Skip to main content

Phantosmia (EP 6) By Saira Ghaffar Complete Online Urdu Novel

Phantosmia

By Saira Ghaffar 

Complete Online Urdu Novel


فینٹوسمیا

(سائرہ غفار)


قسط نمبر 6

”تمہیں طلاق نامہ پہنچا دوں گا۔ چلی جاؤ اب یہاں سے ورنہ میں اتنی بے عزتی کروں گا کہ لوگ تھوکیں گے تمہاری جیسی بے وفا اور دغاباز عورت پہ۔اس کی بیوی ٹھیک ہی کہتی تھی۔“آخر میں اس نے دلاور کی طرف دیکھا تھا۔شک کا عفریت انسان کو واقعی کھا جاتا ہے۔ طوبیٰ نے کھڑے ہونے کی کوشش کی لیکن وہ کامیاب نہیں ہوپائی۔ اس نے حارم کا سہارا لیا اور اپنے مسلسل بہنے والے آنسوؤں کو صاف کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کھڑی ہوگئی۔ شہزاد نے اسے دیکھا پھر حارم کو دیکھا۔ ”اس لڑکے کو بھی ساتھ لے کر جانا۔ پتہ نہیں یہ میری اولاد ہے بھی کہ نہیں۔“ شہزاد نے تیزی سے گھر کے اندر جا کر دھڑام سے دروازہ بند کرلیا۔شہزاد کی حارم کے بارے میں کہی گئی بات سن کر تو طوبیٰ ایک دم سے سناٹے میں ہی آگئی۔ طوبیٰ نے تعجب سے حارم کو دیکھا تھا جس کی آنکھوں میں حیرت تھی……آنسو تھے…… اور کئی سارے سوال بھی تھی……اس کا ننھا ذہن اس سارے قصے کو سمجھنے سے قاصر تھا……وہ مسلسل ایک سے دوسرے چہرے کو تکے جارہاتھا……جیسے پہلی بار دیکھ رہاہو……وہ حالات کو سمجھنے کی کوشش میں ہلکان ہورہاتھا…… طوبیٰ نے اس کو روتے ہوئے اپنے سینے سے لگا لیااور شکوہ کناں نظروں سے آسمان کو دیکھا تھا……جب اس کی نظر نیچے زمین کی طرف آرہی تھی تب اس کی نظر ایک لمحے کے لئے شاہدہ کے گھر کی گیلری پہ پڑی جہاں وہ عورت جو اس کی تباہی و بربادی کی ذمہ دار تھی بڑے مزے سے کھڑی تھی جیسے کوئی من پسند ٹی وی شو دیکھ رہی ہو۔ طوبیٰ نے حارم کو سینے سے لگاتے ہوئے گلی کے باہر کا رخ کیا۔ حارم نے سب لوگوں کو ایک نظر باری باری دیکھا۔ کئی لوگ رو رہے تھے۔ افسوس کررہے تھے۔ لیکن حارم کی نظر ان نگاہوں کی چمک پر ٹہر گئیں جہاں روشنی کی قندیلیں پھوٹی پڑ رہی تھیں۔ وہ شاہدہ کی آنکھوں کی چمک دیکھ کر حیران تھا۔ اس کے چہرے پہ اس نے ایک عجیب سے مسکراہٹ کو دیکھا جیسے اس نے کوئی جنگ جیت لی ہو۔ حارم ان آنکھوں کو تب تک مڑ کر دیکھتا رہا جب تک وہ لوگ گلی سے باہر نہیں نکل گئے۔ انہوں نے ایک رکشہ کر لیاتھا۔ وہ اپنے نانا کے گھر جارہاتھا۔ اس کے ذہن میں ان حسد کی ماری آنکھوں کی روشنی بہت سے سوال پیدا کررہی تھی لیکن ان سوالوں کے جواب اس کی عمر اس وقت قبول ہی نہ کرتی سوسوال کرنا ہی فضول تھا۔ وہ چپ چاپ اپنی روتی ہوئی ماں کو دیکھتا رہا۔ رکشے والا بھی شیشے میں سے بار بار طوبیٰ کے آنسو دیکھ رہاتھا لیکن اس نے کوئی سوال نہیں کیا۔ اور آخر کار رکشہ حارم کے نانا مخدوم علی کے گھر کے سامنے آکر رک گیا۔ طوبیٰ نے کرایہ ادا کیا اور وہیں لاک گھر کی سیڑھیوں پہ حارم کے ساتھ بیٹھ گئی۔ ………………………… دروازہ پہ دستک ہوئی تو وہ بیزاری کے عالم میں دروازہ کھولنے پہنچا۔ضامن کو پائپ اور پانے ہاتھ میں لئے کھڑا دیکھ کر اس نے نظروں سے ہی سوال کرڈالا۔ ”وہ پائپ ٹھیک کر رہے تھے ہم لوگ۔“ ”چل اندر آ دکھا مجھے کون سا پائپ ٹھیک کر رہے تھے تم لوگ؟“ شہزاد نے اسے غصے سے کہا تو ضامن اس کے ساتھ اندر آیا۔ وہ ابھی تک گیٹ کے پاس برآمدے میں ہی بیٹھا ہوا تھا۔ وہ گھر کے اندر گیا ہی نہیں تھا۔ گھر کے اندر واش روم کا پانی بہہ بہہ کر برا حال ہوگیاتھا۔ اس کے پیر پانی میں ڈوب رہے تھے۔ وہ ضامن کے پیچھے پیچھے واش روم میں گیا تو دیکھا پائپ کو بڑی مشکل سے باندھ کر درست کیا گیا ہے۔ اسی لمحے ضامن کا فون بجا تو وہ فون سننے لگا۔ پھر اس نے شہزاد کو بتایا کہ پلمبر آگیا ہے۔ ضامن جا کر پلمبر کو لے آیا۔ ضامن مسلسل بول رہاتھا۔ اور وہ غائب دماغی سے سن رہاتھا……لیکن وہ سمجھنا نہیں چاہتا تھا…… لیکن حقیقت کو وہ بدل بھی تو نہیں سکتا تھا۔ ”باجی تو صبح سے باہر کھڑی تھی…… میں اور دلاور بھائی کب سے پائپ ٹھیک کر رہے تھے اور دوکان بند تھی۔ پلمبر کو بڑی مشکل سے پکڑا ہے۔ بس اچھا ہی ہے کام ہوجائے ایک بار تو مسئلہ نہیں ہوگا۔ اور پلمبر بھائی تم نے نمبر بدل لیا تو بتانا تو چاہئے نا۔ ایمرجنسی کیس میں ہم کدھر سے پلمبر لائیں گے۔پتہ ہے باجی نے چھوٹے بچے کے ساتھ صبح سے تین چکر لگائے تھے۔ویسے شہزاد بھائی باجی کہاں ہیں؟ ان سے کہیں بس اب بے فکر ہو جائیں کام ہوگیا۔“ ضامن پیسے لے کر پلمبر کے ساتھ روانہ ہوگیا۔ شہزاد نے دروازہ بند کیا اور وہیں دروازے کے ساتھ ہی بیٹھتا چلا گیا۔ اس نے شک کے عفریت کے سامنے اپنا آشیانہ ٹرے میں سجا کر پیش کیا تھا تو اس نے تو جھٹ سے نگلنا ہی تھا۔وہ دونوں ہاتھوں سے سر پکڑے زور زور سے اپنا سر زمین پہ مار رہاتھا اور دھاڑیں مار مار کر رو رہاتھا لیکن نہ کوئی اس کی آہ و بقا سننے والا موجود تھا اور نہ ہی کوئی کاندھا اسے میسر تھا جس پہ سر رکھ کر وہ بقائمی ہوش و حواس کئے گئے گناہ کا اقرار کر کے اپنا دل ہلکا کرسکے۔ ………………………… وہ دو گھنٹے تک وہیں بیٹھے رہے بالکل خاموش چپ چاپ……حارم کو ایسا محسوس ہوا جیسے طوبیٰ کی سانس رک گئی ہے۔ اس نے ایک دم سے طوبیٰ کو جھنجھوڑا……جو ایک ہی پوزیشن میں بیٹھی تھی بالکل چپ……آنسو بھی ختم ہوگئے تھے……ماتم بھی رک گیاتھا……طوبیٰ نے ایک دم سے حارم کو دیکھا۔ اسے احساس ہوا کہ حارم کو کسی چیز کی ضرورت ہوسکتی ہے:”تمہیں ……بھوک لگی ہے؟“ حارم نے دائیں بائیں سر ہلا کر نہ کی۔ ”نانا لوگ حیدرآباد گئے ہیں۔ رات تک آجائیں گے۔ تب تک ہم یہیں ان کا انتظار کر تے ہیں۔“ حارم نے سر ہلا کر ہاں کہا۔ ”تم اپنے لئے کچھ کھانے کو لے آؤ۔ وہ سامنے دکان ہے۔ میں یہیں بیٹھی ہوں۔“ حارم نے نہ کرنے کے انداز میں سر ہلایا۔ ”باتھ روم جانا ہے؟