Phantosmia
By Saira Ghaffar
Complete Online Urdu Novel
فینٹوسمیا
(سائرہ غفار)
قسط نمبر 1
”آپ بھی یہاں سیشن کے لئے آئی ہیں؟“
”جی ہاں ……میں تو برسوں سے علاج کروارہی ہوں۔ لیکن میرا مرض لاعلاج ہے۔“
”ایسا کیا مرض ہے آ پ کو؟“
”مجھے پانی سے خوف آتاہے۔جو چیز آپ کو برباد کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو اس سے ہمیشہ خوف کھانا چاہئے۔“وہ دھیمے سے مسکائی تھی۔
”آپ کے دل کے سکون کے لئے بتادوں کہ برباد کرنے والا خود برباد ہوچکاہے۔ سارا غرور نیست و نابود ہوچکاہے۔کچھ باقی نہیں بچا۔“وہ اپنے خالی ہاتھوں کو غور سے دیکھنے لگا۔
اس نے عجیب طرح سے اسے دیکھا تھا۔
”کیا آپ جانتے ہیں کہ دنیا میں خالی ہاتھ کون رہ جاتا ہے؟“
وہ اس کے عجیب سے سوال پہ حیران ہواتھا۔اس نے تعجب سے اس کی طرف دیکھا اور پھر دھیرے سے نفی میں سر ہلادیا۔
”خالی ہاتھ صرف وہ رہتا ہے جو ماضی کو اپنے اوپر حاوی کئے رکھتا ہے۔ ہم حال میں جیتے ہیں۔ ہمیں حال میں ہی رہنا ہوتا ہے۔ اور ہم حال ہی میں مرجاتے ہیں۔ماضی اور مستقبل تو محض ادوار ہیں جو حال بن جاتے ہیں۔ نہ ہم ماضی میں جا کر اپنی غلطی سدھار سکتے ہیں نہ مستقبل میں ہونے والی غلطیوں کو روک سکتے ہیں۔“وہ ایک لمحے کو رکی تھی:”ہم صرف آج کو سدھار سکتے ہیں۔ اور صرف اسی میں زندہ رہ سکتے ہیں۔ بہت سے لوگ بہت زیادہ برا کر کے ہنسی خوشی اپنی زندگی گزار لیتے ہیں صرف اسی لئے کہ وہ اپنی غلطیوں کا نہ اعتراف کرتے ہیں اور نہ ہی ان کو یاد کرتے ہیں۔ ہم اور آپ جیسے عام سے لوگ اپنی کی گئی غلطیاں نہ صرف یاد رکھتے ہیں بلکل وقتاً فوقتاً ا ن کا اعتراف بھی کرتے ہیں تاکہ ہم دوبارہ وہ غلطی نہ دہراسکیں۔ اسی لئے ہم لوگ اکثر خالی ہاتھ رہ جاتے ہیں۔“
”آپ کے کہنے کا مطلب ہے کہ ہم سارا خسارا ہم اورا ٓپ جیسے عام لوگو ں کے لئے ہی ہے؟“وہ حیران ہواتھا۔
”خالی ہاتھ رہ جانا الگ بات ہے اور خسارے میں رہنا الگ بات ہے۔“
وہ پھر سے مسکائی تھی۔
”جو اپنی غلطی یاد رکھے گا۔ وہ غلطی کو پھر سے نہیں دہرائے گا……“وہ اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔ ڈاکٹر کے روم کا دروازہ کھل گیا تھا۔ ڈاکٹر باہر آرہاتھا۔ ڈاکٹر نے اسے دیکھ کر ہاتھ ہلایا تھا اور وہ مسکرائی تھی۔ اس نے پلٹ کر دیکھا:”اگر غلطی نہیں دہراؤ گے تو خسارے میں نہیں فائدے میں رہو گے۔“وہ باوقار انداز میں ڈاکٹر کی طرف جارہی تھی۔ ڈاکٹر نے اس کا ہاتھ تھاما اور اسے اپنے ساتھ اپنے روم میں لے گیا۔
اور وہ اس کی پشت دیکھتے ہوئے دل ہی دل میں اپنے خسارے گن رہاتھا۔
………………………………
