Phantosmia
By Saira Ghaffar
Complete Online Urdu Novel
فینٹوسمیا
(سائرہ غفار)
قسط نمبر 19
”تم نے ہمیں بتایا کیوں نہیں؟“دلاور کا سوال بجاتھا۔
”ویل اس میں بتانے والی کوئی بات نہیں تھی۔ میں طوبیٰ کا بیٹا ہوں جان کر شاید آپ لوگ کائنات کو علاج بھی مجھ سے نہ کرواتے۔“اس نے شاہدہ کی طرف دیکھتے ہوئے کہاتھا۔ شاہدہ شرمندہ ہوگئی۔
”کیا ہم ایک بار طوبیٰ سے مل سکتے ہیں؟“دلاور نے دھیمی سی آواز میں پوچھاتھا۔
”اس بارے میں مجھے امی سے پوچھنا پڑے گا۔“ڈاکٹر مکرم نے ہچکچاہٹ آمیز لہجے میں کہا۔
”پلیز اسے فون کر کے پوچھو۔ ہمارا اس سے ملنا بہت ضروری ہے۔“شاہدہ نے منت آمیز لہجے میں کہا تو ڈاکٹر مکرم نے حامی بھرتے ہوئے اپنا سیل فون کان سے لگالیا۔اور طوبیٰ کا نمبر ڈائل کر کے اس سے بات کی۔طوبیٰ نے ان کو گھر بھیجنے کو کہاتھا۔
”آپ لوگ جا کر امی سے مل سکتے ہیں۔ یہ ایڈریس ہے۔“اس نے ایک کاغذ پہ پتہ لکھ کران کے حوالے کیا۔
شاہدہ نے ایک دم جھپٹ کر وہ کاغذ پکڑ لیا:”چلو جلدی کرو کائنات چلو۔“دلاور اور شاہدہ تیزی سے باہر نکل گئے۔ کائنات ان کے پیچھے نکل رہی تھی۔ اس نے ایک نظر مڑ کر ڈاکٹر مکرم کو دیکھا۔ ڈاکٹر نے اسے ٹاٹا کیا تو وہ تیزی سے نکلتی چلی گئی۔
…………………………
آدھے گھنٹے بعد وہ تینوں طوبیٰ کے گھر میں موجود تھے۔ طوبیٰ کے والدین کا انتقال ہوچکاتھا۔ اس کی بہن کی شادی ہوچکی تھی۔ وہ اپنے والد کے ہی گھر میں رہائش پذیر تھی۔گھر میں طوبیٰ کے علاوہ اس کی ایک بہو اور دو ننھے منے بچے بھی تھے۔جو سارے گھر میں اٹھکیلیاں کرتے پھر رہے تھے۔
”یہ دونوں میرے پوتا پوتی ہیں۔“
”کتنے کیوٹ ہیں دونوں ماشاء اللہ۔“کائنات نے چھوٹے گپلو بے بی کو گود میں اٹھا لیا تھا۔
”کیسے آنا ہوا؟“طوبیٰ نے ان کو مسکرا کر دیکھاتھا۔
”وہ……میں ……ہم……میں ……“شاہدہ کی زبان اسے سامنے دیکھ کر گنگ ہوگئی تھی۔
”گھبراؤ نہیں شاہدہ جو بھی کہنا ہے آرام سے کہو۔“طوبیٰ کے لہجے میں وقار تھا۔
شاہدہ نے کچھ کہنے کے لئے منہ کھولا مگر الفاظ اس کے حلق میں ہی پھنسنے لگے:”مم……میں ……معا……فی……“اس کی ہچکیاں بندھ چکی تھیں اور دونوں ہاتھ طوبیٰ کے سامنے بندھ گئے تھے۔وہ روتی جارہی تھی اور بے ربط بولتی جارہی تھی:”مم……جھے……کر……دو…… معا……مجھے……معاف……کر……دو……طوبیٰ……“
دلاور کی آنکھوں سے بھی آنسو رواں ہوگئے تھے۔
کائنات ہکا بکا سی ساری صورت حال کو سمجھنے کی کوشش کررہی تھی۔
طوبیٰ نے سکون سے آنکھیں موند کر صوفے کی پشت سے ٹیک لگالی اور سکون آور لہجے میں چھت کو دیکھتے ہوئے کہنے لگی:”آہ……کتنے سال گزر گئے ایک بہتان کا بوجھ ڈھوتے ڈھوتے……شہزاد کاش تم زندہ ہوتے تو دیکھ سکتے……تم دیکھ لیتے کہ میں بے گناہ تھی……میں بالکل بے گناہ تھی……آہ میرے سر سے آج کتنا بڑا بوجھ اتر گیا ……میں آج آزاد ہوگئی ہوں حقیقی معنوں میں آزاد ہوگئی ہوں۔“اس نے سیدھے ہو کر اپنے آنسو صاف کئے اور شاہدہ کے بندھے ہاتھ تھام لئے:”تم بھی آج سے آزاد ہو شاہدہ……جاؤ میں نے تمہیں معاف کیا۔“
طوبیٰ آنسو بھری آنکھوں سے مسکرا رہی تھی۔ شاہدہ روتی جاتی تھی اور اس کا شکریہ ادا کرتی جاتی تھی۔
وہ لوگ جانے کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔
”آپ نے حارم کا نام کیوں بدلا آنٹی؟“کائنات نے پہلی بار منہ کھولا تھا۔
