Phantosmia
By Saira Ghaffar
Complete Online Urdu Novel
فینٹوسمیا
(سائرہ غفار)
قسط نمبر 10
”بابا وہ آدمی مجھے بالکل اچھا نہیں لگ رہاتھا۔ میں وہاں علاج نہیں کرواؤں گی۔میں کوشش کروں گی کہ رات کو نہ چیخوں۔“کائنات کے معصومانہ لہجے پہ دلاور نے اسے چپ کروایا:”بس بیٹا بس۔ میں خود تمہارا علاج کرواؤں گا۔ تم فکر مت کرو۔اور آئندہ آپ کی امی آپ کو کیں بھی لے کر جائیں تو پہلے مجھے بتانا۔ میری اجازت کے بغیر وہ آپ کو کہیں نہیں لے جاسکتیں۔ٹھیک ہے بیٹا؟“
کائنات نے مسکرا کر اثبات میں سر ہلایا تو دلاور نے اس کا پھول دیکھا۔
”اس میں خوش بو ہے کیا؟“
”نہیں بابا خوشبو نہیں ہے۔ لیکن مجھے یقین ہے کہ آجائے گی۔“
دلاور نے اس کے یقین کو مسکرا کرسراہا:”چلو ایسا کرو کہ مجھے پھول بنانا سکھاؤ۔“
کائنات ایک دم پرجوش ہو کر دلاور کو پھول بنانا سکھانے لگی۔ دلاور کوشش کررہاتھا لیکن وہ ہر بار کوئی نہ کوئی غلطی کردیتا تھا۔ آخر چوتھی کوشش کے بعد وہ پھول بنانے میں کامیاب ہوہی گیا۔
کائنات نے اسکے بنائے ہوئے پھول کو گملے میں لگا لیا اور اس کو سونگھا تو ایک دم چلا اٹھی:”بابا ……بابا……اس میں تو خوشبو ہے بابا۔بہت ہی پیاری سی خوشبو ہے بابا۔“
”سچ مچ؟“دلاور خوش ہوگیا۔
وہ سارا دن کائنات اس پھول کو گملے سمیت ساتھ ساتھ لئے پھر رہی تھی۔ وہ آج بہت خوش تھی۔اور اسے خوش دیکھ کر دلاور نے ایک فیصلہ کیا کہ وہ کائنات کو عمرے کروانے لے جائے شاید اللہ اپنے دربار میں اسے اچھا کردے۔
…………………………
اس بیماری کے ساتھ لڑتے لڑتے اب انہیں بہت وقت ہوچکاتھا۔
کائنات کو کہیں سے کوئی فائدہ نہیں ہو رہاتھا۔
کائنات اب انیس سال کی ہوچکی تھی اور اس کے لئے پہلا رشتہ آیاتھا۔
یہ رشتہ دلاور کے کسی دوست کے سالے کی فیملی سے آیاتھا۔ان کی چھوٹی سی فیملی تھی دو بیٹے تھے اور وہ ایک چھوٹی فیملی میں ہی رشتہ کرنا چاہتے تھے۔ ان کا بیٹا انجینئر تھا۔
کائنات آنٹی کے سامنے ٹرے لے کر آئی۔ ان کو کائنات بہت پسند آئی۔
”ماشاء اللہ بہت ہی پیاری بچی ہے۔ ادھر آؤ میرے پاس بیٹھو بیٹا۔“
کائنات جیسے ہی ان کے ساتھ بیٹھی۔ ایک بدبو کا بھبھکا سا اس کی ناک کے نتھنوں سے ٹکرایا اور اسے ابکائی آنے لگی۔ وہ اپنا سر پکڑ کر دوڑتی ہوئی کمرے میں چلی گئی۔
”کیا ہوا ہے؟ طبیعت تو ٹھیک ہے ناں اس کی؟“خاتون نے پریشانی سے پوچھا۔
”جی بس تھوڑی طبیعت خراب ہے۔میں دیکھتی ہوں۔“شاہدہ پیچھے پہنچی تو وہ اپنے کمرے میں سر پکڑے زور زور سے چلانے لگی:”امی میں مر جاؤں گی۔ بہت گندی بدبو آرہی ہے۔ امی بابا پلیز میں مر جاؤں گی۔“
دلاور سمیت سبھی مہمان بھی اگلے دو منٹ کے اندر اندر کائنات کے کمرے میں موجود تھے۔
”آپ کی بیٹی پاگل ہے کیا؟یہاں تو کوئی بو نہیں ہے۔نہ خوشبو ہے نہ بدبو ہے۔“خاتون نے ایک دم کہا تو شاہدہ نے ان کو غصے سے دیکھا۔
