#SairaGhaffarWriter , #Saira , #SairaGhaffar #Urdunovels #OnlineUrduNovels
Ik Khwab ki Dehleez per
By Saira Ghaffar
Complete Online Urdu Novel
#SairaGhaffarWriter , #Saira , #SairaGhaffar #Urdunovels #OnlineUrduNovels
اک خواب کی دہلیز پر
(سائرہ غفار)
قسط نمبر 02
سدرہ نے منہ بنا کر کہا:”اور بھلا کون بتائے گا……وہی نازو کی اماں ……سارے محلے کو چیخ چیخ کر بتا رہی ہیں کہ امل لڑکوں پر ڈورے ڈالتی ہے اور وہ لوگ بھاگ بھوگ کر ا سکے گھر کی دہلیز پر آبیٹھتے ہیں۔ توبہ توبہ نازو کی اماں تو یہ تک کہہ رہی تھیں کہ انہوں نے خود تمہیں اس لڑکے سے باتیں کر تے ہوئے دیکھا تھا۔کہہ رہی تھیں کہ یہ بڑا سا منہ کھلاہو اتھا امل بی بی کا…… ہنسی ٹھٹھے لگ رہے تھے خوب سارے ……نہ اماں کا لحاظ……نہ باپ کی عزت کی لاج……بھیا آج کل کا تو زمانہ ہی نہیں ہے حیا کا……“سدرہ نے نازوکی اماں کی نقل اتارتے ہوئے کہا۔
امل منہ کھولے حیرت سے ساری باتیں سن رہی تھی،اس کی آنکھوں میں ایک دم ڈھیر سارے آنسو امڈ آئے:”تم دونوں تو تھیں ناں میرے ساتھ؟تم لوگوں نے بھی تو دیکھا ناں مجھے؟کیا میں نے اس لڑکے سے کوئی بات کی تھی؟بتاؤ ناں ……“
نگہت اسے دلاسہ دیتے ہوئے بولی:”ہم جانتے ہیں امل تم ایسی ویسی لڑکی نہیں ہو مگر آج کل کے حالات ایسے ہیں کہ لوگ بات کا بتنگڑ بنا ہی لیتے ہیں۔ہم کچھ کہتے ہیں، وہ کچھ اور سمجھتے ہیں اور بیان کچھ اور ہی کر دیتے ہیں۔“
امل روتے ہوئے بولی:”لیکن میں نے ایسا کچھ بھی نہیں کہ لوگ غلط مطلب نکال لیں اور میں نے تھوڑی ناں کہا تھا اس لڑکے سے کہ وہ اپنے گھر والوں کو بھیج دے۔“
نگہت رسان سے ان کو سمجھانے والے انداز میں بولی:”دیکھو اسی وجہ سے میں کہہ رہی تھی کہ اپنی حد میں رہو اور ایسی حرکتیں مت کرو مگر تم لوگ تو جوانی کے نشے میں سرشار بدمست ہاتھی کی مانند جھوم رہیں تھیں۔“
سدرہ بولی:”اللہ توبہ نگہت ہاتھی تو مت بولو……اتنی سلم اینڈ اسمارٹ ہیں ہم دونوں تو۔“امل کے چہرے کو بھی مسکراہٹ نے چھو لیا۔
اتنے میں بجو کمرے میں چلی آئیں اور تیز نظروں سے تینوں کا جائزہ لیتے ہوئے بولیں:”وہ لوگ آگئے ہیں۔“سپاٹ لہجے میں ان کو پیغام پہنچا کر بجو تیزی سے کمرے سے نکل گئیں اور وہ تینوں ایک دوسرے کو دیکھ کر رہ گئیں۔نگہت اور سدرہ کوامل کا دودھیا رنگ ایک دم سیاہ سا محسوس ہوا۔
……٭……٭……
’میرا بیٹابہت ہی لائق ہے۔تعلیم میں بھی پیچھے نہیں ہے۔ایم۔بی۔اے ہے ماشاء اللہ سے اور وہ بھی فرسٹ ڈویژن میں پاس کیا ہے۔“عمر ضیاء کی والدہ نور بی بی اپنے بیٹے کی تعریفوں میں رطب اللسان ہو رہی تھیں۔
عمر ضیاء کی بہن سیما فوراًسے بولیں:”ارے امی یہ بھی تو بتائیں ناں کہ بھائی نے ٹاپ کیا تھا یونیورسٹی میں۔“