“طوبیٰ نے اس کی ٹھوڑی پکڑ کر پوچھا تو اس نے فوراً سر جھکا لیا کیسے چوری پکڑی گئی ہو۔ ”اوکے چلو سبینہ آنٹی کے گھر چلتے ہیں۔“وہ حارم کا ہاتھ پکڑ کر کھڑی ہوئی۔ اور سامنے والے گھر کی بیل بجائی۔ سبینہ آنٹی نے دروازہ کھولا توطوبیٰ کو دیکھ کر بہت خوش ہوئیں۔ سبینہ آنٹی کی تینوں بیٹیاں شادی شدہ تھیں اور اپنے اپنی گھروں میں رہتی تھیں۔ وہ دونوں میاں بیوی اکیلے رہتے تھے۔ بیٹیاں آتی جاتی رہتی تھیں۔ طوبیٰ سے ان کی بہت دوستی تھی۔ طوبیٰ کو وہ اپنے ساتھ ڈرائنگ روم میں لے آئیں۔ ”آنٹی اصل میں امی ابو حیدرآباد گئے ہوئے ہیں۔ میں اور حارم آئے تھے۔ وہ لوگ شاید دیر سے واپس پہنچیں گے۔ میں نے عطیہ کو میسیج کردیاہے۔ وہ لوگ نکلے ہیں ابھی۔حارم کو باتھ روم جانا تھا اس لئے آپ کے یہاں آگئی۔“ ”اچھا کیا کہ آگئیں۔حارم بیٹا جاؤ وہ رہا باتھ روم۔“حارم باتھ روم چلا گیا تو سبینہ آنٹی نے طوبیٰ کا ہاتھ تھام کر نرمی سے سہلانا شروع کردیا:”کیا ہوا ہے بیٹا سب ٹھیک ہے ناں؟ تم مجھے ٹھیک نہیں لگ رہی ہو۔“ ”میں ٹھیک ہوں آنٹی۔“طوبیٰ نے ضبط کرنے کی کوشش کی لیکن اس کی آنکھیں چھلک پڑیں۔ ”آنٹی……شہزاد نے مجھے……گھر سے……نکال دیاہے……طط……طلا……ق دے دی ہے۔“ سبینہ آنٹی نے ایک دم سے اپنا دل پکڑ لیا:”ہائے اللہ……میری پیاری سی بچی۔“انہوں نے فوراً اسے سینے سے لگالیا اور پانی کا گلاس پکڑایا۔ اتنی دیر میں حارم باتھ روم سے باہر آگیا۔سبینہ آنٹی نے اپنے آنسو صاف کئے اور کھڑی ہوگئیں:”میں کھانا لگاتی ہوں۔ حارم بیٹا آجائیں کھانا کھاتے ہیں۔“ انہوں نے کھانا لگایا لیکن طوبیٰ کے لئے حلق سے ایک بھی نوالہ نیچے اتارنا بہت مشکل ہورہاتھا۔ اس نے بمشکل ایک نوالہ نگلا اور پھر پانی کا گلاس ہاتھ میں پکڑ کر پینے لگی۔ حارم صرف اپنی روتی بلکتی ماں کو دیکھے جارہاتھا۔ اس کے لئے یہ بہت ہی تکلیف دہ صورت حال تھی۔ اس نے ایک نظر سبینہ آنٹی کو دیکھا جو اپنی پلیٹ میں چاول نکالے ان میں چمچہ گھما رہی تھیں۔ کھا وہ بھی نہیں رہی تھیں بس بار بار آنسو صاف کررہی تھی اور حارم اور طوبیٰ کو کھانا کھانے کے لئے اصرار کرتی جارہی تھیں۔ تھوڑی دیر بعد وہ اٹھیں اور میز سمیٹ دی۔ کوئی بھی ایک دو لقموں سے زیادہ کھانا نہیں کھا پایا تھا۔ ”طوبیٰ بیٹا میں نے بچیوں کا کمرہ کھول دیاہے۔ تم وہاں آرام کرلو جب تک مخدوم صاحب گھر واپس نہیں آجاتے۔ حارم بھی تھکا ہوا لگ رہاہے۔ اسے سلا دو تھوڑی دیر کے لئے۔“ ”نہیں آنٹی ہم لوگ چلتے ہیں۔آپ کو بہت تکلیف دے دی ہم نے۔“طوبیٰ نے سہولت سے منع کیا۔ ”کہاں جاؤ گے تم لوگ؟“سبینہ آنٹی نے حیرت سے پوچھا۔ ”کہیں نہیں بس یہاں باہر گیٹ کے پاس سیڑھیوں پہ بیٹھیں گے۔ آپ کے پاس بھی حارم کی وجہ سے آئی تھی ورنہ وہیں بیٹھے تھے ہم لوگ۔“ ”ہائے میرے اللہ……نجانے کتنی دیر تم لوگ وہاں بیٹھے رہے۔ پاگل ہو کیا؟ یہ گھر بھی تمہارا ہی ہے بیٹا۔ میں نے ہمیشہ تم دونوں بہنوں کو اپنی بیٹی ہی سمجھا ہے۔ تم نے تو مجھے پل بھر میں پرایا کردیا۔“سبینہ آنٹی کی آنکھیں برسنے لگیں۔ ”ایسی بات نہیں ہے آنٹی۔میں یہیں رک جاتی ہوں امی ابو کے آنے تک آپ نہ روئیں پلیز۔“طوبیٰ نے ان کو پانی پلایا۔ طوبیٰ حارم کو ساتھ لے کر کمرے میں آگئی۔ وہ بچپن سے اس گھر میں آتی جاتی رہی تھی۔ وہ دو بہنیں تھیں اور سبینہ آنٹی کی تین بیٹیاں تھیں۔ پانچوں کی خوب دوستی تھی۔ اور وہ لوگ مل کر کھیلتے تھے۔ وہ سارا دن اسی گھر میں گزارتی تھی۔ اس نے حارم کو اپنی گود میں لٹایا تو وہ تھوڑی ہی دیر میں گہری نیند سو گیا۔ طوبیٰ کی آنکھوں سے نیند کوسوں دور تھی۔ اسے ابھی بھی یقین نہیں آرہاتھا کہ شہزاد نے اسے طلاق دے دی ہے۔ وہ یقین کرنا بھی نہیں چاہتی تھی کیونکہ اس نے شہزاد سے محبت کی تھی۔اس کا وجود ہی وفا سے گندھا ہواتھا وہ بے وفائی کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔ اور شہزاد نے کیسے آسانی کے ساتھ اسے اپنی زندگی سے ایک لمحے میں بے دخل کردیاتھا۔وہ جتنا سوچ رہی تھی اتنی ہی رفتار سے اس کے آنسو نکل رہے تھے۔ ………………………… محلے میں اتنی ہنگامہ خیزی کے بعد سے شاہدہ سو رہی تھی اور ایسی گہری نیند سو رہی تھی جیسے اس کے سر سے منوں ٹنوں بوجھ ہٹ گیاہو۔ کائنات کو دلاور نے رنگ برنگے صفحے لا کر دئیے تھے جن میں وہ پھول بنا کر گملوں میں لگایا کرتی تھی۔ اس نے اورنج رنگ کا کاغذ چنا تھا۔ اس نے کاغذ کو چوکور کر لیا تھا۔ اب اس نے اسے ایک بار ڈبل کیا اور پھر دوبارہ سے ڈبل کیا اور پھر ایک بار واپس کھول لیا تاکہ کریز بن جائے۔پھراس کریز کی مدد سے دو کونے ایسے گھمائے کہ تکون بن گیا۔پھرایک طرف کے کونوں کو اوپر کی طرف موڑکر کھول لیا۔پھر اس نے ان کونوں کو چوکور کے اندر موڑ لیا۔اور دوسری طرف بھی ایسے ہی کر لیا۔پھر اس نے تکون کو اندر کی طرف موڑ کر گھما لیا جو کہ چوکور بن گیا۔ اس چوکور میں سے دو حصے اس نے اوپر اٹھا لئے اور پھول تیار ہوگیا۔ جیسے ہی اس نے پھول کو سونگھا ویسے ہی ایک گندی سڑی ہوئی بدبو کا جھونکا جیسے اسے چھو گیا اور اس نے فوراً الٹی کردی۔ دلاور نے اس کی ابکائیاں لیتی آواز سنی تو فوراً دوڑتا ہوا آیا اور سب صاف کیا۔اس نے کائنات کو ہاتھ لگا کر چیک کیا:”کیا ہے بیٹا طبیعت خراب ہے؟ بتایا کیوں نہیں؟“ ”نہیں بابا طبیعت خراب نہیں ہے بس اس پھول میں سے بہت گندی بدبو آئی تھی اس لئے یہ سب ہوا……آئی ایم سوری بابا۔“ دلاور نے اسے شکی نظروں سے دیکھا اور پھر اس کا بنایا ہوا اوریگامی کا پھول اٹھا کر سونگھا۔پھر اسے دیکھا:”اس میں کوئی بھی بو نہیں ہے کائنات۔“ ”اس میں بدبو ہے بابا۔بہت ہی گندی جیسے کوئی گندی سی چیز سڑ جاتی ہے ویسی بدبو ہے۔“
پچھلی قسط                                       اگلی قسط

