وہ ایک دم مسکرائی۔ اس نے گرین آتشی کنٹراسٹ کا لان کا پرنٹڈ سوٹ نکال کر استری کر کے پہنا۔ بی بی کریم سے ہلکا سا ٹچ اپ دیا۔ لائٹ سی پنک لپ اسٹک لگاکر اس نے خو دپر پرفیوم کا اسپرے کیا اور کانوں میں چھوٹے سے ٹاپس ڈال لئے۔ دوپٹہ سیٹ کر کے اس نے شیشے میں خود کو دیکھتے ہوئے ایک طائرانہ نظر ڈالی…… ”ماشاء اللہ۔کوئی کمی نہیں۔“اس نے سینڈل پہنا اور بیگ، اوور آل اور اسٹھیتواسکوپ اٹھاتی کمرے سے نکل گئی۔
جب وہ ارمغان کے گھر کے باہر پہنچی تو اس کا دل نجانے کیوں زور سے دھڑکنے لگا۔ آج پہلی بار اسے ارمغان نے خود سے انوائٹ کیا تھا۔
وہ دروازے پہ پہنچ کر خود کو کمپوز کرنے لگی کہ اچانک دروازہ کھلا……دلہن بنی لبنیٰ اس کے سامنے کھڑی تھی……ہنستی مسکراتی……بس اس کے منہ سے جھاگ نکل رہاتھا ہلکی سی خون کی آمیزش بھی تھی……”ارے تم آگئیں؟میں تمہارا ہی انتظار کررہی تھی۔آؤ۔“
لبنیٰ بولتی رہی اور عظمیٰ اسے دیکھ کرچیختی رہی……پھر وہ دروازے سے دور ہٹی……لبنیٰ وہیں کھڑی رہی……دروازہ کھولے……
عظمیٰ تیزی سے گاڑی تک پہنچی اور جلدی جلدی گاڑی میں سوارہوئی اور تیزی سے ڈرائیونگ کرتی اسپتال پہنچ گئی۔
وہ وارڈ میں پہنچی تو اس کا سانس پھولا ہواتھا……
”کیا ہوا ڈاکٹر؟“ڈاکٹر اسماء نے پوچھا۔
”کک……کچھ ……نہیں۔“
”کوئی ایکسیڈنٹ تو نہیں ہوا؟“ڈاکٹر طاہر نے فکرمندی سے پوچھاتو عظمیٰ نے فوراً اثبات میں سر ہلادیا۔
انہوں نے عظمیٰ کو آرام کرنے کے لئے روم میں بھیج دیا۔ عظمیٰ کمرے میں آکر لیٹی تو اس کے ذہن میں سب کچھ گردش کرنے لگا۔ آخر لبنیٰ اسے کیوں نظر آرہی تھی۔ اس سوال کا اس کے پاس جواب نہیں تھا۔ لیکن اس سوال کا جواب کسی نہ کسی کے پاس تو ضرور تھا۔اور وہ کسی ڈاکٹر عنبر شاکر تھیں۔ وہ ان کی استاد تھیں اور سائیکاٹرسٹ بھی تھیں۔ عظمیٰ نے فوراً سے ان کو فون کیا۔اور کچھ گول مول انداز میں ان سے مسئلہ دریافت کیا۔
”ڈاکٹر میری ایک پیشنٹ ہیں اسے اپنی مری ہوئی بہن دکھائی دیتی ہے۔ایسے میں اسے کیا کرنا چاہئے؟“
”پیشنٹ سے پوچھئے کہ انہوں نے کبھی اپنی بہن کے ساتھ کسی قسم کی زیادتی تو نہیں کی؟“
”کیا مطلب؟“
”مطلب یہ کہ جب ہمیں گلٹ ہوتا ہے یا ملال ہوتا ہے کہ ہم نے کوئی غلط حرکت کی ہے تبھی ہمیں وہ لوگ بار بارت دکھائی دیتے ہیں۔ وہ ہمارے اند رکا ملال ہوتا ہے جو ہمیں بار بار اس آدمی کو دکھا رہاہوتا ہے۔وگرنہ مردہ آدمی کا وجود کیونکر ہوسکتا ہے۔ “
”اگر پیشنٹ نے کوئی زیادتی نہیں کی ہو تو؟“
”اگر پیشنٹ نے کوئی زیادتی کی ہے تب اسے دکھائی دینا یا اگر پیشنٹ نے زیادتی نہیں کی تب دکھائی دینا دونوں صورتوں کو ہم شیزوفیرنیا کہتے ہیں۔اس میں لوگوں کو وہ چیزیں دکھائی اور سنائی دیتی ہیں جن کا کوئی وجود نہیں ہوتا۔“
”پھر میں پیشنٹ کو کیا کہوں مطلب اس کا علاج دوا وغیرہ؟“
”ڈاکٹر عظمیٰ آپ پیشنٹ کو میرے پاس ریفر کردیں۔ میں اسے کاؤنسل بھی کردوں گی۔ آپ فکر نہ کریں اکثر لوگ ٹھیک ہوجاتے ہیں۔“
”جی مجھے اندازہ ہے ڈاکٹر صاحبہ کہ باقی لوگ پاگل خانے کی زنجیروں میں ہی جکڑے جاتے ہیں ……“
”مجھے افسوس ہے کہ یہ سچ ہے مگر اس سے بڑا سچ یہ ہے کہ وہ اس بیماری میں مبتلا لوگوں کی اکثریت ہوتی ہی مجرم ہے۔ انہوں نے کوئی نہ کوئی ایسی غلطی ضرور کی ہوتی ہے جو ان کو اس قید خانے کی زنجیروں کے حوالے کردیتی ہے۔ مجھے کہنے میں کوئی عار نہیں کہ وہ قید خانہ ہی دراصل ان کی درست جگہ ہوتا ہے۔“
”شکریہ ڈاکٹر صاحبہ میں پیشنٹ کو ریفر کردوں گی۔“
فون بند کرنے کے بعد بھی وہ ڈاکٹر عنبر شاکرکی باتوں پہ غور کرتی رہی……”کیا میں پاگل ہو گئی ہوں؟“
”نہیں نہیں ایسا کیسے ہوسکتا ہے؟“
”پھر مجھے کیا ہوگیاہے؟“اس نے دونوں ہاتھوں سے اپنا سر تھام لیا۔
…………٭٭٭…………٭…………٭٭٭…………
”ارمغان بیٹا ایک بات کہوں؟“ارمغان لیپ ٹاپ میں مصروف تھا جب زینا شاہ اس کے برابر آکر بیٹھیں۔
”جی امی ضرور کہیں۔“ارمغان نے لیپ ٹاپ سے نظریں ہٹائے بغیر کہا۔
”بیٹا مجھے عظمیٰ بہت پسند ہے۔“
”میں سمجھا نہیں امی؟“ارمغان نے تعجب سے زینا شاہ کو دیکھا جو مسکرا رہی تھیں۔
”میرا مطلب ہے کہ میری اس سے اچھی دوستی ہوگئی ہے۔ تو میں کہنا چاہ رہی تھی کہ تم اس سے شادی کر لو۔“
”امی ……میں ابھی…… خود کو تھوڑا وقت دینا چاہتا ہوں۔“ارمغا ن کی لیپ ٹاپ پہ چلتی انگلیاں رک گئی تھیں۔افسردگی کی ایک لہر تھی جو آنکھوں میں ہلکی سی نمی کی چمک لہرائی تھی۔
”ٹھیک ہے بیٹا لیکن جلدی فیصلہ کرلینا۔ پتہ نہیں میں اور کتنے دن جیوں گی۔“زینا شاہ نے ٹھنڈی آہ بھری۔
”ایسا کیوں کہتی ہیں امی؟آپ ماشاء اللہ ایکٹو ہے……مجھ سے زیادہ ہی جوان نظر آتی ہیں آپ۔“اس نے ماں سے مذاق کیاتو وہ ہنسنے لگیں:”بیٹا تنہائی سے بڑھ کر کوئی مرض نہیں ہوتا۔ بہت سوشل ورک ہوگیا اب گھریلو ورک کرنے کا جی چاہتا ہے۔ تمہارے ننھے منے بچوں کو گودوں کھلانے کا دل چاہتا ہے۔“
ارمغان ہنسا تھا……لیکن اس کی ہنسی جیسے مردہ تھی:”جی امی میں کوشش کروں گا کہ جلدی کوئی فیصلہ کرلوں۔“
”ٹھیک ہے بیٹا۔ مجھے بتاؤ رات کے کھانے میں پلاؤ پکا لوں؟“
”جی امی پکا لیں۔“ارمغان دوبارہ لیپ ٹاپ میں مصروف ہوگیا اور زینا شاہ نے کچن کا رخ کر لیا۔
…………٭٭٭…………٭…………٭٭٭…………
لبنیٰ کو گزرے چھ ماہ ہوچکے تھے۔ حمنیٰ کی شادی کی تاریخ بھی طے کردی گئی تھی۔ حالانکہ احمد مغل فی الحال شادی ملتوی کرنا چاہتے تھے مگر روحان حیدر کو ایک دو سالہ کورس کے سلسلے میں جرمنی جانا تھا جس کی وجہ سے وہ لوگ ابھی شادی کرنا چاہتے تھے۔
حمنیٰ کی شادی کی تیاریاں کی گئیں اورسب کی دعاؤں کے سائے تلے وہ رخصت ہوکر اپنے گھر چلی گئی۔
عظمیٰ نے ارمغان کودکھانے کے لئے خوب دل سے تیاری کی تھی۔ اور وہ ارمغان کی خود پہ جمی نظروں کو محسوس بھی کررہی تھی۔
زینا شاہ بھی اسے اپنے ساتھ ساتھ لئے گھومتی رہیں۔ عظمیٰ بھی ساری تقریب میں ان کے اردگرد ہی منڈلاتی رہی۔
حمنیٰ کی شادی کے اگلے ہی دن ولیمے کی تقریب کا انتظام کیاگیاتھا۔
ولیمے کے دن عظمیٰ نے پرپل فراک پہنی تھی ایک سمپل سادہ سی فراک جس پہ صرف ایک چوڑا سا بارڈر تھا جس پہ سلور موتیوں اور دبکے کا کام تھا۔ اس کا دوپٹہ بھی پرپل کلر کا تھا۔ وہ بالوں کا جوڑا بنائے چوڑی دار پاجامہ پہنے ہائی ہیل کھٹکھاتی بے حد اسٹائلش لگ رہی تھی۔زینا شاہ اور ارمغا ن تو اسے دیکھتے ہی رہ گئے۔
عظمیٰ نے ارمغان کو اپنی طرف ایسی وارفتہ نظروں سے دیکھتے دیکھا تو اس کی گردن فخر سے ذرا اور اونچی ہوگئی۔
ولیمے کے بعد وہ لوگ رخصت ہونے لگے تو عظمیٰ انہیں گیٹ تک چھوڑنے آئی۔
تقریباًسارے مہمان جاچکے تھے بس فیملی کے لوگ اور اکا دکا کام کرنے والے لوگ ہال میں باقی رہ گئے تھے۔
وہ گیٹ سے واپس آنے کے بجائے واش روم چلی گئی۔
وہ واش روم میں داخل ہوئی تو ایک لڑکی بڑی سی چادر لپیٹے واش بیسن پہ جھکی منہ دھو رہی تھی۔عظمیٰ دوسرے بیسن کے سامنے کھڑے ہوکر شیشے میں دیکھ کر اپنا میک اپ چیک کرنے لگی۔ تبھی اس لڑکی نے سر اٹھایا ……
قسط نمبر 4
”دیکھو ذرا……یہ چوڑیاں میرے لہنگے کے ساتھ کیسی لگیں گی؟“
”بہت پیاری……تم یہی لینا۔“
اس کے سامنے وہی چوڑیاں اس کی کلائی میں پیوست ہوتی جارہی تھیں۔وہ درد کے مارے تڑپ کر کبھی اِدھر گر رہی تھی تو کبھی اُدھر۔ اس سب میں اس کی جیولری ہر طرف سے بے ترتیب ہورہی تھی۔ اس کا نیکلس گردن میں پھندا ڈال رہاتھا۔یہ تنگ نیکلس بھی اُسی نے پسند کروایا تھا۔
”یہ لمبا نیکلس مت لو……اچھا نہیں لگے گا……کوئی چھوٹے سائز کا لو……جو گلے میں فٹ آتا ہو……اس سے تمہاری صراحی دار گردن بہت ہی خوبصورت لگے گی۔“
”ٹھیک ہے پھر میں یہ پرلز کا نیکلس لے لیتی ہوں۔“
”ہاں یہ بہت خوبصورت ہے……“
اسے صاف دکھائی دیا جب وہ ایک دم سے اپنے بھاری بھرکم لہنگے میں اٹک کرمنہ کے بل گری……
یہ لہنگا اسی کی پسند کے رنگ کا لیا گیا تھا……میرون اور گولڈن لہنگا……ایک خوبصورت اور مہنگا لہنگا جو اس نے خود ڈیزائنر کو ایک ماڈل کی تصویر دکھا کر بنوایا تھا……جب پہلی بار فٹنگ ٹرائی کرنے کے لئے اس نے لہنگا پہنا تھا تب سب نے خوب سراہاتھا……
”واہ تم تو اس ماڈل سے بھی زیادہ حسین لگ رہی ہو……“
اُ س کا دل تو اُسی لمحے چاہاتھا کہ اس لہنگے میں چیونٹیاں چھوڑ دے مگر دل پہ جبر کر کے مسکرا کر اس کے قصیدے گاتی رہی۔
اس کو نظر آرہاتھا کہ اس کی بہن کا میک اپ آنکھوں سے آنسو نکلنے کی وجہ سے خراب ہوگیا ہے۔جب وہ پارلر سے دلہن بن کر آئی تھی تب سب سے زیادہ تعریف اسی نے کی تھی:
”ماشاء اللہ چشم بد دور……کتنی حسین لگ رہی ہو……بہت نور آیاہے……“