”میری بیٹی پاگل نہیں ہے۔“دلاور نے غصے کو کنٹرول کرتے ہوئے کہا۔ تو مہمان بڑبڑاتے ہوئے نکل گئے۔
اس دن شاہدہ پھوٹ پھوٹ کر روئی تھی۔
ان کی اکلوتی بیٹی تھی اور نہ وہ ا سکو اچھی تعلیم دلوا پائے تھے نہ ہی وہ اس کا اچھے گھر میں رشتہ کرپارہے تھے۔ عجیب بے بسی کا دور تھا۔
…………………………
ٓ”دیکھئے میں نے چیک اپ کر لیا ہے۔ گھبرانے کی کوئی بات نہیں ہے۔یہ بیماری فینٹوسمیا کہلاتی ہے۔اس میں ناک کے ایک یا پھر دونوں نتھنوں میں سے بو کی ہیلوسینیشن ہوتی ہیں۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ خوشبو یا بدبو وہیں کہیں موجود ہے لیکن وہ وہاں نہیں ہوتی۔ میں آپ کو کچھ ٹیسٹ لکھ کر دیتی ہوں۔ آپ وہ ٹیسٹ کروالیں۔اس کے علاوہ آپ کو بچی کا ایم آر آئی بھی کروانا ہوگا۔ کیونکہ یہ کچھ بیماریوں کی ابتدائی علامت بھی ہوسکتی ہے۔ انشا ء اللہ سب بہتر ہوجائے گا۔“ڈاکٹرشانزے نے رائٹنگ پیڈ کھولتے ہوئے کہا۔
”مطلب؟ کیسی بیماری؟“دلاور نے ایک دم پریشانی سے پوچھا۔
”دیکھیں ہر بڑی بیماری کی چند ابتدائی علامات ہوتی ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ یہ علامت ہو اور ہو بھی سکتا ہے کہ نہ ہو۔ اس لئے ہم محض اپنی تسلی کے لئے ایم آرآئی کروائیں گے۔ ورنہ سب کچھ ٹھیک رہا توپھر ہمیں سائیکاٹرسٹ کے سیشن سے سب کور کرلینا ہوگا۔“
”سائیکاٹرسٹ؟“شاہدہ نے پریشانی سے پوچھا۔
”آپ لوگ پریشان نہ ہوں۔ آپ لوگ ٹیسٹ اور ایم آر آئی کروالیں پھر ہم رپورٹس دیکھ کر تسلی سے بات کریں گے۔ انشاء اللہ کائنات بالکل ٹھیک ہوجائے گی۔“
وہ لوگ وہاں سے سیدھے لیبارٹری جا پہنچے اور ٹیسٹ کروا کر طویل تھکا دینے والے دن کے بعد شام دیر سے گھر پہنچے۔
…………………………
”امی بدبو سے میرا سر پھٹا جارہاہے……مجھے سڑے ہوئے انڈے جیسی بدبو آرہی ہے پلیز کچھ کریں ورنہ میرا سر پھٹ جائے گا۔“کائنات اپنا سر پکڑے ماں کے پاس دہائی لے کے آئی تھی۔
”تم لیٹو میں تمہاری ناک میں نیزل اسپرے لگاتی ہوں۔“وہ تیزی سے ٹی وی کو ریموٹ سے آف کرتے ہوئے اسے لئے ا سکے کمرے میں آ پہنچیں اور اسے لٹا کر اس کی ناک میں نیزل اسپرے لگایا۔ اسے وقتی طور پر آرام آگیاتھا لیکن وہ جانتی تھیں کہ یہ آرام عارضی ہے اورتھوڑی ہی دیر بعد وہ دوبارہ سے اس بدبو سے چلانے لگے گی۔
یہ نیزل اسپرے ڈاکٹر شانزے نے اسے عارضی استعمال کے لئے دیا تھا۔ مستقل استعمال والا اسپرے تو رپورٹس آنے کے بعد ہی وہ دیتیں۔
شاہدہ کو لگنے لگاتھا کہ بدبو نے ان کی زندگی کا احاطہ کرلیا ہے اور آہستہ آہستہ وہ بھی اس بدبو کے عادی ہوگئے ہیں۔ نہ محسوس انداز میں انہیں بھی یہ بدبو محسوس ہونے لگی تھی۔
………………………………

Comments
Post a Comment