Skip to main content

Phantosmia (EP 12) By Saira Ghaffar Complete Online Urdu Novel

Phantosmia

By Saira Ghaffar 

Complete Online Urdu Novel


فینٹوسمیا

(سائرہ غفار)


قسط نمبر 12

عمرے کے روح پرور منازل طے کرتے کرتے کائنات جیسے بھلی چنگی ہوگئی تھی۔ وہ ایسی ہلکی پھلکی ہوگئی تھی جیسے ہوا ؤں میں اڑ رہی ہو۔ اس کے چہرے کی رونق لوٹ آئی تھی۔ وہ بے حد خوب صورت ہوگئی تھی۔ اکیس دنوں میں ایک بار بھی اسے بدبو کا دورہ نہیں پڑا نہ ہی اسے ایک بھی بار نیزل اسپرے کی ضرورت محسوس ہوئی۔ وہ آب زمزم پیتی۔ اس سے منہ دھوتی اور ناک میں چند قطرے ٹپکاتی۔ اس کی تو جیسے عید ہی ہوگئی تھی۔ دلاور اور شاہدہ کو بیٹی کو خوش باش دیکھ کر جیسے نئی زندگی مل گئی تھی۔ اکیس دنوں کے بعد جب وہ لوگ لوٹے تو جیسے نئے لوگ ہو گئے تھے……ان میں پرانی والی تو کوئی بات ہی نہیں بچی تھی۔ کائنات کی بیماری جیسے ختم ہی ہوگئی تھی۔ وہ لوگ بھول ہی گئے تھے کہ کائنات کو کوئی مسئلہ بھی ہے۔ عمرے سے واپس آئے ان کو تین ماہ ہوچکے تھے اور یہ تین ماہ جیسے پر لگا کر اڑ گئے تھے۔ پچھلے ہفتے ہی کائنات کالج میں اپنا داخلہ کروا کر آئی تھی اور دس دن بعد اس کی کلاسیں شروع ہونے والی تھیں۔ وہ روزانہ کم از کم دس بار اپنا یونیفارم نکال کر دیکھتی پھر پہن کر چیک کرتی کہ کہیں سے کوئی مسئلہ تو نہیں ہے۔ پھر خوش ہوتی پھر استری کرتی اور دوباری الماری میں رکھ دیتی۔ ایسے ہی معمول کے کام نپٹاتے ہوئے اس نے اپنا کالج کا بیگ ایک بار پھر کھولا تو ایک تیز بدبو کا جھونکا اس کی ناک سے ٹکرایا اور اس سے چیخ مار کر بیگ دور پھینک دیا۔ شاہدہ دوڑتی ہوئی آئی:”کیا ہوا کائنات؟“ کائنات چیخے جارہی تھی کیونکہ بدبو کا دروہ اتنا شدید تھا کہ اس کا سر پھٹنے جیسا ہوگیاتھا۔ شاہدہ نے بڑی مشکل سے اس کا نیزل اسپرے ڈھونڈا اور ا سکے ناک میں اسپرے کیا لیکن اس کا اثر چند منٹوں بعد غائب ہوگیا۔ وہ پھر سے چیخنے لگی۔ شاہدہ نے دوسرا اسپرے نکالا اور وہ ناک میں اسپرے کیا۔ اس کا بھی اثر محض چند منٹ رہا پھر غائب ہوگیا۔ وہ دوبارہ سے چیخنے لگی۔ شاہدہ نے اس کو اسپرے دیا کہ وہ بار بار اسپرے کرے۔ کائنات ہر تھوڑی دیر بعد اپنی ناک میں اسپرے کررہی تھی۔ اس کا سر درد کے مارے پھٹ رہاتھا۔ اور ناک مسلسل دبائے رکھنے کی وجہ سے سرخ ہوچکی تھی۔ وہ تھک چکی تھی لیکن بدبو کا حملہ ابھی تک جاری تھا۔ شاہدہ نے دلاور کو فون کر کے فوراً گھر آنے کو کہا۔ دلاور ایک گھنٹے میں گھر پہنچا۔ تب تک کائنات تھک کر نیم غنودگی کی کیفیت میں جاچکی تھی۔ دلاور اور شاہدہ سر پکڑ کر بیٹھ گئے۔ ان کو لگا تھا کہ اس منحوس بیماری نے ان کا پیچھا چھوڑ دیاہے لیکن یہ تو اب بھی موجود تھی……پورے طمطراق کے ساتھ……پوری شدت کے ساتھ……اپنے وجود کو منوانے کے لئے……اس نے دوبارہ اپنی موجودگی کا اعلان کیا تھا۔