Teri Nawazish e Mukhtasar By Saira Ghaffar
Complete Online Urdu Novel
تیری نوازشِ مختصر
(سائرہ غفار)
قسط نمبر 1
’’حضرات ایک ضروری اعلان سماعت فرمائیں ۔۔۔ضرار حسین صاحب مکان نمبر اے ۔ چھبیس کے رہائشی تھے۔۔۔ان کا آج صبح رضائے الہٰی سے انتقال ہوگیاہے۔۔۔ان کی نماز جنازہ بعد نماز عصر ادا کی جائے گی ۔ تمام حضرات سے شرکت کی درخواست ہے ۔ ‘‘مسجد سے اعلان کی آواز سنائی دے رہی تھی اور ضرار حسین کی بیوہ ماہین ضرار حسین کی آنکھوں سے پھر سے آنسووَں کی ندیا بہنا شروع ہوگئی:’’حضرات اعلان ایک بار پھر سماعت فرمائیں ۔۔۔مکان نمبر اے ۔ چھبیس کے رہائشی ضرار حسین صاحب آج صبح رضائے الٰہی سے انتقال کرگئے ہیں ۔ ان کی نماز جنازہ بعد نماز عصر ادا کی جائے گی ۔ تمام حضرات سے شرکت کی درخواست ہے ۔ شکریہ ۔ ‘‘
اعلان ختم ہوتے ہی ماہین کے رونے میں رفتار تیز ہوگئی ۔
اعلان سن کر کتنے سارے لوگوں نے افسوس کا اظہار کیا ۔ زوار حسین رات کو بھی گھر آگےاتھا ۔ اسے والد کی طبیعت خرابی کی اطلاع ماہین نے ہی دی تھی ۔ حالانکہ اس کے اور ماہین کے تعلقات کچھ خاص اچھے نہیں تھے مگر پھر بھی وہ اس کی ماں تھی۔۔۔ سوتیلی ہی سہی۔۔۔لیکن مرتے وقت اس کے باپ نے اسے ماہین کے متعلق خاص طور پر ہدایات دی تھیں ۔ اس لئے وہ ماہین کے بارے میں بہت کچھ سوچ رہاتھا ۔
نماز جنازہ کے بعد وہ گھر واپس آیا تو دور پرے کے رشتے داروں کے علاوہ باقی سب لوگ ایک ایک کر کے رخصت ہونے لگے ۔
ہاشم مبین اور ان کی بیگم سعدیہ ہاشم ابھی تک گھر پہ ہی تھے ۔ وہ زوار کے ساس سسر تھے ۔ زوار کی منگیتر خولہ ہاشم بھی ماہین کے کمرے میں ہی بیٹھی ہوئی تھی اور اس کی دلجوئی کرنے میں مصروف تھی ۔ ان کا ابھی چند دن یہیں رکنے کا ارادہ تھا ۔
زوار نے اپنے آفس میں اطلاع دے دی تھی ۔ اور ایک ہفتے تک وہ یہیں تھا ۔
اسے اپنے باپ کے مرنے کا اتنا زیادہ افسوس نہیں تھا جتنا افسوس اسے اپنی سوتیلی ماں کے بیوہ ہوجانے کا تھا۔
حالانکہ اس نے ماہین کو کبھی بھی اپنی ماں نہیں سمجھا تھا نہ ہی اسے ایسی کوئی خاص عزت دی تھی مگر پھر بھی وہ دکھی تھا کہ اس کا سہارا چلاگیا ۔
زوار رات گئے اپنے کمرے میں پہنچا تو سارے حالات و واقعات اس کی آنکھوں کے سامنے ایک فلم کی طرح چلنے لگی ۔
دو دن پہلے ہی اسے ماہین نے فون کیا تھا ۔ وہ لاہور میں جاب کے سلسلے میں رہایش پذیر تھا ۔ جبکہ اس کا گھر کراچی میں تھا ۔
ماہین کالنگ دیکھ کر اسے عجیب سا احساس ہواتھا جسے وہ کوئی بھی نام نہیں دے پایاتھا ۔ ماہین نے آج سے پہلے اسے کبھی فون نہیں کیاتھا ۔ اس لئے وہ بہت زیادہ حیران بھی ہوا تھا اور ایک ساتھ پریشان بھی ۔۔۔
''جی؟''اس نے سلام دعا کی لگی لپٹی کے بغیر ڈائریکٹ سوال کیا ۔
اعلان ختم ہوتے ہی ماہین کے رونے میں رفتار تیز ہوگئی ۔
اعلان سن کر کتنے سارے لوگوں نے افسوس کا اظہار کیا ۔ زوار حسین رات کو بھی گھر آگےاتھا ۔ اسے والد کی طبیعت خرابی کی اطلاع ماہین نے ہی دی تھی ۔ حالانکہ اس کے اور ماہین کے تعلقات کچھ خاص اچھے نہیں تھے مگر پھر بھی وہ اس کی ماں تھی۔۔۔ سوتیلی ہی سہی۔۔۔لیکن مرتے وقت اس کے باپ نے اسے ماہین کے متعلق خاص طور پر ہدایات دی تھیں ۔ اس لئے وہ ماہین کے بارے میں بہت کچھ سوچ رہاتھا ۔
نماز جنازہ کے بعد وہ گھر واپس آیا تو دور پرے کے رشتے داروں کے علاوہ باقی سب لوگ ایک ایک کر کے رخصت ہونے لگے ۔
ہاشم مبین اور ان کی بیگم سعدیہ ہاشم ابھی تک گھر پہ ہی تھے ۔ وہ زوار کے ساس سسر تھے ۔ زوار کی منگیتر خولہ ہاشم بھی ماہین کے کمرے میں ہی بیٹھی ہوئی تھی اور اس کی دلجوئی کرنے میں مصروف تھی ۔ ان کا ابھی چند دن یہیں رکنے کا ارادہ تھا ۔
زوار نے اپنے آفس میں اطلاع دے دی تھی ۔ اور ایک ہفتے تک وہ یہیں تھا ۔
اسے اپنے باپ کے مرنے کا اتنا زیادہ افسوس نہیں تھا جتنا افسوس اسے اپنی سوتیلی ماں کے بیوہ ہوجانے کا تھا۔
حالانکہ اس نے ماہین کو کبھی بھی اپنی ماں نہیں سمجھا تھا نہ ہی اسے ایسی کوئی خاص عزت دی تھی مگر پھر بھی وہ دکھی تھا کہ اس کا سہارا چلاگیا ۔
زوار رات گئے اپنے کمرے میں پہنچا تو سارے حالات و واقعات اس کی آنکھوں کے سامنے ایک فلم کی طرح چلنے لگی ۔
دو دن پہلے ہی اسے ماہین نے فون کیا تھا ۔ وہ لاہور میں جاب کے سلسلے میں رہایش پذیر تھا ۔ جبکہ اس کا گھر کراچی میں تھا ۔
ماہین کالنگ دیکھ کر اسے عجیب سا احساس ہواتھا جسے وہ کوئی بھی نام نہیں دے پایاتھا ۔ ماہین نے آج سے پہلے اسے کبھی فون نہیں کیاتھا ۔ اس لئے وہ بہت زیادہ حیران بھی ہوا تھا اور ایک ساتھ پریشان بھی ۔۔۔
''جی؟''اس نے سلام دعا کی لگی لپٹی کے بغیر ڈائریکٹ سوال کیا ۔
’’وہ۔۔۔ضض۔۔۔رار۔۔۔ضرار۔۔۔آپ پلیز آجائیں ۔۔۔‘‘وہ رو رہی تھی ۔ زوار ایک دم سیدھا ہوکر الرٹ ہوکر بیٹھ گیا ۔
’’کیا ہوا ہے ابا کو؟؟;‘‘وہ پریشان ہوگیاتھا ۔ وہ اکلوتا بیٹا تھا ۔ اور اپنے باپ سے بہت زیادہ اٹیچڈ تھا ۔
’’مم۔۔۔مجھے نہیں معلوم بس آپ آجائیں ۔ ‘‘وہ مسلسل رو رہی تھی ۔
’’زوار بیٹا۔۔۔‘‘ضرار حسین نے ماہین کے ہاتھ سے فون لے لیا تھا ۔
’’جی ابا؟''وہ متفکر ہواتھا لیکن ضرار حسین کی آواز سن کر اس کی جان میں جان آگئی تھی ۔
’’بیٹا چھٹی لے کر یہاں آجاءو کچھ دنوں کے لئے ۔ ‘‘وہ بہت ہی نحیف آواز میں بات کررہے تھے ۔ ان کی آواز سے کمزوری صاف جھلک رہی تھی ۔
’’ابا۔۔۔‘‘
’’بس بیٹا کوئی سوال نہیں ۔ آجاءو ۔ ‘‘انہوں نے ایک دم حکم سنا کر فون بند کردیا اور زاورنے اسی دن چھٹی کی درخواست لکھی اور ڈائیو و میں سوا ہوگیا، ۔ وہ اگلے دن شام کو کراچی پہنچ گیا ۔ وہ دروازے پہ پہنچا تو گھر کے باہر موجود کیاری میں سے جھانکتے نئے پودوں سے اسے اندازہ ہوا کہ اس اجاڑ ویران آنگن کو ماہین کے باہنر ہاتھوں نے خوب سینچا ہے ۔ وگرنہ ماہین کی آمد سے پہلے ان کے گھر کی کیاری میں صرف جھاڑ جھنکار ہی پائے جاتے تھے ۔ اس نے بیل پہ ہاتھ رکھا ۔ دروازہ ماہین نے ہی کھولا تھا ۔ اس کی لال سوجی ہوئی آنکھیں بتا رہی تھیں کہ معاملہ گڑ بڑ ہے ۔ اس کا دل کسی انہونی کے تحت زور سے دھڑکا تھا ۔
وہ اندر آیا ۔ گھر کی صاف صفائی اور رکھ رکھاوَ سے اندازہ ہورہاتھا کہ ماہین نے اس گھر کو پوری طرح سے اپنا لیاہے ۔ گھر میں ہر طرف خوب صورتی سے سجاوٹی اشیاء رکھی نظر آرہی تھیں ۔ کچھ پرانے شو پیس ہٹا دئیے گئے تھے لیکن زیادہ تر ابھی بھی اپنی جگہ پہ موجود تھے ۔ اس نے خاموشی سے ایک طرف اپنا بیگ رکھا اور ضرار حسین کے کمرے کی طرف بڑھ گیا ۔ ماہین سے سلام دعا خیر خیریت پوچھنے کی اس نے ضرورت محسوس کی اور نہ ہی ان کے درمیان اتنی بے تکلفی تھی کہ وہ ایسی باتیں ایک دوسرے سے کرتے ۔ وہ کمرے میں داخل ہوا تو بیڈ پہ سیدھے لیٹے ہڈیوں کے ڈھانچے کو پہچاننے سے تشویش اور حیرت میں مبتلا ہونے تک اس نے زیادہ وقت نہیں لیا ۔
’’ابا؟‘‘اس کے منہ سے بس اتنا ہی نکلا ۔ اور ایک آنسو اس کی دائیں آنکھ سے نکلا اور گال سے گردن کا سفر کرتا اس کے کالر کی آغوش میں جاسمایا ۔
’’زوار۔۔۔میرے بچے۔۔۔‘‘ضرار حسین نے بانہیں پھیلائیں اور وہ دوڑ کر ان میں سما گیا ۔
’’ابا یہ کیا ہوگیا ہے آپ کو؟‘‘وہ رو رہاتھا۔۔۔بلکہ بلک رہاتھا ۔
’’کچھ نہیں ہوا میں بالکل ٹھیک ہوں ۔ ‘‘
وہ لوگ کافی دیر تک ایک دوسرے سے چھوٹی موٹی باتیں کرتے رہے ۔ ضرار حسین کا ہر تھوڑی دیر میں سانس پھولنا شروع ہو جاتا ۔ ماہین دروازے پہ کھڑی ان کو لال آنسو بھری آنکھوں سے دیکھتی رہی ۔
’’ماہین زاور کے لئے کھانا لگا دو ۔ ‘‘
’’جی اچھا ۔ ‘‘ماہین کچن میں چلی گئی ۔
’’زوار بیٹا ۔ مجھے لگتا ہے کہ میرا آخری وقت آگیاہے ۔ ‘‘انہوں نے زاور کا ہاتھ تھام لیاتھا ۔
’’ایسا مت بولیں ابا ۔ میرے دل کو کچھ ہونے لگتاہے ۔ ‘‘اماں کے چلے جانے کے بعد انہوں نے ہی زوار کو پال پوس کر بڑا کیا تھا ۔
’’بیٹا میرے جانے کے بعد ماہین کا خیال رکھنا ۔ وہ بہت اچھی ہے ۔ اس نے میر ی بہت خدمت کی ہے ۔ ‘‘وہ اسے سمجھارہے تھے ۔ زوار سر جھائے سنتا رہا ۔ اس کی آنکھوں سے آنسو بہتے جارہے تھے ۔
اس کے منہ سے بس اتنا ہی نکل سکا:’’جی ابا ۔ ‘‘
’’بیٹا مجھے امید ہے کہ تم مجھے مایوس نہیں کرو گے ۔ ‘‘
دو دنوں میں ہی ضرار حسین جان لیوا ہارٹ اٹیک ہونے سے اللہ کو پیارے ہوگئے ۔
اب وہ تھا اور ماہین تھی اور سائیں سائیں کرتاگھر تھا۔۔۔
وہ سوچ میں گم تھا کہ ماہین کا خیال کیسے رکھے؟؟؟وہ دوسرے شہر میں جاب کرتا تھا اور ان کا گھر یہیں پہ تھا۔ اس کا ذہن متضاد سوچوں کی آماجگاہ بنا ہواتھا۔
ماہین ضرار حسین اپنی زندگی کے نشیب و فراز پہ غور کررہی تھی ۔ وہ ضرار حسین کے پڑوس کے گھر میں اپنی بیوہ والدہ کے ساتھ رہائش پذیر تھی ۔ ضرار حسین ان کے بہت کام آتے تھے ۔ وہ ان کے تمام باہر کے کام کردیاکرتے تھے ۔ یوں وہ ان کے گھر کے بہت قریب تھے ۔ ماہین کی والدہ اکثر بیمار رہتی تھیں ۔ مرنے سے پہلے انہوں نے ضرار حسین سے کچھ ایسے التجا و منت کی کہ ان کو مجبوراً ناچاہتے ہوئے بھی ماہین سے نکاح پڑھوانا پڑا ۔ وہ ماہین سے نکاح کے حق میں بالکل نہیں تھے کیونکہ وہ ان کے بیٹے سے بھی چند سال چھوٹی تھی مگر چونکہ زوار کی چند ماہ قبل ہی انہوں نے ا س کی ذاتی پسند سے منگنی کی تھی اس لئے وہ زوار سے بات نہ کرنے کی ہمت ہی نہ کرسکے ۔
