Skip to main content

Milay Ho Tum Hum Ko Baray Naseebon Say (EP 3) By Saira Ghaffar Complete Online Urdu Novel

Milay Ho Tum Hum Ko Baray Naseebon Say 

By Saira Ghaffar 

Complete Online Urdu Novel


ملے ہوتم ہم کو بڑے نصیبوں سے

(سائرہ غفار)


قسط نمبر 3




”تو سچ مچ معید ہی ہے ناں ……؟؟“

”میرے معید کو تو غصہ آتا ہی نہیں تھا……تم معید نہیں ہوسکتے……“میری کنپٹیاں سلگنے لگیں تھیں:”ہاں آنے لگا ہے مجھے غصہ……بہت غصہ آنے لگ گیا…… بہت زیادہ آتا ہے ……تب تب آتا ہے جب اسے لڑکی کہا جاتا ہے کوئی نام نہیں ہے اس کا……“میں نے بیڈ پر دنیا و مافیہا سے بے خبر لڑکی کی طرف اشارہ کیا:”مجھے بہت غصہ آتا ہے جب مجھے کہا جاتا ہے کہ وہ کومہ میں ہے نجانے کب کومہ سے باہر آئے گی……میرا خون کھول اٹھتا ہے جب مجھے کہا جاتا ہے کہ وہ ہماری کچھ نہیں لگتی……دیکھ اسے غور سے کیا یہ میری کچھ نہیں لگتی؟“
کمیل بالکل خاموش مجھے دیکھ رہا تھا……میں نے اچانک پھر سے اس کا گریبان پکڑ لیا: ”بتا ناں ……کیا وہ میری کچھ نہیں لگتی……“اب کی بار میرا لہجہ کمزور تھا……ایسا جیسے بچہ کھلونے کے لئے ضد کررہاہو اور ماں باپ اسے بتائیں کہ یہ کھلونا تو کسی اور بچے کا ہے۔
”یہ تو نے کیا کردیا یار……“کمیل کی آواز جیسے بہت دور سے آرہی تھی۔
میں دونوں ہاتھوں سے سر پکڑ کر صوفے میں دھنس گیا۔میری آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔کمیل میرے برابر میں بیٹھ کر مجھے جھنجھوڑنے لگا:”معید ……یہ کیا کردیا تم نے؟“وہ چلا رہا تھا مگر میں اس کی کسی بات کا جواب نہیں دے رہاتھا کیونکہ میرے پاس اس کی کسی بات کا جواب سرے سے تھا ہی نہیں۔
”آویزش ……آویزش کو پتہ ہے؟؟“کمیل کے سوال پر میں چونکا۔
”آج سے پہلے تو مجھے بھی معلوم نہیں تھا ……“میں حقیقتاً پریشان تھا۔میرا دل بے حد بے چین تھا۔
”تم آویزش کے ساتھ زیادتی کررہے ہو۔وہ تم سے بہت محبت کرتی ہے۔“کمیل نے مجھے شرم دلانے کی کوشش کی۔
”کمیل پتہ ہے میں یہاں گھنٹوں بیٹھا اسے دیکھتا رہتا ہوں ……میں کبھی بور نہیں ہوتا…… میں بالکل نہیں تھکتا……اسے تو معلوم بھی نہیں ہوگا کہ کوئی اسے گھنٹوں تکتا رہتا ہے…… نجانے وہ میری موجودگی محسوس بھی کرتی ہے یا نہیں ……“میں بولے جارہاتھا۔
”معید……میں آویزش کی بات کررہاہوں ……“اس نے مجھے یاد دلایا۔
”مگر میں اس کی بات کررہاہوں ……“کمیل نے اپنا سر پکڑ لیا۔میں مسلسل اسے دیکھے جارہا تھا۔میں کچھ سوچ رہاتھا۔تھوڑی دیر بعد میں نے کمیل کو کہا:”کمیل……“میری آواز سرگوشی سی تھی۔ کمیل نے مجھے تعجب سے دیکھا……اس کی نظریں سوال تھیں۔

”پتہ ہے……میں نے اس کے لئے ایک نام سوچا ہے……“میں بالکل دیوانہ ہوگیاتھا۔ کمیل نے تاسف سے سر ہلایا۔ میرے چہرے پر ایک آسودہ سی مسکراہٹ تھی۔

”پوچھو گے نہیں کہ میں نے کیا نام رکھاہے اس کا؟“میں نے سسپنس بنانے کی کوشش کی لیکن کمیل بلکل جاننے کے موڈمیں نہیں تھا۔ وہ واپس جانے کے لئے اٹھ کھڑا ہوا۔ 
کمیل دروازے تک پہنچا تو میں نے اسے آواز دی:”پریشے نام رکھا ہے میں نے اس کا۔ لگتی بھی تو بالکل پریوں سی ہے ناں ……“میں اسے تکنے میں اس قدر مصروف تھا کہ مجھے کمیل کے چلے جانے کا احساس بھی نہ ہوا۔

