Phantosmia
By Saira Ghaffar
Complete Online Urdu Novel
فینٹوسمیا
(سائرہ غفار)
قسط نمبر 4
شاہدہ نے اپنے گھر کا سکون اپنے ہاتھوں سے برباد کردیاتھا اور اسے رتی برابر بی فکر نہیں تھی کہ وہ کیا کررہی ہے۔ وہ محض شک کو بنیاد بنا کر اپنے میاں کو کٹہرے میں لاکھڑا کر رہی تھی۔ اس کے میاں کا بھی صبر تھا جو تحمل مزاجی سے اس سے نباہ کئے جارہاتھا۔ شاہدہ نے جیسے تیسے رات کا کھانا پکا کر ان دونوں کے سامنے میز پہ پٹخنے کے انداز میں دھر ا تو کائنات نے ایک دم سے ناک سکیڑ کر اعلان کیا کہ اسے بدبو آرہی ہے۔
”امی اس میں سے مجھے بدبو آرہی ہے۔“
”بدبو؟“دلاور نے فوراً کھانے کو سونگھا اور پھر کہا:”نہیں بیٹا کوئی بدبو نہیں ہے۔“
”لیکن مجھے بدبو آرہی ہے اور میں یہ بدبو والا کھانا نہیں کھاؤں گی۔“وہ کرسی سے اٹھ کھڑی ہوئی تو دلاور اسے پیچھے سے آوازیں دینے لگا۔
شاہدہ نے غور سے اسے جاتے دیکھا پھر کھانے کو سونگھا پھر دلاور کو دیکھا۔ تو دلاور نے اپنی پلیٹ میں کھانا نکالنا شروع کردیا:”اب تم وہم میں نہ پڑ جاؤ کوئی بدبو نہیں آرہی۔ بچی ہے اسے شاید فی الحال خوشبو اور بدبو میں ٹھیک طرح سے فرق کرنا نہیں آرہا۔“دلاور نے نوالہ منہ میں ڈالا تو شاہدہ کو یقین آیا کہ واقعی کھانا صحیح بنا ہے اور وہ بھی کرسی پہ بیٹھ کر اپنی پلیٹ میں کھانا نکالنے لگی۔
تھوڑی دیر بعد کائنات آئی اور ا س کے ہاتھ میں ایک پھول تھا جو اس نے اوریگامی سے بنایا تھا۔ اس نے وہ پھول دلاور کی ناک سے لگایا اور پھر شاہدہ کی ناک سے لگایا، پھر اس نے خود اس پھول کو سونگھا اور بولی:”امی ابو اس پھول کی خوشبو کہیں چلی گئی ہے۔ میں نے اس کا نام کیک فلاور رکھا تھا۔ لیکن اب اس میں سے خوشبو نہیں آرہی۔“
وہ روہانسی ہو رہی تھی۔
”کیک فلاور؟یہ کون سا پھول ہوتا ہے بھئی؟“دلاور نے تعجب سے پوچھا۔
”جب مجھے پچھلے ہفتے چاکلیٹ کیک کی خوشبو آرہی تھی تو میں نے یہ فلاور بنایا تھا اور اس فلاور میں وہ کیک والی خوشبو چلی گئی تھی۔ ابھی اس میں سے وہ خوشبو نہیں آرہی۔“اس نے منہ بسورتے ہوئے کہا۔
”ارے میری رانی بیٹی خوشبو کو کوئی کام ہوگا اس لئے چلی گئی ہو گی۔ تھوڑے دن گھوم پھر کر واپس آجائے گی۔“ دلاور نے اسے پچکارا:”چلو شاباش آجاؤ میرے ساتھ کھانا کھالو۔“
”نہیں ابو مجھے اس میں سے بدبو آرہی ہے۔ مجھ سے نہیں کھایا جائے گا۔“ کائنات نے منہ پہ ہاتھ رکھ دیا۔
”بیٹا بدبو بھی ابھی چلی گئی ہے۔اس کو بھی کام تھا۔ ابھی بدبو بھی یہاں پہ نہیں ہے وہ بھی کچھ دنوں کے بعد آئے گی۔“دلاور نے اسے کھانا کھانے کے لئے منانے کی کوشش کی۔
”نہیں ابو بدبو نہیں گئی۔ اسے کوئی کام کاج نہیں ہے وہ یہیں پہ ہے۔ وہ یہیں پہ ہے۔“کائنات کہتی ہوئی بھاگ کر وہاں سے چلی گئی۔ شاہدہ نے اسے جاتے دیکھا۔ اس کا دل کھانے سے ایک دم اچاٹ ہوگیاتھا۔ اس نے دلاور کو دیکھا اور پھر اپنی پلیٹ لے کر کچن میں چلی گئی۔
