Phantosmia
By Saira Ghaffar
Complete Online Urdu Novel
فینٹوسمیا
(سائرہ غفار)
قسط نمبر 14
اس کی نظر بے اختیار شاہدہ پہ پڑی جو ڈاکٹر کو گھور کر دیکھ رہی تھی۔
”میں آئندہ نہیں کروں گی۔“
”پرامس؟“
”جی۔“
”ٹھیک ہے۔ آئیے میں سیشن کا ٹائم ٹیبل بنا دیتا ہوں۔ پھر آپ اسی ٹائم ٹیبل کے حساب سے سیشن کے لئے ان کو لے آیا کیجئے گا۔“
ڈاکٹر اپنی ٹیبل پہ آگئے اور ایک فائل میں ٹائم ٹیبل لگا کر ان کے حوالے کردیا۔
وہ تینوں ڈاکٹر کے کلینک سے باہر آگئے۔کائنات کے لئے کچھ ورزشیں بھی تھیں جو اسے باقاعدگی کے ساتھ کرنی تھیں۔
وہ تینوں جب باہر نکل کر اپنی گاڑی میں بیٹھ رہے تھے تب سامنے سے آتی گاڑی میں سے اترتی ہوئی خاتون کو دیکھ کر دلاور ایک دم سے چونگ گیا۔ لیکن پھر شاہدہ کی آواز پہ اس نے سر جھٹک دیا۔اس نے اس جھلک کو اپنا وہم جانا تھا۔
…………………………
ایک ہفتے میں کائنات کا ایک ہی سیشن تھا۔ وہ اگلے سیشن تک اپنی تمام ایکسرسائزز کرتی رہی۔ تمام دوائیں باقاعدگی کے ساتھ لیتی رہی اور اس دوران اس کی کلاسسز شروع ہو گئی تھیں۔ وہ اپنی ماں کے ساتھ ایک گھنٹے کے لئے کالج گئی تھی۔ اسے بہت مزا آیاتھا۔ کیونکہ اس نے اسکول میں بھی بیماری کی وجہ سے بہت ہی مشکل وقت دیکھاتھا۔ اسے کالج میں بہت مزہ آتاتھا۔ اس پورے ہفتے میں اسے صرف دو بار ایک گندی سی بدبو محسوس ہوئی لیکن اس کا دورانیہ بھی بہت ہی کم تھا۔ وہ اپنے گملے کے پاس بیٹھ کر حارم کے گملے کے بارے میں بھی سوچتی رہی کہ:
کیا وہ وہی حارم ہوگا…… جو سامنے رہتا تھا؟
کیا وہ وہی حارم ہوگا…… جس نے مجھے یہ پھول بنانے سکھائے تھے؟
کیا وہ وہی حارم ہوگا ……جو یہاں سے چلاگیاتھا؟
کیا وہ وہی حارم ہوگا ……جو میرا دوست تھا؟
اگر وہ وہی حارم ہوگا ……تو کیا میں اسے یاد ہوں گی؟
اگر وہ وہی حارم ہوگا تو کیا اسے بھی یہی بیماری ہوگی؟
لیکن حارم کو تو کوئی خوش بو نہیں آتی تھی……میں پھول بنایا کرتی تھی اور اس میں سے مجھے خوش بو آتی تھی لیکن اسے نہیں آتی تھی……پھر وہ وہاں علاج کے لئے کیوں آیا ہوگا؟
ایسے ان گنت سوال کائنات کے ذہن میں اٹھتے رہتے تھے۔ اسے بے صبری سے اپنے سیشن کا انتظار تھا تاکہ وہ ڈاکٹر سے حارم کے بارے میں پوچھ سکے۔اور اللہ اللہ کر کے آخر وہ دن آہی گیا۔
…………………………
وہ پہلے سیشن کے لئے دلاور کے ساتھ آئی تھی۔ اور دلاور باہر بیٹھا تھا۔ وہ اندرچلی گئی۔
پہلے سیشن کے شروع میں ڈاکٹر نے اسے ایک کاغذ دیا اور اسے اس نے پھول بنا کر دکھایا۔