        ……………………٭٭…………٭٭……………………


اگلے دن میری پیشی تھی۔ گھر میں سب جمع تھے۔ مما پاپا، آویزش اور ا سکے ڈیڈ اور امی سب یہیں تھے اور وہ بھی تھا جس نے آگ لگائی تھی یعنی کمیل……اسے دیکھ کر میرے تن بدن میں آگ ہی لگ گئی۔دل چاہ رہاتھا کہ اسے دھکے دے کر گھر سے باہر نکال دوں۔میں سر جھکائے مجرم بنا ایک طرف کھڑا تھا۔ کمیل مجھے ایسے دیکھ رہاتھا جیسے مجھے تھوڑی دیر میں پھانسی ہونے والی ہو۔آویزش مما اورکائنات آنٹی کے درمیان بیٹھی مسلسل رو رہی تھی اور ٹشو پیپر سے مسلسل اپنی ناک رگڑ رہی تھی۔ مجتبیٰ انکل اسے بے بسی سے دیکھ رہے تھے ان کی آنکھیں سرخ ہورہی تھیں شاید غصے کی وجہ سے یا ……یا شاید ضبط کرنے کی وجہ سے جو وہ آویزش کو روتا دیکھ کر کر رہے تھے۔پاپا مسلسل مجھے گھور رہے تھے ان کا بس نہیں چل رہاتھا کہ مجھے کچا چبا جائیں۔میں اپنے انگوٹھے کے ناخن کو چبانے میں مصروف تھا حالانکہ آج سے پہلے میں نے کبھی ایسی عجیب حرکت نہیں کی۔پریشے کے میری زندگی  زندگی میں آجانے کے بعد سے اب تک میں کافی بدل گیا تھا میں پہلے والا معید نہیں رہاتھا۔