اس کا کاجل بہہ گیاتھا۔ اور اس کی آنکھیں عجیب سی ہوگئی تھیں۔ اس کا بلش آن خراب ہوگیاتھا۔ بیس پھٹ رہی تھی۔ آہستہ آہستہ اس کے ہاتھ پاؤں ڈھیلے پڑنے لگے اور منہ سے جھاگ نکلنے لگا۔ وہ بت بنی سارا تماشہ دیکھتی رہی۔اس نے دیکھا کہ اس کی بہن کی ابلی ہوئی آنکھوں میں زندگی کی رمق ختم ہوگئی ہے،تسلی کے لئے اس کی نبض چیک کی، پھر اُس نے ایک ٹھنڈی سانس بھری اور کمرے کا دروازہ کھول کر وحشت زدہ انداز میں چلاتی ہوئی دوڑنے لگی:امی ……بابا……حمنیٰ……اقصیٰ……لبنیٰ کو دیکھو کیا ہوگیا……“
وہ ہانپتی کانپتی سیڑھیاں پھلانگتی نیچے پہنچی اور سب کو روتے روتے بتایا کہ لبنیٰ کو کچھ ہوگیاہے۔ہچکیوں سے روتے ہوئے اس نے اپنے ماں باپ اور دونوں بہنوں کو آگے پیچھے اپنے ہیوی ڈریسز کو سنبھالتے دوڑتے دیکھا۔ آناًفاناً شادی کے گھر میں ہلچل سی مچ گئی۔
وہ بالکل چپ بظاہرسکتے کی سی کیفیت میں بیٹھی تھی لیکن دل ہی دل میں وہ ڈانس کررہی تھی۔ اس کا من جھومنا چاہتا تھا……گانا چاہتا تھا……ہنسنا چاہتا تھا……چیخ کر چلا کر ساری دنیا کو بتانا چاہتا تھا کہ وہ جیت گئی ہے……عظمیٰ مغل نے ہارنا سیکھا ہی نہیں ……بالکل بھی نہیں ……
…………٭٭٭…………٭…………٭٭٭…………
ارمغان اس کی لاش کے سامنے بیٹھا تھا……وہ لاش نہیں تھی……اس کے ارمانوں کی چِتا تھی جسے اسے اپنے ہاتھوں آگ لگانی تھی۔ اس کے کتنے خواب آنکھوں میں سجائے تھے ……کیسے کیسے پلان بنائے تھے لیکن سب اس کے ہاتھ سے ریت کی طرح پھسل گیا……
عظمیٰ روتی آنکھوں سے اسے ہی دیکھ رہی تھی……مسلسل……یک ٹک……
اور وہ ابھی بھی لبنیٰ کو دیکھ رہا……مسلسل……یک ٹک……
اگر کوئی اسے پوچھتا کہ مردہ انان سے نفرت کی جاسکتی ہے……؟تو وہ چیخ چیخ کر بتاتی کہ اسے لبنیٰ کی لاش سے بھی نفرت محسوس ہورہی ہے……اس سے اپنی سگی ماں جائی بہن کا مردہ وجود بھی برداشت نہیں ہورہاہے……
اقصیٰ اور حمنیٰ دونوں روتے روتے لبنیٰ کے زیور اتارنا شروع کئے۔
عالیہ مغل رو رہی تھیں ……بلک رہی تھیں ……فریاد کررہی تھیں ……”اس کی شادی ہورہی ہے۔ اس کے زیور مت اتارو۔دیکھو تو سہی……میری بیٹی کتنی پیاری لگ رہی ہے……کتنی خوبصورت……کتنی حسین……آہ……کیسی نظر لگی ہے میری پیاری بیٹی کو……“
وہ پھر سے رونے لگیں۔
احمد مغل ایک طرف اداس بیٹھے تھے……بالکل چپ……پھٹی پھٹی آنکھوں سے وہ صرف اس لاش کو دیکھ رہے تھے ……انہیں یقین ہی نہیں آرہاتھا کہ یہ رہی لڑکی ہے جو آج صبح تک ان سے لاڈ اٹھوا رہی تھی……یہ وہی لڑکی تو نہیں تھی جو چڑیا کی طرح چہکتی رہتی تھی…… انہیں یقین ہی نہیں تھا کہ آج کے بعد وہ اس چوں چوں کو دوبارہ نہیں سن پائیں گے……
انہیں یقین کرنا مشکل تھا کہ یہ لڑکی جس کو کفن میں لپیٹا جارہاہے اسے وہ آج کے بعد کبھی نہیں دیکھ پائیں گے……اسے وہ آخری بار دیکھ رہے ہیں ……وہ ان سے کبھی بات نہیں کرے گی……وہ کبھی ان کو فون نہیں کرے گی……”فون……فون……“وہ اپنا موبائل ٹٹولنے لگے:”میرا فون……یہ رہا……میں ابھی لبنیٰ کو کال کرتا ہوں ……بارات آگئی ہے……ہ لڑکی کہاں رہ گئی ہے……ابھی تک پارلر سے کیوں نہیں لوٹی……میں ……میں کال کرتاہوں ……“انہوں نے لبنیٰ کا نمبر ملایا……
”آپ کا مطلوبہ نمبر اس وقت بند ہے……براہ مہربانی تھوڑی دیر بعد کوشش کریں۔“
انہوں نے عالیہ مغل کو آواز دی:”عالیہ لبنیٰ کو فون کرو ناں ……کدھر رہ گئی ہے وہ……ابھی تک آئی کیوں نہیں؟“
عالیہ مغل نے روتے روتے اپنے میاں کو دیکھا۔اور پھر دوپٹے میں منہ چھپا کر رونے لگیں ……ان کے آنسوؤں کی شدت میں اضافہ ہو گیاتھا۔
حمنیٰ اپنے ابو کے ساتھ آکر بیٹھی اور انہیں اپنے گلے سے لگالیا۔ وہ بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔
لبنیٰ اپنے آخری سفر پہ روانہ ہوچکی تھی……
اس کا شادی کا جوڑا……جیولری……سب چیزیں ویسی ہی دھری کی دھری رہ گئیں تھیں ……انسان سب یہیں چھوڑ جاتا ہے……بس اکیلا چلا جاتا ہے۔
…………٭٭٭…………٭…………٭٭٭…………
بہت سارے دنوں کے بعد آج عظمیٰ کو گہری اور پرسکون نیند آئی تھی۔وہ اپنے کمرے میں سو رہی تھی کہ اچانک کسی آواز سے اس کی آنکھ کھل گئی۔ اس نے آنکھیں کھول کر بغور آواز کی سمت کا تعین کرنے کی کوشش کی۔چادر ہٹا کر وہ بیڈ سے اتری……ایک ہلکی سی آواز آاہی تھی……وہ کمرے کا دروازہ کھول کر باہر آئی تو آواز کا منبع سیڑھیوں کی طرف محسوس ہونے لگا……
اس نے پہلی سیڑھی پہ قدم رکھا تو آواز ذرا تیز ہوئی……
وہ کسی کے قدموں کی چاپ تھی……مدھم مگر سریلی چاپ……
وہ دو تین سیڑھیاں اتر کر ذرا نیچے آئی تو اس کی چیخ نکل گئی……
سیڑھیوں کے درمیان لبنیٰ کھڑی تھی اور عظمیٰ کو دیکھ کر مسکرا رہی تھی……اس نے ہاتھ کے اشارے سے عظمیٰ کو بلایا……جیسے کہہ رہی ہو کہ میرے پیچھے آؤ……اور نیچے کی طرف جانے لگی……اس کے پائل کی ہلکی ہلکی سی چھن چھن اسے سنائی دے رہی تھی……
عظمیٰ کانوں پہ ہاتھ رکھے چیخنے لگی……وہ زور زور سے چیخ رہی تھی……
گھر کے سب لوگ جمع ہوگئے……سب اس سے پوچھ رہے تھے:”کیا ہوا ……کیا ہوا……کیا ہوا……“
وہ صرف سیڑھیوں کی طرف اشارہ کئے جارہی تھی:”لب……لب……نیٰ……“
”لگتا ہے ڈر گئی ہے۔“حمنیٰ نے اسے پچکارتے ہوئے کہا۔
عالیہ مغل نے اسے بیڈ پہ لٹات ہوئے پیار کیا:”بیٹا ……خود کو سنبھالو……“وہ جانے لگیں تو دروازے پہ رک کر بولیں:”اُسے زیادہ یاد مت کیا کرو بیٹا……“عالیہ مغل بھیگی پلکیں لئے تیزی سے باہر نکل گئیں۔
عظمیٰ خاموشی سے بیڈ پہ لیٹے لیٹے آج کا واقعہ سوچنے لگی……”لگتا ہے کہ میں نے لبنیٰ کی موت کا زیادہ اثر لے لیا ہے۔
اس نے کروٹ بدلی تواس کے موبائل پہ واٹس ایپ میسج کی ٹون بجی۔
اس نے ہاتھ بڑھا کر موبائل فون اٹھالیا۔جاوید نے اسے ایک ویڈیو بھیجی تھی۔ ویڈیو دیکھ کر وہ ایک دم سیدھی ہوکر بیٹھ گئی۔
”پھر میں زبردستی پلاؤں گی……کک……کیوں ……؟؟اس لئے کہ میں نے اس میں زہر ملایا ہے۔میں تمہیں مار ڈالنا چاہتی ہوں ……زز……ہر……کک……کیوں ……؟؟“اسے اپنا اور لبنیٰ کا چہر ہ بالکل واضح نظر آرہاتھا……اتنا واضح کہ اسے لبنیٰ کے چہرے پہ پھیلتی زردی بھی محسوس ہورہی تھی……اور ایسی ہی زردی ابھی اس کے چہرے پہ بھی پھیلتی جارہی تھی۔
”کیونکہ تم نے ارمغان کو مجھ سے چھین لیا ہے……عظمیٰ نے زبردستی گلاس اس کے منہ سے لگا لیا اور اس کے حلق میں انڈیل دیا۔
لبنیٰ اسے ہٹانے کی کوشش کررہی تھی……اس نے سارا دودھ لبنیٰ کے حلق میں زبردستی انڈیل دیا……لبنیٰ نے لپک کر موبائل فون اٹھانا چاہا تو عظمیٰ نے موبائل کو زور سے پھینک کر ٹکڑے ٹکڑے کردیا۔لبنیٰ دروازے کی طرف لپکی تو عظمیٰ نے اسے گھسیٹ کر کمرے کے وسط میں لاکھڑا کیا۔”بس پانچ منٹ لبنیٰ……بس پانچ منٹ……اس کے بعد تمہیں ایسا ہارٹ اٹیک آئے گا کہ تم کسی صورت زندہ نہیں بچو گی……“عظمیٰ کو اپنے لہجے کی سفاکیت واضح محسوس ہورہی تھی۔جیسے جیسے ویڈیو آگے بڑھ رہی تھی ویسے ویسے اس کے ہاتھ پاؤں ٹھنڈے پڑتے جارہے تھے۔
”تم ……ایسا مت کرو پلیز……میں ……مرنا نہیں چاہتی……“
”مج……مجھ……جھ……ے……ے……ے……بچ……چا……لل……وووو……“لبنیٰ کے منہ سے جو خون نکل رہاتھا اس کا رنگ پہلے سے زیادہ لال نظر آرہاتھا……اتنا لال پہلے تو نہیں تھا عظمیٰ بڑبڑائی تھی۔
”لبنیٰ کی میرون اور گولڈن رنگ چوڑیاں بیڈ سے ٹکرا کر ٹوٹیں۔چوڑیوں کے کچھ ٹکڑے اس کی کلائیوں میں پیوست ہوگئے۔عظمیٰ کو ان چوڑیوں کے ٹوٹنے کی ہلکی سی آواز بھی محسوس ہوئی۔وہ ایک دم سے اپنے بھاری بھرکم لہنگے میں اٹک کرمنہ کے بل گری……لبنیٰ کا میک اپ خراب ہورہاتھا اور وہ سب دیکھ رہی تھی۔ لبنیٰ کے ہاتھ پاؤں ڈھیلے پڑنے لگے اور منہ سے جھاگ نکلنے لگا۔عظمیٰ نے تسلی کے لئے اس کی نبض چیک کی، پھر اُس نے ایک ٹھنڈی سانس بھری اور کمرے کا دروازہ کھول کرچلاتی ہوئی دوڑنے لگی:امی ……بابا……حمنیٰ……اقصیٰ……لبنیٰ کو دیکھو کیا ہوگیا……“
ویڈیو ختم ہوگئی تھی۔وہ بت بنی ابھی تک موبائل کی اسکرین کو دیکھے جارہی رتھی۔اسے یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ اس نے لبنیٰ کا قتل کرتے ہوئے خود کو دیکھا ہے……اور جاوید نے اس کی ویڈیو بنالی ہے……
5قسط نمبر
ابھی وہ سوچوں میں گم ہی تھی کہ فون کی بیل بجی……جاوید کالنگ……اس نے یس کا بٹن دباکر فون کان سے لگالیا……
”کیسی ہے ویڈیو؟اصل میں شادی کی وجہ سے لائٹنگ اتنی زبردست تھی کہ ایک ایک چیز زبردست ریکارڈ ہوئی ہے……“وہ شاید مسکرایا تھا۔
”آ……آپ نے……کیوں ……کیسے……ویڈیو……؟؟“عظمیٰ کے منہ سے بے ربط جملے نکل رہے تھے۔
”اصل میں میں نے ایک ٹیسٹ کروایاتھا اور مجھے ڈاکٹر کا اپائمنٹ ملا تھا شادی کی اگلی صبح آٹھ بجے کا……تو میں رپورٹس دکھانے لایاتھا……لیکن میں نے تمہاری ہی رپورٹ دیکھ لی……وہ بھی زبردست رپورٹ……مزہ ہی آگیا۔“
”کیا چاہتے ہو تم؟“عظمیٰ حواسوں میں بھی لوٹ آئی تھی اور اس کو ایک دم سے غصہ بھی آگیاتھا۔
”زیادہ کچھ نہیں بس دو لاکھ روپے……فی الحال……“
