Skip to main content

Log Kehty Hain by Saira Ghaffar Short Urdu Online Story

Log Kehty Hain by Saira Ghaffar Short Urdu Online Story



لوگ کہتے ہیں
(سائرہ غفار)



"انعمتا تم کل سے اسکول نہیں جائو گی۔"


"لیکن کیوں ابو؟"ننھی سی انعمتا کی اسکول میں کتنی ساری سہیلیاں تھیں، اسے یہ دکھ کھائے جارہاتھا کہ عمیرہ کے لائے بیر وہ کیسے کھا پائے گی۔

"جانے دیجئے ناں بچی پڑھ لکھ جائے گی تو کسی قابل بن جائے گی،"امی نے کمزور سا دبا دبا سا احتجاج کیا۔
"میں نے کہا ناں کہ نہیں جائے گی تو بس نہیں جائے گی۔"بابا کی غصے بھری آواز سن کر انعمتا اور امی دونوں سہم کر ایک کونے میں دبک گئیں۔

اگلے روز وہ حسب عادت اٹھ کر اسکول کی تیاری کرنے لگی تو بابا نے غصے سے چائے کا پیالہ زمین پہ دے مارا۔ اس کی یادداشت فوراً واپس آگئی۔اور اس نے فوراً سے اسکول کی یونیفارم تہہ لگا کر بکسے میں رکھ دی۔
"عالیہ میں کہہ رہاہوں کہ یہ اسکول نہیں جائے گی، اگر گئی تو میں اس کا باپ نہیں۔" انعمتا اور اس کی ماں دونوں سہم گئے تھے، یہ کیسا غصہ تھا نجانے بابا کا۔ وہ دونوں سمجھنے سے قاصر تھیں۔
بابا نے غصے سے ان دونوں کو دیکھتے ہوئے اپنا شملہ درست کیا اور اونچی آواز میں گرج کر بولے:" لوگ کہتے ہیں کہ تیری بیٹی اسکول جائے گی بڑی ڈاکٹرنی بنے گی۔ تھو میری بیٹی کا ذکر بھی کیسے کیا ان لوگوں نے؟"وہ ماں کے دوپٹے کے اندر منہ چھپا کر سسکنے لگی۔ باہ کی گرجدار آواز نے اسے ڈرا دیاتھا۔
بابا اپنی پگڑی سیدھی کرتے دروازہ پارکرگئے تھے۔