آج بھی اس نے فوراً سے پھول بنانے کے لئے کاغذ نکال لیاتھا۔یہ خوشبو اکثر اسے محسوس ہوتی تھی……بھینی بھینی سی……دھیمی دھیمی سی……وہ اپنی ننھی سی ناک کے نتھنوں کو پھلا پھلا کر اِدھر سے اُدھر سر کو گھما کر اس خوشبو کو اپنے اندر قید کرنے کی کوشش کرنے لگی۔اسے یہ خوشبو بہت پسند تھی۔اس نے کمال مہارت سے پھول بنا کر بغور دیکھا۔ جب وہ ہر طرف سے اس کو اچھی طرح جانچ پرکھ کر دیکھ چکی اور تسلی کر چکی تو وہ ابھی جگہ سے اٹھی اور سامنے پڑے گملے کے سامنے آلتی پالتی مار کر بیٹھ گئی۔اس نے گملے کی مٹی میں ہاتھ سے چھوٹا سا گڑھا بنایا اوربہت احتیاط سے پھول کو اس گملے میں لگاکر مٹی برابر کردی۔پھر وہ ہاتھ جھاڑتی اٹھی اور واش روم میں گھس گئی۔ پہلے اس نے اچھی طرح سے ہاتھ منہ دھوئے اور پھر مگے میں پانی بھر کر لائی اور گملے میں پانی ڈال کر پھول کو سونگھا……وہی بھینی بھینی خوشبو……”آہ کتنی پیاری خوشبو ہے……“
وہ مگے کو زمین پہ رکھ کر اس خوشبو کے زیر اثر جھومنے لگی……جھومتے جھومتے گیلری میں پہنچی اور نیچے جھانکنے لگی ……
”ٹین ڈبے والا……بھوسی ٹکڑے والا……ٹین ڈبے والا……“
”گاجر لے لو، ٹماٹر لے لو، پیاز لے لو، آلو لے لو، بینگن لے لو، بھنڈی لے لو۔“
وہ زیر لب ریڑھی والوں کے جملے گنگنانے لگی۔پھر اس کی نظر سامنے والی بالکونی پہ پڑی……اس نے حارم کو دیکھا حارم نے اس کو دیکھا۔گیلریوں کے درمیان زیادہ فاصلہ نہیں تھا ان کی آواز بآسانی ایک دوسرے تک پہنچ رہی تھی۔
حارم نے پوچھا:”آج پھرآئی؟“
”ہا ں آئی ناں ……“اس نے خوشی سے بتایا۔
”کیسی ہے؟“حارم نے اشتیاق سے پوچھا۔
اس نے ہوا میں نتھنے گھما کر پھر سے اسے محسوس کرتے ہوئے کہا:”مست ہے۔“
”کاش میں بھی محسوس کرسکتا۔“حارم نے افسردگی سے کہا۔
”فکر مت کر و میں نے پھول اگایا ہے۔ پھول بڑا ہوگا خوشبو میں اضافہ ہوگا تو تمہیں بھی ضرور آئے گی۔“اس نے تسلی دی تو حارم نے منہ لٹکا کر کہا:”پتہ نہیں یہ سب کب ہوگا۔“اور اندر کی طرف چلا گیا۔
وہ تھوڑی دیر تک وہیں کھڑی اس کا انتظار کرتی رہی مگر وہ نہیں ا ٓیا تو وہ اندر جاکر گملے کے پاس بیٹھ کر پھول سے باتیں کرنے لگی۔
………………………………
”وہ دیکھو تتلی……“
”آہ کتنے سارے رنگ ہیں اس کے پروں میں ……“
وہ دونوں منہ کھولے تتلی کو دیکھ رہے تھے۔
”میرا دل چاہ رہاہے کہ میں اس تتلی کو پکڑ لوں۔“حارم نے ہاتھ آگے بڑھایا بھی لیکن کائنات نے ایک دم سے اس کا بازو پکڑ لیا:”نہیں حارم بری بات……کسی جان دار کو تکلیف نہیں پہنچاتے بہت گناہ ہوتا ہے۔“
”دھت تیرے کی……“اس نے کھینچ کے اپنا بازو چھڑایا:”ابھی آجاتی لیکن تم؟“اس نے ڈانٹا تو کائنات کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
حارم نے اسے چپ کروانے کی کوشش کی:”ارے میری ماں چپ ہوجا ٹیچر نے دیکھ لیا تومیری دھلائی کردیں گی۔چپ ہوجا ناں چپ ہوجا……پلیز چپ ہو جاؤ۔“
وہ روتے روتے کلاس میں داخل ہوئی اور اس کے پیچھے پیچھے حارم بھی کلاس میں داخل ہوا۔ کلاس میں داخل ہوتے ہی انہوں نے دیکھا کچھ بچے منہ اور ناک پہ ہاتھ رکھے کھڑے ہیں۔حارم نے بھی اندر آتے ہی ناک پہ ہاتھ رکھ کر بری سی شکل بنا لی۔
”یہ کیسی بد بو ہے؟“حارم نے بری شکل بناتے ہوئے کہا۔
”ٹیپو نے پوٹی کردی ہے۔“زرنش نے برا سا منہ بنا کر کہا۔
