Phantosmia
By Saira Ghaffar
Complete Online Urdu Novel
فینٹوسمیا
(سائرہ غفار)
قسط نمبر 9
”دلاور……دلاور بھائی کیا ہوا ہے؟“
”دلاور انکل دروازہ کھولیں ……“
”دلاور بھائی سب خیریت ہے ناں؟“
دلاور کائنات کو جمیلہ کی گود میں لٹا کر خود نیچے جا کر دروازہ کھول کر سب کو تسلی کروانے لگے۔
اکثر لوگ اوپر کائنات کو دیکھنے آئے کیونکہ ان کو تسلی نہیں ہورہی تھی۔
محلے کے سب سے عمر رسیدہ بزرگ انکل شاہ نے کائنات کے ماتھے پہ ہاتھ رکھ کر دم کردیا۔ اور دلاور سے کہا کہ پانی کی ایک بوتل لے کر آؤ۔پانی کی بوتل آگئی تو انکل شاہ نے سب حاضرین کو سورہ فاتحہ پڑھنے کو کہا۔ سورہ فاتحہ پڑھ کر سب نے پانی پہ دم کیا اور وہ پانی کائنات کو پلا دیا گیا اور کچھ چھینٹے بھی اس کے اوپر مارے گئے۔ کائنات ایک دم پرسکون ہو کر ماں کی گود میں سو گئی۔
…………………………
دلاور کے آفس جانے کے بعد شاہدہ بے چینی سے ماسی کا انتظار کرنے لگی۔اس نے کائنات کونیند سے جگا کر تیار کروا دیاتھا۔ ماسی کے آتے ہی انہوں نے رکشہ پکڑا اورشہر کے دوسرے کونے میں پیر صاحب کے آستانے پہ پہنچ گئے۔ جہاں پہ ہزاروں دکھیارے لوگ اپنے اپنے مسائل لے کر آئے ہوئے تھے۔
شاہدہ ماسی کے ساتھ پیر صاحب کے سامنے پہنچی تو پیر صاحب کی لال بھبھوکا آنکھیں دیکھ کر وہ ایک دم سے کپکپا گئی۔
پیر صاحب نے مسئلہ پوچھا تو شاہدہ نے مسئلہ بیان کیا۔ پیر صاحب نے کائنات کو سامنے بٹھانے کو کہا۔
کائنات اس وقت مکمل ہوش و حواس میں تھی۔ پیر صاحب اسے جن نظروں سے دیکھ رہے تھے اسے بالکل بھی اچھا نہیں لگ رہاتھا۔
پیر صاحب نے کائنات کے ماتھے پہ ہاتھ رکھ کر آنکھیں بند کر لیں۔ اور منہ ہی منہ میں کچھ پڑھنے لگے۔
پیر صاحب کی انگلیوں کی حرکات و سکنات سے کائنات کے بدن میں جھرجھری سی ہونے لگی۔ اسے وہ لمس بالکل اچھا نہیں لگ رہاتھا۔ا س نے ایک دم سے پیر صاحب کا ہاتھ جھٹکا تھا اور اپنی ماں کے کان میں دھیرے سے سرگوشی کی:”امی یہاں سے چلیں مجھے یہ آدمی ٹھیک نہیں لگ رہا۔“
شاہدہ نے اس کا بازو پکڑ لیا اور اس کے کان میں بولی:”چپ چاپ بیٹھو۔ یہیں تمہارا علاج ہوگا۔“
”دیکھو اس بچی کو اپنے ساتھ دس جمعرات لے کر آنا ہو گا۔ میں ہر جمعرات کو اس پہ پڑھائی کروں گا اور باقی دنوں کے لئے تعویذ بھی دوں گا جو ہر روز پلانا ہوگا۔“
”ٹھیک ہے پیر صاحب جیسے آپ کہیں گے ویسا ہی ہوگا۔“
”دیکھو کیسا اتفاق ہے کہ آج بھی جمعرات ہے۔ میں آج سے پڑھائی کا آغاز کررہاہوں۔ اسے میرے حجرے میں بٹھاؤ۔ اور میں وہاں اس پہ دس منٹ کی پڑھائی کروں گا۔ پھر اگلی جمعرات کو لے کر آنا۔“
کائنات کو ایک دم سے نجانے کیا ہوا وہ اٹھ کھڑی ہوئی اور دوڑتی ہوئی باہر نکل گئی۔
شاہدہ ایک دم معذرت کرتی شرمندہ سی اٹھ کر اس کے پیچھے دوڑی۔
”معاف کرنا پیر صاحب بچی ہے اسے نہیں پتہ کہ پیر صاحب کے سامنے کیسے پیش ہونا ہے۔“ماسی نے لرزتے کاپنتے ہوئے کہا۔