دلاور ڈاکٹر شانزے کا نمبر ڈھونڈنے لگا۔ اس نے کائنات کی فائل نکالی اور ڈاکٹر کو کال ملائی اور اگلے ہی دن کا اپائنٹمنٹ لے لیا۔ ………………………… اگلے دن وہ لوگ ڈاکٹر شانزے کے سامنے بیٹھے تھے۔ کائنات ڈری سہمی ہاتھ میں نیزل اسپرے پکڑے بیٹھی تھی کہ جیسے ہی کوئی بدبو محسوس ہو فوراً سے اسپرے کرسکے۔ ڈاکٹر نے ان کو تاسف سے دیکھا تھا:”میں نے کہا تھا کہ اس بیماری کا کوئی بھی مستقل علاج نہیں ہے۔ آپ کو جو طریقہ بتایا آپ نے اس پہ عمل نہیں کیا۔آپ بچی کو چیک اپ کے لئے نہیں لا رہے، نیزل اسپرے بند کردئیے اور اب آپ بتا رہے ہیں کہ سائیکاٹرسٹ کے سیشن بھی نہیں کروائے؟“ ”ہمیں لگا کہ مسئلہ ٹھیک ہوگیا ہے۔“دلاور نے دھیمی آواز میں کہا۔ ”دیکھیں آپ لوگ پڑھے لکھے ہو کر سیدھی اور صاف انسٹرکشن نہیں سمجھتے تو پھر ہم کیا کریں؟ میں نے صاف بتایا تھا کہ اس بیماری کا کوئی مستقل علاج نہیں ہے۔ لیکن کم ہوسکتی ہے۔ ہوسکتا ہے کہ ختم ہوجائے لیکن اس طرح علاج چھوڑ دینے سے بیماری اپنی موت آپ تو نہیں مر جائے گی ناں؟“ ”سوری ڈاکٹر……پلیز آپ کچھ کریں ہم لگ بہت ڈر گئے ہیں۔ اگلے چند دن بعد کائنات کی کلاسیں بھی شروع ہونے والی ہیں۔“شاہدہ نے بتایا تو ڈاکٹر نے غصے سے ان کو دیکھا:”میں بتا دوں گی تو کون سا آپ لوگوں نے عمل کرلینا ہے؟ کرنی تو آپ نے پھر بھی اپنی ہی ہے۔“ ”پلیز ڈاکٹر……آپ جیسا کہیں گی میں بالکل ویسا ہی کروں گی۔ پلیز مجھے کالج جانا ہے پڑھائی کرنی ہے……پلیز……“کائنات رونے لگی تو ڈاکٹر نے کہا:”میرے غصے کو دل پہ مت لو بیٹا۔ آپ لوگ کچھ بھی کرتے رہیں میں اپنا فرض پورا کروں گی۔ ابھی میں نیزل اسپرے بدل رہی ہوں۔ یہ والے نیزل اسپرے باقاعدگی کے ساتھ استعمال کرو اور کچھ دوائیں بھی ہیں۔ اس کے علاوہ سائیکا ٹرسٹ سے بھی ملنا ہوگا۔“ ڈاکٹر نے غصے سے کہا تو دلاور نے شاہدہ کو دیکھا جو سر جھکائے بیٹھی تھی۔ وہ لوگ وہاں سے سیدھے سائیکاٹرسٹ کے پاس پہنچے۔ لیکن اس کے نمبر ختم ہوچکے تھے۔ اس لئے اگلے دن کا نمبر لے کر وہ لوگ وہاں سے گھر واپس آگئے۔ ………………………… وہ تینوں اگلے دن سائیکاٹرسٹ کے کلینک میں پہنچے۔ اور اپنی باری آنے پہ اندر چلے گئے۔محمد مکرم علی نامی سائیکاٹرسٹ کے روم میں جب وہ پہنچے تو دلاور نے دیکھا کہ وہ ایک نوجوان ڈاکٹر ہے اسے لگا کہ یہ ڈاکٹر تو تجربے کار ہی نہیں ہے یہ کیسے اس کا علاج کرے گا۔ اس کا روم کافی بڑا تھا۔ اس کے کمرے میں بہت سارا سامان تھا۔ کھلونے تھے……کچھ پزل تھے……کافی ساری پینٹنگز تھیں ……بلیک بورڈ اور ہائٹ بورڈ بھی تھا۔ایزی چیئر تھی……سائیڈ میں ایک بیڈ تھا……اور سامنے اس کی ٹیبل تھی جس پہ صرف ایک گلدان تھا اور اس گلدان میں کاغذ کے پھول تھے۔ کائنات نے بیٹھتے ہی کاغذ کے پھول سونگھے ……وہی بچپن والی بھینی بھینی خوشبو اس کے نتھنوں سے ٹکرائی……
پچھلی قسط                                   اگلی قسط

