Skip to main content

Phantosmia (EP 8) By Saira Ghaffar Complete Online Urdu Novel

Phantosmia

By Saira Ghaffar 

Complete Online Urdu Novel


فینٹوسمیا

(سائرہ غفار)


قسط نمبر 8

”کیا کہا انہوں نے؟“ ”کہنا کیا ہے ……اسکول سے نکال دیا ہے۔ ٹی سی دے دی ہے۔“ دلاور نے گہری سانس خارج کی:”کوشش کرو کہ امتحان دینے دیں۔“ ”میں نے بہت کہا لیکن وہ نہیں مانے……ان کا کہنا ہے کہ اور بچے کائنات سے ……خوف کھانے لگے ہیں۔“ دلاور نے ایک بار پھر شاہدہ کو دیکھا تھا اور پھر چھت کے کسی غیر مرئی نکتے پہ نظر جما لی تھی۔ ”یہ چوتھا اسکول تھا دلاور……میں نے رابعہ سے پوچھاتھا۔ اس کی بیٹی سرکاری اسکول میں پڑھتی ہے۔وہ کل پوچھ کر بتائی گی اگر وہ صرف امتحان میں بیٹھنے دیں اور رزلٹ دے دیں تو کائنات کا سال ضائع ہونے سے بچ جائے گا۔ نویں اور دسویں جماعت اسے پرائیوٹ پڑھالیں گے۔“ ”میں صاحب حیثیت ہوتے ہوئے بھی اپنی بچی کو تعلیم نہیں دلا پارہاہوں۔کیسا بد نصیب باپ ہوں میں۔“دلاور کی آواز بھرا گئی تھی لیکن اس نے خود پہ قابو رکھا ہواتھا۔ شاہدہ نے اسے اندھیرے میں غور سے دیکھا۔ وہ مزید کچھ کہنا چاہتی تھی لیکن الفاظ اس کے منہ میں ہی رہ گئے۔ ………………………… اگلے روز دلاور کے آفس جانے کے بعد شاہدہ گھر کے چھوٹے موٹے کام نمٹا رہی تھی تو ماسی آگئی۔ ماسی نے اِدھر اُدھر دیکھ کر رازدارانہ انداز میں شاہدہ سے پوچھا:”باجی آپ نے بھائی جی سے پوچھا؟“ ”نہیں ماسی میری ہمت ہی نہیں ہوئی پوچھنے کی۔“شاہدہ نے تھکے تھکے لہجے میں کہا اور کرسی پہ ڈھے سی گئی۔ ”باجی میں آپ کو بتا رہی ہوں کہ پیر صاحب بہت ہی پہنچے ہوئے ہیں۔ آپ ایک بار میرے ساتھ چلو تو سہی۔ آپ ان کی کرامات اپنی آنکھوں سے دیکھ لو گے۔“ ”نہیں میرا دل نہیں مانتا ……“ ”ارے باجی چھوڑو دل ول کو……میں بتارہی ہوں ناں ایسی بہت بچیاں آتی ہیں وہاں۔ کئیوں کو جن چمٹے ہوتے ہیں۔ آپ چلو گی تو آپ خود جن کو اپنے سامنے بچی کی جان چھوڑتے دیکھ لو گی۔“ شاہدہ سوچ میں ڈوب گئی تھی۔ ”باجی زیادہ سوچو نہیں۔ اپنی پھول سی بچی کو دیکھو پھر فیصلہ کر لو۔“ماسی نے زور دیتے ہوئے کہا۔ ”میں کائنات کو کہیں بھی دلاور کی مرضی کے بغیر نہیں لے جاسکتی۔ مجھے ان سے پوچھنا ہوگا پہلے۔“ ”ارے تو پوچھو ناں۔ پیر صاحب بڑے کراماتی ہیں۔ میرا بیٹا نشہ کرتا تھا ناں تو پیر صاحب نے تعویذ لکھ کر دیاتھا۔ دو تعویذ پینے سے ہی میرا بیٹا سدھر گیاتھا۔اور کیا میں کوئی جھوٹ بولتی ہوں۔“ماسی نے جھاڑو دیتے دیتے کانوں کو ہاتھ لگائے۔ شاہدہ دل ہی دل میں ارادہ کرچکی تھی کہ کائنات کو پیر صاحب کے پاس ضرور لے کر جائے گی لیکن دلاور سے اجازت لینا ایک مسئلہ تھا۔ اس نے ماسی کی مسلسل گردان سے جان چھڑانے کے لئے ہامی بھر لی تھی لیکن جہاں اتنے ڈاکٹر حکیم وغیرہ کو دکھایا تھا وہاں وہ ایک بار پیر صاحب کے پاس بھی جانا چاہتی تھی۔ وو سوچ میں پڑ گئی کہ کیسے دلاور سے بات کرے کہ وہ جھٹ سے مان جائے۔ ………………………… وہ تینوں ایک مشہور سے ای این ٹی اسپیشلسٹ کے کلینک میں موجود تھے۔ کائنات کی روز بروز بڑھتی ہوئی شکایات کی وجہ سے وہ لوگ آج ای این ٹی کے پاس آئے تھے۔ اس ای این ٹی ڈاکٹر کی دلاور نے خوب تعریفیں سن رکھی تھیں۔ ای این ٹی ڈاکٹر نے کائنات کی شکایت سنی اور اسے ایک نیزل اسپرے لکھ کر دے دیا اور بتایا کہ فکر کرنے کی کوئی بات نہیں ہے بچے عموماً ایسی شکایات کرتے ہیں ان کی عمر میں یہ سب باتیں ہونا عام سی بات ہے۔ کائنات بالکل ٹھیک ہوجائے گی۔ وہ لوگ گھر آگئے اور شاہدہ روزانہ رات کو سونے سے پہلے کائنات کی ناک میں نیزل اسپرے کے چند قطرے ٹپکانے لگی۔ چند دن کے بعد کائنات کی شکایت دگنی ہوگئی۔ ………………………… آدھی رات کا وقت تھا سب مزے سے سو رہے تھے کہ اچانک سے کائنات کی چیخوں سے شاہدہ اور دلاور کی آنکھ کھل گئی۔ ”امی امی امی……ابو ابو……ہائے اللہ میں مر گئی امی……امی میں مرگئی……“وہ اپنا سر پکڑے درد سے دہری ہوئی جارہی تھی۔جمیلہ اور دلاور دونوں دوڑتے ہوئے اس کے پاس آئے۔ ”کیا ہوا میرا بچہ؟ کیا ہوا؟“دلاور نے کائنات کو اپنے سینے سے لگاتے ہوئے پچکارتے ہوئے پوچھا۔ ”کیا ہوا ہے بیٹا؟ کچھ تو بتاؤ؟‘‘ شاہدہ کی فکرمندی بھی عروج پہ تھی۔ ”میرا سر……میرا سر پھٹ جائے گا ……بہت درد ہورہاہے امی ……ابو بہت درد ہورہاہے ……اور بہت گندی بدبو آرہی ہے…… بہت ہی گندی بدبو ہے ابو……امی……بدبو کو ختم کردو نا ں پلیز……میرا سر……ہائے……اللہ جی میں مرجاؤں گی……میں مر جاؤں گی……“اس کی چیخیں ہذیانی چیخوں میں تبدیل ہوگئی تھیں۔ اسی وقت زور زور سے دروازہ کھٹکھٹایا جانے لگا۔اور محلے داروں کی آوازیں آنا شروع ہوگئیں۔
پچھلی قسط                                       اگلی قسط

