Phantosmia
By Saira Ghaffar
Complete Online Urdu Novel
فینٹوسمیا
(سائرہ غفار)
قسط نمبر 18
”امی ……ادھر دیکھیں امی میں آپ کے سامنے بیٹھی ہوں اور مجھے کچھ بھی نہیں ہوا۔ میں بالکل ٹھیک ہوں امی۔“کائنات نے ماں کو دلاسہ دیا۔ اسی لمحے دروازے کی گھنٹی بجی۔ کائنات نے اٹھ کر دروازہ کھولا۔
دلاورآگیاتھا۔ شاہدہ نے گال رگڑ کر آنسو صاف کئے۔ دلاور نے شاہدہ کو ایک نظر دیکھا لیکن کوئی خاص نوٹس نہیں لیا۔
”کیا بنا؟دکھا آئے ڈاکٹر کو رپورٹس؟“شاہدہ نے بے تابی سے پوچھاتھا۔
”کائنات بیٹا پانی پلانا۔“کائنات نے پانی کا گلاس لا کر دلاور کو دیا۔دلاور نے پانی کا گلاس ختم کر کے اپنے سامنے بیٹھی بیوی اور بیٹی کو ایک نظر دیکھا۔
”بتاؤ ناں کیا کہا ڈاکٹر نے؟“شاہدہ کے صبر کا پیمانہ لبریز ہورہاتھا۔
”سب نارمل ہے۔“دلاور بڑی مشکل سے بولا:”ہماری کائنات بالکل ٹھیک ہے۔“دلاور کے گال بھیگنے لگے تھے۔ وہ پھر بھی خود پہ کنٹرول رکھنے کی کوشش کررہاتھا۔
”یااللہ تیرا شکر ہے……کرم ہے مالک تیرا……احسان ہے۔شکر الحمد للہ۔“شاہدہ نے کائنات کو سینے سے لگاتے ہوئے کہا۔
”ڈاکٹر نے کہا ہے کہ بس اب ٹریٹمنٹ میں تھوڑی بہت تبدیلی کریں گے۔ انشا ء اللہ کائنات ٹھیک ہوجائے گی۔“دلاوبمشکل مسکرایاتھا۔
وہ خوش تھا بہت خوش تھا لیکن وہ سجدے میں سر رکھ کر ڈھیروں آنسو بہانا چاہتا تھا۔ اس ذات باری کا شکر ادا کرنا چاہتا تھا جس نے ان کو اس اذیت سے چھٹکارا عطا فرمایاتھا۔وہ تیزی سے اٹھ کر اندر کمرے میں گیا اور وضو کر کے جانماز پہ کھڑا ہوگیا۔
…………………………
ڈاکٹر مکرم کے کلینک کی انتظار گاہ میں وہ دونوں بالکل خاموشی سے بیٹھے ہوئے تھے۔ ایک سناٹا سا ان دونوں کے درمیان اتر آیاتھا۔ کائنات سیشن کے لئے اندر ڈاکٹر کے پاس گئی تھی۔ آج اس کی ایکسرسائزز میں تبدیلیاں کی جانی تھیں۔ اس کو کچھ نئی دوائیں بھی تجویز کی گئی تھیں۔
دلاور زمین کو مسلسل گھور رہاتھا۔ ایک دم شاہدہ نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔ دلاور نے چونک کر شاہدہ کو دیکھا۔ وہ سامنے دیکھ رہی تھی۔دلاور نے سامنے دیکھا تو طوبیٰ ریسیپشن پہ کھڑی ایک عورت سے باتیں کررہی تھی۔ طوبیٰ نے ان دونوں کو نہیں دیکھاتھا۔
”پتہ ہے دلاور……؟“شاہدہ نے سرگوشی سی کی تھی۔دلاور کو بہت مشکل سے اس کی آواز سنائی دی تھی۔دونوں کی نظریں سامنے کھڑی طوبیٰ پہ ہی ٹکی ہوئی تھیں۔
”کیا؟“
”جس دن کائنات کی رپورٹس آنی تھیں۔ میں نے خواب میں اسے ڈوبتے دیکھاتھا۔“