”کیا مطلب؟“
”مطلب یہ کہ فی الحال دو لاکھ روہے دے دو باقی کا حساب بعد میں کرلیں گے۔“
”میرے پاس پیسے نہیں ہیں۔“
”سوچ لو……پیسے نہیں ہیں تو یہ ویڈیو سب کو دیکھنی چاہئیے۔“اس کی خباثت عظمیٰ کو صاف سنائی دے رہی تھی۔
”اگر میں تمہیں پیسے دے دوں تو تم ویڈیو ڈیلیٹ کردو گے؟“
”آں ناں ناں ناں ناں ناں ……ایسی غلطی میں کیوں کروں گا بھلا؟اور آگے کی ساری پلاننگ میں کروں گا تم صرف میری کٹھ پتلی ہو سمجھیں؟“
”میں تمہاری بات کیوں مانوں؟“
”ٹھیک ہے تو میں یہ ویڈیو سب کو دکھا دیتا ہوں۔“
”اچھا ٹھیک ہے میں پیسے دے دوں گی لیکن اتنی بڑی رقم میرے پاس گھر میں نہیں ہے۔ مجھے دو دن لگیں گے تمہیں پیسے دینے میں۔“
”کوئی بات نہیں صبح مجھے اتنے پیسے دے دینا جتنے تمہارے پاس گھر میں ہیں۔ باقی بعد میں دے دینا……اب کھاتہ کھل ہی گیا ہے تو حساب کتاب تو چلتا ہی رہے گا……“جاوید نے مسکراتے ہوئے کہا تھا۔
عظمیٰ نے فون بند کر زور سے بیڈ پہ پٹخا تھا……اسے یاد آرہاتھا کہ جب وہ سب کو بلا کر لائی تھی تو جاوید لبنیٰ کی لاش کے پاس پہلے سے موجود تھا۔یعنی وہ ریکارڈنگ ختم کرکے لبنیٰ کو دیکھنے آگیاتھا۔
عظمیٰ اپنے ذہن میں نیا جال بُننے لگی تاکہ جاوید کو راستے سے ہٹا سکے۔
…………٭٭٭…………٭…………٭٭٭…………
یہ تیسری بار تھا جب عظمیٰ نے جاوید کو پیسے دئیے تھے۔ پہلی بار دو لاکھ اور اس ہر مہینے وہ دس ہزار دے رہی تھی۔ ان تین مہینوں میں اس نے کئی بار کوشش کی کہ جاوید کو کسی طریقے سے راستے سے ہٹا ئے لیکن ہر بار اس کی پلاننگ فیل ہوجاتی تھی۔
دوسری طرف وہ ارمغان کی ہر ممکن دل جوئی کر رہی تھی تاکہ اس کے نزدیک آسکے۔ ارمغان اس سے کافی اٹیچ ہوگیاتھا۔
زینا شاہ سے بھی وہ کافی قریبی تعلق قائم کرچکی تھی۔وہ روزانہ اسپتال سے سیدھا ارمغان کے گھر پہنچ جاتی تھی ارمغان گھر پہ ہوتا تو ملاقات ہوجاتی ورنہ زینا شاہ سے اس نے اچھی دوستی گانٹھ لی تھی۔زینا شاہ کے کھانے کی جی کھول کر وہ تعریفیں کرتی رہتی تھی۔ اپنے مریضوں کے قصے کہانیاں سناتی۔ کچھ زینا شاہ کے دکھڑے سنتی پھر لوٹ کے اپنے گھر آجاتی تھی۔
جاوید کی من مانیاں بھی روبروز بڑھتی جارہی تھیں۔ دوسری طرف ارمغان سے دوستی بھی بڑھتی جارہی تھی۔
جس دن وہ ارمغان کے گھر نہ جاتی وہ فون کر کے خیریت پوچھتا اور اس کے اندر تک سکون اتر جاتا……
…………٭٭٭…………٭…………٭٭٭…………
وہ ایک خوب صورت سہانا دن تھا……ہلکی ہلکی پھوار نے موسم کو رومان پرور بنادیاتھا……عظمیٰ صبح جاگی تو ارمغان کا میسج دیکھا:”ناشتہ میری طرف کرنا،امی نے آلو کے پراٹھے بنائے ہیں۔“
وہ ایک دم مسکرائی۔ اس نے گرین آتشی کنٹراسٹ کا لان کا پرنٹڈ سوٹ نکال کر استری کر کے پہنا۔ بی بی کریم سے ہلکا سا ٹچ اپ دیا۔ لائٹ سی پنک لپ اسٹک لگاکر اس نے خو دپر پرفیوم کا اسپرے کیا اور کانوں میں چھوٹے سے ٹاپس ڈال لئے۔ دوپٹہ سیٹ کر کے اس نے شیشے میں خود کو دیکھتے ہوئے ایک طائرانہ نظر ڈالی…… ”ماشاء اللہ۔کوئی کمی نہیں۔“اس نے سینڈل پہنا اور بیگ، اوور آل اور اسٹھیتواسکوپ اٹھاتی کمرے سے نکل گئی۔
جب وہ ارمغان کے گھر کے باہر پہنچی تو اس کا دل نجانے کیوں زور سے دھڑکنے لگا۔ آج پہلی بار اسے ارمغان نے خود سے انوائٹ کیا تھا۔
وہ دروازے پہ پہنچ کر خود کو کمپوز کرنے لگی کہ اچانک دروازہ کھلا……دلہن بنی لبنیٰ اس کے سامنے کھڑی تھی……ہنستی مسکراتی……بس اس کے منہ سے جھاگ نکل رہاتھا ہلکی سی خون کی آمیزش بھی تھی……”ارے تم آگئیں؟میں تمہارا ہی انتظار کررہی تھی۔آؤ۔“
لبنیٰ بولتی رہی اور عظمیٰ اسے دیکھ کرچیختی رہی……پھر وہ دروازے سے دور ہٹی……لبنیٰ وہیں کھڑی رہی……دروازہ کھولے……
عظمیٰ تیزی سے گاڑی تک پہنچی اور جلدی جلدی گاڑی میں سوارہوئی اور تیزی سے ڈرائیونگ کرتی اسپتال پہنچ گئی۔
وہ وارڈ میں پہنچی تو اس کا سانس پھولا ہواتھا……
”کیا ہوا ڈاکٹر؟“ڈاکٹر اسماء نے پوچھا۔
”کک……کچھ ……نہیں۔“
”کوئی ایکسیڈنٹ تو نہیں ہوا؟“ڈاکٹر طاہر نے فکرمندی سے پوچھاتو عظمیٰ نے فوراً اثبات میں سر ہلادیا۔
انہوں نے عظمیٰ کو آرام کرنے کے لئے روم میں بھیج دیا۔ عظمیٰ کمرے میں آکر لیٹی تو اس کے ذہن میں سب کچھ گردش کرنے لگا۔ آخر لبنیٰ اسے کیوں نظر آرہی تھی۔ اس سوال کا اس کے پاس جواب نہیں تھا۔ لیکن اس سوال کا جواب کسی نہ کسی کے پاس تو ضرور تھا۔اور وہ کسی ڈاکٹر عنبر شاکر تھیں۔ وہ ان کی استاد تھیں اور سائیکاٹرسٹ بھی تھیں۔ عظمیٰ نے فوراً سے ان کو فون کیا۔اور کچھ گول مول انداز میں ان سے مسئلہ دریافت کیا۔
”ڈاکٹر میری ایک پیشنٹ ہیں اسے اپنی مری ہوئی بہن دکھائی دیتی ہے۔ایسے میں اسے کیا کرنا چاہئے؟“
”پیشنٹ سے پوچھئے کہ انہوں نے کبھی اپنی بہن کے ساتھ کسی قسم کی زیادتی تو نہیں کی؟“
”کیا مطلب؟“
”مطلب یہ کہ جب ہمیں گلٹ ہوتا ہے یا ملال ہوتا ہے کہ ہم نے کوئی غلط حرکت کی ہے تبھی ہمیں وہ لوگ بار بارت دکھائی دیتے ہیں۔ وہ ہمارے اند رکا ملال ہوتا ہے جو ہمیں بار بار اس آدمی کو دکھا رہاہوتا ہے۔وگرنہ مردہ آدمی کا وجود کیونکر ہوسکتا ہے۔ “
”اگر پیشنٹ نے کوئی زیادتی نہیں کی ہو تو؟“
”اگر پیشنٹ نے کوئی زیادتی کی ہے تب اسے دکھائی دینا یا اگر پیشنٹ نے زیادتی نہیں کی تب دکھائی دینا دونوں صورتوں کو ہم شیزوفیرنیا کہتے ہیں۔اس میں لوگوں کو وہ چیزیں دکھائی اور سنائی دیتی ہیں جن کا کوئی وجود نہیں ہوتا۔“
”پھر میں پیشنٹ کو کیا کہوں مطلب اس کا علاج دوا وغیرہ؟“
”ڈاکٹر عظمیٰ آپ پیشنٹ کو میرے پاس ریفر کردیں۔ میں اسے کاؤنسل بھی کردوں گی۔ آپ فکر نہ کریں اکثر لوگ ٹھیک ہوجاتے ہیں۔“
”جی مجھے اندازہ ہے ڈاکٹر صاحبہ کہ باقی لوگ پاگل خانے کی زنجیروں میں ہی جکڑے جاتے ہیں ……“
”مجھے افسوس ہے کہ یہ سچ ہے مگر اس سے بڑا سچ یہ ہے کہ وہ اس بیماری میں مبتلا لوگوں کی اکثریت ہوتی ہی مجرم ہے۔ انہوں نے کوئی نہ کوئی ایسی غلطی ضرور کی ہوتی ہے جو ان کو اس قید خانے کی زنجیروں کے حوالے کردیتی ہے۔ مجھے کہنے میں کوئی عار نہیں کہ وہ قید خانہ ہی دراصل ان کی درست جگہ ہوتا ہے۔“
”شکریہ ڈاکٹر صاحبہ میں پیشنٹ کو ریفر کردوں گی۔“
فون بند کرنے کے بعد بھی وہ ڈاکٹر عنبر شاکرکی باتوں پہ غور کرتی رہی……”کیا میں پاگل ہو گئی ہوں؟“
”نہیں نہیں ایسا کیسے ہوسکتا ہے؟“
”پھر مجھے کیا ہوگیاہے؟“اس نے دونوں ہاتھوں سے اپنا سر تھام لیا۔
…………٭٭٭…………٭…………٭٭٭…………
”ارمغان بیٹا ایک بات کہوں؟“ارمغان لیپ ٹاپ میں مصروف تھا جب زینا شاہ اس کے برابر آکر بیٹھیں۔
”جی امی ضرور کہیں۔“ارمغان نے لیپ ٹاپ سے نظریں ہٹائے بغیر کہا۔
”بیٹا مجھے عظمیٰ بہت پسند ہے۔“
”میں سمجھا نہیں امی؟“ارمغان نے تعجب سے زینا شاہ کو دیکھا جو مسکرا رہی تھیں۔
”میرا مطلب ہے کہ میری اس سے اچھی دوستی ہوگئی ہے۔ تو میں کہنا چاہ رہی تھی کہ تم اس سے شادی کر لو۔“
”امی ……میں ابھی…… خود کو تھوڑا وقت دینا چاہتا ہوں۔“ارمغا ن کی لیپ ٹاپ پہ چلتی انگلیاں رک گئی تھیں۔افسردگی کی ایک لہر تھی جو آنکھوں میں ہلکی سی نمی کی چمک لہرائی تھی۔
”ٹھیک ہے بیٹا لیکن جلدی فیصلہ کرلینا۔ پتہ نہیں میں اور کتنے دن جیوں گی۔“زینا شاہ نے ٹھنڈی آہ بھری۔
”ایسا کیوں کہتی ہیں امی؟آپ ماشاء اللہ ایکٹو ہے……مجھ سے زیادہ ہی جوان نظر آتی ہیں آپ۔“اس نے ماں سے مذاق کیاتو وہ ہنسنے لگیں:”بیٹا تنہائی سے بڑھ کر کوئی مرض نہیں ہوتا۔ بہت سوشل ورک ہوگیا اب گھریلو ورک کرنے کا جی چاہتا ہے۔ تمہارے ننھے منے بچوں کو گودوں کھلانے کا دل چاہتا ہے۔“
ارمغان ہنسا تھا……لیکن اس کی ہنسی جیسے مردہ تھی:”جی امی میں کوشش کروں گا کہ جلدی کوئی فیصلہ کرلوں۔“
”ٹھیک ہے بیٹا۔ مجھے بتاؤ رات کے کھانے میں پلاؤ پکا لوں؟“
”جی امی پکا لیں۔“ارمغان دوبارہ لیپ ٹاپ میں مصروف ہوگیا اور زینا شاہ نے کچن کا رخ کر لیا۔
…………٭٭٭…………٭…………٭٭٭…………
لبنیٰ کو گزرے چھ ماہ ہوچکے تھے۔ حمنیٰ کی شادی کی تاریخ بھی طے کردی گئی تھی۔ حالانکہ احمد مغل فی الحال شادی ملتوی کرنا چاہتے تھے مگر روحان حیدر کو ایک دو سالہ کورس کے سلسلے میں جرمنی جانا تھا جس کی وجہ سے وہ لوگ ابھی شادی کرنا چاہتے تھے۔
حمنیٰ کی شادی کی تیاریاں کی گئیں اورسب کی دعاؤں کے سائے تلے وہ رخصت ہوکر اپنے گھر چلی گئی۔
عظمیٰ نے ارمغان کودکھانے کے لئے خوب دل سے تیاری کی تھی۔ اور وہ ارمغان کی خود پہ جمی نظروں کو محسوس بھی کررہی تھی۔
زینا شاہ بھی اسے اپنے ساتھ ساتھ لئے گھومتی رہیں۔ عظمیٰ بھی ساری تقریب میں ان کے اردگرد ہی منڈلاتی رہی۔
حمنیٰ کی شادی کے اگلے ہی دن ولیمے کی تقریب کا انتظام کیاگیاتھا۔