یوں ماہین اپنی والدہ کے انتقال کے بعد ضرار حسین کے گھر میں شفٹ ہوگئی ۔ ماہین نے اپنی ماں کا گھر کرائے پہ دے دیا ۔
ضرار حسین نے زوار کو فون پر جب یہ خبر سنائی تو وہ سُن ہوکررہ گیا ۔ اس کے لئے یقین کرنا مشکل تھا کہ اس کے باپ نے پینسٹھ سال کی عمر میں ایک پچیس سال کی لڑکی سے شادی کرلی ہے جبکہ وہ خود ستائیس سال کاتھا ۔
’’کیا ہوا ہے ابا کو؟؟;‘‘وہ پریشان ہوگیاتھا ۔ وہ اکلوتا بیٹا تھا ۔ اور اپنے باپ سے بہت زیادہ اٹیچڈ تھا ۔
’’مم۔۔۔مجھے نہیں معلوم بس آپ آجائیں ۔ ‘‘وہ مسلسل رو رہی تھی ۔
’’زوار بیٹا۔۔۔‘‘ضرار حسین نے ماہین کے ہاتھ سے فون لے لیا تھا ۔
’’جی ابا؟''وہ متفکر ہواتھا لیکن ضرار حسین کی آواز سن کر اس کی جان میں جان آگئی تھی ۔
’’بیٹا چھٹی لے کر یہاں آجاءو کچھ دنوں کے لئے ۔ ‘‘وہ بہت ہی نحیف آواز میں بات کررہے تھے ۔ ان کی آواز سے کمزوری صاف جھلک رہی تھی ۔
’’ابا۔۔۔‘‘
’’بس بیٹا کوئی سوال نہیں ۔ آجاءو ۔ ‘‘انہوں نے ایک دم حکم سنا کر فون بند کردیا اور زاورنے اسی دن چھٹی کی درخواست لکھی اور ڈائیو و میں سوا ہوگیا، ۔ وہ اگلے دن شام کو کراچی پہنچ گیا ۔ وہ دروازے پہ پہنچا تو گھر کے باہر موجود کیاری میں سے جھانکتے نئے پودوں سے اسے اندازہ ہوا کہ اس اجاڑ ویران آنگن کو ماہین کے باہنر ہاتھوں نے خوب سینچا ہے ۔ وگرنہ ماہین کی آمد سے پہلے ان کے گھر کی کیاری میں صرف جھاڑ جھنکار ہی پائے جاتے تھے ۔ اس نے بیل پہ ہاتھ رکھا ۔ دروازہ ماہین نے ہی کھولا تھا ۔ اس کی لال سوجی ہوئی آنکھیں بتا رہی تھیں کہ معاملہ گڑ بڑ ہے ۔ اس کا دل کسی انہونی کے تحت زور سے دھڑکا تھا ۔
وہ اندر آیا ۔ گھر کی صاف صفائی اور رکھ رکھاوَ سے اندازہ ہورہاتھا کہ ماہین نے اس گھر کو پوری طرح سے اپنا لیاہے ۔ گھر میں ہر طرف خوب صورتی سے سجاوٹی اشیاء رکھی نظر آرہی تھیں ۔ کچھ پرانے شو پیس ہٹا دئیے گئے تھے لیکن زیادہ تر ابھی بھی اپنی جگہ پہ موجود تھے ۔ اس نے خاموشی سے ایک طرف اپنا بیگ رکھا اور ضرار حسین کے کمرے کی طرف بڑھ گیا ۔ ماہین سے سلام دعا خیر خیریت پوچھنے کی اس نے ضرورت محسوس کی اور نہ ہی ان کے درمیان اتنی بے تکلفی تھی کہ وہ ایسی باتیں ایک دوسرے سے کرتے ۔ وہ کمرے میں داخل ہوا تو بیڈ پہ سیدھے لیٹے ہڈیوں کے ڈھانچے کو پہچاننے سے تشویش اور حیرت میں مبتلا ہونے تک اس نے زیادہ وقت نہیں لیا ۔
’’ابا؟‘‘اس کے منہ سے بس اتنا ہی نکلا ۔ اور ایک آنسو اس کی دائیں آنکھ سے نکلا اور گال سے گردن کا سفر کرتا اس کے کالر کی آغوش میں جاسمایا ۔
’’زوار۔۔۔میرے بچے۔۔۔‘‘ضرار حسین نے بانہیں پھیلائیں اور وہ دوڑ کر ان میں سما گیا ۔
’’ابا یہ کیا ہوگیا ہے آپ کو؟‘‘وہ رو رہاتھا۔۔۔بلکہ بلک رہاتھا ۔
’’کچھ نہیں ہوا میں بالکل ٹھیک ہوں ۔ ‘‘
وہ لوگ کافی دیر تک ایک دوسرے سے چھوٹی موٹی باتیں کرتے رہے ۔ ضرار حسین کا ہر تھوڑی دیر میں سانس پھولنا شروع ہو جاتا ۔ ماہین دروازے پہ کھڑی ان کو لال آنسو بھری آنکھوں سے دیکھتی رہی ۔
’’ماہین زاور کے لئے کھانا لگا دو ۔ ‘‘
’’جی اچھا ۔ ‘‘ماہین کچن میں چلی گئی ۔
’’زوار بیٹا ۔ مجھے لگتا ہے کہ میرا آخری وقت آگیاہے ۔ ‘‘انہوں نے زاور کا ہاتھ تھام لیاتھا ۔
’’ایسا مت بولیں ابا ۔ میرے دل کو کچھ ہونے لگتاہے ۔ ‘‘اماں کے چلے جانے کے بعد انہوں نے ہی زوار کو پال پوس کر بڑا کیا تھا ۔
’’بیٹا میرے جانے کے بعد ماہین کا خیال رکھنا ۔ وہ بہت اچھی ہے ۔ اس نے میر ی بہت خدمت کی ہے ۔ ‘‘وہ اسے سمجھارہے تھے ۔ زوار سر جھائے سنتا رہا ۔ اس کی آنکھوں سے آنسو بہتے جارہے تھے ۔
اس کے منہ سے بس اتنا ہی نکل سکا:’’جی ابا ۔ ‘‘
’’بیٹا مجھے امید ہے کہ تم مجھے مایوس نہیں کرو گے ۔ ‘‘
دو دنوں میں ہی ضرار حسین جان لیوا ہارٹ اٹیک ہونے سے اللہ کو پیارے ہوگئے ۔
اب وہ تھا اور ماہین تھی اور سائیں سائیں کرتاگھر تھا۔۔۔
وہ سوچ میں گم تھا کہ ماہین کا خیال کیسے رکھے؟؟؟وہ دوسرے شہر میں جاب کرتا تھا اور ان کا گھر یہیں پہ تھا۔ اس کا ذہن متضاد سوچوں کی آماجگاہ بنا ہواتھا۔
--------------------------------------------------
یوں ماہین اپنی والدہ کے انتقال کے بعد ضرار حسین کے گھر میں شفٹ ہوگئی ۔ ماہین نے اپنی ماں کا گھر کرائے پہ دے دیا ۔
ضرار حسین نے زوار کو فون پر جب یہ خبر سنائی تو وہ سُن ہوکررہ گیا ۔ اس کے لئے یقین کرنا مشکل تھا کہ اس کے باپ نے پینسٹھ سال کی عمر میں ایک پچیس سال کی لڑکی سے شادی کرلی ہے جبکہ وہ خود ستائیس سال کاتھا ۔
قسط نمبر 2
بہرحال ماہین اور ضرار کی شادی کے بعد زوار حسین بہت کم اپنے گھر گیاتھا۔شاید ایک دو بار ہی گیاہوگیا۔ اسے ماہین کا سامنا کرنے میں دشواری پیش آتی تھی۔ وہ اس سے زیادہ یا کم کیا ضرورت کے تحت بھی بات کرنے سے کتراتا تھا۔
ماہین اس گھر میں خوش تھی۔ ضرار حسین اس کا ہر طریقے سے خیال رکھتے تھے۔انہوں نے تو اس کی تعلیم کا سلسلہ بھی دوبارہ شروع کروادیاتھا۔ وہ ہر طریقے سے اسے خود مختار دیکھنا چاہتے تھے۔ وہ اکثر اس سے زوار کے رویے کی معافی مانگتے تھے۔ اور وہ ہر بارنئے سرے سے شرمندگی محسوس کرتی تھی۔ ماہین کے حساب سے ضرار حسین نے اس سے نکاح کر کے اس پہ بہت بڑا احسان کیاتھا۔ اس نے اپنی بیوہ ماں کے ساتھ زندگی کے وہ تمام نشیب و فراز چھوٹی عمر میں ہی دیکھ لئے تھے جو اسے ضرار کا احسان ہمیشہ یاد رکھنے پہ مجبور کرتے تھے۔ اسے یاد تھا کہ کیسے اس کی بیوہ ماں کا لوگ فائدہ اٹھانے کی کوششیں کرتے تھے۔ اس کی ماں ایک بہادر اور مضبوط عورت تھی اس لئے وہ سخت جان بن کر اپنی اور ماہین کی حفاظت کرتی رہی مگر ماہین اپنی ماں کی طرح مضبوط اور بہادر نہیں تھی اسی لئے ا سکی ماں نے اسے تنہا چھوڑنا مناسب نہ سمجھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اسے اپنی ماں کا فیصلہ بالکل درست لگنے لگا۔ وہ اپنی ماں کی بھی احسان مند تھی جس کی دور اندیشی کی بدولت وہ اس دنیا میں تنہا در در کی ٹھوکریں کھانے سے بچ گئی تھی۔
چند دن پہلے ضرار کی طبیعت خراب ہوئی تو وہ ڈر گئی۔ اب اسے تنہائی سے خوف محسوس ہونے لگا تھا اور وہ ضرار کے ساتھ خود کو محفوظ تصورکرتی تھی۔ضرار کو وہ اوبر میں اسپتال لے گئی۔ واپسی میں وہ سارا راستہ روتی رہی کیونکہ ضرار اسپتال میں رہنے پہ رضامند نہیں تھے۔ وہ گھر واپسی کے لئے بضد تھے اور ماہین انہیں اس حالت میں گھر واپس لانا نہیں چاہتی تھی۔ گھر لوٹ کر آنے کے بعد انہوں نے ماہین سے کہا کہ زوار کو آنے کا کہو۔ یوں اگلے دن زوار وہاں پہنچ گیا اور اس سے اگلے دن صبح صبح ضرار حسین اس فانی جہان سے کوچ کر گئے۔
…………٭……٭……٭……٭…………
سوئم کے بعد زوار حسین سوچ میں پڑ گیا کہ ماہین کا کیا کرے؟ نہ اس کی ماں حیات تھی اور نہ ہی اس کا شوہر حیات تھا۔وہ بالکل اکیلی تھی۔اسے وکیل نے کال کرکے کہا وہ آرہاہے۔ وکیل آیا تو زورا نے اسے ڈرائنگ روم میں بٹھا دیا اور ماہین کو بلاکرلے آیا۔ ماہین ساتھ والے کمرے میں بیٹھ گئی اور وکیل اور زوار دروازے کے ساتھ ہوکر بیٹھ گئے تاکہ ماہین ان کی باتیں آرام سے سن سکے۔
ضرار حسین نے اپنی وصیت پہلے ہی بنوا لی تھی۔ انہوں نے یہ مکان ماہین کے نام کردیاتھا اور ان کا ایک فلیٹ اور ایک دوکان تھی جو انہوں نے زوارکے نام کردیاتھا۔
وکیل صاحب کے رخصت ہونے کے بعد زوار نے اپنی پیکنگ کر لی اور خولہ کو کال ملالی۔
”کیسے ہو زوار؟“
”میں ٹھیک ہوں تم کیسی ہو؟“
”میں بھی ٹھیک ہوں۔“
”خولہ مجھے تم سے ایک فیور چاہئے تھا؟“اس نے جھجھکتے ہوئے کہا۔
”ہاں ہاں کہو ناں کیا کام ہے؟“
”خولہ وہ ماہین یہاں بالکل اکیلی ہیں ……کیا تم کچھ دنوں کے لئے یہاں آسکتی ہو؟“
”میں ……؟“وہ حیران ہوئی:”لیکن وہ میرا سسرال ہے زوار……میں ایسے کیسے وہاں آجاؤں؟“وہ پریشان ہوئی تھی۔
”دیکھو خولہ مجھے واپس جانا ہے۔ لیکن ماہین عدت میں ہیں انہیں اکیلے کیسے چھوڑ دوں؟کچھ بھی ہو وہ میری ماں ہے۔“
”اچھا تم جارہے ہو؟“
”ہاں بس آج رات کو نکلنے کی تیاری ہے میری۔“
”اچھا میں امی سے بات کر کے بتاتی ہوں۔“خولہ نے اپنی ماں سے اجازت لے لی تھی اور وہ گھر بھی پہنچ گئی تھی۔ اسے گھر میں ماہین کے ساتھ چھوڑ کر زاور خود لاہور کے لئے روانہ ہوگیا۔
…………٭……٭……٭……٭…………
وہ اکثر خولہ سے بات کرتا رہتا تھا۔ ماہین کے متعلق اس کی فکر مندی کو خولہ نے بہت زیادہ محسوس کیاتھا اسی لئے اس نے زاور کو ایک مخلصانہ مشورہ دیا تھا۔لیکن زوار اس کا مشورہ سن کر ہتھے سے ہی اکھڑ گیاتھا۔
”تم پاگل تو نہیں ہوگئیں؟ ایسا کیسے ہوسکتا ہے؟“وہ غصے سے بولا۔
”اگر تم غصہ نہ کرو تو ایسا ہوسکتا ہے۔ تم جذباتی ہو رہے ہو زوار۔“خولہ نے آرام سے کہا۔
”جو تم کہہ رہی ہو اس پہ تو لوگ خون کی ندیاں بہا دیتے ہیں اور میں غصہ بھی نہ کروں َجذباتی بھی نہ ہوں؟“زوار کا غصہ کم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہاتھا۔
”دیکھو زوار جب تک تم اس معاملے پہ ٹھنڈے دماغ سے نہیں سوچو گے تب تک اس معاملے کا کوئی حل نہیں نکل سکتا۔ٹرسٹ می زوار میں نے اس بارے میں امی سے بھی بات کی تھی ان کو بھی میرا مشورہ بہت ہی اچھا لگا۔ انہوں نے تو کہا کہ یہ ایک نیک کام ہے۔ بس ماہین کی عدت مکمل ہوجانے دو۔“اس نے تفصیل بتائی تو زوار نے غصے سے کہا:”آئندہ مجھ سے ایسی کوئی بات مت کرنا ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔“زوار نے غصے سے موبائل زور سے بند کیا۔
