Phantosmia
By Saira Ghaffar
Complete Online Urdu Novel
فینٹوسمیا
(سائرہ غفار)
قسط نمبر 16
دلاور نے تھوڑی دیر بعد نظر اٹھا کر دیکھا۔ وہ اسے پہچاننے کی کوشش کررہی تھی۔ پہلے اس کے چہرے کے تاثرات بدلے پھر وہ ایک دم سے سیدھی ہوکر بیٹھ گئی۔
دلاور نے سر کے خفیف سے اشارے سے سلام کیا۔ اس نے بھی سر ہلا کر جواب دیا۔
”کک……کیسی ہیں آپ؟“دلاور نے بڑی مشکل سے پوچھا۔
”آپ کی بیگم کیسی ہیں؟“طوبیٰ نے بہت ٹہرے ہوئے لہجے میں پوچھا۔ اس کے لہجے میں کوئی کڑواہٹ نہیں تھی……کوئی طنز نہیں تھا…… وہ بہت عام سے انداز میں پوچھ رہی تھی۔
”بالکل ٹھیک ہے الحمدللہ۔“
”یہاں کیسے آنا ہوا؟“
”کائنات کو لے کر آیاہوں؟“
”کیا ہوا ہے کائنات کو؟“طوبیٰ نے فکرمندی سے پوچھا۔
”اسے بدبو آتی ہے۔ دورہ پڑتا ہے۔چیختی چلاتی ہے۔“دلاور کی آواز دھیمی ہوگئی تھی۔
”اوہ اچھا……اللہ اسے صحت کاملہ عطا فرمائے۔آمین۔“
”آمین۔“
”آپ بھی یہاں سیشن کے لئے آئی ہیں؟“تھوڑی دیر کی خاموشی کے بعد دلاور نے پوچھاتھا۔
”جی ہاں ……میں تو برسوں سے علاج کروارہی ہوں۔ لیکن میرا مرض لاعلاج ہے۔“
”ایسا کیا مرض ہے آ پ کو؟“
”مجھے پانی سے خوف آتاہے۔جو چیز آپ کو برباد کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو اس سے ہمیشہ خوف کھانا چاہئے۔“وہ دھیمے سے مسکائی تھی۔
”میں اس قابل تو نہیں کہ آپ سے معافی مانگ سکوں لیکن پھر سے درخواست کرتا ہوں کہ مجھے معاف کردیں۔“اس کا سر جھک گیاتھا جیسے بہت زیادہ وزن ہوگیاہو۔
”میرے نزدیک آپ اصل گناہ گار نہیں ہیں ……اصل گناہ گار کی ہی معافی قابل قبول ہوتی ہے۔“
”میں آپ کے دل کے سکون کے لئے بتادوں کہ برباد کرنے والا خود برباد ہوچکاہے۔ سارا غرور نیست و نابود ہوچکاہے۔کچھ باقی نہیں بچا۔“وہ اپنے خالی ہاتھوں کو غور سے دیکھنے لگا۔
اس نے عجیب طرح سے اسے دیکھا تھا۔
”کیا آپ جانتے ہیں کہ دنیا میں خالی ہاتھ کون رہ جاتا ہے؟“
وہ اس کے عجیب سے سوال پہ حیران ہواتھا۔اس نے تعجب سے اس کی طرف دیکھا اور پھر دھیرے سے نفی میں سر ہلادیا۔
”خالی ہاتھ صرف وہ رہتا ہے جو ماضی کو اپنے اوپر حاوی کئے رکھتا ہے۔ ہم حال میں جیتے ہیں۔ ہمیں حال میں ہی رہنا ہوتا ہے۔ اور ہم حال ہی میں مرجاتے ہیں۔ماضی اور مستقبل تو محض ادوار ہیں جو حال بن جاتے ہیں۔ نہ ہم ماضی میں جا کر اپنی غلطی سدھار سکتے ہیں نہ مستقبل میں ہونے والی غلطیوں کو روک سکتے ہیں۔“وہ ایک لمحے کو رکی تھی:”ہم صرف آج کو سدھار سکتے ہیں۔ اور صرف اسی میں زندہ رہ سکتے ہیں۔ بہت سے لوگ بہت زیادہ برا کر کے ہنسی خوشی اپنی زندگی گزار لیتے ہیں صرف اسی لئے کہ وہ اپنی غلطیوں کا نہ اعتراف کرتے ہیں اور نہ ہی ان کو یاد کرتے ہیں۔ ہم اور آپ جیسے عام سے لوگ اپنی کی گئی غلطیاں نہ صرف یاد رکھتے ہیں بلکل وقتاً فوقتاً ا ن کا اعتراف بھی کرتے ہیں تاکہ ہم دوبارہ وہ غلطی نہ دہراسکیں۔ اسی لئے ہم لوگ اکثر خالی ہاتھ رہ جاتے ہیں۔“
”آپ کے کہنے کا مطلب ہے کہ ہم سارا خسارا ہم اورا ٓپ جیسے عام لوگو ں کے لئے ہی ہے؟“وہ حیران ہواتھا۔
”خالی ہاتھ رہ جانا الگ بات ہے اور خسارے میں رہنا الگ بات ہے۔“
وہ پھر سے مسکائی تھی۔
”جو اپنی غلطی یاد رکھے گا۔ وہ غلطی کو پھر سے نہیں دہرائے گا……“وہ اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔ ڈاکٹر کے روم کا دروازہ کھل گیا تھا۔پہلے کائنات باہر آئی۔ اس کے پیچھے ڈاکٹر باہر آیا۔ ڈاکٹر نے اسے دیکھ کر ہاتھ ہلایا تھا اور وہ مسکرائی تھی۔ اس نے پلٹ کر دیکھا:”اگر غلطی نہیں دہراؤ گے تو خسارے میں نہیں فائدے میں رہو گے۔“وہ باوقار انداز میں ڈاکٹر کی طرف جارہی تھی۔ ڈاکٹر نے اس کا ہاتھ تھاما اور اسے اپنے ساتھ اپنے روم میں لے گیا۔
اور وہ اس کی پشت دیکھتے ہوئے دل ہی دل میں اپنے خسارے گن رہاتھا۔وہ اپنی دونوں ہتھیلیوں کو سامنے پھیلائے دیکھ رہاتھا کہ کائنات نے اس کے دونوں ہاتھوں پہ ہاتھ رکھ دئیے:”چلیں بابا۔“ وہ اپنی ساری الجھنیں بھول کر اس کے ساتھ ہولیا۔ اتنے خسارے ہونے کے باوجود بھی اللہ نے اسے رحمت سے نوازا تھا……اس کی جھولی بھری ہوئی تھی……اس کا دل شکر الحمداللہ کا ورد کررہاتھا۔
…………………………
شاہدہ رات کو سب کام نمٹا کر کمرے میں آئی تو وہ کھڑکی کے سامنے کھڑا چاند کر تکے جارہاتھا۔
”کیا ہوا ہے؟“شاہدہ نے بستر جھاڑتے ہوئے پوچھا۔
”آج میں اُس سے ملاتھا۔“
”کس سے؟“ شاہدہ کے ہاتھ تیزی سے چل رہے تھے۔
”جس کی زندگی ہم دونوں نے برباد کردی تھی اس سے۔“
”کہنا کیا چاہتے ہیں آپ؟“شاہدہ کی آواز تیز ہونے لگی تھی۔
”میں آج طوبیٰ سے ملاتھا۔“
”طوبیٰ……؟؟؟پھر سے؟؟؟کیوں؟؟؟“

Comments
Post a Comment