Comments

  1. بہت افسوسناک قسط، لیکن بہت زبردست لکھا ہے

    ReplyDelete

Post a Comment

Popular posts from this blog

Wo merey dil ka malal hay by Saira Ghaffar Complete Online Urdu Novel

Wo merey dil ka malal hay  By Saira Ghaffar  Complete Online Urdu Novel وہ میرے دل کاملال ہے (سائرہ غفار) قسط نمبر 1 ”مج……مجھ……جھ……ے……ے……ے……بچ……چا……لل……وووو……“اس کی آواز اُسے صاف سنائی دے رہی تھی۔  وہ اس کے سامنے کھڑی ا س کی ابلتی ہوئی آنکھیں دیکھ رہی تھی۔ وہ دیکھ رہی تھی کہ کیسے اس کی بہن تڑپ تڑپ کر منہ سے خون کی الٹیاں کررہی ہے۔ وہ دیکھ رہی تھی ……صاف……اور واضح……اسے دکھائی دے رہاتھا……سب کچھ……ایک دم صاف ……ایک ایک چیز اسے نظر آرہی تھی……اسے وہ میرون اور گولڈن چوڑیاں بیڈ سے ٹکرا کر ٹوٹتی ہوئی نظر آرہی تھیں جو اس نے خو داس کے ساتھ جا کر پسند کروائیں تھیں۔ ”دیکھو ذرا……یہ چوڑیاں میرے لہنگے کے ساتھ کیسی لگیں گی؟“ ”بہت پیاری……تم یہی لینا۔“ اس کے سامنے وہی چوڑیاں اس کی کلائی میں پیوست ہوتی جارہی تھیں۔وہ درد کے مارے تڑپ کر کبھی اِدھر گر رہی تھی تو کبھی اُدھر۔ اس سب میں اس کی جیولری ہر طرف سے بے ترتیب ہورہی تھی۔ اس کا نیکلس گردن میں پھندا ڈال رہاتھا۔یہ تنگ نیکلس بھی اُسی نے پسند کروایا تھا۔ ”یہ لمبا نیکلس مت لو……اچھا نہیں لگے گا……کوئی چھوٹے سائز کا لو……جو گ...

