Skip to main content

Tooti chappal k badlay by Saira Ghaffar Short Urdu Online Complete Story

 

Tooti Chappal k Badlay By Saira Ghaffar 

Short Urdu Online Complete Story



ٹوٹی چپل کے بدلے

(سائرہ غفار)


سو بار کی سلائی کروائی ہوئی چپل پیروں میں ڈالتے ہوئے اسے ہر بار کی طرح آج بھی اس کے ٹوٹ جانے کا دھڑکا سا لگا ہوا تھا۔آلو چھولے کا ٹھیلہ گھسیٹ کر وہ شہر کے مختلف علاقوں میں چکر لگاتے ہوئے بڑے شاپنگ مال کے پاس پہنچا تو نظر بے اختیار شوکیس میں سجی نیلے رنگ کی ایک خوبصورت آرام دہ چپل کا طواف کرنے لگی۔اس نے ایک نگاہ اپنی میلی قمیض کی جیب پہ ڈالی جہاں دس پندرہ روپوں سے زیادہ کچھ نہ تھا،اور اسے آج ہر حال میں اتنا کمانا تھا کہ چھ افراد کچھ کھا سکیں۔وہ ٹھیلہ کنارے پہ لگاتے ہوئے دکان میں داخل ہوا۔ دکاندار نے تمسخرانہ نگاہوں سے اس کا جائزہ لیا۔اس نے سوکھے ہونٹوں پہ زبان پھیرتے ہوئے اپنے اندر جیسے ہمت مجتمع کی۔گھگھیاتے ہوئے پوچھا:”یہ……چپ……چپل کتنے کی ہے؟“ اے۔سی کی ٹھنڈک میں بھی اس کا ماتھا پسینے کے قطروں سے جھلملا رہا تھا۔دکاندار نے چبھتی نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے ایک ایک لفظ چبا کر ادا کیا:”صرف تین سو روپے!“ اسے محسوس ہواکہ اگر وہ زرا سی بھی دیر اور دکان کے اندر کھڑا رہا تو وہ اپنی غربت کے باعث پگھل جائے گا۔وہ فوراً دکان سے باہر آگیا۔باہر آکر اس نے ایک بار پھر حسرت بھری نگاہوں سے شوکیس میں سجی نیلے رنگ کی خوبصورت آرام دہ چپل کو دیکھا اور ٹھیلے کو گھسیٹتے ہوئے گراؤنڈ والی سڑک پہ ڈال دیا۔راستے میں اس کی چپل آخر ٹوٹ ہی گئی۔اس نے چپل کے ساتھ مزید کہیں جانا گوارا نہ کیا اورگراؤنڈ کے پاس کھڑاہو گیا، وہ ہر عمر کے بچوں کو مختلف کھیل کھیلتے دیکھتا رہا۔اکثر کھیلوں کے تو اسے نام بھی معلوم نہ تھے۔ وہ کافی دیر کھڑا بچوں کو کھیلتے دیکھتا رہا۔عصر کی آذان ہو رہی تھی۔موذن کی آواز سنتے ہی اس نے آلو چھولے کا ٹھیلہ کونے پہ لگایا اور مسجد کے دروازے کی طرف بڑھنے لگا۔ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے وہ پہلی بار اذان سن رہا ہے۔مسجد پہنچ کر اس نے اپنے میلے کپڑوں پہ نگاہ دوڑائی تو اسے خود سے شرمندگی سی محسوس ہونے لگی۔ایک بزرگ نے اسے تذبذب میں مبتلا دیکھا تو شفیقانہ انداز میں اسے اپنے بازو کے حصار میں لیتے ہوئے بولے:”برخوددار آج آگئے ہو۔کوئی بات نہیں،کل سے صاف کپڑے پہن کر آنا۔چلو جلدی کرو ورنہ جماعت کھڑی ہو جائے گی۔“ وہ حیرت سے اس مشفق صورت کو یک ٹک تک رہا تھا۔جبھی وہ اسے ہلکے سے آگے دھکیلتے ہوئے بولے:”چلو جلدی کرو۔“ دیکھتے ہی دیکھتے وہ بزرگ صورت نمازیوں کی بھیڑ میں کھو گئی۔اس نے فوراًسے وضو کیاا ور جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنے کھڑا ہوا گیا۔نماز پڑھ کر اسے جو سکون نصیب ہوا وہ اسے کچھی زیادہ کمائی کر کے بھی نصیب نہیں ہوا تھا۔ نماز پڑھ لینے کے بعد وہ مسجد کے بیرونی دروازے کی طرف اس جگہ آیا جہاں اس نے اپنی ٹوٹی ہوئی چپل اتاری تھی۔یہ دیکھ کر اس کے اوسان خطا ہو گئے کہ اس کی چپل وہاں نہیں تھی۔اس نے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر چاروں طرف چپل ڈھونڈی مگر وہ وہاں ہوتی تو اسے ملتی ناں …… وہ سر تھام کر مسجد کی سیڑھیوں پہ بیٹھ گیا۔جیسی بھی تھی وہ ٹوٹی ہوئی چپل اس کا کل سرمایہ تھی،اس غربت بھری زندگی میں وہ اس ٹوٹی ہوئی چپل کے سہارے ہی رزق کی تلاش میں دھوپ میں پھرتا رہتا تھا۔اس کی آنکھوں میں آنسو در آئے اور لبوں پہ شکوہ مچلا:”اے اللہ! آج تو میں تیری عبادت کرنے آیا تھا۔مگر دیکھ میرا تو نقصان ہو گیا۔“ شکوہ کرتے کرتے اس نے میلی قمیض کے دامن سے اپنے آنسو پونچھے تو اس کی نظر اپنے ٹھیلے پہ پڑی جس کے گرد معمول سے زیادہ رش تھا اورلوگ بے چینی سے آلو چھولے والے کا انتظار کر رہے تھے۔وہ فوراً سے اٹھا اور ننگے پیر ٹھیلے پہ جا کے مصروف ہو گیا۔اسے مغرب تک سر کھجانے کی فرصت بھی نہ ملی،جب زرا فرصت نصیب ہوئی تو اس نے اپنی کمائی کا حساب لگایا۔معمول کی کمائی سے پورے تین سو روپے زیادہ تھے۔تین سو روپے دیکھ کر اسے عصر کی نماز کے بعد والا اپنا شکوہ یاد آیا،بے اختیار اس کی آنکھوں میں آنسو اتر آئے۔وہ آسمان کی طرف منہ کر کے بولا:”اے اللہ!تو بے شک رحیم و کریم ہے۔میری ایک ٹوٹی ہوئی چپل کے بدلے تو نے مجھے اتنا عطا کر دیا کہ میں نئی چپل خرید سکوں۔بے شک میں نے نادانی میں آکر تجھ سے شکوہ کر ڈالا۔مگر تو……تو بہت عظیم ہے……بہت عظیم……مجھے معاف کر دینا اللہ……مجھے معاف کر دینا۔“ اللہ سے بات کرتے کرتے اس کا گلا رندھ گیا۔اسے آج اپنے بزرگوں سے سنی بات پہ یقین آگیا تھا کہ اللہ کی طرف ایک قدم بڑھاؤ تو وہ ستر قدم خود بڑھ کر آگے آتا ہے۔ننگے پاؤں ٹھیلہ گھسیٹتے ہوئے اب اس کا رخ بڑے شاپنگ مال کی طرف تھا،جہاں شوکیس میں سجی نیلے رنگ کی خوبصورت آرام دہ چپل اس کا انتظار کر رہی تھی۔ ……٭……٭……٭……

