Cactus By Saira Ghaffar
Short Urdu Online Complete Story
کیکٹس
(سائرہ غفار)
یکم ذوالحج:
ٓآج سے دس دن تک مجھے ناخن نہیں تراشنے۔ زندگی میں اس سے پہلے میں نے کبھی چار یا پانچ دن سے زیادہ ناخن نہیں رکھے۔ میرے ناخن تیزی سے بڑھتے ہیں اور میں ان کو ہفتے میں دو مرتبہ ضرور تراشتی ہوں۔ نجانے لڑکیاں کیسے اتنے لمبے ناخن رکھ لیتی ہیں۔ میری تو سمجھ سے بالا ہے۔ خیر ابھی تو ناخن ترشے ہوئے ہیں۔ دیکھتے ہیں کتنے دن صحیح چلتے ہیں۔
دو ذوالحج:
آج قربانی کی نیت کئے ہوئے دوسرا دن ہے۔ الحمدللہ ابھی تک تو سب کچھ ٹھیک ہی چل رہاہے۔ کوئی مسئلہ محسوس نہیں ہورہا۔ بس گرمی کی شدت بڑھ گئی ہے اورکے ای کا ادارہ اللہ کا عذاب بن کر ہم پہ مسلط کردیاگیا ہے۔ اللہ ہم سب کے حال پہ رحم فرمائے آمین۔
تین ذوالحج:
آج کچن میں کام کرتے ہوئے میرے ایک ناخن پہ ذرا سا کٹ لگ گیا۔ میں نے ہاتھ سے ناخن کو دبا کر ذرا سا سیدھا کردیا۔ اب اس سے زیادہ میں کچھ نہیں کرسکتی تھی۔
شام تک ناخن نے اتنا بیزار کردیا کہ مجھے مجبوراً نیل کٹر کو ہاتھ میں لینا پڑا۔ پھر میں نے سوچا کہ برداشت ہی اصل جیت ہے۔ لہٰذا میں نے نیل کٹر کو واپس رکھ دیا۔ پھر رات ہوتے ہوتے وہ ناخن اس قدر کپڑوں اور دیگر چیزوں میں الجھا کہ مجبوراً میں نے اسے ذرا سا سیدھا کرہی دیا۔
چار ذوالحج:
آج ناخن قدرے بڑے ہوگئے ہیں۔اور صبح سے تین بار میں ناخنوں کی صفائی کرچکی ہوں۔ مگر ہر بار نجانے کیسے ناخن پھر سے کچرے سے بھر جاتے ہیں۔ سمجھ سے بالا ہے بھئی سمجھ سے بالا ہے۔۔۔
پانچ ذوالحج:
ناخن بھی اللہ نے کیا ہی شاندار چیز بنائی ہے۔رتی برابر ہوتے ہیں لیکن بڑھ جائیں تو منوں وزنی محسوس ہوتے ہیں۔ مجھے تو لگ رہاہے جیسے میرے سر پہ کسی نے بہت زیادہ وزن رکھ دیاہو۔ ایک ناخن میں پھر سے کٹ لگ گیاہے۔ کیکٹس کی طرح ہر چیز کے ساتھ چبھ رہاہے۔
مجھے تو لمبے ہوتے ناخن کیکٹس کے مانند محسوس ہورہے ہیں۔ بدنما اور بے جان سے۔ بس بڑھے چلے جارہے ہیں۔ کانٹوں سے محسوس ہورہے ہیں۔نجانے لوگ کیسے ناخنوں کا وزن برداشت کرتے ہیں۔
آدھی رات کو نیند سے بوجھل آنکھوں سے بمشکل ناخن سیدھا کیا کیونکہ نیند میں بھی یہی خیال ستاتا رہا کہ شاید ناخن ہر چیز میں اٹک رہاہے اور الگ ہی ہوجائے گا۔
چھ ذوالحج:
صبح سے شام تک چار بار ناخن صاف کئے ہیں پھر بھی روٹی پکاتے ہوئے اور آٹا گوندھتے ہوئے گھن محسوس ہورہی ہے۔ لڑکیاں کیسے ناخن لمبے کرلیتی ہیں؟ کیسی بھئی کوئی بتائے؟ کوئی مجھے یہ بات سمجھائے کہ کیسے گندگی سے بچ جاتے ہیں آپ کے ناخن؟
