Skip to main content

Milay Ho Tum Hum Ko Baray Naseebon Say (EP 4) By Saira Ghaffar Complete Online Urdu Novel

Milay Ho Tum Hum Ko Baray Naseebon Say 

By Saira Ghaffar 

Complete Online Urdu Novel


ملے ہوتم ہم کو بڑے نصیبوں سے

(سائرہ غفار)


قسط نمبر 4



”وینٹی………………وینٹی لیٹر……“میں گرنے لگا تو مجھے کمیل نے ایک دم سے سنبھال لیا۔پاپا مجھے دیکھ کر ایک قدم آگے بڑھے پھر وہیں رک گئے۔مجتبیٰ انکل آگے آئے اور مجھے غور سے دیکھنے لگے۔ آویزش مما اور کائنات آنٹی دم سادھے مجھے دیکھ رہی تھیں۔ 
”اور کیا کہہ رہے تھے قادری صاحب؟‘‘مجتبیٰ انکل نے پوچھا وہ فکرمند نظر آرہے تھے۔
پاپا نے سر ہلایا:”چانسز ……بہت کم ہیں۔“پاپا بھی پریشان تھے۔مجھے ابھی سب کو دیکھ کر محسوس ہورہاتھا کہ میں اوور ری ایکٹ کر گیا تھا ورنہ یہاں تو سب انسانیت کے ناطے ہی سہی لیکن پریشے کے لئے دل سے فکر مند تھے۔ کائنات آنٹی پاپا کی بات سن کر ایک دم دعا مانگنے شروع ہوگئیں۔میں زمین پر بیٹھا تھا مجھے پاپا کی بات پر یقین ہی نہیں آیاتھا۔ میں یقین کرنا ہی نہیں چاہتا تھا۔میری آنکھوں سے سیلاب رواں تھا مگر مجھے اندازہ ہی نہیں تھا ایسا لگ رہاتھا کہ جیسے میں خود کومہ میں چلا گیا ہوں۔کمیل مجھے سہلا رہاتھا ہوش میں لانے کی کوشش کررہاتھا۔سب کی آوازیں مجھے کنویں سے آتی محسوس ہورہی تھیں۔
ایک بار پھر پاپا کا موبائل بجا اور جیسے میں بھی ہوش میں آگیا۔ پاپا نے تیزی سے کال ریسیو کی:”جی قادری صاحب……اوہ…………جی جی ہم آتے ہیں ……جی آپ فکر نہ کریں ……بس ابھی نکلتے ہیں ……اللہ حافظ۔“
پاپا نے فون بند کرتے ہی کہا:”ہم سب کو اسپتال چلنا چاہئے۔پریشے کی طبیعت بہت خراب ہے۔ وہاں چل کر تمام فارمیلیٹیز بھی پوری کرنی ہیں۔“
مجھے نہیں معلوم میں کیسے اسپتال پہنچا۔کمیل اور پاپا مجھے گھسیٹتے ہوئے لے جارہے تھے اور میرے قدم تھے کہ اٹھ ہی نہیں رہے تھے۔اسپتا ل میں میں آئی سی یو کے باہر ایک کرسی پر بیٹھا تھا مجھے کسی چیز کا ہوش نہیں تھا۔ تھوڑی دیر بعد کمیل آکر میرے برابر میں بیٹھا تو میں نے اسے دیکھا۔وہ میرا اشارہ سمجھ گیا اور نفی میں سر ہلاکر بولا:”ابھی تک کچھ نہیں کہہ سکتے۔ قادری انکل کا کہنا ہے کہ وینٹی لیٹر پر رکھنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔“کمیل کی آواز بہت دھیمی تھی یا مجھے سننے میں دقت ہورہی تھی معلوم نہیں ……مگر میں ایسا کچھ بھی سننا نہیں چاہتا تھا۔میں نے آنکھیں بند کر کے دیوار سے ٹیک لگا لی۔تھوڑی دیر بعد مجھے پاپا اور مجتبیٰ انکل کی آوازیں سنائی دینے لگی وہ میرے سامنے آئی سی یو کے دروازے کے سامنے کھڑے ہو کر باتیں کررہے تھے۔میں آنکھیں بند کئے سننے لگا۔
”قادری کا کہنا ہے کہ کوئی فائدہ ہی نہیں ہے……“یہ پاپا تھے۔
”لیکن ہم ایسے کیسے کوشش کرنا ترک کرسکتے ہیں۔“مجتبیٰ انکل کی آواز میں پریشانی کی جھلک تھی۔
”سب سے زیادہ پریشانی کی بات تو یہ ہے کہ ابھی تک اس کے گھروالوں کا پتہ نہیں چلا۔ اگر کچھ ایسا ویسا ہوگیا تو اللہ جانے کیا ہوگا……گھر والے ساری زندگی انتظار کریں گے اور وہ……“پاپا ایک دم رک گئے مجھے لگا میری سانسیں بھی رک رہی ہیں۔میں ایک دم سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔ پاپا اور مجتبیٰ انکل نے مجھے دیکھا اور پھر سے باتوں میں مشغو ل ہوگئے۔
”ہمیں ایک دو دن انتظار کرنا چاہئے۔شاید کوئی معجزہ ہوجائے۔“
”نہیں مجتبیٰ مجھے نہیں لگتا کہ کوئی معجزہ ہوگا۔ قادری نے مجھے صاف بتایا ہے کہ وینٹی لیٹر محض بل بڑھانے کا بہانہ ہے۔ پرائیوٹ اسپتالوں میں یہی تو ہوتا ہے۔“
”ٹھیک ہے بھائی صاحب پھر جیسا آپ مناسب سمجھیں۔“
”ایسا کرو کمیل اور تم جاکر اس کی آخری رسومات کی تیاری کرو میں قادری سے بات کر کے آتا ہوں۔“پاپا نے سب معاملا ت طے کر لئے تھے۔ اچانک میں اپنی کرسی سے اٹھا اور پاپا کے سامنے جا کھڑا ہوا:”آپ ایسا کچھ نہیں کریں گے پاپا۔وہ ابھی زندہ ہے۔“
”معید……وہ زندہ ہے مگر مصنوعی تنفس پر……مصنوعی کا مطلب جانتے ہو تم؟“
”کچھ بھی پاپا مگر آپ قادری انکل سے کوئی بات نہیں کریں گے۔ ہمم معجزے کا انتظار کریں گے……پلیز۔“میری آنکھوں میں وحشت تھی……لہجے میں لجاجت تھی……پاپا مجھے چند لمحے دیکھتے رہے پھر بولے:”ٹھیک ہے……میں اسے وینٹی لیٹر سے نہیں ہٹواتا مگر……میری ایک شرط ہے۔“مجتبیٰ انکل نے تعجب سے مجھے اور پاپا کو دیکھا تھا۔
”میں آپ کی ہر شرط مانوں گا پاپا۔جو آپ کہیں گے کروں گا۔“میں روتے ہوئے بولتا جارہاتھا۔



