Skip to main content

Milay Ho Tum Hum Ko Baray Naseebon Say (EP 2) By Saira Ghaffar Complete Online Urdu Novel

Milay Ho Tum Hum Ko Baray Naseebon Say 

By Saira Ghaffar 

Complete Online Urdu Novel


ملے ہوتم ہم کو بڑے نصیبوں سے

(سائرہ غفار)


قسط نمبر 

آج اسے کومہ میں گئے ہوئے چوتھادن تھا اور ہم لوگوں نے ہر ممکن کوشش کر کے دیکھ لی تھی کہ اس کے گھر والوں کاکسی طرح سے پتہ لگ جائے مگر ہماری ہر کوشش بے کار جارہی تھی۔ ہم نے ٹریفک پولیس کی مدد لی لیکن اس سڑک پر کوئی کیمرہ نصب نہ ہونے کی وجہ سے ہمیں کوئی سراغ نہ مل سکا۔ ہم نے اخبارات میں اشتہار دے دیاتھا۔ ٹی وی اور لوکل کیبل پر بھی اشتہار چلوایا تھا مگر دو دن گزرنے کے بعد بھی ہم سے کسی نے رابطہ نہیں کیا تھا۔ میں بالکل مایوس ہو چکاتھا۔ میں سب سے زیادہ ڈسٹرب تھا اور آویزش مسلسل میرے ساتھ اسپتال میں آجارہی تھی۔ وہ مجھے ہشاش بشاش دیکھنا چاہتی تھی مگر ان تین چار دنوں میں میں نے ایک بار بھی شیو نہیں کی تھی میں خود سے بالکل لاپرواہ ہوگیاتھا۔ حالانکہ اس ایکسیڈنٹ میں میرا کوئی ہاتھ نہیں تھا لیکن پھر میں نجانے کیوں میں خود کو نارمل محسوس نہیں کررہاتھا۔میں اسے دیکھتا تھا تو میرے دل کو کچھ ہونے لگتاتھا۔ نجانے کیوں میں اسے دیکھتا تھا تو مجھے سکون محسوس ہوتا تھا۔ میں گھنٹوں بنا پلک جھپکائے اسے دیکھتا رہتاتھا اور وجہ میں خود بھی نہیں جانتا تھا۔آویزش کی موجود گی مجھے کھٹکنے لگی تھی۔ میں اس کے واپس جانے کا انتظار کرتا تھا۔ مجھے اس کی لمبی لمبی گفتگو سے وحشت محسوس ہونے لگی تھی۔ نجانے کیوں میں اتنے سالوں کی محبت کو بھولنے لگاتھا۔ یا شاید وہ محبت ہی نہیں تھی صرف انسیت تھی۔ لیکن آویزش……اسے تو مجھے سے محبت تھی ناں ……میں اس کے ساتھ زیادتی کررہاتھا اور مجھے اس بات کا احساس تھا لیکن میں خود کو بے بس محسوس کررہاتھا۔
دس دن کے بعد پاپا نے مجھے اسپتال جانے سے منع کردیا۔
”کیوں پاپا؟“
”بیٹا وہ ہماری رشتے دار نہیں ہے کہ ہم کام دھندے چھوڑ کر اس کی تیمارداری کریں۔“پاپا ناشتہ کرتے کرتے مجھے میری ذمہ داریاں یاد دلا رہے تھے:”آج تمہیں ایک میٹنگ میں آواری ہوٹل بھی جاتا ہے۔ اور یہ بہت ضروری میٹنگ ہے۔“
”پاپا انسانیت کے ناطے تو ہمارا کچھ فرض بنتا ہے یا وہ انسان بھی نہیں ہے؟“میں نے چبھتے ہوئے لہجے میں پوچھا۔
”بیٹا جسے آپ انسانیت کہہ رہے ہیں اسی کے ناطے ہم ایک مہنگے اور بڑے پرائیوٹ اسپتال میں اس لڑکی کا علاج معالجہ کروارہے ہیں۔ یہ تمام اخراجات انسانیت کے ہی ناطے میں اپنی جیب سے بھر رہاہوں۔“پاپا نے مجھے شرم دلائی چند لمحوں تک تو میں کچھ بول ہی نہیں پایا صرف پلیٹ کو گھورتا رہا۔
”ارے معید بیٹا تمہاری کمرے کے لئے پرپل کلر اسکیم کیسی رہے گی؟“مما کمرے میں داخل ہوئیں تو مجھے دیکھ کر پوچھنے لگیں۔
”کلر اسکیم؟کیوں مما؟“مجھے ان کی بات واقعی سمجھ نہیں آئی تھی۔
”لو ابھی سے بھلکڑ ہوگئے ہوکیا؟“مما نے مصنوعی خفگی سے مجھے دیکھا۔
”برخوددار کو کچھ بھی یاد نہیں ہے……شاید یہ بھی کومہ کی کیفیت میں چلے گئے ہیں۔“پاپا نے مجھ پر طنز کیا۔میں نے بہت مشکل سے اپنا غصہ کنٹرول کیاہواتھا۔
