#SairaGhaffarWriter , #Saira , #SairaGhaffar #Urdunovels #OnlineUrduNovels
Ik Khwab ki Dehleez per
By Saira Ghaffar
Complete Online Urdu Novel
#SairaGhaffarWriter , #Saira , #SairaGhaffar #Urdunovels #OnlineUrduNovels
اک خواب کی دہلیز پر
(سائرہ غفار)
قسط نمبر 04
زیب النساء کی آنکھوں میں ٹھہرے آنسو ایکدم لڑکھ کر گالوں کو بھگونے لگے تومصطفی اٹھ کر اپنی شریکِ حیات کے پاس آکھڑے ہوئے اور ان کو شانوں سے تھامتے ہوئے پوچھنے لگے:“پلیز مجھ سے کچھ مت چھپاؤ…… مجھے بتاؤ کہ آخر کیا ہوا ہے؟“
زیب النساء نے روتی ہوئی آنکھوں سے بجو اور امل کو اشارہ کیا۔وہ دونوں اٹھ کر اندر چلی گئیں۔ان دونوں کے چلے جانے کے بعد زیب النساء نے مصطفی کو ساری بات بتا دی۔
……٭……٭……
امل اور بجو دونوں آگے پیچھے چلتی ہوئی اپنے مشترکہ کمرے میں ا ٓکر اپنے اپنے بیڈ کی طرف بڑھ گئیں۔بجو لیٹ گئیں جب کہ امل اپنے بیڈ پر سر رکھ کر زمین پر بیٹھی ہوئی تھی۔بجو سوچ رہی تھیں کہ ”ابو ضرور امل کو بہت زیادہ ڈانٹیں گے مگر قصور اس کا بھی نہیں اگر کوئی اسے پسند کر کے اس کے لئے رشتہ بھیجتا ہے تو اس میں اتنی زیادہ برائی بھی نہیں ہے مگر وہ لوگ ٹھیک نہیں ہیں میں ابو کو سمجھاؤں گی اور امی کو بھی سمجھانے کی کوشش کروں گی کہ امل کی کوئی غلطی نہیں ہے۔“
دوسری طرف امل کے آنسو بیڈ کی چادر کو بھگو رہے تھے،اور وہ سوچ رہی تھی:”اگر امی کی باتوں کو سو فیصد سچ مان کر ابو مجھ سے ناراض ہوگئے تو میں خودکشی کر لوں گی۔ میرے گھر والے مجھ سے ناراض ہو ں یہ مجھ سے برداشت نہیں ہو گا۔اللہ جی پلیز ابو مجھے سمجھ جائیں۔ پلیز اللہ جی۔“
بجو نے سر گھما کر سسکتی بلکتی امل کر دیکھا جو اپنے بیڈ کی چادر مٹھیوں میں جکڑے اپنی آواز کو دبا نے میں مشغول تھی۔بجو اٹھ کر اس کے پاس آئیں اور انہوں نے اس کے سر پر دھیرے سے ہاتھ پھیرا تو امل نے سر اٹھا کر ان کی طرف دیکھا۔اس کے آنسوؤں میں کچھ زیادہ تیزی آگئی۔بجو نے ہولے سے سرگوشیانہ انداز میں کہا:”اللہ نے چاہا تو سب ٹھیک ہوجائے گا۔تم زیادہ مت سوچو۔آرام کرو۔“
امل روتے روتے بولی:”مگر بجو ان سب میں میرا تو کوئی قصور نہیں ہے۔پلیز بجو آپ مجھے قصوروار مت سمجھیں بجو پلیز پلیز۔“
بجو نے ا سکے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا:”مجھے پتہ ہے غلطی تمہاری نہیں ہے۔میں ابو اور امی کو بھی سمجھاؤں گی اب تم سو جاؤ رات بہت ہوگئی ہے۔“
بجو نے اسے بیڈ پر لٹا کر چادر اوڑھا دی۔اور خود اپنے بیڈ پر جا کر لیٹ گئیں۔آج کی رات دونوں پربڑی بھاری تھی۔بظاہر دونوں سو رہی تھیں مگر حقیقت یہی تھی کہ دونوں ہی جاگ رہی تھیں۔اور دونوں ہی سسک رہی تھیں۔
……٭……٭……