”ٹھیک ہے۔پھر آج ہی تمہارا اور آویزش کا نکاح ہو گا۔ مجتبیٰ جاؤ نکاح خواں کا انتظام کرو۔“پاپا کی شرط سن کر میرا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔

مجتبیٰ انکل نے حیرت سے پاپا کو دیکھا:“لیکن وقار بھائی……“پاپا نے ہاتھ کے اشارے سے ان کو کچھ بھی بولنے سے روکا:”مجتبیٰ میں جیسا کہتا ہوں ویسا کرو……جاؤ۔“
مجتبیٰ انکل سر ہلاتے ہوئے چلے گئے۔
ایک گھنٹے کے اندر اندر میرا اور آویزش کا نکاح ہوگیا۔ مجھے یقین ہی نہیں آرہاتھا کہ یہ سب کچھ ایسے ہوگا۔ آویزش بے انتہا خوش تھی اور میرے اندر لگ رہاتھا کہ اندھیرا چھا گیا ہے۔گھپ اندھیرا ……کچھ بھی دکھائی اور سجھائی نہیں دے رہاتھا۔سب مجھے مبارک باد دے رہے تھے اورمیرا دل تھا کہ اسپتال میں اٹکا ہوا تھا۔
آخر شام کو مجھے اجازت ملی پریشے کے پاس آنے کی لیکن آویزش میرے ساتھ تھی۔
 پورے حق کے ساتھ……ملکہ بنی ہوئی……اس کا انداز ایک دم بدل گیاتھا……
وہ میرے بازو کو پکڑ کر آئی سی یو کے سامنے آکھڑ ی ہوئی اور اندر جھانک کر دیکھا۔
میں سامنے والی کرسی پر بیٹھ گیا تھا ویسے ہی جیسے نکاح سے پہلے بیٹھ گیا تھا۔ 
آویزش اندر کا جائزہ لینے کے بعد میرے برابر آ کر بیٹھ گئی۔اس نے میرا ہاتھ تھام لیااور دھیرے دھیرے سہلانے لگی۔میں اسے دیکھنے لگا۔وہ دھیرے دھیرے نرم لہجے میں بولی:”پریشے بہت جلد اچھی ہوجائے گی۔ اور ہم جلد ہی اس کے گھر والوں کو بھی ڈھونڈ نکالیں گے۔“اس کی دھیمی سی مسکان……اس کا نرم لمس……اور اس کی امید …… سب مجھے بہت اچھا لگ رہاتھا مگر میں کچھ نہیں بول پایا۔ میں نے دوبارہ آنکھیں موند کر سر دیوار سے لگالیا۔