ولیمے کے دن عظمیٰ نے پرپل فراک پہنی تھی ایک سمپل سادہ سی فراک جس پہ صرف ایک چوڑا سا بارڈر تھا جس پہ سلور موتیوں اور دبکے کا کام تھا۔ اس کا دوپٹہ بھی پرپل کلر کا تھا۔ وہ بالوں کا جوڑا بنائے چوڑی دار پاجامہ پہنے ہائی ہیل کھٹکھاتی بے حد اسٹائلش لگ رہی تھی۔زینا شاہ اور ارمغا ن تو اسے دیکھتے ہی رہ گئے۔
عظمیٰ نے ارمغان کو اپنی طرف ایسی وارفتہ نظروں سے دیکھتے دیکھا تو اس کی گردن فخر سے ذرا اور اونچی ہوگئی۔
ولیمے کے بعد وہ لوگ رخصت ہونے لگے تو عظمیٰ انہیں گیٹ تک چھوڑنے آئی۔
تقریباًسارے مہمان جاچکے تھے بس فیملی کے لوگ اور اکا دکا کام کرنے والے لوگ ہال میں باقی رہ گئے تھے۔
وہ گیٹ سے واپس آنے کے بجائے واش روم چلی گئی۔
وہ واش روم میں داخل ہوئی تو ایک لڑکی بڑی سی چادر لپیٹے واش بیسن پہ جھکی منہ دھو رہی تھی۔عظمیٰ دوسرے بیسن کے سامنے کھڑے ہوکر شیشے میں دیکھ کر اپنا میک اپ چیک کرنے لگی۔ تبھی اس لڑکی نے سر اٹھایا ……
قسط نمبر 6
وہ لبنیٰ تھی……چادر میں اس کے کپڑے چھپ گئے تھے……اس کے سارے منہ پہ خون لگاہواتھا……اس نے دیکھا تو واش بیسن کے نل سے پانی کی جگہ خون نکل رہاتھااور وہ اسی خون سے اپنا منہ دھو رہی تھی……عظمیٰ چیختی چلاتی گرتی پڑتی واش روم سے باہر نکلی……تو سب لوگ واش روم کے باہر اس کی چیخیں سن کر جمع ہوگئے……”کیا ہوا؟“
”کیا ہوا؟“
”کیا ہوا؟“ہر کسی کی زبان پہ بس یہی ایک سوال تھا۔
وہ واش روم کی طرف اشارہ کرتی بے ہوش ہوچکی تھی……
کئی لوگ واش روم میں جا کر اچھی طرح سے دیکھ آئے وہاں کوئی نہیں تھا۔
عظمیٰ نے غصے سے اسے دیکھا۔
”کیا وہ بھی لبنیٰ ہی تھی؟“
”تم سے مطلب؟“
”مجھے تو بہت سارے مطلب ہیں۔کوئی ایک ہو تو بتاؤں ناں؟“
عظمیٰ نے غصے سے منہ پھیر لیا۔
”مجھے اپنے دوستوں کے ساتھ پارٹی کرنی ہے اور اس پارٹی کا تمام خرچہ تم دو گی۔ اس مہینے کے دس ہزار الگ سے ہوں گے۔“
”تم پاگل تو نہیں ہو گئے ہو؟“
”میں تو نہیں البتہ تم شاید ضرور پاگل ہوگئی ہو۔جبھی تو تمہیں ہرجگہ ”وہ“دکھائی دیتی ہے……“جاوید نے دیدے گھماتے ہوئے کہا۔
”ارے وہ دیکھو وہاں کون ہے؟“جاوید نے ایک دم سے کھڑکی کی طرف اشارہ کیا تو عظمیٰ نے ایک دم سے خوف زدہ نظروں سے کھڑکی کی طرف دیکھا۔اور پھر جاوید کو دیکھا جو اپنی شرارت پہ دل کھولے ہنسے جارہاتھا۔عظمیٰ نے ایک کشن اٹھا کر اسے دے مارا۔وہ اپنا بچاؤ کرتا کمرے سے باہر نکل گیا۔
”مجھے کچھ کرنا ہوگا……کسی سائیکاٹرسٹ سے کنسلٹ کرنا ہوگا……مکمل رازداری کے ساتھ ……ایسے تو میں سچ مچ پاگل ہوجاؤں گی۔“ عظمیٰ نے اپنی کنپٹیاں سہلاتے ہوئے فیصلہ کیا اور فون اٹھا کر چیک کرنے لگی کہ وہ کس ڈاکٹر سے رجوع کرے۔
اسی شام ارمغان اور اس کی ماں آکر اسے منگنی کی انگوٹھی پہنا کر چلے گئے اور ایک ہی ہفتے بعد شادی کی تاریخ بھی مقرر کردی گئی۔
عظمیٰ بے یقینی کی کیفیت میں مبتلا ہوگئی تھی……وہ خوش تھی ……بہت خوش تھی……بے اندازہ خوش تھی……
لیکن منگنی کے بعد اسے جاوید نے وہ جھٹکا دیا کہ اسے واپس زمین پہ لاپٹخا۔
”ڈاکٹر صاحبہ آپ کو منگنی بہت بہت مبارک ہو مگر میں آپ کو بتا دوں کہ آپ کی ایک عدد ویڈیو میرے پاس بطور ثبوت موجود ہے۔“
وہ ایسے ہنسا کہ عظمیٰ کے تن بدن میں ا ٓگ لگ گئی۔
”اور ابھی میری بھی شادی کی عمر ہوگئی ہے تو میرا خیال ہے کہ میری بھی شادی ہوجانی چاہئے؟“
”تو؟“عظمیٰ نے اسے غور سے دیکھا۔
”تو یہ ڈاکٹر صاحبہ کہ آپ میرے لئے رشتہ لے کر جائیے۔“
”آپ نے لڑکی پسند کرلی ہے؟“
”جی بالکل……“
”کیا لڑکی جانتی ہے کہ آپ کو کینسر ہے؟“
جاوید کے چہرے پہ ایک سایہ سا آکر گزرا پھر اس نے خود کو سنبھال لیا:”جی بالکل جانتی ہے۔اس کے گھر والوں کو بھی پتہ ہے۔“
”پھر تو کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ آپ تو خود بھی بات کرسکتے ہیں۔“
”جی نہیں میں چاہتا ہوں کہ میری بہن میرے رشتے کی بات کرے۔“
”ٹھیک ہے آپ مجھے کانٹیکٹ ڈیٹیلز دے دیں میں بات کرلوں گی۔“عظمیٰ نے جان چھڑانے کو کہا۔
”ارے کاہے کی کانٹیکٹ ڈیٹیلز؟تم تو لڑکی کو جانتی ہو۔“
”میں جانتی ہوں؟“عظمیٰ نے حیرت سے پوچھا۔
”بالکل جانتی ہو۔“
”اچھا؟کون ہے وہ؟“عظمیٰ ناسمجھی سے پوچھنے لگی۔
”تمہاری بہن اقصیٰ۔“جاوید نے گویا اس کی سماعتو ں پہ کوئی بم پھوڑا تھا۔
”یہ کیسے ہوسکتا ہے۔“
”کیوں نہیں ہوسکتا۔“
”امی ابو نہیں مانیں گے۔“
”تو تم کس مرض کی دوا ہو۔ ان کو مناؤ۔“
”لیکن……اقصٰی کیسے……آ پ کو کینسر ہے جاوید بھائی……“
”تم بھی تو پاگل ہو……ارمغان کو بتایا ہے؟“جاوید کے ایسے دوبدو جواب پہ عظمیٰ ایک دم خاموش ہوئی تھی۔
”اور تم قاتل بھی ہو……ارمغان کو تو یہ بات بھی بتانی ہے……“
”میں کل بات کرتی ہوں امی سے۔“
”گڈ……یہ ہوئی ناں بات……بائی دا وے……منگنی بہت مبارک ہو۔“جاوید ایک دل جلی مسکراہٹ اس کی طرف اچھالتا کمرے سے باہر نکل گیا۔ اور وہ غصے سے مٹھیاں بھینچتی رہ گئی۔اس کی ایک غلطی اس کے گلے میں پھانس بن کر اٹک گئی تھی۔ اور اب اسے ساری زندگی اس غلطی کا خمیازہ بھگتنا تھا۔
قسط نمبر 7
جاوید جب تک کچھ سمجھ یا سوچ پاتا ایک جوان نے آکر اسے گدی سے پکڑ لیا۔
”یہ آدمی بہت گندا ہے بھائی……“عظمیٰ کے رونے کی رفتار میں تیزی آگئی تھی:”ایک ہفتے میں میری شادی ہونے والی ہے اور یہ مجھے دھمکیاں دے رہاہے کہ مجھ پہ تیزاب ڈال دے گا……اسے چھوڑنا نہیں پلیز……اسے اچھا سبق سکھانا تاکہ آئندہ یہ کسی لڑکی کو پریشا ن نہ کرسکے……“
”چل اوئے تیری ایسی درگت بناتا ہوں کہ نانی یاد آجائے گی تجھے……“جوان نے اسے بازو سے دبوچا تو وہ منمنایا:”مم……میں نے کچھ نہیں کیا……یہ لڑکی جھوٹ بول رہی ہے……“
”میں اتنی بے غیرت نہیں ہوں کہ ایسا جھوٹ بولوں گی۔ میں سچ کہہ رہی ہوں۔ پلیز آپ میرا یقین کریں۔“عظمیٰ نے اور زوروشور سے رونا شروع کردیا۔ اردگرد بہت زیادہ بھیڑ جمع ہوگئی تھی۔
لوگوں کی ملی جلی آوازیں آنا شروع ہوگیئں:”ایسے گندے لوگوں کو تو فوراً پھانسی پہ چڑھادینا چاہئے۔“
”لڑکیوں کا تو گھر سے باہر نکلنا محال کردیاہے ان لوگوں نے۔“
”دیکھو توشکل سے کتنا شریف لگتا ہے لیکن حرکتیں موالیوں والی ہیں۔“
”ان لڑکوں کو تو جیل میں بند کر کے سڑنے کے لئے چھوڑ دینا چاہئے۔“
رینجرز کے جوانوں پہ جب پریشر بڑھنا شروع ہوا تو وہ بناجاوید کی کوئی بات سنے اسے تقریباً گھسیٹتے ہوئے لے گئے۔
عظمیٰ کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا۔
وہ خوب ساری شاپنگ کر کے گھر لوٹی۔ بہت دنوں بعد اس نے سکون کا سانس لیاتھا۔
رات کے کھانے پہ احمد مغل نے کہا:”بھئی یہ جاوید کہاں ہے؟ میں کب سے اسے کال کررہاہوں۔“
”ارے ابو میں بتانا بھول گئی……“عظمیٰ نے نوالہ نگلتے ہوئے کہا:”جاوید بھائی ایمرجنسی میں لاہور گئے ہیں۔ان کو ڈاکٹر کا اپائنمنٹ مل گیاتھا۔ انہوں نے مجھے بتایاتھا کہ میں جارہاہوں اور میرا موبائل شاید بند رہے گا۔ ایک ہفتے تک آجائیں گے۔“
”ایک ہفتے تک؟ ابھی دو دنوں میں تو شادی ہے۔“احمد مغل نے ناراضگی کا اظہار کیا۔
”جی میں نے ان سے کہا تھا لیکن ان کا چیک اپ زیادہ ضروری تھا ا س لئے میں نے زیادہ فورس نہیں کیا ان کو۔آجائیں گے وہ آپ پریشان نہ ہوں۔“
احمد مغل نے ہنکارا بھرا اور اپنی پلیٹ کی طرف متوجہ ہوگئے۔
عالیہ مغل نے جاوید کے چلے جانے کی خبر سن کر سکون کا سانس لیاتھا۔
رخصتی کے وقت ارمغان نے اس کامہندی سے سنا ہاتھ تھام رکھاتھا۔وہ مسکراتے ہوئے احمد مغل سے باتیں کرتے کار کی طرف آرہے تھے۔سب باتیں کرتے خوش باش ہنستے مسکراتے کھلکھلارہے تھے۔ ارمغان کے ایک کزن نے ان کے لئے کار کا دروازہ کھولا تو عظمیٰ کار کے اندر بیٹھنے کے لئے ذرا جھکی……اندر کوئی تھا……ایک دلہن……اور اس نے ایک دم گھونگھٹ اٹھایا……وہ لبنیٰ تھی…… اس کے منہ سے جھاگ نکل رہاتھا……عظمیٰ نے زور سے چیخ ماری……وہ مسکرائی……اس کے دانت خون سے رنگے ہوئے تھے اور عجیب سے لگ رہے تھے……وہ بولی:”شادی مبارک ہو میری بہن……“
عظمیٰ چیخیں مارتی کار سے پیچھے ہٹی……سب پوچھنے لگے:”کیا ہوا ہے عظمیٰ؟کیا ہوا؟کیا ہوا؟“ مگر وہ صرف کار کی طرف اشارہ کرتی رہی اور چیختی رہی۔
ارمغان اور اس کے کزن نے کار میں جھانکا وہاں کوئی نہیں تھا۔ ارمغان نے اسے سمجھانے کی کوشش کی کہ وہاں کوئی نہیں ہے۔ سب لوگوں نے اس کی تسلی کے لئے باری باری جھانکا لیکن وہاں کوئی بھی نہیں تھا۔
”تم تھک گئی ہو شاید اس لئے ایسا محسوس کررہی ہو۔“ارمغان نے اسے تسلی دی:”گھر پہنچ جائیں تو تم آرام سے سو جانا۔ فریش ہوجاؤ گی تو سب ٹھیک ہوجائے گا۔“وہ اسے تھپکتے ہوئے پچکارتے ہوئے کار میں بیٹھنے کے لئے آمادہ کررہاتھا۔
عظمیٰ نے دھیرے دھیرے سے کار میں جھانکا……وہاں سچ مچ کوئی بھی نہیں تھا……کوئی بھی نہیں۔
