Phantosmia
By Saira Ghaffar
Complete Online Urdu Novel
فینٹوسمیا
(سائرہ غفار)
قسط نمبر 5
اتوار کے دن سب چھٹی منارہے تھے مزے سے عیش کررہے تھے۔بس حارم اور کائنات تھے جو اپنی اپنی گیلری سے ایک دوسرے کے ساتھ باتیں کررہے تھے۔ حارم اسے اپنے پرندے دکھا رہاتھا۔ اس نے تتلی بنانی سیکھی تھی وہ کائنات کو اپنی رنگ برنگی تتلیاں بھی دکھا رہاتھا۔شہزاد نیند سے بیدا ر ہوا توگیلری سے حارم کی آوازیں سن کر وہ گیلری کی طرف آنکلا اور ایک طرف کھڑے ہوکر دونوں بچوں کی باتیں سننے لگا۔ اسی وقت اس کا سیل فون بجنے لگا۔ وہ اپنا موبائل اٹھا کر گیلری کی طرف آگیا۔ اس نے فون کان سے لگایا تو دوسری طرف اس کا کولیگ تھا۔ ان کے باس کو ہارٹ اٹیک آیاتھا۔ وہ جلدی سے واش روم میں گیا فریش ہوا کپڑے بدلے اور طوبیٰ کو بتاتے ہوئے بائیک کی چابی لئے گھر سے نکل گیا۔ طوبیٰ اسے ناشتے کے لئے آوازیں دیتی ہی رہ گئی۔
…………………………
”امی واش روم کے پائپ سے پانی نکل رہاہے۔“حارم نے کچن میں آکر اسے بتایا۔
طوبیٰ نے جلدی سے دوپٹے سے ہاتھ پونچھے اور واش روم کی طرف دوڑی۔ ایک پائپ واقعی میں لیک ہورہاتھا۔ طوبیٰ نے اس کے وال کو بند کرنے کی کوشش کی لیکن وہ وال بہت ہی زیادہ جام ہوگیاتھا۔وال بالکل نہیں ہلا۔ طوبیٰ نے پائپ پہ کپڑا باندھنے کی کوشش کی لیکن اس کا ہاتھ ایک دم پھسلا کچھ وہ بوکھلاہٹ کا بھی شکار ہوگئی تھی کہ پائپ بیچ میں سے بالکل الگ ہو گیااوروہاں سے پانی تیزی سے نکلنے لگا۔دو تین منٹ میں واش روم میں پانی جمع ہونا شروع ہوگیا۔
طوبیٰ جلدی سے باہر نکلی اور شہزاد کو فون کرنے لگی۔ اس کا فون بند جارہاتھا۔ اس نے کئی بار اسے کال کی لیکن ہر بار اس کا موبائل بند ہی ملا۔اس نے اپنے ابو کو فون کیا:”ابو آپ کہا ں ہیں؟“
”کیا ہوا بیٹا سب خیریت ہے ناں؟“
”جی سب خیریت ہے الحمدللہ۔آپ کہا ں پہ ہیں؟“
”بیٹا ہم حیدرآباد جارہے ہیں۔ بس پہنچنے ہی والے ہیں۔“
”حیدرآباد؟“
”ہاں بیٹا کچھ کام بھی تھا اور پھر تمہاری امی اور بہن گھر میں اکیلے کیا کرتے اس لئے ہم تینوں ہی نکل پڑے شام تک آجائیں گے واپس۔“
”چلیں ٹھیک ہے۔ اللہ حافظ۔“
اس نے فون بند کر کے اپنا عبایا پہنا اور اپنا پرس لے کر حارم کا ہاتھ پکڑ کر باہر نکل آئی اور دکانوں کی طرف چل پڑی۔ لیکن اتوار کا دن اور صبح کا وقت حلوہ پوری کے علاوہ سب دکانیں بند پڑی ہوئی تھیں۔ طوبیٰ پریشانی کے عالم میں حارم کا ہاتھ تھامے واپس آگئی اور گھر کے دروازے پہ ہی کھڑی ہوگئی۔ اس کے دل کی دھڑکن بے ترتیب ہورہی تھی اور اس کے ہاتھ پاؤں ٹھنڈے پڑنے لگے تھے۔اسی وقت کائنات اوپر سے حارم کو دیکھ کر ہاتھ ہلاتی ہے۔