”تم کیا کر رہے ہو معید……؟“پاپا نے میرے توقع کے خلاف انتہائی آرام سے پوچھاتھا۔
”پاپا پریشے بیمار ہے……اسے ہم سب کی ضرورت ہے۔“میری آواز بہت دھیمی تھی۔ اور لہجہ حد سے زیادہ کمزور……
”پریشے……؟؟؟“سب کی ملی جلی آوازیں سنائی دینے لگیں:”کون پریشے؟“
”پاپا میں نے……اس کا نام……اس لڑکی کا نام……پریشے رکھا ہے……“میں رک رک کر بول رہا تھا۔ پاپا سے میں فرینک ضرور تھا مگر نجانے کیوں میں اٹک رہاتھا۔
سب کی تیز نظریں مجھ پر گڑی ہوئی تھیں۔اچانک سے آویزش کے منہ سے سسکاری نکلی۔سب اسے دیکھنے لگے اور مما اسے تسلی دینے لگیں۔
”تم ہوتے کون ہو ا س کا نام رکھنے والے؟“پاپا درشتی سے کہتے اپنی جگہ سے اٹھ کھڑے ہوئے۔
”سب لوگ اسے وہ لڑکی وہ لڑکی کہتے تھے مجھے ……برا لگتا تھا……“میں نے سر جھکا لیا تھا کیونکہ سب کے سامنے میں اپنے دل کا چور اپنے منہ سے بتانا نہیں چاہتا تھا ویسے بھی کمیل میری چغلی تو لگا ہی چکاتھا اب مزید نجانے سب لوگ کیا جاننا چاہتے تھے۔
”اور کیا میں جان سکتا ہوں کہ آپ جناب کو برا کیوں لگتا تھا؟“پاپا میرے سامنے آکھڑے ہوئے تھے اور ان کی تیز نظریں مجھے پگھلائے دے رہی تھیں۔میں نے سینے پر باندھے ہاتھ ایک دم سیدھے نیچے گرا دئیے اور الرٹ کھڑا ہوگیا۔میں ان سے نظریں نہیں ملا پارہا تھا۔عجیب سی جھجھک محسوس کرررہاتھا میں ان کے سامنے سر اٹھانے سے……
”وہ……وہ……پا……پا……وہ……“میں کچھ نہیں بول پارہاتھا۔
”وہ وہ کیا ہوتا ہے؟پریشے ہوتا ہے بیٹا جی……آپ کو تو برا لگتا تھا ناں وہ وہ کہنا……“پاپا کا غصہ سوا نیزے پر پہنچ گیا۔وہ مجھ پر پوری شدت سے چلا رہے تھے۔
”مم……میں ……مم……“آویزش کی سسکیاں تیز ہونے لگیں۔پاپا نے مجھے بازو سے پکڑ کر اس کے سامنے لاکھڑا کیا:”دیکھو اسے……اس کی زندگی برباد کردی تم نے…… اور یہ ہم سب کو برا لگ رہاہے۔“پاپا کا درشت لہجہ بالکل بجا تھا لیکن میں اپنے دل کے ہاتھوں مجبور تھا۔ آویزش مسلسل رورہی تھی۔مما اور آویزش کی امی مجھے خائف نظروں سے دیکھ رہی تھیں۔
”تم یہ سب اچھا نہیں کررہے ہو معید……مت بھولو کہ تم آویزش سے محبت کرتے تھے۔ یہ رشتہ تمہاری اپنی مرضی اور پسند سے طے ہوا تھا۔“مما نے آخر چپ کا روزہ توڑا۔ساتھ ساتھ وہ آویزش کو پچکارنے میں بھی مصروف تھیں:”بس بیٹا بس چپ کرجاؤ روتے نہیں۔“
”میرا خیال ہے کہ ہمیں چلنا چاہئے۔“مجتبیٰ انکل کی برداشت شاید ختم ہوچکی تھی اس لئے وہ اپنی جگہ سے اٹھ کھڑے ہوئے:”بہت تماشہ بنوا لیا ہم نے اپنا اور معید نے بہت تماشہ بنا لیا ہمارا……اب بس……چلوکائنات……آویزش کو لے کے آؤ۔“
کائنات آنٹی نے آویزش کو ہاتھ پکڑ کر اٹھایا وہ سسکتی ہوئی اٹھ کھڑی ہوئی۔اسی وقت پاپا کا موبائل فون بجا اور انہوں نے اسکرین کو دیکھا پھر مجھے غصے سے دیکھا اور فون کان سے لگالیا۔ 
”جی ڈاکٹرقادری ……“ڈاکٹر قادری کا نام سن کر میں سرتاپا کان بن گیا۔ وہ ہی پریشے کا علاج کررہے تھے پاپا اور مجبتیٰ انکل کے بہترین دوست تھے۔
”اوہ……کب……“پاپا نے ٹھنڈی سانس بھری۔تھوڑی دیر تک وہ قادری انکل کی بات سنتے رہے پھر مجھے کن انکھیوں سے دیکھا:”پھر آپ کیا کہتے ہیں ……چچ چچ ……ہم کیا کہہ سکتے ہیں ……جو قادری صاحب جو آپ کو مناسب لگے……مجھے اپڈیٹ کرتے رہئے گا پلیز……جی اللہ حافظ۔“پاپا نے فون بند کر کے مجھے دیکھا۔میں نے بے تابی سے پوچھا: ”کیا کہہ رہے تھے قادری انکل؟“
”پریشے کی طبیعت بگڑ گئی ہے۔وہ کچھ ٹیسٹ کرنا چاہتے ہیں اس کے اسی کے لئے فون کیا تھا۔“پا پا نے پرسکون لہجے میں بتایا۔
”کک……کیا ہو ااسے؟کیا ہوا پاپا؟ میں اسپتال جاتا ہوں۔“میں بے تابی سے دروازے کی طرف بڑھا تو پاپا کی غصے بھری آواز سنائی دی:”رک جاؤ۔“میرے قدم ایک دم تھم گئے۔
”اسے وینٹی لیٹر پر ڈال دیا ہے ……“پاپا نے جیسے میرے سر پر بم ہی پھوڑ دیاتھا۔


پچھلی قسط                                       اگلی قسط

Comments

Popular posts from this blog

Wo merey dil ka malal hay by Saira Ghaffar Complete Online Urdu Novel

Wo merey dil ka malal hay  By Saira Ghaffar  Complete Online Urdu Novel وہ میرے دل کاملال ہے (سائرہ غفار) قسط نمبر 1 ”مج……مجھ……جھ……ے……ے……ے……بچ……چا……لل……وووو……“اس کی آواز اُسے صاف سنائی دے رہی تھی۔  وہ اس کے سامنے کھڑی ا س کی ابلتی ہوئی آنکھیں دیکھ رہی تھی۔ وہ دیکھ رہی تھی کہ کیسے اس کی بہن تڑپ تڑپ کر منہ سے خون کی الٹیاں کررہی ہے۔ وہ دیکھ رہی تھی ……صاف……اور واضح……اسے دکھائی دے رہاتھا……سب کچھ……ایک دم صاف ……ایک ایک چیز اسے نظر آرہی تھی……اسے وہ میرون اور گولڈن چوڑیاں بیڈ سے ٹکرا کر ٹوٹتی ہوئی نظر آرہی تھیں جو اس نے خو داس کے ساتھ جا کر پسند کروائیں تھیں۔ ”دیکھو ذرا……یہ چوڑیاں میرے لہنگے کے ساتھ کیسی لگیں گی؟“ ”بہت پیاری……تم یہی لینا۔“ اس کے سامنے وہی چوڑیاں اس کی کلائی میں پیوست ہوتی جارہی تھیں۔وہ درد کے مارے تڑپ کر کبھی اِدھر گر رہی تھی تو کبھی اُدھر۔ اس سب میں اس کی جیولری ہر طرف سے بے ترتیب ہورہی تھی۔ اس کا نیکلس گردن میں پھندا ڈال رہاتھا۔یہ تنگ نیکلس بھی اُسی نے پسند کروایا تھا۔ ”یہ لمبا نیکلس مت لو……اچھا نہیں لگے گا……کوئی چھوٹے سائز کا لو……جو گ...