ناشتے کی میز پر ساران کی سوجی ہوئی آنکھیں دیکھ کر نگار بیگم پوچھے بنا نہ رہ سکیں:”تم پوری رات سوئے نہیں؟“
ساران ایک دم سے نگاہیں چرا گیا:”نہیں امی ایسی کوئی بات نہیں وہ میری آنکھ میں کچھ چلا گیا تھا۔“
نگار بیگم نے جانچتی نظروں سے ساران کا جائزہ لیا اور ناشتے میں مصروف ہو گئیں۔ساران چاہتا تو امل کے لئے اپنی پسندیدگی نگار بیگم کے سامنے رکھ دیتا مگر مسئلہ یہ تھا کہ نگار بیگم اپنی بھانجی شبانہ کو اپنی بہو بنانا چاہتی تھیں اور انہوں نے ساران کو کئی بار دو ٹوک انداز میں یہ بات جتا دی تھی کہ اگر تمہیں کہیں اور شادی کرنی ہو تو مجھ سے سارے رشتے توڑ کر ہی یہ ممکن ہو پائے گا۔اسی وجہ سے ساران خاموش رہتا تھا مگر کل جو کچھ امل پر بیتا تھا اس کا درد ساران کو بھی محسوس ہوا تھا کیونکہ وہ ا س سے محبت جو کر تا تھا۔مگر یہ بات وہ اپنے گھر والوں کو سمجھانے سے قاصر تھا۔وہ بے دلی سے چند لقمے زہر مار کر اٹھ گیا اور آفس آکر خود کو کاموں میں الجھا لیا۔امل کی یادوں سے پیچھا چھڑانے کا اس کے پاس اِس کے سوا کوئی حل نہیں تھاکہ خود کو شدید ترین مصروف کر لے۔مگر جب شام کو وہ گھر واپس پہنچا تو ڈھیروں تھکن کے ساتھ امل کی یادوں نے بھی اس کا کھلے دل سے استقبال کیا اور اس نے دوبارہ ساری رات اس کی یاد میں جاگ کر گزاردی۔
……٭……٭……
”ابو اور امی کی طرف سے مکمل خاموشی ہے۔سمجھ نہیں آتا کہ وہ لوگ مجھ سے ناراض ہیں یا نہیں۔“امل اپنے ہاتھوں کی نازک سی انگلیاں مروڑتی ہوئی نگہت کو بتا رہی تھی۔آج وہ تینوں کافی دنوں بعد یونیورسٹی آئیں تھیں۔نگہت بولی:”اور بجو کا رویہ کیسا ہے؟“
”ہوں ……ان کا رویہ بالکل نارمل ہے۔وہ مجھ سے ناراض نہیں ہیں۔“امل نے دھیرے سے بتایا۔
سدرہ دھپ سے ان کے برابر میں بیٹھتے ہوئے بولی:”یار وہ جو موٹی آنکھوں والا لڑکا ہے ناں؟“
امل اور نگہت نے اس کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا تو وہ جھنجھلا کر بولی:”یار وہی جو محدب عدسے جیسا چشمہ لگا کر آتا ہے؟“
نگہت نے یاد کرتے ہوئے کہا:”اچھا اچھا……رومی کی بات کر رہی ہو؟“
امل کو بھی وہ موٹے موٹے گلاسسز والا لڑکا یاد آیا۔سدرہ نے اثبات میں سرہلاتے ہوئے کہا:”ہاں ہاں وہی رومی کا بچہ……میں اسے کچا بچا جاؤ گی؟“
امل نے حیرت سے پوچھا:”کسے؟رومی کو یاا س کے بچے کو؟“
نگہت مزید حیرانگی سے بولی:”اس کا بچہ بھی ہے؟لیکن وہ تو خود اتنا سا لگتا ہے؟“
سدرہ مزید جھنجھلا گئی:”یار تم لوگ تو بال کی کھال اتارنے لگ جاتے ہو۔میں رومی کی ہی بات کر رہی ہوں۔“
امل نے پوچھا:”لیکن اس نے کیا کیا ہے؟“
سدرہ نے بے زار لہجے میں کہا:”یہ پوچھو کہ کیا نہیں کیا؟“
نگہت جھنجھلا گئی،اور کھڑے ہوتے ہوئے بولی:”تمہیں پہیلیوں میں بات کرنی ہے تو مت کرو میرے پاس تمہاری پہیلیاں بوجھنے کے لئے بالکل بھی وقت نہیں ہے۔“