پیر صاحب نے اپنی لال داڑھی کو اپنے ہاتھ سے سہلا کر لال بھبھوکا آنکھوں سے ماسی کو دیکھا:”اس پہ جن کا سایہ ہے۔ اس مائی کو بول دے کہ جن اتارنے کے لئے چلہ کاٹنا ہوگا اور چالیس دن جب تک میں چلہ پوروں گا وہ لڑکی میرے پاس یہیں رہے گی۔بول دے اس کو۔“
ماسی دوڑتی ہوئی باہر آگئی۔
کائنات دوڑتی دوڑتی جارہی تھی۔ شاہدہ نے اسے پیچھے سے آلیا۔
شاہدہ اسے گھسیٹ کر واپس آستانے میں لے جانا چاہتی تھی اور کائنات وہاں نہیں جانا چاہتی تھی۔
ان کے پیچھے پیچھے ماسی بھی وہاں پہنچ گئی۔ اور پیر صاحب کا فرمان ان کے گوش گزار کیا۔
”مجھ میں کوئی جن نہیں ہے ماسی۔ یہ پیر بابا ڈھونگی ہیں۔“کائنات روتے روتے بول رہی تھی۔
”ایسا نہیں بولو بیٹا۔ پیر صاحب کو جلال آگیا تو بہت غضب ہوجائے گا بیٹا۔ ایسا مت بولو۔“
”میں اسے کل اپنے ساتھ لے آؤں گی چلہ کاٹنے کے لئے۔“شاہدہ نے ماسی کو یقین دہانی کروائی:”تم پیر بابا سے کہنا کہ غصہ نہ کریں پلیز۔ بس میری بیٹی کا جن اتار دیں۔ ہم لوگ بہت پریشان ہیں۔ بہت پریشان ہیں ہم لوگ۔“شاہدہ سڑک کے کنارے کھڑے ہو کر کائنات کو سینے سے لگائے روئے جارہی تھی۔ آس پاس سے گزرنے والے لوگ ایک لمحے کو اس روتی ہوئی ماں کو ضرور دیکھ رہے تھے۔
ایک دو لوگو ں نے رک کر مسئلہ جاننے کی کوشش کی۔اسی وقت ماسی نے رکشہ روک لیا۔
ان دونوں کو ان کے گھر چھوڑ کر ماسی اور گھروں میں کام کرنے چلی گئی تھی۔
شام کر دلاور گھر واپس آیا توشاہدہ نے بہت ہی خوش گوار موڈ میں اسے پیر صاحب والی کارستانی بہت ہی اچھے موڈ میں سنائی۔ دلاور نے ساری بات سنی اور پھر ایسا غصہ کیا کہ شاہدہ کے چودہ طبق روشن ہوگئے۔
”تم کس سے پوچھ کر میری بیٹی کو ایسے ڈھونگی پیر کے پاس لے کر گئیں تھیں؟“
”تمہاری ہمت کیسے ہوئی کائنات کو ایسی جگہ لے کر جانے کی۔ وہ میری بیٹی ہے۔ خبردار جو آئندہ تم اسے کسی بھی ایسی جگہ پہ لے کر گئی ہو تو……ورنہ مجھ سے برا کوئی نہ ہوگا۔سمجھیں تم؟“ دلاور نے اس سارے ڈائیلاگ کے دوران ایک پلیٹ زمین پہ دے ماری تھی اور دو گلاس بھی توڑ دئیے تھے۔ وہ اپنے آپے سے بالکل باہر ہوگیاتھا۔ غصے سے تن فن کرتا وہ سیڑھیاں چڑھتا چھت پہ چلاگیاتھا۔کائنات اپنے گملے کے پاس بیٹھی ہوئی تھی گم صم چپ چاپ۔شاہدہ بے بسی سے کبھی کائنات کو دیکھتی تو کبھی ٹوٹی پلیٹ اور گلاس کو……پھر وہ اٹھی اور صفائی کرنے لگی۔
دلاور نے رک کر کائنات کودیکھا پھر اس کے پاس بیٹھا۔ اس کے سر پہ ہاتھ پھیرنے لگااور اپنے اندر وہ سوال کرنے کی ہمت مجتمع کرنے لگا:”بیٹا اس پیر نے تمہیں …… اس نے تمہیں ……ہاتھ تو ……نہیں لگایا ناں؟“دلاور کی آنکھوں سے کتنے ہی آنسو ٹوٹ کر گرنے لگے۔ آج وہ ضبط نہیں کرپارہاتھا۔
”اس نے یہاں ہاتھ رکھا تھا۔“کائنات نے اپنے ماتھے پہ ہاتھ رکھا:”وہ بہت گندا تھا بابا۔ میں نے امی کو منع کیا کہ وہ اچھا آدمی نہیں لگ رہا مگر امی نہیں مانیں۔“
”تمہاری ماں جاہل عورت ہے جاہل عورت وہ کبھی نہیں مانتی۔ کبھی بھی نہیں مانتی۔“دلاورنے روتے روتے کائنات کو اپنے سینے سے لگالیا۔

Comments
Post a Comment