Phantosmia
By Saira Ghaffar
Complete Online Urdu Novel
فینٹوسمیا
(سائرہ غفار)
قسط نمبر 2
”کائنات کائنات جلدی آؤ۔“شاہدہ نے کائنات کو بلایا تو وہ دوڑی چلی آئی۔ ان کے گملے میں پہلا گلاب کا پھول کھلا تھا۔
”امی اس پھول میں خوشبو کیوں نہیں ہے؟“اس نے پھول سونگھتے ہوئے اپنی ماں سے پوچھا۔
شاہدہ نے گلاب کا پھول سونگھا تو کائنات کے سر پہ ہلکی سی چپت ماری:”ارے اتنی پیاری خوشبو تو آرہی ہے اس میں سے۔“
اس نے دوبارہ پھول کو ناک سے لگایا اور پھر بولی:”امی مجھے کوئی خوشبو نہیں آرہی۔“
شاہدہ نے گہری سانس بھر کر اس کی بات ان سنی کردی۔
………………………………
”آہ دال چاول واہ مزہ ہی آگیا۔“دلاور جمال نے دال چاول کو دیکھا پھر خوشبو سونگھی اور مزے سے پلیٹ میں چاولوں کا پہاڑ بنا کر اس پہ دال انڈیلنے لگے۔
شاہدہ نے کائنات کو پلیٹ میں دال چاول نکال کر دئیے تو ا س نے اپنے باپ کی طرح پلیٹ کو ناک سے قریب کر کے سونگھا لیکن وہاں کوئی خوشبو نہیں تھی۔
”امی آج دال چاول میں خوشبو کیوں نہیں ہے؟“
”ہیں؟یہ کیا کہہ رہی ہو بیٹا اتنے مزے کی خوشبو تو ہے۔“دلاور نے تعجب سے پوچھا۔
”لیکن مجھے کیوں نہیں آرہی؟“وہ پریشانی سے بولی۔
”آج صبح سے یہ یہی کہہ رہی ہے کہ اسے خوشبو نہیں آرہی۔صبح اسے گلاب کے پھول میں سے خوشبو نہیں آرہی تھی اور اب اسے دال چاول کی خوشبو نہیں آرہی۔“
”بچے اکثر ایسا کرتے ہیں۔ تم پریشان مت ہو۔“دلاور نے مزے سے دال چاول سے انصاف کرنے لگا تو شاہدہ بھی سر جھٹک کر کھانا کھانے میں مصروف ہوگئی۔
ّّّّ………………………………
وہ اسکول کے لئے اپنے ابو کے ساتھ بائیک پہ سوا ر ہو رہی تھی جب حارم کے گھر کا گیٹ کھلا اور اس کے ابو شہزاد شاہ نے بائیک نکالی۔حارم اور کائنات ایک ہی اسکول میں اور ایک ہی کلاس میں زیر تعلیم تھے۔ حارم کے ابو کا مختلف شہروں میں تبادلہ ہوتے رہنے کی وجہ سے اس کے کئی سال ضائع ہوچکے تھے۔ وہ کائنات سے تین سال بڑا تھا لیکن اسے کائنات کی ہی کلاس میں داخلہ ملا تھا۔ان دونوں کی اچھی دوستی بھی ہوگئی تھی۔ شاہدہ نے حارم کی امی کو دیکھا اور برا سا منہ بنالیا۔ جب سے حارم لوگ یہاں شفٹ ہوئے تھے تب سے شاہدہ نے ان سے سیدھے منہ بات نہیں کی تھی۔ وجہ حارم کی ماں طوبیٰ شاہ کا بے حد خوبصورت ہونا تھا۔ حالانکہ وہ بہت ہی ملنسار طبیعت کی مالک تھی لیکن شاہدہ اس سے جیلسی محسوس کرتی تھی۔ ایک آدھ مرتبہ دلاور نے طوبیٰ کی خوبصورتی کا سرسری سا تذکرہ کیا تھا شاید اسی لئے شاہدہ کو اس سے جیلسی محسوس ہونا شروع ہوگئی تھی۔ اور یہی وجہ تھی کہ وہ اس سے سیدھے منہ بات کرنا پسند نہیں کرتی تھی۔
طوبیٰ نے گیٹ بند کرتے ہوئے شاہدہ کو سلام کیا لیکن شاہدہ نے ”ہونہہ“ کہہ کر گیٹ بند کردیا لیکن گیٹ بند کرتے ہوئے اسے دلاو ر کا ”وعلیکم اسلام“ واضح سنائی دیا۔ وہ جی جان سے جل کر رہ گئی۔ اور زور زور سے کنڈی بند کر تی پیر پٹختی طوبیٰ کو دل ہی دل میں صلواتیں سنانے لگی۔
