Skip to main content

Silai Machine ki Ghirr Ghirr By Saira Ghaffar Short Urdu Story

Silai Machine ki Ghirr Ghirr By Saira Ghaffar 
Short Urdu Story

 سلائی مشین کی گھررررر گھرررر
(سائرہ غفار)

انہیں میری سلائی مشین کی گھرررگھررر سے نفرت ہے۔۔۔۔۔شدید والی نفرت۔۔۔۔انہیں لگتا ہےکہ ان کا دماغ اس گھررررکو سننے سے پھٹ جائے گا۔"
"اور آپ کو کیا لگتا ہے؟"رائٹنگ پیڈ پہ چلتا ڈاکٹر کا ہاتھ ایک لمحے کو رکاتھا۔
"مجھے ۔۔۔۔مجھے کیا لگتا ہے؟"وہ خلائوں میں گھورنے لگی:"مجھے لگتا ہے کہ میرے دل کی دھڑکن بند ہوجائے گی۔"
"اور تمہیں ایسا کیوں لگتا ہے؟"ڈاکٹر نے اس کا ہاتھ دھیرے سے تھام لیاتھا اور اسے دھیرے دھیرے سے سہلارہی تھی،۔
وہ خالی خالی نظرو ں سے اپنے اس تھمے ہوئے ہاتھ کا سہلنا دیکھتی رہی۔ جیسے بہت ہی اطمینان محسوس کررہی ہو۔
"مجھے لگتا ہے کہ جیسے وہ گھرررر گھررر گھر میں رونق پیدا کرتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ جیسے اس کی آواز میری سبھی ان کہی باتوں کے جوابات ہوں۔ "
"ہوں۔۔۔۔بہت سارے سوال ہیں تمہارے ذہن میں؟"
"بووووووہت سارے۔۔۔۔۔امی مجھے سوال پوچھنے پہ پہلے ڈانٹتی تھیں پھر مارتی تھیں۔۔۔پھر خود کونے میں جا کر روتی رہتی تھیں۔ میں امی کے رونے پہ بھی سوال پوچھ لیاکرتی تھی۔ کیا غریب انسان اتنا ان پڑھ ہوتا ہے کہ اس کے پاس کسی بھی سوال کا جواب نہیں بچتا؟"اس کے سوال سے ڈاکٹر ایک دم ہڑبڑا گئی۔
"آں۔۔۔آں۔۔۔شاید۔۔۔ شاید ان کے پاس جواب نہ ہو۔ اور شاید جواب ہو لیکن تمہاری عمر اور سمجھ سے بالا ہوں۔ "ڈاکٹر نے اسے رام کرنے کی کوشش کی۔ وہ ناسمجھی کے عالم میں دھیرے سے سر ہلانے لگی۔
"میری ماں نے ساری زندگی مشکلوں میں گزاری اور اپنا ہنر ہمیں سکھایا۔ جب ہانڈی چولہے پہ نہیں چڑھتی ناں توسلائی مشین کی گھررر گھررر بہت سکون دیتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ تھوڑا سا پیٹ بھر گیا۔ پھر جب میں گلا بنا کریا صفائی سے پائپن لگا کر امی کو دکھاتی کہ دیکھیں میں نے کیسا بنایا ہے؟ تو وہ بہت تعریف کرتیں۔ میرا پورا پیٹ خوشی سے ہی بھر جاتا۔۔۔بھوک کا احساس ایسے ختم ہوتا جیسے کبھی تھا ہی نہیں۔۔۔۔"وہ یادوں کے پنے دھیرے دھیرے پلٹ رہی تھی۔
"تمہاری شادی کیسے ہوئی؟"ڈاکٹر نے اس کی زندگی کے نئے باب کے متعلق پوچھا۔
وہ دھیرے سے مسکرائی:"ابو کو مولوی صاحب نے یہ رشتہ بتایا تھا۔ مولوی صاحب کے جاننے والے تھے۔ والدہ کا انتقال ہوگیاتھا۔ ایک بہن شادی شدہ ۔ بس امی ابو نے غنیمت سمجھا اور شادی کردی۔"
"تم خوش نہیں ہو؟"ڈاکٹر نے پوچھا۔
"میری زندگی میں اگر کوئی خوشی ہے تو صحیح معنوں میں یہ شادی ہی ہے۔ وہ بہت اچھے انسان ہیں۔"
"پھر تم خوش کیوں نہیں رہتیں؟"
"میں نے بتایا تو سہی کہ سلائی مشین کی گھررر گھرر سے ان کے سر میں درد شروع ہوجاتا ہے۔"اس نے ڈاکٹر کو یاددہانی کروائی۔
"اور تمہیں بہت سکون دیتی ہے۔ہے ناں؟"ڈاکٹر مسکائی۔
"بووووووہت زیادہ۔"اس نے آنکھیں بند کر کے سکون کو جیسے محسوس کرنے کی کوشش کی۔
