Main nay Sooryavansham dekhi thi By Saira Ghaffar Short Urdu Complete story
(سائرہ غفار)
میں نے سوریاونشم دیکھی تھی جی جی وہی سوریاونشم جس میں امیتابھ بچن کے ابو جان بھی وہ خود ہوتے ہیں اور ابو جان امیتابھ بچن بیٹے امیتابھ بچن کی کتے والی بے عزتی کرتے رہتے ہیں ساری مووی میں۔ اور اس کو نوکر بیٹا بنا کررکھتے ہیں۔۔۔ اور پھر بیٹے امیتابھ بچن کی شادی ایک امیر کبیر لڑکی سے ہوجاتی ہے وہ لڑکی ساری دنیا کو ٹھوکر مار کر بیٹے امیتابھ بچن سے شادی کرتی ہے اور پھراس کو بھی امیر کبیر بنا دیتی ہے۔ واہ واہ تالیاں۔۔۔ یہ مووی میں نے اس لئے دیکھی تھی کیونکہ یہ مووی کیبل پہ کچھ زیادہ ہی چلا کرتی تھی اور یہ مووی دیکھ دیکھ کر میرے دل میں بھی خواہش پیدا ہوئی کہ میں بھی کسی گھر کے بیٹے نوکر سے شادی کر کے اس کو بڑا سا بزنس مین بنا دوں اور راتوں رات کسی محل کی رانی بن جائوں۔ اس کے لئے میں نے ضد پکڑ لی اور خاندان کے سب سے منحوس مارے سمجھے جانے والے نکمے ناکارہ الو کے پٹھے لڑکے سے شادی کرنے کی ضد پکڑ لی کیونکہ میں نے سوریاونشم دیکھی تھی۔
ابو نے امی نے بہن بھائیوں نے سبھی نے مجھے کتنا سمجھایا مگر میں ٹس سے مس نہ ہوئی کیونکہ میں نے سوریاونشم دیکھی تھی اور کچھ خود پہ اور اپنی قابلیت پہ ناز بھی بہت تھا۔ اس لئے ابو نے دل گرفتگی کے ساتھ جب اس الو کے پٹھے سے میرے رشتے کی بات کی تو میں تو جیسے ہوائوں میں اڑنے لگی اور میری تو خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں رہا۔
میں نے سوریاونشم دیکھی تھی اس میں اور میری کہانی میں صرف یہ فرق تھا کہ میں ایک پرائیوٹ کمپنی میں کام کرتی تھی اور میں نے ایم اے کر لیا تھا۔
ابو امی نے مجھے بہت سمجھایا اور پھر تھک ہار کر میری ضد کے آگے گھٹنے ٹیک دئیے۔ جس دن میری شادی ہوئی مجھے سسرال کی طرف سے ایک بہت ہی معمولی سا جوڑا پہنایا گیا۔ مجھے کوئی زیور نہیں ملا۔ جو کچھ بھی ملا وہ سب میرے امی ابو کی دین تھی۔ مگر میں خوش تھی کیونکہ مجھے معلوم تھا کہ صرف شروع کے چند سال ہم دونوں خوب محنت کریں گے اور پھر آگے کی ساری زندگی ساری دنیا ہمارے قدموں میں ہوگی۔ شادی کے پہلے دن ہی میری ساس نے کچن میرے حوالے کردیا اور بولی کہ میری بوڑھی ہڈیوں میں اب جان نہیں رہی تم آگئی تو سنبھالو۔ میں نے دل میں سوچا کہ میں نے سوریاونشم دیکھی ہے اس میں تو کوئی ساس سسر کا چکر ہی نہیں ہوتا کیونکہ وہ تو گھر سے ہی نکال دیتے ہیں سو میں نے اپنے میاں کو فورس کرنا شروع کیا کہ اگر ترقی کرنی ہے تو اس گھر سے نکلنا ہوگا۔
