Skip to main content

Phantosmia (EP 15) By Saira Ghaffar Complete Online Urdu Novel

Phantosmia

By Saira Ghaffar 

Complete Online Urdu Novel


فینٹوسمیا

(سائرہ غفار)


قسط نمبر 15

”کیا آپ کو یہاں کبھی وہ والی بدبو آئی ہے جو آپ کو دورہ پڑنے پہ آتی ہے؟“ کائنات سوچ میں پڑگئی:”نہیں ویسی تو نہیں آئی لیکن اس عامر والے کلر فل فلاورز والے گملے سے بدبو ضرور آئی تھی۔“ ”ہوں ……اچھا یاد دلایا آپ نے……آپ کی ایکسرسائزز میں بدل رہاہوں اب اس ہفتے آپ کو یہی ایکسرسائزز کرنی ہیں۔“ ڈاکٹر نے جان چھڑاتے ہوئے اسے ایکسرسائزز سکھا کر سیشن اینڈ کر روانہ کردیا۔ اس کے جانے کے بعد وہ اگلے مریض کے اندر آنے تک حارم کے گملے کو گہری نظروں سے تکتے رہے۔ ………………………… نماز کی پابندی……ایکسرسائزز……دواؤں کی باقاعدگی……سیشن کی باقاعدگی……ڈاکٹر کا باقاعدگی سے چیک اپ……کائنات کی زندگی میں جیسے ٹہراؤ سا آگیاتھا۔ وہ کالج بھی جا رہی تھی پابندی کے ساتھ لیکن ابھی ڈاکٹر نے کہا تھا کہ دو گھنٹے بعد واپس آجایاکرو۔ وہ شاہدہ کے ساتھ دو گھنٹے کے لئے کالج جاتی اور پھر اس کے ساتھ ہی واپس آجاتی۔ وہ دو گھنٹے اس کی شخصیت میں چار چاند لگا رہے تھے۔پڑھنے لکھنے کی وہ ویسے بھی شوقین تھی اور طبیعت کی بہتری نے بھی اس کو بہت خوب صورت اور صحت مند کردیاتھا۔ وہ خوشی خوشی زندگی کو انجوائے کررہی تھی۔ ہر مرتبہ وہ اپنے سیشن سے کچھ نیا سیکھتی تھی۔ حارم کے متعلق وہ بہت سوال کرتی تھی اور ڈاکٹر مکرم اس کے سوالوں کو گول کرجاتے تھے۔ ………………………… ”چلیں آج ہم ایک گیم کھیلتے ہیں۔میں ایک لفظ کہوں گا اور آپ کے ذہن میں جو بھی پہلا لفظ آئے گا آپ نے وہ کہنا ہے۔ اور بہت جلدی جلدی کہنا ہے۔ ٹھیک ہے؟“ کائنات نے خوش ہو کر سر ہلایا۔ ”پھل؟“ ”انار۔“ ”ہمم یمی……رنگ؟“ ”پیلا۔“ ”آنکھیں؟“ ”براؤن۔“ ”بال؟“ ”گڑیا؟“ ”باربی۔“ ”شارک؟“ ”پوئم۔“ ”گانا؟“ ”کوئی فریاد۔“ ”زندگی؟“ ”مشکل۔“ ”پڑھائی؟“ ”آئی لو اِٹ۔“ ”دلاور؟“ ”بابا۔“ ”دوست؟“ ”حارم۔“ ڈاکٹر نے رک کردیکھا:”آپ نے حارم کے بعد کسی سے دوستی نہیں کی؟“ ”کوئی مجھ سے دوستی کرتا ہی نہیں تھا۔ سب کو لگتا تھا کہ میں پاگل ہوں۔ مجھے عجیب عجیب سی خوشبوئیں آتی ہیں۔ حارم مجھے پاگل نہیں کہتا تھا۔ معصومہ بھی مجھے پاگل ہی کہتی تھی۔“کائنات نے مایوسی سے کہا۔ ”معصومہ؟ وہ جس کی ناک ہر وقت بہتی رہتی تھی؟“ ”جی ہاں ……لیکن آپ کو کیسے پتہ؟“ ”مجھے یہ بات آپ نے دو سیشن پہلے بتائی تھی۔ جب آپ نے اپنے اسکول کا ذکر کیا تھا۔“ڈاکٹر مکرم نے مسکراتے ہوئے کہا تو کائنات نے مایوسانہ انداز میں کہا:”مجھے لگا آپ کو حارم نے بتایا ہوگا۔“ ”جی نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ آج کل ویسے بھی وہ سیشن کے لئے نہیں آرہا۔ آپ نے گملے میں پھول تو آنکھوں ہی آنکھوں میں گن لئے ہوں گے۔“ڈاکٹر کی بات پہ اس نے چونک کردیکھا:”مجھے سب پتہ ہے۔“ڈاکٹر نے کہا تو کائنات شرمندہ ہوگئی۔ ”سوری۔“ ”کوئی بات نہیں۔ ہاتھ نہ لگانے کا اصول ہے۔ آنکھوں سے گن سکتی ہیں آپ۔“ کائنات مسکرادی۔ ڈاکٹر نے اسے نئی ایکسرسائزز سکھائیں اور سیشن ختم ہوگیا۔ ………………………… دلاور کائنات کو پابندی سے سیشن کے لئے لارہاتھا۔ آج وہ کوئی آٹھویں بار اسے سیشن کے لئے لے کر آیاتھا۔ کائنات کی طبیعت میں سائیکاٹری سیشنز کے بعد سے خاصی بہتری آگئی تھی بلکہ وہ ستر فی صد تک صحت یاب ہوچکی تھی۔ کائنات کے اندر جاتے ہی دلاور کو یاد آیا کہ وہ اپنا موبائل گاڑی میں بھول گیاہے۔ وہ واپس گیا اور اپنی گاڑی کھول کر موبائل نکال کر گاڑی کو لاک کرہی رہاتھاکہ اس نے دیکھا کہ کلینک کے دروازے کے سامنے ایک کار آکر رکی……اُس دن بھی دلاور نے یہی سفید کار دیکھی تھی۔ اس کار کے پسنجر سیٹ سے ایک خاتون اتریں۔وہ خاتون بے حد خوب صورت تھیں ……دلاور نے پہچاننے کی کوشش کی……وہ خاتون اتر کر اندر چلی گئیں اور کار پارکنگ کی طرف آگئی۔ دلاور نے گاڑی لاک کی اور موبائل جیب میں ڈالتے ہوئے کلینک کے دروازے پہ جیسے ہی قدم رکھا ……ایک جھماکے سے اسے یاد آیا کہ وہ خاتون کون تھی……وہ طوبیٰ تھی……ہاں وہ طوبیٰ تھی……وہی طوبیٰ جس کی بربادی کا ذمہ دار وہ خود تھا……وہ اسے کیسے بھول سکتا تھا……اس کے پاؤں اندر جاتے ہوئے من من کے ہورہے تھے۔ وہ بڑی مشکل سے انتظار گاہ میں اپنی سیٹ پہ آکر بیٹھ گیا۔وہ اردگرد دیکھنے سے گریز کررہاتھا……اس نے ٹیڑھی آنکھ سے دیکھنے کی کوشش کی ……وہ ریسیپشن پہ کھڑی تھی……وہ نظریں جھکائے بیٹھا رہا……مگر وہی ہوا جس کا اسے ڈر تھا……وہ ریسیپشن سے چلتی ہوئی سیدھا اس کے سامنے والی کرسی پہ آکر بیٹھ گئی۔ …………………………
پچھلی قسط                                       اگلی قسط