وہ کئی سالوں تک حسرت بھری نگاہوں سے دروازے کی درزوں سے جھانک جھانک کر اسکول کے بچوں کو آتا جاتا دیکھتی رہی۔اس کی چھوٹی بہن نے گو اس کے گھر میں رونقیں بھر دی تھیں مگر اس کے اندر کے خالی پن کو وہ بھی نہیں بھر سکتی تھی۔ باپ کے لفظوں سے لگے زخم وہ کبھی بھی نہیں سی سکتی تھی۔ ایک دن اس کی ماں نے دبے دبے الفاظ میں بابا سے کہا:"انعمتا بڑی ہورہی ہے ماشاء اللہ۔ اسے مدرسے میں ڈال دیں تاکہ درست طریقے سے کلام پاک پڑھ لے۔"ڈرتے ڈرتے ماں نے کہا تو بابا نے ایک گہری نظر بیٹی پہ ڈالی۔پھر کچھ سوچ کر "ہوں" کہ کر انعمتا کو مدرسےجانے کی اجازت دے دی۔
اس دن انعمتا کی خوشی دیدنی تھی۔ وہ ننھی سی مسکان کا ہاتھ پڑے ماں کا پلو تھامے مدرسے میں داخل ہوئی۔ دو قدم کے فاصلے پہ یہ مدرسہ گو سخت مزاجوں اور تنگ رواجوں کا حامی تھا لیکن انعمتا کی پیاسی روح کے لئے کسی آب کوثر سے کم نہ تھا۔ وہ جی جان سے سپارہ پڑھنے جاتی تھی اور گھر میں اپنی ماں کو بھی قرآن پاک درست مخارج کے ساتھ پڑھنا سکھا رہی تھی۔ اس کی ماں بھی بہت خوش تھی۔ 
ایک دن بابا تن فن کرتے گھر آئے اور آنگن میں ٹہلنے لگے۔ ماں نے دیکھا اور مزاج کو سیخ پا جان کر قریب نہیں پھٹکیں۔ انعمتا اور مسکان جیسے ہی مدرسے سے گھر میں داخل ہوئیں بابافوراً بول پڑے:"کل سے تم دونوں مدرسے نہیں جائو گی۔"
انعمتا کے معصوم چہرے پہ وہی پرانا سوال آٹہرا تھا لیکن لب اتنے آزاد نہیں تھے کہ اس ادا کرپانے کی ہمت کر پاتے۔ لہٰذ خاموشی میں ہی عافیت جانی لیکن مسکان کا یہ پہلا تجربہ تھا اس لئے اس کی زبان فوراً سے پھسل گئی:"کیوں بابا؟"
بابا کی قہر بار نظروں نے انعمتا اور ماں کے تھر تھر کانپتے وجود کا طواف کیا اور نظروں میں ہی مسکان کا خون پیتے ہوئے بولے:"لوگ کہتے ہیں کہ مدرسے جا کر کون سی ملانی بن جائیں گی تمہاری بیٹیاں۔اور اب سے تم لوگ مدرسے نہیں جائو گے۔"بابا تن فن کرتے شملہ درست کرتے دروازہ پار گئے۔ لیکن انعمتا کے خواب ایک بار پھر سے کرچی کرچی کرگئے۔


کئی سال گھر کی چار دیواری کو تکتے تاکتے گزر گئے۔ وہ چودہ سال کی ہوگئی تھی۔ مسکان کو اس نے  اپنی بساط اور علم کے مطابق حروف تہجی کی پہچان، لکھنا، پڑھنا سکھا دیاتھا۔ مسکان کو پٹر پٹر اردو سیکھتے دیکھ کر اسے بہت خوشی ملتی تھی۔ اس نے مختلف چیزوں کے ساتھ آئے لفافے سنبھال رکھے تھے۔ وہ خود بھی اس میں سے اردو پڑھا کرتی تھی اور مسکان کو بھی اسی سے مشق کرواتی تھی۔ جب مسکان کسی لفظ میں اٹک کر اس کی ہجے کرکے گلابی اردو بولا کرتی تو اسے بڑا مزہ آتا تھا۔ اب ا سکی زندگی کی یہی رونق رہ گئی تھی۔ 
ایک دن ان کی پڑوسن شبو خالہ نے ان کو اردو پڑھتے دیکھا تو انہوں نے عالیہ سے کہا کہ وہ اپنی بیٹی کو بھی اردو سیکھنے کے لئے بھیجے گی تاکہ وہ بھی کچھ لکھنا پڑھنا سیکھ لے۔
شام کو بابا نے سب لفافے اور کترنیں جمع کر کے اس کے آخری ارمان پہ آگ لگادی:"لوگ کہیں بڑی ماسٹرنی بن گئی ہے تیری بیٹی۔تھو۔"اس نے بابا کی آنکھوں میں بس ایک لمحے کے لئے دیکھا تھا ۔بابا کی آنکھیں بالکل آگ جیسی چمک رہی تھیں۔ اسے لگا وہ کسی کہانی کی شہزادی ہے اور بابا کی آنکھوں میں دیکھنے سے وہ پتھر کی ہوگئی ہے لیکن پھر ا سکے خواب کیوں نہیں پتھراتے؟ کیوں اس کی آنکھوں میں نئے خواب آبستے ہیں اور پھر وہیں ٹوٹ کر کرچیاں اس کی آنکھون میں خون رلا نے کے لئے چھوڑ جاتے ہیں۔ اس کا معصوم ذہن ان سوالوں سے عاجز تھا لیکن اس کے سوالوں کے جواب کسی کے بھی پاس نہیں تھے۔


