Rangon ki Talash
By Saira Ghaffar
Complete Online Urdu Novel
By Saira Ghaffar
Complete Online Urdu Novel
رنگوں کی تلاش
سائرہ غفار
پہلا پڑائو
شان ایک نوجوان مصور تھا۔ اسے رنگوں اور قدرتی مناظر سے بہت زیادہ دلچسپی تھی۔ وہ بہت رنگین مناظر کو پینٹ کرتا تھا اور ا سکی تصاویر ہاتھوں ہاتھ بک جاتی تھیں۔ ایک دن شان اپنے کمرے میں کینوس کے سامنے کھڑا ایک تصویر مکمل کررہاتھا کہ اس کے پاس پانی ختم ہوگیا۔ وہ جیسے ہی غسل خانے سے پانی لے کر آیا وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ اس کی تمام کی تمام تصاویر بے رنگ ہوچکی ہیں۔ نہ صرف یہ کہ اس کی تصاویر بلکہ ا سکے کمرے میں موجود ہر چیز بے رنگ ہوچکی تھی۔ شان بے حد حیران تھا کہ آخر یہ سب رنگ گئے تو گئے کہاں؟ اچانک اس کی نظر آئینے پر پڑی تو وہ چونک کر رہ گیا کیونکہ اس کے کپڑے بھی بے رنگ ہوچکے تھے۔ اس کی نظر کھڑکی سے باہر پڑی تو ہر چیز بلیک اینڈ وائٹ نظر آنے لگی۔ اس نے گھوم پھر کر سارے گھر کا جائزہ لیا ہر چیز کا رنگ غائب تھا۔وہ بے حد حیرا ن تھا کہ آخر یہ کیا ماجرا ہے؟ مگر اس کی عقل یہ معما حل کرنے سے قاصر تھی ۔ اس نے اپنا موبائل نکالا تاکہ اپنے دوست کو فون کرکے اس صورتحال پہ کچھ رائے مشورہ کرلے کہ میسیج ٹون بجی۔ اس کے دوست حبیب کا میسیج تھا۔
"جلدی سے ٹی وی کھولو۔"
شان نے فوراً سے ٹی وی کھولا ۔ سارے نیوز چینلز پر یہ تہلکہ خیز خبر پھیل چکی تھی کہ دنیا بے رنگ ہوچکی ہے۔ اور دنیا سے تمام کے تمام رنگ غائب ہوچکے ہیں۔ شان منہ کھولے حیرت زدہ سا ٹی وی کو تکتے ہوئے یہ عجیب و غریب خبر ملاحظہ کررہاتھا۔ میڈیا کے نمائندے چیخ چیخ کر بتا رہے تھے کہ مغرب کی سمت سے ایک سرخ آندھی نے دنیا کو آناً فاناً اپنی لپیٹ میں لے لیا اور دنیا کے سارے رنگ چرا کرلے گئی۔
شان کو میاں مٹھو کی فال پہ بے حد بھروسہ تھا۔ اس نے میاں مٹھو سے فال نکلوائی ۔ میاں مٹھو نے ایک لفافہ پنجوں سے پکڑ کر ا سکے حوالے کیا۔ شان نے مرچوں کو دیکھا جن کا رنگ غائب ہوچکاتھا اور ایک سرد آہ بھرتے ہوئے بے رنگے طوطے کے سامنے مرچیں ڈال دیں۔ میاں مٹھو نے موچوں کے ساتھ شغل کرنا شروع کردیا۔
شان نے لفافہ کھولا اور بلند آواز میں پڑھنا شروع کردیا۔
"ست رنگی سرزمین، ابھرتا سورج، عظیم بھول بھلیاں، دوسری جنگ عظیم، مریخ کا مریض، نواب شہزادہ، جنگل راج۔۔۔ سب کے متعلق معلومات ملیں گی خواب کی ریل گاڑی میں۔۔۔خواب کی ریک گاڑی پونے دس بجے نیند کے اسٹیشن سے روانہ ہوگی۔"
تحریر پڑھنے کے فوراً بعد ہی مٹ گئی۔ فال نامہ کے کاغذ کو دیکھتے ہوئے شان گہری سوچ میں ڈوبا ہواتھا۔ وہ بے خیال میں فال کا کاغذ لفافے میں ڈال ہی رہاتھا کہ اس کی پشت پہ لکھی تحریر پہ ایک دم اُس کی نظر پڑ گئی۔
وہاں ایک کوڈ درج تھا۔
I9S106C3
شان کے پڑھتے ہی وہ کو ڈ وہاں سے غائب ہوگیا جیسے وہاں کبھی کچھ تحریر ہی نہ کیا گیا ہو۔شان کی یادداشت بہت تیز تھی اس لئے اسے وہ کوڈ زبانی یاد ہوگیا۔ وہ ا سکوڈ کو بار بار دہرا بھی رہاتھا تاکہ بھول نہ جائے۔ اس نے پونے دس بجے نیند اسٹیشن سے روانہ ہونے والی خواب ریل گاڑی میں سفر کرنے کا مصمم ارادہ کرلیاتھا۔ اس مہم میں وہ اپنے دوست کو بھی شامل کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔ اس لئے اس نے اٹھ کر لباس تبدیل کیا اور پھر اپنی والدہ کو بتاتے ہوئے موٹر سائیکل لے کر باہر نکل آیا۔ وہ مناسب رفتار سے موٹر سائیکل چلاتے ہوئے اپنی گلی سے نکل کر سڑک پہ آگیا۔ ابھی وہ ذرا سا ہی آگے گیاتھا کہ سامنے سے ایک تیز رفتار ترین ٹرک اس کی سمت آنے لگا۔ وہ اس ٹرک سے بچنے کے لئے ایک ذیلی سڑک پہ اتر کر سیدھا گلی کے اندر چلاگیا۔ یہ سارا کا سارا علاقہ اس کا دیکھا بھالا تھا۔ اس نے سوچا دو گلیا ں گھوم کے اگلی سڑک پہ نکل آئے گا لیکن ایک کے ساتھ دوسری گلی ایسی ملی جلی تھی کہ اس کو راستی سجھائی ہی نہیں دے رہاتھا۔ اس نے سوچا کہ یہاں مغز ماری کرنے سے بہتر ہے کہ جہاں سے آیا ہوں وہیں سے مڑ کر واپس چلا جائوں۔ اس نے موٹر سائیکل کو گلی میں موڑا تو حیران رہ گیا۔ کہ اس کے پیچھے ایک چھوٹی سے دیوار تھی یعنی اس کا راستہ بند تھا۔ اس چھوٹی سی دیوار پہ ایک تحریر درج تھی۔
"کسی کو کچھ بھی بتانے پر نتائج کے ذمہ دار تم خود ہوگے۔"