”آپ نے پورے بیس منٹ لئے ہیں اس پھول کو بنانے میں۔“ڈاکٹر نے ہاتھ میں پکڑی اسٹاپ واچ اس کے سامنے کی۔
”بیس منٹ؟پھر تو میں نے بہت جلدی بنالیا ہے۔“کائنات خوش ہوگئی تھی۔
”جی نہیں جلدی نہیں بہت ٹائم لے لیا ہے آپ نے۔اب اس ٹائم کو ہر سیشن میں آپ نے کم سے کم کرنے کی کوشش کرنی ہے۔ اس کے لئے آپ اپنے گھر میں جب بھی پھول بنائیں گی تو کوشش کریں گی کہ کم سے کم ٹائم لگے۔ پریکٹس کریں گی تو ٹائم کم لگے گا۔اب جائیے اس پھول کو گملے میں لگا کرآئیے۔“
کائنات وہاں سے اٹھ کر میز تک آئی اور اپنے گملے میں پھول لگا لیا۔اس نے جگ سے تھوڑا پانی ہاتھ میں نکال کر ہلکے ہاتھ سے پھول پہ چھڑکا تھا۔۔اس نے دونوں پھولوں کو سونگھا ……بہت ہی ہلکی سی خوش بو تھی……اتنی ہلکی کہ اسے بمشکل آرہی تھی۔
وہ پلٹنے لگی تو اس کی نظر بے اختیار حارم کے گملے پہ پڑی۔اس نے آنکھوں ہی آنکھوں میں پھول گنے……ایک دو تین چار پانچ چھ سات آٹھ…… یعنی حارم اب بھی سیشن کے لئے آتا ہے۔
وہ پلٹ کر واپس کرسی پہ آکر بیٹھ گئی۔ڈاکٹر نے اسے مسکرا کر دیکھا۔
”یہ ایک سوال نامہ ہے اس کو پُر کریں۔ آپ جس حساب سے سوال کو سمجھیں اسی حساب سے اس سوال کا جواب لکھیں۔بہت آسان سے سوال ہیں کامن سینس کے ……“ڈاکٹر نے اس کے سامنے ایک پیپر رکھا۔
کائنات نے اس سوالنامے کے صفحے کوالٹ پلٹ کر دیکھا اور ڈاکٹر سے پوچھا:”کیا کوئی رولز ہیں؟“
”بالکل ہیں ……پہلا رول یہ ہے کہ سوال لازمی پڑھ پر جواب دینا ہے۔دوسرا رول یہ ہے کہ سوال پڑھ کر آپ کے ذہن میں جو بھی جواب آئے گا آپ وہی جواب لکھیں گی اس کو بنا کر یا بگاڑ کرنہیں لکھنا ہے۔ تیسرا رول یہ ہے کہ جتنا چھوٹا جواب ہوگا اتنے زیادہ نمبر ملیں گے۔“ ڈاکٹر نے وضاحت کی۔
”اور ان نمبروں کا ہم کیا کریں گے؟ “کائنات کے سوال پہ ڈاکٹر مسکرایا۔
”آپ تو کچھ نہیں کریں گی لیکن ہمیں ضرور اندازہ ہوجائے گا کہ آپ کی شخصیت کا خاکہ کیسا ہے۔ پھر ہمیں آپ کے علاج میں زیادہ آسانی ہوگی۔“
کائنات فوراً سے پرچے پہ جھک گئی اور سوالوں کو غور سے پڑھنے لگی۔وہ سوالات اس کی روزمرہ زندگی کے متعلق تھے کہ:
آ پ کو کیسی خوش بو پسند ہے؟
اگر آپ کی خوشبو کا رنگ ہوتا تو کون سا رنگ ہوتا؟
اگر آپ کی خوش بو کی کوئی شکل ہوتی تو کیسی ہوتی؟
آپ کو کیسی بدبو آتی ہے؟
آپ کے خیال میں اس بدبو کا رنگ کیسا ہے؟
آپ کے خیال میں اس بدبو کی اگر شکل کیسی ہونی چاہئے؟