"بابا میں سلائی سیکھ لوں؟"زندگی میں پہلی بار اس نے خود بابا سے اجازت مانگنے کی ہمت کی تھی۔
"کون سکھا رہا ہے؟"بابا کا مونچھوں کو تائو دیتا ہاتھ ایک لمحے کو رہاتھا۔
"صائمہ پھوپھی سے سیکھوں گی۔"اس نے اپنی پھوپھی کا نام لیا۔
"ہوں سیکھ لے۔"بابا نے فوراً حامی بھری اور اس کی مردہ زندگی میں جیسے رونق لوٹ آئی۔
وہ اگلے دن سے صائمہ پھوپھی کے پاس سلائی سیکھنے جانے لگی۔ کچھ عمر کا بھی تقاضہ تھا وہ ایک ہفتے کے اندر اندر ہی سلائی میں تاک ہوگئی تھی۔
اس کی سلائی کی صائمہ پھوپھی بہت تعریف کرتی تھیں۔ اب وہ ان کے گھر نہیں جاتی تھی بلکہ اپنے گھرمیں ہی سلائی کرنے لگی تھی۔ پرانے تمام کپڑے اکھٹے کر کے ا سنے کچھ نئی فراکیں سی لیں تھیں۔ کچھ تکیوں کے کور سی لئے تھے۔ کچھ رلیاں بنا لیں تھیں۔ کچھ پرانی چادروں سے اس نے صوفے کے کور وغیرہ بنا لئے تھے۔ گو اس نے گھرکی کسی پرانی شے کو نہ چھوڑا۔ صائمہ پھوپھی کو وہ اپنی ہفتے بھر کی محنت سے بنائی چیزیں دکھانے لے جاتی تھی ۔ آج وہ ہفتے بھر بعد وہاں گئی تھی اور پیچھے سے گھر میں طوفان آگیاتھا۔
بابا آئے انہوں نے ا س کی سلائی مشین کو توڑ دیا:"لوگ کہتے ہیں کہ تیری بیٹی درزی بن گئی۔تھو" بابا کے اس بار مشین توڑ دینے پہ وہ چیخیں مار مار کر روئی تھی۔ اس کا بد نہیں چل رہاتھا کہ وہ خود کو آگ لگا لے۔ اس کی یہ مشین اس کی ماں کے جہیز کی آخری نشانی تھی لیکن اب نہیں رہی تھی۔ وہ جتنا رو سکتی تھی اتنا روئی تھی۔ اگلے دن اسے تیز بخار نے آلیا تھا۔کئی دن بعد بخار اترا تو کوئی اسے پہچان نہیں پارہاتھا۔ وہ جیسے نچڑ گئی تھی۔ ہڈیوں کا ڈھانچہ بن گئی تھی۔ اسکی آنکھوں کے نیچے سیاہ حلقے پڑگئے تھے۔ اس کے بابا نے ایک دن اس کی ماں سے پوچھا تھا:"انعمتا کو کیا ہوگیا ہے؟" اس کی ماں کے پاس کوئی جواب نہیں تھا لیکن اس کے پاس تھا مگر وہ کسی کو وہ جواب نہیں دے سکتی تھی۔ اس کی زبان باپ کے احترام میں خاموش تھیں۔ ورنہ وہ گریبان پکڑ کرکہتی کہ نازک خواب کرچیاں بن کر آنکھوں میں چبھوئے جائیں تو یہی حال ہوتا ہے مگر وہ کہہ ہی تو نہیں سکتی تھی۔