Comments

Post a Comment

Popular posts from this blog

Wo merey dil ka malal hay by Saira Ghaffar Complete Online Urdu Novel

Wo merey dil ka malal hay  By Saira Ghaffar  Complete Online Urdu Novel وہ میرے دل کاملال ہے (سائرہ غفار) قسط نمبر 1 ”مج……مجھ……جھ……ے……ے……ے……بچ……چا……لل……وووو……“اس کی آواز اُسے صاف سنائی دے رہی تھی۔  وہ اس کے سامنے کھڑی ا س کی ابلتی ہوئی آنکھیں دیکھ رہی تھی۔ وہ دیکھ رہی تھی کہ کیسے اس کی بہن تڑپ تڑپ کر منہ سے خون کی الٹیاں کررہی ہے۔ وہ دیکھ رہی تھی ……صاف……اور واضح……اسے دکھائی دے رہاتھا……سب کچھ……ایک دم صاف ……ایک ایک چیز اسے نظر آرہی تھی……اسے وہ میرون اور گولڈن چوڑیاں بیڈ سے ٹکرا کر ٹوٹتی ہوئی نظر آرہی تھیں جو اس نے خو داس کے ساتھ جا کر پسند کروائیں تھیں۔ ”دیکھو ذرا……یہ چوڑیاں میرے لہنگے کے ساتھ کیسی لگیں گی؟“ ”بہت پیاری……تم یہی لینا۔“ اس کے سامنے وہی چوڑیاں اس کی کلائی میں پیوست ہوتی جارہی تھیں۔وہ درد کے مارے تڑپ کر کبھی اِدھر گر رہی تھی تو کبھی اُدھر۔ اس سب میں اس کی جیولری ہر طرف سے بے ترتیب ہورہی تھی۔ اس کا نیکلس گردن میں پھندا ڈال رہاتھا۔یہ تنگ نیکلس بھی اُسی نے پسند کروایا تھا۔ ”یہ لمبا نیکلس مت لو……اچھا نہیں لگے گا……کوئی چھوٹے سائز کا لو……جو گ...