دلاور نے گردن موڑ کر تعجب سے شاہدہ کو دیکھا۔
”اور پتہ ہے پانی کتنا تھا؟“شاہدہ کی سرگوشی جیسے راز بتانے والی تھی۔ اس نے دلاور کی آنکھوں میں دیکھ کر پوچھا تھا۔
”کتنا؟“
”صرف اتنا کہ میرے پاؤں پانی سے گیلے ہورہے تھے۔ لیکن کائنات اس پانی میں مکمل ڈوب رہی تھی۔ میں اسے دیکھتی تو لگتا کہ بہت سارا پانی ہے……ڈھیر سارا پانی ……کسی سمندر کے جتنا پانی ……اور میں اپنے پاؤں دیکھتی تو……“اس نے اپنے پاؤں دیکھے۔دلاور نے بھی اس کے پاؤں دیکھے:”صرف میری پاؤں کو پانی چھوتا تھا۔اتنا کم پانی تھا۔پھر بھی میری کائنات اس پانی میں ڈوب رہی تھی۔“
دلاور کچھ نہیں بولا۔ وہ پھر سے زمین کو گھورنے لگا۔
”پتہ ہے دلاور……؟“اس بار شاہدہ نے اس کی طرف جھکتے ہوئے سرگوشی کی۔
”اسے کس نے بچایا؟“
دلاور نے اسے غور سے دیکھا۔اس لمحے اسے شاہدہ کی دماغی حالت پہ شبہ ہونے لگاتھا۔
”کس نے؟“دلاور پوچھے بنا نہیں رہ سکا۔
شاہدہ نے سامنے کھڑی طوبیٰ کو دیکھا اور ابرو سے اشارہ کیا:”طوبیٰ نے۔اس نے ہاتھ بڑھایا اور کائنات پانی سے نکلتی چلی گئی۔“
دلاور میں ہمت نہیں تھی کہ وہ طوبیٰ کو دیکھتا۔ وہ صرف شاہدہ کو گھور رہاتھا۔
”پتہ ہے دلاور……؟“
”کیا؟“
”میں اس خواب کا مطلب جان گئی ہوں۔“شاہدہ نے دلاور کو غور سے دیکھا۔
”کیا مطلب ہے تمہارے خواب کا؟“دلاور نے پوچھا تھا اسے اپنی آواز کسی گہری کھائی سے آتی ہوئی محسوس ہورہی تھی۔
”میں غلط تھی دلاور……“شاہدہ کی داہنی آنکھ سے ایک آنسو نکلا تھا……اتنے سالوں بعد اسے ندامت محسوس ہوئی تھی۔
”وہ طوبیٰ ہی ہے جو میری بچی کو اس مشکل سے نکال سکتی ہے۔ میں نے اس پہ بہتان باندھا تھا……“اب اسکی دونوں آنکھوں سے تواتر سے آنسو بہہ رہے تھے۔
بہتان کا لفظ سن کر دلاور کے سینے میں جیسے برسوں سے اٹکی ہوئی کوئی پھانس نکل گئی تھی……اسے ایک دم راحت کا احساس ہوا……جیسے موسم بہار کی ہوا کا جھونکا سا اسے چھو گیا ہو……
ان کے اردگرد تین چار اور لوگ بیٹھے تھے اور وہ لوگ گاہے بگاہے ان کو دیکھ رہے تھے اور آپس میں چہ مگوئیاں کررہے تھے۔
طوبیٰ نے بھی انہیں دیکھ لیا تھا۔ مگر وہ اپنی جگہ کھڑی اسی عورت سے باتیں کررہی تھی۔
”شاہدہ میں نے تمہیں بہت سمجھایاتھا لیکن تم نے ایک عورت ہوکر دوسری عورت کو برباد کردیا۔ میرا خدا گواہ ہے کہ میں نے تمہیں کبھی بھی دھوکہ نہیں دیا۔کبھی اس بارے میں سوچا تک نہیں۔“دلاور نے دھیرے سے آنکھ کی پور پہ اٹکا آنسو غیر محسوس طریقے سے صاف کیا۔
”مجھے معاف کردیں پلیز……“اس کی آواز سسکیوں کے اندر دبی دبی سی تھی۔