دو سال بعد ان کے سر پہ قیامت ٹوٹ پڑی۔ بابا کا ایکسیڈنٹ ہوگیاتھا۔ اور وہ معذور ہوکر چارپائی پہ آگیاتھا۔ مزدور کے گھر بیماری کےساتھ فاقے بھی چلے آتے ہیں۔
سلیقہ شعار عالیہ نے ہاتھ کھینچ کھینچ کر جو روپیہ جمع کیا تھا وہ سب خوچ ہوگیاتھا۔ بابا کی دوا چل رہی تھی اور وہ لوگ تنگدستی کے دن گزار رہے تھے۔ بابا کی زبان اور آنکھوں کی گرج ختم ہوسکی تھی۔ 
ان کے گھر میں ایک وقت روٹی پک رہی تھی ۔
ایک دن انعمتا نے ماں سے کہا:"امی میں صائمہ پھوپھی کے گھر جارہی ہوں ان کے ہاں کچھ سلائی کے کپڑے آئے ہیں وہ سلائی کر گی تو کچھ رقم ہاتھ آجائے گی۔"
"ہوں"بابا کی نحیف سی آواز گونجی تو انعمتا نے گرج کرکہا:"بابا بس اب چپ۔کوئی لوگ نہیں آئیں گے آپ سے کہنے کہ آپ کی بیٹی درزن بن گئی ہے۔ اگر آئے تو کہہ دینا کہ راشن ڈلوادے گھر میں اور آپ کو دوائیں لاکردے دے مفت میں۔پھر میں چپ چاپ گھر میں بیٹھ جائوں گی۔"
انعمتا کی بات سن کر بابا کی آنکھ سے ایک آنسو نکل کر ان کی تائو بھری مونچھوں کو بھگو گیا۔

انعمتا نے دروازے سے باہر نکلتے ہوئےلوگوں کے خوف کو لات مار کر گھر سے اور دل سے باہر نکال دیاتھا۔
اس کے بعد اس نے کبھی نہیں سنا کہ لوگ اس کے بارے میں کیا کہتے ہیں۔
ختم شد



اہل علم حضرات قلمی چوری سے پرہیز کریں۔
کاپی پیسٹ کی اجازت نہیں ہے۔



Comments

  1. waqai logo ki perwa nahi karni chaiye, behtareen ��

    ReplyDelete

Post a Comment

Popular posts from this blog

Wo merey dil ka malal hay by Saira Ghaffar Complete Online Urdu Novel

Wo merey dil ka malal hay  By Saira Ghaffar  Complete Online Urdu Novel وہ میرے دل کاملال ہے (سائرہ غفار) قسط نمبر 1 ”مج……مجھ……جھ……ے……ے……ے……بچ……چا……لل……وووو……“اس کی آواز اُسے صاف سنائی دے رہی تھی۔  وہ اس کے سامنے کھڑی ا س کی ابلتی ہوئی آنکھیں دیکھ رہی تھی۔ وہ دیکھ رہی تھی کہ کیسے اس کی بہن تڑپ تڑپ کر منہ سے خون کی الٹیاں کررہی ہے۔ وہ دیکھ رہی تھی ……صاف……اور واضح……اسے دکھائی دے رہاتھا……سب کچھ……ایک دم صاف ……ایک ایک چیز اسے نظر آرہی تھی……اسے وہ میرون اور گولڈن چوڑیاں بیڈ سے ٹکرا کر ٹوٹتی ہوئی نظر آرہی تھیں جو اس نے خو داس کے ساتھ جا کر پسند کروائیں تھیں۔ ”دیکھو ذرا……یہ چوڑیاں میرے لہنگے کے ساتھ کیسی لگیں گی؟“ ”بہت پیاری……تم یہی لینا۔“ اس کے سامنے وہی چوڑیاں اس کی کلائی میں پیوست ہوتی جارہی تھیں۔وہ درد کے مارے تڑپ کر کبھی اِدھر گر رہی تھی تو کبھی اُدھر۔ اس سب میں اس کی جیولری ہر طرف سے بے ترتیب ہورہی تھی۔ اس کا نیکلس گردن میں پھندا ڈال رہاتھا۔یہ تنگ نیکلس بھی اُسی نے پسند کروایا تھا۔ ”یہ لمبا نیکلس مت لو……اچھا نہیں لگے گا……کوئی چھوٹے سائز کا لو……جو گ...

