Skip to main content

Murghi Ki Deewangi by Saira Ghaffar Online Short Urdu Story (Complete)


Murghi Ki Deewangi  by Saira Ghaffar 
Online Short Urdu Story (Complete)




مرغی کی دیوانگی 
(سائرہ غفار)

رات کا پچھلا پہر تھا۔ پورا شہر سردی کی شدید لپیٹ میں تھا۔چوک والے باغ میں تمام پیڑ پودے بارش کے پانی میں نہا کر لطف اندوز ہورہے تھے۔سرد رات کچھ زیادہ ہی کالی ہوتی جارہی تھی۔اوپر سے بارش مسلسل سردی کی شدت میں اضافہ کررہی تھی۔ ایسے میں سب ذی روح اپنے اپنے گھروں میں دبکے ہوئے تھے۔ اس موسلا دھار بارش میں کوئی پاگل ہی گھر سے باہر قدم رکھنے کے بارے میں سوچ سکتا تھا۔ بارش کی تیزی سے اوپر تلے گرتی بوندیں ایک دوسرے کے کان میں سرگوشی کررہی تھیں۔ 
ایک بوند نے ایک پتے پہ گرتے ہوئے تیزی سے انگڑائی لیتے ہوئے کہا:"اس سردی کی وجہ سے تو میرا دل چاہ رہاہے کہ برف میں تبدیل ہوجائوں۔"
دوسری بوند پتے سے پھسلتے ہوئے گلاب کی پنکھڑی پہ جاٹکی اور بولی:"اور میرا دل چاہتا ہے کہ کسی گرم سیپ کے بند خول میں سالوں بند پڑی رہوں اور کسی سچے موتی کا روپ دھار لوں۔"
اتنے میں بجلی کڑکی تو ایک شور مچاتی بوند شڑپ کی آواز کے ساتھ درخت کے نیچے جمع پانی میں گرتے ہوئے بولی:"وہ دیکھو۔۔۔ کون آرہاہے؟"
ساری بوندوں نے رخ پھیر کر دیکھا، وہ بی مرغی تھی جو چوک والے باغ سے متصل حویلی میں رہتی تھی اور دن بھر باغ میں اپنے پانچ عدد ننھے منے پیارے سے پیلے پیلے چوزوں کے ساتھ دانہ دنکا چگتی اور کھیلتی رہتی۔
برگد کے بوڑھے پیڑ نے سرد آہ بھرتے ہوئے کہا:"یہ تو بی مرغی ہے۔۔۔آہ!بی مرغی برسات کے موسم میں دیوانی ہوجاتی ہے۔"
موتئے کی خوشبو بھری ٹہنی نے کہا:"وہ کیوں بھلا؟"
بوڑھے برگد نے بتایا:"پچھلی برسات میں بی مرغی اپنے چھ چوزوں کے ساتھ باغ کی سیر کو آئی تو تیز ہوا کے جھکڑ چلنے شروع ہوگئے اور بی مرغی کا سب سے چھوٹاچوزہ۔۔۔آہ!"
اتنا کہہ کر بوڑھا برگد رونے لگا۔موتئے کی خوشبو بھری ٹہنی نے بے تابی سے پوچھا:"چھوٹا چوزہ کیا؟"
نیم کے درخت نے بوڑھے برگد کو تسلی دیتے ہوئے کہا:"چپ ہوجائو برگد!خدا کے کاموں میں کسی کو دخل نہیں۔۔۔اس چھوٹے چوزے کی زندگی بس اتنی ہی تھی۔"
لال گلاب کے پھول نے بارش کے پانی سے منہ دھوتے ہوئے پوچھا:"مگر چھوٹے چوزے کو ہوا کیاتھا؟"
نیم کا درخت افسردگی سے بولا:"جیسے ہی تیز ہوا کے جھکڑ چلنے شروع ہوئے، بی مرغی نےچوزوں کو آوازیں دینی شروع کردیں، وہ سب ایک ایک کر کے بی مرغی کے پروں میں چھپ گئے،مگر۔۔۔۔۔۔مگر چھوٹے چوزے کو آدھے راستے سے ہی ہوا اپنے ساتھ اڑا لے گئی۔ یہ دیکھ کر بی مرغی دیوانی سی ہوگئی۔اور ہوا کو لعنت ملامت کرنے لگی، مگر آہ۔۔۔چھوٹا چوزہ ہوا کا زور ختم ہوتے ہی بجلی کے ایک تار پہ گرا اور جل کر کوئلہ ہوگیا۔"
ایک بار پھر زور سے بجلی کڑکی ۔ سب نے دیکھا کہ بی مرغی تیز بارش میں بھیگتی ہوا سے لڑ رہی تھی:"آخر میرے ننھے سے چوزے نے تمہاراکیا بگاڑا تھا؟میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گی۔۔۔سنا تم نے۔۔۔تم میرے ننھے چوزے کی قاتل ہو۔۔۔تم۔۔۔سنو تم۔۔۔۔ہوا تم۔۔۔۔میں تمہیں چھوڑوں گی نہیں۔۔۔سنا تم نے۔۔۔۔"بی مرغی اپنا چہرہ دونوں پنکھوں میں چھپا کر رودی اور بارش اس کا ساتھ دینے کو مزید تیز ہوگئی۔

ختم شد





اہل علم حضرات قلمی چوری سے پرہیز کریں۔ 
کاپی پیسٹ کی اجازت نہیں ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

