Skip to main content

Adhoora Main Mukamal Tum By Saira Ghaffar Complete Online Urdu Novel

Adhoora Main Mukamal Tum By Saira Ghaffar Complete Online Urdu Novel


ادھورا میں ۔۔۔ مکمل تُم

(سائرہ غفار)


فیروز بخت کو آج دیر ہوگئی تھی۔اور اگر دیر نہ ہوتی تو وہ اسے کبھی بھی نہ دیکھ پاتا۔
وہ اپنی سرخ ہوتی آنکھوں کو بار بار ہاتھ کی پشت سے صاف کرتے ہوئے زیبرا کراسنگ پہ سے گزر رہی تھی۔
فیروز بخت کا دھیان اس کی شکل و صورت پہ گیا ہی نہیں ……اس نے نوٹس ہی نہیں کیا کہ وہ خوب صورت ہے یا نہیں ……وہ صرف جاننا چاہتا تھا کہ وہ روکیوں رہی ہے؟اسے کون سا مسئلہ ہے؟ وہ محض اس کی سرخ ہوتی آنکھوں کو نوٹس کررہاتھا۔
وہ اس کی گاڑی کے سامنے سے گزری اور فیروز بخت کی نظریں اسے دوسری طرف سڑک کراس کر کے ٹریفک کے جمگھٹے میں غائب ہوتے دیکھتی رہیں۔وہ اسے تب تک دیکھتا رہا جب تک وہ نظر آتی رہی۔ اس کے غائب ہوتے ہی سگنل بھی گرین ہوگیا اور وہ سر جھٹک کر ایک گہری سانس خارج کرتا گاڑی کو آگے بڑھا گیا۔


………………………………………………

”یار میں اس دوٹکے کی نوکری سے تنگ آگیا ہوں۔سوچ رہاہوں کہ کوئی کاروبار سیٹ کرلوں۔ تیرا کیا خیال ہے؟“ سمان احمد نے فیروز سے پوچھاتھا۔
”اچھا اور نیک خیال ہے۔“فیروز بخت اور سمان احمد کی دوستی تقریباً دس سال پرانی تھی۔ وہ دونوں یونی ورسٹی میں ایک ساتھ پڑھتے تھے اس کے بعددونوں کو الگ الگ ملٹی  نیشنل کمپنیوں میں نوکری مل گئی تھی۔فیروز بخت نے بہت جلدی ترقی کی تھی جبکہ سمان احمد کام سے زیادہ شکوے شکایات سناتا رہتا تھا۔ اسے ہر وقت یہی گلہ رہتا تھا کہ نوکری میں گھر کا گزارہ بہت مشکل سے ہوتاہے اور ترقی نہیں ہورہی۔ میرا باس اچھا آدمی نہیں ہے وغیرہ وغیرہ۔ 
”تیرے ذہن میں کوئی آئیڈیا ہے کیا؟“فیروز نے پوچھا۔
”یا ر میں تو رئیل اسٹیٹ میں دلچسپی رکھتا ہوں۔ تو بتا تیرا کیا مائنڈ ہے؟‘‘سمان نے پوچھا۔
”بہت ہی نیک خیال ہے۔ توپھر کہیں دکان دیکھ لے۔اور ابھی جاب نہ چھوڑنا۔ فی الحال اس کام کو پارٹ ٹائم رکھتے ہیں پھر دیکھتے ہیں۔ اللہ مالک ہے۔“فیروز کی بات سمان کے دل کو لگی:”ٹھیک کہتا ہے یار۔ چل پھر میں دکان دیکھتا ہوں پھر بتاتا ہوں تجھے۔“


………………………………………………

اگلے دن آفس جاتے ہوئے جب فیروز بخت کی گاڑی سگنل پہ رکی تو بے اختیار نظریں روڈ کراس کرنے والے لوگوں میں اسے کھوجنے لگیں۔ لیکن وہ نظر نہیں آئی اور نگاہ تھک کر واپس لوٹ آئی۔اس نے سگنل گرین ہونے تک اسے کھوجا تھا پھر مایوسانہ انداز میں گاڑی آگے بڑھادی۔
اس دن آفس سے واپسی میں پھر اسی سگنل پہ وہ رکا اور بے اختیاری میں نظروں نے ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک بنے ہوئے زیبرا کراسنگ کا طواف شروع کیامگر اس کی نگاہ تھک ہار کر پھر لوٹ آئی اورسگنل گرین ہونے پہ اس نے گاڑی آگے بڑھادی۔

………………………………………………

”ماماآدئے ماماآدئے۔“ننھی اُسوہ دوڑتی ہوئی آئی اور فیروز بخت کی گود میں چڑھ گئی۔
”آگئی بہن کی یاد بھائی صاحب کو؟“ھدیٰ نے بھائی کا کان کھینچا تو فیروز نے چیخنا شروع کیا۔ اُسوہ ماموں کو بچانے کے لئے ماں سے جھگڑنا شروع ہوگئی۔
”تھوڑو(چھوڑو) تھوڑو میلے ماما کو تھوڑو……“
”کیسے آدمی ہو ماں بیٹی میں پھوٹ پڑوا رہے ہو۔خدا پوچھے گا تم سے تو۔“اس نے کان چھوڑا۔
”اجی ہم نے ہی دینے ہیں سارے حساب یا آپ پہ بھی کچھ شرم و حیا لازم ہے؟“دوبدو سوال داغا گیا۔
”کیسی شروم و حیا؟“ھدیٰ نے فریج کا دروازہ کھول کر پانی کی بوتل نکالی۔
”شرم و حیا سے یہ مرا دہے کہ بھائی کی خاطر تواضع کچھ کھلاؤ کچھ پلاؤ کچھ منہ میٹھا کراؤ ……کیوں اُسوہ؟“ اُسوہ نے زور زور سے اپنا بھی سر ہلایا اور ماموں کا سر بھی پکڑ کر ہلانے لگی۔
”پیٹو ندیدے انسان کھانے پینے کے علاوہ بھی کچھ آتا ہے تمہیں؟“ھدیٰ نے اس کے پیٹ میں مکا سا مارا تو وہ ایکٹنگ کرتے ہوئے گر پڑا:”مار ڈالا ظالم ……مارڈالا……ہائے میں مرگیا……کوئی ایمبولینس کو بلاؤ۔“
اُسوہ بھاگ کے گئی اور اپنی ماں کو موبائل فون لا کر تھما دیا:”مما فون کرو پوئیس کو ماماکو لے کے دائے۔“
پولیس کا نام سن کر ھدیٰ اور فیروز دونوں بے اختیار کھلکھلا کر ہنس پڑے:”اسے تو سچ مچ پولیس کو ہی لے جانا چاہئے۔“ھدیٰ نے ہنستے ہوئے کہا۔
اسی وقت فیروز کا موبائل بجا۔اس نے نا م دیکھ کر فون کان سے لگالیا:”السلام اعلیکم امی۔جی؟“
”کدھر ہو؟“
”جدھر اس وقت ہوتا ہوں،ادھر ہی ہوں۔“اس نے کُن اکھیوں سے ھدیٰ کو دیکھا۔ جو کہ اسی کی طرف متوجہ تھی۔ اس کی بات سن کر وہ کچن میں گھس گئی۔
”کتنی بار منع کیا ہے تمہیں کہ ادھر مت جایا کرو مگر تمہارے کان پہ جوں تک نہیں رینگتی۔“
”امی آپ کام بتائیے میں بس نکل رہاہوں۔“
”سبزی لیتے آنا اور کل کچھ ضروری مہمان آئیں گے ان کے لئے بھی خاطر تواضع کا کچھ سامان چاہئے۔“
”جی میں لے آؤں گا۔اللہ حافظ۔“
”ماما میں بی بات کلوں دی۔“
”بیٹا فون بند ہوگیا ہے۔“
ھدیٰ نے خاموشی سے اس کے سامنے چائے کا کپ اور ٹرے رکھی جس میں بسکٹس اور کیک تھا۔ اُسوہ نے فوراً سے ایک کیک پیس اٹھا لیا۔
”تم امی کی باتوں کو دل پہ مت لیا کرو۔ وہ پرانی باتوں کو کبھی بھولنا ہی نہیں چاہتیں۔ ورنہ سب کچھ کب کا ٹھیک ہوچکاہوتا۔“
”جانتی ہوں۔ نہ وہ خود بھولتی ہیں نہ کسی اور کو بھولنے دیتی ہیں۔زخم یہ مرہم کے بجائے نمک چھڑکتی رہتی ہیں۔‘’ھدیٰ کی آنکھوں کے گوشے بھیگنے لگے تو وہ چھپانے کو فوراً رخ پھیر کر واپس کچن میں چلی گئی۔
فیروز نے چائے ختم کر کے اُسوہ کوپیار کیا اور تیز تیز قدم اٹھاتا باہر نکل گیا۔ وجہ تو وہ بھی جانتا تھا لیکن وہ یہ بھی جانتا تھا کہ اس بات کو دہرانا خو دکو تکلیف دینے کے سوا اور کچھ بھی نہیں ہے لیکن ماضی کے اس تکلیف دہ باب کو روحی کبھی بند ہونے ہی نہیں دینا چاہتی تھی۔


