Skip to main content

Purani Maiz By Saira Ghaffar Short Urdu Story


Purani Maiz By Saira Ghaffar 
Short Urdu Story




پرانی میز
(سائرہ غفار)


وہ ایک دیمک زدہ میز تھی۔ بہت پرانی تھی شاید باوا آدم کے زمانے کی۔۔۔
وہ اس اسکول کے ایک کونے میں دھری رہتی تھی نجانے جب سے وہی کونا اس کی آماجگاہ تھا۔
سارا اسٹاف اس میز سے پریشان تھا۔ چپڑاسی حاکم کو حکم دیاگیاتھا کہ "جب بھی کوئی ٹین ڈبے والا ملے اسے پکڑ کر لے آئو تاکہ اس پرانی سی میز سے جان چھڑائی جاسکے"۔ 
اگلے ہی دن حاکم ایک ٹین ڈبے والے کو پکڑ لایا۔اس نے گھوم پھر کر میز کا معائنہ کیا جسے چوکیدارچوہدری کی منت سماجت کر کے چمکوایا گیاتھا کیونکہ چوہدری تو اسے ہاتھ لگانے کا بھی روادار نہ تھا اسے شک تھا کہیں دیمک اس کو کاٹ ہی نہ لے۔
ٹین ڈبے والے نے میز کو آگے پیچھے دائیں بائیں ہرطرف سے دیکھنے کے بعد اعلان کیا :"میں یہ میز نہیں لے کرجائوں گا"۔
ہیڈ ماسٹر صاحب نے اسے کہا :"مفت میں لے جائو ہمیں پیسے نہیں چاہیئیں"۔
ٹین ڈبے والے نے ان کو عجیب طرح سے دیکھا اور پھر ہنس کر چلا گیا۔ تب سے اب تک وہ پریشان گھوم رہے ہیں کہ آخر وہ ہنسا کیوں؟ ہنسا تو ان کو دیکھا کیوں؟ دیکھا تو ہنسا کیوں؟ 
رنجیدہ اور سنجیدہ مزاج کے استاد اللہ رکھا نے مشورہ دیا :"کباڑی والے کو بلا لائو وہ یہ میز لے جائے گا"۔
حاکم کو بھیجا گیا۔ وہ گیا تو واپس آکر بولا :" کباڑی والا بہت بزی چل رہا ہے۔ اس نے کہا ہے کہ سامان لے کر آئو اچھا لگا تو لے لوں گا ورنہ واپس لے جانا"۔
"ہیڈ ماسٹر صاحب کو غصہ آگیا:" یہ کیا بات ہوئی بھلا؟
استاد جبران نے ناک کی پھننگ پہ چشمہ درست کرتے ہوئے مشورہ دیا کہ" یہ میز نہ بیچی جائے بلکہ اگلے ماہ حاکم کو اس کی ریٹائرمنٹ پہ گفٹ کردی جائے تو اس غریب کا بھی بھلا ہوجائے گا"۔
حاکم یہ سن کر آگ بگولہ ہوگیا :" اس میز کی دیمک تو میرا سارا گھر تباہ و برباد "کردے گی کاہے کا بھلا ہونا ہے بھلا اس میز سے؟
اگلے دن حاکم ایک اور ٹین ڈبے والے کو پکڑ کر لے آیا۔ اس نے ٹھونک بجا کر دیکھا پھر اعلان کیا کہ وہ یہ میز لے کر جائے گا۔ ہیڈ ماسٹر صاحب اور ان کا سارا اسٹاف بشمول حاکم اور چوہدری اس کے گلے لگ گئے اور شکریہ ادا کرنے لگے۔
ٹین ڈبے والے نے بمشکل خود کو چھڑایا:"ارے چھوڑو میاں کیا ہوگیا ہے پاگل واگل ہوگئے ہوگیا؟میں یہ میز ایک ہی شرط پہ لے کے جائوں گا"۔
"ہمارے ہیڈ ماسٹر صاحب کو تمہاری سب شرطیں منظور ہیں تم بس اس میز کو ابھی کے ابھی لے جائو۔"جوشیلے جبران صاحب نے فوراً کہا تو ہیڈ ماسٹر صاحب نے انہیں کھا جانے والے انداز سے دیکھا۔
"آپ لوگ مجھے دو سو روپے دے دیں میں ابھی کے ابھی یہ میز لے جاتا ہوں۔" سب لوگوں نے ہیڈ ماسٹر صاحب کی طرف دیکھ کر ہاتھ پھیلا دئیے :"لائیے سر دو سو روپے دے دیں اور اس پرانی دیمک زدر مفلوک الحال میز سے جان چھڑا لیں۔"
"سوچ لیں سر یہ ایسا سنہری اور شاندار موقع بار بار ہاتھ نہیں آتا۔"چوہدری نے ہیڈماسٹر صاحب کے کان میں سرگوشی کی تو وہ سوچ میں پڑ گئے۔
ان کو گہری سوچ میں ڈوبا دیکھ کر ٹین ڈبے والا فوراً دروازے کی طرف منہ کرکے بولا:"سر میرا ٹائم کھوٹی مت کرو۔ مجھے بہت کام ہے۔ جلدی بولو لے کے جائوں یا نہیں؟"
"ہاں ہاں لے جائو۔"ہیڈ ماسٹر صاحب نے فوراً جیب سے دو سوروپے نکال کر اس کے ہاتھ پہ رکھے۔ اس نے چوہدری اور حاکم کی مدد سے میز کو اپنے ٹھیلے پہ لوڈ کروایا اور سب نے اشکبار نگاہوں سے اس پرانی دیمک زدہ میز کو رخصت کیا۔
