Phantosmia
By Saira Ghaffar
Complete Online Urdu Novel
فینٹوسمیا
(سائرہ غفار)
قسط نمبر 13
”یہ تو وہی خوش بو ہے……“وہ بولے بنا نہیں رہ پائی۔
”بالکل وہی ہے کیا؟“ڈاکٹر مکرم نے مسکرا کر پوچھا۔
”ہاں بالکل وہی جو مجھے بچپن میں آتی تھی۔“کائنات نے اس خوشبو کو اپنے اندر جذب کرتے ہوئے کہا:”آہ……کتنے سال گزر گئے بدبو کے ساتھ گزارہ کرتے ہوئے……لیکن یہ خوشبو تو کمال کی ہے۔“
”اچھی بات ہے……ایسا کریں کہ ایک پھول بنا کر دیں مجھے۔“ڈاکٹر نے اسے ایک کاغذ تھمایا۔
”یہ نہیں مجھے وہ پیلا والا کاغذ چاہئے۔“کائنات نے اپنی مرضی کا پھول منتخب کیا اور مزے سے پھول بنانے لگی۔
ڈاکٹر مکرم اس کی رپورٹس دیکھتے ہوئے دلاور اور شاہدہ سے چھوٹے چھوٹے سوال کرنے لگے۔
ڈاکٹر مکرم کے سوالات ابھی چل ہی رہے تھے کہ کائنات نے پھول بن جانے کا اعلان کیا۔
”ارے یہ پھول تو بہت ہی خوب صورت ہے۔“ڈاکٹر مکرم نے مسکراتے ہوئے کہا تو کائنات نے خوش ہو کر دلاور اور شاہدہ کو دیکھا۔ وہ دونوں بھی دھیرے سے مسکرائے۔
ڈاکٹر مکرم اپنی سیٹ سے اٹھے اورانہوں نے ایک الماری کھول لی۔ اس الماری میں سے انہوں نے ایک پلاسٹک کا گملا نکالا اور نچلے خانے سے ایک بوری سی نکالی جو مٹی سے بھری ہوئی تھی۔ دونوں سامان انہوں نے میز کے اوپر رکھے اور کائنات کو اپنے پاس بلایا۔
کائنات اپنی سیٹ سے اٹھ کر میز کے پاس آئی تو وہاں پہلے سے تین گملے موجود تھے۔ تینوں پہ مختلف نام لکھے ہوئے تھے۔ لائبہ، عامر اور حارم……حارم نام سن کر کائنات کو ایک جھٹکا سا لگا۔ اس نے جلدی سے وہ گملا ہاتھ میں اٹھا لیا:”یہ گملا؟“
ڈاکٹر نے مسکرا کر اسے دیکھا:”میرے ایک مریض کا ہے۔یہ دیکھیں میں اس گملے میں آپ کا نام لکھ رہاہوں۔“ڈاکٹر نے ایک پیپر پہ اس کا نام کائنات لکھ کر ٹیپ کی مدد سے گملے پہ چپکا دیا۔
”اب سے آپ جتنے سیشن کرنے یہاں آئیں گی اتنے پھول اس میں لگا کریں گے۔ ہر سیشن سے پہلے ایک پھول آپ اس میں لگائیں گی۔“ڈاکٹر مکرم نے گملا اور مٹی کا تھیلا اس کے سامنے رکھا اور وہاں سے واپس اپنی سیٹ پہ چلے گئے اور دلاور اور شاہدہ سے کائنات کا کیس ڈسکس کرنے لگے۔
کائنات نے اپنا گملے میں مٹی بھری اور پھر ا سمیں تھوڑا سا پانی ڈالا جو وہیں ایک جگ میں رکھا ہواتھا۔ اس نے اپنا اوریگامی فلاور اس گملے میں لگایا اور پھر ہلکا ہلکا پانی ہاتھ سے اس کے اوپر چھڑکا۔ اور جب اس نے آنکھیں بند کر کے پھول کو سونگھا تو وہ جیسے مدہوش ہی ہوگی۔ اس قدر پیاری خوشبو کہ وہ دو منٹ کے لئے ہوش سے بے گانی ہوگئی تھی۔