………………………………………………

فیروز بخت اپنے نام کی طرح بختاور ثابت ہوا۔ ویسے بھی وہ جس بھی کام میں ہاتھ ڈالتا تھا اسے ترقی ضرور ملتی تھی۔سمان احمد کے ساتھ ایک مہینے کے اندر اندر ہی اسٹیٹ ایجنسی کا سیٹ اپ ہوجانے کے بعد انہوں نے پارٹ ٹائم کام کرتے ہوئے ہی دو بہترین ڈیلز کروائیں اور تگڑا کمیشن کمایا اور آدھا آدھا بانٹ لیا۔
چند ماہ کے اندر اندر ان کی رئیل اسٹیٹ کے بزنس میں ایک پہچان بن گئی اور ان کی اسٹیٹ ایجنسی پہ لوگ اعتماد کرنے لگے۔
سمان احمد نے اپنی نوکری چھوڑ دی تھی اور اب وہ فل ٹائم اسٹیٹ ایجنسی کا کام کررہاتھا جبکہ فیروز ملازمت چھوڑنے کے حق میں نہیں تھا۔ اس کا خیال تھا کہ پارٹ ٹائم ہم اس اسٹیٹ ایجنسی سے اچھا خاصا کما رہے ہیں پھر ہمیں اچھی خاصی لگی بندھی جاب چھوڑنے کی کیا ضرورت ہے۔ لیکن سمان احمد نے ا سکی ایک نہ مانی اور اپنی نوکری چھوڑ کر فل ٹائم دکان سنبھالنے لگا۔ زیادہ کام کرنے سے زیادہ منافع ہونے لگا۔ سمان کو محسوس ہونے لگا تھا کہ فیروز کسی کام کا نہیں ہے اور میں ا سکو خوامخواہ کمیشن میں حصہ دے رہاہوں۔ میں ساری محنت خود کرتا ہوں اور اسے کمیشن سے حصہ دیتا ہوں جو اسے اب کھٹک رہاتھا۔ وہ اب فیروز  سے کتراتا تھا اور اس سے خار بھی کھانے لگاتھا۔ خوامخواہ وہ فیروز کی ڈیلز میں خامیاں نکالتا اور اسے زچ کرنے کی کوشش کرتا تھا۔
فیروز بخت اسے کام کا دباؤ سمجھ کر اگنور کررہاتھا ویسے بھی وہ ملازمت پیشہ شخص تھا اس میں پریشر برداشت کرنے کی صلاحیت موجود تھی اور حالات اچھے ہوں یا برے ان سے نمٹنا وہ خوب اچھی طرح سے جانتا تھا۔


………………………………………………

”تمہاری بہن خیر سے بڑی ہوگئی ہے اس کے رشتے کے لئے کہیں ہاتھ پاؤں مارو بھئی کب رخصت کرو گے اس کو گھر سے؟“ جویرہ نے اپنے میاں سمان احمدسے کہا۔
”بڑی ہوگئی ہے؟مجھے تو نہیں لگتی اتنی بڑی……“سمان نے بے پروائی سے ناک سے مکھی اڑائی۔
”جب بالوں میں چاندی چمکنے لگے گی تب ہاتھ ملتے رہ جاؤ گے۔ خاندان میں نظریں دوڑاؤ اور اپنی مصروفیات کم کرو تھوڑا ٹائم گھر کو دو تو کچھ پتہ چلے تمہیں۔“جویرہ کا غصہ آسمان کو چھو رہاتھا۔
”ارے بھئی دیکھ لیں گے ناں ابھی تنگ مت کرو۔“سمان احمد کیلکولیٹر میں گھسا رہا۔
”ہونہہ آپ کبھی نہیں سدھریں گے۔“جویرہ غصے میں پیر پٹختی کمرے سے واک آؤٹ کرگئی اور سمان نے سکھ کا سانس لیا۔


………………………………………………

نورہ، ھدیٰ اور فیروز بخت تین بہن بھائی تھے۔ ان کے والد بخت آدم ایک ریٹائرڈ آرمی آفیسر تھے۔ وہ بہت خوش مزاج اور زندہ دل انسان تھے۔ ان کی والدہ روحی ایک گھریلو خاتون تھیں۔نورہ کے لئے پہلا رشتہ اس کے تایاشادآدم اور تائی زہرہ شاد لے کر آئیں، ان کا بیٹا مجاہد شادمہران یونی ورسٹی کا طالب علم تھا۔نورہ اس وقت ماسٹرز کر رہی تھی۔ ھدیٰ ان دنوں گریجویشن کے پیپر دے کر فارغ ہوئی تھی اور فیروز بخت نے یونی ورسٹی میں نیا نیا قدم رکھاتھا۔جب گھر میں نورہ کے رشتے کے سلسلے میں بات چیت شروع ہوئی تو ھدیٰ کے چہرے کی ہنسی ایک دم سے غائب ہوگئی۔ اس نے کبھی کسی سے کہا نہیں تھا لیکن وہ مجاہد کو پسند کرتی تھی۔ اور اسے لگتا تھا کہ مجاہد بھی اسے پسند کرتا ہے۔
تایا نے نورہ اور مجاہد کی منگنی کی تاریخ طے کردی۔مجاہد کے امتحان چل رہے تھے اور اس کے واپس آنے کے دو دن بعد ہی منگنی کا دن مقرر کرلیا گیاتھا۔ منگنی والے دن جب نورہ کو اس کے سامنے دلہن کے روپ میں لایا گیا تو وہ حیران و پریشان رہ گیا۔ اس نے اپنے والدین سے کہا تھا کہ اسے چچا کے گھر میں شادی کرنی ہے۔ وضاحت کرنا تو وہ بھول ہی گیاتھا کہ اسے نورہ سے نہیں بلکہ ھدیٰ سے شادی کرنی ہے۔ اس نے اسی وقت سب کے سامنے دو ٹوک لہجے میں ھدیٰ کا ہاتھ مانگ لیا۔ ہر کوئی پریشان تھا کہ مجاہد نے سب کے سامنے ان کی ناک کٹوادی ہے۔
بخت آدم نے اپنے بھائی کے سامنے ہاتھ جوڑے اور کہا کہ یہ رشتہ نہیں ہوسکتا میں ایک بیٹی کی خوشیوں کو گرہن لگا کر دوسری کا گھر نہیں بنا سکتا۔ میں یہ نہیں کرسکتا کہ جو رشتہ ایک بیٹی کے لئے توڑا ہو وہ دوسری سے جوڑ دوں۔ اسی لمحے ھدیٰ بول پڑی کہ وہ بھی مجاہد کو پسند کرتی ہے۔ گھر بھر میں ایک بھونچال امڈ آیا۔بخت آدم نے بیٹی کے گال پہ تھپڑوں کی بارش کردی۔ فیروز بخت نے بڑی مشکل سے ان کو سنبھالا تھا۔اس دن ان کو ہارٹ اٹیک ہوا جو جان لیوا ثابت ہوا۔
روحی نے ھدیٰ کو دھکے دے کر گھر سے باہر نکال دیا کہ تمہاری وجہ سے میں بیوہ ہوگئی۔ مجاہد،شاد آدم،فیروزبخت اور ھدیٰ کو ساتھ لے کر قریبی نکاح خوان کے پاس پہنچا اور نکاح پڑھوا کر ھدیٰ کو اپنے ساتھ گھر لے آیا۔
شاد کے دل میں مجاہد کے اس تمام رویے سے ایک گرہ سی لگ گئی تھی۔ لیکن وہ ان کا اکلوتا بیٹا تھا اس لئے وہ کچھ نہیں کہہ پائے۔ لیکن تائی نے برداشت نہیں کیا انہوں نے مجاہد کو کہہ دیا کہ ایک ہفتے کے اندر اندر اس گھر سے چلے جاؤ میں ھدیٰ کو اپنے گھر میں برداشت نہیں کر پارہی ہوں۔
مجاہد ھدیٰ کو لے کر ایک کرائے کے گھر میں شفٹ ہوگیا۔ اس نے جاب بھی ڈھونڈ لی تھی۔ وہ ایک بہترین اسٹوڈنٹ تھا اس لئے اسے ایک  اچھی کمپنی میں جاب مل گئی تھی۔ زندگی کچھ دن بعد ایک ڈگر پر چلنے لگی۔لیکن روحی اور نورہ کے دل میں ھدیٰ کے لئے جگہ بننا نا ممکن سا نظر آتا تھا۔اس سارے قصے کو پانچ سال کا عرصہ بیت چکاتھا لیکن اب بھی وہ دونوں اسی دور میں جی رہی تھیں اور ھدیٰ کو معاف کرنے کو تیار نہیں تھیں۔