Comments

Popular posts from this blog

Wo merey dil ka malal hay by Saira Ghaffar Complete Online Urdu Novel

Wo merey dil ka malal hay  By Saira Ghaffar  Complete Online Urdu Novel وہ میرے دل کاملال ہے (سائرہ غفار) قسط نمبر 1 ”مج……مجھ……جھ……ے……ے……ے……بچ……چا……لل……وووو……“اس کی آواز اُسے صاف سنائی دے رہی تھی۔  وہ اس کے سامنے کھڑی ا س کی ابلتی ہوئی آنکھیں دیکھ رہی تھی۔ وہ دیکھ رہی تھی کہ کیسے اس کی بہن تڑپ تڑپ کر منہ سے خون کی الٹیاں کررہی ہے۔ وہ دیکھ رہی تھی ……صاف……اور واضح……اسے دکھائی دے رہاتھا……سب کچھ……ایک دم صاف ……ایک ایک چیز اسے نظر آرہی تھی……اسے وہ میرون اور گولڈن چوڑیاں بیڈ سے ٹکرا کر ٹوٹتی ہوئی نظر آرہی تھیں جو اس نے خو داس کے ساتھ جا کر پسند کروائیں تھیں۔ ”دیکھو ذرا……یہ چوڑیاں میرے لہنگے کے ساتھ کیسی لگیں گی؟“ ”بہت پیاری……تم یہی لینا۔“ اس کے سامنے وہی چوڑیاں اس کی کلائی میں پیوست ہوتی جارہی تھیں۔وہ درد کے مارے تڑپ کر کبھی اِدھر گر رہی تھی تو کبھی اُدھر۔ اس سب میں اس کی جیولری ہر طرف سے بے ترتیب ہورہی تھی۔ اس کا نیکلس گردن میں پھندا ڈال رہاتھا۔یہ تنگ نیکلس بھی اُسی نے پسند کروایا تھا۔ ”یہ لمبا نیکلس مت لو……اچھا نہیں لگے گا……کوئی چھوٹے سائز کا لو……جو گ...