         ……………………٭٭…………٭٭……………………

آج میری شادی کو تین دن گزر چکے تھے۔ آویزش بہت خوش تھی اس نے من چاہا جیون ساتھی پالیاتھا۔ مگر میرے اندر گہری تاریکی چھائی ہوئی تھی نجانے کیوں میں پریشے کا خیال اپنے دل و دماغ سے نکالنے میں بالکل بھی کامیاب نہیں ہوپارہاتھا۔پاپا نے آج ہمارے ولیمے کی دعوت رکھی تھی اور قریبی دوستوں اور رشتے داروں کو مدعو کیا تھا۔ میں مسکرانے کی کوشش میں مسلسل ناکامی کا منہ دیکھ رہاتھا۔ کمیل میرے ساتھ ایلفی سے چپکا بیٹھا تھا۔ ولیمے کی دعوت ایک بڑے ہوٹل میں رکھی گئی تھی میں کمیل کے ساتھ پہنچ گیاتھا۔ آویزش پارلر گئی تھی اور اسے مما اور کائنات آنٹی نے اپنے ساتھ لے کر آنا تھا۔ میں بے دلی سے ادھر ادھر دیکھ رہاتھا جب شور مجا کہ دلہن آگئی دلہن آگئی۔کئی لوگ دلہن دیکھنے کو استقبالیہ کی طرف دوڑے۔ جب بھیڑ چھٹی تو سامنے سے ا ٓتی حورپری کو دیکھ کر میں مبہوت سا ہوگیا۔ ”یہ آویزش نہیں ہوسکتی۔“میرے دل نے سرگوشی کی:”یہ تو کوئی اور ہی ہے۔“
”آہم آہم……منہ بند کرلو انکل……“کمیل نے مجھے کہنی مار ی تھی۔ میں ایک دم گڑبڑا کر صوفے سے اٹھ کھڑا ہوا۔ آویزش نے سیڑھی کے قریب پہنچ کر میری جانب اپنا نازک ہاتھ بڑھایا تو مجبوراً مجھے اس کا ہاتھ تھامنا پڑا۔وہ اوپر آچکی تھی مگر میں دنیا و مافیہا سے بے خبر صرف اسے ہی تک رہاتھا۔ اس کی مسکراہٹ گہری ہوگئی۔
”کتنی دیر دیکھیں گے؟“ادھراُدھر دیکھتے ہوئے وہ مجھ سے مخاطب تھی۔ میں ٹھنڈی سانس بھر کر بولا:”پتہ نہیں ……“
”اچھا ہے۔“پھر میری طرف جھکی:”ویسے بھی مجھے آپ کا یہ انداز بہت اچھا لگ رہا ہے۔“
”مگر مجھے نہیں لگ رہا۔“میں صاف گوئی سے بولا۔اس نے حیرت سے مجھے دیکھا۔ ایسا کرتے ہوئے اس کی بڑی بڑی آنکھیں اور بھی بڑی ہوگئیں تھیں اور حد درجہ خوبصورت لگ رہی تھیں۔مجھے لگا میں کسی جادو کے حصار میں قید ہوگیاہوں مگراگلے ہی لمحے……اس نے پلکیں جھپکیں اور سحر جیسے ٹوٹ گیا میں حقیقت میں واپس لوٹ آیا۔
”تم نے میک اپ کیا ہے تو ……“میں جھجھک کر رک گیا۔
”تو……؟؟“وہ ایک دم سے میرے سامنے آکھڑی ہوئی۔
”تو کسی اور کی طرح لگ رہی ہو۔“میرا سر خود بخود جھک گیا۔
”کسی اور کی طرح؟“اس نے میری جھکی ٹھوڑی کو انگلی سے اوپر کیا:”یا پریشے کی طرح……“میں نے اپنی ٹھوڑی سے اس کا ہاتھ ہٹایا:”جب جانتی ہو تو پوچھ کیوں رہی ہو؟“وہ اپنا لہنگا سیٹ کرتی صوفے پہ بیٹھ گئی اور میں نے اس کی تقلید کی۔
