#SairaGhaffarWriter , #Saira , #SairaGhaffar #Urdunovels #OnlineUrduNovels
Ik Khwab ki Dehleez per
By Saira Ghaffar
Complete Online Urdu Novel
#SairaGhaffarWriter , #Saira , #SairaGhaffar #Urdunovels #OnlineUrduNovels
اک خواب کی دہلیز پر
(سائرہ غفار)
قسط نمبر 03
اماں نے آنکھیں پھاڑ کر سیما کو دیکھا جو اپنی ماں سے پرائی بیٹی کی بے عزتی اسی کے گھر میں بیٹھ کر کر رہی تھی۔نور بی بی نے بھی اس کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے کہا:”ہاں مجھے تو تب ہی اندازہ ہو گیا تھا جب عمر نے مجھے بتایا تھا کہ لڑکی بالکل حور پری ہے۔“نو عمری میں کوئی لڑکا آپ کی تعریف کرے اس سے زیادہ خوبصورت اور کوئی جملہ ہوہی نہیں سکتا۔عمر نے اس کی تعریف کی تھی یہ سن کر امل کا دل بے اختیار دھڑکا، ا س نے امل کو حور پری سے مشابہت دی تھی،اس کے لبوں کو ایک بہت ہی نرم اور پیاری سی مسکان نے چھو لیا۔
اماں مزید کہہ رہی تھیں:”جو لڑکیاں زیادہ خوبصورت ہوتی ہیں ان کو گھر کے کاموں کاجوں سے زیادہ دلچسپی ہوتی بھی نہیں ہے۔پھوہڑ ہی ہوتی ہیں۔مگر شادی کرنے کے لئے صرف اداؤں کی نہیں بلکہ کام کرنے کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔زندگی بیٹھے بیٹھے تو گزرنی نہیں ہے۔“
اماں بالکل چپ بیٹھی دونوں ماں بیٹھی کی باتیں سن رہی تھیں۔ان کے اندر جوار بھاٹا پک رہا تھا۔سیما اور نور بی بی اٹھ کھڑی ہوئیں۔نور بی بی اماں سے بولیں:”بہتر ہو گا کہ آپ اپنی بیٹی کو کچھ کام کاج سکھا دیں۔“اماں نے خاموشی سے ان کی نصیحت سنی۔وہ دونوں رخصت ہوئیں تو اماں کی قہر بار نظروں نے امل کو خوفزدہ کر دیا۔
……٭……٭……
”آج محض تیری وجہ سے کوئی غیر میرے گھر میں آکر مجھے سو باتیں سنا گیا ہے۔ا“اماں کا غصہ ساتویں آسمان سے باتیں کررہاتھا۔امل سامنے صوفے پر بیٹھی لرز رہی تھی۔
نگہت اور سدرہ ایک کونے میں خاموشی سے کھڑی تھیں جبکہ بجو بھی بالکل چپ چاپ بیٹھی ہوئیں تھے۔اماں کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ کیا کر بیٹھیں۔وہ امل کو بے بھاؤ کی سنا رہی تھیں:”اگر مجھے معلوم ہوتا کہ تو جونا ہو کر یوں میری عزت کا جنازہ نکالے گی تو میں تجھے پیدا ہوتے ہی خود اپنے ہاتھوں سے تیرا گلا گھونٹ کر مار ڈالتی۔ہائے نجانے کون سے گناہوں کی سزا ملی ہے مجھے۔جو تم جیسی اولاد ملی مجھے۔اس سے تو اللہ مجھے اولاد نہ دیتا تو میں ایک ہی بار اپنے نصیب کو رو لیتی۔یوں بار بار تو نہ رونا پڑتا۔“اماں کے بین کے ساتھ ساتھ بجو کی سسکاریاں بھی کمرے میں گونجنے لگیں۔نگہت نے سدرہ کو آنکھوں سے اشارہ کیا اور دونوں چپکے سے وہاں سے اپنے گھر چلی آئیں۔
……٭……٭……
”تم لوگ امل کے یہاں سے بڑی جلدی واپس آگئے؟“نگار بیگم نے سدرہ نے پوچھا۔
نگہت نے دھیرے سے کہا”وہ امی……امی وہ آج کچھ لوگ امل کو دیکھنے آئے تھے۔“
نگار بیگم نے برا سا منہ بناتے ہوئے کہا:”ہوں ……تبھی تم لوگوں کو زیب النساء نے بھگا دیا ہو گا۔“
سدرہ سدا کی منہ پھٹ تھی فوراً سے بولی:”نہیں امی ایسی کوئی بات نہیں ہے۔وہ تو وہ لوگ ہی عجیب سے تھے۔ہم تو ان کے جانے تک وہیں پر ہی تھے۔“
نگار بیگم نے حیرت سے پوچھا:”عجیب تھے مطلب؟“
”السلام اعلیکم!“ساران نے گھر میں داخل ہوکر سلام کیا تو وہ تینوں اس کی طرف متوجہ ہوگئے۔نگار بیگم نے بیٹے کودیکھتے ہی دونوں بیٹیوں کو دوڑایا:”چلو بیٹا بھائی آگیا،ا تم دونوں چل کر کھانا لگاؤ۔“سدرہ اور نگہت خاموشی سے اٹھ کھڑی ہوئیں اور ساران کونے میں بنے غسل خانے کی طرف چل دیا۔وہ نہا دھو کر اچھی طرح سے فریش ہو کر نکلا تو سدرہ اور نگہت نے کھانا میز پر لگا دیا تھا۔