”کیا ہوا حارم کس کا انتظار کر رہے ہو؟“
”کسی کا نہیں ……ہمارے واش روم کا پائپ ٹوٹ گیا ہے اور پانی سارے گھر میں جانے لگا ہے۔اسی لئے ہم یہاں کھڑے ہیں۔“
طوبیٰ نے ایک بار پھر شہزاد کے نمبر پہ فون کرنے کی کوشش کی لیکن وہ مسلسل بند تھا۔ کائنات نے اتنی دیر میں دلاور کو بتادیا اور دلاور نیچے اتر کر آگیا۔اسی اثناء میں طوبیٰ کے ساتھ والے گھر کا لڑکا ضامن بھی باہر آکھڑا ہوا تھا۔ دلاور نے اسے اپنے ساتھ لیا اور وہ دونوں مل کر واش روم کے پائپ کو درست کرنے کی کوشش کرنے لگے۔
طوبیٰ حارم کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ کر وہیں گھر کے باہر کھڑی رہی۔
…………………………
دلاور اور ضامن نے کر جیسے تیسے کر کے پائپ کی عارضی طور پر مرمت کردی تھی……مرمت کیا کی تھی اپنی سی کوشش ہی کی تھی۔ تقریباً بارہ بجے کا وقت تھا اور ضامن دو بار چکر لگا آیا تھا لیکن ان کی قریبی سینیٹری ورکس کی دوکان ابھی تک بند تھی۔طوبیٰ مسلسل باہر کھڑی تھی حارم اس کے ساتھ کھڑا تھا۔ محلے کی چند خواتین نے اسے اپنے گھر میں آنے کی دعوت بھی دی لیکن اس نے قبول نہیں کی۔ وہ بار بار شہزاد کا نمبر ٹرائی کررہی تھی جو کہ مسلسل بند جا رہاتھا۔
تقریباً سوا بارہ بجے دلاور نے ضامن کو کہا کہ وہ ایک مرتبہ پھر سے دوکان کا چکر لگا آئے شاید دوکان کھل گئی ہوگی۔
ضامن گھر سے نکلا تو اس کے پیچھے پیچھے دلاور بھی ہاتھ پونچھتے ہوئے گھر کے گیٹ سے نکل آیا تاکہ طوبیٰ کو تازہ ترین صورت حال سے آگاہ کرسکے۔
ابھی اس نے کچھ کہنے کے لئے منہ کھولا ہی تھا کہ ایک بائیک زن سے آکر رکی۔ وہ شہزاد تھا اس نے ہیلمٹ اتارا اور خون خوار نظروں سے طوبیٰ کو دیکھا۔ بائیک اسٹینڈ پہ لگا کر اس نے دانت کچکچاتے ہوئے طوبیٰ کا بازو دبوچاتھا۔
”شہزاد میں کب سے آپ کو کال کررہی تھی آپ فون کی……“شہزاد کا زر دار تھپڑ طوبیٰ کا جملہ مکمل ہونے سے پہلے اس کا گال لال کرگیا۔
”شہزاد……“طوبیٰ نے ڈبڈبائی آنکھوں سے اسے لاچاری سے دیکھا تھا۔ اور جواب کی صورت میں اسے ایک اور تھپڑ کھانا پڑا تھا۔
”دیکھو شہزاد……“دلاور نے کچھ کہہنے کے لئے منہ کھولا ہی تھا کہ شہزاد نے اسے ہاتھ کے اشارے سے رک جانے کو کہا اور خونخوار نظروں سے اسے دیکھنے لگا۔
”شہزاد میری بات سنو پلیز۔“
”بس میں کچھ بھی نہیں سننا چاہتا۔ چلے جاؤ یہاں سے……“شہزاد کی غصے سے کپکپاتی آواز اس قدر اونچی تھی کہ لوگ اپنے گھروں سے باہر نکل کر دیکھنے لگے تھے۔
