#SairaGhaffarWriter , #Saira , #SairaGhaffar #Urdunovels #OnlineUrduNovels
Ik Khwab ki Dehleez per
By Saira Ghaffar
Complete Online Urdu Novel
#SairaGhaffarWriter , #Saira , #SairaGhaffar #Urdunovels #OnlineUrduNovels
اک خواب کی دہلیز پر
(سائرہ غفار)
قسط نمبر 01
ساران نے ڈائری لکھتے لکھتے سر اٹھا کر کھڑکی سے باہر دیکھا،اس کی نظر کھڑکی سے برستے ساون سے ہوتی ہوئے ڈائری میں رکھی تصویرپر پڑی تو وہ اس سے مخاطب ہوگیا:”ساون کا موسم کتنا سہانا ہے۔ اور چڑیوں کا گیت کتنا بھلا معلوم ہوتا ہے ناں! ایسے جیسے کوئی سریلا جھرنا کسی خوبصورت لے میں بلندی سے نیچے گر رہا ہو۔برستے ابر کی بوندیں جب ہر چیز کر دھو ڈالتی ہیں تو دلوں کا غبار بھی آنکھوں کے راستے بہہ نکلنے کو بیتاب رہتا ہے۔تم سے تو میرا بچپن کا ناتا ہے مگر تم سے جذباتی لگاؤاب عشق کی حدوں کو چھونے لگا ہے……میری آنکھوں میں بنا تمہارا گھر تمہاری اک ہاں کا منتظر ہے مگر میں اپنے خواب کی دہلیز خود بھی پار کرنے سے ڈرتا ہوں ……میرے اختیار میں ہی نہیں اس دہلیز کو پار کرنا……مگر تمہیں دیکھ کر تو میں ساری حدیں اور ساری باتیں بھلا دیتا ہوں میں اپنے اختیار سے باہر ہوجاتا ہوں۔میں اس عشق کی آگ میں جلتے جلتے تھکنے لگا ہوں۔ اس قدر تھکا ہوں کہ اب بس تمہاری زلفوں کے سائے تلے سو جانا چاہتا ہوں مگر اجازت نہیں ہے مجھے……مجھے بالکل اجازت نہیں ہے…… یہ کچی نیند کے اچھوتے خواب کے سحر کس قدر دلکش ہوتے ہیں ……تم کیا جانو……تم کیا جانو!“ دو آنسو اس کی پلکوں پر آکر ٹھہر گئے۔
اس نے نگاہ اٹھا کر کھڑکی سے باہر اودھم مچاتے ساون کو دیکھا،ایسا ہی جل تھل موسم اس کے اند ر بھی برپا تھا۔اس نے تھکے تھکے انداز میں کھڑکی سے اپنا سرٹکا دیا،ذرا سی دیر میں اس کی آنکھوں سے بھی برسات کی جھڑی لگ گئی۔
……٭……٭……
وہ تینوں محلے کی ایک شادی میں شرکت کرنے آئیں تھیں جبھی سدرہ نے امل کے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے ایک طرف اشارہ کیا۔
”وہ دیکھو ذرا ……کیسے تمہیں گھور گھور کر دیکھ رہا ہے۔“
امل کی نگاہیں بے اختیار اٹھیں اور پھر پلٹنا بھول گئیں۔
نگہت نے اسے ٹہوکا مارا:”اے!تم بھی چھچھورپنے والی حرکتیں کرنے لگی ہو۔“
امل نگاہوں کا رخ ذرا سا پھیر کر مسکراتے ہوئے بولی:”یار دیکھو تو سہی کس قدر ہینڈسم بندہ ہے۔“اس نے بمشکل اپنی نگاہیں ہٹائیں تھیں۔
سدرہ نے امل کے دل پر ہاتھ رکھتے ہوئے اسے چھیڑا:”پھر خالی ہوگئی ہو گی یہ جگہ تو؟“
امل نے مسکرا کر سر جھکا لیا تو نگہت بولی:”پوری کی پوری کمینیاں لگ رہی ہو ایسی حرکتیں کرتے ہوئے تم دونوں مجھے۔مجال ہے جو کبھی شریف لڑکیوں والی حرکتیں تم دونوں سے کبھی بھولے سے بھی سرزد ہوئی ہوں۔“سدرہ اور امل نے اختیار ہنسنے لگیں۔
سدرہ دھیرے سے اس کی طرف جھکتے ہوئے بولی:”دیکھو دیکھو……ابھی بھی وہ تمہیں ہی گھور رہا ہے۔“
امل کی ہنسی کو ایک دم سے بریک لگ گیا۔اس نے جھٹکے سے بالوں کو پیچھے کرتے ہوئے کہا:”اس کی طرف زیادہ مت دیکھو ورنہ وہ سمجھے گا کہ ہم لوگ یہاں اسے ہی دیکھنے کے لئے بیٹھے ہیں۔“
سدرہ ادا سے بولی:”ہائے وہ ظالم ہے بھی اسی قابل کہ اسے دیکھنے کے لئے کسی جگہ فرصت سے بیٹھ ہی جائے بندہ۔“