اس کے پڑھتے ہی تحریر مٹ گئی۔ ابھی وہ اس تحریر کو سمجھنے کی کوشش کرہی رہاتھا کہ اسے اپنے پیچھے ٹریفک کا شور، ہارن کی آوازیں، کانسٹیبل کی سیٹیاں سنائی دیں۔ اس نے مڑ کر دیکھا تو اس کے رونگٹے جیسے کھڑے ہی ہوگئ کیونکہ اس کے پیچھے وہی سڑک اپنی تمام تر رونقوں کے ساتھ جلوہ افروز تھی جسے وہ کب سے مسلسل ڈھونڈ رہاتھا۔ اس نے گردن گھما کر سامنے دیکھا اور چونک گیا کیونکہ دیوار غائب تھی۔ اس نے سر جھٹکا موٹر سائیکل گھما کر سڑک پر لے آیا۔ وہ حبیب کے گھر جانے کے بجائے اپنے گھر واپس آگیا۔
گھر لوٹ کر آنے کے بعد وہ حالات کا باریک بینی سے جائزہ لینے لگا، مگر کوئی سرا اس کے ہاتھ نہیں آرہاتھا۔ لیکن اتنا اس کی سمجھ میں آرہاتھا کہ اگر وہ کسی سے ان واقعات کا ذکر کرے گا تو اسے کسی نہ کسی نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ اس لئے اس نے بہت سوچ بچار کرنے کے بعد یہ فیصلہ کیا کہ وہ ان تمام حالات و واقعات اور ملنے والے تمام اشارات کے متعلق کسی سے کوئی ذکر نہیں کرے گا لیکن ان تمام حالات و واقعات اور ملنے والے اشارات کو وہ اپنی ایک ڈائری میں قلمبند کرے گا تاکہ اسے کچھ ہوجائے تو کم از کم ا سکا سراغ اس ڈائری سے حاصل کیا جاسکے۔
اس نے اپنی ڈائری کھول لی اور ایک صفحے پہ تاریخ ڈال کر پین کا ڈھکن بند کرکے وہیں رکھ دیا۔ اس نے اپنی آنکھیں بند کر کے کرسی کی پشت سے ٹیک لگالی۔ وہ اپنے ذہن میں تمام تر واقعات کو یکجا کرنے کی کوشش کررہاتھا تاکہ سب واقعات کو ربط کے ساتھ ضابطہ تحریر میں لاسکے۔ چند منٹ تک وہ سکون سے واقعات کو کسی فلم کی طرح اپنے ذہن میں دہراتا رہا۔
"آج صبح سے تمام رنگ دنیا سے غائب ہیں۔ خبروں کے مطابق مغرب کی جانب سے آنے والی ایک سرخ آندھی نے تمام رنگوں کو اپنے اندر جکڑ لیا اور آناً فاناً غائب ہوگئی۔ میاں مٹھو سے میں نے فال نکلوائی جس میں لکھا تھا۔ ست رنگی زمین، ابھرتا سورج، عظیم بھول بھلیاں، دوسری جنگ عظیم، مریخ کا مریض، نواب شہزادہ، جنگل راج۔۔۔۔ معلومات کے لئے خواب کی ریل گاڑی اور پونے دس بجے کی نیند کے اسٹیشن پر جانا ہے۔ کسی کو بھی بتانے سے نقصان کا اندیشہ ہے۔ "
ابھی وہ آنکھیں بند کئے ہی بیٹھا تھا کہ اسے ہلکی ہلکی سی پن کی طرح کی کی آواز آنے لگی۔ اس نے ایک جھٹکے سے آنکھیں کھولیں اور وہیں کرسی کی پشت پر سر رکھے ہی ادھر ادھر آنکھوں کے ڈیلے گھما کر اردگرد کا جائزہ لینے لگا مگر کوئی چیز خلاف توقع نظر نہ آئی۔ اس نے دھیرے سے خود کو سیدھا کیا تو اس کی سب سے پہلی نظر اپنی ڈائری پر پڑی اور حیرت کے مارے اس کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔
اس کی ڈائری پہ اس کا قلم خوب بخود چل رہاتھا۔ جو کچھ وہ ذہن میں ترتیب دے رہاتھا وہی سب کچھ خودبخود تحریر ہوتا جارہاتھا۔ قلم نے تمام کہانی لکھ ڈالی۔ شان نے آنکھیں مسل مسل کر وہ سب کچھ پڑھا۔ اس کے بعد تحریر مٹ گئی۔ اب قلم کورے کاغذ پر پھر سے چلنا شروع ہوگیاتھا۔ اب وہاں ایک نئی تحریر ابھررہی تھی۔
"نہ کسی انسان سے، نہ کسی جانور سے، حتٰی کہ کسی بے جان چیز سے بھی ان حالات و واقعات کا اظہار کرنا کسی بڑے نقصان کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتا ہے۔احتیاط کیجئے کیونکہ اس مہم کے لئے آپ سے بہتر کوئی اور نہیں ہے۔ یہ آخری وارننگ ہے ۔ اس کے بعد کوئی وارننگ نہیں دی جائے گی۔"
شان کے پڑھتے ہی تحریر مٹ گئی اور سادہ کاغذ اس کا منہ چڑا رہاتھا۔
شان ایک دوراہے پہ آکھڑا ہوا تھا۔ وہ سوچ میں کم پڑا تھا اور کشمکش میں زیادہ مبتلا ہواتھا۔ اس نے کاموشی سے ڈائری اور قلم کو اٹھا کر دراز میں ڈال دیا۔ اب اس نے سوچا کہ جب یہ کار خیر سر انجام دینا ہی ہے تو کیوں نہ اس مہم کے لئے تھوڑی سی تیاری کر لی جائے۔
وہ ایک نئی توانائی محسوس کرتا اپنی جگہ سے اٹھا۔ اس نے اپنا یونیورسٹی کے زمانے کا بیگ نکالا اور اس میں ایک پانی کی بوتل، ایک رسی اور ایک ٹارچ بھی رکھ لی۔ اب وہ اس مہم کے لئے خود کو بالکل تیار محسوس کررہاتھا۔ اب اسے پونے دس کا انتظار تھا۔ اس نے گھڑی کی سمت دیکھا وہاں صرف نو بجے تھے۔ اس نے وقت گزاری کے لئے کینوس کو ایزل پہ ٹکایا اور پینٹنگ بنانا شروع کی مگر رنگ نہ ہونے کی وجہ سے اس کا دل نہ لگا۔ وہ کمرے سے باہر نکل آیا۔ اس کی امی نے کھانے کا پوچھا تو وہ چپ چاپ کھانا کھانے بیٹھا گیا۔
بے رنگا کھانا دیکھ کر اس کی بھوک بالکل مر چکی تھی۔ شان کو ایسا محسوس ہورہاتھا جیسے وہ کوئی بے رنگی دوائی نگل رہاہو۔ کیونکہ کھانا ہم پہلے آنکھوں سے چکھتے ہیں اس کے بعد ہی ہم اسے زبان سے چکھتے ہیں۔ جتنا کھانا دکھنے میں اچھا لگتا ہے کھانے میں بھی اسی قدر لذیز لگتا ہے۔ اور یہاں تو معاملہ ہی الٹا تھا کیونکہ ہر چیز بے رنگی تھی اسی لئے بے رنگا کھانا بھی بے ذائقہ ہی محسوس ہورہاتھا۔ شان بمشکل دو چار لقمے زہر مار کر ہاتھ منہ دھوتا اپنے کمرے میں آکر لیٹ گیا۔ کیونکہ اب پونے دس بجنے ہی والے تھے۔
