Phantosmia
By Saira Ghaffar
Complete Online Urdu Novel
فینٹوسمیا
(سائرہ غفار)
قسط نمبر 17
دلاور نے اسے دیکھا ……اس کے چہرے پہ غصہ نہیں نفرت کے آثار تھے:”اب تو سدھر جاؤ شاہدہ بیگم……تمہارے ایک بے بنیاد بہتا ن نے اس کی زندگی برباد کردی تھی۔ اب بھی تم وہیں کی وہیں ہو۔“
”میں وہیں کی وہیں ہوں یا آپ وہیں کے وہیں ہیں؟ کب سے مل رہے ہیں آپ لوگ؟“شاہدہ کے تیور دیکھ کر دلاور چونک گیا۔
”اگر میرے دل میں چور ہوتا تو میں کیا تمہیں بتاتا کہ میں اس سے ملا ہوں؟“
دلاور کی بات سن کر شاہدہ ایک دم بیڈ پہ گرنے کے سے انداز میں بیٹھ گئی۔وہ سوچ میں پڑ گئی تھی۔ اس نے دلاور کو دیکھاتھا۔
”کہا ں ملے آپ اس سے؟“
”ڈاکٹر مکرم کے کلینک پہ ……“
”وہ ……وہاں؟کیوں؟“
”ایسا لگ رہاتھا کہ ڈاکٹر ا س کا رشتے دا رہے۔ آئی تو وہ وہاں سیشن کے لئے تھی۔ کہہ رہی تھی کہ پانی سے خوف آتا ہے۔ کیونکہ وہ پانی کی وجہ سے برباد ہوئی تھی۔تمہیں اس سے معافی مانگ لینی چاہئے شاہدہ۔“دلاور نے شاہدہ کو دیکھا تو وہ ایک دم اٹھ کھڑی ہوئی:”آپ مجھے ایسے دیکھ رہے ہیں جیسے کہ ساری غلطی میری ہی تھی۔ جبکہ قصوروار آپ بھی تھے آپ اس سے ہنس کر باتیں کرتے تھے۔ اور میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔“
”اللہ کی بندی مجھے معاف کردو ……“دلاور نے اس کے سامنے ہاتھ جوڑ دئیے:”اور میرے وہ گناہ معاف کردو جو میں نے کبھی نہیں کئے۔“
اسی لمحے انہوں نے کائنات کی چیخ سنی۔ وہ دونوں دوڑ کر اس کے پاس پہنچے۔
…………………………
کائنات کو پھر سے دورہ پڑا تھا۔ وہ بری طرح سے چلا رہی تھی۔ وہ اپنے آپے سے باہر ہوگئی تھی۔ انہوں نے ہردوا……ہر اسپرے دے کر دیکھ لیا لیکن کائنات کے دورے میں کوئی فرق نہیں پڑ رہاتھا۔
”ڈاکٹر کو کال کر کے پوچھا کہ کیا کریں؟“شاہدہ نے روتے ہوئے دلاور کو کہا تو ا س نے فوراً ڈاکٹر شانزے کو کال ملائی۔
ایک گھنٹے بعد وہ لوگ ڈاکٹر شانزے کے گھر میں موجود تھے۔ ڈاکٹر شانزے نے اسے ایک انجکشن لگایا اور تھوڑی دیر بعد وہ آرام سے گہری نیند میں ڈوب گئی۔
”میرے خیال سے آپ لوگ ڈاکٹر مکرم سے بھی مشورہ کرلیں اور ایک مرتبہ پھر سے کائنات کا ٹیومر کے لئے ٹیسٹ کروالیں۔سیف سائیڈ کے لئے ……ورنہ پھر ہم ٹریٹمنٹ میں کچھ تبدیلیاں کرلیں گے۔“
ڈاکٹر شانزے کی بات سن کر شاہدہ اور دلاور کے ہوش اڑ گئے تھے۔
”آپ لوگ پریشان نہ ہوں۔میں نے پہلے بھی بتایا تھا کہ ابتدائی علامات ایسی ہی ہوتی ہیں۔ایک بار پھر ایم آر آئی کروالیں گے تو ہوسکتا ہے کہ کچھ بات کلیئر ہوجائے۔آپ مجھے کل کال کر لیجئے گا۔ میں کوشش کروں گی کہ ایک دو دن میں ہی آپ کو ڈیٹ مل جائے۔“شاہدہ رونے لگی۔ وہ تینوں گھر واپس آگئے۔ وہ رات دونوں میاں بیوی نے روتے جاگتے آنکھوں میں ہی کاٹی تھی۔
…………………………
انہوں نے ڈاکٹر مکرم سے مشورہ کرلیا تھا۔ انہوں نے بھی ایم آر آئی کا مشورہ دیاتھا۔