………………………………………………

آج کئی دن بعد وہ آفس سے لیٹ نکلا تھا اور سگنل پہ اسے وہ نظرا ٓگئی تھی۔ اس نے سب سے پہلے اپنی گھڑی چیک کی اور ٹائم نوٹ کرلیا۔سوا سات یعنی وہ روز اسی وقت یہاں سے گزرتی ہے۔
وہ اسے دیکھتا رہا آج بھی وہ اس دن کی طرح چادر سے خود کو لپیٹے ہوئے تھی اور اس کی آنکھیں سرخ ہورہی تھی۔ اسے ہلکی سی اس کی ناک کی جھلک نظر آئی جو سرخ ہورہی تھی۔ اس نے اپنی آنکھیں رگڑ کرصاف کی تو اسے اندازہ ہوا کہ اس دن کی طرح وہ آج بھی رو رہی ہے۔سگنل کھلا تو وہ سگنل کراس کر کے سامنے روڈ پہ گاڑی پارک کر کے سڑک کراس کرتا دوسری جانب پہنچ گیا۔ اسے دور ایک ذیلی سڑک سے ملحق گلی میں اس کی چادر کی جھلک نظرا ٓئی وہ دوڑتا ہانپتا کانپتا وہاں تک پہنچا تو وہ کہیں بھی دکھائی نہیں دی۔ وہ ہانپتا ہوا ایک فٹ پاتھ پہ بیٹھ کر اپنی سانسیں درست کرہی رہاتھا کہ اسے سمان کی آواز سنائی دی:”فیروز؟“
اس نے سر اٹھا کر دیکھا تو فیروز اپنی بائیک پہ سامنے موجود تھا:”یہاں کیا کررہے ہو؟“
”کک……کچھ نہیں بس ایسے ہی۔“
وہ اس کو ٹالتا ہوا اس کی بائیک پہ بیٹھ کر گاڑی تک آیا اور رات کو ملنے کا پروگرام بنا کر وہاں سے رخصت ہوگیا۔


………………………………………………

”قنوت اسے ڈرپ لگادو۔اور صاعقہ کو بھی بلا لاؤ اس کو اسٹچز بھی لگیں گے۔“ڈاکٹر امبر نے مریضہ کا زخم چیک کرتے ہوئے ہدایات جاری کیں اور پھر زخم صاف کرنے لگیں۔
وہ ایک چالیس بیالیس سالہ عورت تھی جس کا ایکسیڈنٹ ہوگیاتھا اوراس کی ٹانگ پر چوٹیں لگیں تھیں۔ابھی اس کا کافی خون بہہ گیاتھا۔ قنوت اس کی حالت دیکھ کر رونے لگ گئی۔
”قنوت فار گاڈ سیک ایسا مت کرو۔نرس ہو تم اپنی ڈیوٹی کرو۔“ڈاکٹر امبر نے اسے ڈانٹا لیکن قنوت مسلسل روئے جارہی تھی۔
”صاعقہ……زوئنہ کو بھی بلا لاؤ۔اور قنوت چلی جاؤ میرے سامنے سے تمہارا روز روز کا یہ ناٹک اب میں برداشت نہیں کرسکتی۔ جاؤ یہاں سے۔“ صاعقہ کو سامنے سے آتا دیکھ کر ڈاکٹر امبر نے اس سے کہا۔
ڈاکٹر امبر کا بلڈ پریشر قنوت کو دیکھ کر ہائی ہونے لگتا تھا۔ اور جس دن ایمرجنسی وارڈ میں وہ قنوت کو دیکھ لیتی تھیں اس دن تو ان کا پارہ سارا دن ہی ہائی رہتا تھا کیونکہ وہ کسی زخمی انسان کو دیکھ کر خود پہ قابو نہیں رکھ پاتی تھی اور رونا شروع کردیتی تھی۔وہ کام کم کرتی تھی اور روتی زیادہ تھی۔
اس کی اس عادت کے باوجود وہ اس پرائیوٹ ہاسپٹل میں اب تک ٹکی ہوئی تھی کیونکہ وہ بی ایس نرسنگ تھی اور کوالیدفائیڈ اور ٹرینڈ ہونے کے ساتھ ساتھ بہت زیادہ پھرتیلی اور ایکٹو بھی تھی۔ وہ کسی کا زخم اور خون برداشت نہیں کرپاتی تھی۔ جب بھی کسی کی مرہم پٹی کرتی تو روتے روتے کرتی۔ کام وہ بخوبی اور ایمانداری کے ساتھ کرتی تھی۔ بس روتی بہت تھی۔
اور اس ایک عادت کی وجہ سے اکثر ڈاکٹرز اس سے چڑتے تھے بلکہ خار کھاتے تھے۔
اس دن ڈاکٹر امبر نے ایڈمن میں جا کر ایک درخواست جمع کروائی کہ اگر قنوت کی ڈیوٹی اس کے ساتھ آئندہ لگائی گئی تو وہ ڈیوٹی نہیں کرے گی۔قنوت کو ایڈمن والوں نے بلوا کر سمجھایا اس نے معافی مانگی اور ڈاکٹر امبر سے بھی معافی کی درخواست کی۔ یوں ڈاکٹر امبر نے اس کی جان چھوڑی۔


………………………………………………

”قنوت یار ایسا کب تک چلے گا آخر؟“
”یہ سب میرے کنٹرول میں نہیں ہوتا ہے میں کیا کرسکتی ہوں زوئنہ۔“
”دیکھو قنوت ہم سب نرسسز ہیں اور ہمیں بہت جلدی جلدی کام نمٹانے ہوتے ہیں ورنہ خدانخوانستہ مریض کو کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ تم سمجھ رہی ہوناں؟ رونے دھونے میں وقت برباد کرو گی تو ایس انہ ہو کسی دن ہاتھ ملتی رہ جاؤ۔“زوئنہ اور صاعقہ آج اسے بیٹھ کر مسلسل سمجھائے جارہی تھیں۔
”میں سب سمجھ رہی ہوں اور میں سب جانتی بھی ہوں لیکن یہ سب میرے اختیار میں نہیں ہے۔ میری مٹی کی تاثیر ہی ایسی ہے میں کیا کروں مجھے کچھ سمجھ نہیں آتا۔کسی کا زخم میں برداشت نہیں کرپاتی۔“قنوت نے دونوں ہاتھوں سے اپنا سر تھام لیاتھا۔
”پتہ ہے صاعقہ بیڈ نمبرچار والے انکل ہیں ناں جن کے بازو پہ ٹانکے لگے ہیں۔ جب وہ آئے تھے توان کو دیکھ کر قنوت رو پڑی تھی اور وہ انکل خود کو سنبھالنے کی بجائے قنوت کو سمجھا رہے تھے چپ کروانے کی کوشش کررہے تھے۔ نہ میری بچی روتے نہیں ہی نہ نہ……“زوئنہ نے انکل کی نقل اتاری تو تینوں کو ہی ہنسی آگئی۔
”سچ میں قنوت آئٹم ہوتم بھی۔“صاعقہ نے کہا تو وہ مسکرادی۔
اسی وقت کچھ لوگ دو لڑکوں کو زخمی حالت میں لے کر ایمرجنسی وارڈ میں داخل ہوئے۔


………………………………………………

آج فیروز بخت نے آفس سے چھٹی کر لی تھی۔ وہ کئی روز سے دکان نہیں جاپایاتھا تو اس کا ارادہ آج سارا دن سمان احمد کے ساتھ گزارنے کا تھا۔
سمان نے پہلے اسے دیکھ کر برا سا منہ بنایا۔ پھر وہ کئی ایک ڈیلز کے متعلق پراپرٹیز کے متعلق بات کرتے رہے۔ 
پھر ایک کال آنے پر وہ دونوں سمان کی بائیک پہ ایک پراپرٹی دیکھنے نکل پڑے۔
بائیک چلاتے ہوئے سمان احمد مسلسل موبائل فون استعمال کررہاتھا۔ اور ایک دم اس کا بیلنس بگڑا اور وہ دونوں تیز رفتار بائیک سمیت روڈ پہ کئی گز تک گھسٹتے ہوئے گر پڑے۔ سمان اور فیروز دونوں کی چیخیں نکل پڑی تھیں۔ ان کے اردگرد گاڑیوں بائیکوں رکشوں والے رک گئے تھے۔ ٹریفک جام ہوگیاتھا۔ اور ان دونوں کو ایمبولینس میں ڈال کر ہاسپٹل پہنچا یاگیا۔


……………………………………………………

فیروز بخت کو کچھ ہوش آیا تو اسے میل نرس وہیل چیئر پہ لاد کر کوریڈور سے تیزی سے گزرتا ہوا ایمرجنسی وارڈ میں داخل ہورہاتھا۔ فیروز بخت نے اپنا جائزہ لیا تو اسے اندازہ ہوا کہ وہ ٹھیک ٹھاک ہے زیادہ چوٹیں نہیں آئیں بس اس کے دونوں گھٹنے چھل گئے تھے۔ اور داہنے پاؤں میں ایک زخم اسے نظر آرہاتھا۔ اسے تکلیف ہورہی تھی لیکن اتنی نہیں تھی کہ وہ برداشت نہ کرسکے۔
اس نے سمان کی تلاش میں اردگرد نظریں دوڑائیں۔نرس نے اسے بیڈ پہ شفٹ کر کے اس کے زخم صاف کرنا شروع کردئیے۔ اس کے حلق میں کانٹے اگے ہوئے تھے اس نے بمشکل نحیف سی آواز نکال کر نرس سے کہا:”مم……میرا دوست؟“
نرس نے منہ پہ انگلی رکھ کر اسے خاموش رہنے کا اشارہ کیا اور اس کے سامنے سے ہٹ کر سامنے والا بیڈ دکھایا جہاں سمان احمد بے ہوش پڑا تھا۔ اور اس کے اوپر دو میل نرس جھکے ہوئے اس کے زخم صاف کررہے تھے۔ وہ لیٹنے لگا تو اس کی نظر سمان کے ساتھ کھڑی اسی لڑکی پہ پڑی جو وہاں کھڑی روئے جارہی تھی:”میرا بھائی……میرا بھائی پلیز باسط بھائی میرے بھائی کو کچھ نہیں ہونا چاہئے۔“
اس کے ساتھ ایک اور لڑکی نرس کے ڈریس میں کھڑی تھی اور اسے چپ کروانے کی کوشش کررہی تھی۔
فیروز بخت کو حیرت انگیز خوشی محسوس ہوئی۔ وہ لڑکی یہاں نرس تھی اور سب سے بڑی بات یہ کہ وہ سمان کی بہن ہے۔
اس نے جیسے اپنے ذہن میں فرحت کا احساس پاتے ہی دل تک اترتا سکون محسوس کیا۔