زوار دیر تک خولہ کی بات پہ کڑھتا رہا۔وہ سارا دن آفس میں سب پہ اپنا غصہ نکالتا رہا۔نجانے اس میں اتنا غصہ کہاں سے آگیا تھا ورنہ وہ تو بالکل ٹھنڈے مزاج کا شخص تھا۔
…………٭……٭……٭……٭…………
”سر میں کراچی برانچ میں ا پنا ٹرانسفر کروانا چاہتا ہوں۔“رات کو خولہ نے اسے بتایا تھا کہ وہ اپنے گھر واپس جا رہی ہے۔ اس کے امتحان ہونے والے تھے۔ گھر پہ ماہین اکیلی تھی۔ اور وہ بہت پریشان تھا کیونکہ وہ لاہور میں تھا۔
”کیوں زوار خیریت؟“باس حمدان اختر نے پوچھا۔
”جی سر بس میری والدہ گھر میں اکیلی ہیں۔ والد کا انتقال ہوگیا ہے۔ اس لئے میں کراچی ٹرانسفر کروانا چاہتا ہوں۔“
”تو اس میں مشکل کیا ہے؟آپ اپنی والدہ کو یہیں لے آئیں؟“
”نہیں سر وہاں ان کا گھر ہے وہ کبھی بھی نہیں آئیں گی۔ ان کی امی کا گھر بھی وہیں ہے ناں اس لئے۔ان کی بہت ساری یادیں وابستہ ہیں وہاں۔“
”اچھا میں دیکھتا ہوں کہ کراچی برانچ میں جگہ ہے یا نہیں۔“حمدان اختر نے نمبر ڈائل کیا اور بات کی۔
فون بند کر کے انہوں نے بتایا:”زوار ایک ویکینسی نکل رہی ہے وہاں پہ لیکن وہ لڑکا ایک مہینے بعد ریزائن کررہاہے۔ اس لئے آپ ایک مہینے بعد جوائننگ لے سکتے ہیں وہاں۔“
”بہت بہت شکریہ سر۔میں آپ کا احسان مند رہوں گا۔“زوار نے ممنون لہجے میں کہا اور مصافحہ کرتا باس کے کیبن سے باہر نکل آیا۔اس کے سر سے کوئی بہت بڑا سا بوجھ اتر گیاتھا۔
…………٭……٭……٭……٭…………
زوار اتوار کو گھر آیاتھا۔ ماہین سے رسمی علیک سلیک کے بعد اس نے مزید کوئی بات نہیں کی تھی۔ وہ اپنے کمرے میں سو رہاتھا جب اس کے موبائل کی بل بجی۔ اس نے نیند کی حالت میں ہی ہاتھ بڑھا کر موبائل کو آنکھیں میچ کر دیکھا۔
سعدیہ ہاشم کا نام دیکھ کر وہ فوراً سے اٹھ کر بیٹھ گیااور فون کان سے لگا لیا۔
”السلام اعلیکم کیسی ہیں آنٹی آپ؟“
”وعلیکم السلام بیٹا جیتے رہو۔ میں ٹھیک ہوں تم کیسے ہو؟“
”میں بھی ٹھیک ہوں آنٹی۔“
”کب پہنچے ہو تم کراچی؟“
ؔؔؔؔ”بس آج ہی آیا ہوں صبح پہنچا ہوں۔“
”پھر دوپہر کا کھانا ہماری طرف کھاؤ آج۔“
”دوپہر کو تو میں بزی ہوں آنٹی۔میں رات کے کھانے پہ چکر لگاتا ہوں۔“
”چلو ٹھیک ہے۔میں انتظار کروں گی۔“
رات کے کھانے پہ وہ ہاشم مبین کے ساتھ ڈائننگ ٹیبل پہ بیٹھا ہوا تھا۔ سعدیہ اور خولہ دونوں میز پہ کھانا چُن رہی تھیں۔
سعدیہ ہاشم نے کھانے کے دوران ہاشم مبین کو بات شروع کرنے کا اشارہ کیا۔انہوں نے گلا کھنکھار کر بات کا آغاز کیا۔
”زوار بیٹا کھانا کیسا بنا ہے؟“
”بہت اچھا ہے انکل۔“زوار نے کھاتے کھاتے جواب دیا۔
”ارے بیٹا یہ کباب لو ناں میں نے نئی ریسیپی ٹرائی کی ہے۔“سعدیہ نے کباب کی پلیٹ اس کے سامنے کرتے ہوئے کہا۔
”بیٹا تم احمد کو جانتے ہو؟“ہاشم مبین نے نوالہ منہ میں رکھتے ہوئے عام سے لہجے میں پوچھا۔
”کون احمد؟“زوار نے پوچھا۔ اسے واقعی کوئی احمد یاد نہیں آرہاتھا۔
”ارے منگنی پہ تو ملاقات ہوئی تھی احمد سے۔ زاہد کا بھائی ہے۔ میرے آفس میں کام کرتا ہے۔ جونیئر ہے لیکن بریلینٹ۔ اچھا لڑکا ہے۔“انہوں نے بات ختم کرکے اسے کن اکھیوں سے دیکھا تو وہ ناسمجھی سے ان کو دیکھنے لگا:”تو……؟“
”خولہ نے تم سے بات کی تو تھی زوار۔“سعدیہ نے برا مناتے ہوئے کہا۔
”کون سی بات کی تھی خولہ نے……؟“اس نے تعجب سے خولہ کو دیکھا جو مزے سے اپنی پلیٹ میں موجود کھانے سے انصاف فرما رہی تھی:”میں کچھ سمجھا نہیں۔ آپ کوگ کس سلسلے میں با ت کر رہے ہیں؟“
”دیکھو بیٹا۔ہم جانتے ہیں کہ تمہارے لئے یہ ایک مشکل مرحلہ ہے لیکن ہم لوگ بھی ایک جوان بچی کے والدین ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ ا ب ان حالات میں تمہیں ماہین بھابھی کے لئے کوئی مناسب فیصلہ کرلینا چاہئے۔“ہاشم مبین نے دو ٹوک بات کردی۔زوار کا ہاتھ نوالے سمیت ہوا میں ہی معلق رہ گیاتھا۔ اس نے فوراً سے نوالہ پلیٹ میں واپس رکھا اورپلیٹ کو ذرا سا کھسکا کر پرے کردیا۔
قسط نمبر 3
اس نے غصے سے خولہ کو دیکھا تھا جو بالکل سر نہیں اٹھا رہی تھی بلکہ وہ تو بالکل ریلیکس کھانے سے انصاف کرنے میں مصروف تھی۔
اس نے غصے سے خولہ کو دیکھا تھا جو بالکل سر نہیں اٹھا رہی تھی بلکہ وہ تو بالکل ریلیکس کھانے سے انصاف کرنے میں مصروف تھی۔
”وہ میری ذمہ داری ہیں۔ آپ لوگ ان کے بارے میں سوچ کر پریشان مت ہوں۔“وہ ٹشو پیپر سے ہاتھ پونچھتا ہوا کرسی کھسکاتا اٹھ کھڑا ہوا۔
”بیٹھ جائیے زوار میاں ……“ہاشم مبین نے زرا سخت لہجے میں کہا تو زوار منہ بناتا بیٹھ گیا۔
”دیکھو بیٹا میں ماہین بھابھی کی عمر کو لے کر بہت زیادہ پریشان ہوں۔ہماری خولہ بھی ان سے دو تین ماہ بڑی ہی ہے۔ وہ ابھی عمر کے اس حصے میں ہیں جہاں وہ اکیلے زندگی نہیں گزار سکتیں۔ تمہیں ان کے بارے میں درست وقت پہ فیصلہ لینا ہی ہوگا۔“
ہاشم مبین اسے دیکھتے ہوئے دھیمے انداز میں بات کررہے تھے۔
وہ مٹھیاں بھینچے ان کی بات سن رہاتھا۔ اسے خولہ سے زیادہ خود پہ غصہ آرہاتھا کہ وہ ہاشم مبین کے کہنے پہ رکا ہی کیوں؟
ہاشم مبین کے بعد سعدیہ ہاشم نے بھی اسے کافی دیر تک سمجھایا وہ گاہے بگاہے ایک نظر خولہ پہ بھی ڈال رہاتھا مگر وہ اس کی طرف بالکل نہیں دیکھ رہی تھی بلکہ اپنی پلیٹ پہ جھکی رہی۔
سعدیہ اور ہاشم دونوں کا لیکچر سن کر وہ وہاں سے نکلا تو غصے کے مارے اسے کار کی رفتار پہ بالکل کنٹرول نہیں رہا۔ وہ ریش ڈرائیونگ کرتا تیس منٹ کا فاصلہ پندرہ منٹ میں طے کر کے گھر پہنچا اور اپنے کمرے میں پہنچ کر دھاڑ سے دروازہ بند کرکے اپنے بیڈ کی چادر سب سے پہلے کھنیچ کر الگ کی اور اسے زور سے زمین پہ پٹخا۔ پھر اس نے ٹیبل پہ رکھا گلاس اٹھایا اور اسے دیوار میں دے مارا۔اسی لمحے ماہین نے اس کا دروازہ کھٹکھٹایا۔
"زوار کیا ہورہاہے اندر؟ سب ٹھیک ہے ناں؟"
وہ ایک دم چونکا وہ بھول گیاتھا کہ گھر میں اس کے علاوہ ماہین بھی موجود ہے۔
اس نے اپنے اعصاب کو ڈھیلا چھوڑا اور ایک گہری سانس خارج کرتے ہوئے بولا۔
"جی سب ٹھیک ہے۔ گلاس چھوٹ گیاتھا ہاتھ سے بس۔"
"اسے ہاتھ مت لگائیے گا۔ کانچ چبھ جائے گا۔ صبح میں خود صاف کردوں گی۔" ماہین کے کہنے پہ اس نے "جی اچھا" کہہ کر اسے ٹالنے میں ہی عافیت جانی اور سر پکڑ کر بیڈ پہ بیٹھ گیا۔
ہاشم مبین اور سعدیہ ہاشم کی باتیں سوچتے سوچتے اس کا ذہن خود بخود مطمئن ہوتا غنودگی کی کیفیت میں چلاگیا۔
وہ مٹھیاں بھینچے ان کی بات سن رہاتھا۔ اسے خولہ سے زیادہ خود پہ غصہ آرہاتھا کہ وہ ہاشم مبین کے کہنے پہ رکا ہی کیوں؟
ہاشم مبین کے بعد سعدیہ ہاشم نے بھی اسے کافی دیر تک سمجھایا وہ گاہے بگاہے ایک نظر خولہ پہ بھی ڈال رہاتھا مگر وہ اس کی طرف بالکل نہیں دیکھ رہی تھی بلکہ اپنی پلیٹ پہ جھکی رہی۔
سعدیہ اور ہاشم دونوں کا لیکچر سن کر وہ وہاں سے نکلا تو غصے کے مارے اسے کار کی رفتار پہ بالکل کنٹرول نہیں رہا۔ وہ ریش ڈرائیونگ کرتا تیس منٹ کا فاصلہ پندرہ منٹ میں طے کر کے گھر پہنچا اور اپنے کمرے میں پہنچ کر دھاڑ سے دروازہ بند کرکے اپنے بیڈ کی چادر سب سے پہلے کھنیچ کر الگ کی اور اسے زور سے زمین پہ پٹخا۔ پھر اس نے ٹیبل پہ رکھا گلاس اٹھایا اور اسے دیوار میں دے مارا۔اسی لمحے ماہین نے اس کا دروازہ کھٹکھٹایا۔
"زوار کیا ہورہاہے اندر؟ سب ٹھیک ہے ناں؟"
وہ ایک دم چونکا وہ بھول گیاتھا کہ گھر میں اس کے علاوہ ماہین بھی موجود ہے۔
اس نے اپنے اعصاب کو ڈھیلا چھوڑا اور ایک گہری سانس خارج کرتے ہوئے بولا۔
"جی سب ٹھیک ہے۔ گلاس چھوٹ گیاتھا ہاتھ سے بس۔"
"اسے ہاتھ مت لگائیے گا۔ کانچ چبھ جائے گا۔ صبح میں خود صاف کردوں گی۔" ماہین کے کہنے پہ اس نے "جی اچھا" کہہ کر اسے ٹالنے میں ہی عافیت جانی اور سر پکڑ کر بیڈ پہ بیٹھ گیا۔
ہاشم مبین اور سعدیہ ہاشم کی باتیں سوچتے سوچتے اس کا ذہن خود بخود مطمئن ہوتا غنودگی کی کیفیت میں چلاگیا۔
----------------------------------------------
کسی صاحب نے کولر میں پانی ختم ہوجانے کا اعلان کیا تو زوار نے سپارہ میز پہ رکھا اور نیچے چلا آیا۔
سیڑھیوں کے پاس پہنچ کر اس نے خولہ کو فون کیا۔ خولہ آئی تو اس نے کولر اس کے حوالے کیا۔اور ایک سیڑھی پہ بیٹھ کر انتظار کرنے لگا کہ کولر بھر کر واپس آجائے تو وہ کولر سمیت اوپر چلاجائے۔تبھی دو خواتین اپنی چپلیں ڈھونڈتی باتیں کرتی ہوئی اسے سنائی دیں۔
"پتہ نہیں ماہین اس زوار کے ساتھ کیسے رہتی ہے؟ "
"ہاں بہن مجھے بھی کچھ سمجھ نہیں آرہا کہ سوتیلے بیٹے کے ساتھ کوئی عورت کیسے رہ سکتی ہے؟"
"مجھے تو دال میں کچھ کالا لگتا ہے۔"
"کیا مطلب؟"
"مطلب یہ کہ بیٹا بھی جوا ن ہے اور یہ بیوہ خود بھی بالکل جوان ہے۔ ارے بھئی سمجھا کرو ناں"
"ہاں۔۔۔۔کہتی تو تم بالکل ٹھیک ہو۔"
اب ان دونوں خواتین کا رخ دروازے کی طرف تھا وہ دونوں دروازے سے باہر نکلتے نکلتے بھی بہت کچھ کہہ رہی تھیں لیکن زوار کے کان جیسے سُن ہو گئے تھے۔ لوگ ایسی غلیظ سوچ رکھتے ہیں اسے ہرگز بھی اندازہ نہیں تھا۔ لیکن اب اس کی آنکھیں کھل گئیں تھیں۔اسے لوگوں کی باتیں سن کر شدید دھچکا لگاتھا۔ وہ تو ہمیشہ ہی ماہین کو عزت و احترام کی نظر سے دیکھتا آیاتھا۔ اس نے کبھی غور سے ماہین کو نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھاتھا۔ کیونکہ وہ اس کی ماں تھی۔