وہ کار میں بیٹھی۔ اس کے ساتھ ارمغان بھی پچھلی سیٹ پہ ہی آکر بیٹھ گیا۔ زینا شاہ نے اگلی نشست سنبھال لی اور ڈرائیونگ سیٹ پہ ارمغان کا کزن آگیا۔ وہ لوگ ہلکی پھلکی باتیں کرتے عظمیٰ کا دھیان بٹانے کی کوشش کرتے کرتے گھر پہنچ گئے۔
زینا شاہ نے عظمیٰ کا استقبال بہت ہی خوبصورت طریقے سے کیا۔گیٹ سے لے کر اس کے کمرے تک گلاب کی پتیوں سے راستے کو سجایا گیاتھا۔ جابجا دئیے روشن کئے گئے تھے۔ وہ جہاں سے گزرتی وہاں سے ارمغان کے رشتے دار اس پہ پھولوں کی پتیوں کی بارش کررہے تھے۔
وہ لبنیٰ تھی……چادر میں اس کے کپڑے چھپ گئے تھے……اس کے سارے منہ پہ خون لگاہواتھا……اس نے دیکھا تو واش بیسن کے نل سے پانی کی جگہ خون نکل رہاتھااور وہ اسی خون سے اپنا منہ دھو رہی تھی……عظمیٰ چیختی چلاتی گرتی پڑتی واش روم سے باہر نکلی……تو سب لوگ واش روم کے باہر اس کی چیخیں سن کر جمع ہوگئے……”کیا ہوا؟“
”کیا ہوا؟“
”کیا ہوا؟“ہر کسی کی زبان پہ بس یہی ایک سوال تھا۔
وہ واش روم کی طرف اشارہ کرتی بے ہوش ہوچکی تھی……
کئی لوگ واش روم میں جا کر اچھی طرح سے دیکھ آئے وہاں کوئی نہیں تھا۔
…………٭٭٭…………٭…………٭٭٭…………
”سنا ہے تم پھر سے ڈر گئیں تھیں؟“عظمیٰ نے غصے سے اسے دیکھا۔
”کیا وہ بھی لبنیٰ ہی تھی؟“
”تم سے مطلب؟“
”مجھے تو بہت سارے مطلب ہیں۔کوئی ایک ہو تو بتاؤں ناں؟“
عظمیٰ نے غصے سے منہ پھیر لیا۔
”مجھے اپنے دوستوں کے ساتھ پارٹی کرنی ہے اور اس پارٹی کا تمام خرچہ تم دو گی۔ اس مہینے کے دس ہزار الگ سے ہوں گے۔“
”تم پاگل تو نہیں ہو گئے ہو؟“
”میں تو نہیں البتہ تم شاید ضرور پاگل ہوگئی ہو۔جبھی تو تمہیں ہرجگہ ”وہ“دکھائی دیتی ہے……“جاوید نے دیدے گھماتے ہوئے کہا۔
”ارے وہ دیکھو وہاں کون ہے؟“جاوید نے ایک دم سے کھڑکی کی طرف اشارہ کیا تو عظمیٰ نے ایک دم سے خوف زدہ نظروں سے کھڑکی کی طرف دیکھا۔اور پھر جاوید کو دیکھا جو اپنی شرارت پہ دل کھولے ہنسے جارہاتھا۔عظمیٰ نے ایک کشن اٹھا کر اسے دے مارا۔وہ اپنا بچاؤ کرتا کمرے سے باہر نکل گیا۔
”مجھے کچھ کرنا ہوگا……کسی سائیکاٹرسٹ سے کنسلٹ کرنا ہوگا……مکمل رازداری کے ساتھ ……ایسے تو میں سچ مچ پاگل ہوجاؤں گی۔“ عظمیٰ نے اپنی کنپٹیاں سہلاتے ہوئے فیصلہ کیا اور فون اٹھا کر چیک کرنے لگی کہ وہ کس ڈاکٹر سے رجوع کرے۔
…………٭٭٭…………٭…………٭٭٭…………
ارمغان کی ماں زینا شاہ عظمیٰ کا رشتہ لائی تھیں۔اور احمد مغل اور عالیہ مغل سوچ میں پڑ گئے تھے۔انہوں نے سوچنے کے لئے وقت مانگا تھا لیکن عظمیٰ جب اسپتال سے آئی اور اسے پتہ چلا کہ ارمغان اور اس کی ماں آئے تھے اور انہوں نے اس کے رشتے کی بات کی ہے تو اس نے فوراً ان سے فون کروا کر ہاں کروائی۔ اس کے پاؤں تھے کہ زمین پہ ٹکتے نہ تھے۔اس کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا۔اسی شام ارمغان اور اس کی ماں آکر اسے منگنی کی انگوٹھی پہنا کر چلے گئے اور ایک ہی ہفتے بعد شادی کی تاریخ بھی مقرر کردی گئی۔
عظمیٰ بے یقینی کی کیفیت میں مبتلا ہوگئی تھی……وہ خوش تھی ……بہت خوش تھی……بے اندازہ خوش تھی……
لیکن منگنی کے بعد اسے جاوید نے وہ جھٹکا دیا کہ اسے واپس زمین پہ لاپٹخا۔
”ڈاکٹر صاحبہ آپ کو منگنی بہت بہت مبارک ہو مگر میں آپ کو بتا دوں کہ آپ کی ایک عدد ویڈیو میرے پاس بطور ثبوت موجود ہے۔“
وہ ایسے ہنسا کہ عظمیٰ کے تن بدن میں ا ٓگ لگ گئی۔
”اور ابھی میری بھی شادی کی عمر ہوگئی ہے تو میرا خیال ہے کہ میری بھی شادی ہوجانی چاہئے؟“
”تو؟“عظمیٰ نے اسے غور سے دیکھا۔
”تو یہ ڈاکٹر صاحبہ کہ آپ میرے لئے رشتہ لے کر جائیے۔“
”آپ نے لڑکی پسند کرلی ہے؟“
”جی بالکل……“
”کیا لڑکی جانتی ہے کہ آپ کو کینسر ہے؟“
جاوید کے چہرے پہ ایک سایہ سا آکر گزرا پھر اس نے خود کو سنبھال لیا:”جی بالکل جانتی ہے۔اس کے گھر والوں کو بھی پتہ ہے۔“
”پھر تو کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ آپ تو خود بھی بات کرسکتے ہیں۔“
”جی نہیں میں چاہتا ہوں کہ میری بہن میرے رشتے کی بات کرے۔“
”ٹھیک ہے آپ مجھے کانٹیکٹ ڈیٹیلز دے دیں میں بات کرلوں گی۔“عظمیٰ نے جان چھڑانے کو کہا۔
”ارے کاہے کی کانٹیکٹ ڈیٹیلز؟تم تو لڑکی کو جانتی ہو۔“
”میں جانتی ہوں؟“عظمیٰ نے حیرت سے پوچھا۔
”بالکل جانتی ہو۔“
”اچھا؟کون ہے وہ؟“عظمیٰ ناسمجھی سے پوچھنے لگی۔
”تمہاری بہن اقصیٰ۔“جاوید نے گویا اس کی سماعتو ں پہ کوئی بم پھوڑا تھا۔
”یہ کیسے ہوسکتا ہے۔“
”کیوں نہیں ہوسکتا۔“
”امی ابو نہیں مانیں گے۔“
”تو تم کس مرض کی دوا ہو۔ ان کو مناؤ۔“
”لیکن……اقصٰی کیسے……آ پ کو کینسر ہے جاوید بھائی……“
”تم بھی تو پاگل ہو……ارمغان کو بتایا ہے؟“جاوید کے ایسے دوبدو جواب پہ عظمیٰ ایک دم خاموش ہوئی تھی۔
”اور تم قاتل بھی ہو……ارمغان کو تو یہ بات بھی بتانی ہے……“
”میں کل بات کرتی ہوں امی سے۔“
”گڈ……یہ ہوئی ناں بات……بائی دا وے……منگنی بہت مبارک ہو۔“جاوید ایک دل جلی مسکراہٹ اس کی طرف اچھالتا کمرے سے باہر نکل گیا۔ اور وہ غصے سے مٹھیاں بھینچتی رہ گئی۔اس کی ایک غلطی اس کے گلے میں پھانس بن کر اٹک گئی تھی۔ اور اب اسے ساری زندگی اس غلطی کا خمیازہ بھگتنا تھا۔
…………٭٭٭…………٭…………٭٭٭…………
اگلے دن اس نے جھجھکتے ہوئے عالیہ مغل سے بات کی۔اس کی بات سن کر عالیہ مغل تو ہتھے سے ہی اکھڑ گئیں:”پاگل ہوگئی ہوتم؟“
”لیکن امی جاوید بھائی میں کوئی برائی تو نہیں ہے……“اس نے کن اکھیوں سے ماں کو دیکھا تھا۔
”برائی نہیں ہے……لیکن بیماری تو ہے ناں ……کل کلاں کو میری بچی بیمار ہوگئی تو؟اسے یہ موذی مرض لاحق ہوگیا تو میں کیا کروں گی……؟؟ ناں بابا ناں ……میں تو ایسا کچھ سوچ بھی نہیں سکتی……پہلے ہی میری ایک بچی……“اس کی آواز حلق میں پھندا ڈالنے لگی۔
”امی لیکن……“
”تم کیوں اس کی اتنی سفارشیں کررہی ہو؟“عالیہ مغل نے تفتیشانہ انداز میں پوچھا۔
”نہیں میں سفارش تو نہیں کررہی……“وہ منمنائی تھی:”بس ایسے ہی میرے دل میں خیال آیا تھا کہ ان کی بھی شادی کی عمر ہوگئی ہے۔“
”بس ……میری بیٹی کوئی فالتو نہیں ہے کہ میں اسے کسی بیمار آدمی کے حوالے کردوں۔“عالیہ بیگم نے غصے سے بات ختم کردی اور اٹھ کر وہا ں سے واک آؤٹ کرگئیں۔
عظمیٰ ہاتھ ملتی رہ گئی……ابھی اسے جاوید کو بھی جواب دینا تھا……اس کا دماغ تیزی سے کام کررہاتھا۔
…………٭٭٭…………٭…………٭٭٭…………
وہ اسپتال میں تھی جب اس کا فون بجا۔ جاوید کا نمبر دیکھ کر وہ حد درجہ بد مزہ ہوئی۔
”جی فرمائیے؟“اس نے بے دلی سے پوچھا۔ یہ کال اٹینڈ کرنا بھی بے حد ضروری تھا……
”میرے کام کا کیا بنا؟“
”کچھ نہیں۔“
”کیا مطلب کچھ نہیں؟“
”مطلب یہ کہ میں نے امی سے بات کی تھی صبح، انہوں نے منع کردیا۔“
”ایسے کیسے منع کردیا؟تم نے ان کو منایا کیوں نہیں؟“جاوید کے غصے کی تپش وہ محسوس کررہی تھی۔
”میں نے اپنی پوری کوشش کر کے دیکھ لی۔ امی نہیں مانیں۔“اس نے رسان سے کہا۔
”ٹھیک ہے پھر تم بھی اپنی منگنی ٹوٹنے کی خبر جلدی سنو گی۔“جاوید پھنکارا تھا۔
”جاوید بھائی……آپ ایسا کچھ نہیں کریں گے۔“وہ روہانسی ہوئی تھی۔ اس کی مثال اس کوے کی سی تھی جو ہنس کی چال چلنے کی کوشش میں اپنی چال بھی بھول گیا تھا۔
”اگر تم چاہتی ہو کہ میں ایسا کچھ نہ کروں تو تمہیں کچھ نہ کچھ تو کرنا ہی پڑے گا۔“
”مم……میں دوبارہ کوشش کرتی ہوں۔مجھے تھوڑا وقت دیں پلیز……“
”ہاہاہا……وقت؟؟وقت نہیں ہے تمہارے پاس……بالکل بھی نہیں ہے……میں تمہیں آخری موقع دیتا ہوں۔ کل تک مجھے جواب چاہئے۔اور جواب میں میں صرف ہاں سننا پسند کروں گا۔“جاوید نے جواب سنے بغیر لائن کاٹ دی۔ وہ ان طریقوں پر غور کرنے لگی جن پہ عمل کرتے ہوئے وہ عالیہ مغل کو جاوید اور اقصیٰ کے رشتے کے لئے منا سکتی تھی۔
ایک راستہ تو یہ تھا کہ وہ احمد مغل سے بات کرتی۔ جاوید ان کا بہت لاڈلا تھا اور وہ اسے دل و جان سے زیادہ عزیز رکھتے تھے۔
لیکن کیا ابو مان جائیں گے؟
اگر میں اقصیٰ سے بات کروں؟اور اگر اس نے منع کردیاتو؟
اس کا ذہن متضاد سوچوں کی آماجگاہ بنا ہواتھا۔ اتنے میں ایک مریض آگیا تو وہ سر جھٹک کر اس کی بات سننے میں مصروف ہوگئی۔
…………٭٭٭…………٭…………٭٭٭…………
اگلے دن وہ اسپتال میں تھی جب جاوید کی کال آئی۔ اس نے جان بوجھ کر کال اٹینڈ نہیں کی۔
اسپتال سے لوٹتے ہوئے وہ ایک مال کے اندر چلی گئی۔ اسے کچھ شاپنگ کرنی تھی۔ وہ مال میں مختلف دکانوں کے چکر لگا رہی تھی کہ اچانک اس کو کسی نے آواز دی۔ اس نے پلٹ کر دیکھا تو جاوید کھڑا تھا۔وہ پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے اسے غصے سے دیکھ رہا تھا:”محترمہ بڑے مزے سے اپنی شادی کی تیاریوں میں لگی ہوئی ہیں؟“