وہ ایک دم کھلکھلا کر ہنسی۔ اس کی مترنم ہنسی میں غور سے سننے لگا جیسے جلترنگ بج رہا ہو۔ مجھے ایسا لگا جیسے اُس کی ہنسی کے میوزک پہ میں ڈانس کرسکتا ہوں۔ اس کی ہنسی ایسا سگنل تھا جو مجھے اپنے پسندیدہ گانے کے شروع ہونے سے پہلے ملتا ہے۔اور مجھے واقعی کہیں سے گانے کے بول سنائی دینے لگے۔
او رے پیااو رے پیا
جلنے لگا کیوں من باورا رے
آیا کہاں سے یہ حوصلہ رے
او رے پیااو رے پیا
تابا بانا تانا بانابُنتی ہواہائے بُنتی ہوا
بوندیں بھی تو آئیں نہیں باز یہاں 
سازش میں شامل سارا جہاں ہے
ہر ذرے ذرے کی یہ التجا ہے
او رے پیااو رے پیا
ؔاس کی ہنسی ایک دم رک گئی او ر میرے دل و دماغ میں چلنے والا ٹیپ ریکارڈر بھی ایک دم سے ٹھک کی آواز سے رک گیا۔ ایسا میرے ساتھ پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔ آج کل میں خود کو سمجھنے سے قاصر تھا۔ اس نے ایک اد ا سے مجھے دیکھا پھر مسکرانے لگی۔
”ایک بات بتاؤں؟“اس نے پاس ہوتے ہوئے سرگوشی میں پوچھا۔
میں نے اسے گھور کر دیکھا۔میں اس کی بات سننا نہیں چاہتا تھا کیونکہ مجھے یقین تھا کہ وہ میرا مذاق اڑائے گی مگر میرا سر خوبخود اثبات میں ہل گیا۔
”میں پریشے سے بالکل بھی خوفزدہ نہیں ہوں۔ میں نے اپنا من چاہا جیون ساتھی پا لیا ہے۔ آپ میرے ہیں اب مجھے موت ہی آپ سے الگ کرسکتی ہے۔“اس کے لہجے کا اعتماد میرے سکون کی دھجیاں اڑا رہاتھا۔ میں بس اسے دیکھے ہی جا رہاتھا۔ میں کیا کر رہا تھا مجھے خود بھی معلوم نہیں تھا۔ میں نے اپنا چہرہ موڑ کر اردگرد کے مناظر میں پناہ حاصل کرنے کی کوشش کی جبھی مجھے ڈاکٹر قادری نظر آئے اور میں عجلت میں ان کی طرف بڑھا۔
”السلام اعلیکم ڈاکٹر انکل۔“
’ارے وعلیکم السلام برخوددار کیسے ہو بھئی؟بہت بہت مبارک ہو بیٹا۔“وہ خوشدلی سے بولے۔
”شکریہ انکل……انکل وہ ہماری مریضہ کیسی ہیں اب؟“میں نے دھڑکتے دل سے سوال کیا۔ اور دل ہی دل میں دعا کرنے لگا کہ جواب میں میرے کانوں کو کچھ بھی برا سننے کو نہ ملے۔
”بیٹا میں نے آپ کے پاپا کو بتا دیاتھا کہ وینٹی لیٹر پر اسپتال اتنے ہی دن رکھے گا جتنے دن آپ رکھ سکتے ہوں۔ ہمیں کوئی مسئلہ نہیں ہوتا لیکن مریض میں کچھ بھی باقی نہیں ہوتا تبھی اسے وینٹی لیٹر پر رکھا جاتا ہے۔“ڈاکٹر قادری کی صاف گوئی پر میرے چہرے کے تاثرات ایک دم بگڑنے لگے۔