خولہ نے اسے تھوڑی دیر بعد کولر لا کر دیا اور وہ چپ چاپ کولر پکڑے سیڑھیاں چڑھنے لگا۔ اسے ایسا محسوس ہورہاتھا کہ جیسے ہر سیڑھی اوپر چڑھتے ہوئے اس کا پائوں زمین کے اندر دھنستا جارہاتھا۔
وہ آخری سیڑھی پہ پہنچا تو اسے اپنے محلے داروں کی آوازیں سنائی دینے لگیں۔
"زوار کو بھابھی کے ساتھ رہنا نہیں چاہئے۔"
"مجھے نہیں سمجھ آتی کہ یہ دونوں ساتھ کیوں رہ رہے ہیں ایک ہی چھت کے نیچے۔"
"بیٹے نے باپ کی عزت کا زرا بھی پاس نہیں رکھا۔"
"آج کل کا زمانہ ہی خراب ہے کسی کو کسی رشتے کی حرمت کا احساس نہیں ہے۔"
زوار کولر میں موجود ٹھنڈے پانی کی طرح منجمد ہوگیاتھا۔ اس کا دل چاہا کہ کولر کو وہیں زمین میں دے مارے اور وہاں سے بھاگ جائے لیکن یہ گھر اس کا تھا وہ یہاں سے کیوں جائے۔
وہ دھیمے قدموں سے چلتا ہوا چھت میں داخل ہوا تو ایک دم وہاں سناٹا چھا گیا۔ وہ خاموشی سے اپنی جگہ پہ آکر بیٹھ گیا اور سپارہ پڑھنے لگا۔سپارہ پڑھتے ہوئے کئی بار اس کی آنکھیں بھیگیں۔۔۔ بلکہ بار بار بھیگیں ۔۔۔ہر بار وہ آنکھیں رگڑ کر اورضبط کرنے کے لئے زیادہ ہل ہل کر سپارہ پڑھتا رہا۔قرآن خوانی اور کھانے سے فارغ ہونے کے بعد جب سب لوگ رخصت ہوگئے تو اس نے خولہ اور اس کے امی ابو کو بصد اصرار روک لیا۔ہاشم مبین نے اسے تھپک کر تسلی دی اور اس کی بات مان کر رک گئے۔اس رات ہاشم مبین کے پہلو میں سوتے ہوئے اس نے خود کو کہتے سنا۔"انکل میں ماہین کی شادی کروانا چاہتا ہوں۔"
ہاشم مبین تو خوشی سے نہال ہی ہوگئے۔انہوں نے اس کے اس بروقت فیصلے کو خوب سراہا اور اس سے بہت دیر تک باتیں کرتے رہے۔باتیں کرتے کرتے دونوں سو گئے۔ ضرار کے انتقال کے بعد یہ پہلا دن تھا جب زوار حسین اتی گہری اور پرسکون نیند سویاتھا۔
------------------------------------------
اگلے روز جب وہ لوگ رخصت ہونے لگے تو زوار پہلے ہی ہاشم مبین کے ساتھ باہر نکل گیا اور ان سے کہا کہ وہ ماہین کے لئے مناسب رشتہ کی تلاش میں اس کی مدد کریں۔ ہاشم مبین نے بخوشی حامی بھر لی۔ زوار چاہتا تھا کہ ماہین کی عدت ختم ہوتے ہی اس کی شادی ہوجائے۔
وہ سب زوار کے فیصلے سے بہت زیادہ مطمئن اور خوش ہوئے۔
ان سب کو رخصت کر کے زوار اپنے کمرے میں آیا تو اسے خولہ کا میسیج ملا:"زوار ماہین سے کب بات کرو گے؟"
"لنچ کے بعد کوشش کرتا ہوں اُن سے بات کرنے کی۔"
"امی کہہ رہی ہیں کہ عدت ختم ہونےتک ماہین سے کوئی بات مت کرو۔ عدت ختم ہونے دو پھر آرام سے بات کرنا۔" خولہ کا میسیج پڑھ کر وہ دیر تک اس بارے میں سوچتا رہا۔
اسے سعدیہ ہاشم کی عقل مندی اچھی لگی۔ وہ دل ہی دل میں خدا کا شکر ادا کررہاتھا کہ اسے اتنے اچھے لوگ ملے ہیں جو نہ صرف اس کے متعلق سوچتے ہیں بلکہ اس سے جڑے رشتوں کے متعلق بھی اچھی سوچ رکھتے ہیں۔
اس نے خولہ کو اوکے کا میسیج بھیجا اور خود لیپ ٹاپ کھول کر اپنے کام میں مصروف ہوگیا۔
ان سب کو رخصت کر کے زوار اپنے کمرے میں آیا تو اسے خولہ کا میسیج ملا:"زوار ماہین سے کب بات کرو گے؟"
"لنچ کے بعد کوشش کرتا ہوں اُن سے بات کرنے کی۔"
"امی کہہ رہی ہیں کہ عدت ختم ہونےتک ماہین سے کوئی بات مت کرو۔ عدت ختم ہونے دو پھر آرام سے بات کرنا۔" خولہ کا میسیج پڑھ کر وہ دیر تک اس بارے میں سوچتا رہا۔
اسے سعدیہ ہاشم کی عقل مندی اچھی لگی۔ وہ دل ہی دل میں خدا کا شکر ادا کررہاتھا کہ اسے اتنے اچھے لوگ ملے ہیں جو نہ صرف اس کے متعلق سوچتے ہیں بلکہ اس سے جڑے رشتوں کے متعلق بھی اچھی سوچ رکھتے ہیں۔
اس نے خولہ کو اوکے کا میسیج بھیجا اور خود لیپ ٹاپ کھول کر اپنے کام میں مصروف ہوگیا۔
---------------------------------------------
کراچی برانچ میں ٹرانسفر ہونے کے بعد سے اس کا آفس کا کام کچھ زیادہ ہی بڑھ گیاتھا۔ لاہور برانچ میں پھر بھی وہ اپنے لئے کچھ نہ کچھ وقت نکال ہی لیتا تھا لیکن یہاں ایک تو ماحول کی وجہ سے اسے ایڈجسٹ کرنے میں مشکل پیش آرہی تھی اور دوسرا یہاں کے باس کا مزاج بلکل اکھڑ تھا۔ اس کا باس کافی کھڑوس واقع ہوا تھا۔ اسے یہاں شفٹ ہوئے کافی دن ہوچکے تھے لیکن اس کا باس مطمئن ہونے کا نام ہی نہیں لیتا تھا۔ جبکہ زوار اپنی سو فی صد کارکردگی پیش کرتا تھا۔ وہ رات گئے تک آفس میں ہی موجود رہتا تھا۔ سب سے پہلے آفس آتا تھا اور سب سے آخر میں واپس جاتا تھا لیکن وہ اپنے باس کو خوش کرنے میں ناکامیاب رہاتھا۔
وہ سنجیدگی کے ساتھ واپس لاہور برانچ میں ٹرانسفر کے متعلق سوچ بچار کررہاتھا۔
جبھی اس کے موبائل کی بیل بجی۔اس نے بے زاری سے فون کی طرف دیکھا۔ سعدیہ ہاشم کا نام اور نمبر دیکھ کر اس نے ایک گہری سانس لیا اور ٹائی کی گرھہ ڈھیلی کرتے ہوئے فون کان سے لگا کر سلام دعا کرنے لگا۔
سلام دعا کے بعد سعدیہ ہاشم نے چہکتے ہوئے کہا:"ارے بیٹا کتنے دن ہوگئے تم نے چکر ہی نہیں لگایا۔ خولہ بھی امتحان سے فارغ ہوگئی ہے۔ کیوں نہ آج رات تم ڈنر پہ آجائو؟"
"آج؟" اس نے آج کے لفظ پہ زور دینے کی حد ہی کردی تھی۔
وہ سنجیدگی کے ساتھ واپس لاہور برانچ میں ٹرانسفر کے متعلق سوچ بچار کررہاتھا۔
جبھی اس کے موبائل کی بیل بجی۔اس نے بے زاری سے فون کی طرف دیکھا۔ سعدیہ ہاشم کا نام اور نمبر دیکھ کر اس نے ایک گہری سانس لیا اور ٹائی کی گرھہ ڈھیلی کرتے ہوئے فون کان سے لگا کر سلام دعا کرنے لگا۔
سلام دعا کے بعد سعدیہ ہاشم نے چہکتے ہوئے کہا:"ارے بیٹا کتنے دن ہوگئے تم نے چکر ہی نہیں لگایا۔ خولہ بھی امتحان سے فارغ ہوگئی ہے۔ کیوں نہ آج رات تم ڈنر پہ آجائو؟"
"آج؟" اس نے آج کے لفظ پہ زور دینے کی حد ہی کردی تھی۔
" ہاں بیٹا آج۔۔۔"
"نہیں آنٹی آج تو بہت مشکل ہے۔"اس نے بے زاری سے ٹیبل پہ سر رکھا تھا۔
"چلو تو کوئی بات نہیں ہے کل آجائو۔"
"سب خیر ہے ناں آنٹی؟" وہ ان کی ایمرجنسی کو نوٹ کرتے ہوئے پوچھ بیٹھا۔
"ہاں بیٹا سب خیر ہے بس وہ ہاشم کے ایک دوست کے بیٹے سے تمہیں ملوانا ہے۔ ان کو بھی پھر ہم کل ہی بلوا لیں گے ناں۔"
"ماہین کے لئے؟"
"ہاں بیٹا ۔۔۔ بس اب عدت ختم ہونے میں دس ہی دن رہ گئے ہیں تو میں نے سوچا کہ پہلے تم مل لو۔ پھر عدت ختم ہونے کے بعد ماہین سے بات کرلینا۔ ۔"
"آنٹی۔۔۔۔ مجھے لگتا ہے۔۔۔ کہ ہمیں ماہین کو کچھ وقت دینا چاہئے۔" وہ ہچکچاتے ہوئے بولا۔
"بیٹا میرا بھی یہی ماننا ہے کہ ماہین کو کچھ وقت دینا چاہئے۔۔۔ اور یہ عدت کا وقت ہم نے نہیں اللہ کریم نے اسے خود ہی دے دیاہے۔۔۔ہم لوگوں کے منہ نہیں بند کرسکتے بیٹا۔۔۔ صرف تم ہی نہیں ہم نے بھی بہت کچھ سنا ہے اور۔۔۔۔" وہ ایک دم سے خاموش ہوگئیں۔
"اور؟" وہ ایک دم جھٹکا کھا کر سیدھا ہواتھا۔
"سوئم والے دن سے ماہین بھی۔۔۔۔سن ہی رہی ہے۔۔۔۔کسی کی بھی زبان بند نہیں کی جاسکتی بیٹا۔۔۔۔دل پہ پتھر رکھ کر تھوڑا سخت فیصلہ کرلو صرف تمہاری ہی نہیں ماہین کی بھی زندگی سنور جائے گی۔"
"کیا کہہ رہے تھے لوگ اُنہیں؟" اس کی جیسے سوئی اٹک گئی تھی۔۔۔ آنکھوں میں سرخی نمایاں نظر آنے لگی تھی۔
"بیٹا ان فضول باتوں میں پڑنے کے بجائے آگے کی سوچو۔۔۔ ہم سب نے بھی وہی کچھ سنا جو تم نے سنا ہے۔۔۔بس اب ان باتوں کو رہنے دو کوئی ان باتوں کو دہرا کر خود کو تکلیف میں مبتلا نہیں کرنا چاہتا۔"
وہ مٹھیاں بھینچے سب سن رہاتھا۔۔۔اس کی زبان خاموش ہوگئی تھی جیسے تالا لگ گیاہو۔۔۔ماتھے کی رگیں تن گئی تھیں۔
"زوار ؟"
"جی آنٹی؟"
"پھر تم کب آئو گے بیٹا؟"
"آج۔۔۔" اس نے فیصلہ کن انداز میں کہا ۔۔۔
غصہ کے مارے اس کے حواس پہ کپکپی طاری ہوگئی تھی۔ وہ واش روم سے فریش ہوکر آیا تو ذرا طبیعت میں بہتری محسوس کی۔ وہ جلدی جلدی کام نمٹانے لگا تاکہ وقت سے ہاشم مبین کے گھر پہنچ سکے۔
شام کو وہ آفس سے سیدھا ہاشم مبین کے گھر پہنچا۔ اس نے ماہین کو میسیج کر دیاتھا کہ وہ ہاشم کے گھر جارہاہے تاکہ وہ پریشان نہ ہو۔
ہاشم مبین کے گھر آئے ابھی اسے آدھا گھنٹہ ہی گزرا تھا کہ ہاشم مبین کے دوست نے فون کر کے بتایا کہ وہ پہنچ گئے ہیں۔ ہاشم مبین ان کو لینے گیٹ پہ گئے تو ان کے قدموں کی آوازیں قریب آتی محسوس کرکے زوار اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہواتاکہ ان کا استقبال کرسکے۔
اندر آنے والے دونوں نفوس کو دیکھ کر زوار کی ساری گرمجوشی ہوا ہوگئی۔۔۔ وہ ان کو دیکھ کر حیران رہ گیا۔
"اور؟" وہ ایک دم جھٹکا کھا کر سیدھا ہواتھا۔
"سوئم والے دن سے ماہین بھی۔۔۔۔سن ہی رہی ہے۔۔۔۔کسی کی بھی زبان بند نہیں کی جاسکتی بیٹا۔۔۔۔دل پہ پتھر رکھ کر تھوڑا سخت فیصلہ کرلو صرف تمہاری ہی نہیں ماہین کی بھی زندگی سنور جائے گی۔"
"کیا کہہ رہے تھے لوگ اُنہیں؟" اس کی جیسے سوئی اٹک گئی تھی۔۔۔ آنکھوں میں سرخی نمایاں نظر آنے لگی تھی۔
"بیٹا ان فضول باتوں میں پڑنے کے بجائے آگے کی سوچو۔۔۔ ہم سب نے بھی وہی کچھ سنا جو تم نے سنا ہے۔۔۔بس اب ان باتوں کو رہنے دو کوئی ان باتوں کو دہرا کر خود کو تکلیف میں مبتلا نہیں کرنا چاہتا۔"
وہ مٹھیاں بھینچے سب سن رہاتھا۔۔۔اس کی زبان خاموش ہوگئی تھی جیسے تالا لگ گیاہو۔۔۔ماتھے کی رگیں تن گئی تھیں۔
"زوار ؟"
"جی آنٹی؟"
"پھر تم کب آئو گے بیٹا؟"
"آج۔۔۔" اس نے فیصلہ کن انداز میں کہا ۔۔۔