”اللہ نہ کرے……کیسی باتیں کرتے ہیں آپ بھی۔“مما کا دل دہل گیاتھا۔
پاپا جانے کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے تو مما مجھ سے مخاطب ہوئیں:”ان کو چھوڑو بیٹا اب تم مجھے بتاؤ کہ تم اور آویزش فرنیچر کس دن پسند کرنے جاؤ گے؟“
”مما ……وہ لڑکی اسپتال میں بیمار پڑی ہے اور آپ میری شادی کی تیاری کررہی ہیں؟“مجھے واقعی دیر سے بات سمجھ آئی تھی۔اور سب پر بہت زیادہ غصہ آیاتھا۔پاپا کا ہاتھ کوٹ پہنتے پہنتے ایک دم سے رکا اور انہوں نے مما کو اور مما نے پاپا کو دیکھاتھا۔
”کیا مطلب ہے تمہارا؟“پاپا نے عدالت لگالی تھی۔
”میں اس کے ٹھیک ہوجاتے تک شادی نہیں کرسکتا……“میں سر جھکائے بولا۔
”اس کے ٹھیک ہوجانے تک؟؟؟“پاپا آرام سے بولے پھر ایک دم چلائے:”نام تک تو پتہ نہیں تمہیں اس لڑکی کا اور اس کے لئے تم اپنی زندگی کی پلاننگ خراب کرنے پہ تلے ہوئے ہو۔منگنی والے دن ہی تین ماہ بعد کی شادی ہونا قرار پایاتھا اگر تمہیں یاد ہوتو……“
میں بالکل خاموش ہوگیاتھا کیونکہ میں اپنا غصہ کنٹرول کرنے کی کوشش کررہاتھا۔مما تو جیسے صدمے میں چلی گئی تھیں۔
 اسی وقت کریم بابامیرے دوست کمیل کے ساتھ اندر داخل ہوئے اور اسے چھوڑ کر خو دواپس چلے گئے۔کمیل نے آتے ہی سلام کیا اور اسے جواب میں کوئی گرمجوشی نہ ملی تو اس نے ماحول کی گرمی بھانپ لی اور اشارے سے مجھ سے پوچھنے لگا کہ کیا ہواہے؟
”اچھا ہوا کمیل تم آگئے……اس بے وقوف کو سمجھاؤ کچھ……“پاپا غصے سے باہر نکل گئے۔
مما کی آنکھوں میں ہلکی سی نمی میں نے واضح طور پر دیکھی۔کمیل نے ان سے پوچھا:”کیا کیا ہے اس نے آنٹی؟“
”اس عمر میں ہماری عزت نیلام کررہاہے بیٹا……“مما اپنی لرزتی آواز کے ساتھ کمرے سے تیزی سے باہر نکل گئیں۔
”یہ سب لوگ ایک ایک کر کے لاگ آؤٹ کیوں ہورہے ہیں؟“کمیل نے مجھ سے پوچھا۔
”بس یار کچھ نہیں ہوا……تجھے بتایا تھا ناں کہ ایک لڑکی کا ایکسیڈنٹ ہواتھا……“میں نے اسے دیکھا تواس نے سر ہلایا وہ جانتا تھا۔
”اورمما پاپامیری شادی کی تیاری کررہے ہیں ……“میں خاموش ہوگیا۔کمیل کو لگا میں مزید کچھ بولوں گا مگر جب میں خاموش رہاتو اس نے پوچھا:”تو؟؟؟مسئلہ کیا ہے؟تیری شادی تو طے ہی تھی……ایکسیڈنٹ بھی کسی اور کا ہوا ہے……پھر مسئلہ؟؟“
میں نے اسے غصے سے دیکھا:”میں نے منع نہیں کیا ……صرف اتنا کہا ہے کہ اسے ٹھیک ہوجانے دو پھر کروادینا میری شادی……“
”کیا؟؟؟کیا بولے تم؟؟؟اس لڑکی کے ٹھیک ہونے کے بعد شادی کرو گے؟؟؟آر یو ان یور سینسس……؟؟؟وہ مری کوئٹہ نہیں گئی کہ چند دنوں میں لوٹ آئے گی……وہ کومہ میں ہے……کومہ میں ……“کمیل کی حیرت بھی ٹاپ کلاس تھی۔میرا غصہ مزید سوا ہوگیا۔
”جب میں نے کہہ دیا تو بس کہہ دیا……نہیں کروں گا میں شادی بس……“میں اٹھا کھڑا ہوا اور کمرے سے باہر نکل گیا۔کمیل میرے پیچھے پیچھے تھا:”اچھا چل و جیسی تمہاری مرضی۔ لیکن یار مجھے اس لڑکی سے تو ملواؤ……اتنے دن ہوئے میں نے اس کے بارے میں صرف سنا ہے……اسے ایک بار بھی نہیں دیکھا۔“
میں اس کی آواز پر ٹھٹھک کر رکا اور اس کے متعلق سن کر اور سوچ کر ایک دم میں مسکرانے لگا۔ میں نے کمیل کو گاڑی میں بٹھایا اور ہم لوگ اسپتال پہنچ گئے۔