Phantosmia (EP 3) By Saira Ghaffar Complete Online Urdu Novel

Phantosmia By   Saira Ghaffar   Complete Online Urdu Novel فینٹوسمیا (سائرہ غفار) قسط نمبر 3 ”یہ تم کیا کرتی رہتی ہو ہروقت؟ کیا فالتو کے اخبار پھاڑ پھاڑ کر پھول بنا کر ان گملوں میں سجاتی رہتی ہو؟“دلاور کے جانے کے بعد سارا نزلہ معصوم سی کائنات پہ گرنے لگاتھا۔ کائنات نے سہم کر ماں کو دیکھا جو جارحانہ انداز میں کاغذ کے پھولوں سے سجے گملوں کی طرف پیش قدمی کر رہی تھی۔ کائنات نے ایک دم سامنے آکر ماں کو روک دیا:”امی یہ میرے پھول ہیں پلیز ان کو کچھ مت کریں۔“ ”فالتو کام تم دونوں باپ بیٹی کے شوق ہیں۔ بیکار اور فضول کاموں میں اپنا وقت برباد کرتے رہتے ہو۔ جاؤدفع ہوجاؤ یہاں سے۔“شاہدہ نے غصے سے بیٹی کو دھکا دیا۔ اور خود دوسرے کمرے میں چلی گئیں۔ کائنات نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ اس کے پھول اور گملے بچ گئے ورنہ شاہدہ کے غصے سے وہ خود بھی واقف تھی۔ وہ پھر سے اپنے محبوب مشغلے یعنی اخبار اور مختلف کترنوں سے پھول بنانے میں نئے سرے سے جت گئی۔ ………………………… دلاور گھر واپس آیا تو گیٹ پہ اس کی ملاقات شہزاد اور اس کی فیملی سے ہوگئی۔ شہزاد اور دلاور سلام دعا کرنے لگے تو طوبیٰ چا...

Phantosmia (EP 11) By Saira Ghaffar Complete Online Urdu Novel

Phantosmia By   Saira Ghaffar   Complete Online Urdu Novel فینٹوسمیا (سائرہ غفار) قسط نمبر 11 چند دن بعد وہ لوگ رپورٹس لے کر دوبارہ ڈاکٹرشانزے کے پاس پہنچے۔ڈاکٹر نے تمام رپورٹس چیک کرنے کے بعد ان کو خوش خبر ی سنائی۔ ”سب کچھ بالکل پرفیکٹ ہے۔ میرا ڈر صرف وہم تھا۔ “ ”ڈاکٹر کیا آپ ہمیں بتا سکتی ہیں کہ آپ کو کیا وہم تھا؟“کائنات نے پہلی بار سوال کیا تھا۔ ”جی بالکل بیٹا میں بتا سکتی ہوں ……دراصل یہ جو مسئلہ آپ کے ساتھ ہے آپ کو مختلف اچھی بری قسم کی بو محسوس ہوتی ہے۔ یہ اصل میں فینٹوسمیا کہلاتی ہے۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کا کوئی مستقل علاج نہیں ہے۔ اصل میں یہ مسئلہ بذات خود کوئی مسئلہ نہیں بلکہ یہ ایک علامتی مسئلہ ہے۔ جن لوگوں کو یہ بو محسوس ہونے کی شکایت رہتی ہے ان کو ایک یا پھر دونوں نتھنوں سے بو محسوس ہوتی ہے۔ یہ برین ٹیومر کی نشاندہی ہوتی ہے۔“ڈاکٹرسانس لینے کو رکی۔ ”برین ٹیومر؟“شاہدہ اور دلاور ایک دم پریشان ہوگئے تو ڈاکٹر شانزے نے مسکرا کر ان کو دیکھا:”آپ لوگ شکر کریں کہ آپ کی بیٹی کا ایم آر آئی بالکل کلئیر اور بالکل صاف ہے۔ اسے صرف فینٹوسمیا ہے۔ جو کہ کچ...