Comments

Popular posts from this blog

Wo merey dil ka malal hay by Saira Ghaffar Complete Online Urdu Novel

Wo merey dil ka malal hay  By Saira Ghaffar  Complete Online Urdu Novel وہ میرے دل کاملال ہے (سائرہ غفار) قسط نمبر 1 ”مج……مجھ……جھ……ے……ے……ے……بچ……چا……لل……وووو……“اس کی آواز اُسے صاف سنائی دے رہی تھی۔  وہ اس کے سامنے کھڑی ا س کی ابلتی ہوئی آنکھیں دیکھ رہی تھی۔ وہ دیکھ رہی تھی کہ کیسے اس کی بہن تڑپ تڑپ کر منہ سے خون کی الٹیاں کررہی ہے۔ وہ دیکھ رہی تھی ……صاف……اور واضح……اسے دکھائی دے رہاتھا……سب کچھ……ایک دم صاف ……ایک ایک چیز اسے نظر آرہی تھی……اسے وہ میرون اور گولڈن چوڑیاں بیڈ سے ٹکرا کر ٹوٹتی ہوئی نظر آرہی تھیں جو اس نے خو داس کے ساتھ جا کر پسند کروائیں تھیں۔ ”دیکھو ذرا……یہ چوڑیاں میرے لہنگے کے ساتھ کیسی لگیں گی؟“ ”بہت پیاری……تم یہی لینا۔“ اس کے سامنے وہی چوڑیاں اس کی کلائی میں پیوست ہوتی جارہی تھیں۔وہ درد کے مارے تڑپ کر کبھی اِدھر گر رہی تھی تو کبھی اُدھر۔ اس سب میں اس کی جیولری ہر طرف سے بے ترتیب ہورہی تھی۔ اس کا نیکلس گردن میں پھندا ڈال رہاتھا۔یہ تنگ نیکلس بھی اُسی نے پسند کروایا تھا۔ ”یہ لمبا نیکلس مت لو……اچھا نہیں لگے گا……کوئی چھوٹے سائز کا لو……جو گ...

Phantosmia (EP 3) By Saira Ghaffar Complete Online Urdu Novel

Phantosmia By   Saira Ghaffar   Complete Online Urdu Novel فینٹوسمیا (سائرہ غفار) قسط نمبر 3 ”یہ تم کیا کرتی رہتی ہو ہروقت؟ کیا فالتو کے اخبار پھاڑ پھاڑ کر پھول بنا کر ان گملوں میں سجاتی رہتی ہو؟“دلاور کے جانے کے بعد سارا نزلہ معصوم سی کائنات پہ گرنے لگاتھا۔ کائنات نے سہم کر ماں کو دیکھا جو جارحانہ انداز میں کاغذ کے پھولوں سے سجے گملوں کی طرف پیش قدمی کر رہی تھی۔ کائنات نے ایک دم سامنے آکر ماں کو روک دیا:”امی یہ میرے پھول ہیں پلیز ان کو کچھ مت کریں۔“ ”فالتو کام تم دونوں باپ بیٹی کے شوق ہیں۔ بیکار اور فضول کاموں میں اپنا وقت برباد کرتے رہتے ہو۔ جاؤدفع ہوجاؤ یہاں سے۔“شاہدہ نے غصے سے بیٹی کو دھکا دیا۔ اور خود دوسرے کمرے میں چلی گئیں۔ کائنات نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ اس کے پھول اور گملے بچ گئے ورنہ شاہدہ کے غصے سے وہ خود بھی واقف تھی۔ وہ پھر سے اپنے محبوب مشغلے یعنی اخبار اور مختلف کترنوں سے پھول بنانے میں نئے سرے سے جت گئی۔ ………………………… دلاور گھر واپس آیا تو گیٹ پہ اس کی ملاقات شہزاد اور اس کی فیملی سے ہوگئی۔ شہزاد اور دلاور سلام دعا کرنے لگے تو طوبیٰ چا...

Phantosmia (EP 11) By Saira Ghaffar Complete Online Urdu Novel

Phantosmia By   Saira Ghaffar   Complete Online Urdu Novel فینٹوسمیا (سائرہ غفار) قسط نمبر 11 چند دن بعد وہ لوگ رپورٹس لے کر دوبارہ ڈاکٹرشانزے کے پاس پہنچے۔ڈاکٹر نے تمام رپورٹس چیک کرنے کے بعد ان کو خوش خبر ی سنائی۔ ”سب کچھ بالکل پرفیکٹ ہے۔ میرا ڈر صرف وہم تھا۔ “ ”ڈاکٹر کیا آپ ہمیں بتا سکتی ہیں کہ آپ کو کیا وہم تھا؟“کائنات نے پہلی بار سوال کیا تھا۔ ”جی بالکل بیٹا میں بتا سکتی ہوں ……دراصل یہ جو مسئلہ آپ کے ساتھ ہے آپ کو مختلف اچھی بری قسم کی بو محسوس ہوتی ہے۔ یہ اصل میں فینٹوسمیا کہلاتی ہے۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کا کوئی مستقل علاج نہیں ہے۔ اصل میں یہ مسئلہ بذات خود کوئی مسئلہ نہیں بلکہ یہ ایک علامتی مسئلہ ہے۔ جن لوگوں کو یہ بو محسوس ہونے کی شکایت رہتی ہے ان کو ایک یا پھر دونوں نتھنوں سے بو محسوس ہوتی ہے۔ یہ برین ٹیومر کی نشاندہی ہوتی ہے۔“ڈاکٹرسانس لینے کو رکی۔ ”برین ٹیومر؟“شاہدہ اور دلاور ایک دم پریشان ہوگئے تو ڈاکٹر شانزے نے مسکرا کر ان کو دیکھا:”آپ لوگ شکر کریں کہ آپ کی بیٹی کا ایم آر آئی بالکل کلئیر اور بالکل صاف ہے۔ اسے صرف فینٹوسمیا ہے۔ جو کہ کچ...