دلاور نے بے دلی سے ایک لقمہ لیا……اسے محسوس ہوا جیسے ذائقہ خوشبو رنگ سب کچھ کائنات کو محسوس ہونے والی بدبو نے نگل لیا ہے……اس نے بمشکل نوالہ نگلا اور پلیٹ کھسکا کر پرے کرتا ہاتھ دھونے سنک کی طرف بڑھ گیا۔
…………………………
آج وہ دونوں یو ٹیوب کی ایک ویڈیو سلو موشن میں دیکھتے ہوئے ریس لگارہے تھے۔ وہ دونوں اوریگامی کا ایک پرندہ بنانے کی کوشش کررہے تھے۔
ان دونوں نے ایک دوسرے کے لئے مختلف رنگ کے کاغذ چنے تھے۔
طوبیٰ کے پاس لال رنگ کا کاغذ تھا جبکہ حارم کے ہاتھ میں نیلاکاغذ تھا لیکن حارم کو مسلسل لال رنگ کے کاغذ میں دلچسپی محسوس ہورہی تھی۔وہ بار بار طوبیٰ کے ہاتھوں میں پکڑا لال رنگ کا کاغذ دیکھ رہاتھا اور ہر تھوڑی دیر بعد وہ کہتا:”مما آپ کے کاغذ کی کوالٹی کتنی اچھی ہے اسی لئے آپ کا پرندہ اچھا بن رہاہے۔“
طوبیٰ محض مسکرانے پہ ہی اکتفا کرتی۔
وہ دونوں چوکور کاغذ ہاتھ میں پکڑے ایک ایک اسٹیپ کو کاپی کرتے ہوئے پرندہ بنانے کی کوشش کررہے تھے۔
ان دونوں نے چوکور کاغذ کو آمنے سامنے والے کونوں سے آپس میں ملا کر ایک تکون کی شکل دی۔اس کے بعد انہوں نے آدھے سے تھوڑا کم تکون موڑ لیا پھر اس کے بعد انہوں نے کھلی ہوئی سائیڈز میں سے ایک تکونے حصے کو کھول کر اوپر کی طرف کر لیا تاکہ ایک ڈائمنڈ کی طرح کی شکل بن جائے۔اس کے بعد بیچ میں سے ڈبل کر لیا سارے کاغذ کو۔یہاں تک تو دونوں کا بالکل ایک جیسا تھا لیکن اس کے بعد طوبیٰ کا پرندہ بالکل ٹھیک بنتا جارہاتھا جبکہ حارم اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گیا کیونکہ اس کے اسٹیپ غلط ہوتے چلے جارہے تھے۔اس کے بعد دونوں سائیڈز کو تھوڑا اندر رکھ کر باقی واپس موڑ لینا تھا اور پھر اس کا منہ بنانے کے لئے درمیانی حصے کو اندر کی جانب ذرا سا ہاتھ سے دبا کر شیپ دے دینی تھی لیکن حارم وہاں اٹک کر رہ گیاتھا۔ اس نے طوبیٰ سے کہا کہ وہ اس کاغذ کی وجہ سے اٹک رہاہے۔طوبیٰ نے اس کو تھوڑا پچھلے اسٹیپ تک کھول کر اپنا والا کاغذ دے دیا۔اب حارم کے ہاتھ میں لال کاغذ تھا اور طوبیٰ کے پاس نیلا کاغذ تھا۔ طوبیٰ نے فوراً اپنے اسٹیپ مکمل کر کے پرندہ مکمل کر لیا جبکہ حارم اسی اسٹیپ پہ اٹکا رہ گیا۔طوبیٰ نے اس کے ہاتھ سے لال کاغذ لے کر اس کا پرندہ مکمل کرنے لگی:”حارم میرے بیٹے مسلسل شکایات کرنا انسان کو اس کے مقصد سے بھٹکا دیتا ہے۔ اگر تم شکایت کرنے کے بجائے فوکس کرتے تو شاید تم کامیاب ہوجاتے بلکہ پکا کامیاب ہوجاتے لیکن تم نے مسلسل اپنی شکایت جاری رکھی۔ اب دیکھو تمہیں لال کاغذ چاہیے تھا میں نے تمہیں دیا لیکن تمہاری کارکردگی نہیں بدلی ایسا اس لئے ہوا کہ تمہارا فوکس تمہارا مقصد پرندہ بنانا نہیں تھا بلکہ تمہارا مقصد یہ تھا کہ میں کیا کر رہی ہوں کہیں میں تم سے پہلے کامیاب تو نہیں ہوگئی۔ تم جیتنا نہیں چاہتے تھے تم صرف مجھے ہرانا چاہتے تھے۔ اگر تم یہ سوچتے کہ تم مجھے ہرائے بغیر بھی جیت سکتے ہو تو ضرور کامیابی حاصل کرلیتے۔“