"تم چاہی ہو کہ تم سلائی مشین کی گھرر گھرر سنتی رہو؟"
"ہر وقت سنتی رہوں۔ پتہ ہے امی کے گھر جاتی ہوں توایسا لگتا ہے کہ جیسے میں محل سے اٹھ کر جھونپڑی میں آگئی ہوں، ہم بہت غریب تھے حاطب نے مجھ سے شادی کر کے مجھ غریب پہ بہت احسان کیا ہے لیکن۔۔۔۔"
"لیکن کیا؟"
"وہ محل مجھے کاٹنے کو دوڑتا ہے۔ نہ وہاں کسی ٹین ڈبے والے کی آواز آتی ہے۔ نہ وہاں سبزی بیچنے والے آتے ہیں۔ شکر قندی ۔۔۔ سائکل والے سموسے والے ۔۔۔ باقر خانی والے۔۔۔ کوئی نہیں آتا۔۔۔۔ نہ قلفی والے کی ٹن ٹن ۔۔۔بس ایک سونا پن ہے وہاں۔۔۔۔درودیوار رنگ و روغن سے سجی ہیں بس۔۔۔ میں باہر کی آوازیں سننے کو ترس جاتی ہوں۔۔۔،اور ان کو سلائی مشین کی گھر رر گھررر سے سر درد ہوجاتا ہے۔۔۔مجھے لگتا ہے کہ میرے اندر کا شور ایک آسیب میں تبدیل ہوتا جارہاہے۔یہ آسیب مجھے کسی دن مجھے کھا جائے گا۔"اس نے دونوں ہاتوں سے اپنا منہ چھپا لیا۔ 
"ریلیکس۔۔۔ریلیکس۔۔۔۔کچھ نہیں ہے۔" ڈاکٹر نے اسے تسلی دیتے ہوئے ایک گولی اپنی دراز سے نکالی:"لو یہ گولی پانی کے ساتھ کھا لو۔"پانی کا گلاس اس کی طرف کھسکاتے ہوئے ڈاکٹر نے اس کی ہتھیلی پہ گولی رکھی۔
اس نے گولی کھالی تو ڈاکٹر نے اپنےکمرے میں موجود بیڈ کی طرف اشارہ کیا:"وہاں لیٹ جائو میں تمہیں سلائی مشین کی گھرر گھرر سنواتی ہوں۔" وہ خوش ہوگئی اور بیڈ پہ لیٹ گئی۔ دس منٹ کے اندر اندر وہ گولی کے زیر اثر نیند کی وادی میں اتر چکی تھی۔
ڈاکٹر نے اس کے میاں کو بلوایا۔
"آپ کی مسسز کو میں نے فی الحال ایک دوا دی ہے وہ سو کر اٹھیں گی تو بالکل پرسکون ہوجائیں گی۔آپ مجھے کچھ اپنے بارے میں بتائیں؟"
"میرا نام حاطب ہے اور میں ایک پرائیوٹ کمپنی میں اکائونٹس آفیسر ہوں۔"
"آپ کی تعلیم؟"
"میں نے ایم بی اے کیا ہے۔"
"کیا آپ کو سلائی مشین کی آواز بری لگتی ہے؟"
"جی ہاں۔ میری امی ایک بیوہ خاتون تھیں۔ اور انہوں نے ساری زندگی سلائی کر کے ہم دونوں بہن بھائیوں کو پال پوس کر بڑا کیا ہے۔ میں نے قسم کھائی تھی کہ جس دن مجھے نوکری مل جائے گی اس دن میں اپنی ماں کی سلائی مشین اٹھا کر پھینک دوں گا۔ مجھے اس سلائی مشین سے نفرت تھی۔"اس نے مٹھیاں بھینچ کر اپنا غصہ کنٹرول کرنے کی کوشش کی۔
"لیکن سلائی مشین تو آپ لوگوں کا سہارا تھی پھر آپ کو اس سے نفرت کیوں تھی؟"
"سلائی مشین کی وجہ سے میری ماں کی کمر جھک گئی، میری ماں کی آنکھیں خراب ہوگئیں۔ اسی سلائی مشین پہ محنت کرتے کرتے میری ماں بوڑھی ہوگئی لیکن میں نے ہر وقت اسے اپنی محنت کے پیسوں کے لئے ذلیل ہوتے دیکھا۔ اس کی آنکھو ں میں جب جب آنسو آتے میرا خون کھول اٹھتا تھا۔ اور میں یہی سوچتا تھا جس دن کمانے لگوں گا اپنی ماں کو اس گھر سے دور لے جائوں گا اور اس منحوس سلائی مشین کو تو آگ ہی لگا دوں گا۔ اس کی گھرررر گھرررر میرے سر میں ہتھوڑے کی طرح لگتی ہے۔"
"آپ کی امی کا انتقال کیسے ہوا تھا؟"
"میری بہن مجھے طعنے دیتی ہے کہ میں نے انہیں مار ڈالا۔"