……………………٭٭…………٭٭……………………

وہ میری نظروں کے سامنے تھی اور میں اسے دیکھے ہی جارہاتھا۔کمیل کبھی مجھے دیکھ رہاتھا اور کبھی اسے۔ بالآخر وہ بولا:”یار یہ تو بڑی خوبصورت ہے۔“اس کی بات سن کر مجھے غصہ آنے لگا۔کوئی بھی کیوں اس کی تعریف کرے۔لیکن میں نے کنڑول کیا۔
”یار یہ اگر ٹھیک ہوتی تو میں اس سے دوستی کرلیتا……“بس اب میری برداشت سے باہر ہو گیاتھا میں نے کمیل کا گریبان پکڑ لیا۔ وہ مجھے حیرت سے دیکھ رہاتھا۔میری آنکھیں لال ہورہی تھیں اور میں آپے سے باہر ہوگیاتھا:”بدتمیزی بلکل نہیں ……ورنہ میں بھول جاؤں گا کہ تم میرے دوست ہو……“میں نے ایک ایک لفظ چبا کر ادا کیا اور جھٹکے سے کمیل کا گریبان چھوڑا۔ وہ مجھے بے یقینی سے گھوررہاتھا۔


        ……………………٭٭…………٭٭……………………


پچھلی قسط                                                        اگلی قسط

Comments

Popular posts from this blog

Wo merey dil ka malal hay by Saira Ghaffar Complete Online Urdu Novel

Wo merey dil ka malal hay  By Saira Ghaffar  Complete Online Urdu Novel وہ میرے دل کاملال ہے (سائرہ غفار) قسط نمبر 1 ”مج……مجھ……جھ……ے……ے……ے……بچ……چا……لل……وووو……“اس کی آواز اُسے صاف سنائی دے رہی تھی۔  وہ اس کے سامنے کھڑی ا س کی ابلتی ہوئی آنکھیں دیکھ رہی تھی۔ وہ دیکھ رہی تھی کہ کیسے اس کی بہن تڑپ تڑپ کر منہ سے خون کی الٹیاں کررہی ہے۔ وہ دیکھ رہی تھی ……صاف……اور واضح……اسے دکھائی دے رہاتھا……سب کچھ……ایک دم صاف ……ایک ایک چیز اسے نظر آرہی تھی……اسے وہ میرون اور گولڈن چوڑیاں بیڈ سے ٹکرا کر ٹوٹتی ہوئی نظر آرہی تھیں جو اس نے خو داس کے ساتھ جا کر پسند کروائیں تھیں۔ ”دیکھو ذرا……یہ چوڑیاں میرے لہنگے کے ساتھ کیسی لگیں گی؟“ ”بہت پیاری……تم یہی لینا۔“ اس کے سامنے وہی چوڑیاں اس کی کلائی میں پیوست ہوتی جارہی تھیں۔وہ درد کے مارے تڑپ کر کبھی اِدھر گر رہی تھی تو کبھی اُدھر۔ اس سب میں اس کی جیولری ہر طرف سے بے ترتیب ہورہی تھی۔ اس کا نیکلس گردن میں پھندا ڈال رہاتھا۔یہ تنگ نیکلس بھی اُسی نے پسند کروایا تھا۔ ”یہ لمبا نیکلس مت لو……اچھا نہیں لگے گا……کوئی چھوٹے سائز کا لو……جو گ...