دال چاول کی خوشبو نے ساران کی بھوک چمکا دی تھی وہ جلدی سے آکر کرسی پر بیٹھا اور اپنی پلیٹ میں دال چاول نکالنے لگا۔ابھی ساران نے پہلا لقمہ ہی منہ میں ڈالا تھا کہ سدرہ بول پڑی:”امی آج آنٹی نے ناں امل کو خوب ڈانٹا۔“
ساران کا نوالہ بناتا ہاتھ ایک دم سے رک گیا۔اس نے چور نظروں سے سدرہ کی طرف دیکھا جو دال چاول کے ساتھ انصاف کرنے کے ساتھ ساتھ امل کے متعلق بھی بتاتی جارہی تھی:”پتہ ہے امی امل کو جو لوگ دیکھنے آئے تھے ناں،ان کے بیٹے نے نازو کی شادی میں امل کو دیکھا تھا۔اس لڑکے کی ماں اور بہن نے آکر خوب تماشہ کیا۔انہوں نے بجو کو بھی خوب باتیں سنائیں کہ تمہاری شادی اب تک کیوں نہیں ہوئی وغیرہ وغیرہ۔اور امل کر تو انہوں نے پھوہڑ بھی کہہ دیا۔“سدرہ سانس لینے کو رکی تو نگار بیگم نے پوچھا:”تم لوگوں کو بھی ڈانٹا ہوگا پھر تو زیب النساء نے؟“
اب کی بار نگہت نے جواب دیا:”ارے نہیں امی……آنٹی ہمیں کیوں ڈانٹنے لگیں۔بس ہم خود ہی عجیب سا محسوس کررہے تھے ان کے درمیان اس لئے وہاں سے جلدی گھر واپس آگئے۔“
نگار بیگم سوچ میں پڑ گئیں،دفعتاً ان کی نظر ساران پر پڑی جو اپنی پلیٹ کو گھور رہا تھا:”ارے ساران بیٹا کھانا کھاؤ ناں؟“
ساران نے چونک کر نگار بیگم کی طرف دیکھا اور خاموشی سے اپنی پلیٹ پر جھک گیا،وہ بے دلی سے کھانا کھا رہا تھا ورنہ اس کی بھوک تو امل کے متعلق سن کر ہی ختم ہو گئی تھی۔وہ جلدی سے اپنی پلیٹ صاف کر کے اٹھ کھڑا ہوا۔نگہت نے حیران ہو کر پوچھا:”کیا ہوا بھائی؟بس اتنا سا کھایا آپ نے؟دال چاول تو آپ کی پسندیدہ ڈش ہے ناں ……تھوڑا سا تو اور کھائیں؟“
ساران نے بہانہ بناتے ہوئے کہا:”نہیں بس میرا پیٹ بھر گیا ہے۔تم کھانا کھا کر چائے دے جانا مجھے۔“نگہت نے سر ہلایا تو ساران اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔
……٭……٭……
مصطفی گھر میں داخل ہوئے تو عجیب سوگوار سے ماحول نے ان کا استقبال کیا۔وہ حیران تھے کہ روز تو امل کی چہکتی ہوئی آواز ان کا استقبال کرتی ہے آج یہ کیا ہو گیا ہے۔ وہ اندر آئے تو امل اور بجو کی سسکیاں سنائیں دیں،ان کا دل انجانے خوف کے ڈر سے لرزنے لگا۔ان کی دھڑکن ایک دم تیز ہوگئی اور پسینے چھوٹنے لگے۔ان کی نظریں زیب النساء کو تلاش کررہی تھیں مگر وہ نظرانہیں ا ٓرہی تھیں۔
انہوں نے امل کی آواز سنی:”ابو……ابو……ابو“وہ مصطفی کی طرف لپکی اور ان کے سینے سے لگ کر رونے لگی۔
بجو نے سر اٹھا کر مصطفی کے سینے میں سر چھپائے روتی ہوئی امل کر غصے سے دیکھا اور ایک دم سے دھاڑی:”امل ……اپنے کمرے مٰں جاؤ تم……زیادہ مظلوم بننے کی کوشش مت کرو۔جو بھی ہے سب کچھ تمہاری وجہ سے ہی ہوا ہے۔“
مصطفی کھڑے کھڑے کانپنے لگے انہوں نے بمشکل خو دکو سوال کر نے پر آمادہ کیا:”زیب ……النساء ……کہاں ہے؟“
اسی وقت زیب النساء اندر سے برآمد ہوئیں ان کو زندہ سلامت دیکھ کر مصطفی کی جان میں جان آئی اور انہوں نے تھکن سے چور جسم کو صوفے پر گراتے ہوئے پوچھا: ”کیا ہوا ہے تم سب لوگ اتنے زیادہ پریشان کیوں ہو؟“
زیب النساء سپاٹ لہجے میں بولیں:”آپ پہلے منہ ہاتھ دھو کر کھانا کھا لیں۔پھر میں آپ کو ساری بات بتاتی ہوں۔“
مصطفی چٹخ پڑے:”بیگم میری دونوں بیٹیاں رو رہی ہیں آپ کی آنکھیں اور لہجہ بھی بھیگا سا ہے ایسے میں ا ٓپ کو لگتاہے کہ میں ایک بھی نوالہ حلق سے نیچے اتار پاؤں گا؟“

Comments
Post a Comment