پچھلی قسط                                                          اگلی قسط

Comments

Popular posts from this blog

Wo merey dil ka malal hay by Saira Ghaffar Complete Online Urdu Novel

Wo merey dil ka malal hay  By Saira Ghaffar  Complete Online Urdu Novel وہ میرے دل کاملال ہے (سائرہ غفار) قسط نمبر 1 ”مج……مجھ……جھ……ے……ے……ے……بچ……چا……لل……وووو……“اس کی آواز اُسے صاف سنائی دے رہی تھی۔  وہ اس کے سامنے کھڑی ا س کی ابلتی ہوئی آنکھیں دیکھ رہی تھی۔ وہ دیکھ رہی تھی کہ کیسے اس کی بہن تڑپ تڑپ کر منہ سے خون کی الٹیاں کررہی ہے۔ وہ دیکھ رہی تھی ……صاف……اور واضح……اسے دکھائی دے رہاتھا……سب کچھ……ایک دم صاف ……ایک ایک چیز اسے نظر آرہی تھی……اسے وہ میرون اور گولڈن چوڑیاں بیڈ سے ٹکرا کر ٹوٹتی ہوئی نظر آرہی تھیں جو اس نے خو داس کے ساتھ جا کر پسند کروائیں تھیں۔ ”دیکھو ذرا……یہ چوڑیاں میرے لہنگے کے ساتھ کیسی لگیں گی؟“ ”بہت پیاری……تم یہی لینا۔“ اس کے سامنے وہی چوڑیاں اس کی کلائی میں پیوست ہوتی جارہی تھیں۔وہ درد کے مارے تڑپ کر کبھی اِدھر گر رہی تھی تو کبھی اُدھر۔ اس سب میں اس کی جیولری ہر طرف سے بے ترتیب ہورہی تھی۔ اس کا نیکلس گردن میں پھندا ڈال رہاتھا۔یہ تنگ نیکلس بھی اُسی نے پسند کروایا تھا۔ ”یہ لمبا نیکلس مت لو……اچھا نہیں لگے گا……کوئی چھوٹے سائز کا لو……جو گ...