Phantosmia (EP 3) By Saira Ghaffar Complete Online Urdu Novel

Phantosmia By   Saira Ghaffar   Complete Online Urdu Novel فینٹوسمیا (سائرہ غفار) قسط نمبر 3 ”یہ تم کیا کرتی رہتی ہو ہروقت؟ کیا فالتو کے اخبار پھاڑ پھاڑ کر پھول بنا کر ان گملوں میں سجاتی رہتی ہو؟“دلاور کے جانے کے بعد سارا نزلہ معصوم سی کائنات پہ گرنے لگاتھا۔ کائنات نے سہم کر ماں کو دیکھا جو جارحانہ انداز میں کاغذ کے پھولوں سے سجے گملوں کی طرف پیش قدمی کر رہی تھی۔ کائنات نے ایک دم سامنے آکر ماں کو روک دیا:”امی یہ میرے پھول ہیں پلیز ان کو کچھ مت کریں۔“ ”فالتو کام تم دونوں باپ بیٹی کے شوق ہیں۔ بیکار اور فضول کاموں میں اپنا وقت برباد کرتے رہتے ہو۔ جاؤدفع ہوجاؤ یہاں سے۔“شاہدہ نے غصے سے بیٹی کو دھکا دیا۔ اور خود دوسرے کمرے میں چلی گئیں۔ کائنات نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ اس کے پھول اور گملے بچ گئے ورنہ شاہدہ کے غصے سے وہ خود بھی واقف تھی۔ وہ پھر سے اپنے محبوب مشغلے یعنی اخبار اور مختلف کترنوں سے پھول بنانے میں نئے سرے سے جت گئی۔ ………………………… دلاور گھر واپس آیا تو گیٹ پہ اس کی ملاقات شہزاد اور اس کی فیملی سے ہوگئی۔ شہزاد اور دلاور سلام دعا کرنے لگے تو طوبیٰ چا...

Phantosmia (EP 11) By Saira Ghaffar Complete Online Urdu Novel

Phantosmia By   Saira Ghaffar   Complete Online Urdu Novel فینٹوسمیا (سائرہ غفار) قسط نمبر 11 چند دن بعد وہ لوگ رپورٹس لے کر دوبارہ ڈاکٹرشانزے کے پاس پہنچے۔ڈاکٹر نے تمام رپورٹس چیک کرنے کے بعد ان کو خوش خبر ی سنائی۔ ”سب کچھ بالکل پرفیکٹ ہے۔ میرا ڈر صرف وہم تھا۔ “ ”ڈاکٹر کیا آپ ہمیں بتا سکتی ہیں کہ آپ کو کیا وہم تھا؟“کائنات نے پہلی بار سوال کیا تھا۔ ”جی بالکل بیٹا میں بتا سکتی ہوں ……دراصل یہ جو مسئلہ آپ کے ساتھ ہے آپ کو مختلف اچھی بری قسم کی بو محسوس ہوتی ہے۔ یہ اصل میں فینٹوسمیا کہلاتی ہے۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کا کوئی مستقل علاج نہیں ہے۔ اصل میں یہ مسئلہ بذات خود کوئی مسئلہ نہیں بلکہ یہ ایک علامتی مسئلہ ہے۔ جن لوگوں کو یہ بو محسوس ہونے کی شکایت رہتی ہے ان کو ایک یا پھر دونوں نتھنوں سے بو محسوس ہوتی ہے۔ یہ برین ٹیومر کی نشاندہی ہوتی ہے۔“ڈاکٹرسانس لینے کو رکی۔ ”برین ٹیومر؟“شاہدہ اور دلاور ایک دم پریشان ہوگئے تو ڈاکٹر شانزے نے مسکرا کر ان کو دیکھا:”آپ لوگ شکر کریں کہ آپ کی بیٹی کا ایم آر آئی بالکل کلئیر اور بالکل صاف ہے۔ اسے صرف فینٹوسمیا ہے۔ جو کہ کچ...