"واٹ؟ کیوں؟ میرا مطلب ہے وہ ایسا کیوں سوچتی ہے؟"
"میں نے اپنی ماں کے لئے نیا گھر لیا تھا۔ جہاں وہ سکون سے اپنی باقی ماندہ زندگی گزار سکے۔ ایک اچھا بہتر پر آسائش گھر۔۔۔ اس سلائی مشین کو میں نے پھینک دیاتھا۔ لیکن میری ماں کی سانسیں اس سلائی مشین میں اٹکی ہوئی تھیں۔ مجھے وہ کچھ نہیں کہتی تھی بس دن بدن کمزور ہوتی جارہی تھی۔ جس دن میری ماں کا انتقال ہوا اس دن میری بہن  نے مجھے بہت باتیں سنائیں۔۔۔اس نے مجھے بتایا کہ سلائی مشین کی محبت تو میری ماں کی رگوں میں اندر تک اتری ہوئی تھی اس کو کیسے اس کے عمر بھر کے ساتھی سے میں اس طرح ایک پل میں جدا کرسکتا ہوں۔مر تو وہ اسی دن گئی تھی جس دن میں اس کی سلائی مشین کو پھینک آیاتھا لیکن بس مجھے دکھانے کو چند دن جی لی۔"اس کی آنکھوں میں چمکنے والے آنسو ڈاکٹر کو صاف نظر آرہے تھے۔
"اللہ تعالیٰ آپ کو صبر عطا فرمائے۔ آپ اپنی بیوی کو بھی سلائی مشین استعمال کرنے سے منع کرتے ہیں؟"
"میں نے بتایا ناں کہ مجھے سلائی مشین کی گھررگھررر سے سر درد ہوتاہے۔"
ڈاکٹر نے ایک نظراس کی سوئی ہوئی بیوی پہ ڈالی اور دل میں سوچا دونوں میاں بیوی بالکل ایک جیسے ہیں۔ 
"جی بالکل آپ نے بتایا۔ لیکن آپ جانتے ہیں کہ آپ کی بیوی کی رگوں میں بھی آپ کی والدہ کی طرح سلائی مشین کی محبت دوڑتی ہے۔اس کی زندگی بھر کی ساتھی ہے سلائی مشین۔"
"آپ بتائیں میں کیا کروں؟"
"اسے اس کی جڑوں سے مت کاٹو۔"
"مطلب میں اپنے سر میں درد ہونے دوں ۔ میں مرجائوں گا اس کی آواز سنتے سنتے۔"
"آپ ماشا ء اللہ سے پڑھے لکھے ہیں اپنی اس نفسیاتی الجھن کا دوسری طرح سے بھی حل نکال سکتے ہیں۔ جن باتوں کو ہم الجھنیں سمجھتے ہیں دراصل وہی مسائل ہماری زندگی ہوتے ہیں۔ جیسے بال کھلے ہوں تو الجھ جاتے ہیں تنگ کرتے ہیں پریشانی پیدا کرتے ہیں۔ چٹیا میں گوندھ لو تو سلیقہ مندی، اور خوبصورتی کے ساتھ ساتھ سکون اور سلجھائو بھی لے آتے ہیں۔ ایسا ہی کچھ ہماری الجھنوں کے ساتھ بھی ہوتا ہے۔ الجھن کے ساتھ ہی اس کا حل بھی ہوتا ہے۔ بس تھوڑا سا سوچنے کی ضرورت ہوتی ہے۔"ڈاکٹر صاحبہ کی باتوں کے مفہوم میں الجھے حاطب نے اپنی بیوی کو دیکھا جو کروٹ لے کر جاگ چکی تھی اور اسے دیکھ کر سیدھی ہوکر بیٹھ گئی۔
"میں سمجھ گیا ڈاکٹر صاحبہ۔آپ کا بہت شکریہ۔"حاطب اپنی بیگم کے ساتھ باہر نکل گیا۔
ایک مہینے بعد ڈاکٹر صاحبہ وہ دونوں ہنستے مسکراتے ڈاکٹر صاحبہ کے پاس آئے:"لیجئے ڈاکٹر صاحبہ ۔۔۔"
"یہ کیا ہے؟"کارڈ کھولتے ہوئے انہوں نے پوچھا۔ 
"یہ زرقا بوتیک کی افتتاحی تقریب کا کارڈ ہے جس کی مہمان خصوصی آپ ہیں۔ آپ کو آکر فیتا کاٹنا ہے۔"
"ارے واہ تو حل سوجھ ہی گیا آپ کو؟ماشاء اللہ۔"
"جی بس آپ نے راہ دکھائی اور ہم اس پہ چل پڑے۔ اس بوتیک میں زرقا کی امی اور اس کی بہن بھی ساتھ کام کریں گی۔ بہت لوگوں کا بھلا ہوجائے گا۔"
"اور تم بتائو زرقا تم خوش ہو؟"
"بووووووہت زیادہ۔۔۔۔ اب سے میں روزانہ ڈھیروں سلائی مشینوں کی گھررر گھررر سننے والی ہوں۔ "
"اور وہ گھررر گھررر میرے سر میں درد بھی نہیں کرے گی۔"حاطب نے اس کی بات مکمل کردی تو وہ مسکرادی۔
"رشتوں کو نبھانے کے لئے صرف کمپرومائز کی ضرورت نہیں ہوتی الجھنوں کو سلجھانے سے بھی کئی رستے ذرا سی کوشش سے خودبخود نکل آتے ہیں۔"ڈاکٹر صاحبہ کی بات سن کر وہ دونوں مسکرا دئیے۔