شان کی نظریں گھڑیال پہ ٹکی تھیں۔ اور بیگ کو اس نے مضبوطی سے اپنے ساتھ جکڑ کر رکھا ہواتھا۔ گھڑیال کی مخصوص ٹک ٹک کی آواز شان کے دل کی دھڑکن کو بڑھاتی جارہی تھی۔ پونے دس بجتے ہی شان کی آنکھیں پوری شدت سے بند ہوئیں جیسے کسی نے زبردستی بند کروائی ہوں۔ ساتھ ہی تیز روشنی کا جھماکا سا ہوا اور پھر کسی نے اسے ایک زور دار دھکا دیا اور وہ منہ کے بل سمینٹ کے پکے فرش پر آگرا ۔ اس کا بیگ اس کے گرتے ہی اس کے اوپر پھینکا گیا جو اس کے سر پر بری طرح سے لگا۔ اس نے سیدھا ہوکر اردگرد نظر دوڑائی تو منظر ہی بدلا ہواتھا۔
وہ کوئی پرانا سا اسٹیشن تھا ۔ اس کے ایک طرف جلی حروف میں لکھا تھا "نیند اسٹیشن" ۔ وہاں مختلف گاڑیوں کے اوقات ایک بورڈ پہ درج تھے۔"خواب کی ریل گاڑی۔۔۔ پونے دس بجے، کچی نین دکی ریل گاڑی۔۔۔ سات بجے، پکی نیند کی ریل گاڑی۔۔۔ بارہ بجے، موت کی ریل گاڑی۔۔۔دو بجے، زندگی کی ریل گاڑی۔۔۔چھ بجے۔" گاڑیوں کے اوقات کار دیکھ لینے کے بعد اس کی نظر سامنے لگے بڑے سے جہازی سائز گھڑیال پر پڑی جو پونے دس بجے کا اعلان کررہاتھا۔ شان نے دیکھا کہ وہاں موجود لوگ ہر چیز سے بے نیاز اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہیں کسی کو کسی کا ہوش نہیں ہے۔ سب لوگ اپنے آپ میں مگن ہیں۔ شان نے اپنا بیگ سنبھالا کیونکہ خواب کی ریل گاڑی نیند کے اسٹیشن پر آکر رک چکی تھی۔ شان ریل گاڑی کے قریب آیا تو اسے بوگیوں کے نمبر لکھے نظر آئے جو اسی کوڈ سے ملتے جلتے تھے جیسا کہ اسے فال کے کاغذ کے پیچھے لکھا نظر آیاتھا۔ اس نے مطلوبہ بوگی کی تلاش میں نظریں دوڑائیں آخر وہ اپنی بوگی تک پہنچنے میں کامیاب ہوہی گیا۔ بوگی کے دروازے پہ لکھا تھا۔
I9S106C3
اس نے نمبر پڑھا تو نیچے ناموں کی لسٹ میں اس کا نام بھی لکھا ہواتھا۔ وہ بوگی کے اندر داخل ہوا۔ اندر داخل ہوتے ہیں ایک دروازہ تھا اور وہاں ایک آدمی کھڑا تھا جس نے دھوتی کرتا پہن رکھا تھا اور سر پہ ایک بڑی سی پگڑی باندھ رکھی تھی۔ شان کے اندر آتے ہی اس آدمی نے فرفر انگریزی زبان میں اس سے ٹکٹ کا مطالبہ کیا۔ شان نے اسے حیرت سے دیکھا کیونکہ وہ حلئیے اور لہجے سے بہت ہی منفرد تھا۔ اس دھوتی والے آدمی نے اپنا مطالبہ دہرایاتو شان نے اسے بتایا کہ اس کے پاس ٹکٹ نہیں ہے۔ اس آدمی نے شان کو ایک لات زور دار انداز سے رسید کی۔ شان اس اچانک حملے کے لئے بالکل تیار نہیں تھا۔وہ بری طرح سے بوگی کے دروازے سمیت نیند اسٹیشن کے سمینٹ کے پکے فرش پر آگر۔ اس حملے کی وجہ سے شان کافی مضروب ہوا اس کی چیخیں نکل گئیں مگر تعجب اس بات کا تھا کہ کوئی بھی اس کی طرف متوجہ نہیں ہوا۔ نہ کسی نے اس کی مدد کی نہ کسی نے اسے نگاہ اٹھا کر دیکھا۔ وہ دھیرے دھیرے اٹھا اور بمشکل ریل تک پہنچا۔ ریل کی سیٹی بج چکی تھی اور وہ آہستہ رفتار سے چلنا شروع ہوچکی تھی۔ شان کی حالت ایسی نہیں تھی کہ وہ ٹرین کے ساتھ دوڑتے دوڑتے اس پہ سوار ہوجائے اس لئے وہ بت بسی کے عالم میں رینگتی ہوئی ریل کو دیکھنے لگا۔ تھوڑی ہی دیر میں ریل نظروں سے اوجھل ہوگئی۔ شان خود کو بمشکل گھسیٹتا ہوا آگے بڑھنے لگا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ اسے محسوس ہورہاتھا جیسے کہ وہ اس مہم میں فیل ہوگیاہے۔ شان تھوڑا آگے چل کر رک گیاکیونکہ اس کا سانس پھولنے لگا تھا۔ اس نے ایک کھمبے کا سہارا لیا اور گہری گہری سانسیں لینے لگا۔ اس کے کندھے پہ اس کا بیک لٹک رہاتھا۔اسے یاد آیا کہ اس نے اپنے بیگ میں پانی کی بوتل رکھی ہوئی ہے۔ اس نے بیگ کھول کر بوتل نکالی اور غٹا غٹ پانی پینے لگا۔ اسے ایسا محسوس ہورہاتھا جیسے ا سکے حلق میں کانٹے اگ آئے ہوں وہ ساری کی ساری بوتل ایک ہی سانس میں ختم کرگیا لیکن پیاس ہنوز باقی تھی۔ اس نے ادرگرد نلکے کی تلاش میں نظریں دوڑائیں مگر وہاں دور دور تک کوئی نلکا نہیں تھا، اس نے مایوسانہ انداز میں بوتل واپس بیگ میں رکھی ۔اور اردگرد کا جائزہ لینے لگا۔ دفعتاً اس کی نظر ایک کمرے پہ پڑی جس پہ لکھا تھا"اسٹیشن ماسٹر" وہ فوراً اس کمرے کی جانب بڑھنے لگا تو اسے ایک دم سے اپنے پیچھے سے بے تحاشہ ہنسنے کی آواز سنائی دی۔ شان نے مڑ کر دیکھا وہ کوئی جوکر سا آدمی تھا۔ اس کی میلی کچیلی داڑھی ا سکے پیروں کو چھو رہی تھی اور دو پیلے دانت ڈریکولاکی طرح باہر کو نکلے ہوئے تھے۔اس کی آنکھیں لال انگارہ سی جل رہی تھیں۔ اس نے جوکروں جیسا رنگ برنگا لباس پہن رکھاتھا۔ وہ شان کو دیکھ کر پیٹ پکڑے مسلسل ہنسے جارہاتھا۔ شان نے اسے حیرت سے دیکھاتھا۔ وہ شان کو اپنی طرف متوجہ پاکر ایک دم سے خاموش ہوگیا اور شان کو گھورنے لگا بالکل ایسے جیسے کوئی معصوم بچہ اپنے کسی من پسند کھلونے کو دکان کے شو کیس میں سجا ہوا دیکھتا رہ جاتا ہے۔ تھوڑی دیر تک وہ شان کو دیکھتا رہا اورپھر دوبارہ ہنسنا شروع ہوگیا۔ پھر وہ ایک ذرا دیر کے لئے چپ ہوا اور ہذیانی انداز میں چیخنے لگاؒ"تم پچھتائو گے۔۔۔تم بہت پچھتائو گے۔۔۔سنو تم ۔۔۔۔ہاں تم پچھتائو گے۔"شان ایک دم اس کے چیخنے پہ سہم سا گیا، مگر خاموش رہا۔ایک دم سے فضا میں ہنٹر کی آواز ابھری۔ شان نے آواز کی سمت نظریں دوڑائیں مگر اسے کچھ دکھائی نہ دیا۔جوکر کا لباس پہنا شخص بنا ہلے جلے آنکھوں کے ڈیلے گھما کر آواز کی سمت دیکھنے کی کوشش کررہاتھا۔اگلے ہی لمحے اس شخص نے ایک چھلانگ لگائی اور شان کا سر دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر فوراً اس کا کان اپنے دانتوں سے چبا ڈالا۔تکلیف کی شدت سے شان کی چیخیں نکل گئیں۔ ایک بار پھر ہنٹر کی آواز سنائی دی اور بالکل قریب سے سنائی دی۔ اس شخص نے شان کا کان چھوڑا اور ہنستے ہوئے بھاگنے لگا۔ شان نے آنسو بھری آنکھیں کھول کر دیکھا تو اس جوکر نما شخص کے پیچھے ایک اور آدمی ہنٹر لئے دوڑ رہاتھا۔ہنٹر والے شخص کے بال زمین کو چھو رہے تھے بلکہ جھاڑو لگا رہے تھے ۔ہنٹر والا شخص پہلے والے شخص کوہنٹر مارتا اور وہ بے تحاشہ ہنستا بھاگتا نظر آیا۔تھوڑی دیر تک وہ یہ تماشہ دیکھتا رہاپھر وہ دونوں اس کی نظروں سے اوجھل ہوگئے۔ اب شان دیر کئے بنا فوراً اسٹیشن ماسٹر کے کمرے میں گھس گیا۔ اسٹیشن ماسٹر کے کمرے میں گھپ اندھیرا تھا۔ وہ حیرا ن تھا کہ آخر یہ سب کیا ہورہاہے اور پریشان تھا کہ آخر یہ کس قسم کی جگہ ہے۔اسے یاد آیا کہ اس کے بیگ میں ایک ٹارچ بھی موجود ہے اس نے ٹارچ نکال کر روشن کی اور سامنے کا منظر دیکھ کر اس کی چیخیں نکل گئیں۔سامنے کرسی پہ اسڑیشن ماسٹر کی لاش رکھی ہوئی تھی۔اس کے دل کے مقام پہ کسی نے خنجر گھونپ کر اس کوجان سے مارڈالا تھا۔ اس کی کھلی آنکھیں اور دل کے مقام سے نکلتا خون شان کی رگوں میں سردی کی لہر دوڑا گیاتھا۔ ابھی وہ اس ساری صورتحال کو سمجھنے کی کوشش کرہی رہاتھا کہ فضا پولیس کے سائزن کی آواز سے گونجنے لگی اور آناًفاناً چار ہٹے کٹے موٹے تازے پولیس والے دھاڑ کی آواز سے دروازے کو تقریباً روندتے ہوئے کمرے کے اندر آن پہنچے۔ ان کی توند نکلی ہوئی اور آنکھیں ابلی ہوئی تھیں۔ انہوں نے ایک نظر اسٹیشن ماسٹر کی لاش کو دیکھا اور پھر اگلے ہی لمحے شان کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں پہناتے ہوئے اسے تقریباً گھسیٹتے ہوئے باہر لے گئے۔ شان چلانے لگا:"مم۔۔۔میں نے چھ نہیں کیا۔ پلیز میری بات سنیں میں نے کچھ بھی نہیں کیا۔"موٹے انسپکٹر نے اسے زبردستی وین میں ٹھونسا اور گاڑی اسٹارٹ ہوگئی اب وہ واویلا کرنے کی بجائے محض رونے پہ اکتفا کررہاتھا۔وین پولیس اسٹیشن جاکررک گئی۔ پولیس والوں نے اسے گھسیٹ کر وین سے نکالا اور لاک اپ میں لے جا کر پھینک دیا اور موٹا سا تالا لگا کر لاک اپ کو بند کردیا۔ شان کو کچھ نہ سوجھا تو وہ گھٹنوں میں سر دے کر رونا شروع ہوگیا۔ ابھی اسے آئے چند ہی منٹ ہوئے تھے کہ اس نے دوبارہ وہی ہنسی کی آواز سنی جو اسے اسٹیشن پہ سنائی دی تھی۔ شان نے ایک دم چونک کر سر اٹھایا تو اس کی آنکھوں کے سامنے وہی جوکر کے لباس والا شخص موجود تھا۔ وہ شان کو دیکھ کر پیٹ پکڑے ہنسے جارہاتھا۔ وہ ایک دم چپ ہوا اور ایک نکتے پہ نظریں گاڑ دیں۔ شان کو ایک دم سےاسے دیکھ کر اپنے کان کی تکلیف یاد آئی لیکن غلامی کی تکلیف اس سے سوا تھی۔ اچانک وہ جوکر کے لباس والا شخص بولا:"تم چلے جائو گے۔۔ یہ لوگ تمہیں خود بھیج دیں گے۔" ابھی اس نے اتنا کہا ہی تھا کہ دو پولیس والے آئے اور لاک اپ کا تالا کھول کر شان کو گھسیٹ کر باہر نکال کر دھکا دیا:"چل بے نکل دفع ہوجا۔۔۔آجاتے ہیں مفت کی روٹیاں توڑنے۔۔۔بےقصور سالا چل نکل۔۔۔"شان حیرت کے جہان میں غوطہ زن باہر کی طرف قدم بڑھانے لگا تو پھر جوکر کے لباس والے شخص نے پیچھے سے آواز دی:"سن۔۔۔"شان نے اسے سوالیہ نظروں سے دیکھ:"جو بھی کھائو وہ مت پھینکنا۔" شان نے حیران ہوکرپوچھا:"وہ کیا؟"وہ شخص مسکرانے لگا:"چل اب دفع ہوجا میرا دماغ خراب مت کر۔"اس کے بعد وہ دوبارہ زور زور سے ہنسنے لگا۔ شان نے کندھے اچکائے اور پولیس اسٹیشن سے باہر نکل آیا۔ پولیس اسٹیشن سے باہر آکر اور مفت کی روٹی کا ذکر سن کر اسے احساس ہوا کہ اسے بہت زوروں کی بھوک لگی ہوئی ہے۔ اس نے آس پاس نظر دوڑائی تو اس کی نظر ایک چھوٹی سی دکان پہ پڑی وہ تیز تیز قدم اٹھاتا اس دکان میں داخل ہوگیا۔ دکان دار نے اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔ شان کی نظریں کھانے پینے کی مختلف اشیاء کا جائزہ لے رہی تھیں۔ اس کی نظریں کیک، پیسٹری، مٹھائیوں، چپس، نمکو ،ببل، ٹافی اور جوس وغیرہ سے ہوتی ہوئی مختلف قسم کے بسکٹوں کے ڈبوں پہ آرکی۔ اس نے دکان دار سے کہا :"مجھے ایک بسکٹ کا ڈبہ دے دو۔"دکان والے نے مصروف انداز میں کہا:"ایک ڈبہ نہیں دے سکتا۔"شان نے تعجب سے پوچھا:"وہ کیوں بھلا؟"دکان والے نے پھاڑ کھانے والے انداز میں شان کو گھورا:"میری دکان میں میری مرضی چلتی ہے۔ میں تمہارے باپ کا نوکر نہیں ہوں ۔سمجھے لڑکے؟"شان کچھ کہنے کے لئے منہ کھولنے ہی والا تھا کہ دکان والے ایک طرف اشارہ کیا۔ شان نے رخ اس طرف کیا۔ وہاں دیوار پہ ایک بڑا سا چارٹ پیپر چسپاں کیاگیاتھا۔ شان اسے پڑھنے لگا۔
دکان سے خریداری کرنے ک اصول
اصول1:کوئی بھی دکان دار سے بحث نہیں کرے گا۔
اصول2: دکان دار کی بات حرف آخر ہے۔
اصول3 : دام میں کمی بیشی نہیں ہوگی یعنی ایک دام۔
اصول 4 : کوئی بھی چیز بنا پیکٹ کے نہیں بیچی جاتی۔ ٹافی کے پیکٹ میں 20 ٹافیاں ہوتی ہیں ۔ ایک ٹافی ہرگز نہیں بیچی جائے گی۔ پیکٹ خریدنا لازمی ہے۔
اصول5: دکان دار کو جوڈو کراٹے آتے ہیں۔ زیادہ غصہ آنے کی صورت میں دکان دار جوڈو کراٹے کا استعمال کرسکتاہے۔
اصول6 : خریدار کا تمام اصولوں پہ عمل کرنا لازمی ہے۔
اصول 7: اصول 6 پر عمل نہ کرنے کی صورت میں آپ بنا خریداری کئے واپس جاسکتے ہیں۔
اصول8: اصول چارٹ پڑھنے کی قیمت 2 روپے ہے۔ مہربانی فرما کر اصول چارٹ کے ساتھ ٹنگے ڈبے میں 2 روپے ڈال دیجئے ورنہ نتائج کے ذمہ دار آپ خود ہوں گے۔
شان نے تعجب سے دکان دار کودیکھا جو چہہرے پہ شیطانی مسکراہٹ سجائے اسی کو دیکھ رہاتھا۔ شان کو متوجہ پا کر اس نے شائستہ اور مودبانہ انداز میں کہا:"مہربانی فرما کر اصول چارٹ کی قیمت یعنی 2 روپے اصول چارٹ کے پاس دیوار میں ٹنگے اس ڈبے میں ڈال دیں ورنہ۔۔۔" شان کو اس کی مکروہ ہنسی پر غصہ آرہاتھا:"ورنہ کیا؟کیا کر لو گے تم بولو؟" شان نے غصے سے مٹھیاں بھینچ لی تھیں۔
دکان دار سکون سے مسکراتے ہوئے بولا:"ورنہ میں تو کچھ نہیں کروں گا۔ جو بھی کریں گے وہ میرے جانباز شیر ہی کریں گے۔۔۔"دکاندار نے اصول چارٹ کے نچلے حصے کی طرف اشارہ کیا۔شان نے وہاں دیکھا تو ا سکی رگوں میں خون منجمد ہونے لگا۔ وہاں ایک پنجرے میں بے شمار چھوٹے چھوٹے چوہے اپنے نوکیلے دانت اور خطرناک عزائم کے ساتھ خونخوار نظروں سے شان کو دیکھ رہے تھے۔
"آج صبح سے تمام رنگ دنیا سے غائب ہیں۔ خبروں کے مطابق مغرب کی جانب سے آنے والی ایک سرخ آندھی نے تمام رنگوں کو اپنے اندر جکڑ لیا اور آناً فاناً غائب ہوگئی۔ میاں مٹھو سے میں نے فال نکلوائی جس میں لکھا تھا۔ ست رنگی زمین، ابھرتا سورج، عظیم بھول بھلیاں، دوسری جنگ عظیم، مریخ کا مریض، نواب شہزادہ، جنگل راج۔۔۔۔ معلومات کے لئے خواب کی ریل گاڑی اور پونے دس بجے کی نیند کے اسٹیشن پر جانا ہے۔ کسی کو بھی بتانے سے نقصان کا اندیشہ ہے۔ "
ابھی وہ آنکھیں بند کئے ہی بیٹھا تھا کہ اسے ہلکی ہلکی سی پن کی طرح کی کی آواز آنے لگی۔ اس نے ایک جھٹکے سے آنکھیں کھولیں اور وہیں کرسی کی پشت پر سر رکھے ہی ادھر ادھر آنکھوں کے ڈیلے گھما کر اردگرد کا جائزہ لینے لگا مگر کوئی چیز خلاف توقع نظر نہ آئی۔ اس نے دھیرے سے خود کو سیدھا کیا تو اس کی سب سے پہلی نظر اپنی ڈائری پر پڑی اور حیرت کے مارے اس کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔
اس کی ڈائری پہ اس کا قلم خوب بخود چل رہاتھا۔ جو کچھ وہ ذہن میں ترتیب دے رہاتھا وہی سب کچھ خودبخود تحریر ہوتا جارہاتھا۔ قلم نے تمام کہانی لکھ ڈالی۔ شان نے آنکھیں مسل مسل کر وہ سب کچھ پڑھا۔ اس کے بعد تحریر مٹ گئی۔ اب قلم کورے کاغذ پر پھر سے چلنا شروع ہوگیاتھا۔ اب وہاں ایک نئی تحریر ابھررہی تھی۔
"نہ کسی انسان سے، نہ کسی جانور سے، حتٰی کہ کسی بے جان چیز سے بھی ان حالات و واقعات کا اظہار کرنا کسی بڑے نقصان کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتا ہے۔احتیاط کیجئے کیونکہ اس مہم کے لئے آپ سے بہتر کوئی اور نہیں ہے۔ یہ آخری وارننگ ہے ۔ اس کے بعد کوئی وارننگ نہیں دی جائے گی۔"