”وہ نام اسے اس کے باپ نے دیاتھا۔ جب اس کے باپ نے سب رشتے ناطے توڑ دئیے تو اس کا دیا نام لے کر کیا کرتے؟ اسی لئے بدل دیا۔“
”شہزاد کا انتقال کیسے ہوا؟“دلاور نے ہمت مجتمع کر کے پوچھا۔
”جس دن اس نے مجھے طلاق دی تھی اس کے اگلے دن اس نے مجھے کال کی تھی……معافی مانگی تھی……اس کی مانگی ہوئی معافی میں بھی شک کی بُو شامل تھی۔وہ جانتا تھا کہ میں بے گناہ ہوں مگر……اقرار کرتے ہوئے ڈر رہاتھا……تیسرے دن تمام سامان یہاں اس گھر میں اتار کر وہ خود چلا گیا۔ کہاں جارہاتھا ……اس نے بتایا نہیں تھا……لیکن اگلے دن ہی اس کے ایکسیڈنٹ کی خبر مل گئی تھی۔ میرے والد صاحب نے ہی اس کی تدفین کا تمام انتظام کیاتھا۔“طوبیٰ نے وضاحت کی تو کمرے کے سناٹے میں شاہدہ کی سسکی ابھری:”مجھے معاف…… کر…… دو میں ……تم……ہاری……گناہ گار ہوں۔“اس نے پھر سے ہاتھ جوڑے تھے۔
”میں نے معاف کردیاہے شاہدہ……بالکل دل سے معاف کیاہے۔ تم ریلیکس ہوجاؤ۔جاؤ شاباش……“طوبیٰ ان کو دروازے پہ چھوڑنے آئی۔ کائنات نے جاتے جاتے مڑ کر دیکھااور مسکراتے ہوئے گیٹ کراس کرگئی۔
…………………………
وہ ہر ہفتے سیشن کے لئے جاتی تھی……اب ڈاکٹر مکرم اس سے پھول نہیں بنواتے تھے بلکہ اس کے بنائے ہوئے سات پھولوں کو ایک ایک کر کے ہر سیشن میں کھلواتے تھے۔
”ایک پھول کو کھول لو……ایسے کھولو جیسے آپ کسی پرفیوم کا اسپرے کررہی ہیں ……جیسے آپ کسی خوشبو کو قید سے آزادکررہی ہیں۔“
وہ دھیرے دھیرے پھول کھولنے لگی……
کاغذ کھل گیاتھا……
اس نے دیکھا کاغذ پہ کچھ لکھا ہواتھا۔ اس نے پڑھنے کی کوشش کی:”میں ایک بھینی بھینی سی خوش بو ہوں۔“
اس نے کاغذ سونگھا……”اوہ کتنی پیاری خوشبو ہے۔“اس نے دھیرے دھیرے سے خوش بو کو اپنے اندر اتارنے کی کوشش کی۔
”آج کی آپ کی ایکسرسائز یہی ہے کہ آپ یہ کاغذ ساتھ لے جائیں گی اور روز کم از کم دو بار اس خوش بو کو محسوس کرنے کی کوشش کریں گی۔“
ڈاکٹر مکرم کے ہاتھ میں اس نے پھر سے اسٹاپ واچ دیکھی تھی۔
”کیا آپ نے میرا پھول کو کھولنے کا ٹائم نوٹ کیا ہے؟“
”جی بالکل میں اپنے ہر پیشنٹ کے ہر کام کا ٹائم نوٹ کرتا ہوں۔“ڈاکٹر مسکرایاتھا۔
”اگلے سیشن میں آنے سے پہلے آپ اس کا پھول بنا کر اپنے گھر کے گملے میں لگا لیجئے گا۔“ڈاکٹر نے اسے اس سیشن کی ایکسرسائزز سکھا کر روانہ کردیا۔
اگلے سیشن میں اس نے ایک اور پھول کھولا……اس سے اگلے سیشن میں ایک اور پھول……یوں وہ ہر سیشن میں ایک ایک کر کے سارے پھول کھولتی چلتی گئی……ہر کاغذ میں ایک نیا جملہ لکھا ہوتاتھا۔کسی کاغذ میں لکھاہوا:”یہ چاکلیٹ کی خوش بو ہے۔“
کسی میں لکھا ہوتاتھا:”یہ گلاب کی خوشبو ہے۔“
آج اس کا آخری سیشن تھا……آج اسے اپنا ساتواں اور آخری پھول کھولناتھا……اسے بدبو آنی بند ہوچکی تھی……وہی بھینی بھینی پیاری سی خوشبو اس کے اطراف میں رقصاں رہتی تھی جو اس کے بچپن کی ساتھی تھی……
اس نے پھول کو احتیاط سے کھولنا شروع کیا……اس نے دیکھا کاغذ پہ ایک جملہ لکھا ہوا تھا……”یہ نیکی کی خوش بو ہے جو ہمیشہ انسان کے ساتھ ساتھ رہتی ہے۔“
اس نے جملہ کو دو تین بار پڑھا……پھر دھیرے دھیرے سے کاغذ کو ناک سے لگالیا……وہ ایسی خوشبو تھی کہ اس نے آج سے پہلے کبھی نہیں سونگھی تھی……اس نے پھر کاغذ کو دیکھا اور پھر سے سونگھا……وہی خوشبو……

Comments
Post a Comment