………………………………………………

وہ دو لڑکے جو ایمرجنسی میں لائے گئے تھے ان میں سے ایک قنوت کا بھائی تھا۔ وہ اسے دیکھ کر مسلسل روئے جارہی تھی۔ سمان کو کافی گہری چوٹیں لگی تھیں۔ جبکہ اس کے دوست فیروز بخت کو زیادہ چوٹ نہیں لگی تھی۔ قنوت مسلسل رو رہی تھی۔ سمان احمد کو ابھی تک ہوش نہیں آیاتھا۔ جبکہ دوسرا لڑکا مکمل ہوش میں تھا۔سب قنوت کو سمجھا رہے تھے کہ اس کا بھائی ٹھیک ہو جائے گالیکن وہ روئے جارہی تھی۔
جائے حادثہ پہ کسی نے پولیس کو فون کر کے ایکسیڈنٹ کی اطلاع دی تھی۔ اسی لئے وہاں جب پولیس آئی تو وہ ضروری کاروائی کر کے پوچھ گچھ کر کے چلی گئی۔


………………………………………………

فیروز بخت اور سمان کے ایکسیڈنٹ کو تین چار گھنٹے گزر گئے تھے۔ سمان اور فیروز دونوں کو سکون آور ادویات دی گئی تھیں۔ سمان ہنوز نیند میں تھا جبکہ تین گھنٹے بعد فیروز کی آنکھ کھل گئی تھی۔اس کا فون بج رہاتھا۔اسی کی وائبریشن سے اس کی آنکھ کھل گئی تھی۔
اس نے اپنا فون دیکھا۔فون کی اسکرین پہ اتنے زیادہ اسکریچز کے نشان تھے کہ اسے امی کا نام پڑھنے میں بھی دشواری ہورہی تھی۔ اس کی ٹچ اسکرین بھی ٹھیک سے کام نہیں کررہی تھی۔ بار بار سوائپ کرنے کے بعد بمشکل جا کر فون ریسیو ہوا۔
”فیروز کدھر ہو؟“امی نے چھوٹتے ہی پوچھا۔
”امی میں تھوڑا مصروف ہوں۔ شام تک آجاؤں گا انشاء اللہ۔“اس نے ایکسیڈنٹ کے متعلق بتانا مناسب نہیں سمجھا۔
”ٹھیک ہے لیکن جلدی آجانا۔ تمہیں یاد ہے ناں کہ آج تمہاری بہن کو دیکھنے ایک فیملی آرہی ہے؟“امی نے طنزیہ انداز میں کہا۔
”جی امی یاد ہے۔ میں پہنچ جاؤں گا۔سات بجے وہ لوگ آئیں گے میں پونے سات تک آجاؤں گا۔“اس نے جان چھڑائی۔
’’ٹھیک ہے۔اور مٹھائی لیتے ہوئے آنا۔“امی نے یاددہانی کروائی۔
”جی ٹھیک ہے۔ اور نورہ سے کہئے گا کہ کچھ اور چاہئے تو مجھے میسیج کردے۔میں لے آؤں گا۔“اس نے فون بند کر کے رکھا پھر ایک دم اسے ھدیٰ کی یاد آئی اور اس نے فون اٹھایا تو اس کی شکل دیکھ کر ہی ٹھنڈی سانس بھر کر رہ گیا۔ ٹچ اسکرین بمشکل کام کررہی تھی۔ اس نے بہت مشکل سے ھدیٰ کا نمبر نکالا اور اس کو کال ملائی۔
تیسری بیل پہ اس نے فون اٹھالیا۔
”السلام اعلیکم بھائی کیسے ہو؟“ھدیٰ کی چہکتی آواز سنائی دی۔
”وعلیکم السلام میں ٹھیک ہوں۔ تم کیسی ہو؟اور ہماری ننھی پری کیسی ہے؟“وہ سیدھا ہوکربیٹھا۔
”ہم سب ٹھیک ہیں۔ یہ بتاؤ نورہ کو دیکھنے جو فیملی آرہی تھی وہ آگئی؟“ھدیٰ کے لہجے میں اشتیاق تھا۔
”ارے میری بہن وہ لوگ سات بجے آئیں گے۔ابھی تو تم اہم خبر سنو۔“
”آہم آہم ……“اس نے گلا کھنکھارا:”ہاں جی سنائیں اہم خبر؟“وہ ہمہ تن گوش ہوئی۔
”خیر سے آپ کے بھائی صاحب کو آپ کی بھابھی صاحبہ کے مبارک دیدار کا شرف حاصل ہوگیا ہے۔“وہ بے وجہ شوخ ہوا تھا۔
”ہائیں ……اچانک……کدھر ملی؟“
”ہاسپٹل میں۔“اس کی زبان پھسلی۔
”ہائے اللہ جی خیر……تم  ہاسپٹل کیوں پہنچے؟“تفتیش شروع ہوئی۔
”ایکسیڈنٹ ہوگیاتھا……“اس نے بے پروائی سے کہا۔
”کیسے؟“وہ چیخی تھی:”کون سے ہاسپٹل میں ہو؟ میں ابھی آتی ہوں۔“
”ریلیکس ریلیکس ھدیٰ ریلیکس……کچھ نہیں ہوا ہے مجھے معمولی خراشیں ہیں بس……چھوٹا سا ایکسیڈنٹ ہوا ہے اور کچھ نہیں۔“
”تم تو اتنے آرام سے کہہ رہے ہو کیسے کچھ بھی نہ ہوا ہو۔“وہ روہانسی ہوئی۔
”میں حقیقتاً بالکل ٹھیک ہوں مجھے کچھ بھی نہیں ہوا ہے۔ تم پریشان مت ہو۔“
”تم نے مجھے واقعی پریشان کردیاہے۔ مجھے بتاؤ تم کس ہاسپٹل میں ہو میں ابھی آتی ہوں۔“اس نے ضد کی۔
”نہیں ھدیٰ میں بس یہاں سے نکل رہاہوں گھر جاؤں گا۔ پھر گھر میں مہمان بھی آنے ہیں۔بہت کام ہیں۔“
”امی کو بتایا ہے تم نے؟“تفتیش پھر شروع ہوئی۔
”نہیں میں ان کو پریشان نہیں کرنا چاہتا تھا اس لئے ان کو نہیں بتایا۔“
”گھر جاؤ گے تو پتہ تو چل ہی جائے گا ان کو۔“
”ہاں پتہ تو چل ہی جانا ہے۔ فی الحال میں یہاں سے نکل رہاہوں پھر بات کریں گے۔“
”بھابھی کے بارے میں تو کچھ بتایا ہی نہیں تم نے؟“سوئی وہیں آاٹکی۔
ؔؔ”تم نے کچھ پوچھا ہی نہیں ……“وہ مسکرایا۔
”کیسے ملی تمہیں بھابھی؟“
”وہ یہاں نرس ہے۔ اور یہاں آکر مجھے پتہ چلا کہ وہ سمان کی بہن ہے۔“
”ارے واہ زبرست……کیا نام ہے بھابھی کا؟“وہ پرجوش ہوئی۔
”نہیں معلوم……“
”بڑا ہی عجیب سا نام ہے۔“
”ھدیٰ کی بچی……“
”اُسوہ نام ہے ھدیٰ کی بچی کا۔“
”اچھا چھوڑو ان باتوں کو میں پھر بعد میں کال کرتا ہوں میں یہاں سے ڈسچارج لے کر نکلتا ہوں۔ سمان کو بھی دیکھ لوں ذرا۔“
”چلو ٹھیک ہے اپنا خیال رکھنا۔“
وہ فون بند کر کے اٹھنے کی کوشش کرنے لگا۔ اس کے دونوں گھٹنے درد کررہے تھے۔ اس کے پاؤں میں بھی بہت درد تھا مگر اسے گھر تو پہنچنا ہی تھا۔ پہلے وہ سمان احمد کے بیڈ تک پہنچا۔ سمان ابھی تک سو رہاتھا۔اس کی ٹانگ میں فریکچر ہو گیاتھا۔ اس کی ٹانگ پہ پلاستر چڑھا دیاگیاتھا۔ وہ بہت مشکل سے ڈسچارج لے کر گھر پہنچا۔ اسے ہاسپٹل والے ڈسچارج نہیں دے رہے تھے کیونکہ اس کی حالت ایسی نہیں تھی کہ اسے چھٹی دی جائے۔ بہرحال وہ ڈسچارج لے کر گھر پہنچا تو نورہ اور امی اسے دیکھ کر پریشان ہوگئے۔ 