دلاور کائنات کو اسکول چھوڑ کر گھر واپس آئے تو شاہدہ کا منہ بنا ہواتھا اور وہ سیدھے منہ بات نہیں کررہی تھی۔ دلاور نے نوٹس تو کیا لیکن اسے آفس سے دیر ہورہی تھی اس لئے اس نے زیادہ بات نہیں کی اور جلدی جلدی تیاری کر کے آفس کی راہ لی۔
…………………………
”امی ایک بات پوچھوں؟“اس نے اسکول سے آتے ہی بیگ اپنے کمرے میں رکھا اور کچن میں ماں کے پیچھے جاکھڑی ہوئی۔
”ہاں بیٹا پوچھو ناں ……“
”امی آپ نے میرا یونیفارم کس سرف سے دھویاتھا؟“
”سرف ایکسل سے دھویاتھا لیکن آپ کیوں پوچھ رہی ہو؟“
”آج ناں معصومہ نے مجھ سے کہا کہ اتنی اچھی خوشبو آرہی ہے تمہاری امی نے کون سا سرف استعمال کیاہے مجھے بتاؤ میں بھی اپنی امی کو کہوں گی کہ میرا یونیفارم بھی اسی سرف سے دھویا کرے۔“اس نے ایک ہی سانس میں ساری تفصیل سنادی۔شاہدہ اس کی بات سن کر مسکرادی۔
”اچھا صبح تو تم کہہ رہی تھیں کہ تم یہ یونیفارم نہیں پہنو گی تمہیں اس میں سے خوشبو نہیں آرہی۔“شاہدہ نے اسے یاد دلایا۔
”مجھے تو ابھی بھی نہیں آرہی لیکن معصومہ کو تو آرہی تھی ناں ……“شاہدہ نے اس کے معصومیت بھرے لہجے پہ اسے پیار سے دیکھاتھا۔
”تو امی میں اس کو بتادوں؟“شاہدہ نے اسے گھور کر دیکھا:”اس کی امی سرف لیں گی تبھی وہ کل خوشبو والا یونیفارم پہن کر آسکے گی ناں امی۔ ورنہ وہ پھر پرسوں ہی پہن سکے گی۔“کائنات کے لہجے کی معصومیت نے شاہدہ کے چہرے پہ مسکراہٹ دوڑا دی تھی۔
”اچھا میری ماں جاؤ کر لو اسے فون لیکن سرف کا نام بتا کر بند کردینا۔کوئی لمبی بحث وغیرہ نہیں۔“شاہدہ نے وارننگ دی تو وہ خوشی خوشی بھاگتی ہوئی موبائل تک پہنچی اور معصومہ کا نمبر ڈائل کرنے لگی۔
…………………………
شہزاد نہا کر واش روم سے باہر نکلا تو طوبیٰ نے گرما گرم چائے کا کپ پیش کیا جسے مسکرا کر قبول کیا گیا۔
”آپ حارم کی ٹیچر سے کب بات کریں گے؟“طوبیٰ نے فکرمندی سے پوچھا۔
”میں نے بات کی تھی آج صبح اسے چھوڑنے گیاتھا تب ……“شہزاد نے چائے کا سپ لیا۔
”پھر؟“
”پھر کیا؟“
”کیا کہا انہوں نے؟ وہ حارم کو جمپ کروارہے ہیں ناں؟“اس نے امید سے پوچھا تھا۔
”منع کررہے تھے۔ کہہ رہے تھے کہ حارم کی بیس اچھی نہیں ہے۔ اگر اس کلاس کا رزلٹ آؤٹ اسٹینڈنگ رہا تو شاید وہ اسے اگلی کلاس جمپ کروالیں۔ لیکن ابھی کچھ بھی فائنل نہیں ہے۔“شہزاد نے مصروف انداز میں بتایا۔
”حارم بڑا ہورہاہے۔ اسے چھوٹے چھوٹے بچوں کے ساتھ عجیب سا لگتا ہے وہ کمفرٹیبل نہیں ہے۔“طوبیٰ نے انگلیاں مروڑتے ہوئے بیٹے کی پریشانی گوش گزار کی۔
”کچھ دن عجیب لگے گا پھر سیٹ ہوجائے گا۔ تم اس کی حمایت کرتی رہو گی تووہ زندگی میں کبھی کہیں سیٹ نہیں ہوپائے گا۔ زندگی میں ہر موڑ پہ کمپرومائز کی ضرورت پڑتی ہے انسان کو۔“شہزاد نے بالوں کو فائنل ٹچ دیتے ہوئے شیشے میں سے طوبیٰ کو دیکھا جو پریشان نظر آرہی تھی۔
”دیکھو مجھے تمہارے خوبصورت چہرے پہ پریشانی بالکل اچھی نہیں لگتی۔ اور تم کوشش کرو گی تو وہ ضرور اس کلاس میں ایکسٹرا ٓرڈنری پرفارم کر کے جمپ کر لے گا۔“وہ مڑا اور طوبیٰ کا گال تھپتھپاتے ہوئے اپنا والٹ جیب میں رکھا۔ اور موبائل اور چابی اٹھاتا نکل گیا۔