سر جبران نے اس کی رخصتی کی مکمل ویڈیو ریکارڈنگ کی سب نے اسے اسکول اسٹاف کے واٹس ایپ گروپ پہ شیئر کرنے کی درخواست کی جسے قبول کرلیاگیا۔
سر اللہ رکھا نے میز کی چند تصاویر لیں اور حاکم نے تو سیلفیاں بنائیں جس میں ٹبن ڈبے والا پوری بتیسی کی نمائش کرتے ہوئے وی کا نشان بنا رہاتھا۔
بہر حال یہ سب ہوجانے کے بعد سب نے ہیڈ ماسٹر صاحب کو مبارکباد پیش کی جسے انہوں نے مسکراتے ہوئے قبول کیا جیسی بہت بڑی جنگ جیتے ہوں۔
اس دن سارا اسٹاف ایک دوسرے کے ساتھ حد سے زیادہ خوش اخلاقی سے پیش آرہاتھا اور کوریڈور کے اس کونے کے سونے ہوجانے کا ذکر کر رہاتھا جہاں وہ پرانی میز دھری رہتی تھی۔
چھٹی کے بعد وہ سب اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے۔
اگلے دن اسکول کھلا ۔ بریک میں استاد اللہ رکھا کی طرف سے سموسوں کی دعوت کا اہتمام کیا گیاتھا۔ چوہدری سموسے لینے نکلا تو حاکم بوکھلایا ہوا ہانپتا کانپتا بھاگتا دوڑتا آیا۔ اور پھولی سانسوں سے باہو کی طرف اشارہ کرنے لگا۔
ہیڈ ماسٹر صاحب اور استاد صاحبان نے حاکم کی معیت میں باہر کا رخ کیا تو کیا دیکھتے ہیں کہ اسکول کے چھ لڑکے پرانی دیمک زدہ مفلوک الحال میز کو کندھوں پہ کسی بادشاہ کی طرح سوار کئے کوریڈور میں لارہے ہیں اور اسے اس کی جگہ فٹ کر کے ایک دوسرے کو فاتحانہ نظروں سے دیکھنے لگے۔ ان کے یونیفارم کی سفید شرٹوں ہی داغ لگ گئے تھے لیکن ان کی خوشی دیدنی تھی۔
جیسے جیسے طلبا کو پتہ چل رہاتھا کہ میز واپس آگئی ہے سب اسے دیکھنے کے لئے مچلتے ہوئے دوڑے چلے آرہے تھے اور پرانی مفلوک الحال دیمک زدہ میز کی دید سے آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچا رہے تھے۔
ہیڈ ماسٹر صاحب نے غصے سے بچوں کو دیکھا:"یہ کیا ہے؟"
"سر ایک ٹین ڈبے والے کے پاس ثاقب نے یہ میز دیکھی تو اس نے ہمیں آکے بتایا کہ اسکول کی میز ٹین ڈبے والے نے چرا لی ہے۔ "
"چرا لی ہے؟"سر جبران نے حیرت ست پوچھا اور ہیڈ ماسٹر کو دیکھا
"جی سر۔۔۔۔وہ ٹین ڈبے والا تو ہمیں میز واپس کرنے کو تیار ہی نہیں تھا بڑی مشکل سے لائے ہیں۔"یہ ایک لیڈر ٹائپ بچہ تھا جو جوشیلے انداز میں بتارہاتھا۔
سراللہ رکھا نے سر پہ ہاتھ مارا:"تو بچو جب وہ نہیں دے رہاتھا تو کیوں لے کے آئے؟"
"ہمارے اسکول کی پراپرٹی تھی سر ہم کیسے کسی کو رکھ لینے دیتے؟"یہ ثاقب تھا جس نے سب سے پہلے چوری کرنے والے ٹین ڈبے والے کو دریافت کرنے کا سہرا اپنے سر پہنا تھا۔
ہیڈ ماسٹر صاحب نے اسے کچا چبا جانے کے انداز سے دیکھاتھا پھر بے بسی سے میز کو دیکھا تو کسی ملکہ کی طرح اسی کونے میں دوبارہ سے شاہانہ اندا زمیں براجمان ہوچکی تھی۔
"سر ۔۔۔۔پانچ سو روپے؟"ایک بچے نے کہا تو ہیڈ ماسٹر صاحب اور اسٹاف نے حیرت سے اسے دیکھا۔
"کس چیز کے پانچ سو روپے بھئی؟"حاکم نے منہ کھولا تھا۔
"سر بتایا تو ہے کہ ٹین ڈبے والا میز واپس نہیں کررہاتھا بڑی مشکل سے پانچ سو روپے میں اسے منا کر سمجھا بجھا کر میز لے کر آئے ہیں۔ ہم سب نے  بڑی مشکل سے پیسے جمع کئے آپس میں چندہ کر کے کیونکہ ہم جانتے تھے کہ آپ ہمیں واپس کردیں گے۔ "
ہیڈ ماسٹر صاحب کا خون خشک ہوگیا۔
"اور سر گدھا گاڑی والا باہر کھڑا ہے اس میں ہی ہم میز کو رکھ کر لائے تھے ناں۔ اس کو بھی سو روے دینے ہیں۔"دوسرے بچے نے یاد کروایا۔
ہیڈ ماسٹر صاحب دل کو پکڑ کر وہیں زمین پہ بیٹھتے چلے گئے۔