………………………………………………

فہیم صاحب اپنی بیوی ذوبیہ بیٹے سمیر اور بیٹی انابیہ کے ساتھ نورہ کو دیکھنے آئے تھے۔ ان کو نورہ بہت پسند آئی۔ اور انہوں نے اسی وقت رشتہ پکا کرلیا۔ اسی ہفتے کے آخر میں منگنی اور دو ماہ کے بعد شادی کی تاریخ بھی مقرر کر لی۔


………………………………………………

آدھی رات کا وقت تھا۔ وہ دوا کھا کر سویاتھا اس لئے اسے دروازے کی دھڑ دھڑا کر پیٹنے کی آواز سنائی نہیں دی۔ نورہ اور روحی نیند سے جاگ کر اس کے کمرے میں آگئیں تھیں۔اور اسے اٹھایا تھا۔
ایک بار پھر کسی نے زور سے دروازہ دھڑدھڑایا۔وہ حیرا ن ہوا۔ اس نے گھڑی کی طرف دیکھا جو تین بجارہی تھی۔
اس نے امی اور نورہ کو تسلی دی۔ اور اوپر سے جھانک کر دیکھا۔اور تعجب انگیز لہجے میں کہا:”پولیس۔“
”پولیس؟پولیس ہمارے گھر کیوں آئی ہے؟“روحی نے حیرانگی سے پوچھا۔
”میں دیکھتا ہوں آپ پریشان نہ ہوں۔“فیروز دروازے کی طرف بڑھا۔
روحی اور نورہ ایک دوسرے سے لگ کر کھڑی ہوگئی تھیں۔ وہ دونوں لاؤنج کے دروازے کی اوٹ میں کھڑی ہوئی تھیں۔
فیروز نے جیسے ہی دروازی کھولا۔ ایک پولیس والے نے کرخت آواز میں پوچھا:”اوئے تیرا ہی نام فیروز بخت ہے؟“
”جج……جی ہاں۔“اس کے منہ سے جی کا لفظ نکلتے ہی پولیس والے نے اسے گریبان سے پکڑ کر باہر گھسیٹا:”چل اوئے۔“
”لل……لیکن آپ مجھے کہاں لے کر جارہے ہیں؟“اس نے احتجاج کرنے کی کوشش کی۔
نورہ اور روحی کی چیخیں نکل گئیں۔ وہ دونوں بھاگ کر دروازے پر آئیں۔ لیکن پولیس والے نے فیروز کو گھسیٹ کر وین میں بٹھایا اور وہاں سے چل پڑے۔
اردگرد کے کئی گھروں میں روشنی ہوئی کچھ لوگ شور کی آوازیں سن کر باہر نکل آئے اور روتی ہوئی روحی اور نورہ سے فیروز اور پولیس کے متعلق استفسار کرنے لگے۔ روحی اور نورہ نے روتے روتے ان کو بتایا کہ پولیس والے بے گناہ فیروز کو پکڑ کر لے گئے ہیں۔ 
اب لوگ افسوس کا اظہار کر کے اپنے اپنے گھروں میں دبکے چلے گئے کیونکہ کوئی بھی پولیس کے پنگے میں ٹانگ اڑا کر خوامخواہ پھنسنا نہیں چاہتا تھا۔وہ رات روحی اور نورہ نے رو رو کر کانٹوں پہ گزاری۔


………………………………………………

پولیس والے اسے کالر سے تقریباً گھسیٹتے ہوئے پولیس اسٹیشن لائے اور لا کر اسے لاک اپ میں بند کردیا۔
وہ سارا رستہ اپنا قصور پوچھتا رہا مگر نقار خانے میں طوطی کی آواز بھلا کون سنتا ہے؟
لاک اپ میں اسے بند کیا گیا تو وہ سلاخوں کے ساتھ کھڑے ہوکر زور زور سے چلانے لگا:”یہ ہے تم لوگوں کا قانون؟ ایسا ہوتا ہے قانون؟ کسی کو بھی اس کے گھر سے اٹھا کر لے آؤ گے اور لاک اپ میں بند کردو گے؟ جاہل پولیس والے ہو بالکل تم لوگ۔“
”ابے چپ سالے……“ایک پولیس والے نے اپنی توند کو بیلٹ کی مدد سے اوپر کرتے ہوئے سلاخوں پہ ڈنڈا مارا:”جب سے آیا ہے تب سے ٹیں ٹیں کیے جارہاہے۔ دماغ چاٹ گیا ہے۔“
”مجھے میرا جرم بتادو میں چپ ہوجاؤں گا۔“فیروز کی آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں ……کچھ غصے کی وجہ سے ……کچھ ناانصافی کی وجہ سے……
”کیا نام ہے تیرا؟“پولیس والے کو اس پہ رحم آگیا تھا۔
”فیروز بخت۔“
پولیس والا اپنی توند سنبھالتا ایف آئی آر رجسٹر میں سے اس کے نام کی ایف آئی آر دیکھنے لگا۔پھر اس نے رجسٹر بند کر کے کہا:”بیٹا تو لمبا اندر جائے گا کیونکہ تو نے اپنے دوست کو جان سے مارنے کی کوشش کی ہے۔ اٹیمپٹ ٹو مرڈر کی ایف آئی آر ہے تیرے پہ۔“
”آپ مذاق کررہے ہیں ناں؟“وہ حقیقتاً پریشان ہوا تھا۔
”کیا ٹائم ہو اہے؟“پولیس والے نے گھڑی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس سے پوچھا۔
”چار بج رہے ہیں ……“اس کی آواز لرزی تھی۔
”تو بیٹا اس ٹائم میں مذاق نہیں کرتا۔ سمجھ آئی۔ تمہارے دوست سمان احمد نے تمہارے خلاف ایف آئی آر کٹوائی ہے کہ تم نے جان بوجھ کر اس کا ایکسیڈنٹ کروایا ہے اور اسے مارنے کی کوشش کی ہے۔“پولیس والے نے تفصیل بتاکر کرسی سنبھال لی۔
”لیکن بائیک تو وہی چلا رہاتھا۔ یہ زخم دیکھیں میرے……میں بھی تو زخمی ہوا ہوں اور میں کیوں کروں گا ایسی کوئی بھی کوشش؟ وہ دوست ہے میرا……“اس کا لہجہ بھیگ رہاتھا……لفظ ساتھ نہیں دے رہے……آواز بھی گلے میں پھنس رہی تھی۔
”ابھی میں کچھ بھی نہیں کرسکتا۔ صبح بات کریں گے۔“پولیس والے نے نرمی سے کہا۔
فیروز بخت سلاخوں کے ساتھ ٹھنڈے فرش پہ گرنے کے سے انداز میں بیٹھتا چلاگیا۔
اس کی آنکھوں سے آنسوؤں کی لڑیاں بہتی چلی جارہی تھیں۔
اسے دیکھ کر کون کہہ سکتا تھا کہ وہ بخت آور ہے……آج وہ اُس رشتے سے ہارا تھا جسے وہ ہمیشہ مقدم رکھتا آیاتھا۔