Phantosmia (EP 3) By Saira Ghaffar Complete Online Urdu Novel

Phantosmia By   Saira Ghaffar   Complete Online Urdu Novel فینٹوسمیا (سائرہ غفار) قسط نمبر 3 ”یہ تم کیا کرتی رہتی ہو ہروقت؟ کیا فالتو کے اخبار پھاڑ پھاڑ کر پھول بنا کر ان گملوں میں سجاتی رہتی ہو؟“دلاور کے جانے کے بعد سارا نزلہ معصوم سی کائنات پہ گرنے لگاتھا۔ کائنات نے سہم کر ماں کو دیکھا جو جارحانہ انداز میں کاغذ کے پھولوں سے سجے گملوں کی طرف پیش قدمی کر رہی تھی۔ کائنات نے ایک دم سامنے آکر ماں کو روک دیا:”امی یہ میرے پھول ہیں پلیز ان کو کچھ مت کریں۔“ ”فالتو کام تم دونوں باپ بیٹی کے شوق ہیں۔ بیکار اور فضول کاموں میں اپنا وقت برباد کرتے رہتے ہو۔ جاؤدفع ہوجاؤ یہاں سے۔“شاہدہ نے غصے سے بیٹی کو دھکا دیا۔ اور خود دوسرے کمرے میں چلی گئیں۔ کائنات نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ اس کے پھول اور گملے بچ گئے ورنہ شاہدہ کے غصے سے وہ خود بھی واقف تھی۔ وہ پھر سے اپنے محبوب مشغلے یعنی اخبار اور مختلف کترنوں سے پھول بنانے میں نئے سرے سے جت گئی۔ ………………………… دلاور گھر واپس آیا تو گیٹ پہ اس کی ملاقات شہزاد اور اس کی فیملی سے ہوگئی۔ شہزاد اور دلاور سلام دعا کرنے لگے تو طوبیٰ چا...

Phantosmia (EP 11) By Saira Ghaffar Complete Online Urdu Novel

Phantosmia By   Saira Ghaffar   Complete Online Urdu Novel فینٹوسمیا (سائرہ غفار) قسط نمبر 11 چند دن بعد وہ لوگ رپورٹس لے کر دوبارہ ڈاکٹرشانزے کے پاس پہنچے۔ڈاکٹر نے تمام رپورٹس چیک کرنے کے بعد ان کو خوش خبر ی سنائی۔ ”سب کچھ بالکل پرفیکٹ ہے۔ میرا ڈر صرف وہم تھا۔ “ ”ڈاکٹر کیا آپ ہمیں بتا سکتی ہیں کہ آپ کو کیا وہم تھا؟“کائنات نے پہلی بار سوال کیا تھا۔ ”جی بالکل بیٹا میں بتا سکتی ہوں ……دراصل یہ جو مسئلہ آپ کے ساتھ ہے آپ کو مختلف اچھی بری قسم کی بو محسوس ہوتی ہے۔ یہ اصل میں فینٹوسمیا کہلاتی ہے۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کا کوئی مستقل علاج نہیں ہے۔ اصل میں یہ مسئلہ بذات خود کوئی مسئلہ نہیں بلکہ یہ ایک علامتی مسئلہ ہے۔ جن لوگوں کو یہ بو محسوس ہونے کی شکایت رہتی ہے ان کو ایک یا پھر دونوں نتھنوں سے بو محسوس ہوتی ہے۔ یہ برین ٹیومر کی نشاندہی ہوتی ہے۔“ڈاکٹرسانس لینے کو رکی۔ ”برین ٹیومر؟“شاہدہ اور دلاور ایک دم پریشان ہوگئے تو ڈاکٹر شانزے نے مسکرا کر ان کو دیکھا:”آپ لوگ شکر کریں کہ آپ کی بیٹی کا ایم آر آئی بالکل کلئیر اور بالکل صاف ہے۔ اسے صرف فینٹوسمیا ہے۔ جو کہ کچ...