ختم شد





اہل علم حضرات قلمی چوری سے پرہیز کریں۔
 کاپی پیسٹ کی اجازت نہیں ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

Wo merey dil ka malal hay by Saira Ghaffar Complete Online Urdu Novel

Wo merey dil ka malal hay  By Saira Ghaffar  Complete Online Urdu Novel وہ میرے دل کاملال ہے (سائرہ غفار) قسط نمبر 1 ”مج……مجھ……جھ……ے……ے……ے……بچ……چا……لل……وووو……“اس کی آواز اُسے صاف سنائی دے رہی تھی۔  وہ اس کے سامنے کھڑی ا س کی ابلتی ہوئی آنکھیں دیکھ رہی تھی۔ وہ دیکھ رہی تھی کہ کیسے اس کی بہن تڑپ تڑپ کر منہ سے خون کی الٹیاں کررہی ہے۔ وہ دیکھ رہی تھی ……صاف……اور واضح……اسے دکھائی دے رہاتھا……سب کچھ……ایک دم صاف ……ایک ایک چیز اسے نظر آرہی تھی……اسے وہ میرون اور گولڈن چوڑیاں بیڈ سے ٹکرا کر ٹوٹتی ہوئی نظر آرہی تھیں جو اس نے خو داس کے ساتھ جا کر پسند کروائیں تھیں۔ ”دیکھو ذرا……یہ چوڑیاں میرے لہنگے کے ساتھ کیسی لگیں گی؟“ ”بہت پیاری……تم یہی لینا۔“ اس کے سامنے وہی چوڑیاں اس کی کلائی میں پیوست ہوتی جارہی تھیں۔وہ درد کے مارے تڑپ کر کبھی اِدھر گر رہی تھی تو کبھی اُدھر۔ اس سب میں اس کی جیولری ہر طرف سے بے ترتیب ہورہی تھی۔ اس کا نیکلس گردن میں پھندا ڈال رہاتھا۔یہ تنگ نیکلس بھی اُسی نے پسند کروایا تھا۔ ”یہ لمبا نیکلس مت لو……اچھا نہیں لگے گا……کوئی چھوٹے سائز کا لو……جو گ...