Phantosmia (EP 3) By Saira Ghaffar Complete Online Urdu Novel

Phantosmia By   Saira Ghaffar   Complete Online Urdu Novel فینٹوسمیا (سائرہ غفار) قسط نمبر 3 ”یہ تم کیا کرتی رہتی ہو ہروقت؟ کیا فالتو کے اخبار پھاڑ پھاڑ کر پھول بنا کر ان گملوں میں سجاتی رہتی ہو؟“دلاور کے جانے کے بعد سارا نزلہ معصوم سی کائنات پہ گرنے لگاتھا۔ کائنات نے سہم کر ماں کو دیکھا جو جارحانہ انداز میں کاغذ کے پھولوں سے سجے گملوں کی طرف پیش قدمی کر رہی تھی۔ کائنات نے ایک دم سامنے آکر ماں کو روک دیا:”امی یہ میرے پھول ہیں پلیز ان کو کچھ مت کریں۔“ ”فالتو کام تم دونوں باپ بیٹی کے شوق ہیں۔ بیکار اور فضول کاموں میں اپنا وقت برباد کرتے رہتے ہو۔ جاؤدفع ہوجاؤ یہاں سے۔“شاہدہ نے غصے سے بیٹی کو دھکا دیا۔ اور خود دوسرے کمرے میں چلی گئیں۔ کائنات نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ اس کے پھول اور گملے بچ گئے ورنہ شاہدہ کے غصے سے وہ خود بھی واقف تھی۔ وہ پھر سے اپنے محبوب مشغلے یعنی اخبار اور مختلف کترنوں سے پھول بنانے میں نئے سرے سے جت گئی۔ ………………………… دلاور گھر واپس آیا تو گیٹ پہ اس کی ملاقات شہزاد اور اس کی فیملی سے ہوگئی۔ شہزاد اور دلاور سلام دعا کرنے لگے تو طوبیٰ چا...

Phantosmia (EP 11) By Saira Ghaffar Complete Online Urdu Novel

Phantosmia By   Saira Ghaffar   Complete Online Urdu Novel فینٹوسمیا (سائرہ غفار) قسط نمبر 11 چند دن بعد وہ لوگ رپورٹس لے کر دوبارہ ڈاکٹرشانزے کے پاس پہنچے۔ڈاکٹر نے تمام رپورٹس چیک کرنے کے بعد ان کو خوش خبر ی سنائی۔ ”سب کچھ بالکل پرفیکٹ ہے۔ میرا ڈر صرف وہم تھا۔ “ ”ڈاکٹر کیا آپ ہمیں بتا سکتی ہیں کہ آپ کو کیا وہم تھا؟“کائنات نے پہلی بار سوال کیا تھا۔ ”جی بالکل بیٹا میں بتا سکتی ہوں ……دراصل یہ جو مسئلہ آپ کے ساتھ ہے آپ کو مختلف اچھی بری قسم کی بو محسوس ہوتی ہے۔ یہ اصل میں فینٹوسمیا کہلاتی ہے۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کا کوئی مستقل علاج نہیں ہے۔ اصل میں یہ مسئلہ بذات خود کوئی مسئلہ نہیں بلکہ یہ ایک علامتی مسئلہ ہے۔ جن لوگوں کو یہ بو محسوس ہونے کی شکایت رہتی ہے ان کو ایک یا پھر دونوں نتھنوں سے بو محسوس ہوتی ہے۔ یہ برین ٹیومر کی نشاندہی ہوتی ہے۔“ڈاکٹرسانس لینے کو رکی۔ ”برین ٹیومر؟“شاہدہ اور دلاور ایک دم پریشان ہوگئے تو ڈاکٹر شانزے نے مسکرا کر ان کو دیکھا:”آپ لوگ شکر کریں کہ آپ کی بیٹی کا ایم آر آئی بالکل کلئیر اور بالکل صاف ہے۔ اسے صرف فینٹوسمیا ہے۔ جو کہ کچ...