عظمیٰ بڑے ضبط سے اسے برداشت کررہی تھی۔ اس کا بس نہیں چل رہاتھا کہ اسے دھکے مار کر وہاں سے باہر نکال دے۔ اسی لمحے عظمیٰ کی نظر جاوید کے پیچھے سے گزرتے چند رینجرزکے جوانوں پہ پڑی جو فل یونیفارم میں ہنستے مسکراتے وہاں سے گزر رہے تھے۔ عظمیٰ کے شاطر ذہن نے ایک دم پلاننگ کی اور وہ دوڑ کر رینجرز کے جوانوں کے پاس گئی۔جاوید حیرت سے گنگ کھڑا اسے دیکھ رہاتھا کہ اسے کیا ہوگیا؟
عظمیٰ رونے کا ناٹک کرنے لگی:”بھیا رینجرز والے بھائی مجھے اس آدمی سے بچالو پلیز……“اس نے جاوید کی طرف اشارہ کی اتو جاوید کی ایک دم سٹی گم ہوگئی:”یہ مجھ سے بدتمیزی کررہاہے ……پلیز مجھے بچا لیں ……“
جاوید جب تک کچھ سمجھ یا سوچ پاتا ایک جوان نے آکر اسے گدی سے پکڑ لیا۔
”یہ آدمی بہت گندا ہے بھائی……“عظمیٰ کے رونے کی رفتار میں تیزی آگئی تھی:”ایک ہفتے میں میری شادی ہونے والی ہے اور یہ مجھے دھمکیاں دے رہاہے کہ مجھ پہ تیزاب ڈال دے گا……اسے چھوڑنا نہیں پلیز……اسے اچھا سبق سکھانا تاکہ آئندہ یہ کسی لڑکی کو پریشا ن نہ کرسکے……“
”چل اوئے تیری ایسی درگت بناتا ہوں کہ نانی یاد آجائے گی تجھے……“جوان نے اسے بازو سے دبوچا تو وہ منمنایا:”مم……میں نے کچھ نہیں کیا……یہ لڑکی جھوٹ بول رہی ہے……“
”میں اتنی بے غیرت نہیں ہوں کہ ایسا جھوٹ بولوں گی۔ میں سچ کہہ رہی ہوں۔ پلیز آپ میرا یقین کریں۔“عظمیٰ نے اور زوروشور سے رونا شروع کردیا۔ اردگرد بہت زیادہ بھیڑ جمع ہوگئی تھی۔
لوگوں کی ملی جلی آوازیں آنا شروع ہوگیئں:”ایسے گندے لوگوں کو تو فوراً پھانسی پہ چڑھادینا چاہئے۔“
”لڑکیوں کا تو گھر سے باہر نکلنا محال کردیاہے ان لوگوں نے۔“
”دیکھو توشکل سے کتنا شریف لگتا ہے لیکن حرکتیں موالیوں والی ہیں۔“
”ان لڑکوں کو تو جیل میں بند کر کے سڑنے کے لئے چھوڑ دینا چاہئے۔“
رینجرز کے جوانوں پہ جب پریشر بڑھنا شروع ہوا تو وہ بناجاوید کی کوئی بات سنے اسے تقریباً گھسیٹتے ہوئے لے گئے۔
عظمیٰ کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا۔
وہ خوب ساری شاپنگ کر کے گھر لوٹی۔ بہت دنوں بعد اس نے سکون کا سانس لیاتھا۔
رات کے کھانے پہ احمد مغل نے کہا:”بھئی یہ جاوید کہاں ہے؟ میں کب سے اسے کال کررہاہوں۔“
”ارے ابو میں بتانا بھول گئی……“عظمیٰ نے نوالہ نگلتے ہوئے کہا:”جاوید بھائی ایمرجنسی میں لاہور گئے ہیں۔ان کو ڈاکٹر کا اپائنمنٹ مل گیاتھا۔ انہوں نے مجھے بتایاتھا کہ میں جارہاہوں اور میرا موبائل شاید بند رہے گا۔ ایک ہفتے تک آجائیں گے۔“
”ایک ہفتے تک؟ ابھی دو دنوں میں تو شادی ہے۔“احمد مغل نے ناراضگی کا اظہار کیا۔
”جی میں نے ان سے کہا تھا لیکن ان کا چیک اپ زیادہ ضروری تھا ا س لئے میں نے زیادہ فورس نہیں کیا ان کو۔آجائیں گے وہ آپ پریشان نہ ہوں۔“
احمد مغل نے ہنکارا بھرا اور اپنی پلیٹ کی طرف متوجہ ہوگئے۔
عالیہ مغل نے جاوید کے چلے جانے کی خبر سن کر سکون کا سانس لیاتھا۔
…………٭٭٭…………٭…………٭٭٭…………
نکاح نامے پہ دستخط کرتے ہوئے اس کی خوشی دیدنی تھی۔اس خوشی میں وہ دوا لینا بھول گئی جو اس نے رازدارانہ طور پر ایک سائیکاٹرسٹ سے چیک اپ کرنے کے بعد استعمال کرنا شروع کی تھی۔بلاشبہ وہ بہت حسین لگ رہی تھی لیکن اسے اپنے حسن سے زیادہ غرور اپنی جیت پہ تھا……وہ عظمیٰ مغل جیت گئی تھی……ا س نے وہ حاصل کرلیاتھا جسے وہ حاصل کرنا چاہتی تھی……اس نے کسی کا نصیب اپنے نام لکھ لیاتھا……اس نے ہارنا سیکھا بھی نہیں تھا۔رخصتی کے وقت ارمغان نے اس کامہندی سے سنا ہاتھ تھام رکھاتھا۔وہ مسکراتے ہوئے احمد مغل سے باتیں کرتے کار کی طرف آرہے تھے۔سب باتیں کرتے خوش باش ہنستے مسکراتے کھلکھلارہے تھے۔ ارمغان کے ایک کزن نے ان کے لئے کار کا دروازہ کھولا تو عظمیٰ کار کے اندر بیٹھنے کے لئے ذرا جھکی……اندر کوئی تھا……ایک دلہن……اور اس نے ایک دم گھونگھٹ اٹھایا……وہ لبنیٰ تھی…… اس کے منہ سے جھاگ نکل رہاتھا……عظمیٰ نے زور سے چیخ ماری……وہ مسکرائی……اس کے دانت خون سے رنگے ہوئے تھے اور عجیب سے لگ رہے تھے……وہ بولی:”شادی مبارک ہو میری بہن……“
عظمیٰ چیخیں مارتی کار سے پیچھے ہٹی……سب پوچھنے لگے:”کیا ہوا ہے عظمیٰ؟کیا ہوا؟کیا ہوا؟“ مگر وہ صرف کار کی طرف اشارہ کرتی رہی اور چیختی رہی۔
ارمغان اور اس کے کزن نے کار میں جھانکا وہاں کوئی نہیں تھا۔ ارمغان نے اسے سمجھانے کی کوشش کی کہ وہاں کوئی نہیں ہے۔ سب لوگوں نے اس کی تسلی کے لئے باری باری جھانکا لیکن وہاں کوئی بھی نہیں تھا۔
”تم تھک گئی ہو شاید اس لئے ایسا محسوس کررہی ہو۔“ارمغان نے اسے تسلی دی:”گھر پہنچ جائیں تو تم آرام سے سو جانا۔ فریش ہوجاؤ گی تو سب ٹھیک ہوجائے گا۔“وہ اسے تھپکتے ہوئے پچکارتے ہوئے کار میں بیٹھنے کے لئے آمادہ کررہاتھا۔
عظمیٰ نے دھیرے دھیرے سے کار میں جھانکا……وہاں سچ مچ کوئی بھی نہیں تھا……کوئی بھی نہیں۔
وہ کار میں بیٹھی۔ اس کے ساتھ ارمغان بھی پچھلی سیٹ پہ ہی آکر بیٹھ گیا۔ زینا شاہ نے اگلی نشست سنبھال لی اور ڈرائیونگ سیٹ پہ ارمغان کا کزن آگیا۔ وہ لوگ ہلکی پھلکی باتیں کرتے عظمیٰ کا دھیان بٹانے کی کوشش کرتے کرتے گھر پہنچ گئے۔
زینا شاہ نے عظمیٰ کا استقبال بہت ہی خوبصورت طریقے سے کیا۔گیٹ سے لے کر اس کے کمرے تک گلاب کی پتیوں سے راستے کو سجایا گیاتھا۔ جابجا دئیے روشن کئے گئے تھے۔ وہ جہاں سے گزرتی وہاں سے ارمغان کے رشتے دار اس پہ پھولوں کی پتیوں کی بارش کررہے تھے۔
اسے لگ رہاتھا جیسے وہ کوئی خواب دیکھ رہی ہے……لیکن یہ سب حقیقت تھی۔اسی اثناء میں وہ اپنے کمرے میں پہنچ گئی۔ یہ کمرہ اس کے خوابوں کی تعبیر تھا……اس کے ارمانوں کی آماجگاہ تھا……زینا شاہ نے اسے بٹھاتے ہوئے کہا:”میں کھانا لے کر آتی ہوں تم فریش ہوجاؤ۔“
اس نے مسکراتے ہوئے بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائی۔ اسے ایسا آرام و سکون محسوس ہوا کہ اس نے آنکھی موندیں اور فوراً ہی نیند کی گپر سکون آغو ش میں جاسمائی۔
زینا شاہ کھانے کی ٹرے لئے کمرے میں داخل ہوئیں اور پیچھے پیچھے ارمغان بھی چلا آیا۔
”ارے یہ تو سو گئی……“زینا شاہ نے ہنستے ہوئے کہا۔
ارمغان بھی اسے دیکھ کر مسکرانے لگا:”سونے دیں امی……بہت تھک گئی ہوگی۔ چلیں آئیں ہم دونوں کھانا کھاتے ہیں۔“
وہ دونوں کھانا کھاتے رہے اور باتیں کرتے رہے۔ پھر زینا شاہ ٹرے لے کر چلی گئیں اور ارمغان عظمیٰ کے سامنے آکر ٹہر گیا۔
وہ سینے پہ بازو لپیٹے بڑے غور سے اسے تک رہاتھا۔پھر اس نے ایک گہری سانس لی اور ایک چھوٹی سی مخملی ڈبی جیب سے نکالی۔اس ڈبی میں ایک ڈائمنڈ رنگ جگمگا رہی تھی۔ اس نے ہاتھ بڑھا کر عظمیٰ کا ہاتھ تھاما اور اس کی انگلی میں انگوٹھی پہنا کر دیر تک اس کا ہاتھ تکتا رہا۔پھر وہ اٹھا اور واش روم میں گھس گیا۔ فریش ہوکر کپڑے بدل کر باہر نکلا تو اسے اچانک یاد آیا کہ عظمیٰ رخصتی کے وقت کچھ دیکھ کر ڈر گئی تھی۔ اس نے موبائل اٹھایا اور کسی کا نمبر سرچ کرنے لگا۔ پھر اس نے کال ملائی اور بات کرنے لگا۔
…………٭٭٭…………٭…………٭٭٭…………
صبح اس کی آنکھ موبائل فون کی وائبریشن سے کھلی۔ اس نے کسلمندی سے آنکھیں کھولیں۔ اس کا کلچ اس کے برابر میں ہی پڑا ہواتھا اور اسی میں سے موبائل کی وائبریشن نے اسے جگایاتھا۔کلچ میں سے موبائل نکالتے ہوئے اس کی نظر پہلو میں بے خبر سوئے ارمغان پہ پڑی جس کی پیشانی پہ خوبصورتی سے بالوں کی چند لٹیں دھری ہوئی تھیں۔ اس نے ایک انگلی سے ان لٹوں کو چھواتو ایک لطیف احساس نے اسے آن گھیرا۔اس کی نظر چیختے چنگھاڑتے موبائل پہ پڑی تو حمنیٰ کی کال آرہی تھی۔
اس نے یس کا بٹن دباتے ہوئے موبائل کان سے لگایا:”السلام اعلیکم ……“
”اعلیکم السلام ……عظمیٰ اٹھ گئی ہو ناں؟ جلدی سے گھر آؤ……بس پانچ منٹ میں پہنچ جاؤ۔ایک بہت بڑا سرپرائز ہے تمہارے لئے۔“حمنیٰ نے چھوٹتے ہی اسے فوراً پہنچنے کا عندیہ سنا دیا۔
”ارے ارے تیز گام اتنی جلدی کس بات کی ہے۔ میں ابھی ابھی اٹحی ہوں منہ ہاتھ بھی نہیں دھویا بھلا اتنی جلدی میں کیسے پہنچ سکتی ہوں؟“
”بس مجھے نہیں پتہ پانچ منٹ میں پہنچو۔“
”بات کیا ہے آخر؟“
”ارے تم پہنچو تو سہی……“
”عظمیٰ سچ مچ میں بہت زبردست سرپرائز ہے یار قسمے جلدی آجاؤ بس……“اقصیٰ نے غالباً حمنیٰ سے فون چھین لیا تھا۔
”اچھا بابا اچھا میں پہنچتی ہوں۔“
عظمیٰ نے ارمغان کو اٹھایا اور اسے حمنیٰ کے فون کا بتایا۔ وہ لوگ تیار ہوئے اور عظمیٰ کے گھر کی طرف روانہ ہوئے۔ سارے راستے عظمیٰ یہی کہتی رہی کہ نجانے کیا سرپرائزہے جو اتنا ارجنٹ آنے کو کہا گیاہے۔
ارمغان اور عظمیٰ گھر پہنچے تو عظمیٰ نے دیکھا کہ سب لوگ لاؤنج میں جمع تھے اور کسی لڑکی سے مسکرا مسکرا کر بات کررہے تھے۔ عظمیٰ کی طرف ا س لڑکی کی پشت تھی اس لئے وہ اس کا چہرہ نہیں دیکھ پائی تھی۔
