#SairaGhaffarWriter , #Saira , #SairaGhaffar #Urdunovels #OnlineUrduNovels
Ik Khwab ki Dehleez per
By Saira Ghaffar
Complete Online Urdu Novel
#SairaGhaffarWriter , #Saira , #SairaGhaffar #Urdunovels #OnlineUrduNovels
اک خواب کی دہلیز پر
(سائرہ غفار)
قسط نمبر 05
انہوں نے غصے سے فون پٹخ دیا۔ان کا بی پی ایک دم ہائی ہو گیا تھا۔بجو ان کی چیخ سن کر کچن سے دوڑی چلی آئیں۔ انہوں نے فوراً مصطفی کو فون کر کے زیب النساء بیگم کی حالت کا بتایا تو وہ بھی جلدی جلدی آفس سے گھر کے لئے نکلے۔ڈاکٹر کو لے کر وہ گھر پہنچے تو زیب النساء بیگم بے ہوشی کی حالت میں تھیں۔ ڈاکٹر نے ان کو ڈرپ لگا کر آرام کا مشورہ دیا۔
……٭……٭……
امل گھر لوٹی تو غیر معمولی سناٹا اور کاموشی محسوس ہوئی۔حالانکہ گھر میں دو بہنیں اور امی ہی ہوتے تھے سارا دن اور شام میں ابو بھی آجاتے تھے مگر پھر بھی گھرکا ماحول عام دنوں جیسا نہیں تھا۔کچھ تو گڑبڑ تھی۔اس نے بجو سے پوچھا:”کیا ہو اہے بجو؟آج گھر اتنا عجیب سا کیوں محسوس ہو رہا ہے؟“
بجو نے دھیرے سے اسے ساری بات بتائی تو غصے سے اس کی مٹھیاں بھینچ گئیں اور ماتھے پر دماغ کی رگیں ابھرنے لگیں۔بجو نے اس کی حالت دیکھتے ہوئے کہا:”تم کمرے میں جاؤ میں تمہارے لئے وہیں کھانا لے آتی ہوں۔“
”مجھے بھوک نہیں ہے۔“امل غصے سے مٹھیاں بھینچتی ہوئی اس کے سامنے سے گزرتی چلی چلی گئی۔
……٭……٭……
”تم پاگل تو نہیں ہوگئیں؟“نگہت نے اسے بازو سے پکڑ کر جھنجھوڑ ڈالا۔
”ایسا ہی سمجھ لو……“
”ایک بار پھر سوچ لو……بڑا ہی رسکی کام ہے……“سدرہ نے بھی اسے سمجھانے کی کوشش کی۔
”میں سوچ چکی ہوں۔تم لوگ بس یہ بتاؤ کہ تم دونوں میرا ساتھ دو گی یا نہیں؟“
نگہت اور سدرہ نے گڑبڑا کر پہلے امل کو اور پھر ایک دوسرے کو دیکھا۔پھر دونوں نے ذرا سی دیر ہچکچانے کے بعد اثبات میں سرہلا کر اپنی رضامندی ظاہر کر دی۔امل کے چہرے پر ایک پرسکون مسکراہٹ پھیل گئی۔
……٭……٭……
تم کیوں روزانہ میرے یادوں کے دریچوں سے جھانکتی ہو……
کیوں مجھے بے چین رکھتی ہو……
مت آیا کرو میرے سپنوں میں ……
میرا دل تمہیں سوچ کر ہی دھڑکنا بھول جاتا ہے……
کیوں دشمن بنی ہوئی ہو میری……
میں نے کیا بگاڑا ہے تمہارا؟
مت کرو میرے ساتھ ایساپلیز……
مجھے مت تڑپاؤ……
مت ستاؤ مجھے……
ساران امل کی شبیہہ سے باتیں کرتے کرتے تھک کر سو گیا۔خواب میں بھی اسے امل ہی نظر آئی تو اس نے چونک کر آنکھیں کھول دیں ……کمرے میں اس کی مخصوص مہک پھیلی ہوئی تھی……مگر وہ کہیں نہیں تھی……ساران کا اس سے عشق اس قدر مضبوط تھا کہ اسے امل کی یادیں بھی خوشبو بھری محسوس ہوتیں تھیں۔
……٭……٭……
”ہیلو جان کیسی ہو؟“سیما نے گھبرا کر اپنے موبائل کی اسکرین پر لکھا پیغام دیکھا۔کسی نامعلوم نمبر سے اس کے لئے چھ سات ایسے ہی پیغامات آئے تھے۔
”جان کیا کر رہی ہو؟“
”جان مجھے تم بہت یاد آرہی ہو……“
”جان ……جاناں ……جانِ من……“
سیما تھی تو منہ پھٹ اس لئے اس سے پوچھنے بیٹھ گئی:”کون ہو تم؟“