بجو اور اماں نے ایک دوسرے کو شرمندہ سی نظروں سے دیکھا۔نوربی بی کہنے لگیں:”میرے بیٹے کے لئے تو لڑکیوں کی بالکل بھی کمی نہیں ہے۔ہر کوئی چاہتا ہے کہ میرا بیٹا ان کے گھر کا داماد بنے۔ خاندان بھر کے لوگ یہی چاہتے ہیں مگر میں ذرا ان سے کم ہی میل جول رکھتی ہوں ویسے بھی ان کا اور ہمارا کیا میل؟“انہوں نے ساتھ ہی ساتھ امل کے گھر سے جھانکتی غریبی کو دیکھتے ہوئے طعنہ مارا۔اماں اور بجو پہلو بدل کر رہ گیئں۔
سیما نے بجو کی طرف دیکھتے ہوئے کہا:”آپ امل سے چھوٹی ہیں یا بڑی؟“
بجو نے گڑبڑا کر ان کی طرف دیکھا پھر دھیرے سے بولیں:”امل میری چھوٹی بہن ہے۔“
اماں نے بات سنبھالتے ہوئے کہا:”میری بس یہ دو ہی بیٹیاں ہیں۔ماشاء اللہ سے یہ بڑی بیٹی ہے نورین،اس نے بی۔۱ے کیا ہے اور آج کل ایک قریبی اسکول میں پڑھا رہی ہے۔چھوٹی بیٹی امل ہے۔وہ یونیورسٹی سے ابھی بی۔اے کررہی ہے۔“
سیما نے ہونٹ سکیڑ کر پوچھا:”ان کی شادی نہیں ہوئی ابھی؟“
اماں نے سر جھکا تے ہوئے دھیرے سے نفی میں ہلایا تو سیما نے کسی انسپکٹر کی طرح جرح کی:”منگنی؟“اماں کا سر مزید جھکتے ہوئے دوبارہ نفی میں ہلا۔
نور بی بی طنزیہ لہجے میں بجو سے مخاطب ہوئیں:”کیوں بی بی؟تمہیں کبھی کوئی نہیں ملا یوں شادی بیاہ کی کسی تقریب میں؟“بجو نے حیران کن نظروں سے دونوں ماں بیٹی کو دیکھا اور پھر چپ چاپ بیٹھی رہیں۔آنکھوں کے کونوں میں کہیں پانی امڈن لگا تھا۔اتنے میں سیما نے چہکتی ہوئی آواز میں کہا:”ارے بھئی اس حور پری کا دیدار تو کروائیں جس سے ملنے کے لئے ہم اتنی دور سے آئے ہیں۔“
اماں نے بجو کو اشارہ کیا تو وہ خود کو سنبھالتی ہوئی سر ہلاتی ہوئی اٹھ کھڑی ہوئیں۔
……٭……٭……
”چلو۔“بجو نے کمرے میں آتے ہی امل پر حکم صادر کیا۔امل نے ڈرتے ہوئے بجو کی طرف دیکھا ان کو چہرہ بالکل سپاٹ تھا، ہر قسم کے جذبات سے عاری ……امل کو اس لمحے بجو سے بے انتہا خوف محسوس ہوا۔امل اپنی جگہ بیٹھی رہی وہ ہلی تک نہیں تو بجو نے نہایت غصے سے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے کھنچا:”اب چلو بھی……بے تابی سے انتظار ہورہا ہے تمہارا……“
اس بے رحمی کی امل کو ہرگز توقع نہ تھی اس کے منہ سے بے اختیار چیخ نکل گئی۔نگہت نے بمشکل بجو سے اس کا ہاتھ چھڑواتے ہوئے کہا:”کیا کر رہی ہیں بجو؟کیا مار ڈالیں گی اسے؟“
بجو پھٹ پڑیں:”ہاں ہاں مار ڈالوں گی……دل تو میرا یہی چاہ رہا ہے کہ اسے یہیں ختم کر دوں۔اس کی وجہ سے……صرف اس کی وجہ سے آج باہر سے آآکر لوگ مجھ پر انگلیاں اٹھا رہے ہیں اور میرے کردار پر کیچڑ اچھالی جارہی ہے۔اماں کی نظریں جھکی ہوئی ہیں صرف اس کی وجہ سے۔“بجو کا ہاتھ اٹھا مگر نگہت نے ان کا ہاتھ روک لیا۔امل رو رہی تھی اور سدرہ اسے تسلی دے رہی تھی۔
بجو بھی اپنا چہرہ دونوں ہاتھوں سے تھام