………………………………………………

اگلی صبح تایا شاد اور مجاہد اس کو دیکھنے کے لئے آئے۔ وہ ایک وکیل کو بھی ساتھ لائے تھے۔ فیروز بخت کو ضمانت پہ رہاکردیا گیا تھا۔وہ جیسے ٹوٹ سا گیاتھا۔ روحی او ر نورہ کے ساتھ گھر میں ھدیٰ بھی موجود تھی اور ننھی اُسوہ ماموں کو دیکھ کر بھاگ کر ا سکی گود میں آگئی۔خاموشی صرف اس کمرے میں ہی نہیں بلکہ ان سب کے اندر بھی گھری ہوئی تھی۔ ہر کوئی بات شروع کرنے سے ڈر رہاتھا۔ایسے میں تایا شاد گویا ہوئے:”بیٹا پریشان مت ہونا۔ وکیل صاحب کو سب کچھ سچ سچ بتا دیا ہے تم نے۔ انہوں نے کہا ہے کہ کیس بالکل کمزور ہے۔ اس کیس میں بالکل بھی جان نہیں ہے۔ سمان احمد تمہارا کچھ بھی نہیں بگاڑ پائے گا۔“
فیروز نے سر جھکا کر اثبات میں ہلایا۔ اس کی آنکھ سے ایک آنسو نکلا جسے اس نے کمال مہارت سے صاف کرلیا۔
’’جی تایا ابو۔“
اسی وقت روحی کے فون کی گھنٹی بجی۔فہیم کا فون تھا۔ روحی نے فون کان سے لگایا۔
”السلام اعلیکم……“
”وعلیکم السلام……کیا یہ سچ ہے کہ آپ کے بیٹے کو رات کو پولیس اٹھا کر لے گئی تھی؟“سخت لہجے میں کیا گیا سوال ان کا دل چیر گیا تھا۔
”جی یہ سچ ہے۔“روحی کی آواز اتنی دھیمی تھی کہ وہ خود بھی بمشکل سن پارہی تھیں۔
”اس نے اپنے دوست کو مارنے کی کوشش کیوں کی تھی؟“سوال داغا گیا۔
”اس نے ایسا کچھ نہیں کیا……“صفائی پیش کرنا بے سود تھا لیکن بہرحال دینی تو تھی ناں ……سو روحی نے کوشش کی۔
”واہ پولیس پاگل ہے؟ہے ناں؟“
”میرا بیٹا بے قصور ہے بھائی صاحب……“آنکھوں پہ باندھا گیا بند ٹوٹ گیا۔
”آپ کے بیٹے سے زیادہ بے قصور میرا بیٹا ہے اس لئے اس رشتے کو آپ ختم سمجھیں۔“
”بھا……ئی……صاحب……یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟“روحی حیران ہوئیں۔
”بالکل ٹھیک سنا آپ نے ……میرے بیٹے سمیر کو آپ معاف رکھیں۔ ہم نے آپ لوگوں کو شریف سمجھا تھا۔ لیکن آپ لوگ ……خیر اللہ حافظ۔“فہیم نے فون بند کردیاتھا۔ روحی فون کو ٹُکر ٹُکر دیکھ رہی تھی۔ اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ روئے……چیخے…… افسوس کرے……ماتم کرے……کیا کرے……ناسمجھی میں اس نے فون پہ غصہ نکالا اور فون کو زور سے زمین پہ دے مارا۔اور ہاتھ سر میں دئیے رونے لگی۔
فیروز بخت ماں کے پاس بیٹھا اور اس کو اپنے سینے سے لگالیا۔
”انہوں نے رشتہ ختم کردیا فیروز……میری بچی کا رشتہ ختم ہوگیا……“وہ روتے روتے کہتی جارہی تھیں۔
فیروز ضبط کرنے کی کوشش میں ہلکان ہوئے جارہاتھا۔
تایا شاد جانے کو اٹھ کھڑے ہوئے تو مجاہد کے ساتھ ھدیٰ بھی اٹھ کھڑی ہوئی اور اس نے اُسوہ کو گود میں لے لیا۔
”آج یہیں رک جاؤ ھدیٰ……“روحی کو اپنی آواز کہیں دور سے آتی ہوئی محسوس ہوئی۔
ھدیٰ کے قدم زنجیر ہوئے…… سب نے چونک کر روحی کو دیکھا تھا۔
”آج کچھ رشتے مر گئے ہیں توسوچ رہی ہوں کہ کچھ مرے رشتے زندہ بھی کرنے چاہئیں۔“
”امی……“ھدیٰ دوڑ کر روحی کے گلے لگ گئی۔
”میں ابو کو چھوڑ کر آتا ہوں۔“مجاہد تایا شاد کے ساتھ باہر نکل گیا۔
اس دن ان سب نے مل کر بخت آدم کو بہت یاد کیا۔ پرانی باتیں ……گلے شکوے……شکایات……رنجشیں ……سب آنسوؤں سے دھل گئیں۔یہ اس خاندان کی ری یونین تھی یعنی نیا جنم۔


………………………………………………

فیروز نے شام کے وقت سمان احمد کو فون کیا لیکن اس نے فون ریسیو نہیں کیا۔ تین چار بار کال کر کے جب فیروز تھک گیا تو سمان احمد کی کال آگئی۔ اس نے جھٹ سے فون ریسیو کیا۔
”کمینے……میں نے کبھی نہیں سوچا تھا تھا کہ تم میرے ساتھ ایسا کرو گے۔“فیروز نے دانت پیستے ہوئے کہا۔
”سوچا تو میں نے بھی کبھی نہیں تھا کہ میں تمہارے ساتھ ایسا کچھ کروں گا۔ لیکن خیر اب تو کر چکاہوں ناں ……اب یقین کرلو۔“ سمان احمد مزے سے بولا۔
”میں تمہین چھوڑوں گا نہیں۔“
”فی الحال تو میں تمہیں نہیں چھوڑنے والا۔لیکن چاہوتو چھوڑ بھی سکتا ہوں۔“
”مطلب؟“فیروزنے ناسمجھی سے پوچھا۔
”مطلب یہ میرے دوست کہ میرے کاروبار میں کچھ حصہ تمہارا بھی ہے اور میں چاہتا ہوں کہ تم اس سے دستبردار ہوجاؤ۔ ویسے بھی میں تمہیں اس سے زیادہ ہی دے چکا ہوں۔ اور محنت تو ساری میں ہی کرتا ہوں تم تو کچھ کرتے بھی نہیں ہو سوائے کمیشن کھانے کے……بھکڑ کہیں کے……“سمان کا دل تو گالی دینے کو چاہا تھا لیکن اس نے کنٹرول کیا لیکن فیروز نے بالکل کنٹرول نہیں کیا۔ اس کے منہ میں جو گالی آئی اس نے دل کھول کر سمان کو دی۔
”ہو گیا؟“سمان نے اس کے چپ ہوتے ہی پوچھا۔
”ہوا تو نہیں لیکن ابھی جو بھی کچھ میں کروں گا وہ تیرے خواب و خیال میں بھی نہیں ہوگا۔تجھے کسی بے وقوف سے پنگا لینا چاہئے تھا۔ یہ جو تو نے مجھ پہ کیس ٹھوکا ہے ناں اس کا جواب اب میں تجھے کورٹ میں دوں گا۔“
”مطلب تو کورٹ تک جانا چاہتا ہے؟“
”بالکل میں کورٹ تک جاؤں گا اور تو دیکھ میں یہ کیس تجھ پہ واپس نہ پلٹ دوں تو میرا نام بدل دینا۔“
”چل پھر ٹھیک ہے میں تیرے لئے نیا نام سوچتا ہوں تب تک۔اللہ حافظ۔“سمان نے فون بند کیا تو فیروز ے غصے سے موبائل کو بیڈ پہ دے مارا۔
اسے شدید غصہ آرہاتھالیکن وہ یہ جانتا تھا کہ یہ وقت غصے میں گنوانے کا نہیں بلکہ ہوش و حواس سے کام لینے کا ہے۔
وہ کمرے سے نکلا اور مجاہد کو ساتھ لئے باہر روانہ ہوگیا۔

………………………………………………

تین چار گھنٹے بعد وہ مجاہد کے ساتھ وکیل کے سامنے بیٹھا تھا۔ 
”نعمان صاحب آپ مجھے بتائیے کہ کیا پیش رفت ہے؟“اس نے دو ٹوک سوال کیا۔
”یہ کیس بالکل ہی بودا سا ہے۔ آپ کے دوست سمان احمد نے کچھ سوچے سمجھے بغیر ہی آپ پہ کیس کردیاہے۔ بہت ہی زیادہ کمزور کیس بنایا ہے آپ کے دوست نے اور دوسری بات یہ کہ آپ کو ثبوت بھی مل گیا ہے۔ آپ تو باعزت بری ہوجائیں گے لیکن آپ اس پہ ہتک عزت کا دعویٰ ضرور کریں ورنہ وہ دوبارہ آپ کو پھنسانے کی کوشش کرسکتا ہے۔“ وکیل ایک لمحے کیلئے رکا:”کیا آپ کو اس کے کیس کرنے کی وجہ مل گئی؟“
”جی وکیل صاحب ……دراصل میں نے اس کے ساتھ ایک رئیل اسٹیٹ کا بزنس شروع کیا تھا۔ ستر فی صد اس کا شیئر تھا اور تیس فی صد میرا۔وہ میرا تیس فی صد ہڑپنا چاہتا ہے اسی لئے اس نے یہ چال چلی ہے۔“
  ”ہوں ……اچھا ٹھیک ہے آپ کے کیس کی سنوائی ہے پرسوں کی تاریخ ملی ہے مجھے۔ اور مجھے امید ہے کہ اس کیس کو پہلی ہی پیشی میں ہم بھگتا لیں گے۔آپ پریشان مت ہوں۔“
وہ وہاں بیٹھے ہتک عزت کے متعلق استفسار کرتے رہے۔اور پھر وہاں سے گھر چلے گئے۔


 ………………………………………………

کیس کی سنوائی شروع ہوئی اور سمان احمد کے وکیل نے سرتوڑ کوشش کی کہ کسی طرح سے وہ فیروز بخت کو سزا دلوادے لیکن چونکہ فیروز کا نصیب بہت اچھاتھا اس لئے ا س کا ایکسیڈنٹ ایک ایسے روڈ پہ ہو اتھا جس پہ سی سی ٹی وی لگا ہوا تھا اور اسے سی سی ٹی وی فوٹیج بھی مل گئی تھی جس میں واضح طور پہ نظرآرہاتھا کہ سمان احمد نے جان بوجھ کر یہ ایکسیڈنٹ کروایا ہے۔یوں فیروز بخت تو باعزت بری ہوگیا لیکن ساتھ ہی جج نے سمان احمد کی کلاس لے لی۔ اور اسے ہتک عزت کے ہرجانے کے طور پہ پچاس لاکھ کی ادائیگی کا حکم سنایا۔ اس کے علاوہ سمان احمد کو دس دن کے اندر ہرجانے کے ساتھ تیس فی صد کے حساب سے جو پیسے بزنس میں فیروز بخت نے لگائے تھے وہ بھی ادا کرنے کا حکم جاری کیا۔سمان احمد نے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو گھی میں ڈبو کر سر کڑاہی میں دینے کا ارادہ کیا تھا لیکن ابھی وہ پورا کا پورا گرما گرم تیل میں گر کر جل چکا تھا۔ہرجانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں سمان کو جیل کی ہوا کھانا پڑتی ا س لئے اپنے وکیل کے مشورے پہ اس نے ہرجانے میں کمی بیشی کرنے کی درخواست کی جس کو فیروز نے تیوری پہ اچھے خاصے بل ڈال کر اور کافی منت سماجت کے بعد آخر کار قبول کر ہی لیا اور بات پچاس کے بجائے تیس لاکھ میں طے ہوگئی۔سمان احمد نے فیروز کو ا س کی انویسٹ کی ہوئی رقم کے ساتھ ساتھ تیس لاکھ ہرجانے کی رقم بھی ادا کر دی۔ سمان احمد نے یہ سب تو کردیا لیکن اس نے پیسوں کے چکر میں ایک اچھا دوست کھو دیا۔وہ واقعی بد بخت تھا……اور فیروز بخت اپنے نام کی طرح بختاور تھا اس کی ایک دشمن نما دوست سے جان چھوٹ گئی تھی۔