غصہ کے مارے اس کے حواس پہ کپکپی طاری ہوگئی تھی۔ وہ واش روم سے فریش ہوکر آیا تو ذرا طبیعت میں بہتری محسوس کی۔ وہ جلدی جلدی کام نمٹانے لگا تاکہ وقت سے ہاشم مبین کے گھر پہنچ سکے۔
-------------------------------------
شام کو وہ آفس سے سیدھا ہاشم مبین کے گھر پہنچا۔ اس نے ماہین کو میسیج کر دیاتھا کہ وہ ہاشم کے گھر جارہاہے تاکہ وہ پریشان نہ ہو۔
ہاشم مبین کے گھر آئے ابھی اسے آدھا گھنٹہ ہی گزرا تھا کہ ہاشم مبین کے دوست نے فون کر کے بتایا کہ وہ پہنچ گئے ہیں۔ ہاشم مبین ان کو لینے گیٹ پہ گئے تو ان کے قدموں کی آوازیں قریب آتی محسوس کرکے زوار اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہواتاکہ ان کا استقبال کرسکے۔
اندر آنے والے دونوں نفوس کو دیکھ کر زوار کی ساری گرمجوشی ہوا ہوگئی۔۔۔ وہ ان کو دیکھ کر حیران رہ گیا۔
قسط نمبر 4
"ارے زوار صاحب آپ یہاں؟" حمدان اختر نے گرمجوشی سے زوار سے مصافحہ کیا جبکہ ان کا بیٹا زوار کا حالیہ کھڑوس باس معاویہ حمدان ابرو اچکائے اسے دیکھنے لگا۔
"جی سر کیسے ہیں آپ؟یہ میرے سسر ہیں۔" زوار نے گرمجوشی سے ان سے مصافحہ کیا تھا۔ وہ اپنے باس کا لاڈلا ایمپلائی رہاتھا۔اسے خود بھی اپنے باس سے عقیدت تھی۔
"یہ میرا بیٹا ہے معاویہ۔۔۔تم تو جانتے ہی ہوگے؟"
"جی سر اچھی طرح سے جانتا ہوں۔" زوار نے نا چاہتے ہوئے بھی مصافحہ کرنے کے لئے ہاتھ آگے بڑھایا تو کھڑوس باس نے بھی نا چاہتے ہوئے ہاتھ ملا ہی لیا۔
ان کے ایک خاتون بھی تھیں جو حمدان اختر کی بیگم اور معاویہ کی والدہ تھیں۔
ان سے سلام دعا کے بعد ان کو اندر خواتین کے پاس بھیج دیاگیا۔
ہاشم مبین اپنے دوست کے ساتھ خوش گپیوں میں مصروف ہوگئے اور زوار بس انہیں دیکھتا ہی رہا۔ جبکہ معاویہ مسلسل اسے طنزیہ نظروں سے تولتا رہا۔
"ہاشم بھئی ہم تو اپنے معاویہ کے لئے بہت پیاری سی دلہن چاہتے ہیں۔ تم نے رشتہ بتایا ہے تو مجھے پورا بھروسہ ہے کہ اچھا ہی ہوگا۔"
ابھی ہاشم مبین نے کچھ کہنے کے لئے منہ کھولا ہی تھا کہ حمدان اختر کا موبائل بج اٹھا اور زور زور سے ان کی بیگم کی آوازیں سنائی دینے لگی۔ معاویہ ، زوار، حمدان اور ہاشم سب اپنی جگہ سے ایک دم اٹھ کھڑے ہوئے۔
وہ اب بولتے ہوئے ڈرائنگ روم میں داخل ہوچکی تھیں:"ارے غضب خدا کا۔۔۔ یہ دیکھو میرا چاند جیسا شہزادہ بیٹا۔۔۔" بیگم حمدان نے معاویہ کو بازو سےپکڑ کر سعدیہ کو دکھایا:"اور تم اس کے متھے ایک بیوہ کو تھوپنا چاہتی ہو؟"
"ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ ہم کیوں تھوپیں گے؟" سعدیہ اپنے میاں کو دیکھنے لگیں۔
حمدان نے اپنی بیگم کو چپ کروانے کی کوشش کی۔
زوار اپنا سر پکڑ کر صوفے پہ بیٹھ گیا۔
بیگم حمدان کچھ بھی سننے کے لئے تیار نہیں تھیں۔ وہ معاویہ کا ہاتھ پکڑ کر اسے گیٹ کی طرف گھسیٹ رہی تھیں۔۔۔
جبکہ ہاشم مبین حمدان سے کچھ کہہ رہے تھے۔۔۔۔
حمدان اختر اپنی بیگم کو کچھ کہتے جارہے تھے۔۔۔۔
اور بیگم حمدان چیختے چلاتے معاویہ کو گھسیٹتی گیٹ سے باہر لے جارہی تھیں۔۔۔
معاویہ بی چارہ سا بنا ادرگرد کی صورت حال کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہوئے گھسٹتا چلاجارہاتھا۔۔۔۔
سعدیہ ہاشم پیچھے سے مسلسل ان کو آوازیں دے کر روکنے کی کوشش کررہی تھیں۔۔۔
اور خولہ بُت بنی ڈرائنگ روم کے دروازے پہ ایستادہ تھی۔۔۔جیسی وہ کوئی پتھر کی مورت ہو۔۔۔بے جان سی۔۔۔
جب سب شور تھم گیا تو ہاشم مبین اور سعدیہ ہاشم صوفوں پہ تھکے ماندے آکر ڈھے گئے۔۔۔۔
اسی لمحے زوار اپنی جگہ سے اٹھا اور اللہ حافظ کہتا باہر نکل گیا۔
--------------------------------------
اگلے دن زوار نے آفس کی چھٹی کرنے کا پلان بنایا تھا ۔ وہ اپنے کھڑوس باس معاویہ کا سامنا نہیں کرنا چاہتا تھا۔ نجانے کیسی شرمندگی نے اسے آن گھیرا تھا ۔
وہ چپ چاپ بستر پہ لیٹا ہوا کل کے واقعے کی جزئیات ہی غوروفکر کررہاتھا۔ جبھی اس کے واٹس ایپ میسیج کی ٹون بجی۔
آفس کے گروپ پہ میٹنگ کال کا میسیج تھا۔ ایک ارجنٹ میٹنگ کے لئے آفس سے پانچ لوگوں کو انٹرنیشل ڈیلیگیٹس کے ساتھ میٹنگ کرنے کے لئے ایک ہوٹل میں جانا تھا جن میں سے ایک زوار تھا۔ وہ بادل نہ خواستہ تیار ہو کر پہنچا ۔
میٹنگ ہوئی اور ختم ہوئی ۔۔۔ سب لوگ اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہونے کے لئے اپنے لیپ ٹاپس اور چارجر وغیرہ سمیٹ رہے تھے تبھی معاویہ نے اسے رکنے کا کہا۔
"زوار تھوڑی دیر رکنا مجھے کچھ بات کرنی ہے۔"
زوار کو اپنی سانس رکتی محسوس ہوئی۔۔۔اسے ابھی سے شرمندگی ہونے لگی۔۔۔ سب لوگوں کے جانے کے بعد وہ اس کے سامنے آبیٹھا۔
"زوار ۔۔۔کل کے لئے آئی ایم سوری۔۔۔میں معذرت چاہتا ہوں۔"
زوار نے حیرت سے اسے دیکھا تھا۔
"نہیں سرایسی۔۔۔۔" معاویہ نے زوار کو ہاتھ کے اشارے سے روکا۔
"نہیں زوار مجھے کہنے دو۔۔۔ ہمارا ایک پروفیشنل رشتہ ہے اور اگر مجھے تم سے کام لینا ہے اور تمہیں کام کے لئے پہلے کی طرح مستعد پانا ہے تو دل کا غبار صاف کرنا بے حد ضروری ہے۔" زوار اس کی بات سن کر چونک گیا۔ اسے دل کے کسی گوشے میں خوش گواریت کا سا احساس ہوا کہ کسی طرح ہی سہی معاویہ نے اس کی مستعدی کو سراہا تو سہی۔۔۔
"دراصل میں اور امی اس بات سے انجان تھے کہ جس لڑکی کو ہم دیکھنے جارہے ہیں وہ ۔۔۔۔ بیوہ ہے۔"معاویہ نے اس سے ایک لمحے کو نظر چرائی تھی۔
"دوسری بات یہ کہ مجھے اور بابا کو بالکل بھی پتہ نہیں تھا کہ وہاں تم بھی موجود ہوگے۔"
زوار ایک دم چونکا۔
"مطلب آپ مجھ سے ملنے وہاں نہیں آئے تھے؟" زوار نے تعجب سے پوچھا۔
"مسٹر زوار صاحب تمہاری یہ شکل تو میں آفس میں بھی دیکھنا پسند نہیں کرتا پھر میں اتنی دور کیوں جائوں گا تمہاری شکل دیکھنے؟" معاویہ کو غصہ آگیاتھا۔
"سر دراصل ماہین ۔۔۔میرا مطلب وہ لڑکی جسے آپ دیکھنے آئے تھے وہ دراصل میری۔۔۔۔" زوار جملہ مکمل نہیں کرپارہاتھا۔
"واٹ؟ تمہاری بہن ہے؟" معاویہ نے پانی کا گلاس بھرتے ہوئے ابرو اوپر کی تھی۔
زوار نے دھیرے سے نفی میں سر ہلایا:"وہ میری اسٹیپ مدر ہے۔"
معاویہ کے منہ سے ایک دم پانی کا فوارہ ابلا تھا اور زوار کی شرٹ پہ چھینٹے پڑ گئے تھے۔ معاویہ اب بری طرح کھانس رہاتھا۔ اورایک ہاتھ سے کھانسی روکنے کی کوش کرتے ہوئے وہ دوسرے ہاتھ سے زوار سے پانی کے فوارے کے چھینٹوں کے لئے معذرت بھی کررہاتھا۔
زوار اس کے پیچھے آکھڑا ہوا اور اس کی پیٹھ تھپتھپانے لگا۔ ایک دو ویٹر بھی آکھڑے ہوئے تھے۔ معاویہ کی کھانسی رکی تو ویٹر چلے گئے جبکہ زوار دوبارہ سامنے آکر بیٹھ گیا۔
"تم مذاق کررہے تھے ؟" معاویہ اپنے سینہ پہ ہاتھ سے مالش کرتے ہوئے بولا۔
"مذاق تو ہماری قسمت نے کیا ہے سر۔"
"بابا نے بتایاتھا کہ وہ بائیس تیئس سال کی ہے شاید؟"
"مجھ سے چھوٹی ہے سر۔" زوار کا سر خودبخود جھک گیاتھا۔
"اوہ۔۔۔۔۔ بے چاری۔۔۔" معاویہ کو حقیقتاً افسوس ہواتھا۔
"ابھی عدت پوری ہونے میں بھی چند دن باقی ہیں۔" زوار کا سر مزید جھک گیا تھا۔۔۔ اور آواز مزید دھیمی ہوگئی تھی۔
معاویہ اسے تھوڑی دیر تک دیکھتا رہا پھر اٹھ کھڑا ہوا اور خدا حافظ کہہ کر نکل گیا۔
زوار نے اسے جاتے ہوئے بڑے غور سے دیکھا تھا۔ اس کی اپنے باس کے متعلق اب بھی وہی رائے تھی۔۔۔وہ اب بھی اسے کھڑوس ہی لگتا تھا۔
-----------------------------------
"نہیں سرایسی۔۔۔۔" معاویہ نے زوار کو ہاتھ کے اشارے سے روکا۔
"نہیں زوار مجھے کہنے دو۔۔۔ ہمارا ایک پروفیشنل رشتہ ہے اور اگر مجھے تم سے کام لینا ہے اور تمہیں کام کے لئے پہلے کی طرح مستعد پانا ہے تو دل کا غبار صاف کرنا بے حد ضروری ہے۔" زوار اس کی بات سن کر چونک گیا۔ اسے دل کے کسی گوشے میں خوش گواریت کا سا احساس ہوا کہ کسی طرح ہی سہی معاویہ نے اس کی مستعدی کو سراہا تو سہی۔۔۔
"دراصل میں اور امی اس بات سے انجان تھے کہ جس لڑکی کو ہم دیکھنے جارہے ہیں وہ ۔۔۔۔ بیوہ ہے۔"معاویہ نے اس سے ایک لمحے کو نظر چرائی تھی۔
"دوسری بات یہ کہ مجھے اور بابا کو بالکل بھی پتہ نہیں تھا کہ وہاں تم بھی موجود ہوگے۔"
زوار ایک دم چونکا۔
"مطلب آپ مجھ سے ملنے وہاں نہیں آئے تھے؟" زوار نے تعجب سے پوچھا۔
"مسٹر زوار صاحب تمہاری یہ شکل تو میں آفس میں بھی دیکھنا پسند نہیں کرتا پھر میں اتنی دور کیوں جائوں گا تمہاری شکل دیکھنے؟" معاویہ کو غصہ آگیاتھا۔
"سر دراصل ماہین ۔۔۔میرا مطلب وہ لڑکی جسے آپ دیکھنے آئے تھے وہ دراصل میری۔۔۔۔" زوار جملہ مکمل نہیں کرپارہاتھا۔
"واٹ؟ تمہاری بہن ہے؟" معاویہ نے پانی کا گلاس بھرتے ہوئے ابرو اوپر کی تھی۔
زوار نے دھیرے سے نفی میں سر ہلایا:"وہ میری اسٹیپ مدر ہے۔"
معاویہ کے منہ سے ایک دم پانی کا فوارہ ابلا تھا اور زوار کی شرٹ پہ چھینٹے پڑ گئے تھے۔ معاویہ اب بری طرح کھانس رہاتھا۔ اورایک ہاتھ سے کھانسی روکنے کی کوش کرتے ہوئے وہ دوسرے ہاتھ سے زوار سے پانی کے فوارے کے چھینٹوں کے لئے معذرت بھی کررہاتھا۔
زوار اس کے پیچھے آکھڑا ہوا اور اس کی پیٹھ تھپتھپانے لگا۔ ایک دو ویٹر بھی آکھڑے ہوئے تھے۔ معاویہ کی کھانسی رکی تو ویٹر چلے گئے جبکہ زوار دوبارہ سامنے آکر بیٹھ گیا۔
"تم مذاق کررہے تھے ؟" معاویہ اپنے سینہ پہ ہاتھ سے مالش کرتے ہوئے بولا۔
"مذاق تو ہماری قسمت نے کیا ہے سر۔"
