Phantosmia
By Saira Ghaffar
Complete Online Urdu Novel
فینٹوسمیا
(سائرہ غفار)
قسط نمبر 7
”اچھا چلو چھوڑو اٹھو سو جاؤ تھوڑی دیر کے لئے۔ میرے سر میں بھی بہت درد ہورہاہے۔“دلاور اسے اٹھا کر بیڈ تک لے کر آیا۔
”بابا حارم کہاں چلا گیا؟“
”اپنے نانا کے گھر۔“
”آپ کو اس کے نانا کا ایڈریس پتہ ہے؟“
”کیوں؟“
”کیونکہ وہ مجھے اوریگامی سے بننے والی چیزیں سکھاتا ہے ناں اس لئے۔“
”بیٹا وہ آپ کو اسکول میں ملے گا تو سیکھ لینا۔“
”اوہ ہاں۔ میں وہاں سیکھ لوں گی۔“
”میرا پیارا بیٹا کائنات؟“
”جی بابا؟“
”اب سو جاؤ بیٹا بابا کے سر میں درد ہورہاہے ناں۔“
”اوکے بابا میں آپ کا سر دبا دیتی ہوں۔“وہ اپنے ننھے منے ہاتھوں سے دلاور کا ر دبانے لگی۔
دلاور نے اس کے دونوں ہاتھ چومے اور اسے اپنے سینے سے لگالیا۔تھوڑی دیر میں دونوں خراٹے لینے لگے تھے۔
…………………………
رات کو جب مخدوم شاہ کی فیملی گھر لوٹی تو طوبیٰ حارم کو نیند سے اٹھا کر دوڑتی ہوئی اپنے گھر گئی۔ سبینہ آنٹی اسے اس کے گھر کے گیٹ تک چھوڑنے آئیں تھی۔ وہ سچ مچ بہت زیادہ فکر مند تھیں۔
طوبیٰ گھر آئی تو جیسے خود کو محفوظ سمجھنے لگی۔
ماں باپ کی چھاؤں بھی قسمت والوں کو ہی نصیب ہوتی ہے۔ حارم تو آتے ہی نانی کی گود میں چھپ کر سو گیا۔ طوبیٰ نے خود پہ گزری تمام باتیں سب کو بتائیں تو سب شاک رہ گئے۔
مخدوم شاہ تو سکتے میں ہی آگئے کہ ان کی بیٹی کا بسا بسایا گھر ایسے پل بھر میں اجڑ بھی سکتا ہے۔
انہوں نے بہت صبر کا مظاہرہ کیا اور طوبیٰ کے سر پہ ہاتھ رکھا:”بیٹا بہتا ن باندھنا بہت بڑا گناہ ہے اور اللہ اسی دنیا میں دکھا دیتا ہے۔ سب کچھ دکھا دیتا ہے۔ تم صبر کرو۔بس ……حارم میری ذمہ داری ہے۔“
”بابا۔“
”جی بیٹا؟“
”میں حارم کا نام بدلنا چاہتی ہوں۔ کیا میں اسے آپ کا نام دے سکتی ہوں؟“وہ روتے ہوئے پوچھ رہی تھی:”اس شخص نے مجھ پہ اتنا بڑا الزام لگایا ہے۔ میں اپنے بچے کے نام کے ساتھ اس کا نام نہیں لکھنا چاہتی۔“
”ٹھیک ہے بیٹا۔ نیا نام سوچا ہے تم نے؟“
”جی……“
”کیا نام سوچا ہے بیٹا؟“آسیہ شاہ نے پوچھا۔
”مکرم شاہ۔میرا بیٹا عزت دار ہے اور رہے گا۔ چاہے کوئی اس کے بارے میں کچھ بھی بولے۔ لیکن میرا بیٹا مکرم ہے۔اور مکرم ہی رہے گا۔“ طوبیٰ نے مستحکم لہجے میں کہا تھا۔
”ٹھیک ہے بیٹا۔ میں نام بدلوا دوں گا۔ اور ولدیت بھی۔“
طوبیٰ نے اپنی زندگی کے لئے نئی ترتیب اور لائحہ عمل سوچنا شروع کردیاتھا۔ اسے اپنے بیٹے کو ایک بہتر زندگی دینے کے ساتھ ساتھ اس کی شخصیت میں در آنے والے خلا بھی پُر کرنے تھے۔ اسے ان تمام ممکنہ سوالوں کے لئے خود کو تیار رکھنا تھا جو اس کے خیال میں حارم کے ننھے سے ذہن میں آسکتے ہیں۔
اسے اپنے بیٹے کی تربیت ایسی کرنی تھی کہ وہ سب لوگوں میں ممتاز نظرا ٓئے اور ہر کوئی اسے مکرم ہی سمجھے۔
…………………………