جب اس نے آنکھیں کھولیں تواس کی نظر بے اختیار ہی حارم کے گملے پہ پڑی اس نے چونک کر اس نا م کو زیر لب بڑبڑا کر دیکھا ……پھر آنکھیں سکیڑ کر دیکھا۔ ا س نے ٹیڑھی نظر سے ڈاکٹر کو دیکھا جو اس کے ماں باپ سے سوالات میں مصروف تھا۔پھر اس نے ہاتھ بڑھا کر وہ گملا نزدیک کیا اور اس کے پھول سونگھنے لگی۔ ان میں سے اکثر پھولوں سے اسے خوشبو آرہی تھی لیکن خوشبو بہت دھیمی تھی۔ اس نے پھول گنے۔ ایک دو تین چار پانچ چھ سات……یعنی حارم سات بار سیشن کے لئے یہاں آچکا ہے۔ اس نے دوسرا گملا دیکھا لائبہ ……اس نے ہاتھ بڑھا کر گملا نزدیک کیا۔ اس کے پھولوں میں بہت ہی کمال کی خوشبو تھی۔ بہت ہی مزے کی خوشبو ……ایسی خوشبو کائنات نے اس سے پہلے کبھی نہیں سونگھی تھی۔ اس نے پھول گنے……ایک دو تین ……بس……صرف تین پھول؟لیکن خوشبو تو بہت ہی پیاری ہے۔
اس نے تیسرا گملا دیکھا……اس پہ لکھا تھا عامر……وہ گملا ایک آرٹ پیس تھا…… اس نے گملا اپنے نزدیک کیا۔ہر پھول کے لئے استعمال کی گیا کاغذ ہاتھ سے رنگ کیا ہواتھا۔ کچھ کے لئے واٹر کلر کا استعمال کیا گیا تھا اور چند ایک پھولوں کے لئے پنسل کلر استعمال کئے گئے تھے۔ ہر ایک پھول میں کئی کئی رنگ موجود تھے۔ اس نے دھیرے سے ہاتھ کی پوروں سے پھولوں کو چھوا……پھر گنا……ایک دو تین چار پانچ چھ سات آٹھ نو دس گیارہ بارہ تیرہ چودہ پندرہ سولہ سترہ اٹھارہ……اتنے سارے پھول؟لگتا ہے کہ عامر کو بھی میری طرح بہت بری طرح سے یہ بیماری لگی ہوئی ہے۔ اس نے دھیرے سے ناک پھولوں کے قریب کی اور یخ……اس نے ایک ہلکی سی چیخ ماری اور ناک ہاتھ سے فوراً بند کرلی……ان پھولوں میں گندی سی بدبو تھی۔
اس کی آواز سن کر ڈاکٹر مکرم، دلاور اور شاہدہ تینوں دوڑے ہوئے ا س کے پاس آئے۔
”کیا ہوا بیٹا؟“شاہدہ نے فکر مندی سے پوچھا۔
”ان ……پھولوں میں بہت گندی بدبو ہے امی۔“اس نے ناک بند کئے ہوئے ہی جواب دیا۔
”آپ نے دوسروں کے گملے کیوں سونگھے ہیں؟“ڈاکٹر مکرم نے سخت لہجے میں پوچھا۔
”وہ……مم……میں تو صرف دیکھ رہی تھی۔“وہ منمنائی تھی۔
شاہدہ کو ڈاکٹر کا لہجہ برا لگا تھا اس نے کچھ کہنے کو منہ کھولا تھا کہ دلاور نے اسے اشارے سے منع کردیا۔
”یہاں کوئی کسی دوسرے کی چیز کو ہاتھ نہیں لگاتا۔ آپ دیکھ رہی ہیں ناں کہ نام لکھا ہوا ہے کسی کا……پھر بھی آپ نے ہاتھ لگایا؟ کس سے سیکھا ہے آپ نے دوسرے کی چیزوں کو دیکھنا؟“ڈاکٹر نے کہا آرام سے تھا لیکن دلاور کو وہی واقعہ یاد آیا جو وہ کبھی بھی بھول نہیں پایاتھا۔

Comments
Post a Comment