Phantosmia (EP 3) By Saira Ghaffar Complete Online Urdu Novel

Phantosmia By   Saira Ghaffar   Complete Online Urdu Novel فینٹوسمیا (سائرہ غفار) قسط نمبر 3 ”یہ تم کیا کرتی رہتی ہو ہروقت؟ کیا فالتو کے اخبار پھاڑ پھاڑ کر پھول بنا کر ان گملوں میں سجاتی رہتی ہو؟“دلاور کے جانے کے بعد سارا نزلہ معصوم سی کائنات پہ گرنے لگاتھا۔ کائنات نے سہم کر ماں کو دیکھا جو جارحانہ انداز میں کاغذ کے پھولوں سے سجے گملوں کی طرف پیش قدمی کر رہی تھی۔ کائنات نے ایک دم سامنے آکر ماں کو روک دیا:”امی یہ میرے پھول ہیں پلیز ان کو کچھ مت کریں۔“ ”فالتو کام تم دونوں باپ بیٹی کے شوق ہیں۔ بیکار اور فضول کاموں میں اپنا وقت برباد کرتے رہتے ہو۔ جاؤدفع ہوجاؤ یہاں سے۔“شاہدہ نے غصے سے بیٹی کو دھکا دیا۔ اور خود دوسرے کمرے میں چلی گئیں۔ کائنات نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ اس کے پھول اور گملے بچ گئے ورنہ شاہدہ کے غصے سے وہ خود بھی واقف تھی۔ وہ پھر سے اپنے محبوب مشغلے یعنی اخبار اور مختلف کترنوں سے پھول بنانے میں نئے سرے سے جت گئی۔ ………………………… دلاور گھر واپس آیا تو گیٹ پہ اس کی ملاقات شہزاد اور اس کی فیملی سے ہوگئی۔ شہزاد اور دلاور سلام دعا کرنے لگے تو طوبیٰ چا...

Phantosmia (EP 11) By Saira Ghaffar Complete Online Urdu Novel

Phantosmia By   Saira Ghaffar   Complete Online Urdu Novel فینٹوسمیا (سائرہ غفار) قسط نمبر 11 چند دن بعد وہ لوگ رپورٹس لے کر دوبارہ ڈاکٹرشانزے کے پاس پہنچے۔ڈاکٹر نے تمام رپورٹس چیک کرنے کے بعد ان کو خوش خبر ی سنائی۔ ”سب کچھ بالکل پرفیکٹ ہے۔ میرا ڈر صرف وہم تھا۔ “ ”ڈاکٹر کیا آپ ہمیں بتا سکتی ہیں کہ آپ کو کیا وہم تھا؟“کائنات نے پہلی بار سوال کیا تھا۔ ”جی بالکل بیٹا میں بتا سکتی ہوں ……دراصل یہ جو مسئلہ آپ کے ساتھ ہے آپ کو مختلف اچھی بری قسم کی بو محسوس ہوتی ہے۔ یہ اصل میں فینٹوسمیا کہلاتی ہے۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کا کوئی مستقل علاج نہیں ہے۔ اصل میں یہ مسئلہ بذات خود کوئی مسئلہ نہیں بلکہ یہ ایک علامتی مسئلہ ہے۔ جن لوگوں کو یہ بو محسوس ہونے کی شکایت رہتی ہے ان کو ایک یا پھر دونوں نتھنوں سے بو محسوس ہوتی ہے۔ یہ برین ٹیومر کی نشاندہی ہوتی ہے۔“ڈاکٹرسانس لینے کو رکی۔ ”برین ٹیومر؟“شاہدہ اور دلاور ایک دم پریشان ہوگئے تو ڈاکٹر شانزے نے مسکرا کر ان کو دیکھا:”آپ لوگ شکر کریں کہ آپ کی بیٹی کا ایم آر آئی بالکل کلئیر اور بالکل صاف ہے۔ اسے صرف فینٹوسمیا ہے۔ جو کہ کچ...