Adhoora Main Mukamal Tum By Saira Ghaffar Complete Online Urdu Novel

Adhoora Main Mukamal Tum  By  Saira Ghaffar Complete Online Urdu Novel ادھورا میں ۔۔۔ مکمل تُم (سائرہ غفار) فیروز بخت کو آج دیر ہوگئی تھی۔اور اگر دیر نہ ہوتی تو وہ اسے کبھی بھی نہ دیکھ پاتا۔ وہ اپنی سرخ ہوتی آنکھوں کو بار بار ہاتھ کی پشت سے صاف کرتے ہوئے زیبرا کراسنگ پہ سے گزر رہی تھی۔ فیروز بخت کا دھیان اس کی شکل و صورت پہ گیا ہی نہیں ……اس نے نوٹس ہی نہیں کیا کہ وہ خوب صورت ہے یا نہیں ……وہ صرف جاننا چاہتا تھا کہ وہ روکیوں رہی ہے؟اسے کون سا مسئلہ ہے؟ وہ محض اس کی سرخ ہوتی آنکھوں کو نوٹس کررہاتھا۔ وہ اس کی گاڑی کے سامنے سے گزری اور فیروز بخت کی نظریں اسے دوسری طرف سڑک کراس کر کے ٹریفک کے جمگھٹے میں غائب ہوتے دیکھتی رہیں۔وہ اسے تب تک دیکھتا رہا جب تک وہ نظر آتی رہی۔ اس کے غائب ہوتے ہی سگنل بھی گرین ہوگیا اور وہ سر جھٹک کر ایک گہری سانس خارج کرتا گاڑی کو آگے بڑھا گیا۔ ……………………………………………… ”یار میں اس دوٹکے کی نوکری سے تنگ آگیا ہوں۔سوچ رہاہوں کہ کوئی کاروبار سیٹ کرلوں۔ تیرا کیا خیال ہے؟“ سمان احمد نے فیروز سے پوچھاتھا۔ ”اچھا اور نیک خیال ہے۔“فیروز بخ...

Phantosmia (EP 3) By Saira Ghaffar Complete Online Urdu Novel

Phantosmia By   Saira Ghaffar   Complete Online Urdu Novel فینٹوسمیا (سائرہ غفار) قسط نمبر 3 ”یہ تم کیا کرتی رہتی ہو ہروقت؟ کیا فالتو کے اخبار پھاڑ پھاڑ کر پھول بنا کر ان گملوں میں سجاتی رہتی ہو؟“دلاور کے جانے کے بعد سارا نزلہ معصوم سی کائنات پہ گرنے لگاتھا۔ کائنات نے سہم کر ماں کو دیکھا جو جارحانہ انداز میں کاغذ کے پھولوں سے سجے گملوں کی طرف پیش قدمی کر رہی تھی۔ کائنات نے ایک دم سامنے آکر ماں کو روک دیا:”امی یہ میرے پھول ہیں پلیز ان کو کچھ مت کریں۔“ ”فالتو کام تم دونوں باپ بیٹی کے شوق ہیں۔ بیکار اور فضول کاموں میں اپنا وقت برباد کرتے رہتے ہو۔ جاؤدفع ہوجاؤ یہاں سے۔“شاہدہ نے غصے سے بیٹی کو دھکا دیا۔ اور خود دوسرے کمرے میں چلی گئیں۔ کائنات نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ اس کے پھول اور گملے بچ گئے ورنہ شاہدہ کے غصے سے وہ خود بھی واقف تھی۔ وہ پھر سے اپنے محبوب مشغلے یعنی اخبار اور مختلف کترنوں سے پھول بنانے میں نئے سرے سے جت گئی۔ ………………………… دلاور گھر واپس آیا تو گیٹ پہ اس کی ملاقات شہزاد اور اس کی فیملی سے ہوگئی۔ شہزاد اور دلاور سلام دعا کرنے لگے تو طوبیٰ چا...