آپ کے خیال میں آپ کی بدبو میں کیسی خوش بو ملائیں تو اس کو مکمل خوش بو میں تبدیل کیا جاسکتا ہے؟
وغیرہ وغیرہ۔
کائنات نے پرچہ حل کرنے کے بعد ڈاکٹر کے حوالے کیا تو اس نے پھر سے ڈاکٹر کے ہاتھ میں اسٹاپ واچ دیکھی۔
”آپ نے بتایا نہیں تھا کہ کتنے منٹ میں پیپر کرلینا تھا۔“وہ خفگی سے بولی تھی۔
”ہر بات پیشنٹ کو بتانے کی نہیں ہوتی مس کائنات۔ اور کوئی مقررہ وقت نہیں تھا۔ یہ تو بس میں اپنے پیشنٹس کی ہر بات کا وقت نوٹ کرتا رہتا ہوں۔ ا س سے مجھے ان کو سمجھنے میں آسانی رہتی ہے۔“
”میں نے کتنی دیر میں پرچہ حل کیا؟“کائنات نے پوچھاتو ڈاکٹر جو اس کے جوابات پڑھ رہے تھے مسکرانے لگے:”اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔“
”پھر بھی ایسے ہی بتادیں۔“
”جو بات جاننے سے آپ کو فرق بڑتا ہوگا وہ بات آپ کو ضرور بتائی جائے گی۔بہر حال اس ہفتے کے لئے میں آپ کو نئی ایکسرسائزز دے رہاہوں۔ میرے ساتھ ایکسرسائزز کریں پھر ہم اس سیشن کو اینڈ کریں گے۔“
”ڈاکٹر کیا میں آپ سے ایک بات پوچھ سکتی ہوں؟“کائنات نے جھجھکتے ہوئے پوچھا۔
”کیا وہ اس گملے کے بارے میں ہے؟“ڈاکٹر نے گملوں والی میز کی طرف اشارہ کیا۔کائنات نے سر ہلا کر ہاں کہا۔
”پوچھیں؟“وہ ہمہ تن گوش ہوئے تھے۔
”وہ جو حارم کا گملا ہے وہ کس دن سیشن کے لئے آتا ہے؟ مجھے اس سے ملنا ہے۔“
ڈاکٹر نے اسے دیکھا:”ہم کسی بھی پیشنٹ کی تفصیلا ت کسی دوسرے پیشنٹ کو نہیں بتاتے۔ یہ ہمارے اصولوں کے خلاف ہے۔“
”وہ میرے بچپن کا دوست ہے۔ حارم شہزاد۔“
”میں معذرت خوا ہ ہوں میں آپ کو کچھ بھی نہیں بتا سکتا۔“ڈاکٹر نے صاف گوئی سے جواب دیا۔
”صرف یہ بتا دیں کہ وہ تمام گملے کیا فینٹوسمیا بیماروں کے ہیں؟ کیا ان تینوں کو بھی فینٹوسمیا ہے؟ “
ڈاکٹر نے اس کی طرف جھکتے ہوئے رازدارانہ لہجے میں بلکل سرگوشی کے انداز میں پوچھا:”کیا اسے بچپن میں فینٹوسمیا تھا؟“
”نہیں۔اسے بالکل کوئی الگ سی بو محسوس نہیں ہوتی تھی۔“کائنات جلدی سے بولی۔
”اور آپ کو؟“
”مجھے تو بچپن سے ہی ایک خوش بو محسوس ہوتی تھی۔ بہت پیاری سی۔ اس نے مجھے پھول بنانا سکھایا تاکہ میں اس خوش بو کو اس پھول میں قید کرلوں۔ پھر میں اسے وہ پھول سونگھاتی تھی لیکن اسے پھر بھی خوش بو نہیں آتی تھی۔“
”ہوسکتا ہے کہ وہ اس خوش بو کو تلاش کرنے ہی یہاں آتا ہو؟“ڈاکٹر نے کہا تو کائنات بولی:”میں سمجھی نہیں۔“

episode 13????
ReplyDeletenext!?
ReplyDelete