”تم میری نہیں طوبیٰ کی گناہ گار ہو شاہدہ۔ تمہیں اس سے معافی مانگنی چاہئے۔“دلاور نے طوبیٰ کو دیکھتے ہوئے کہا۔ اسی لمحے طوبیٰ نے اس عورت کو خدا حافظ کہہ کر باہر کی راہ لی تھی۔
”وہ جارہی ہے شاہدہ۔“دلاور ایک دم اٹھ کھڑا ہوا۔ شاہدہ بھی اس کے ساتھ کھڑی ہوگئی اور دونوں تیز تیز چلتے ہوئے گیٹ کی طرف چل دئیے۔ جب تک وہ لوگ کلینک کے گیٹ تک پہنچے تب تک طوبیٰ کی گاڑی کافی آگے نکل گئی تھی۔
وہ دونوں مایوسانہ انداز میں سرجھکائے واپس آکر اپنی جگہ پہ بیٹھ گئے۔
ایک دم دلاور چونک کر کھڑا ہوا اور جس عورت کے ساتھ طوبیٰ ریسیپشن پہ کھڑی باتیں کررہی تھی۔ اس عورت کے پاس پہنچ گیا:”کیا آپ مجھے بتا سکتی ہیں کہ جن خاتون سے آپ بات کررہی تھیں وہ کہاں رہتی ہیں؟“شاہدہ بھی اس کے ساتھ وہاں آکھڑی ہوئی تھی۔
خاتون نے چونک کر دلاور کو دیکھا۔اور برہمی سے بولی:”کیا پوچھ رہے ہیں مسٹر؟ایسے ہی کیسے ہم آپ کو کسی کے بارے میں کچھ بھی بتادیں گے؟“
”معاف کیجئے گا کوئی فون نمبر مل سکتا ہے پلیز؟“دلاور نے معذرت کی۔
خاتون نے غصے سے دیکھا۔
”یہ بہت ارجنٹ ہے پلیز۔“دلاور کے لہجے میں کچھ تھا کہ خاتون تھوڑی نرم پڑ گئی:”میڈم طوبیٰ ڈاکٹر مکرم کی والدہ ہیں۔ آپ ان سے ہی پوچھ لیں۔لیکن تھوڑا انتظار کریں ابھی ان کے پاس پیشنٹ ہیں۔“
”ڈاکٹر مکرم طوبیٰ کا بیٹا ہے؟“شاہدہ نے حیرت سے کہا۔
”چلو چل کر اسے سے بات کرتے ہیں۔“دلاور نے کہا تو خاتون نے ایک دم ان کو روکا:”دیکھیں اندر پیشنٹ ہیں آپ لوگ ایسے اندر نہیں جا سکتے۔“
”وہ پیشنٹ ہماری ہی بیٹی ہے۔“دلاور جلدی سے کہتا ہوا ڈاکٹر کے روم کی طرف بڑھ گیا۔
وہ دونوں اندر پہنچے تو کائنات ایک سوالنامہ حل کررہی تھی۔جبکہ ڈاکٹر مکرم کے ہاتھ میں اس کی فائل تھی اور وہ مسلسل اسٹاپ واچ بھی دیکھ رہا تھا۔
”کیا آپ طوبیٰ کے بیٹے ہیں؟“دلاورنے ایک دم اندر آکر سوال کیا تو ڈاکٹر مکرم ایک دم اپنی سیٹ پہ سے اٹھ کھڑا ہوا۔
”جی طوبیٰ میری والدہ ہیں۔“کائنات نے غور سے تینوں کو دیکھا۔
”آپ سوالنامہ حل کریں۔“ڈاکٹر نے اسے ٹوکا تو وہ دوبارہ سے سوالنامے پہ جھک گئی۔
”کیا تم ہمیں پہچانتے ہو؟“دلاور نے پوچھا تو ڈاکٹر مکرم نے ان دونوں کو بیٹھنے کا اشارہ کیا اور خود بھی کرسی پہ بیٹھ گیا۔
”جی بالکل میں آپ سب کو پہچانتا ہوں۔“
”کیا تم حارم ہو؟“شاہدہ نے پوچھا۔
”جی آنٹی میں حارم تھا……لیکن اب مکرم ہوں۔“وہ مسکراتے ہوئے بولاتھا۔
کائنات نے چونک کر اسے دیکھا۔

Comments
Post a Comment