Phantosmia (EP 3) By Saira Ghaffar Complete Online Urdu Novel

Phantosmia By   Saira Ghaffar   Complete Online Urdu Novel فینٹوسمیا (سائرہ غفار) قسط نمبر 3 ”یہ تم کیا کرتی رہتی ہو ہروقت؟ کیا فالتو کے اخبار پھاڑ پھاڑ کر پھول بنا کر ان گملوں میں سجاتی رہتی ہو؟“دلاور کے جانے کے بعد سارا نزلہ معصوم سی کائنات پہ گرنے لگاتھا۔ کائنات نے سہم کر ماں کو دیکھا جو جارحانہ انداز میں کاغذ کے پھولوں سے سجے گملوں کی طرف پیش قدمی کر رہی تھی۔ کائنات نے ایک دم سامنے آکر ماں کو روک دیا:”امی یہ میرے پھول ہیں پلیز ان کو کچھ مت کریں۔“ ”فالتو کام تم دونوں باپ بیٹی کے شوق ہیں۔ بیکار اور فضول کاموں میں اپنا وقت برباد کرتے رہتے ہو۔ جاؤدفع ہوجاؤ یہاں سے۔“شاہدہ نے غصے سے بیٹی کو دھکا دیا۔ اور خود دوسرے کمرے میں چلی گئیں۔ کائنات نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ اس کے پھول اور گملے بچ گئے ورنہ شاہدہ کے غصے سے وہ خود بھی واقف تھی۔ وہ پھر سے اپنے محبوب مشغلے یعنی اخبار اور مختلف کترنوں سے پھول بنانے میں نئے سرے سے جت گئی۔ ………………………… دلاور گھر واپس آیا تو گیٹ پہ اس کی ملاقات شہزاد اور اس کی فیملی سے ہوگئی۔ شہزاد اور دلاور سلام دعا کرنے لگے تو طوبیٰ چا...

Phantosmia (EP 11) By Saira Ghaffar Complete Online Urdu Novel

Phantosmia By   Saira Ghaffar   Complete Online Urdu Novel فینٹوسمیا (سائرہ غفار) قسط نمبر 11 چند دن بعد وہ لوگ رپورٹس لے کر دوبارہ ڈاکٹرشانزے کے پاس پہنچے۔ڈاکٹر نے تمام رپورٹس چیک کرنے کے بعد ان کو خوش خبر ی سنائی۔ ”سب کچھ بالکل پرفیکٹ ہے۔ میرا ڈر صرف وہم تھا۔ “ ”ڈاکٹر کیا آپ ہمیں بتا سکتی ہیں کہ آپ کو کیا وہم تھا؟“کائنات نے پہلی بار سوال کیا تھا۔ ”جی بالکل بیٹا میں بتا سکتی ہوں ……دراصل یہ جو مسئلہ آپ کے ساتھ ہے آپ کو مختلف اچھی بری قسم کی بو محسوس ہوتی ہے۔ یہ اصل میں فینٹوسمیا کہلاتی ہے۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کا کوئی مستقل علاج نہیں ہے۔ اصل میں یہ مسئلہ بذات خود کوئی مسئلہ نہیں بلکہ یہ ایک علامتی مسئلہ ہے۔ جن لوگوں کو یہ بو محسوس ہونے کی شکایت رہتی ہے ان کو ایک یا پھر دونوں نتھنوں سے بو محسوس ہوتی ہے۔ یہ برین ٹیومر کی نشاندہی ہوتی ہے۔“ڈاکٹرسانس لینے کو رکی۔ ”برین ٹیومر؟“شاہدہ اور دلاور ایک دم پریشان ہوگئے تو ڈاکٹر شانزے نے مسکرا کر ان کو دیکھا:”آپ لوگ شکر کریں کہ آپ کی بیٹی کا ایم آر آئی بالکل کلئیر اور بالکل صاف ہے۔ اسے صرف فینٹوسمیا ہے۔ جو کہ کچ...