”شہزاد بیٹا……“ضامن کی ماں صغریٰ بی بی آگے بڑھیں تاکہ اسے سمجھا سکے لیکن اس نے ہاتھ کے اشارے سے انہیں روک دیا۔
”بس کوئی بیچ میں نہیں بولے گا۔“اس کی نظر گال پہ ہاتھ رکھے بے آواز روتی ہوئی طوبیٰ پہ جا ٹکیں:”یہ کیا ہورہاتھا؟“ اس نے گردن سے خفیف سا اشارہ دلاور کی طرف کیا۔شک کا بیج پھوٹ کر ایک پودا بن گیاتھا۔
طوبیٰ نے بے یقینی سے اسے دیکھا تھا:”پپ……پا……ئپ……پائپ ٹوٹ گیا تھا۔“
”اور سارے محلے میں تمہیں صرف یہی ملا تھا پائپ جوڑنے کے لئے؟“اس کے لہجے میں تمسخر در آیاتھا۔ اس نے ایک انگلی سے اپنی آنکھ سے نکلنے والا آنسو فوراً صاف کیا:”چلی جاؤ یہاں سے اس سے پہلے کہ میں کچھ کر بیٹھوں۔“
اس کی آواز میں بلا کی کرختگی تھی۔
طوبیٰ نے اسے لرزتے ہوئی آنکھوں سے دیکھا اور فوراً حارم کو پکڑ کر اپنے گھر کے گیٹ کی طرف جانے لگی تو شہزاد کی غصے بھری چیخ سنائی دی:”اُدھر کدھر جارہی ہو تم؟“
”گگ……گ……گھر جارہی ہوں۔“طوبیٰ پوری طرح کپکپا رہی تھی۔
”یہ گھر اب تمہارا نہیں رہا۔ چلی جاؤ یہاں سے میرا دماغ بہت خراب ہورہاہے۔“
”کک……کہاں چلی جاؤں میں؟“وہ مسلسل رو رہی تھی۔
شہزاد نے اپنی کنپٹی کو انگوٹھے کی مدد سے مسلاتھا۔اس کا سر درد سے پھٹ رہاتھا۔
”یہ گھر صرف میرا ہے۔ تمہاری یہاں کوئی جگہ نہیں ہے۔ نکل جاؤ میری زندگی سے میں تمہیں ……“
”نہیں پلیز نہیں ……کچھ مت کہیں پلیز کچھ مت کہیں ……“طوبیٰ اس کے قدموں میں گر چکی تھی۔ زاروقطار روتے ہوئے اس نے زندگی میں خود کو اتنا بے بس اس سے پہلے کبھی بھی محسوس نہیں کیاتھا۔
”شہزاد بیٹا طوبیٰ کی کوئی غلطی نہیں ہے۔“صغریٰ بی بی نے پھر بات کرنی چاہی۔
”میں نے کہا ناں کوئی نہیں بولے گا آپ کو سمجھ نہیں آتی کیا؟“شہزاد کا لہجہ انتہائی گستاخ تھا۔ سب لوگ جو بولنا چاہتے تھے صغریٰ بی بی کی عزات افزائی کے بعد ایک دم خاموش ہوگئے تھے۔
”شہزاد میں یہاں ضامن کے ساتھ آیاتھا۔“دلاور ایک بار پھر بولا تھا اور شہزاد نے فوراً اس کا گریبان پکڑ لیا:”میں بقائمی ہوش و حواس طوبیٰ شاہ بنت مخدوم شاہ کو طلاق دیتا ہوں۔“اس نے دلاورکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا اور ایک جھٹکے سے اس کا گریبان چھوڑ دیا۔ دلاور کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی تھیں۔
طوبیٰ کی چیخیں سب کا دل دہلا رہی تھیں لیکن وہ سب کچھ نہیں کر سکتے تھے۔
پچھلی قسط اگلی قسط

Comments
Post a Comment