Cinderella K Jootay By Saira Ghaffar
Short Urdu Online Complete Story
(سائرہ غفار)
”یہ میری دادی کے جوتے ہیں۔“یہ آواز وہ اس ہفتے میں کوئی چوتھی بار سن رہا تھا۔
ہر مرتبہ کی طرح اس بار بھی عاقب نے جھنجھلا کراس کی طرف دیکھااور پھاڑ کھانے والے انداز میں کہا:”تو……؟؟؟کیا کروں میں ……؟؟؟“
”اپنے میوزیم میں رکھ لو ناں ……“اس ہفتے میں چوتھی بار وہی جملہ دہرایا گیا تھا……اور ساتھ ہی ایک معدوم ہوتی دھیمی سی مسکان بھی اس کے چہرے پر سجی تھی۔
اس بار عاقب سر جھٹک کر اپنے کام میں مصروف ہوگیا کیونکہ آگے کی کہانی وہ جانتا تھا۔جب وہ پٹھانوں سے حلیئے والا شخص پہلی بار اس کے چھوٹے سے کیبن میں داخل ہو اتھا اور آتے ہی ایک جوتے کا ڈبہ اس کے سامنے کرتے ہوئے اس نے بہت معصومانہ لہجے میں عاقب کو بتایا تھا کہ وہ اپنی دادی کے جوتے اس کے میوزیم میں رکھوانا چاہتا ہے،پہلی بار تو عاقب کو اس پہ بہت ہنسی آئی اور ا سنے وجہ پوچھی کہ وہ اپنی دادی کے جوتے میوزیم میں کیوں رکھوانا چاہتا ہے تو اس شخص نے بہت عقیدت سے جوتوں کو دیکھتے ہوئے کہا تھا:”میری دادی سنڈریلا تھیں۔“
یہ انکشاف سنتے ہی عاقب اپنی کرسی سے اچھل پڑا تھا۔اس نے حیرت سے آنکھیں پھیلاتے ہوئے پوچھا:”کیا کہا؟دوبارہ کہنا……!!!“
اور اس شخص نے اسی پراعتماد سے لہجے میں اپنی بات دہرائی:”میری دادی سنڈریلا تھیں۔“
اس کے بعد عاقب پیٹ پکڑے ہنستا ہی چلا گیا……”کک……کیا……کہا؟؟سنڈریلا؟؟اور تم……تمہاری دادی؟؟ہی ہی ہی……ہاہاہا……ہوہوہو……ہی ہی ہی……“ہنسی تھی کہ رکنے کانام ہی نہیں لے رہی تھی۔تھوڑی دیر تک تو وہ شخص کھڑا عاقب کو ہنستا دیکھتا رہا……بالکل ہلکی سی مسکراہٹ اس کے چہرے پہ بھی نمودار ہوئی……پھر اسے اندازہ ہوا کہ عاقب اس کا مذاق اڑا رہا ہے……وہ جوتے کا ڈبہ اٹھائے عاقب کو ہنستا ہو اچھوڑ کر خاموشی سے باہر نکل گیا۔
(…………٭…………)
عاقب کے کیبن سے باہر نکل کر اس نے کھلی فضا میں ایک گہرا سانس لیا اور گھر کی طرف لوٹ آیا۔
گھر واپس آتے ہی اس کی چھوٹی بہن رخ نے اس سے پوچھا:”کیا ہوا لالہ……؟؟؟میوزیم والوں نے دادی کے جوتے رکھ لئے اپنے پاس؟؟“اس کے لہجے میں اشتیاق تھا۔
لالہ نے جوتے کا ڈبہ رخ کی طرف بڑھایاتو وہ مایوسانہ انداز میں سر ہلاتے ہوئے بولی:”مجھے معلوم تھا کہ ان کو یقین نہیں آئے گا کہ سنڈریلا ہماری دادی تھیں۔“
لالہ نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا اور تیزی سے باہر نکل گیا۔
(…………٭…………)
دوسرے دن وہ دوبارہ عاقب کے دفتر میں موجود تھا……پھر وہی سب ہوا……اور جب لالہ کو محسوس ہوا کہ وہ عاقب کے کیبن میں گھٹن محسوس کر رہا ہے تو وہ وہاں سے لوٹ آیا۔
تیسرے دن وہ پھر وہاں گیا تھا……پھر وہی سب ہوا……پھر وہی گھٹن……وہی حبس……لالہ کو لگا اس کا دم گھٹ جائے گا……اسی لئے وہ واپس لوٹ آیا۔
اور آج چوتھی بار بھی ایسا ہی ہوا……بس فرق صرف اتنا تھا کہ عاقب روز روزکی طرح آج پیٹ پکڑے نہیں ہنسا تھا……آج وہ اسے نظرانداز کر کے اپنے کام میں مصروف ہوگیا تھا۔ لالہ کو جب وہاں کھڑے کافی دیر گزر گئی تو گھر لوٹ جانے کے لئے مڑا……اسی وقت عاقب کی آواز اسے سنائی دی……”ارے رکو……کہاں جارہے ہو لالہ جی……؟؟؟“
لالہ نے پلٹ کر اسے بے یقینی سے انداز میں دیکھا۔عاقب نے اسے مسکراتے ہوئے دیکھااور بولا:”میں تمہاری دادی کے جوتے اپنے میوزیم میں رکھنے کے لئے تیار ہوں۔مگر تم مجھے کوئی ثبوت دو کہ تمہاری دادی سچ مچ سنڈریلا تھیں۔“
سرخ و سپید رنگت والے لالہ نے اسے عجیب انداز میں دیکھا۔پھر اس سے بھی زیادہ عجیب سے لہجے میں بولا:”سچائی اپنا ثبوت خود ہوتی ہے۔اسے ثابت کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔“اسی وقت لالہ نے ڈبے سے اپنی دادی کے چم چم کرتے کرسٹل کے جوتے (سینڈل)نکال کر دیکھے۔عاقب نے ایک نظر ان جوتوں کو دیکھااور حیران رہ گیا۔وہ سچ مچ سنڈریلا کے جوتے تھے۔لالہ نے جوتے واپس ڈبے میں رکھتے ہوئے بولا:”مجھے اپنی دادی کے جوتے تمہارے میوزیم میں نہیں رکھوانے۔“لالہ اپنی بات مکمل کر کے رکا نہیں بلکہ تیزی سے میوزیم سے باہر نکل آیا۔
میوزیم سے باہر آکر اس نے سکون کا سانس لیا۔اب اس کا رخ اپنے گھر کی طرف تھا۔راستے میں روز کی طرح اسے وہ رجو فقیرنی ملی جو اپنے سارے خاندان کی ٹریفک حادثے میں موت کے بعد اپنا ذہنی توازن کھو چکی تھی۔لالہ اسے ہر روز ایک سکہ دیا کرتا تھا۔لیکن آج میوزیم سے واپسی پر لالہ نے اسے سکے کے ساتھ دادی کے جوتوں کا ڈبہ بھی تھما دیا۔ رجو فقیرنی نے حیرت سے ڈبہ دیکھا۔لالہ نے اسے ڈبے میں سے کرسٹل کے چم چم کرتے جوتے (سینڈل)نکال کر دئیے تو رجو فقیرنی کی آنکھیں ان سے کہیں زیادہ چمکنے لگیں۔ان جوتوں کو پیروں میں ڈال کر وہ سچ مچ کی سنڈریلا محسوس ہونے لگی۔
لالہ بالکل ہلکا پھلکا ہو کر گھر کی طرف روانہ ہوگیا۔
(…………٭…………)

Comments
Post a Comment