”آئے ہائے ٹیپو گندا۔“حارم نے غصے سے اسے دیکھ کر کہا تو سارے بچے ”آئے ہائے ٹیپو گندا“کہتے کلاس سے باہر نکل کر بھاگے۔
”چلو کائنات ہم ٹیچر کو بتا کر آتے ہیں۔“حارم نے کائنات کو آواز دی اور کلاس سے نکلنے سے پہلے چپ چاپ سر جھکائے بیٹھے ٹیپو کو وارننگ دی:”اور تم کلاس سے باہر مت نکلنا۔ سمجھے گندے ٹیپو۔“
”حارم کیا وہاں سچ مچ بدبو آرہی تھی؟“کوریڈور سے اسٹاف روم کی طرف جاتے ہوئے کائنات نے حارم سے پوچھا تو حارم نے اسے غصے سے دیکھا:”کیوں تمہاری ناک بند ہے کیا؟ سب کو بدبو آرہی تھی۔“
”لیکن مجھے تو خوشبو آرہی تھی۔“کائنات نے پریشان لہجے میں بتایا تو حارم نے اپنا سر پیٹ لیا۔
”تم بد بو کو خوشبو اور خوشبو کو بدبو کہنا کب چھوڑو گی آخر؟چلو ٹیچر سے بات کرتے ہیں۔“
وہ دونوں ٹیچر کو بلا کر لائے تب تک آدھے اسکول میں ٹیپو کا کارنامہ اس کی بدبو کی طرح پھیل چکا تھا۔ بچوں کو دوسری کلاس میں شفٹ کر کے اس کلاس کی صفائی کروائی گئی اور ٹیپو کو ماسی نے ڈانٹ پیٹ کر نہلایا دھلایا کپڑے بدلوائے۔ اتنے میں اس کے گھر سے اس کی امی آگئیں۔ان کو بڑا سا لیکچر سننے کو ملا۔
ّّّّ………………………………
”ایک کاغذ لو۔“
اس نے پہلے پیلے رنگ کا کاغذ اٹھایا پھر اسے یاد آیا کہ اس کا پسندیدہ رنگ تو آسمانی ہے تو اس نے پیلا کاغذ واپس رکھا اور آسمانی رنگ کا کاغذ اٹھا لیا۔
”یہ کاغذ چوکور ہے۔کیا ہے؟“
”چوکور ہے۔ یعنی اس کے چاروں طرف کی پیمائش برابر ہے۔“
”ویری گڈ……“اس نے تعریف کی:”اب اسے ایک بار ڈبل کرو اور پھر دوبارہ ڈبل کردو۔“
”پہلے ایک بار ڈبل کرو پھر ڈبل والے پیپر کو دوبارہ ڈبل کروں۔“اس نے کر کے دکھایا۔
”ہاں بالکل ٹھیک ہے۔اب اسے کھول کر کریز کی مدد سے دو کونے ایسے اندر کرو کہ یہ تکونا سا بن جائے۔“ اس نے کر کے دکھایا۔
”آہا میں نے کرلیا……“بالآخر چوتھی کوشش کامیاب ہوئی ثابت ہوئی تھی۔
”شاباش……اب ایک طرف کے کونوں کو اوپر کی طرف موڑو اور پھر کھولو……“وہ ساتھ ساتھ بناتا جارہاتھا۔
”اب اسے چوکور کے اندر موڑ لو……شاباش بالکل ایسے ہی……اب دوسری طرف بھی بالکل ایسے ہی کرنا ہے۔“
دونوں طرف ہوجانے کے بعد چیکنگ ہوئی اور اپروول ملنے کے بعد آگے کی ہدایات جاری کی گئیں۔
”اب اوپر ایک تکون بن رہاہے۔ اس تکون کو اندر موڑ کر گھما لو۔اب یہ چوکور بن گیا ہے۔ اس میں سے دو چوکور کو اوپر اٹھا لو۔اور اسے ہاتھ کی مدد سے گھما کر کونے اندر کر لو۔ دیکھو بالکل اس طرح سے……“طوبیٰ کے ہاتھ میں ایک خوبصورت گلابی پھول کھلا ہواتھا۔ حارم نے آخر میں کچھ گڑبڑ کردی تھی:”میرا نہیں بنا۔“
”پریکٹس کرو گے تو بن جائے گا۔ اب تم دوبارہ کوشش کرو جب تک میں ہانڈی چڑھا لیتی ہوں۔ پھر آکر میں آپ کا اوریگامی فلاور چیک کرتی ہوں۔“
”ٹھیک ہے میں کوشش کرتا ہوں۔“طوبیٰ چلی گئی تو وہ پھر سے کوشش کرنے
لگا، اب کی بار اس نے بھی گلابی کاغذ چناتھا شاید اس میں سے اچھا بن جائے۔
……………………

Comments
Post a Comment