نگہت نے اسے چٹکی کاٹی:”کیسی حرکتیں کرتی ہو تم دونوں ایک نمبر کی چھچھوری لگ رہی ہو۔“دونوں کا مشترکہ قہقہہ گونجا۔
امل مسکراتے ہوئے پرغرور لہجے میں بولی:”اب کوئی ہمیں اور ہمارے حسن کو دیکھ کر دیوانہ وار ہمیں تکے جائے تو ہم کیا کریں۔“
نگہت اس کے لہجے کا غرور دیکھ کر دنگ رہ گئی:”ایسے نہیں کہتے امل……یہ حسن تو اللہ تعالیٰ کی دین ہے اتنا غرور اچھی بات نہیں ہے۔“
سدرہ اس کی شان میں قصیدہ پڑھتے ہوئے بولی:”خدا جب حسن دیتا ہے نزاکت آہی جاتی ہے۔“امل ہنسنے لگی تو نگہت نے تاسف سے دونوں کو دیکھا۔
اچانک شور مچ گیا:”دلہن آگئی ……دلہن آگئی…… دلہن ا ٓگئی……“وہ تینوں بھی دوڑ کر نازو کو دیکھنے پہنچ گئیں جو دلہن بن کر بہت ہی پیاری لگ رہی تھی۔
دلہن کو دیکھنے کے بعد تو وہ ہینڈسم کو بالکل بھول ہی گئیں۔ وہ دیر تک نازو کے پاس بیٹھی اس کے لہنگے، جیولری، مہندی اور میک اپ کے بارے میں باتیں کرتی رہیں۔
……٭……٭……
اگلے دن ہی وہ دستِ سوال دراز کرتا امل کی دہلیز پر آپہنچا۔اماں اور بجو نے اسے کڑے تیوروں سے گھرتے ہوئے دیکھا تھا۔بجو کی تیز چبھتی ہوئی نظروں سے بچنے کے لئے وہ سارا دن اپنے کمرے میں بند رہی۔اماں بھی اسے بے بھاؤ کی سناتی رہیں:”غضب خدا کا……ابھی بڑی بہن کنواری بیٹھی ہیں اور چھوٹی بہن چلی ہیں اپنے حسن کے جلوے دکھانے ……لوگ تو آئیں گے ناں ایسی حرکتوں پر……صاف کہا تھا نازو کی اماں نے……آپ کی بیٹی نے کوئی ادائیں دکھا کر ہی رجھایا ہو گا ……ہائے ہائے میں مر کیوں نہ گئی یہ سب سننے سے پہلے……ہائے ہائے کاش زمین پھٹ جاتی اور میں اس میں سما جاتی۔“
بجو بھی دبے دبے لفظوں میں اسے بار بار کہہ رہی تھیں:”شریف لڑکیوں کو ایسی حرکتیں شوبھا نہیں دیتی کہ وہ غیر لڑکوں کے سامنے زیادہ قہقہے لگائیں یا ہنسیں مسکرائیں، گھوڑی ہو گئی ہو بیس سال کی مگر عقل نام کو نہیں ہے۔“
امل نے بارہ سب کی باتوں سے بچنے کی خاطر اپنے کمرے میں قید ہوکر رہ گئی تھی اسے سمجھ نہیں ا ٓرہی تھی کہ سب کو کیسے سمجھائے کہ وہ تو صرف اپنی سہیلیوں کے ساتھ ہنسی مذاق کر رہی تھی اور کچھ بھی نہیں اور یہ تو ا سکی عمر کا بھی تقاضہ تھا مگر اس کو سمجھنے والا کوئی نہیں تھا۔اس کے آنسو بے آواز تکیے پر گرنے لگے۔
……٭……٭……
شام کو نگہت اور سدرہ بھی آگئیں۔امل نے حیرت سے سدرہ اور نگہت سے پوچھا:”تم لوگوں کو کس نے بتایا کہ وہ لڑکا اپنے والدین کے ساتھ شام کو آرہا ہے؟“
سدرہ نے منہ بنا کر کہا:”اور بھلا کون بتائے گا……وہی نازو کی اماں ……سارے محلے کو چیخ چیخ کر بتا رہی ہیں کہ امل لڑکوں پر ڈورے ڈالتی ہے اور وہ لوگ بھاگ بھوگ کر ا سکے گھر کی دہلیز پر آبیٹھتے ہیں۔ توبہ توبہ نازو کی اماں تو یہ تک کہہ رہی تھیں کہ انہوں نے خود تمہیں اس لڑکے سے باتیں کر تے ہوئے دیکھا تھا۔کہہ رہی تھیں کہ یہ بڑا سا منہ کھلاہو اتھا امل بی بی کا…… ہنسی ٹھٹھے لگ رہے تھے خوب سارے ……نہ اماں کا لحاظ……نہ باپ کی عزت کی لاج……بھیا آج کل کا تو زمانہ ہی نہیں ہے حیا کا……“سدرہ نے نازوکی اماں کی نقل اتارتے ہوئے کہا۔
امل منہ کھولے حیرت سے ساری باتیں سن رہی تھی،اس کی آنکھوں میں ایک دم ڈھیر سارے آنسو امڈ آئے.

Comments
Post a Comment