Phantosmia
By Saira Ghaffar
Complete Online Urdu Novel
فینٹوسمیا
(سائرہ غفار)
قسط نمبر 20
اس نے ڈاکٹر کو دیکھا جو اسے دیکھ کر مسکرارہے تھے……انہوں نے اسٹاپ واچ میز پہ رکھتے ہوئے کہا:”آج آپ کا آخری سیشن ہے۔ میں امید کرتا ہوں کہ ہم آج کے بعد دوبارہ کبھی نہیں ملیں گے۔ میں نے آپ کا ہر طرح کا ٹیسٹ کرلیا ہے اور میں آ پ کو آج بالکل فٹ قرار دیتا ہوں۔“
ڈاکٹر نے اس کے فٹنس سرٹیفیکیٹ پہ دستخط کرکے اس کے ہاتھ میں تھمادیا۔
”میرا ٹریٹمنٹ مکمل ہوگیاہے؟میں بالکل ٹھیک ہو گئی ہوں؟“کائنات نے بے یقینی سے پوچھاتھا۔
”جی بالکل آپ نے ٹھیک سنا ……آپ بالکل ٹھیک ہوگئی ہیں ماشا ء اللہ سے۔“
ڈاکٹر نے اس کے ساتھ اس کے ٹریٹمنٹ کی تفصیل بھی شیئر کی جس کے مطابق اس نے سوالناموں میں نوے فی صد نمبر حاصل کئے تھے۔
اس نے باقی ایکٹیویٹیز میں بھی ترانوے فی صد نمبر حاصل کئے تھے اور اس کا بی ہیویئر بالکل نارمل تھا۔ اس کی حرکات و سکنات بالکل نارمل تھیں اور وہ میڈیکلی بھی بالکل فٹ تھی……ڈاکٹر شانزے نے بھی اسے چند دن پہلے میڈیکل فٹنس سرٹیفیکیٹ بنا کر دیاتھا۔
ڈاکٹر مکرم نے اسے چند احتیاطی تدابیر بتائیں اور کچھ ایکسرسائزز مزید سکھائیں جن پہ عمل کر کے وہ اپنی زندگی آسان بنا سکتی تھی۔
وہ سرٹیفیکیٹ لے کر کمرے سے باہر نکلی اور دوڑ کر دلاور کے پاس پہنچ گئی۔دلاور اس کا سرٹیفیکیٹ دیکھ کر بے حد خوش ہوا۔
دلاور نے واپسی میں کیک لے لیاتھا تاکہ اس خوشی کے موقع کا وہ سب مل کر جشن مناسکیں۔
ایسا لگتا تھا کہ ان کی زندگی کے بے رنگ محلول میں کسی نے شیرینی گھول کر رکھ دی ہو۔
اتنا سکون ان سب نے اپنی زندگی میں اس سے پہلے کبھی محسوس نہیں کیاتھا۔
…………………………
کائنات نے کالج جوائن کرلیاتھا۔ جس دن وہ انٹر کا آخری پیپر دے کر فارغ ہوئی۔اسی دن ان کے گھر دلاور کے قریبی دوست کی فیملی ملنے کو آئی……ان کو کائنات بہت پسند آئی اور جھٹ منگنی پٹ بیاہ ہو کر وہ پیا گھر سدھار گئی……ہر مشکل کے بعد زندگی میں آسانی آتی ہے…… ہر رات کے بعد سویرا آتا ہے……جیسے ہر عروج ہو زوال ہے ویسے ہی ہر زوال کو بھی عروج میسر آتاہے……ان کی زندگی میں زوال کا وقت ختم شد تھا اور عروج اپنے عروج پہ تھا۔
…………………………
گھر میں وہ دونوں باقی رہ گئے تھے……اکیلے تنہا……جمیلہ سامنے والے گھر کو دیکھ رہی تھی اور کچھ سوچ رہی تھی……
دلاور اس کے ساتھ آکھڑاہوا:”کیا سوچ رہی ہو؟“
”سوچ رہی ہوں کہ میری جہالت کی وجہ سے ہم تینوں نے کس قدر اذیت سہی۔“
”مطلب؟“
”میں سمجھ گئی ہوں دلاور……وہ بدبو جو کائنات کو آیا کرتی تھی وہ بہتان کی بدبو تھی۔“شاہدہ ٹکٹکی باندھے سامنے والے گیٹ کو دیکھ رہی تھی جہاں کبھی طوبیٰ اور شہزاد حارم کے ساتھ رہاکرتے تھے۔