نئی نئی شادی ہوئی تھی کچھ میرے میاں کو میرے پڑھے لکھے ہونے کا زعم بھی تھا بلکہ زعم کیا غرور تھا۔ اس لئے انہوں نے کہا مجھے اعتراض نہیں لیکن میں کام نہیں کروں گا کام تم کرو گی کرایہ بھی تم ہی ادا کرو گی۔ میں نے دل میں سوچا کہ کچھ دنوں میں یہ عادت چھڑوادوں گی۔ اس لئے ہامی بھر لی۔ کرائے کے گھر دیکھنے نکلی تو معلوم ہوا کہ دنیا تو اندھیر نگری ہے۔ اتنے زیادہ کرائے کہ میری تو چپل گھس گئی مناسب کرایہ والا گھر ڈھونڈنے میں۔۔۔ مگر بے سود۔۔۔ گھر نہ ملا کرائے اتنے مہنگے تھے کہ میں اپنی تنخواہ میں یا تو گھر خرچ چلاتی یا کرایہ دیتی۔ لیکن میں نے تو سوریاونشم دیکھی تھی اس لئے صبر کر لیا اور سسرال میں ہی گزارا کرنے ہی اکتفا کر لیا۔ اب اصل زندگی اور مووی میں انیس بیس کا فرق تو چلتا ہی ہے۔
خیر شادی کے ایک مہینےبعد میں نے اپنے میاں کو سمجھانا شروع کیا کہ وہ کوئی چھوٹا موٹا سا کام ڈھونڈ لیں۔ میرے میاں نے میری بات سنی اور ان سنی کردی۔ تھوڑے دن بعد میں نے ان کو پھر سے قائل کرنے کی کوشش کی اور اس کوشش کے بعد انہوں نے مجھے ایسی نظروں سے دیکھا جیسے میرے سر پہ سینگ اگ آئے ہوں۔ اس دن مجھے احساس ہوا کہ مجھے ان کو اپنے ساتھ بٹھا کر سوریاونشم دکھانی چاہئیے تاکہ ان کے دل میں بھی نوکر بیٹے امیتابھ بچن جیسی امنگ جاگ جائے اور وہ محنت کے عادی ہوجائیں۔ سو ہم نے ساتھ مل کر مووی دیکھی ۔ فلم ختم ہونے کے بعد میں نے ان سے پوچھا کہ انہوں نے فلم سے کیا سبق سیکھا۔ وہ بولے فلم انجوائے کرنے کے لئے ہوتی ہے سبق سیکھنے کے لئے نہیں۔ میرے تو پیروں تلے سے زمین ہی نکل گئی۔
اور انہوں نے وہ تاریخی جملہ میرے کانوں میں انڈیلا کہ میرے چودہ طبق روشن ہوگئے۔ وہ بولے میرے بھولی بیگم خدا نے مجھے ایک کمائو پوت بیوی دے دی ہے مجھے زندگی سے اور کچھ نہیں چاہئیے اس لئے میں محنت کروں تو کس کے لئے؟ میرے گزارے کے لئے تمہاری تنخواہ کافی ہے۔
میں بیٹھ کر سوچنے لگی کہ ان کو قائل کرنے کے لئے کوئی اور طریقہ ہونا چاہئیے تو وہ جھٹ سے بولے بیگم میں بلبلے کے کھوئے والے ملائی والے نبیل کو اپنا آئیڈیل مانتا ہوں۔ اور ساری زندگی اسی کے نقش قدم پہ گزارنا چاہتاہوں۔ تم کمائو میں عیش کروں گا۔
اور میں اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گئی کیونکہ میں نے اپنی زندگی میں کبھی بلبلے کو اتنے غور سے نہیں دیکھا تھا میں نے تو غور سے صرف سوریاونشم ہی دیکھی تھی۔
آج میری شادی کو دس سال ہوچکے ہیں اور میں دس سالوں سے نوکر امیتابھ بچن کی سوریاونشم کو روز دیکھتی ہوں اورروز خود کو کوستی ہوں۔ مجھے احساس ہوتا ہے کہ وہ نوکر بیٹا امیتابھ بچن میں خود ہوں۔ میں ہی نوکری کرتی ہوں گھر کے کام کرتی ہوں بچے پالتی ہوں۔ سب کے ناز نخرے اٹھاتی ہوں۔ شکایت کا ایک حرف زبان پہ نہیں لاتی کیونکہ میں نے خود ہی اپنی ضد میں آکر یہ سزا منتخب کی تھی۔
اور میرے نالائق نکمے اور نکھٹو میاں روز بلبلے دیکھتے ہیں اور ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہوتے رہتے ہیں۔