Comments

Popular posts from this blog

Wo merey dil ka malal hay by Saira Ghaffar Complete Online Urdu Novel

Wo merey dil ka malal hay  By Saira Ghaffar  Complete Online Urdu Novel وہ میرے دل کاملال ہے (سائرہ غفار) قسط نمبر 1 ”مج……مجھ……جھ……ے……ے……ے……بچ……چا……لل……وووو……“اس کی آواز اُسے صاف سنائی دے رہی تھی۔  وہ اس کے سامنے کھڑی ا س کی ابلتی ہوئی آنکھیں دیکھ رہی تھی۔ وہ دیکھ رہی تھی کہ کیسے اس کی بہن تڑپ تڑپ کر منہ سے خون کی الٹیاں کررہی ہے۔ وہ دیکھ رہی تھی ……صاف……اور واضح……اسے دکھائی دے رہاتھا……سب کچھ……ایک دم صاف ……ایک ایک چیز اسے نظر آرہی تھی……اسے وہ میرون اور گولڈن چوڑیاں بیڈ سے ٹکرا کر ٹوٹتی ہوئی نظر آرہی تھیں جو اس نے خو داس کے ساتھ جا کر پسند کروائیں تھیں۔ ”دیکھو ذرا……یہ چوڑیاں میرے لہنگے کے ساتھ کیسی لگیں گی؟“ ”بہت پیاری……تم یہی لینا۔“ اس کے سامنے وہی چوڑیاں اس کی کلائی میں پیوست ہوتی جارہی تھیں۔وہ درد کے مارے تڑپ کر کبھی اِدھر گر رہی تھی تو کبھی اُدھر۔ اس سب میں اس کی جیولری ہر طرف سے بے ترتیب ہورہی تھی۔ اس کا نیکلس گردن میں پھندا ڈال رہاتھا۔یہ تنگ نیکلس بھی اُسی نے پسند کروایا تھا۔ ”یہ لمبا نیکلس مت لو……اچھا نہیں لگے گا……کوئی چھوٹے سائز کا لو……جو گ...