"بابا نے بتایاتھا کہ وہ بائیس تیئس سال کی ہے شاید؟"
"مجھ سے چھوٹی ہے سر۔" زوار کا سر خودبخود جھک گیاتھا۔
"اوہ۔۔۔۔۔ بے چاری۔۔۔" معاویہ کو حقیقتاً افسوس ہواتھا۔
"ابھی عدت پوری ہونے میں بھی چند دن باقی ہیں۔" زوار کا سر مزید جھک گیا تھا۔۔۔ اور آواز مزید دھیمی ہوگئی تھی۔
معاویہ اسے تھوڑی دیر تک دیکھتا رہا پھر اٹھ کھڑا ہوا اور خدا حافظ کہہ کر نکل گیا۔
زوار نے اسے جاتے ہوئے بڑے غور سے دیکھا تھا۔ اس کی اپنے باس کے متعلق اب بھی وہی رائے تھی۔۔۔وہ اب بھی اسے کھڑوس ہی لگتا تھا۔
زوار نے اپنی چیزیں سمیٹیں اور واپسی کے لئے قدم بڑھادئیے۔
-----------------------------------------
ماہین کی عدت ختم ہوچکی تھی۔ اب اسے ایک مشکل مرحلہ طے کرنا تھا اور ماہین سے اس کی شادی کے متعلق بات کرنی تھی لیکن وہ اس معاملے میں بہت زیادہ ہچکچاہٹ کا شکار تھا۔ اس نے سعدیہ ہاشم سے مدد مانگی۔ خولہ سے کہا کہ وہ ماہین سے اس سلسلے میں بات کرے۔ لیکن ہاشم مبین کا کہنا تھا کہ انسا ن کو کئی مشکل چوٹیاں خود سر کرنی چاہیئں۔ عدت کو ختم ہوئے ایک ہفتہ پو چکاتھا اور ماہین اگلے دن سے یونی ورسٹی جانے کی تیاری کررہی تھی۔ وہ ضرار کے انتقال کے بعد سے عدت مکمل ہونے تک کے دوران یونی ورسٹی بالکل نہیں گئی تھی۔ لیکن چونکہ اس نے یونی ورسٹی کو اپنی درخواست بھیج دی تھی اس لئے اسے یہ خصوصی رعایت بہت زیادہ منت سماجت کرنے کے بعد مل گئی تھی کہ وہ واٹس ایپ کال کے ذریعے سے گھر پہ بیٹھ کر کلاس اٹینڈ کرلیتی تھی۔ اس کے تمام کلاس فیلوز نے اس معاملے میں اس کے ساتھ خوب تعاون کیا۔ ایک کلاس میں وہ کسی ایک لڑکی کے نمبر پہ کال ملاتی تو دوسری کلاس میں دوسری لڑکی کے نمبر پہ۔۔۔ یوں اس کا وقت ضائع بالکل بھی نہیں ہواتھا۔ وہ اپنے نوٹس مکمل کررہی تھی جب زوار نے پیچھے سے آکر گلا کھنکھار کر اسے متوجہ کیا۔ اس نے ایک دم پلٹ کر اسے دیکھا۔ وہ کبھی اس کے کمرے میں نہیں آتا تھا۔ ان کی ملاقات صرف کھانے کی میز پہ ہوا کرتی تھی۔
"جی؟"
"مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے۔"
"جی۔۔۔آئیے بیٹھیں۔" ماہین نے اسے اندر آنے کی دعوت دی۔
"نہیں لائونج میں آجائیں وہیں بات کرتے ہیں۔"
زوار اسے کہتا ہوا لائونج میں جا کر ایک صوفے پہ بیٹھ گیا۔ وہ دوپٹہ سر پہ درست کرتی دھیمے قدموں سے چلتی ا سکے سامنے والے صوفے پہ آ بیٹھی۔ اور سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔
"ماہین۔۔۔میں آپ سے بہت ضروری بات کرنے والا ہوں۔ پلیز اسے دھیان سے سنئیے گا۔"
"جی میں سن رہی ہوں۔"
"ماہین میری بات پلیز آپ ٹھنڈے دماغ سے سنئیے گا۔ غصہ مت کرئیے گا۔ میں آپ کی بہت عزت کرتا ہوں۔ آپ پلیز کوئی غلط خیال اپنے دل میں مت لائیے گا۔" زوار کی لمبی سی تمہید سے ماہین الجھن آمیز نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔ زوار نے سوالیہ نظروں سے دیکھا تو ماہین نے سر ہلا کر غصہ نہ کرنے کی یقین دہانی کروائی۔
زوار نے بولنا شروع کیا:" دراصل میں ۔۔۔میں۔۔۔چاہتا ہوں کہ۔۔۔۔ آپ۔۔۔۔ آپ کی شا۔۔۔۔دی۔۔۔ کروادوں۔" وہ سر جھکا کر بیٹھا رہا۔ کافی دیر تک جب ماہین کچھ نہ بولی تو اس نے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔ وہ وہاں نہیں تھی وہ وہاں سے اٹھ کر کب کی جاچکی تھی۔
"جی؟"
"مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے۔"
"جی۔۔۔آئیے بیٹھیں۔" ماہین نے اسے اندر آنے کی دعوت دی۔
"نہیں لائونج میں آجائیں وہیں بات کرتے ہیں۔"
زوار اسے کہتا ہوا لائونج میں جا کر ایک صوفے پہ بیٹھ گیا۔ وہ دوپٹہ سر پہ درست کرتی دھیمے قدموں سے چلتی ا سکے سامنے والے صوفے پہ آ بیٹھی۔ اور سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔
"ماہین۔۔۔میں آپ سے بہت ضروری بات کرنے والا ہوں۔ پلیز اسے دھیان سے سنئیے گا۔"
"جی میں سن رہی ہوں۔"
"ماہین میری بات پلیز آپ ٹھنڈے دماغ سے سنئیے گا۔ غصہ مت کرئیے گا۔ میں آپ کی بہت عزت کرتا ہوں۔ آپ پلیز کوئی غلط خیال اپنے دل میں مت لائیے گا۔" زوار کی لمبی سی تمہید سے ماہین الجھن آمیز نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔ زوار نے سوالیہ نظروں سے دیکھا تو ماہین نے سر ہلا کر غصہ نہ کرنے کی یقین دہانی کروائی۔
زوار نے بولنا شروع کیا:" دراصل میں ۔۔۔میں۔۔۔چاہتا ہوں کہ۔۔۔۔ آپ۔۔۔۔ آپ کی شا۔۔۔۔دی۔۔۔ کروادوں۔" وہ سر جھکا کر بیٹھا رہا۔ کافی دیر تک جب ماہین کچھ نہ بولی تو اس نے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔ وہ وہاں نہیں تھی وہ وہاں سے اٹھ کر کب کی جاچکی تھی۔
-----------------------------------
قسط نمبر 5
"آپ نے کیا سوچا؟" وہ اسے روز یونی ورسٹی ڈراپ کرتا ہوا آفس جاتا تھا۔ آج اس نے ہمت کر کے دوبارہ سوال کیا تھا۔
"کس بارے میں؟" وہ نوٹس پہ نظریں دوڑاتی پوچھ رہی تھی۔
"کم آن ماہین آپ جانتی ہیں کہ میں کس بارے میں بات کررہاہوں۔" وہ جھنجھلایا تھا۔
"یونی ورسٹی آگئی ہے۔ بعد میں بات کرتے ہیں۔" وہ کار کا دروازہ بند کرتی اس کی نظروں سے اوجھل ہوگئی۔ زوار نے غصے سے اسٹئیرنگ ہی مکا مارا تھا۔
"یہ تمہیں روز کون چھوڑنے آتا ہے ماہین؟" شازیہ نے ماہین سے کلاس ختم ہونے کے بعد پوچھاتھا۔
"وہ میرا۔۔۔"وہ ایک دم بتاتے بتاتے رک گئی تھی۔
"تمہارا بھائی ہے کیا؟" شازیہ نے اس کا جملہ مکمل کیا تھا۔
"آں ہاں میرا ۔۔۔ بھائی ہے۔"
"کیا کرتا ہے تمہارا بھائی؟"
"آفس میں کام کرتا ہے۔" وہ ایک دم شرمندہ ہوئی تھی کیونکہ اس نے کبھی ضرار سے بھی نہیں پوچھا تھا کہ زوار کرتا کیا ہے۔ اسے معلوم ہی نہیں تھا کہ وہ کیا کام کرتا ہے۔
"ارے آفس میں کیا کام کرتا ہے بھئی؟"
"تم کیوں انکم ٹیکس افسران کی طرح اس قدر انکوائری کررہی ہو؟" ماہین کو غصہ آگیاتھا۔
"اس لئے کہ میری ایک عدد کزن ہے اور میں چاہتی ہوں کہ تم اپنے بھائی سے اس کی شادی کروادو۔" شازیہ نے مزے سے کہا تو ماہین نے اس کے سر پہ ایک چپت رسید کی:" رشتے کروانے والی آنٹی نہ بنو میرے بھائی کی منگنی ہوچکی ہے۔"
"اتنی جلدی؟"
"ان کے خاندان میں تو سب کچھ جلدی جلدی ہی ہوتا ہے۔" پیچھلی ڈیسک پہ بیٹھی ردا نے جملہ کساتھا اور پھر خو دہی ہنسی بھی تھی:" جلدی جلدی منگنی۔۔۔۔ جلدی جلدی شادی۔۔۔ جلدی جلدی بیوگی۔۔۔۔"
ماہین کی آنکھیں ضبط کرنے کی وجہ سے لال ہوگئی تھیں۔ اس کی آنکھوں میں پانی بھرنے لگا۔
"زندگی اور موت انسان کے ہاتھ میں نہیں ہوتا ردا ۔ کچھ تو خدا کا خوف کرو۔" شازیہ نے ماہین کو دلاسہ دیتے ہوئے ردا کو جھڑکا تھا۔
"میں کیوں خدا کا خوف کروں میں کوئی جھوٹ بول رہی ہوں کیا؟ بالکل سچ ہی کہا ہے میں نے۔" ردا غصہ سے کہتی کلاس سے باہر نکل گئی۔
کلاس میں داخل ہوتے ارمان نے دونوں کی تلخ کلامی کی تمام روداد سن لی تھی۔ وہ آکر ان کے سامنے والی ڈیسک پہ بیٹھ گیا۔
"لوگوں کا کام ہی باتیں کرنا ہے ماہین۔ تم ان بے کار لوگوں کی باتوں کو دل پہ نہ لیا کرو۔ یہ تو بولتے ہی رہتے ہیں۔ تم اپنی پڑھائی پہ دھیان دو۔ پتہ ہے جب تم نہیں آرہی تھیں تو میڈم نجمہ بار بار کہتی تھیں کہ کلاس میں ماہین کے بغیر مزہ ہی نہیں ہے۔ وہی ہے جو مزے مزے کے سوال کرتی ہے۔" ارمان نے اسے بہلانے کی کوشش کی۔
"اور سر عبدالحمید نے بھی تو کہا تھا کہ ماہین کو زبردست قسم کا تھیسس کروائیں گے۔ کیونکہ اس کے پاس دماغ کی فراوانی ہے۔ باقی لوگ بالکل نکمے ہیں۔" شازیہ نے باقاعدہ سر عبدالحمید کی نقل اتاری تو ماہین ایک دم ہنس پڑی۔
وہ دونوں ایسے ہی ا س کا تب تک دل بہلاتے رہے جب تک اگلی کلاس نہ شروع ہوگئی۔
-----------------------------------
چند دنوں بعد زوار نے تنگ آکر خولہ کو بلا لیا تھا۔ اور اب خولہ ماہین کو سمجھانے کی کوشش کررہی تھی۔
"مجھے شادی نہیں کرنی خولہ ۔۔۔ میں اپنا کیریئر بنانا چاہتی ہوں۔ زندگی میرے ساتھ بہت مذاق کرچکی ہے اب بس میں اپنے انداز میں جینا چاہتی ہوں۔" ماہین نے تنگ آکر سر پکڑ لیاتھا۔
"اور زوار؟" خولہ کی بات سن کر ماہین اسے تکنے لگی۔
"زوار کا کیا ہوگا ماہین؟ کبھی سوچا ہے کہ وہ دنیا کا سامنا کیسے کرے گا جب لوگ اس کی شادی کے بعد اسے ہی طعنے دیں گے کے اس نے آپ کے بارے میں نہیں سوچا؟ اسے بہت فکر ہوتی ہے آپ کی۔۔۔ وہ آپ کی عزت کرتا ہے بہت عزت کرتا ہے آپ کی۔۔۔ آپ اس کی یہ بات مان لیں ماہین کیونکہ اس دنیا نے آپ کو بھی جینے نہیں دینا اس طرح۔۔۔ " اس نے رک کر ماہین کا چہرہ دیکھا جہاں تذبذب کے آثار نمایاں تھے۔
"آپ اچھی طرح سے سوچ لیں۔۔۔آپ کی مرضی کے بغیر کچھ بھی نہیں ہوگا۔ سب آپ کی مرضی سے ہوگا جیسا آپ چاہیں گی بالکل ویسا ہی۔۔۔" خولہ نے اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے نرم لہجے میں کہا۔
ماہین کو سوچوں میں مگن چھوڑ کر وہ اس کے کمرے سے باہر نکل آئی اور زوار کو تسلی دینے لگی کہ سب ٹھیک ہوجائے گا۔
------------------------------------------