ان کو تیسرے دن ہی ایم آر آئی کروانے کے لئے ڈیٹ مل گئی تھی۔ شاہدہ اور دلاور انتظار گاہ میں بیٹھے تھے۔ شاہدہ کی آنکھیں سوجی ہوئی تھیں۔دلاور ایک منٹ بیٹھتے دوسرے لمحے ٹہلنے لگ جاتے۔ کبھی وہ دروازے کے پار جھانکنے کی کوشش کرتے۔ کبھی ادھر دیکھتے کبھی ادھر دیکھتے……عجیب ملگجا سا حلیہ تھا……عجیب سی حالت تھی……متاع جان کے کھو جانے کا خوف بھی تھا اور اپنی جان سے پیاری بیٹی کی تکلیف کا احساس بھی تھا۔وہ اپنی کیفیت کو خود ہی سمجھنے سے قاصر تھے۔
جمیلہ کو روتی بسورتی حالت دیکھتے ہوئے ایک بزرگ خاتون نے دلاساً باتیں کیں۔ اور اسے سورہ ضحی کا وظیفہ پڑھنے کو کہا۔
اندھا کیا چاہے دو آنکھیں۔ جمیلہ نے اسی وقت وضو بنایا اور سورہ ضحی کا وظیفہ کھلا پڑھنا شروع کردیا۔
وہ لوگ ایم آر آئی کرواکے گھر لوٹے۔ شاہدہ کی زبان پہ جیسے وظیفہ جاری ہوگیاتھا۔ وہ مسلسل پڑھ رہی تھی۔
کائنات کی شکل دیکھ کر ایسا لگتا تھا جیسے وہ برسوں کی بیمار ہو……اس کے چہرے کا رنگ زرد پڑ گیاتھا……اور وہ بالکل سوکھ گئی تھی۔
جس دن ای آر آئی کی رپورٹ آنی تھی اس دن جمیلہ اور دلاور کی حالت دیدنی تھی۔دلاور رپورٹ لینے گیاتھا اور جمیلہ دروازے کے سامنے بیٹھی تھی۔ اس کا وجود ہلکے ہلکے کانپ رہاتھا۔لرز رہاتھا۔ اس کی زبان سے وظیفہ جاری تھا۔ کائنات نے اپنی ماں کو دیکھا اور صوفے پہ برابر آکر بیٹھ گئی۔ کائنات نے دھیرے سے شاہدہ کا سر اپنی گود میں رکھا اور اسے وہیں صوفے پہ ہی لٹا دیا۔شاہدہ کے لب مسلسل ہل رہے تھے۔ کائنات دھیرے دھیرے شاہدہ کے بالوں میں انگلیاں پھیر رہی تھی۔
شاہدہ کی تھوڑی دیر کے لئے آنکھ لگ گئی تھی۔ کائنات بھی نیم غنودگی کی حالت میں صوفے پہ سر ٹکا چکی تھی۔
تھوڑی دیر بعد کائنات کی آنکھ ایک دم کھل گئی۔ شاہدہ نیند کی حالت میں ہاتھ پاؤں چلا رہی تھی جیسے خود کو بچانے کی کوشش کرر ہی ہو اور مسلسل ”کائنات میری بچی……کائنات ……بچاؤ……میری بچی……“چلا رہی تھی۔ ا سکی آواز کافی تیز اور واضح تھی۔ کائنات نے ماں کو جھنجھوڑنے کی کوشش کی لیکن شاہدہ کی آنکھ کھل ہی نہیں رہی تھی۔کائنات زور زور سے شاہدہ کو جھنجھوڑنے لگی۔ دو تین منٹ کی کوشش کے بعد شاہدہ ایک دم ”کائنات“کہہ کر چیختی ہوئی اٹھ بیٹھی۔ وہ پسینے میں بری طرح سے نہائی ہوئی تھی اوربری طرح سے ہانپ رہی تھی۔کائنات کو دیکھ کر شاہدہ رونے لگی:”میری بچی تم ٹھیک ہوناں؟“
”امی میں بالکل ٹھیک ہوں۔ آپ کیوں اتنا پریشان ہورہی ہیں؟“کائنات نے پانی کا گلاس شاہدہ کے لبوں سے لگایا تووہ غٹاغٹ سارا گلاس ایک ہی سانس میں پہ گئی۔
”امی آپ نے کوئی خواب دیکھا ہے کیا؟“کائنات نے شاہدہ کا ہاتھ تھامتے ہوئے پوچھا۔
”خواب نہیں دیکھا……بہت ہی برا خواب دیکھا ہے۔“شاہدہ نے دھیمی آواز میں کہا۔
”میں نے دیکھا کہ بہت سارا پانی ہے……اسی جگہ اسی صوفے کے پاس اسی فرش پہ……“شاہدہ نے ایک دم صوفے کے پاس زمین دیکھ کر پاؤں اوپر کر لئے۔
”یہاں کوئی پانی نہیں ہے امی۔“کائنات نے کہا تو شاہدہ نے روتے ہوئے کہا:”یہیں تھا بیٹا۔ بہت سارا پانی تھا……بہت سارا ……تم ڈوب رہی تھیں اس پانی میں۔اتنا پانی تھا کائنات۔ اتنا سارا پانی تھا……“شاہدہ کی ہچکیاں بندھ گئیں تھیں۔

Comments
Post a Comment