Phantosmia (EP 3) By Saira Ghaffar Complete Online Urdu Novel

Phantosmia By   Saira Ghaffar   Complete Online Urdu Novel فینٹوسمیا (سائرہ غفار) قسط نمبر 3 ”یہ تم کیا کرتی رہتی ہو ہروقت؟ کیا فالتو کے اخبار پھاڑ پھاڑ کر پھول بنا کر ان گملوں میں سجاتی رہتی ہو؟“دلاور کے جانے کے بعد سارا نزلہ معصوم سی کائنات پہ گرنے لگاتھا۔ کائنات نے سہم کر ماں کو دیکھا جو جارحانہ انداز میں کاغذ کے پھولوں سے سجے گملوں کی طرف پیش قدمی کر رہی تھی۔ کائنات نے ایک دم سامنے آکر ماں کو روک دیا:”امی یہ میرے پھول ہیں پلیز ان کو کچھ مت کریں۔“ ”فالتو کام تم دونوں باپ بیٹی کے شوق ہیں۔ بیکار اور فضول کاموں میں اپنا وقت برباد کرتے رہتے ہو۔ جاؤدفع ہوجاؤ یہاں سے۔“شاہدہ نے غصے سے بیٹی کو دھکا دیا۔ اور خود دوسرے کمرے میں چلی گئیں۔ کائنات نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ اس کے پھول اور گملے بچ گئے ورنہ شاہدہ کے غصے سے وہ خود بھی واقف تھی۔ وہ پھر سے اپنے محبوب مشغلے یعنی اخبار اور مختلف کترنوں سے پھول بنانے میں نئے سرے سے جت گئی۔ ………………………… دلاور گھر واپس آیا تو گیٹ پہ اس کی ملاقات شہزاد اور اس کی فیملی سے ہوگئی۔ شہزاد اور دلاور سلام دعا کرنے لگے تو طوبیٰ چا...

Phantosmia (EP 11) By Saira Ghaffar Complete Online Urdu Novel

Phantosmia By   Saira Ghaffar   Complete Online Urdu Novel فینٹوسمیا (سائرہ غفار) قسط نمبر 11 چند دن بعد وہ لوگ رپورٹس لے کر دوبارہ ڈاکٹرشانزے کے پاس پہنچے۔ڈاکٹر نے تمام رپورٹس چیک کرنے کے بعد ان کو خوش خبر ی سنائی۔ ”سب کچھ بالکل پرفیکٹ ہے۔ میرا ڈر صرف وہم تھا۔ “ ”ڈاکٹر کیا آپ ہمیں بتا سکتی ہیں کہ آپ کو کیا وہم تھا؟“کائنات نے پہلی بار سوال کیا تھا۔ ”جی بالکل بیٹا میں بتا سکتی ہوں ……دراصل یہ جو مسئلہ آپ کے ساتھ ہے آپ کو مختلف اچھی بری قسم کی بو محسوس ہوتی ہے۔ یہ اصل میں فینٹوسمیا کہلاتی ہے۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کا کوئی مستقل علاج نہیں ہے۔ اصل میں یہ مسئلہ بذات خود کوئی مسئلہ نہیں بلکہ یہ ایک علامتی مسئلہ ہے۔ جن لوگوں کو یہ بو محسوس ہونے کی شکایت رہتی ہے ان کو ایک یا پھر دونوں نتھنوں سے بو محسوس ہوتی ہے۔ یہ برین ٹیومر کی نشاندہی ہوتی ہے۔“ڈاکٹرسانس لینے کو رکی۔ ”برین ٹیومر؟“شاہدہ اور دلاور ایک دم پریشان ہوگئے تو ڈاکٹر شانزے نے مسکرا کر ان کو دیکھا:”آپ لوگ شکر کریں کہ آپ کی بیٹی کا ایم آر آئی بالکل کلئیر اور بالکل صاف ہے۔ اسے صرف فینٹوسمیا ہے۔ جو کہ کچ...