Phantosmia (EP 3) By Saira Ghaffar Complete Online Urdu Novel

Phantosmia By   Saira Ghaffar   Complete Online Urdu Novel فینٹوسمیا (سائرہ غفار) قسط نمبر 3 ”یہ تم کیا کرتی رہتی ہو ہروقت؟ کیا فالتو کے اخبار پھاڑ پھاڑ کر پھول بنا کر ان گملوں میں سجاتی رہتی ہو؟“دلاور کے جانے کے بعد سارا نزلہ معصوم سی کائنات پہ گرنے لگاتھا۔ کائنات نے سہم کر ماں کو دیکھا جو جارحانہ انداز میں کاغذ کے پھولوں سے سجے گملوں کی طرف پیش قدمی کر رہی تھی۔ کائنات نے ایک دم سامنے آکر ماں کو روک دیا:”امی یہ میرے پھول ہیں پلیز ان کو کچھ مت کریں۔“ ”فالتو کام تم دونوں باپ بیٹی کے شوق ہیں۔ بیکار اور فضول کاموں میں اپنا وقت برباد کرتے رہتے ہو۔ جاؤدفع ہوجاؤ یہاں سے۔“شاہدہ نے غصے سے بیٹی کو دھکا دیا۔ اور خود دوسرے کمرے میں چلی گئیں۔ کائنات نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ اس کے پھول اور گملے بچ گئے ورنہ شاہدہ کے غصے سے وہ خود بھی واقف تھی۔ وہ پھر سے اپنے محبوب مشغلے یعنی اخبار اور مختلف کترنوں سے پھول بنانے میں نئے سرے سے جت گئی۔ ………………………… دلاور گھر واپس آیا تو گیٹ پہ اس کی ملاقات شہزاد اور اس کی فیملی سے ہوگئی۔ شہزاد اور دلاور سلام دعا کرنے لگے تو طوبیٰ چا...

Phantosmia (EP 11) By Saira Ghaffar Complete Online Urdu Novel

Phantosmia By   Saira Ghaffar   Complete Online Urdu Novel فینٹوسمیا (سائرہ غفار) قسط نمبر 11 چند دن بعد وہ لوگ رپورٹس لے کر دوبارہ ڈاکٹرشانزے کے پاس پہنچے۔ڈاکٹر نے تمام رپورٹس چیک کرنے کے بعد ان کو خوش خبر ی سنائی۔ ”سب کچھ بالکل پرفیکٹ ہے۔ میرا ڈر صرف وہم تھا۔ “ ”ڈاکٹر کیا آپ ہمیں بتا سکتی ہیں کہ آپ کو کیا وہم تھا؟“کائنات نے پہلی بار سوال کیا تھا۔ ”جی بالکل بیٹا میں بتا سکتی ہوں ……دراصل یہ جو مسئلہ آپ کے ساتھ ہے آپ کو مختلف اچھی بری قسم کی بو محسوس ہوتی ہے۔ یہ اصل میں فینٹوسمیا کہلاتی ہے۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کا کوئی مستقل علاج نہیں ہے۔ اصل میں یہ مسئلہ بذات خود کوئی مسئلہ نہیں بلکہ یہ ایک علامتی مسئلہ ہے۔ جن لوگوں کو یہ بو محسوس ہونے کی شکایت رہتی ہے ان کو ایک یا پھر دونوں نتھنوں سے بو محسوس ہوتی ہے۔ یہ برین ٹیومر کی نشاندہی ہوتی ہے۔“ڈاکٹرسانس لینے کو رکی۔ ”برین ٹیومر؟“شاہدہ اور دلاور ایک دم پریشان ہوگئے تو ڈاکٹر شانزے نے مسکرا کر ان کو دیکھا:”آپ لوگ شکر کریں کہ آپ کی بیٹی کا ایم آر آئی بالکل کلئیر اور بالکل صاف ہے۔ اسے صرف فینٹوسمیا ہے۔ جو کہ کچ...