شان کے پڑھتے ہی تحریر مٹ گئی اور سادہ کاغذ اس کا منہ چڑا رہاتھا۔
شان ایک دوراہے پہ آکھڑا ہوا تھا۔ وہ سوچ میں کم پڑا تھا اور کشمکش میں زیادہ مبتلا ہواتھا۔ اس نے کاموشی سے ڈائری اور قلم کو اٹھا کر دراز میں ڈال دیا۔ اب اس نے سوچا کہ جب یہ کار خیر سر انجام دینا ہی ہے تو کیوں نہ اس مہم کے لئے تھوڑی سی تیاری کر لی جائے۔
وہ ایک نئی توانائی محسوس کرتا اپنی جگہ سے اٹھا۔ اس نے اپنا یونیورسٹی کے زمانے کا بیگ نکالا اور اس میں ایک پانی کی بوتل، ایک رسی اور ایک ٹارچ بھی رکھ لی۔ اب وہ اس مہم کے لئے خود کو بالکل تیار محسوس کررہاتھا۔ اب اسے پونے دس کا انتظار تھا۔ اس نے گھڑی کی سمت دیکھا وہاں صرف نو بجے تھے۔ اس نے وقت گزاری کے لئے کینوس کو ایزل پہ ٹکایا اور پینٹنگ بنانا شروع کی مگر رنگ نہ ہونے کی وجہ سے اس کا دل نہ لگا۔ وہ کمرے سے باہر نکل آیا۔ اس کی امی نے کھانے کا پوچھا تو وہ چپ چاپ کھانا کھانے بیٹھا گیا۔
بے رنگا کھانا دیکھ کر اس کی بھوک بالکل مر چکی تھی۔ شان کو ایسا محسوس ہورہاتھا جیسے وہ کوئی بے رنگی دوائی نگل رہاہو۔ کیونکہ کھانا ہم پہلے آنکھوں سے چکھتے ہیں اس کے بعد ہی ہم اسے زبان سے چکھتے ہیں۔ جتنا کھانا دکھنے میں اچھا لگتا ہے کھانے میں بھی اسی قدر لذیز لگتا ہے۔ اور یہاں تو معاملہ ہی الٹا تھا کیونکہ ہر چیز بے رنگی تھی اسی لئے بے رنگا کھانا بھی بے ذائقہ ہی محسوس ہورہاتھا۔ شان بمشکل دو چار لقمے زہر مار کر ہاتھ منہ دھوتا اپنے کمرے میں آکر لیٹ گیا۔ کیونکہ اب پونے دس بجنے ہی والے تھے۔
شان کی نظریں گھڑیال پہ ٹکی تھیں۔ اور بیگ کو اس نے مضبوطی سے اپنے ساتھ جکڑ کر رکھا ہواتھا۔ گھڑیال کی مخصوص ٹک ٹک کی آواز شان کے دل کی دھڑکن کو بڑھاتی جارہی تھی۔ پونے دس بجتے ہی شان کی آنکھیں پوری شدت سے بند ہوئیں جیسے کسی نے زبردستی بند کروائی ہوں۔ ساتھ ہی تیز روشنی کا جھماکا سا ہوا اور پھر کسی نے اسے ایک زور دار دھکا دیا اور وہ منہ کے بل سمینٹ کے پکے فرش پر آگرا ۔ اس کا بیگ اس کے گرتے ہی اس کے اوپر پھینکا گیا جو اس کے سر پر بری طرح سے لگا۔ اس نے سیدھا ہوکر اردگرد نظر دوڑائی تو منظر ہی بدلا ہواتھا۔
وہ کوئی پرانا سا اسٹیشن تھا ۔ اس کے ایک طرف جلی حروف میں لکھا تھا "نیند اسٹیشن" ۔ وہاں مختلف گاڑیوں کے اوقات ایک بورڈ پہ درج تھے۔"خواب کی ریل گاڑی۔۔۔ پونے دس بجے، کچی نین دکی ریل گاڑی۔۔۔ سات بجے، پکی نیند کی ریل گاڑی۔۔۔ بارہ بجے، موت کی ریل گاڑی۔۔۔دو بجے، زندگی کی ریل گاڑی۔۔۔چھ بجے۔" گاڑیوں کے اوقات کار دیکھ لینے کے بعد اس کی نظر سامنے لگے بڑے سے جہازی سائز گھڑیال پر پڑی جو پونے دس بجے کا اعلان کررہاتھا۔ شان نے دیکھا کہ وہاں موجود لوگ ہر چیز سے بے نیاز اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہیں کسی کو کسی کا ہوش نہیں ہے۔ سب لوگ اپنے آپ میں مگن ہیں۔ شان نے اپنا بیگ سنبھالا کیونکہ خواب کی ریل گاڑی نیند کے اسٹیشن پر آکر رک چکی تھی۔ شان ریل گاڑی کے قریب آیا تو اسے بوگیوں کے نمبر لکھے نظر آئے جو اسی کوڈ سے ملتے جلتے تھے جیسا کہ اسے فال کے کاغذ کے پیچھے لکھا نظر آیاتھا۔ اس نے مطلوبہ بوگی کی تلاش میں نظریں دوڑائیں آخر وہ اپنی بوگی تک پہنچنے میں کامیاب ہوہی گیا۔ بوگی کے دروازے پہ لکھا تھا۔
I9S106C3
اس نے نمبر پڑھا تو نیچے ناموں کی لسٹ میں اس کا نام بھی لکھا ہواتھا۔ وہ بوگی کے اندر داخل ہوا۔ اندر داخل ہوتے ہیں ایک دروازہ تھا اور وہاں ایک آدمی کھڑا تھا جس نے دھوتی کرتا پہن رکھا تھا اور سر پہ ایک بڑی سی پگڑی باندھ رکھی تھی۔ شان کے اندر آتے ہی اس آدمی نے فرفر انگریزی زبان میں اس سے ٹکٹ کا مطالبہ کیا۔ شان نے اسے حیرت سے دیکھا کیونکہ وہ حلئیے اور لہجے سے بہت ہی منفرد تھا۔ اس دھوتی والے آدمی نے اپنا مطالبہ دہرایاتو شان نے اسے بتایا کہ اس کے پاس ٹکٹ نہیں ہے۔ اس آدمی نے شان کو ایک لات زور دار انداز سے رسید کی۔ شان اس اچانک حملے کے لئے بالکل تیار نہیں تھا۔وہ بری طرح سے بوگی کے دروازے سمیت نیند اسٹیشن کے سمینٹ کے پکے فرش پر آگر۔ اس حملے کی وجہ سے شان کافی مضروب ہوا اس کی چیخیں نکل گئیں مگر تعجب اس بات کا تھا کہ کوئی بھی اس کی طرف متوجہ نہیں ہوا۔ نہ کسی نے اس کی مدد کی نہ کسی نے اسے نگاہ اٹھا کر دیکھا۔ وہ دھیرے دھیرے اٹھا اور بمشکل ریل تک پہنچا۔ ریل کی سیٹی بج چکی تھی اور وہ آہستہ رفتار سے چلنا شروع ہوچکی تھی۔ شان کی حالت ایسی نہیں تھی کہ وہ ٹرین کے ساتھ دوڑتے دوڑتے اس پہ سوار ہوجائے اس لئے وہ بت بسی کے عالم میں رینگتی ہوئی ریل کو دیکھنے لگا۔ تھوڑی ہی دیر میں ریل نظروں سے اوجھل ہوگئی۔ شان خود کو بمشکل گھسیٹتا ہوا آگے بڑھنے لگا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ اسے محسوس ہورہاتھا جیسے کہ وہ اس مہم میں فیل ہوگیاہے۔ شان تھوڑا آگے چل کر رک گیاکیونکہ اس کا سانس پھولنے لگا تھا۔ اس نے ایک کھمبے کا سہارا لیا اور گہری گہری سانسیں لینے لگا۔ اس کے کندھے پہ اس کا بیک لٹک رہاتھا۔اسے یاد آیا کہ اس نے اپنے بیگ میں پانی کی بوتل رکھی ہوئی ہے۔ اس نے بیگ کھول کر بوتل نکالی اور غٹا غٹ پانی پینے لگا۔ اسے ایسا محسوس ہورہاتھا جیسے ا سکے حلق میں کانٹے اگ آئے ہوں وہ ساری کی ساری بوتل ایک ہی سانس میں ختم کرگیا لیکن پیاس ہنوز باقی تھی۔ اس نے ادرگرد نلکے کی تلاش میں نظریں دوڑائیں مگر وہاں دور دور تک کوئی نلکا نہیں تھا، اس نے مایوسانہ انداز میں بوتل واپس بیگ میں رکھی ۔اور اردگرد کا جائزہ لینے لگا۔ دفعتاً اس کی نظر ایک کمرے پہ پڑی جس پہ لکھا تھا"اسٹیشن ماسٹر" وہ فوراً اس کمرے کی جانب بڑھنے لگا تو اسے ایک دم سے اپنے پیچھے سے بے تحاشہ ہنسنے کی آواز سنائی دی۔ شان نے مڑ کر دیکھا وہ کوئی جوکر سا آدمی تھا۔ اس کی میلی کچیلی داڑھی ا سکے پیروں کو چھو رہی تھی اور دو پیلے دانت ڈریکولاکی طرح باہر کو نکلے ہوئے تھے۔اس کی آنکھیں لال انگارہ سی جل رہی تھیں۔ اس نے جوکروں جیسا رنگ برنگا لباس پہن رکھاتھا۔ وہ شان کو دیکھ کر پیٹ پکڑے مسلسل ہنسے جارہاتھا۔ شان نے اسے حیرت سے دیکھاتھا۔ وہ شان کو اپنی طرف متوجہ پاکر ایک دم سے خاموش ہوگیا اور شان کو گھورنے لگا بالکل ایسے جیسے کوئی معصوم بچہ اپنے کسی من پسند کھلونے کو دکان کے شو کیس میں سجا ہوا دیکھتا رہ جاتا ہے۔ تھوڑی دیر تک وہ شان کو دیکھتا رہا اورپھر دوبارہ ہنسنا شروع ہوگیا۔ پھر وہ ایک ذرا دیر کے لئے چپ ہوا اور ہذیانی انداز میں چیخنے لگاؒ"تم پچھتائو گے۔۔۔تم بہت پچھتائو گے۔۔۔سنو تم ۔۔۔۔ہاں تم پچھتائو گے۔"شان ایک دم اس کے چیخنے پہ سہم سا گیا، مگر خاموش رہا۔ایک دم سے فضا میں ہنٹر کی آواز ابھری۔ شان نے آواز کی سمت نظریں دوڑائیں مگر اسے کچھ دکھائی نہ دیا۔جوکر کا لباس پہنا شخص بنا ہلے جلے آنکھوں کے ڈیلے گھما کر آواز کی سمت دیکھنے کی کوشش کررہاتھا۔اگلے ہی لمحے اس شخص نے ایک چھلانگ لگائی اور شان کا سر دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر فوراً اس کا کان اپنے دانتوں سے چبا ڈالا۔تکلیف کی شدت سے شان کی چیخیں نکل گئیں۔ ایک بار پھر ہنٹر کی آواز سنائی دی اور بالکل قریب سے سنائی دی۔ اس شخص نے شان کا کان چھوڑا اور ہنستے ہوئے بھاگنے لگا۔ شان نے آنسو بھری آنکھیں کھول کر دیکھا تو اس جوکر نما شخص کے پیچھے ایک اور آدمی ہنٹر لئے دوڑ رہاتھا۔ہنٹر والے شخص کے بال زمین کو چھو رہے تھے بلکہ جھاڑو لگا رہے تھے ۔ہنٹر والا شخص پہلے والے شخص کوہنٹر مارتا اور وہ بے تحاشہ ہنستا بھاگتا نظر آیا۔تھوڑی دیر تک وہ یہ تماشہ دیکھتا رہاپھر وہ دونوں اس کی نظروں سے اوجھل ہوگئے۔ اب شان دیر کئے بنا فوراً اسٹیشن ماسٹر کے کمرے میں گھس گیا۔ اسٹیشن ماسٹر کے کمرے میں گھپ اندھیرا تھا۔ وہ حیرا ن تھا کہ آخر یہ سب کیا ہورہاہے اور پریشان تھا کہ آخر یہ کس قسم کی جگہ ہے۔اسے یاد آیا کہ اس کے بیگ میں ایک ٹارچ بھی موجود ہے اس نے ٹارچ نکال کر روشن کی اور سامنے کا منظر دیکھ کر اس کی چیخیں نکل گئیں۔سامنے کرسی پہ اسڑیشن ماسٹر کی لاش رکھی ہوئی تھی۔اس کے دل کے مقام پہ کسی نے خنجر گھونپ کر اس کوجان سے مارڈالا تھا۔ اس کی کھلی آنکھیں اور دل کے مقام سے نکلتا خون شان کی رگوں میں سردی کی لہر دوڑا گیاتھا۔ ابھی وہ اس ساری صورتحال کو سمجھنے کی کوشش کرہی رہاتھا کہ فضا پولیس کے سائزن کی آواز سے گونجنے لگی اور آناًفاناً چار ہٹے کٹے موٹے تازے پولیس والے دھاڑ کی آواز سے دروازے کو تقریباً روندتے ہوئے کمرے کے اندر آن پہنچے۔ ان کی توند نکلی ہوئی اور آنکھیں ابلی ہوئی تھیں۔ انہوں نے ایک نظر اسٹیشن ماسٹر کی لاش کو دیکھا اور پھر اگلے ہی لمحے شان کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں پہناتے ہوئے اسے تقریباً گھسیٹتے ہوئے باہر لے گئے۔ شان چلانے لگا:"مم۔۔۔میں نے چھ نہیں کیا۔ پلیز میری بات سنیں میں نے کچھ بھی نہیں کیا۔"موٹے انسپکٹر نے اسے زبردستی وین میں ٹھونسا اور گاڑی اسٹارٹ ہوگئی اب وہ واویلا کرنے کی بجائے محض رونے پہ اکتفا کررہاتھا۔وین پولیس اسٹیشن جاکررک گئی۔ پولیس والوں نے اسے گھسیٹ کر وین سے نکالا اور لاک اپ میں لے جا کر پھینک دیا اور موٹا سا تالا لگا کر لاک اپ کو بند کردیا۔ شان کو کچھ نہ سوجھا تو وہ گھٹنوں میں سر دے کر رونا شروع ہوگیا۔ ابھی اسے آئے چند ہی منٹ ہوئے تھے کہ اس نے دوبارہ وہی ہنسی کی آواز سنی جو اسے اسٹیشن پہ سنائی دی تھی۔ شان نے ایک دم چونک کر سر اٹھایا تو اس کی آنکھوں کے سامنے وہی جوکر کے لباس والا شخص موجود تھا۔ وہ شان کو دیکھ کر پیٹ پکڑے ہنسے جارہاتھا۔ وہ ایک دم چپ ہوا اور ایک نکتے پہ نظریں گاڑ دیں۔ شان کو ایک دم سےاسے دیکھ کر اپنے کان کی تکلیف یاد آئی لیکن غلامی کی تکلیف اس سے سوا تھی۔ اچانک وہ جوکر کے لباس والا شخص بولا:"تم چلے جائو گے۔۔ یہ لوگ تمہیں خود بھیج دیں گے۔" ابھی اس نے اتنا کہا ہی تھا کہ دو پولیس والے آئے اور لاک اپ کا تالا کھول کر شان کو گھسیٹ کر باہر نکال کر دھکا دیا:"چل بے نکل دفع ہوجا۔۔۔آجاتے ہیں مفت کی روٹیاں توڑنے۔۔۔بےقصور سالا چل نکل۔۔۔"شان حیرت کے جہان میں غوطہ زن باہر کی طرف قدم بڑھانے لگا تو پھر جوکر کے لباس والے شخص نے پیچھے سے آواز دی:"سن۔۔۔"شان نے اسے سوالیہ نظروں سے دیکھ:"جو بھی کھائو وہ مت پھینکنا۔" شان نے حیران ہوکرپوچھا:"وہ کیا؟"وہ شخص مسکرانے لگا:"چل اب دفع ہوجا میرا دماغ خراب مت کر۔"اس کے بعد وہ دوبارہ زور زور سے ہنسنے لگا۔ شان نے کندھے اچکائے اور پولیس اسٹیشن سے باہر نکل آیا۔ پولیس اسٹیشن سے باہر آکر اور مفت کی روٹی کا ذکر سن کر اسے احساس ہوا کہ اسے بہت زوروں کی بھوک لگی ہوئی ہے۔ اس نے آس پاس نظر دوڑائی تو اس کی نظر ایک چھوٹی سی دکان پہ پڑی وہ تیز تیز قدم اٹھاتا اس دکان میں داخل ہوگیا۔ دکان دار نے اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔ شان کی نظریں کھانے پینے کی مختلف اشیاء کا جائزہ لے رہی تھیں۔ اس کی نظریں کیک، پیسٹری، مٹھائیوں، چپس، نمکو ،ببل، ٹافی اور جوس وغیرہ سے ہوتی ہوئی مختلف قسم کے بسکٹوں کے ڈبوں پہ آرکی۔ اس نے دکان دار سے کہا :"مجھے ایک بسکٹ کا ڈبہ دے دو۔"دکان والے نے مصروف انداز میں کہا:"ایک ڈبہ نہیں دے سکتا۔"شان نے تعجب سے پوچھا:"وہ کیوں بھلا؟"دکان والے نے پھاڑ کھانے والے انداز میں شان کو گھورا:"میری دکان میں میری مرضی چلتی ہے۔ میں تمہارے باپ کا نوکر نہیں ہوں ۔سمجھے لڑکے؟"شان کچھ کہنے کے لئے منہ کھولنے ہی والا تھا کہ دکان والے ایک طرف اشارہ کیا۔ شان نے رخ اس طرف کیا۔ وہاں دیوار پہ ایک بڑا سا چارٹ پیپر چسپاں کیاگیاتھا۔ شان اسے پڑھنے لگا۔
دکان سے خریداری کرنے ک اصول
اصول1:کوئی بھی دکان دار سے بحث نہیں کرے گا۔
اصول2: دکان دار کی بات حرف آخر ہے۔
اصول3 : دام میں کمی بیشی نہیں ہوگی یعنی ایک دام۔
اصول 4 : کوئی بھی چیز بنا پیکٹ کے نہیں بیچی جاتی۔ ٹافی کے پیکٹ میں 20 ٹافیاں ہوتی ہیں ۔ ایک ٹافی ہرگز نہیں بیچی جائے گی۔ پیکٹ خریدنا لازمی ہے۔
اصول5: دکان دار کو جوڈو کراٹے آتے ہیں۔ زیادہ غصہ آنے کی صورت میں دکان دار جوڈو کراٹے کا استعمال کرسکتاہے۔
اصول6 : خریدار کا تمام اصولوں پہ عمل کرنا لازمی ہے۔
اصول 7: اصول 6 پر عمل نہ کرنے کی صورت میں آپ بنا خریداری کئے واپس جاسکتے ہیں۔
اصول8: اصول چارٹ پڑھنے کی قیمت 2 روپے ہے۔ مہربانی فرما کر اصول چارٹ کے ساتھ ٹنگے ڈبے میں 2 روپے ڈال دیجئے ورنہ نتائج کے ذمہ دار آپ خود ہوں گے۔
شان نے تعجب سے دکان دار کودیکھا جو چہہرے پہ شیطانی مسکراہٹ سجائے اسی کو دیکھ رہاتھا۔ شان کو متوجہ پا کر اس نے شائستہ اور مودبانہ انداز میں کہا:"مہربانی فرما کر اصول چارٹ کی قیمت یعنی 2 روپے اصول چارٹ کے پاس دیوار میں ٹنگے اس ڈبے میں ڈال دیں ورنہ۔۔۔" شان کو اس کی مکروہ ہنسی پر غصہ آرہاتھا:"ورنہ کیا؟کیا کر لو گے تم بولو؟" شان نے غصے سے مٹھیاں بھینچ لی تھیں۔
دکان دار سکون سے مسکراتے ہوئے بولا:"ورنہ میں تو کچھ نہیں کروں گا۔ جو بھی کریں گے وہ میرے جانباز شیر ہی کریں گے۔۔۔"دکاندار نے اصول چارٹ کے نچلے حصے کی طرف اشارہ کیا۔شان نے وہاں دیکھا تو ا سکی رگوں میں خون منجمد ہونے لگا۔ وہاں ایک پنجرے میں بے شمار چھوٹے چھوٹے چوہے اپنے نوکیلے دانت اور خطرناک عزائم کے ساتھ خونخوار نظروں سے شان کو دیکھ رہے تھے۔
------------------------------
اہل علم حضرات قلمی چوری سے پرہیز کریں۔
کاپی پیسٹ کی اجازت نہیں ہے۔


Behtareen 👍 or different bhi lag rahi hai aj kal ki stories se, next please??
ReplyDeleteye kab complete hoga?
ReplyDelete