”ارے دیکھو عظمیٰ آگئی……کتنی دیر سے آئی ہو۔ کب سے تمہیں کال کر رہے تھے ہم سب۔“اقصیٰ نے خفگی کا اظہار کیا۔
”ہو اکیا ہے جو اتنا ارجن……“وہ سامنے آکر گھومی تو صوفے پہ بیٹھی لڑکی کو دیکھ کر ششدر رہ گئی۔وہ لڑکی ہو بہو لبنیٰ کی کاپی تھی……بس اس کی عمر کم تھی……بمشکل پندرہ یا سولہ سال کی ہوگی وہ لڑکی……عظمیٰ بنا پلکیں جھپکائے اسے دیکھتی رہی……
”یہی ہے وہ سرپرائز……“عالیہ بیگم نے مسکراتے ہوئے اس لڑکی کا گال تھپتھایا تھا۔ جواباً وہ مسکرائی تھی تو اس کا ڈمپل بہت واضح اور خوب صورت لگنے لگا……
”خوبصورتی میں چار چاند لگنا شاید اسی کو کہتے ہوں گے۔“ عظمیٰ نے دل میں سوچاتھا:”لیکن لبنیٰ کے گال پہ تو ڈمپل پڑتا ہی نہیں تھا……یہ ہوبہو لبنیٰ کے جیسی کیسے ہو سکتی ہے؟“
ان سب باتوں کو سن کر ارمغان بھی عظمیٰ کے ساتھ آکھڑا ہوا اور جیسے ہی ا سکی نظر اس لڑکی پہ پڑی……اسے لگا جیسے وہ سانس لینا بھول گیاہے……”یہ تو سچ مچ لبنیٰ ہے……لیکن عمر……؟؟یہ تو چھو ٹی لبنیٰ ہے……میری لبنیٰ تو بڑی تھی۔“وہ کہہ نہیں پایا دل میں ہی سوچ کر رہ گیا۔
”عظمیٰ یہ صنوبر ہے۔روحان کی ایک کزن کی نند کی بیٹی ہے۔ میں روحان کے ساتھ ایک شادی اٹینڈ کرنے گئی تھی تب میں نے اسے دیکھا اور دیکھتی ہی رہ گئی۔ یہ چائنا میں رہتی ہے۔شادی مین شرکت کرنے کے لئے آئی تھی یہاں ……دیکھو تو اللہ نے ہمیں ہماری چھوٹی بہن سے ایک بار پھر ملوادیاہے۔“حمنیٰ نے اسے پیارسے پچکارا تھا۔
ارمغان تیزقدموں سے چلتاباہر نکل گیا۔
عظمیٰ کو صنوبر کو دیکھ کر غصہ آرہاتھا……اس نے بڑی مشکل سے خود پہ کنٹرول کیا اور اس کے برابر میں آکر بیٹھ گئی۔صنوبر نے اسے مسکرا کر دیکھا۔
”مجھے جانا ہوگا۔“اس نے حمنیٰ کو دیکھ کر کہا:”ڈیڈ کی بہت کالز آچکی ہیں۔“
”دل تو نہیں چاہ رہا کہ تمہیں واپس بھیج دیں لیکن مجبور ہیں۔“عالیہ مغل نے اسے گلے سے لگالیا:”پھر کب آؤ گی پاکستان؟“
عظمیٰ کا دل چاہا اسے دھکے دے کر باہر نکال دے……لیکن وہ بھی مجبور تھی……
”معلوم نہیں بعد میں کب آؤں گی۔“وہ مسکراتے ہوئے بولی۔ وہ ایک تمیز دار بچی تھی۔
”تمہاری فلائٹ کس وقت ہے؟“
”رات کی فلائٹ ہے لیکن ابھی مجھے اپنی مامی کے گھر جانا ہے پھرتایا جان سے بھی ملنا ہے۔اس لئے مجھے جانا ہے۔“اسی وقت اس کا موبائل فون بجا اس نے اسکرین دیکھ کر کہا:”میرے ڈیڈ آگئے میں چلتی ہوں۔“
وہ سب سے ملنے لگی۔ جب عظمیٰ سے گلے لگنے لگی تو عظمیٰ کا دل چاہا کہ اس کا بھی گلا دبا کر اسکو بھی ختم کردے۔ وہ نہیں چاہتی تھی کہ لبنیٰ کا کوئی ہم شکل بھی دنیا میں پایا جائے۔
صنوبر تو چلی گئی لیکن اپنی باتیں ان سب کے درمیان چھوڑ گئی اورلبنیٰ کی یادیں تازہ کر گئی۔
عظمیٰ سارا دن ارمغان کا انتظار کرتی رہی اس کا موبائل بھی بند جارہاتھا۔
…………٭٭٭…………٭…………٭٭٭…………
ارمغان نے شام کو دیر سے کال کی تھی اور بہت جلدی میں بات کر کے کال بند کر دی تھی۔اسے ایک سرجری کے لئے ارجنٹ طور پہ اسپتال بلایاگیاتھا۔ ابھی سرجری چل رہی تھی وہ صرف اسے کال کرنے کو دس سیکنڈ کے لئے باہر آیاتھا اور کال بند کر کے فوراً واپس آپریشن تھیٹر میں چلاگیا۔
عالیہ مغل نے اسے رات کے کھانے پہ زبردستی روک لیا۔کھانے کے بعد اس نے کہاکہ وہ خود ڈرائیو کر کے گھر جائے گی اور پھر ڈرائیور کے ساتھ گاڑی واپس بھجوا دے گی۔
”بیٹا میں خود چھوڑ آتا ہوں تمہیں؟“احمد مغل نے پیش کش کی۔
”نہیں ابو میرا لانگ ڈرائیو کا موڈ ہورہاہے۔ میں اکیلے ڈرائیو کر کے گھر چلی جاؤں گی۔“وہ اس وقت کسی کے بھی منہ سے لبنیٰ کا ذکر سننے کے موڈ میں نہیں تھی۔
”لیکن بیٹا……“
”لیکن ویکن کچھ نہیں ……کہہ تو رہی ہوں کہ کل گاڑی واپس بھجوا دوں گی۔“اسے ایک دم غصہ آگیا۔ احمد مغل نے بادل نخواستہ اجازت دے دی۔
وہ آرام سے گاڑی ڈرائیو کرتی جارہی تھی……بالکل سکون سے……لیکن ذہن میں صبوبر کا سراپا گھوم رہاتھا……وہ سوچ رہی تھی کہ صنوبر کی وجہ سے کہیں اس کا گھر نہ خراب ہوجائے ……
انہی سوچوں میں غلطاں وہ اپنے راستے جارہی تھی کہ اچانک اس نے بریک پہ پاؤں رکھا……اس کے سامنے روڈ کے بیچوں بیچ لبنیٰ کھڑی تھی اور اس کا لہنگا جل رہاتھا……
عظمیٰ کے اچانک بریک لگانے سے پیچھے والی گاڑی بھی متاثر ہوئی اور بریک لگاتے لگاتے بھی وہ اس کی گاڑی سے ذرا سی ٹکرا ہی گئی۔ ڈرائیور غصے سے گاڑی سے اترا اور عظمیٰ کی کار کا دروازہ کھول کر اسے غصے سے گالیاں دے کر اسے باتیں سنانے لگا:”تم عورتوں کو جب گاڑی چلانی نہیں آتی تو روڈ پر گاڑی لاتی ہی کیوں ہو؟“
”اترو کار سے نیچے……“ عظمیٰ کی نظریں سامنے تھیں ……لبنیٰ کے لہنگے کی آگ کے شعلے تیز ہوا سے اِدھر اُدھر اڑ رہے تھے۔
”میری گاڑی کی مرمت کا خرچہ تو میں تم سے نکلوا کر ہی دم لوں گا۔“لوگ جمع ہونا شروع ہوگئے تھے۔ پتا نہیں کیا باتیں کررہے تھے۔ عظمیٰ کی نظر کی سوئی تو بس سامنے اٹکی ہوئی تھی……لبنیٰ اسے بلا رہی تھی……عظمیٰ کی آنکھ میں اس کے لہنگے میں لگی آگ سے زیادہ شعلے لپک رہے تھے……اس نے دروازہ پکڑکر کھڑے ہوئے آدمی کو دھکا دیا……اپنی کار کا دروازہ دھڑام سے بند کیا ……اگنیشن میں چابی گھمائی……کار جھٹکے سے اسٹارٹ ہوئی……متاثرہ کار کے ڈرائیور نے اس کا دروازہ کھولنے کی کوشش کی……اس کی کھڑکی کا شیشہ بجایا……عظمیٰ نے گاڑی گیئر میں ڈالی اور ایکسی لیٹر پر پورا زور ڈال کر گاڑی ایک دم فل اسپیڈ سے لبنیٰ پر چڑھا دی……
اس نے بیک ویو مرر میں دیکھا لبنیٰ جلتے لہنگے سمیت ایک طرف کو جاگری اوراسے دکھ بھری آنکھوں سے دیکھتی رہی……
”ہونہہ……تم مجھے ہرا نہیں سکتیں لبنیٰ میڈم……“وہ بہت غصے میں تھی اور بہت تیز ڈرائیو کرتی گھر پہنچ گئی۔
وہ اس قدر غصے میں تھی کہ زینا شاہ کو اگنور کرتی وہ سیدھا کمرے میں چلی گئی اور سیدھی جا کر شاور کھول کر اس کے نیچے کھڑی ہوگئی۔ ٹھنڈے پانی کا شاور سر پر پڑنے سے اس کے حواس بحال ہوئے تو اسے پتہ چلا کہ وہ اپنا سینڈل اتارنا بھی بھول گئی ہے۔
وہ کچھ ہوش میں آئی تو آج کے واقعے پہ غور کرنے لگی۔ اسے اب اپنی دماغی حالت پہ شبہ ہونے لگاتھا۔
وہ اپنا سر پکڑ کر وہیں باتھ روم کے فرش پہ بیٹھتی چلی گئی۔
…………٭٭٭…………٭…………٭٭٭…………
اگلے دن ولیمہ بخیر و خوبی سرانجام پایا اور سب لوگ اپنی اپنی دنیا میں مگن ہوگئے۔
ولیمے کے اگلے دن ارمغان کی سالگرہ تھی۔وہ اور عظمیٰ ڈنر کرنے ایک ریسٹورنٹ چلے گئے۔
کیک کاٹنے اور کھانے کے بعدویٹر کھاناسروکر کے چلا گیاتھا۔ چکن کڑاہی کی خوشبو منہ میں پانی لا رہی تھی۔ عظمیٰ سے انتظار نہیں ہورہا تھا۔اس نے جلدی جلدی سے ایک چھوٹا سا نوالہ بنایا اور جیسے ہی منہ میں رکھا فوراً تھوک دیا……اور ہاتھ پہ رکھے منہ سے نکالے نوالے کو غور سے دیکھنے لگی۔
”کیا ہوا عظمیٰ؟“ارمغان نے تشویش سے پوچھا۔
”ارمغان کڑاہی میں کچھ ہے۔“اس نے منہ بنا کر کہا تو اسے محسوس ہوا کہ جیسے اس کے منہ سے خون نکل رہاہے۔ اس نے فوراً ٹشو پیپر منہ پہ رکھا……وہ ایک دم لال ہوگیا……”ارمغان یہ دیکھو……“
ارمغان کڑاہی کو چمچے سے چیک کررہاتھا……اس نے ٹشو پیپر کی طرف دیکھا اور پھر سوالی نظروں سے پریشان ہوتی عظمیٰ کو دیکھا: ”کیا ہوا ہے عظمیٰ؟کچھ بھی تو نہیں ہے……“
”ارمغان میرے منہ سے خون نکل رہاہے……اس کڑاہی میں چوڑی کے ٹکڑے ہیں۔یہ دیکھیں ……“عظمیٰ نے منہ سے نکالا ہوا نوالہ سامنے کیا۔ارمغان نے ایک نظر دیکھا پھر کہا:”اس میں کچھ بھی نہیں ہے عظمیٰ۔ اور تمہارے منہ سے خون بھی نہیں نکل رہا۔“
عظمیٰ نے ایک نظر ہاتھ میں دھرا نوالہ دیکھا……وہاں ایک چوڑی کا ٹکڑا چمک رہاتھا……گولڈن رنگ کا……
اس کے دوسرے ہاتھ میں ٹشو پیپر تھا……خون سے بھرا ہوا……جس کا رنگ سفید سے لال ہوچکاتھا……
پھر اس نے ارمغان کو دیکھا……اس کی آنکھیں دھندلارہی تھیں ……
”عظمیٰ مجھے لگتا ہے کہ تمہیں چیک اپ کی ضرورت ہے۔میں کل ہی کسی ڈاکٹر سے تمہارا مسئلہ ڈسکس کرتا ہوں پھر تمہارا چیک اپ کرواؤں گا۔“
”میں بالکل ٹھیک ہوں ارمغان۔“وہ رو رہی تھی۔ آں سو تواتر سے بہنے لگے۔
”اٹس اوکے عظمیٰ……تم پریشان مت ہو……میں ہوں ناں تمہارے ساتھ۔“ارمغان نے اس کے ہاتھ سے ٹشو پیپر لے کر نیچے رکھ دیا اور اس کا ہاتھ تھام لیا۔
عظمیٰ نے ایک نظر پھر ٹشو کو دیکھا……وہ لال تھا……اس کا رنگ مزید گہرا ہوتا جارہاتھا……جیسے میرون……اس کی آنکھیں دھندلانے لگیں ……اس نے دوسرا ہاتھ دیکھا……وہاں چوڑی کا صرف ایک نہیں کئی ٹکڑے تھے……اس کی آنکھوں سے اور روانی سے آنسو بہنے لگے……اسے احساس ہورہاتھاکہ وہ پاگل ہوتی جارہی ہے……وہ ایک ڈاکٹر تھی اور میڈیکل سائنس سے آگہی نے ہی اسے اُس درجے پہ لاکھڑاکیا تھا جہاں سے اسے مستقبل کی خطرناک کھائیاں بھی صاف نظر آرہی تھیں ……اور ان کھائیوں میں اسے گرنا ہی گرنا تھا……اس کے پاس بچاؤ کا کوئی راستہ ہی نہیں تھا۔