 ………………………………………………

بہت دنوں بعد وہ آفس سے نکلنے میں لیٹ ہواتھا۔ آج اُسوہ کی سالگرہ تھی اور اس کی نانی پہلی بار اس کی سالگرہ منا رہی تھیں۔ اسے راستے سے اس کے لئے اچھا سا گفٹ بھی لینا تھا۔ اور وہ لیٹ ہوچکاتھا۔
سگنل پہ گاڑی رکی تو ا سکی نظر بے اختیار میرون چادرسے لپٹی قنوت پہ پڑی جو معمول کے مطابق روڈ کراس کررہی تھی۔ وہ بے اختیار اسے بس دیکھتا ہی رہ گیا۔ وہ کوئی ناکام عاشق نہیں تھا……نہ ہی وہ مجنوں تھا……اور یہ ہی وہ لڑکی لیلیٰ تھی……لیکن کوئی طاقت تھی جو بار بار اس لڑکی کو اس کے سامنے لے آتی تھی……وہ انے دل کی بے اختیاری پہ حیران ہوجاتا تھا……اس کا دل جیسے کوئی بیٹ مِس کردیتا تھا۔ وہ بے قرار ہوکر اسے بس یک ٹک دیکھتا رہتا تھا۔ 
قنوت نے دوڑ کراس کرتے ہوئے اچانک اس کی طرف دیکھاتھا……اور پھر وہ اس کی جانب آنے لگی۔ وہ حیرت سے منہ کھولے اس کی پیش قدمی کو دیکھتا رہا۔وہ ڈرائیونگ سیٹ کی طرف آرہی تھی۔وہ بس اسے دیکھے جارہاتھا۔ وہ اس کی گاڑی کے پاس آکر رک گئی اور اشارے سے اسے آگے آنے کا کہا۔ ابھی وہ گاڑی سے اترنے کا سوچ ہی رہاتھا کہ اس کے برابر سے ایک بائیک ذرا سی آگے ہوئی اور قنوت اس پہ بیٹھ گئی۔ وہ سو فی صد سمان احمد تھا……سمان کو دیکھ کر اس کا خون کھول اٹھا۔ وہ غصے سے مٹھیاں بھینچتا ہوا سگنل کے کھلنے کا انتظار کرنے لگا۔ سگنل کھلا تو سمان احمد کی بائیک سیدھی جانے لگی تو فیروز نے جان بوجھ کر یوٹرن لے لیا۔ وہ اسے کیا اُس کی پیٹھ کو بھی نہیں دیکھنا چاہتا تھا۔

 ………………………………………………

”تم نے کیا سوچا ہے پھر؟“
”کس بارے میں؟“
”اسی لڑکی کی بارے میں بھائی۔“ھدیٰ غصہ ہوئی۔
”مجھے کسی لڑکی کے بارے میں نہیں سوچنا۔“
”ایسے کیسے نہیں سوچنا؟“
”تم لوگ کوئی لڑکی دیکھ لو مجھے کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔“
”کیا مطلب کوئی اور لڑکی؟“
”وہ سمان احمد کی بہن ہے ھدیٰ اور میں اس دھوکے باز شخص کی شکل بھی دیکھنا پسند نہیں کرتا تو اس کی بہن سے شادی کیسے کرسکتا ہوں؟“وہ غصے سے اٹھ کھڑا ہواتھا۔
”لیکن اس سارے قصے میں اس کی بہن کا تو کوئی قصور نہیں ہے ناں؟“
”تم قصور کی بات کرتی ہو۔ اسے تو کچھ معلوم ہی نہیں ہے۔ وہ تو یہ بھی نہیں جانتی کہ میں ایگزسٹ بھی کرتا ہوں یا نہیں۔“اس نے ٹھنڈی سانس بھر تے ہوئے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرا۔
”تو اس کو بتاؤ ناں؟“ھدیٰ نے زور دیا۔
”میں پاگل نہیں ہوں۔“وہ غصے سے کہتا واک آؤٹ کرگیاتھا۔
ھدیٰ نے روحی سے بات کرنے کی ٹھان لی تھی۔
………………………………………………
ھدیٰ نے روحی اور نورہ سے بات کی تو روحی بولیں:”بیٹا تم جانتی ہو ناں کہ اس لڑکے نے ہم سب کو کس قدر پریشانی میں مبتلا کردیاتھا۔“
”امی میں جانتی ہوں لیکن کیا آپ جانتی ہیں کہ فیروز اس کی بہن کو پسند کرتا ہے۔“
”بیٹا سب باتیں اپنی جگہ ٹھیک ہیں لیکن کیا گارنٹی ہے کہ وہ دوبارہ ایسی حرکت نہیں کرے گا؟“
کوئی گارنٹی نہیں ہے امی۔“ھدیٰ نے ڈھیلے پڑتے ہوئے کہا۔
”امی ایک بار بات کرکے دیکھ لیتے ہیں۔ شاید بھائی کے نصیب میں وہی لڑکی لکھی ہو۔“نورہ نے تجویز دی۔
روحی نے پہلے نورہ اور پھر ھدیٰ کو دیکھا پھر ایک بار سمان احمد کے گھر جانے کی حامی بھرلی۔


 ………………………………………………

وہ تینوں سمان احمد کو بتائے بغیر ہی سمان احمد کے گھر آگئیں تھیں۔مجاہد کو انہوں نے اعتماد میں لے لیاتھا لیکن وہ بھی سمان احمد کے گھر جانے کے حق میں نہیں تھا۔ لیکن روحی کی وجہ سے خاموش ہوگیا۔
جویرہ سے جب ان لوگوں نے اپنا تعارف کروایا تو وہ ایک دم خاموش ہوگئی۔ اس نے ان لوگوں کو گھر میں بٹھایا اور بس ان کو دیکھنے لگی۔ جب روحی نے اپنی آمد کا مقصد بتایا تو وہ سوچ میں پڑ گئی۔اس نے کہا کہ وہ سمان سے بات کرے گی۔ وہ تینوں بمشکل دس منٹ بیٹھ کرواپس آگئیں۔واپسی میں تینوں بالکل خاموش تھیں۔ ھدیٰ اور مجاہد ان کو گھر چھوڑ کر اپنے گھر چلے گئے۔ کسی نے اس سلسلے میں کوئی بات نہ کی……دس منٹ کے اس طویل وقفے نے سب کو سب کچھ سمجھا دیاتھا۔