طوبیٰ نے اس کو لال پرندہ پکڑایا:”تم اچھے بچے ہو حارم……اور کچھ سیکھو تو دوسروں کو ضرور سکھاؤ۔ اس سے تمہارے سیکھنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔“حارم کی آنکھوں میں ایک چمک سی ابھری۔اب تک وہ اپنے دوستوں کو اوریگامی سے سیکھے ہوئے تمام آرٹ سکھا چکاتھا۔جس میں پھول، پرندہ، مینڈک، مچھلی،تتلی اور جہاز وغیرہ۔اس کے تمام دوستوں کو یہ سب بہت پسند آیا تھا۔وہ دونوں پرندوں کو ہاتھ میں تھامے سوچ رہاتھا کہ اپنے دوستوں کو دکھا کر بھرم دکھائے گا۔
…………………………
شہزاد حارم کو اسکول چھوڑنے گیا تھا اور گھر میں صرف طوبیٰ تھی۔ ڈور بیل بجی تو وہ اپنے کاغذ چھوڑ کر دروازے کی طرف لپکی اور دروازے کے پاس پہنچ کر اس نے آواز لگا کر پوچھا:”کون ہے؟“
سبزی والے نے باہر سے ہانک لگائی:”باجی تازہ سبزی لایا ہوں۔“وہ اکثر سبزی والے کو روک کر گیٹ پہ ہی سبزی لے لیا کرتی تھی لیکن آج کل وہ ہر کام میں حد درجہ احتیاط برت رہی تھی کیونکہ اسے شہزاد کو کسی بھی صورت ناراض نہیں کرنا تھا اور نہ ہی مزید شک کرنے کا کوئی جواز مہیا کرنا تھا۔ اگر اسے اپنا گھر بچانا تھا تو اس کے لئے اسے محنت کرنی تھی خوب ساری محنت اور اس دقت طلب کام کو کرنے کے لئے اس کا کوئی ساتھی موجود نہیں تھا جو اس کا ساتھ دیتا جو اس کا غم گسار بنتا۔اس نے سبزی والے کو منع کردیا حالانکہ اسے سبزی لینی تھی لیکن اس نے سوچا کہ شہزاد آجائیں گے تو ان سے منگوا لے گی۔
دوپہر کو حارم اسکول سے واپس آیا تو ان دونوں نے مل کر کھانا کھایا اور پھر کچن سمیٹ کر دونوں قیلولہ کرنے کے لئے لیٹے ہی تھے کہ ڈور بیل بجی۔حارم دوڑ کر دروازے پہ گیا۔طوبیٰ اس کے پیچھے ہی لپکی تھی کہ بچہ بنا پوچھے دروازہ نہ کھول لے۔حارم نے پوچھ کر دروازہ کھولا تھا۔ طوبیٰ کی والدہ آسیہ شاہ اور بہن عطیہ شاہ آئیں تھیں۔ طوبیٰ اور حارم تو خوش ہوگئے۔ ابھی وہ اندر بھی نہیں آئے تھے کہ ایک موٹر سائیکل زن سے آکر رکی اور شہزاد نے ہیلمٹ اتار کرساس کو سلام کیا۔ طوبیٰ شہزاد کو وقت سے پہلے دیکھ کر بہت خوش ہوئی اور حارم توجیسے پاگل ہی ہوگیاتھا۔
سب لوگ اندر چلے گئے تو آخر میں شہزاد نے گیٹ بند کیا اس کی نظر نادانستہ طور پر سامنے والے گھر کی طرف اٹھی تھی اور وہاں اس نے پہلی منزل کی گیلری میں دلاور اور کائنات کو ایک گملے میں مٹی برابر کرتے دیکھا۔ دلاور کی نظر ایک دم سے اٹھی اوراس نے شہزاد کو دیکھا۔ پھر مسکرا کر ہاتھ ہلا کر سلام کیا۔ شہزاد نے منہ پھیر کر فوراً دروازہ بند کر لیا۔
اس کے دل میں جو شک کا بیج شاہدہ نے بویا تھا وہ آہستہ آہستہ جڑیں پکڑ رہاتھا۔
…………………………

Comments
Post a Comment