کر رونے لگیں اور وہیں بیڈ پر بیٹھ گئیں۔ان کا وجود زلزلوں کی زد میں تھا۔وہ لرز رہی
تھیں۔امل پریشان نظروں سے انہیں دیکھ رہی تھی۔
اتنے میں دروازہ کھلا اور اماں آگئیں۔بجو کو روتے دیکھ کر وہ پل بھر میں بات سمجھ گئیں۔انہوں نے سپاٹ لہجے میں امل کو حکم دیا:”امل منہ ہاتھ دھو کر پانچ منٹ میں ڈرائنگ روم میں آجانا اور نگہت تم اسے دروازے تک چھوڑ کر چلی جانا۔“دونوں نے جلدی سے سر ہلادیا۔اماں امل کو گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے چلی گئیں۔
……٭……٭……
”السلام اعلیکم!“امل نے ڈرائنگ روم میں داخل ہو کر دھیمے لہجے میں سلام کیا۔سیما اور نور بی بی نے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔سیما اور نور بی بی بڑے صوفے پر اور اماں چھوٹے صوفے ہر براجمان تھیں۔ کمرے میں ایک چھوٹا صوفہ خالی رکھا تھا۔امل کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ کیا کرے۔سیما نے ماں کے پاس سے کھسک کر درمیان سے تھوڑی جگہ خالی کر کے امل کو آواز دی:”امل یہاں آکر بیٹھ جاؤ۔“
امل نے درزیدہ نظروں سے اماں کو دیکھا انہوں نے کوئی تاثر نہیں دیا۔امل چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی دونوں کے درمیان جا کر بیٹھ گئی۔
نور بی بی اسے بڑی گہری نظروں سے دیکھ رہیں تھیں اور سیما اس سے چھوٹے چھوٹے سوال کر رہی تھی:”کھانا پکانا آتا ہے تمہیں؟“
امل نے گھبرا کر اماں کی طرف دیکھا تو اماں نے فوراً نگاہوں کا زاویہ بدل لیا۔امل نے سر جھکا کر نفی میں سر ہلادیا۔
سیما نے منہ بنایا مگر پھر دوسرا سوال کیا:”اچھا صاف صفائی کر لیتی ہو گھر کی؟“امل نے اسے بڑی بڑی آنکھوں سے دیکھا،اس کی آنکھوں میں بے پناہ حیرت تھی۔اسے لگتا تھا کہ اس کا حسن ہی سب سے زیادہ طاقتور شے ہے اور اسے یہ سارے کام سیکھنے کی اور کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے مگر یہاں تو اس کے خوابوں کی دنیا بسنے سے پہلے ہی لوٹی جارہی تھی۔اس کا سر دھیرے سے نفی میں ہلا۔
سیما نے مزید برا سا منہ بناتے ہوئے کہا:”اچھا یہ بتاؤ بھلا کہ کڑھائی اور سلائی کرنی آتی ہے تمہیں؟“
امل کا سر پھر نفی میں ہلا تو سیما نے زچ ہو کر کہا:”تو یہ جو تم نے اتنی خوبصورت کڑھائی والا سوٹ پہن رکھا ہے یہ کس نے بنایا ہے؟“امل نے سلام کے بعد پہلی بار اپنی آواز نکالی:”بجو نے۔“
سیما نے نور بی بی کو آنکھوں ہی آنکھوں میں اشارہ کیا۔پھر اس نے دوبارہ پوچھا:”اچھا یہ بتاؤ کہ گھر میں سارے کام کون کرتا ہے؟“
امل کی آواز مزید دھیمی ہوگئی:”بجو!“اس کا لہجا بھیگا سا تھا مگر وہ خود پر ضبط کئے بیٹھی رہی۔
سیما نے منہ پر ہاتھ رکھ کر بڑیہ بوڑھیوں والے انداز میں کہا:”ہائے ہائے امی یہ تو بالکل نری پھوہڑ ہے۔

Comments
Post a Comment