میرے شوہر نالائق ضرور ہیں نکمے ضرور ہیں ناکارہ بھی ہیں بلکہ الو کا پٹھا بولو تو بہت ہی مناسب لگتا ہے لیکن انہوں نے مجھے زندگی کا سب سے اہم سبق سکھایا ہے۔ انہوں نے مجھے سکھایا ہے کہ موویز صرف انٹرٹینمنٹ اور انجوائے کرنے کے لئے ہوتی ہیں۔ سبق سکھانے کے لئے لوگ ہوتے ہیں رشتے ناطے ہوتے ہیں پوری دنیا ہوتی ہے۔
خیر شادی کے ایک مہینےبعد میں نے اپنے میاں کو سمجھانا شروع کیا کہ وہ کوئی چھوٹا موٹا سا کام ڈھونڈ لیں۔ میرے میاں نے میری بات سنی اور ان سنی کردی۔ تھوڑے دن بعد میں نے ان کو پھر سے قائل کرنے کی کوشش کی اور اس کوشش کے بعد انہوں نے مجھے ایسی نظروں سے دیکھا جیسے میرے سر پہ سینگ اگ آئے ہوں۔ اس دن مجھے احساس ہوا کہ مجھے ان کو اپنے ساتھ بٹھا کر سوریاونشم دکھانی چاہئیے تاکہ ان کے دل میں بھی نوکر بیٹے امیتابھ بچن جیسی امنگ جاگ جائے اور وہ محنت کے عادی ہوجائیں۔ سو ہم نے ساتھ مل کر مووی دیکھی ۔ فلم ختم ہونے کے بعد میں نے ان سے پوچھا کہ انہوں نے فلم سے کیا سبق سیکھا۔ وہ بولے فلم انجوائے کرنے کے لئے ہوتی ہے سبق سیکھنے کے لئے نہیں۔ میرے تو پیروں تلے سے زمین ہی نکل گئی۔
اور انہوں نے وہ تاریخی جملہ میرے کانوں میں انڈیلا کہ میرے چودہ طبق روشن ہوگئے۔ وہ بولے میرے بھولی بیگم خدا نے مجھے ایک کمائو پوت بیوی دے دی ہے مجھے زندگی سے اور کچھ نہیں چاہئیے اس لئے میں محنت کروں تو کس کے لئے؟ میرے گزارے کے لئے تمہاری تنخواہ کافی ہے۔
میں بیٹھ کر سوچنے لگی کہ ان کو قائل کرنے کے لئے کوئی اور طریقہ ہونا چاہئیے تو وہ جھٹ سے بولے بیگم میں بلبلے کے کھوئے والے ملائی والے نبیل کو اپنا آئیڈیل مانتا ہوں۔ اور ساری زندگی اسی کے نقش قدم پہ گزارنا چاہتاہوں۔ تم کمائو میں عیش کروں گا۔
اور میں اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گئی کیونکہ میں نے اپنی زندگی میں کبھی بلبلے کو اتنے غور سے نہیں دیکھا تھا میں نے تو غور سے صرف سوریاونشم ہی دیکھی تھی۔
آج میری شادی کو دس سال ہوچکے ہیں اور میں دس سالوں سے نوکر امیتابھ بچن کی سوریاونشم کو روز دیکھتی ہوں اورروز خود کو کوستی ہوں۔ مجھے احساس ہوتا ہے کہ وہ نوکر بیٹا امیتابھ بچن میں خود ہوں۔ میں ہی نوکری کرتی ہوں گھر کے کام کرتی ہوں بچے پالتی ہوں۔ سب کے ناز نخرے اٹھاتی ہوں۔ شکایت کا ایک حرف زبان پہ نہیں لاتی کیونکہ میں نے خود ہی اپنی ضد میں آکر یہ سزا منتخب کی تھی۔
اور میرے نالائق نکمے اور نکھٹو میاں روز بلبلے دیکھتے ہیں اور ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہوتے رہتے ہیں۔
میرے شوہر نالائق ضرور ہیں نکمے ضرور ہیں ناکارہ بھی ہیں بلکہ الو کا پٹھا بولو تو بہت ہی مناسب لگتا ہے لیکن انہوں نے مجھے زندگی کا سب سے اہم سبق سکھایا ہے۔ انہوں نے مجھے سکھایا ہے کہ موویز صرف انٹرٹینمنٹ اور انجوائے کرنے کے لئے ہوتی ہیں۔ سبق سکھانے کے لئے لوگ ہوتے ہیں رشتے ناطے ہوتے ہیں پوری دنیا ہوتی ہے۔
-------------------
(ختم شد)
(ختم شد)


Comments
Post a Comment