------------------------------

ختم شد


اہل علم حضرات قلمی چوری سے پرہیز کریں۔ 
کاپی پیسٹ کی اجازت نہیں ہے۔

Comments

Post a Comment

Popular posts from this blog

Wo merey dil ka malal hay by Saira Ghaffar Complete Online Urdu Novel

Wo merey dil ka malal hay  By Saira Ghaffar  Complete Online Urdu Novel وہ میرے دل کاملال ہے (سائرہ غفار) قسط نمبر 1 ”مج……مجھ……جھ……ے……ے……ے……بچ……چا……لل……وووو……“اس کی آواز اُسے صاف سنائی دے رہی تھی۔  وہ اس کے سامنے کھڑی ا س کی ابلتی ہوئی آنکھیں دیکھ رہی تھی۔ وہ دیکھ رہی تھی کہ کیسے اس کی بہن تڑپ تڑپ کر منہ سے خون کی الٹیاں کررہی ہے۔ وہ دیکھ رہی تھی ……صاف……اور واضح……اسے دکھائی دے رہاتھا……سب کچھ……ایک دم صاف ……ایک ایک چیز اسے نظر آرہی تھی……اسے وہ میرون اور گولڈن چوڑیاں بیڈ سے ٹکرا کر ٹوٹتی ہوئی نظر آرہی تھیں جو اس نے خو داس کے ساتھ جا کر پسند کروائیں تھیں۔ ”دیکھو ذرا……یہ چوڑیاں میرے لہنگے کے ساتھ کیسی لگیں گی؟“ ”بہت پیاری……تم یہی لینا۔“ اس کے سامنے وہی چوڑیاں اس کی کلائی میں پیوست ہوتی جارہی تھیں۔وہ درد کے مارے تڑپ کر کبھی اِدھر گر رہی تھی تو کبھی اُدھر۔ اس سب میں اس کی جیولری ہر طرف سے بے ترتیب ہورہی تھی۔ اس کا نیکلس گردن میں پھندا ڈال رہاتھا۔یہ تنگ نیکلس بھی اُسی نے پسند کروایا تھا۔ ”یہ لمبا نیکلس مت لو……اچھا نہیں لگے گا……کوئی چھوٹے سائز کا لو……جو گ...