وہ لوگ جلدی ہی گھر واپس لوٹ آئے۔ راستے میں ارمغان نے ایک دو فو ن کالز ریسیو کیں جن میں مبہم انداز میں عظمیٰ کے سلسلے میں بات کی گئی۔ عظمیٰ ڈر گئی تھی……وہ پاگل ہونا نہیں چاہتی تھی……لیکن اس نے جو بیج بویاتھااسے کاٹنا ضرور تھا۔یہی دنیا کی ریت ہے۔ یہاں یہی رسم صدیوں سے نبھائی جارہی ہے اور نبھائی جاتی رہے گی۔
…………٭٭٭…………٭…………٭٭٭…………
اگلی صبح وہ لوگ ناشتے کی میز پہ موجود تھے۔عظمیٰ کی آنکھیں زیادہ رونے کے باعث سرخ ہورہی تھیں۔ارمغان اسے کن اکھیوں سے دیکھتے ہوئے ناشتہ کررہاتھا۔ زینا شاہ سب باتوں سے بے خبر چائے سرو کررہی تھیں۔
”تم لوگ ہنی مون کے لئے کب جارہے ہو؟“زینا شاہ کے سوال پہ ان دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھاتھا۔
”نہیں امی ابھی ارادہ نہیں ہے۔ کچھ سرجریز ہیں میری۔ ڈیٹس دے چکاہوں میں۔ اس لئے فی الحال تو میں کہیں نہیں جاسکتا۔“
”چلو کوئی بات نہیں۔ لیکن جلدی چلے جانا۔ شادی کے فوراً بعد ہنی مون پہ جاؤ تو ایک دوسرے کو سمجھنے میں زیادہ آسانی ہوتی ہے۔“
اسی وقت ارمغان کے موبائل کی رنگ بجی۔عظمیٰ کا دل زور سے دھڑکنے لگا کہ نجانے کوئی ارمغان کو اس کے متعلق کیا بات کہہ دے۔
ارمغان نے موبائل فون کان سے لگایا اور تھوڑی دیر تک بات کرتا رہا۔
”السلام اعلیکم……جی میں نے ہی بات کی تھی…… اچھا ……جی ہاں ……بالکل بالکل……میں تو چاہتا تھا کہ آپ مل لیں ایک بارخود سے……اور فی میل ڈاکٹر ہوں کوئی کانٹیکٹ لسٹ میں تو بتائیے گا ضرور……جی میں ساتھ لے کر آؤں گی……جی انشاء اللہ…… جی اللہ حافظ۔“
اس نے فون رکھ کر عظمیٰ کی طرف دیکھا تو عظمیٰ نے نظریں چرا لیں۔زینا شاہ ان دونوں کو مختلف لوازمات پیش کررہی تھیں۔ اسی لمحے ارمغان، زینا شاہ دونوں کے موبائل کی بیل ایک ساتھ بجی۔ دونوں نے اپنا موبائل اٹھا کر چیک کیا۔
لبنیٰ کی چیخوں کی دلدوز آوازوں سے ان کے موبائل فون کے اسپیکر گونجنے لگے تو دونوں نے حیرت سے عظمیٰ کو دیکھاتھا۔ عظمیٰ نے ان دونوں کو دیکھا۔ارمغا ن نے موبائل کی اسکرین عظمیٰ کی طرف کی اس نے اسکرین پہ ایک بار پھر لبنیٰ کو لہنگے میں اٹک کر منہ کے بل گرتے ہوئے دیکھا۔
”یہ سب کیاہے عظمیٰ؟“
”اوہ میرے خدا عظمیٰ تم نے اپنے ہاتھوں سے……اپنی ہی سگی بہن کو……چھی……“زینا شاہ کو اس سے گھن محسو س ہوئی۔
عظمیٰ نے نفی میں سرہلاتے ہوئے کہا: ”نن……نہیں ……ارمغان……مم……نی……مم……میں ……نن……نے……نہیں ……کک……کیسے……نن……نہیں ……“
ارمغان نے اسے ایک زناٹے دار تھپڑ رسید کیا وہ منہ کے بل زمین پہ جاگری……وہی اس کی اصل اوقات تھی……
زینا شاہ غصے سے چیخیں:”اس ذلیل عورت کو ابھی اور اسی وقت میرے گھر سے نکال باہر کرو ارمغان۔“
”مم……میں ……نی……نہیں ……“اس کے منہ سے الفاظ ادا نہیں ہورہے تھے……اس نے ہاتھ جوڑے مگر ارمغان نے اسے جڑے ہاتھوں سے پکڑ کر گھسیٹا اور لاؤنج تک لایا تو عظمیٰ اس کے پیروں سے لپٹ گئی:”مم……مجھ……جھے……مجھے ……ما……ف……مف…… کردو…… ارمغان……پپ……لیز……“اس کی آنکھیں اور چہرہ آنسو ؤں سے تر بتر ہورہاتھا۔
ارمغان نے غصے سے اسے دیکھا اور اسے بازو سے پکڑ کر اپنے روبرو لاکھڑا کیا:”تم معافی کے قابل نہیں ہو عظمیٰ۔تم نے ایسی گری ہوئی حرکت کی ہے۔میں خود کو کتنا گرا ہوا اور نیچ محسوس کررہاہوں کہ میں بتا نہیں سکتا کہ میری بیوی ……چھی……میری بیوی ایک قاتل ہے……تم سے تو جانور بھلے……نکلو میرت گھر سے۔“وہ اسے دوبارہ گھسیٹنے لگا۔
”مم……نہیں ……جاؤں ……گی……یہ گھر میرا ……ہے۔“عظمیٰ ایک دم اس کے سامنے کھڑی ہوکر بولی تو اس نے غور سے عظمیٰ کو دیکھا:”اچھا چلو میں تمہیں بتاتا ہوں کہ گھر کس کا ہے۔“
عظمیٰ نے اسے آبدیدہ نظروں سے دیکھا……اچانک اس کے پیچھے لبنیٰ آکھڑی ہوئی……اور کبھی دائیں طرف سے جھانک کر اسے دیکھتی کبھی بائیں طرف سے جھانک کر اسے دیکھنے لگی……عظمیٰ چونک کر اسے دیکھنے لگی۔
”ارمغان اسے نکالو گھر سے باہر……میں اس ناپاک عورت کا وجود اپنے گھر میں برداشت نہیں کرسکتی……“زینا شاہ ایک بار پھر غصے سے بے قابو ہوئیں۔
”عظمیٰ مغل صاحبہ یہ گھر آپ کا نہیں ہے……میں ارمغان شاہ اسی وقت آپ کو بقائمی ہوش و حواس طلاق دیتا ہوں اور آپ کو اپنے گھر اور زندگی سے بے دخل کرتا ہوں ……“ارمغان کے منہ سے طلاق سن کر عظمیٰ کا وجود زلزلوں کی زد میں آگیاتھا۔
دلہن بنی لبنیٰ ارمغان کی اوٹ سے نکل کر سامنے آئی اور پائل چھنکاتی بیرونی دروازے کی سمت جانے لگی……عظمیٰ گنگ کھڑی رہی……
زینا شاہ غصے سے پھنکاری:”اب تو پتہ چل گیاناں کہ گھر کس کاہے……چلو نکلو اب یہاں سے……“زینا شاہ نے اس کا ہاتھ پکڑا پھر ایک دم چھوڑ دیا:”توبہ توبہ کیسی ناپاک عورت کو چھو لیا میں نے……“عظمیٰ نے اپنے ہاتھ کو غور سے دیکھا وہ ایک دم سے ناپاک ہوگئی تھی۔زینا شاہ نے عظمیٰ کا دوپٹہ پکڑ کر اسے گھسیٹا ……عظمیٰ کے گلے میں پھندا پڑنے لگا……وہ دم گھٹنے کی وجہ سے چلا رہی تھی،ہاتھ پاؤں چلارہی تھی مگر پرواہ کسے تھی۔زینا شاہ نے دروازے کے باہر اسے لاپٹخا اوراس کے منہ پہ زور سے دروازہ بند کردیا۔
عظمیٰ تھوڑی دیر تک بند دروازے کو دیکھتی رہی……پھر آواز پہ پلٹی……
”عظمیٰ……اِدھر آؤ……آؤ ناں ……“لبنیٰ اسے بلا رہی تھی۔
وہ پلٹی اور اس کے پیچھے پیچھے کسی ٹرانس کی سی کیفیت میں چلنے لگی۔
وہ چلتی چلی جارہی تھی ……اسے کسی بات کا ہوش نہیں تھا……اس کے پاؤں ننگے تھے اسے احساس بھی نہیں تھا……اس کا دوپٹہ ایک طرف سے لٹک کر روڈ پر جھوڑو دیتا جارہاتھا مگر اسے خبر نہیں تھی……
لبنیٰ سڑک کے دوسری طرف دوڑ کر چلی گئی پھر وہاں سے عظمیٰ کو اشارہ کرنے لگی:”آجاؤناں عظمیٰ……جلدی آجاؤ……“
عظمیٰ ٹریفک کے بہاؤ میں چلتی چلی جارہی تھی……کچھ گاڑیوں سے وہ ٹکراتے ٹکراتے بچی اور کچھ ڈرائیورز نے رک کر بہت ہی بے ہودہ گالیوں سے اس کی تواضع بھی کی۔کچھ نے کہا:”پاگل ہے کیا؟“
لیکن اسے کچھ خبر نہیں تھی……وہ دوسری طرف پہنچ گئی……ایک گاڑی سے ٹکرا ئی بھی اس کی سرٹ بازو کے پاس سے پھٹ گئی اور ا سکا جسم وہاں سے نمایاں ہونے لگا مگر اسے پتہ ہی نہ چلا۔
لبنیٰ اسے اپنے پیچھے پیچھے لئے ایک مین روڈ پہ آگئی……یہاں وہ روڈ کے بیچ میں کھڑی ہوگئی اور روڈ پہ عظمیٰ کے لئے اپنی چوڑیاں اُتار اُتار کر پھینکنے لگی جیسے کہ وہ نوکیلی چوڑیاں نہ ہوں کوئی نرم و ملائم گلاب کی پتیاں ہوں ……عظمیٰ ننگے پاؤں ان چوڑیوں پہ چلتی چلتی لبنیٰ تک پہنچ گئی……اس کے پاؤں لہولہان ہوگئے تھے……اس کی روح بھی زخمی تھی لیکن وہ خود بھی نہیں جانتی تھی……
”خوش آمدید میری بہن……“لبنیٰ نے اس کے لئے بازو پھیلائے تھے……عظمیٰ اس کی بانہوں میں جاسمائی اور اسی لمحے ایک تیز رفتار ٹرک نے اسے زور دار ٹکر مار کر بالکل کچل دیا۔
…………٭٭٭…………٭…………٭٭٭…………
لبنیٰ اپنے زیور اتار رہی تھی ……
اس نے اپنے آویزے اتارے…… اور عظمیٰ کے کانوں میں پہنا دئیے……
اس نے اپنا تنگ نیکلس اتار ا اور عظمیٰ کے گلے میں ڈال دیا……
اس نے اپنی چوڑیاں اتاریں ……اور عظمیٰ کی کلائیوں میں پہنا دیں ……
اس نے اپنے ماتھے کا جھومر اتار کر عظمیٰ کے ماتھے پہ سجادیا……
آخر میں اس نے اپنی بہن کے ٹھنڈے ٹھار ماتھے پہ ایک بوسہ ثبت کیا……لبنیٰ کی آنکھ سے ایک آنسو ٹپکا ……خون جیسا سرخ آنسو اور عظمیٰ کے ماتھے پہ آگرا……عظمیٰ کے ماتھے سے خون کا فوارہ پھوٹ پڑا……عظمیٰ کی کچلی ہوئی لاش کے اردگرد لوگوں کا ہجوم جمع ہونا شروع ہوگیاتھا……لبنیٰ دور جانے لگی اور آخر غائب ہوگئی……
لوگ افسوس کرنے لگے……
”چچ پتہ نہیں کون ہے؟“
”ارے کوئی ایدھی ایمبولینس کو فون کرو۔“
”لاش تو بالکل ناقابل شناخت ہے……کیسے پتہ چلے گا کہ کون ہے؟“
”ہاں چہرہ تو بالکل ہی مسخ ہوگیاہے۔“
”چچ بیچاری جوان لڑکی ہے……کوئی چادر لے کر اسے ڈھانپ دو……“
”پہلے اٹھا کر سائیڈ میں تو کرو……“
ایک آدمی نے عظمیٰ کے پیر پکڑے اور دوسرے نے اسے بازوؤں سے پکڑ کر اٹھایا اور ایک طرف رکھ دیا تاکہ ٹریفک کی روانی متاثر نہ ہو۔
تھوڑی دیر میں ایدھی ایمبولینس آئی اور عظمیٰ کی مسخ شدہ لاش کو اسٹریچر پر ڈال کر لے جانے لگی……
اردگرد جمع ہوجانے والے لوگوں نے دیکھاکہ عظمیٰ کا ایک بازو سائیڈ سے نکل کر نیچے جھولنے لگا اور اس کلائی پہ کچھ لال پیلے سے نشان تھے…… قریب جا کر دیکھا تو معلوم ہوا کہ کلائی میں ڈھیروں میرون اور گولڈن چوڑیوں کے ٹکڑے پیوست ہیں۔
……٭٭٭…………٭…………٭٭٭…………
(ختم شد)



Very nice my pyariii khala
ReplyDeleteagayyyyy
DeleteVery nice boht he shandaar likha h ap ay
ReplyDeleteBoht achi story h
ReplyDeleteBehtareen 👍
ReplyDelete