جواب ملا:”تمہارا عاشق……سچا عاشق!“
سیما سوچ میں پڑ گئی کہ یہ کون ہو سکتا ہے؟مگر سوچ کے گھوڑے دوڑ کر واپس آگئے لیکن اسے کوئی ایسا بندہ یاد نہ آیا جس سے اسے ایسی بے ہودہ حرکت کی امید ہو……
ٹھیک دو منٹ کے بعد ایک اور پیغام موصول ہوا:”جانِ من پلیز جواب دو ناں؟“
سیما نے ڈیلیٹ کا بٹن دبایا۔ٹھیک ایک منٹ بعد دوبارہ پیغام آیا:”پلیز جان مت تڑپاؤ اپنے عاشق کو……پلیز جانِ من……میری پیاسی روح کو سیراب کردو۔“
سیما نے گھبرا کر موبائل آف کردیا۔
……٭……٭……
”تمہارا موبائل کیا خراب ہے؟“عمر ضیاء نے کھانے کے دوران سیما سے پوچھا۔
”نن……نہیں ……تو“وہ نظریں چرا گئی۔نور بی بی نے گہری نظروں سے اس کا جائزہ لیا۔
”تو میں نے تمہیں کتنی بار فون کیا مگر تمہارا موبائل آف جا رہا تھا۔“عمر نے پانی کا گلاس ہاتھ میں تھامتے ہوئے کہا۔
”ہاں ……اچھا……وہ چارجنگ نہیں تھی……لائٹ بھی نہیں تھی ناں ورنہ چارج کر لیتی۔“سیما نے بمشکل بات بنائی۔
عمر مطمئن ہوکر کھانے میں مصروف ہوگیا۔دفعتاً نور بی بی نے اس کی شادی کا ذکر چھیڑ دیا:”عمر بیٹا تم نے تصویریں دیکھیں؟“
عمر کھانے کھاتے کھاتے ایک دم سے بے مزہ ہوگیا:”نہیں!“
”تو کب دیکھو گے آخر؟تمہاری عمر ہوگئی ہے شادی کی۔اب اس معاملے کو لے کر سنجیدہ ہو جاؤ۔“نور بی بی نے خاصی بے زار صورت بنا کر کہا۔
”میں تو مکمل طور پر سنجیدہ ہوں۔آپ دونوں نے ہی مذاق بنا رکھا ہے۔“عمر نے برا سا منہ بنایا۔
”ہائے ہائے ماں اور بہن پر شک کر رہا ہے تُو؟کیسی ناخلف اولاد ہے ……دوسروں کے سامنے چاہتا ہے کہ ماں بہن کی بے عزتی ہو……لوگ تماشہ دیکھیں؟“نور بی بی نے سارا الزام امل کے گھر والوں پر انڈیل دیا۔
”تماشے تو آپ کرتی ہیں امی……بس اب مجھے شادی نہیں کرنی ……میں آپ کو اپنی پسند بتا چکا ہوں۔اس کے علاوہ مجھے کہیں اور شادی نہیں کرنی اور یہ میرا ٓخری فیصلہ ہے۔“عمر کے اندر تک کڑواہٹ گھلی ہوئی تھی۔وہ آدھے میں کھانا چھوڑ کر اٹھ کھڑا ہوا۔نور بی بی پیچھے سے بڑبڑاتی رہ گئیں۔
……٭……٭……
موبائل آن ہوتے ہی ان باکس فل دیکھ کر سیما نے بے زار سی صورت بنائی۔سارے پیغامات اسی نئے نمبر سے آئے تھے۔اس نے ایک ایک کر کے پیغامات پڑھنے شروع کئے:
”کتنا تڑپاؤ گی……کبھی تو میرے سچے جذبوں کے آگے ہار جاؤ گی۔“
”میں تم سے بہت پیار کرتا ہوں۔“
”آئی لو یو۔“
”آئی مس یو“
”پلیز جواب دو ناں ……“
”صرف ایک رپلائی کر دو۔“
سیما نے ایک ایک کر کے سارے پیغامات ڈیلیٹ کئے۔جب ان باکس مکمل خالی ہو چکا تواسی نمبر سے فون آگیا۔سیما نے یس کا بٹن پش کر کے موبائل کان سے لگایا۔
دوسری طرف سے بے تابانہ انداز میں اسے مخاطب کیا گیا:”ہیلو!سیما؟کیسی ہو سیما؟سیما پلیز بات کرو ناں ……سیما……سیما……سیما……“
”کون ہو تم؟“سیما نے کڑک دار لہجے میں پوچھا۔
”تمہارا سچا عاشق……“
وہ جی بھر کے بے مزہ ہوئی،اس نے کھٹ سے فون کاٹ کر فوراً موبائل آف کر دیا۔اس درجہ بے باکی سے اظہار پر وہ دوبارہ سوچ میں پڑ گئی کہ یہ کون ہو سکتا ہے۔
……٭……٭……

Comments
Post a Comment