Phantosmia (EP 3) By Saira Ghaffar Complete Online Urdu Novel

Phantosmia By   Saira Ghaffar   Complete Online Urdu Novel فینٹوسمیا (سائرہ غفار) قسط نمبر 3 ”یہ تم کیا کرتی رہتی ہو ہروقت؟ کیا فالتو کے اخبار پھاڑ پھاڑ کر پھول بنا کر ان گملوں میں سجاتی رہتی ہو؟“دلاور کے جانے کے بعد سارا نزلہ معصوم سی کائنات پہ گرنے لگاتھا۔ کائنات نے سہم کر ماں کو دیکھا جو جارحانہ انداز میں کاغذ کے پھولوں سے سجے گملوں کی طرف پیش قدمی کر رہی تھی۔ کائنات نے ایک دم سامنے آکر ماں کو روک دیا:”امی یہ میرے پھول ہیں پلیز ان کو کچھ مت کریں۔“ ”فالتو کام تم دونوں باپ بیٹی کے شوق ہیں۔ بیکار اور فضول کاموں میں اپنا وقت برباد کرتے رہتے ہو۔ جاؤدفع ہوجاؤ یہاں سے۔“شاہدہ نے غصے سے بیٹی کو دھکا دیا۔ اور خود دوسرے کمرے میں چلی گئیں۔ کائنات نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ اس کے پھول اور گملے بچ گئے ورنہ شاہدہ کے غصے سے وہ خود بھی واقف تھی۔ وہ پھر سے اپنے محبوب مشغلے یعنی اخبار اور مختلف کترنوں سے پھول بنانے میں نئے سرے سے جت گئی۔ ………………………… دلاور گھر واپس آیا تو گیٹ پہ اس کی ملاقات شہزاد اور اس کی فیملی سے ہوگئی۔ شہزاد اور دلاور سلام دعا کرنے لگے تو طوبیٰ چا...

Phantosmia (EP 11) By Saira Ghaffar Complete Online Urdu Novel

Phantosmia By   Saira Ghaffar   Complete Online Urdu Novel فینٹوسمیا (سائرہ غفار) قسط نمبر 11 چند دن بعد وہ لوگ رپورٹس لے کر دوبارہ ڈاکٹرشانزے کے پاس پہنچے۔ڈاکٹر نے تمام رپورٹس چیک کرنے کے بعد ان کو خوش خبر ی سنائی۔ ”سب کچھ بالکل پرفیکٹ ہے۔ میرا ڈر صرف وہم تھا۔ “ ”ڈاکٹر کیا آپ ہمیں بتا سکتی ہیں کہ آپ کو کیا وہم تھا؟“کائنات نے پہلی بار سوال کیا تھا۔ ”جی بالکل بیٹا میں بتا سکتی ہوں ……دراصل یہ جو مسئلہ آپ کے ساتھ ہے آپ کو مختلف اچھی بری قسم کی بو محسوس ہوتی ہے۔ یہ اصل میں فینٹوسمیا کہلاتی ہے۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کا کوئی مستقل علاج نہیں ہے۔ اصل میں یہ مسئلہ بذات خود کوئی مسئلہ نہیں بلکہ یہ ایک علامتی مسئلہ ہے۔ جن لوگوں کو یہ بو محسوس ہونے کی شکایت رہتی ہے ان کو ایک یا پھر دونوں نتھنوں سے بو محسوس ہوتی ہے۔ یہ برین ٹیومر کی نشاندہی ہوتی ہے۔“ڈاکٹرسانس لینے کو رکی۔ ”برین ٹیومر؟“شاہدہ اور دلاور ایک دم پریشان ہوگئے تو ڈاکٹر شانزے نے مسکرا کر ان کو دیکھا:”آپ لوگ شکر کریں کہ آپ کی بیٹی کا ایم آر آئی بالکل کلئیر اور بالکل صاف ہے۔ اسے صرف فینٹوسمیا ہے۔ جو کہ کچ...