امل اور سدرہ نے اسے ہاتھ پکڑ کر بٹھایا،توسدرہ رازدارانہ انداز میں بولی:”وہ رومی ہے ناں ……اس نے پتہ ہے مجھے کیا کہا؟“
نگہت اور امل نے جھنجھلا کر اسے دیکھا تو وہ ایک دم بولی:”اس نے مجھے کہا کہ وہ نگہت سے شادی کرنا چاہتا ہے اور میں امی سے بات کر کے اسے کوئی دن بتاؤن تاکہ وہ اپنی فیملی کے ساتھ رشتے کی بات کرنے آسکیں۔“وہ نان اسٹاپ اپنی بات مکمل کر کے ان دونوں کو دیکھنے لگی۔نگہت ک امنہ کھلا کا کھلا رہ گیا تھا۔جبکہ امل زیرِ لب مسکرا رہی تھی۔
نگہت نے اسے چٹکی کاٹتے ہوئے کہا:”بتا تو نہیں دیا تم نے کوئی دن اسے؟“
سدرہ نے کہا:”پاگل تھوڑی ناں ہوں امی سے پوچھ کر بتاؤں گی۔“
امل مسکرا رہی تھی جبکہ نگہت کو غصہ آرہا تھا:”کوئی ضرورت نہیں ہے اور خبردار جو تم نے رومی کا ذکر بھی کیا ہے امی کے سامنے ورنہ میں تمہیں جان سے مارڈالوں گی۔“
امل کے چہرے سے مسکراہٹ غائب ہوگئی اس نے حیرت سے پوچھا:”لیکن کیوں یار؟رومی اچھا لڑکا ہے اور وہ تمہیں پسند کرتا ہے تو اس میں کوئی برائی بھی نہیں ہے۔“
نگہت نے ہاتھ اٹھا کر اسے روکتے ہوئے کہا:”بس بس رہنے دو۔میں دیکھ چکی ہوں تمہارا حال اور میں بالکل نہیں چاہتی کہ میرے ساتھ بھی ایسا ہی ہو۔“
امل ایک دم اداس ہوگئی۔سدرہ بولی:”یار اب تم لوگ بور مت کرو۔چلو کینٹین چلتے ہیں مجھے بہت زیادہ بھوک لگ رہی ہے۔“
تینوں نے خاموشی سے کینٹین کی راہ لی۔
……٭……٭……
”نہیں جی ہماری طرف سے تو انکار ہے۔“زیب النساء نور بی بی سے فون پر بات کر رہی تھیں۔
نور بی بی نے حیرت سے پوچھا:”ارے کیوں؟کمال کرتی ہیں آپ بھی کام کاج آپ کی بیٹی کو نہیں آتا اور انکار بھی آپ ہی کر رہی ہیں۔واہ جی واہ یعنی چت بھی آپ کی اور پٹ بھی آپ کی……“زیب النساء نے تحمل سے ان کی بات سن کر کہا:”دیکھئے ہم لوگ جانتے بوجھتے بھی اپنی بیٹی کو جہنم میں تو دھکیل نہیں سکتے اور رہی بات کام کاج کی تو وقت سب سے بڑا استاد ہے جب سر پر پڑتی ہے تو انسان سب کام سیکھ لیتا ہے۔اور مجھے آپ کی طرح سے گھما پھرا کر بات کرنے کی عادت نہیں ہے اس لئے صاف صاف بتا رہی ہوں کہ میں آپ کے بیٹے سے اپنی بیٹی کی شادی ہرگز نہیں کروں گی۔“
نور بی بی غصے سے بولیں:”ارے سنبھال کر رکھیں اپنی بیٹٰی کو پھر کوئی نیا پھنسا لیا ہو گا جبھی اتنا بڑھ بڑھ کر بول رہی ہیں آپ……یہ تو میرا بیٹا ضد کر رہا تھا جبھی آپ کی دہلیز پر آئے تھے ہم ورنہ آپ کو کیا پتہ اتنے چھوٹے اور گندے علاقے سے تو ہم کبھی جوتی لینا بھی پسند نہیں کرتے تو بہو لینا تو بہت دور کی بات ہے۔“
”منہ سنبھال کر بات کرو……“زیب النساء کا غصے کے مارے برا حال ہو رہا تھا۔

Comments
Post a Comment