اگلے دن خولہ نے اسے آفس میں فون کر کے بتایا تھا کہ ماہین شادی کرنے کے لئے تیار ہے لیکن لڑکا اس کی مرضی کا ہونا چاہئے۔ وہ پہلے لڑکے سے ملے گی اس سے بات چیت کرے گی اگر اسے لڑکا ٹھیک لگا تو ہی وہ شادی کے لئے ہاں کہے گی ۔ زوار نے محسوس کیا جیسے اس کے سر پہ سے بہت بڑا بوجھ اتر گیا ہو۔ وہ خود کو بالکل ہلکا پھلکا محسوس کرنے لگا۔ کبھی کبھار ذمہ داریاں انسان کو بالکل ناتواں کردیتی ہیں۔ اور اس دن خولہ کے مان جانے کی خبر سن کر زوار اس قدر خوش تھا کہ اس قدر فریش محسوس کر رہاتھا کہ اس کے کئی ایک کولیگز نے اسے روک روک کر وجہ پوچھی۔ اس نے وجہ تو کسی کو نہیں بتائی لیکن سارا دن اس کا موڈ بہت خوش گوار رہا۔ معاویہ حمدان نے بھی ایک دو بار اسے اپنے کیبن سے جھانک کر دیکھااور حیران بھی ہوا لیکن پھر سر جھٹک کر اپنے کام میں مصروف ہوگیا۔
اس دن زوار نے شام کو پہلے ماہین اور بعد میں خولہ کو فون کر کے کہا کہ وہ سب کو ڈنر کروائے گا انکل آنٹی ، خولہ اور ماہین کو بھی ۔ اس لئے شام کو سب تیار رہیں ۔
رات کو سب کو گھر ڈراپ کرنے کے بعد وہ اور ماہین گھر واپس لوٹ آئے۔ وہ گاڑی پارک کر رہاتھا اور ماہین گھر کے اندر جاچکی تھی۔ جب وہ گاڑی پارک کر کے باہر نکل کر لاک چیک کر رہاتھا تو دو گھر چھوڑ کر رہنے والے انعام صاحب اسے ملے۔ سلام دعا کے بعد انہوں نے زوار سے ڈائریکٹ کہا:"میاں آپ یہ ایریا چھوڑ کر چلے جائو۔"
"کیوں انکل؟"زورا نے حیرت سے پوچھا۔
"بیٹا اچھی باتیں نہیں ہورہی تمہارے متعلق اور ضرار صاحب نے جتنی عزت کمائی تھی سب مٹی میں رُل رہی ہے اس لئے جتنا جلدی ہوسکے اس علاقے سے شفٹ ہوجائو۔ مکان بکوانے میں میری مدد چاہئے ہو تو بتا دینا۔"
زوار ہکا بکا انہیں دیکھ رہا تھا:"کیسی باتیں ہورہی ہیں انکل؟"
قسط نمبر 6
"بیٹا کچھ باتیں راز میں ہی اچھی لگتی ہیں۔ میں تمہیں ذاتی طور پہ جانتا ہوں اس لئے مخلصانہ مشورہ دے رہاہوں۔ مان لو تو تمہارے حق میں بہتر ہوگا۔"انعام صاحب اسے وہیں سوچوں میں غلطاں چھوڑ کر چلے گئے۔
زوار گھر میں آکر تیزی سے اپنے کمرے میں چلا گیا۔ اس کا بس نہیں چل رہاتھا کہ سب کچھ تہس نہس کردے۔
------------------------------------------
اگلے دن وہ آفس میں پہنچا ہی تھا کہ خولہ کا میسیج آگیا۔ سعدیہ ہاشم نے ماہین کے لئے کوئی رشتہ دیکھا تھا اور وہ ا س سلسلے میں اس سے بات کرنا چاہتی تھیں۔ اس نے جواب میں کہا کہ شام کو آتاہوں۔
شام کو وہ وہاں پہنچا تو اس کا موڈ دیکھ کر ہاشم مبین سمجھ گئے کہ کچھ گڑبڑ ہے۔
اس نے انعام صاحب والی بات ہاشم مبین کے گوش گزاز کردی۔ انہوں نے کہا کوئی بات نہیں ہم کوشش کر رہے ہیں انشاء اللہ جلدی کچھ اچھا سبب بن جائے گا۔
سعدیہ ہاشم نے انہیں اپنے خاندان میں موجود دو رشتوں کے متعلق بتایا۔
"بیٹااحمر میرے دور کے رشتے داروں میں سے ہے۔ خیر سے سول انجینئر ہے اور اس کی بیوی کا انتقال ہوگیاہے۔ دو چھوٹے چھوٹے بچے بھی ہیں۔ یہیں گلشن میں رہتا ہے اپنا گھر ہے گاڑی ہے اور خیر سے اچھا کماتا کھاتا ہے۔"
زوار نے پرسوچ نظروں سے ان کو دیکھا:"اور دوسرا رشتہ؟"
"بیٹا ویسے اس رشتے کی تو میں خود بھی بات نہیں کرنا چاہتی کچھ مناسب نہیں ہے وہ والا رشتہ۔ پھر بھی میں صرف ذکر کر رہی ہوں۔"
"ایسی بھی کیا بات ہے اس میں آنٹی؟"
"بیٹا لڑکا باہر رہتا ہے اور وہاں اس نے شادی کی ہوئی ہے لیکن ا سکی ماں اس کی شادی یہاں کروانا چاہتی ہے۔ اس سے میں نے ذکر کیا تھا ماہین کا۔ مجھے اس وقت معلوم نہیں تھا کہ ان کا بیٹا وہاں شادی کرچکاہے۔ لیکن ابھی وہ ماہین کو دیکھنے آنا چاہتی ہیں۔"
زوار نے ایک گہری سانس بھری اور صوفے کی پشت سےآنکھیں بند کر کے ٹیک لگالی۔
"زوار بیٹا میرے دوست نے اپنے بیٹے کے لئے اخبار میں اشتہار دیاتھا۔ آن لائن بھی ویب سائٹس پہ ڈیٹا ڈال دیتے ہیں۔ باقی اللہ مالک ہے ہوسکتا ہے کہ کوئی اچھا رشتہ مل جائے۔"
"ٹھیک ہے انکل میں ابھی گھر جاتے ہی اخبار کے ایڈ کا متن تیار کرتا ہوں اور آن لائن بھی ڈیٹا سیٹ کرتا ہوں۔" وہ اٹھ کھڑا ہوا تھا۔
گھر پہنچ کر اس نے ایک دو اخبارات کو ای میل کی اور آن لائن رشتوں کی ویب سائٹ پہ رجسٹریشن کروادی۔
------------------------------------------
تین چار دن کے اند رہی اس کو کئی کالز موصول ہوئیں اور جن نمونوں سے وہ ملا جب وہ ماہین اور خولہ کو ان کے متعلق بتانے لگا تو وہ لوگ ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہوگئیں۔ وہ ذہنی طور پہ پریشان ضرور تھا مگر وہ واقعی دل سے چاہتاتھا کہ ماہین کی کسی اچھی جگہ پہ شادی ہوجائے۔
ایک ہفتے کے بعد ماہین نے اسے بتایا کہ اس نے ایکسچینج پروگرام میں اپلائی کیا تھا اور اس ا سیلیکشن ہو گیا۔ زورا اس کی کامیابی پہ بہت خوش ہوا۔ اس نے سب کو ڈنر پہ انوائٹ کیا۔ وہ سب لوگ کھانے کی ٹیبل پہ بیٹھے تھے اور ماہین نے بہت ہی زبردست قسم کا ڈنر تیار کیاتھا۔
"انکل، آنٹی میں چاہتی ہون کہ میرے جانے سے پہلے پہلے ان دونوں کی شادی ہوجائے تاکہ میں اپنے فرض سے سبکدوش ہوجائوں۔"ماہین نے مسکراتے ہوئے کہا تو زوار نے حیرت سے اسے دیکھا۔
"فرض؟"
"تو اور کیا؟ بیٹے ہیں آپ میرے۔ میری ذمہ داری ہیں اور میں چاہتی ہوں کہ بس اب خولہ کو اس گھر میں آجانا چاہئے۔"
خولہ نے سر کو مزید جھکا لیا۔ زوار نے چہرے پہ ایک مسکراہٹ رینگ گئی۔
"وہ سب ٹھیک ہے لیکن ہم چاہتے ہیں کہ پہلے آپ کی شادی ہو بیٹا۔" سعدیہ ہاشم نے ماہین کا ہاتھ تھامتے ہوئے کہا۔
"آنٹی چھ ماہ تو مجھے ترکی میں اپنی تعلیم مکمل کرنے میں لگ ہی جائیں گے تب تک آپ لوگ کوئی اچھا سا انتظام کردیجئے گا ناں پھر دیکھ لیں گے۔ "
"ہو سکتا ہے ماہین کو وہیں کوئی اچھا لگ جائے۔"
ماہین دھیرے سے مسکرادی۔
ہاشم مبین بھی دھیرے سے مسکرادئے۔
کھانے کے بعد چائے کا دور شروع ہوا تو ہاشم مبین نے زوار کو سمجھایا کہ لوگوں کا منہ بند کرنے کا یہ طریقہ بھی کارگر ثابت رہے گا کہ تم شادی کر لو۔
زوار ماہین سے پہلے شادی نہیں کرناچاہتا تھا مگر یہ ضروری ہوگیاتھا۔
ایک ہفتے کے بعد کی تاریخ کا انتخاب کیا گیا اور شادی کی تیاریاں شروع کردی گئیں۔
------------------------------------------
ایک ہفتے کے اندر اندر خولہ اور زوار کی شادی ہوگئی اور اس سے اگلے ہفتے ماہین ترکی کے شہر انقرہ کے لئے روانہ ہوگئی۔ اس نے خیریت سے وہاں پہنچ کر رابطہ بھی کیا۔
زوار کی زندگی میں خولہ کے شامل ہوجانے کے بعد سے بہت رونق آگئی تھی۔ وہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ بہت خوش تھے۔ اور ساتھ ہی وہ ماہین کے لئے لڑکا بھی تلاش کررہے تھے۔
ماہین کو گئے ہوئے دو ماہ ہوچکے تھے وہ آفس میں تھا اور اپنی ڈیسک پہ بیٹھا کام کررہاتھا جب اسے معید حمدان نے اپنے کیبن میں بلایا۔ وہ ٹائی کی ناٹ درست کرتا اس کے کیبن میں پہنچا تواس نے ایک میگیزین اس نے سامنے رکھا۔
"میں اس لڑکی کو اپائنٹ کرنا چاہتا ہوں۔ اس کا بائیو ڈیٹا نکالو اور اس کی ڈگری کمپلیٹ ہوتے ہی اسے جوائن کرنے کا کہو۔ "معاویہ نے بات مکمل کر کے میگیزین کو اس کی طرف کھسکھایا اور لیپ ٹاپ میں مصروف ہوگیا۔ زوار نے میگیزین کو دیکھے بغیر اٹھالیا اور کیبن کے دروازے تک پہنچا ہی تھا کہ پیچھے سے اسے معاویہ کی آواز سنائی دی:"اور ہاں ایک ڈمی انٹرویو بھی رکھ لینا۔ جسٹ فار فارمیلیٹی ۔اوکے؟"
"اوکے سر۔"
زوار نے اپنی ڈیسک پہ پہنچ کر جب میگیزین میں موجود آرٹیکل کی ہیروئن کو دیکھا تو دیکھتا ہی رہ گیا۔ وہ ماہین تھی۔
"میں اس لڑکی کو اپائنٹ کرنا چاہتا ہوں۔ اس کا بائیو ڈیٹا نکالو اور اس کی ڈگری کمپلیٹ ہوتے ہی اسے جوائن کرنے کا کہو۔ "معاویہ نے بات مکمل کر کے میگیزین کو اس کی طرف کھسکھایا اور لیپ ٹاپ میں مصروف ہوگیا۔ زوار نے میگیزین کو دیکھے بغیر اٹھالیا اور کیبن کے دروازے تک پہنچا ہی تھا کہ پیچھے سے اسے معاویہ کی آواز سنائی دی:"اور ہاں ایک ڈمی انٹرویو بھی رکھ لینا۔ جسٹ فار فارمیلیٹی ۔اوکے؟"
"اوکے سر۔"
زوار نے اپنی ڈیسک پہ پہنچ کر جب میگیزین میں موجود آرٹیکل کی ہیروئن کو دیکھا تو دیکھتا ہی رہ گیا۔ وہ ماہین تھی۔
قسط نمبر 7
وہ ماہین کو دیکھ کر دم بخود رہ گیا۔ ماہین نے انقرہ یونیورسٹی میں ایک سیمینار میں پاکستان کی ثقافت کو بہت ہی دلچسپ انداز میں پیش کیا تھا اور اسے سیمینار میں لیڈی آف پاکستان کا خطاب بھی دیاگیاتھا۔
وہ حیران تھا کہ ماہین نے اسے یہ سب کچھ کیوں نہیں بتایا۔ خولہ نے بھی اسے کچھ نہیں بتایاتھا جبکہ وہ اور ماہین تقریباً روز ہی بات کرتے تھے۔
اس نے ماہین کو واٹس ایپ پہ کال ملائی تو اس نے فون نہیں اٹھایا۔ اس نے خولہ کو فون کیا تو خولہ نے کہا کہ اسے معلوم تھا لیکن بتانے کا موقع نہیں ملا۔
زوار میگیزین میں موجود ماہین کی تصویر کو دیکھتا ہی رہ گیا۔ بلا شبہ وہ بہت خوبصورت تھی لیکن ترکی جا کر اس کی شخصیت میں چار چاند لگ گئے تھے اور اس کی صلاحیتیں کھل کر سامنے آگئی تھیں۔ دوپٹے سے خود کو مکمل طور پہ کور کئے ہوئے وہ بہت ہی پیاری لگ رہی تھی۔اس کی مسکراہٹ بتا رہی تھی کہ اس نے زندگی میں کامیابی حاصل کرلی ہے۔
زوار کو حقیقتاً بہت خوشی ہوئی تھی۔ وہ سب کو بتانا چاہتاتھا کہ یہ اس کی رشتے دار ہے ۔ وہ ماہین کا رشتے دار ہے جسے لیڈی آف پاکستان کا خطاب ملا ہے۔ لیکن وہ بتا نہیں سکتا تھا۔
اس نے ماہین کے نمبر پہ میسیج چھوڑ دیاتھا۔ اس اسے ماہین کی کال یا میسیج کا انتظار تھا
------------------------------------------
ماہین کو جب پتہ چلا کہ زوار نے باس نے اسے جاب آفر کی ہے تو ا س نے صاف انکار کردیا۔ وہ دو ماہ بعد واپس آنے والی تھی۔ اور وہ واپس آکر اپنا بزنس کرنا چاہتی تھی۔