 ………………………………………………

تین دن بعد سمان احمد اور جویرہ فیروز کے گھر آئے تھے۔فیروز نے دروازہ کھولا تو سمان کو دیکھ کر پہلے حیران ہوا پھر اسے ایک دم غصہ آگیا۔
”کیوں آئے ہو یہاں؟“
”نہ سلام نہ دعا بس غصہ؟“سمان نے مصافحہ کے لئے ہاتھ آگے کیا۔فیروز نے اس سے ہاتھ نہیں ملایا بلکل ہاتھ سینے پہ لپیٹ لئے۔
”میری وائف آنٹی سے ملنے آئی ہے۔“سمان نے ہاتھ پیچھے کرتے ہوئے جویرہ کی طرف اشارہ کیا۔
فیروز نے دروازہ چھوڑ کر جویرہ کو اندر آنے کی جگہ دی اور خود وہیں سمان کے سامنے کھڑا رہا۔
ایک گھنٹے تک وہ دونوں یونہی ایک دوسرے کے آمنے سامنے کھڑے رہے۔ جویرہ واپس آئی اور سمان احمد کے ساتھ واپس چلی گئی۔فیروز نے غصے سے دروازہ بند کیا اور روحی کے سامنے آکھڑا ہوا:”سمان احمد کی بیوی آپ سے ملنے کیوں آئی تھی؟“
”بیٹا مبارک ہو ان کو تمہارا رشتہ قبول ہے۔“روحی نے چینی کے چند دانے اس کے منہ میں ٹھونسے۔ اس نے بمشکل چینی کے دانوں کو منہ سے گرنے سے بچایا۔وہ حیران تھا:”کیا مطلب؟میرا رشتہ؟“
”بیٹا ہم نے تمہیں بتایانہیں تھا۔تین دن پہلے ہم سمان کے گھر گئے تھے……“
”مجھے بتائے بغیر؟“اس نے روحی کی بات کاٹی……
”تمہیں بتاتے تو تم کبھی بھی جانے نہ دیتے۔اور دیکھو جو ہوتا ہے اچھے کے لئے ہی ہوتا ہے۔ سمان کو تمہاری یہی عادت بھا گئی۔“
”کون سی عادت؟“
”سمان کی بیوی بتا رہی تھی کہ سمان نے کہا کہ اتنا سب ہونے کے باوجود اگر فیروز کی فیملی رشتہ لے کے آئی ہے تو اس کا مطلب یہی ہے کہ فیروز کا دل بہت بڑا ہے اور اس میں معاف کردینے کی صلاحیتیں کوٹ کوٹ کربھری ہوئی ہیں۔ اسے تمہاری یہ ادا بھاگئی بیٹا۔“
”لیکن آپ کو میں نے تو نہیں بھیجا تھا۔“اس کی سوئی وہیں اٹکی ہوئی تھی۔
”لیکن یہ سمان کو تو نہیں پتہ ناں ……“روحی نے دوبدو جواب دیا۔
”بھائی چھوڑو ناں ان سب باتوں کو یہ بتاؤ کہ تمہیں خوشی ہوئی یا نہیں؟“نورہ نے فیروز کے کندھے پہ ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا۔
”پتہ نہیں ……میں خود کو عجیب سے احساسات میں گھرا ہوا محسوس کررہاہوں۔سمان میرے بارے میں طرح سے سوچے گا یہ میں نے کبھی نہیں سوچا تھا۔ یہ ایک چھوٹا سا قدم جو میری لاعلمی میں آپ لوگوں نے اٹھایا وہ چھوٹا سا قدم میرا قد اس کی نظروں میں اتنا اونچا کردے گا یہ مجھے پتہ نہیں تھا……وہ لڑکی کیا سوچتی ہے میں اس کے بارے میں نہیں سوچ رہا……مجھے صرف سمان کی ہی فکر تھی……نہ مجھ میں اس کا سامنا کرنے کی ہمت تھی نہ ہی خواہش تھی……اور اب ایسا لگ رہاہے کہ میری فیملی نے مجھے اس کی نظروں میں معتبر بنا دیاہے……جبھی ……جبھی وہ پورا ایک گھنٹہ میرے سامنے ……میرے بالکل سامنے کھڑا مسکراتا رہا……اوہ میرے خدا……“اس نے کہتے کہتے اپنا سر دونوں ہاتھوں سے تھام لیا۔
”بیٹا ……بھول جاؤ پرانی باتوں کو……زندگی تمہیں ایک موقع دے رہی ہے نئے سرے سے شروعات کرو۔نئے سلسلے شروع کرو……نئی ابتدا کرو بیٹا۔“
”میں اسے کال کرتا ہوں امی۔“فیروز کہتا ہوااپنے کمرے کی طرف دوڑا۔
”اور میں ھدیٰ کو بتاتی ہوں جا کر۔“نورہ بھی اپنے کمرے کی طرف لپکی۔
”اور میں جا کر اپنے رب کے حضور شکرانے کے نوافل ادا کرتی ہوں۔“روحی بھی کہتی ہوئی مسکراتی ہوئی اپنے کمرے کی طرف چل پڑیں۔

 ………………………………………………
ختم شد
 ………………………………………………

اس ناول کو پی ڈی ایف میں ڈائونلوڈ کرنے کے لئے یہاں کلک کریں۔






اہل علم حضرات قلمی چوری سے پرہیز کریں۔
 کاپی پیسٹ کی اجازت نہیں ہے۔

Comments

Post a Comment

Popular posts from this blog

Wo merey dil ka malal hay by Saira Ghaffar Complete Online Urdu Novel

Wo merey dil ka malal hay  By Saira Ghaffar  Complete Online Urdu Novel وہ میرے دل کاملال ہے (سائرہ غفار) قسط نمبر 1 ”مج……مجھ……جھ……ے……ے……ے……بچ……چا……لل……وووو……“اس کی آواز اُسے صاف سنائی دے رہی تھی۔  وہ اس کے سامنے کھڑی ا س کی ابلتی ہوئی آنکھیں دیکھ رہی تھی۔ وہ دیکھ رہی تھی کہ کیسے اس کی بہن تڑپ تڑپ کر منہ سے خون کی الٹیاں کررہی ہے۔ وہ دیکھ رہی تھی ……صاف……اور واضح……اسے دکھائی دے رہاتھا……سب کچھ……ایک دم صاف ……ایک ایک چیز اسے نظر آرہی تھی……اسے وہ میرون اور گولڈن چوڑیاں بیڈ سے ٹکرا کر ٹوٹتی ہوئی نظر آرہی تھیں جو اس نے خو داس کے ساتھ جا کر پسند کروائیں تھیں۔ ”دیکھو ذرا……یہ چوڑیاں میرے لہنگے کے ساتھ کیسی لگیں گی؟“ ”بہت پیاری……تم یہی لینا۔“ اس کے سامنے وہی چوڑیاں اس کی کلائی میں پیوست ہوتی جارہی تھیں۔وہ درد کے مارے تڑپ کر کبھی اِدھر گر رہی تھی تو کبھی اُدھر۔ اس سب میں اس کی جیولری ہر طرف سے بے ترتیب ہورہی تھی۔ اس کا نیکلس گردن میں پھندا ڈال رہاتھا۔یہ تنگ نیکلس بھی اُسی نے پسند کروایا تھا۔ ”یہ لمبا نیکلس مت لو……اچھا نہیں لگے گا……کوئی چھوٹے سائز کا لو……جو گ...

Phantosmia (EP 3) By Saira Ghaffar Complete Online Urdu Novel

Phantosmia By   Saira Ghaffar   Complete Online Urdu Novel فینٹوسمیا (سائرہ غفار) قسط نمبر 3 ”یہ تم کیا کرتی رہتی ہو ہروقت؟ کیا فالتو کے اخبار پھاڑ پھاڑ کر پھول بنا کر ان گملوں میں سجاتی رہتی ہو؟“دلاور کے جانے کے بعد سارا نزلہ معصوم سی کائنات پہ گرنے لگاتھا۔ کائنات نے سہم کر ماں کو دیکھا جو جارحانہ انداز میں کاغذ کے پھولوں سے سجے گملوں کی طرف پیش قدمی کر رہی تھی۔ کائنات نے ایک دم سامنے آکر ماں کو روک دیا:”امی یہ میرے پھول ہیں پلیز ان کو کچھ مت کریں۔“ ”فالتو کام تم دونوں باپ بیٹی کے شوق ہیں۔ بیکار اور فضول کاموں میں اپنا وقت برباد کرتے رہتے ہو۔ جاؤدفع ہوجاؤ یہاں سے۔“شاہدہ نے غصے سے بیٹی کو دھکا دیا۔ اور خود دوسرے کمرے میں چلی گئیں۔ کائنات نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ اس کے پھول اور گملے بچ گئے ورنہ شاہدہ کے غصے سے وہ خود بھی واقف تھی۔ وہ پھر سے اپنے محبوب مشغلے یعنی اخبار اور مختلف کترنوں سے پھول بنانے میں نئے سرے سے جت گئی۔ ………………………… دلاور گھر واپس آیا تو گیٹ پہ اس کی ملاقات شہزاد اور اس کی فیملی سے ہوگئی۔ شہزاد اور دلاور سلام دعا کرنے لگے تو طوبیٰ چا...

Phantosmia (EP 11) By Saira Ghaffar Complete Online Urdu Novel

Phantosmia By   Saira Ghaffar   Complete Online Urdu Novel فینٹوسمیا (سائرہ غفار) قسط نمبر 11 چند دن بعد وہ لوگ رپورٹس لے کر دوبارہ ڈاکٹرشانزے کے پاس پہنچے۔ڈاکٹر نے تمام رپورٹس چیک کرنے کے بعد ان کو خوش خبر ی سنائی۔ ”سب کچھ بالکل پرفیکٹ ہے۔ میرا ڈر صرف وہم تھا۔ “ ”ڈاکٹر کیا آپ ہمیں بتا سکتی ہیں کہ آپ کو کیا وہم تھا؟“کائنات نے پہلی بار سوال کیا تھا۔ ”جی بالکل بیٹا میں بتا سکتی ہوں ……دراصل یہ جو مسئلہ آپ کے ساتھ ہے آپ کو مختلف اچھی بری قسم کی بو محسوس ہوتی ہے۔ یہ اصل میں فینٹوسمیا کہلاتی ہے۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کا کوئی مستقل علاج نہیں ہے۔ اصل میں یہ مسئلہ بذات خود کوئی مسئلہ نہیں بلکہ یہ ایک علامتی مسئلہ ہے۔ جن لوگوں کو یہ بو محسوس ہونے کی شکایت رہتی ہے ان کو ایک یا پھر دونوں نتھنوں سے بو محسوس ہوتی ہے۔ یہ برین ٹیومر کی نشاندہی ہوتی ہے۔“ڈاکٹرسانس لینے کو رکی۔ ”برین ٹیومر؟“شاہدہ اور دلاور ایک دم پریشان ہوگئے تو ڈاکٹر شانزے نے مسکرا کر ان کو دیکھا:”آپ لوگ شکر کریں کہ آپ کی بیٹی کا ایم آر آئی بالکل کلئیر اور بالکل صاف ہے۔ اسے صرف فینٹوسمیا ہے۔ جو کہ کچ...