سات ذوالحج:
بس تین دن۔۔۔۔ بس تین دن۔۔۔ بس تین دن۔۔۔۔ صبح سے یہ ورد کر کے میں خود کو سمجھا رہی ہوں کہ بس ناخن تراشنے کا دن قریب آرہا ہے۔ اس بوجھ سے جان چھڑا لینے کا دن قریب آرہاہے۔ اس جھمیلے سے آزادی کا دن قریب آرہاہے۔
آٹھ ذوالحج:
آج طبیعت میں بہت ہی زیادہ چڑچڑا پن ہے۔ نجانے کیوں ناخنوں کو دیکھ کر بہت غصہ آرہاہے۔ برداشت کی کمی ہوگئی ہے۔ حالانکہ ناخنوں میں ایسی کوئی مسئلے والی بات تو نہیں لیکن پھر بھی لگ رہاہے کہ ہر کسی سے جھگڑا کروں۔ ہر کسی سے لڑائی مول لے لوں۔ اور بس میں یہ ناخن اتار کر پھینک دینا چاہتی ہوں۔ لیکن ابھی بھی دو دن باقی ہیں۔جب میں نے اپنی بھانجی کو اس کے ذرا سے رونے پہ ڈانٹا تو وہ سہم گئی۔ اس لمحے میری سوچ پہ آگہی کا ایک نیا در وا ہوا۔ جب حضرت بی بی حاجرہ رضی اللہ عنہ صحرا میں اپنے لخت جگر کی آہ و بکا سن رہی ہوں گی تو ان پہ کیا بیتی ہوگی؟ کیسے انہوں نے عز م و حوصلے سے کام لیا ہوگا؟ کیسے انہوں نے برداشت کیا ہوگا؟ اور میں ایک معمولی سے ناخن کو مسئلہ بنا کر جواز بنا کر بچی کو ڈانٹ رہی ہوں۔
نو ذوالحج:
خود کو سمجھا بجھا کر دوسروں سے الجھنے سے گریز پا ہوں۔ بس ایک دن اور۔۔۔صبر کر لو بس ایک دن اور صبر۔۔۔نجانے حضرت بی بی حاجرہ رضی اللہ عنہ نے کیسے صبر کیا ہوگا جب ان کے بیٹے نے رو رو کر ایڑیاں رگڑیں تھیں۔
دس ذوالحج:
الحمد للہ۔۔۔ میں ناخن تراش چکی ہوں۔ ایسا محسوس ہورہا ہے جیسے میرے اندر کسی نے نئی روح پھونک دی ہو۔ میرے اندر روشنی سی بھر گئی ہو۔ آپ میں سے کئی لوگوں کو یہ محض ایک تحریر لگی ہو لیکن یہ میرے ساتھ پچھلے دس دنوں میں ہونے والے واقعات ہیں جن سے میں نے کئی سبق سیکھے ہیں۔
ان ناخنوں کے وزن نے مجھے بتایا کہ میرے گناہوں کا بوجھ ان سے بہت زیادہ ہے۔ اس لئے گناہ اتنا ہی کرو جتنا بوجھ برداشت کرنے کی طاقت ہو۔
کیکٹس جیسی سوچیں میری
سوئیوں جیسی چبھتی ہیں
خوف زدہ کرتی ہیں مجھے
کینسر جیسے مجھ کو جکڑے
میری سوچیں ایسی ویسی
ذہن کے خالی کاغذ پہ
آڑھی ٹیڑھی لکیروں جیسی
کیکٹس جیسی سوچیں میری
سوئیوں جیسی چبھتی ہیں
مجھ کو ڈستی رہتی ہیں
مجھ کو کوستی رہتی ہیں
سوا ل در سوال
سوال در سوال
جواب نہیں دینے دیتیں
باتونی سی لگتی ہیں
کیکٹس جیسی سوچیں میری
سوئیوں جیسی چبھتی ہیں


Comments
Post a Comment