طوبیٰ کو طلاق دینے کے ایک ہفتے کے اندر اندر شہزاد نے و ہ گھر خالی کر دیا۔ وہ کہاں گیا کسی کو علم نہیں تھا۔ نہ وہ کسی سے ملا نہ کسی کو کچھ بتایا۔سامان لوڈ کراتے ہوئے اسے لوگوں نے دیکھا تو معلوم ہوا کہ وہ گھر چھوڑ کر جارہاہے۔
دلاور آفس آتے جاتے ہوئے سامنے والے گیٹ کو دیکھتا تو اسے اپنے اندر ایک شور محسوس ہوتا تھا کہ وہ اس سارے فساد کی جڑ تھا۔
اس کے دل میں کتنے ہی ”کاش“ سر اٹھاتے تھے
کاش وہ کسی طر ح سے جمیلہ کی زبان روک لیتا تو آج یہ سب نہ ہوتا۔
کاش وہ شہزاد کے منہ پہ ہاتھ رکھ لیتا تو وہ طوبیٰ کو طلاق نہ دے پاتا۔
کاش وہ پائپ ٹھیک کر نے کے لئے شہزاد کے گھر نہ جاتا۔
کاش وہ اس گھر میں رہائش پذیر نہ ہوتا۔
کاش وہ شہزاد اور طوبیٰ کا پڑوسی نہ ہوتا۔
کاش وہ اپنے پڑوسیوں سے میل جول نہ رکھتا۔
کاش وہ ……کاش وہ منحوس دن کبھی آتا ہی نہیں۔
اس دن کے بغیر ہی سال مکمل ہوجاتا تو کسی کا کیا بگڑ جاتا؟
وہ ایسے ہی سارا سارا دن سوچوں واہموں وسوسوں میں ڈوبا رہتا……طوبیٰ کی بربادی کا مکمل ذمہ دار وہ خود کو ہی گردانتا تھا۔
اس سارے فسانے میں اس کی مسلسل ایسی سوچوں نے اسے ہارٹ پرابلم کا تحفہ دیاتھا جسے اس نے خندہ پیشانی سے قبول کیا تھا۔ آخر کو اس دنیا میں سزا بھگت لینا دوسری دنیا کی سزا بھگت لینے کی نسبت فائدے کا ہی سودہ ہوتا ہے۔
…………………………
کائنات کو اب ہر چیز سے بدبو آنے لگی تھی۔وہ ہر چیز میں بدبو کی شکایت کرتی تھی۔
”امی میرے کپڑے نہیں دھوئے کیا؟ ان میں سے انڈے کی بو آرہی ہے۔“شاہدہ نے اس کے کپڑے چیک کئے بالکل ٹھیک تھے کوئی بو نہیں تھی۔
”امی کھانے میں کیا ڈالا ہے؟ مجھے بدبو آرہی ہے۔میں نے نہیں کھانا۔“شاہدہ نے دلاور کو دیکھا اور سر جھکا کر کھانا کھانے لگی۔
”امی یہ کیسا شیمپو لے کر آئی ہیں آپ؟ اتنی گندی بدبو کہ میرا تو دماغ پھٹنے لگا ہے۔ میں اس شیمپو کو استعمال نہیں کروں گی۔“
”امی یہ کیسا صابن ہے میں ہاتھ دھوتی ہوں اور میرے ہاتھوں سے پھر سے بدبو نہیں جاتی۔ اتنی گندی بدبو آتی ہے کہ کیا بتاؤں۔“
وہ راتوں کو چیختی۔ شاہدہ اور دلاور دوڑے دوڑے اس کے کمرے میں جاتے اور وہ ہسٹریائی انداز میں چیخ چیخ کر آسمان سر پہ اٹھا لیتی۔ وہ اپنا آپا کھو دیتی تھی۔ شاہدہ کبھی کبھی رو پڑتی تھی۔ کتنے ڈاکٹر تھے جو انہوں نے بدل لئے تھے لیکن کائنات کو کسی طور چین اور آرام نہیں مل رہاتھا۔
شاہدہ اور دلاور کو لگنے لگاتھا کہ کیسے کائنات پاگل ہو چکی ہے۔
…………………………
کمرے میں گھپ اندھیرا تھا۔ بالکنی کا پردہ ہوا سے ہٹتا توچودھویں کے چاند کی روشنی سے تھوڑی دیر کے لئے کمرے میں اجالا پھیل جاتا۔
دلاور بیڈ پہ لیٹا چھت کو گھورے جارہاتھا۔
شاہدہ کچن کا کام نمٹا کر دوپٹے سے ہاتھ پونچھتی ہوئی کمرے میں آئی اور بیڈ کے دوسری طرف بیٹھ گئی۔
”اس کے اسکول سے پھر شکایت آئی تھی۔“شاہدہ کی آواز خود بخود دھیمی ہوگئی تھی۔
دلاور نے اسے دیکھا۔ وہ دونوں پینتیس سال کی عمر میں ہی بوڑھے لگنے لگے تھے۔ دلاور کے کندھے جھک سے گئے تھے۔

Comments
Post a Comment