طوبیٰ گیٹ تک اسے چھوڑنے آئی تو شاہدہ اپنی ماسی سے اپنا گیٹ دھلوا رہی تھی۔ شہزاد نے ہیلمٹ پہنا اور فوراً بائیک کو کک مار کر نکل پڑا۔ طوبیٰ نے شاہدہ کو دیکھا تو سلام کیا لیکن شاہدہ نے منہ بنا کر رخ پھیر لیا۔ اسی لمحے دلاور اندر سے برآمد ہوا۔ اس کی نظر طوبیٰ پہ پڑی تو اس نے سلام جھاڑ دیا۔ طوبیٰ نے سلام کا جواب دیا اور گیٹ بندکر دیا۔ شاہدہ نے خونخوار نظروں سے دونوں کا سلام جواب دیکھا اور سنا اور خون کا گھونٹ پی کر رہ گئی۔ماسی سمجھ گئی کہ اب اس کی شامت آنی ہی آنی ہے۔
…………………………
شام کو دلاور آفس سے واپس آیا تو شاہدہ نے شاپنگ پہ جانے کی فرمائش کردی لیکن دلاور اس قدر تھکا ہواتھا کہ اس نے منع کردیا۔ اور بس قیامت ہی آہی گئی۔ شاہدہ نے آؤ دیکھا نہ تاؤ بس شروع ہوگئی۔ اس کی زبان کی راہ میں کوئی اسپیڈ بریکر نہیں تھا۔اس نے طوبیٰ کا طعنہ دیا تو دلاور ہکا بکا رہ گیا:”کیا کیا کیا……کیا کہا تم نے؟ طوبیٰ؟کون طوبیٰ؟“
”واہ واہ نام بھی اور رکھے ہیں جناب نے؟کس نام سے پکارا کرتے ہیں بے بی ڈول کے نام سے یا جانو مانو کے نام سے؟“
”میں سمجھا نہیں تم کس کی بات کررہی ہو؟ اور تم جانتی ہو میں اس قسم کا آدمی نہیں ہوں۔ میری ایک بیٹی ہے میں فیملی والا آدمی ہوں۔ تم مجھ پہ کیسے الزام لگا رہی ہو؟“وہ حتیٰ الامکان خود کو نارمل رکھنے کی کوشش کررہاتھا لیکن اب اس کا پارہ ہائی ہونا شروع ہوچکاتھا۔
”میں تمہاری لاڈلی چہیتی پڑوسن کی بات کررہی ہوں۔ اسی کے گن گاتے ہوناں تم وہ خوبصورت ہے…… وہ سلیقہ شعار ہے…… وہ پڑھی لکھی ہے……دنیا میں بس وہی ہے جو تمہیں آج کل نظر آرہی ہے باقی تو تمہاری آنکھوں پہ پٹی بندھ گئی ہے۔ہے ناں؟“شاہدہ ہتھے سے اکھڑ گئی تھی۔ تمیز لحاظ اس نے سب سائیڈ پہ رکھ دیاتھا۔
”دیکھو شاہدہ میں کسی طوبیٰ کو نہیں جانتا اور وہ ہماری پڑوسن صرف پڑوسن ہے میرا اس سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔“
وہ اپنی آواز کو اونچا ہونے سے روکنے کی ہرممکن کوشش کررہاتھا لیکن اس کی دماغ کی تنی ہوئی رگیں بتا رہی تھیں کہ وہ برداشت کی انتہاؤں پر ہے۔
”ہونہہ……نہیں جانتے تو اسے سلام کیوں کرتے ہو؟نہیں جانتے تو اس کے سلام کا جواب کیوں دیتے ہیں؟“ وہ حلق کے بل چلائی تھی۔
”اوہ میرے خدا ……شاہدہ……“اس نے اپنا سر پکڑ لیا:”سلام کرنا یا سلام کا جواب دینا کوئی بری بات نہیں ہے۔ اور تم بھی تو سارے محلے والوں سے سلام دعا کرتی پھرتی میں نے تو کبھی تمہیں غلط نہیں سمجھا۔“
”اچھا……مطلب اب تم میرے کردار پہ انگلیاں اٹھاؤ گے۔ واہ واہ واہ……خود کو بچانے کے لئے اب تم مجھے گندا ثابت کرو گے……ٹھیک ہے کرو……“
”فار گاڈ سیک شاہدہ میں نے ایسا کچھ نہیں کہا۔ تم انتہائی فضول عورت ہو اور میں اب تم سے مزید فالتو بحث نہیں کرسکتا۔ بھاڑ میں جاؤ تم۔“دلاور غصے سے واک آؤٹ کرتا بائیک کی چابی اٹھائے گھر سے باہر نکل گیا۔
شاہدہ نے غصے سے دو چار گالیاں نکالیں اور سامنے رکھے گلاس کو زمین میں دے مارا۔
…………………………

Comments
Post a Comment