Wo merey dil ka malal hay by Saira Ghaffar Complete Online Urdu Novel

Wo merey dil ka malal hay  By Saira Ghaffar  Complete Online Urdu Novel وہ میرے دل کاملال ہے (سائرہ غفار) قسط نمبر 1 ”مج……مجھ……جھ……ے……ے……ے……بچ……چا……لل……وووو……“اس کی آواز اُسے صاف سنائی دے رہی تھی۔  وہ اس کے سامنے کھڑی ا س کی ابلتی ہوئی آنکھیں دیکھ رہی تھی۔ وہ دیکھ رہی تھی کہ کیسے اس کی بہن تڑپ تڑپ کر منہ سے خون کی الٹیاں کررہی ہے۔ وہ دیکھ رہی تھی ……صاف……اور واضح……اسے دکھائی دے رہاتھا……سب کچھ……ایک دم صاف ……ایک ایک چیز اسے نظر آرہی تھی……اسے وہ میرون اور گولڈن چوڑیاں بیڈ سے ٹکرا کر ٹوٹتی ہوئی نظر آرہی تھیں جو اس نے خو داس کے ساتھ جا کر پسند کروائیں تھیں۔ ”دیکھو ذرا……یہ چوڑیاں میرے لہنگے کے ساتھ کیسی لگیں گی؟“ ”بہت پیاری……تم یہی لینا۔“ اس کے سامنے وہی چوڑیاں اس کی کلائی میں پیوست ہوتی جارہی تھیں۔وہ درد کے مارے تڑپ کر کبھی اِدھر گر رہی تھی تو کبھی اُدھر۔ اس سب میں اس کی جیولری ہر طرف سے بے ترتیب ہورہی تھی۔ اس کا نیکلس گردن میں پھندا ڈال رہاتھا۔یہ تنگ نیکلس بھی اُسی نے پسند کروایا تھا۔ ”یہ لمبا نیکلس مت لو……اچھا نہیں لگے گا……کوئی چھوٹے سائز کا لو……جو گ...

Phantosmia (EP 3) By Saira Ghaffar Complete Online Urdu Novel

Phantosmia By   Saira Ghaffar   Complete Online Urdu Novel فینٹوسمیا (سائرہ غفار) قسط نمبر 3 ”یہ تم کیا کرتی رہتی ہو ہروقت؟ کیا فالتو کے اخبار پھاڑ پھاڑ کر پھول بنا کر ان گملوں میں سجاتی رہتی ہو؟“دلاور کے جانے کے بعد سارا نزلہ معصوم سی کائنات پہ گرنے لگاتھا۔ کائنات نے سہم کر ماں کو دیکھا جو جارحانہ انداز میں کاغذ کے پھولوں سے سجے گملوں کی طرف پیش قدمی کر رہی تھی۔ کائنات نے ایک دم سامنے آکر ماں کو روک دیا:”امی یہ میرے پھول ہیں پلیز ان کو کچھ مت کریں۔“ ”فالتو کام تم دونوں باپ بیٹی کے شوق ہیں۔ بیکار اور فضول کاموں میں اپنا وقت برباد کرتے رہتے ہو۔ جاؤدفع ہوجاؤ یہاں سے۔“شاہدہ نے غصے سے بیٹی کو دھکا دیا۔ اور خود دوسرے کمرے میں چلی گئیں۔ کائنات نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ اس کے پھول اور گملے بچ گئے ورنہ شاہدہ کے غصے سے وہ خود بھی واقف تھی۔ وہ پھر سے اپنے محبوب مشغلے یعنی اخبار اور مختلف کترنوں سے پھول بنانے میں نئے سرے سے جت گئی۔ ………………………… دلاور گھر واپس آیا تو گیٹ پہ اس کی ملاقات شہزاد اور اس کی فیملی سے ہوگئی۔ شہزاد اور دلاور سلام دعا کرنے لگے تو طوبیٰ چا...

Phantosmia (EP 11) By Saira Ghaffar Complete Online Urdu Novel

Phantosmia By   Saira Ghaffar   Complete Online Urdu Novel فینٹوسمیا (سائرہ غفار) قسط نمبر 11 چند دن بعد وہ لوگ رپورٹس لے کر دوبارہ ڈاکٹرشانزے کے پاس پہنچے۔ڈاکٹر نے تمام رپورٹس چیک کرنے کے بعد ان کو خوش خبر ی سنائی۔ ”سب کچھ بالکل پرفیکٹ ہے۔ میرا ڈر صرف وہم تھا۔ “ ”ڈاکٹر کیا آپ ہمیں بتا سکتی ہیں کہ آپ کو کیا وہم تھا؟“کائنات نے پہلی بار سوال کیا تھا۔ ”جی بالکل بیٹا میں بتا سکتی ہوں ……دراصل یہ جو مسئلہ آپ کے ساتھ ہے آپ کو مختلف اچھی بری قسم کی بو محسوس ہوتی ہے۔ یہ اصل میں فینٹوسمیا کہلاتی ہے۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کا کوئی مستقل علاج نہیں ہے۔ اصل میں یہ مسئلہ بذات خود کوئی مسئلہ نہیں بلکہ یہ ایک علامتی مسئلہ ہے۔ جن لوگوں کو یہ بو محسوس ہونے کی شکایت رہتی ہے ان کو ایک یا پھر دونوں نتھنوں سے بو محسوس ہوتی ہے۔ یہ برین ٹیومر کی نشاندہی ہوتی ہے۔“ڈاکٹرسانس لینے کو رکی۔ ”برین ٹیومر؟“شاہدہ اور دلاور ایک دم پریشان ہوگئے تو ڈاکٹر شانزے نے مسکرا کر ان کو دیکھا:”آپ لوگ شکر کریں کہ آپ کی بیٹی کا ایم آر آئی بالکل کلئیر اور بالکل صاف ہے۔ اسے صرف فینٹوسمیا ہے۔ جو کہ کچ...