دلاور نے اسے دیکھا لیکن کہا کچھ نہیں ……وہ بالکل خاموش تھا۔اس نے بالکنی کی دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر کمرے کے دروازے کو دیکھنا شروع کردیاتھا۔
”کائنات کو تو شروع سے ہی خوش بو محسوس ہوتی تھی……وہ بار بار مجھے بتایا کرتی تھی کہ امی مجھے خوش بو آرہی ہے۔ میں کبھی دھیان ہی نہیں دیتی تھی۔پھر میں نے طوبیٰ پہ بہتان باندھا اور……اور خوش بو بدبو میں بدل گئی……“
دلاور نے چونک کر اسے دیکھا اور سوچ میں پڑ گیا۔
”جیسے جیسے میرے شک کا دائرہ بڑھا ویسے ویسے کائنات کی طبیعت میں بگاڑ پیدا ہوتاچلاگیا……اور میں کم عقل……بد بخت……“ وہ اپنا سر
پیٹنے لگی تو دلاور نے ایک دم اس کا ہاتھ تھام لیا۔
”بری بات ہے ایسے نہیں کرتے۔“
”میں اپنی بچی کی مجرم ہوں۔ میں نے اس کی زندگی کے قیمتی سال برباد کردئیے۔ میرا لگایا ہوا بہتا ن تھا جس کی بدبو میری معصوم بچی سہتی رہی۔“وہ رونے لگی تو دلاور اسے کھینچ کر اندر کمرے میں لے آیا۔
”یاد ہے شاہدہ ایک دن میں نے تم سے کہا تھا کہ اگر کوئی تمہاری بیٹی کے ساتھ برا کرے تو تم کیا کرو گی؟ تو تم نے اکڑ کر غرورسے کہاتھا کہ تم ان سب کی زبانیں کھینچ لو گی……“
شاہدہ نے روتے روتے سر ہلا کر ہاں کہا۔
”لیکن دیکھ لو نہ تم کسی بدبوکی زبان کھینچ سکیں ……نہ کسی کو برا بھلا کہہ سکیں ……تمہارا غرور ایک معمولی سی بدبو نے خاک میں ملا دیا……اور تمہاری بیٹی کو کیسے اپنی انگلیوں پہ نچاتی رہی……یہی اللہ کا انصاف ہے جسے ہم جیسے کم عقل انسان سمجھ نہیں پاتے……ہمیں اپنی غلطیوں کی سزا ملتی رہتی ہے لیکن ہم اس سزا کا کفارہ ہی نہیں ادا کرتے……معافی ہی نہیں مانگتے……ہماری اکڑ ہی ختم نہیں ہوتی۔“دلاور کے کہنے پہ شاہدہ اور زور سے رونے لگی۔
”اللہ سے دعا کرو کہ اب بس کائنات کی زندگی خوش بوؤں سے بھری رہی……وہ ہر دم مسکرائے……ہر دم کھلکھلائے۔ آمین۔“
”آمین۔“شاہدہ نے کہتے ہوئے آنکھیں موند لیں۔
…………………………
شاہدہ کی سمجھ میں یہ بات آگئی تھی کہ وہ ایک بہتا کی بدبو تھی جو ان کی زندگی کا احاطہ کئے ہوئے تھے۔ یہ دنیا مکافات عمل ہے جیسا بوؤ گے ویسا کاٹو گے۔انہوں نے زندگی میں ایک بہتان لگایا اور اس بہتان کی فصل کو ساری عمر کاٹتے رہے۔ ہمیں بھی اپنے اردگرد نظر رکھنی چاہئے کہیں ہم بھی کسی فینٹوسمیا کا شکار تو نہیں ہیں ……کہیں کسی بہتان کی کسی الزام کی بدبو ہماری زندگی کا احاطہ بھی تو نہیں کررہی۔اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں ہر قسم کے فینٹوسمیا سے بچائے آمین یا رب العالمین۔
…………………………
(ختم شد)
پچھلی قسط

Comments
Post a Comment