زوار کی آفیشل ای میل کا ماہین نے جواب لکھ کر بھیج دیاتھا۔ اور معاویہ مایوسی سے اس جواب کو دیکھ رہاتھا۔
"اس لڑکی میں مجھے بہت پوٹینشل نظر آرہاتھا۔ بہت افسوس ہوا کہ اس نے ہماری کمپنی جوائن کرنے سے منع کردیا۔"
"جی سر آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں۔"
"ایسا کرو کہ ایک مرتبہ پھر ای میل کرو۔ اور جو پیکیج آفر کر رہے تھے اس سے تھوڑا بڑھا کر آفر کرو۔" معاویہ نے کچھ سوچ کر کہا۔
"سرآپ مذاق کررہے ہیں؟" وہ حیران ہواتھا۔
"بالکل نہیں۔ یہ لڑکی سچ مچ میری کمپنی کو فائدہ دے گی۔ تم آفر کر کے تو دیکھو۔"
"سر وہ ۔۔۔نہیں مانے گی۔" زوار نے افسردگی سے سر ہلایا۔
"تمہیں کیسے پتہ ہے کہ وہ نہیں مانے گی؟"معاویہ نے لیپ ٹاپ کے پیچھے سے ابرو اٹھا کر پوچھا۔
"سر وہ میری ریلیٹو ہے اس لئے مجھے پتہ ہے۔"
معاویہ نے لیپ ٹاپ ایک طرف کرتے دیا:"تمہاری ریلیٹو ہے؟ پھر تو کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے۔ اسے لے آئو آفس ۔"
"سر وہ میری۔۔۔۔میری اسٹیپ مدر ہیں۔ وہ یہ جاب نہیں کرنا چاہتیں۔"
"ہاں۔۔۔۔اچھا وہی ۔۔۔۔ہاں تم نے بتایا تھا۔۔۔۔ تو یہ وہی ہے؟" معاویہ گڑبڑا گیا۔
"جی سر یہ وہی ہیں۔"زوار نے سر جھکا لیا تھا۔
"چلو کوئی بات نہیں۔"معاویہ نے لیپ ٹاپ اپنے سامنے کر لیا تھا۔
زوار کے جانے کے بعد معاویہ نے میگیزین کھول کر اسے پہلی بار غور سے دیکھا۔
"بیچاری اتنی سی عمر میں بیوہ ہوگئی ہے؟ افسوس ہے۔"
------------------------------------------
دو ماہ کا عرصہ پلک جھپکتے گزر گیا۔ ماہین واپس آچکی تھی اور وہ اپنا تھیسس جمع کروا چکی تھی۔ وہ اپنا کانووکیشن اٹینڈ کر نے کے بعد واپس ترکی جانا چاہتی تھی کیونکہ وہاں اس کی دوت ایلف نے اس کے ساتھ مل کر ایک بوتیک کھولنا تھا۔ وہ بہت خوش تھی۔ لگتا ہی نہیں تھا کہ وہ پہلے والی ماہین ہے وہ بالکل بدل گئی تھی۔ بہت پراعتماد ہوگئی تھی اور مزید خوبصورت ہوگئی تھی۔ اسے ترکی کی ہوائیں بھا گئی تھیں۔
کانووکیشن کے اگلے دن ماہین نے ان سب کی ملاقات ایلف اور ایبک سے کروائی۔
ایلف اور ایبک دونوں سے اس کی ملاقات انقرہ یونیورسٹی میں ہوئی تھی۔ ایلف ا س کی کلاس میٹ تھی جبکہ ایبک ان کا سینئر تھا۔
ان کے ایک ٹیچر کی طبیعت خراب ہونے کی وجہ سے ایبک ان کی کلاس لیتا تھا یوں ایلف کی دوست ہونے کی وجہ سے وہ ایبک سے بات چیت کرنے لگی اور رفتہ رفتہ ان تینوں کی دوستی گہری ہونے لگی۔
سیمینار میں پاکستان کی ثقافت کو اجاگر کرنے کے لئے ایلف اور ایبک نے اس کے ساتھ دن رات محنت کی تھی۔
ایلف نے ہی اسے بتایا تھا کہ ایبک اس سے شادی کا خواہش مند ہے ۔ اس نے اپنے بارے میں ان دونوں کو سب کچھ بتا دیاتھا۔ اسی لئے وہ زوار سے ملاقات کے لئے آن پہنچے تھے۔
زوار خولہ ہاشم مبین اور سعدیہ ہاشم سبھی کو ایبک اور ایلف بہت زیادہ پسند آیا۔ انہوں نے فوراً ان دونوں کی منگنی کر دی اور دو ماہ بعد شادی کی تاریخ مقرر کردی۔
زوار نے بہت دھوم دھام سے اس کی شادی کی تھی۔ زوار اور خولہ نے بھائی بھابھی اور ہاشم مبین اور سعدیہ ہاشم نے ماں باپ کی طرح اسے رخصت کیاتھا۔ جو لوگ زوار اور ماہین کے متعلق بکواس کرتے تھے ان سب کے منہ حیرت سے کھلے کے کھلے رہ گئے تھے ہر کسی کے منہ سے نکل رہاتھا:
"واہ شادی ہوتو ایسی۔"
"زوار نے اپنی ذمہ داری خوب نبھائی۔"
"زوار جیسا بیٹا تو قسمت والو ں کو ہی ملتا ہے۔"
اور وغیرہ وغیرہ۔۔۔
ماہین نے رخصت ہوجانے کے بعد زوار نے خود کو ایسا ہلکا پھلکا محسوس کیا جیسے وہ آج ہی جنم لے کر اس دنیا میں آیا ہو۔ اس کے چہرے کی مسکراہٹ اس کے دل کے سکون کا پتہ دے رہی تھی۔ اور اس کے دل سے ماہین کی تادیر خوشیوں کے لئے دعائیں پھوٹ رہی تھیں۔ وہ ا سکی گاڑی کو تب تک دیکھتا رہا جب تک وہ نظر آتی رہی۔۔۔اس کی آنکھیں دھندلا رہی تھیں۔۔۔آنسو دل کا سارا غبار دھو رہے تھے۔۔۔۔۔آج وہ سرخرو ہواتھا۔۔۔۔ ہر جنگ جو اس نے ہار دی تھی۔۔۔آج وہ سب جیت چکاتھا۔
------------------------------------------
وہ حیران تھا کہ ماہین نے اسے یہ سب کچھ کیوں نہیں بتایا۔ خولہ نے بھی اسے کچھ نہیں بتایاتھا جبکہ وہ اور ماہین تقریباً روز ہی بات کرتے تھے۔
اس نے ماہین کو واٹس ایپ پہ کال ملائی تو اس نے فون نہیں اٹھایا۔ اس نے خولہ کو فون کیا تو خولہ نے کہا کہ اسے معلوم تھا لیکن بتانے کا موقع نہیں ملا۔
زوار میگیزین میں موجود ماہین کی تصویر کو دیکھتا ہی رہ گیا۔ بلا شبہ وہ بہت خوبصورت تھی لیکن ترکی جا کر اس کی شخصیت میں چار چاند لگ گئے تھے اور اس کی صلاحیتیں کھل کر سامنے آگئی تھیں۔ دوپٹے سے خود کو مکمل طور پہ کور کئے ہوئے وہ بہت ہی پیاری لگ رہی تھی۔اس کی مسکراہٹ بتا رہی تھی کہ اس نے زندگی میں کامیابی حاصل کرلی ہے۔
زوار کو حقیقتاً بہت خوشی ہوئی تھی۔ وہ سب کو بتانا چاہتاتھا کہ یہ اس کی رشتے دار ہے ۔ وہ ماہین کا رشتے دار ہے جسے لیڈی آف پاکستان کا خطاب ملا ہے۔ لیکن وہ بتا نہیں سکتا تھا۔
اس نے ماہین کے نمبر پہ میسیج چھوڑ دیاتھا۔ اس اسے ماہین کی کال یا میسیج کا انتظار تھا
------------------------------------------
ماہین کو جب پتہ چلا کہ زوار نے باس نے اسے جاب آفر کی ہے تو ا س نے صاف انکار کردیا۔ وہ دو ماہ بعد واپس آنے والی تھی۔ اور وہ واپس آکر اپنا بزنس کرنا چاہتی تھی۔
زوار کی آفیشل ای میل کا ماہین نے جواب لکھ کر بھیج دیاتھا۔ اور معاویہ مایوسی سے اس جواب کو دیکھ رہاتھا۔
"اس لڑکی میں مجھے بہت پوٹینشل نظر آرہاتھا۔ بہت افسوس ہوا کہ اس نے ہماری کمپنی جوائن کرنے سے منع کردیا۔"
"جی سر آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں۔"
"ایسا کرو کہ ایک مرتبہ پھر ای میل کرو۔ اور جو پیکیج آفر کر رہے تھے اس سے تھوڑا بڑھا کر آفر کرو۔" معاویہ نے کچھ سوچ کر کہا۔
"سرآپ مذاق کررہے ہیں؟" وہ حیران ہواتھا۔
"بالکل نہیں۔ یہ لڑکی سچ مچ میری کمپنی کو فائدہ دے گی۔ تم آفر کر کے تو دیکھو۔"
"سر وہ ۔۔۔نہیں مانے گی۔" زوار نے افسردگی سے سر ہلایا۔
"تمہیں کیسے پتہ ہے کہ وہ نہیں مانے گی؟"معاویہ نے لیپ ٹاپ کے پیچھے سے ابرو اٹھا کر پوچھا۔
"سر وہ میری ریلیٹو ہے اس لئے مجھے پتہ ہے۔"
معاویہ نے لیپ ٹاپ ایک طرف کرتے دیا:"تمہاری ریلیٹو ہے؟ پھر تو کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے۔ اسے لے آئو آفس ۔"
"سر وہ میری۔۔۔۔میری اسٹیپ مدر ہیں۔ وہ یہ جاب نہیں کرنا چاہتیں۔"
"ہاں۔۔۔۔اچھا وہی ۔۔۔۔ہاں تم نے بتایا تھا۔۔۔۔ تو یہ وہی ہے؟" معاویہ گڑبڑا گیا۔
"جی سر یہ وہی ہیں۔"زوار نے سر جھکا لیا تھا۔
"چلو کوئی بات نہیں۔"معاویہ نے لیپ ٹاپ اپنے سامنے کر لیا تھا۔
زوار کے جانے کے بعد معاویہ نے میگیزین کھول کر اسے پہلی بار غور سے دیکھا۔
"بیچاری اتنی سی عمر میں بیوہ ہوگئی ہے؟ افسوس ہے۔"
------------------------------------------
دو ماہ کا عرصہ پلک جھپکتے گزر گیا۔ ماہین واپس آچکی تھی اور وہ اپنا تھیسس جمع کروا چکی تھی۔ وہ اپنا کانووکیشن اٹینڈ کر نے کے بعد واپس ترکی جانا چاہتی تھی کیونکہ وہاں اس کی دوت ایلف نے اس کے ساتھ مل کر ایک بوتیک کھولنا تھا۔ وہ بہت خوش تھی۔ لگتا ہی نہیں تھا کہ وہ پہلے والی ماہین ہے وہ بالکل بدل گئی تھی۔ بہت پراعتماد ہوگئی تھی اور مزید خوبصورت ہوگئی تھی۔ اسے ترکی کی ہوائیں بھا گئی تھیں۔
کانووکیشن کے اگلے دن ماہین نے ان سب کی ملاقات ایلف اور ایبک سے کروائی۔
ایلف اور ایبک دونوں سے اس کی ملاقات انقرہ یونیورسٹی میں ہوئی تھی۔ ایلف ا س کی کلاس میٹ تھی جبکہ ایبک ان کا سینئر تھا۔
ان کے ایک ٹیچر کی طبیعت خراب ہونے کی وجہ سے ایبک ان کی کلاس لیتا تھا یوں ایلف کی دوست ہونے کی وجہ سے وہ ایبک سے بات چیت کرنے لگی اور رفتہ رفتہ ان تینوں کی دوستی گہری ہونے لگی۔
سیمینار میں پاکستان کی ثقافت کو اجاگر کرنے کے لئے ایلف اور ایبک نے اس کے ساتھ دن رات محنت کی تھی۔
ایلف نے ہی اسے بتایا تھا کہ ایبک اس سے شادی کا خواہش مند ہے ۔ اس نے اپنے بارے میں ان دونوں کو سب کچھ بتا دیاتھا۔ اسی لئے وہ زوار سے ملاقات کے لئے آن پہنچے تھے۔
زوار خولہ ہاشم مبین اور سعدیہ ہاشم سبھی کو ایبک اور ایلف بہت زیادہ پسند آیا۔ انہوں نے فوراً ان دونوں کی منگنی کر دی اور دو ماہ بعد شادی کی تاریخ مقرر کردی۔
زوار نے بہت دھوم دھام سے اس کی شادی کی تھی۔ زوار اور خولہ نے بھائی بھابھی اور ہاشم مبین اور سعدیہ ہاشم نے ماں باپ کی طرح اسے رخصت کیاتھا۔ جو لوگ زوار اور ماہین کے متعلق بکواس کرتے تھے ان سب کے منہ حیرت سے کھلے کے کھلے رہ گئے تھے ہر کسی کے منہ سے نکل رہاتھا:
"واہ شادی ہوتو ایسی۔"
"زوار نے اپنی ذمہ داری خوب نبھائی۔"
"زوار جیسا بیٹا تو قسمت والو ں کو ہی ملتا ہے۔"
اور وغیرہ وغیرہ۔۔۔
ماہین نے رخصت ہوجانے کے بعد زوار نے خود کو ایسا ہلکا پھلکا محسوس کیا جیسے وہ آج ہی جنم لے کر اس دنیا میں آیا ہو۔ اس کے چہرے کی مسکراہٹ اس کے دل کے سکون کا پتہ دے رہی تھی۔ اور اس کے دل سے ماہین کی تادیر خوشیوں کے لئے دعائیں پھوٹ رہی تھیں۔ وہ ا سکی گاڑی کو تب تک دیکھتا رہا جب تک وہ نظر آتی رہی۔۔۔اس کی آنکھیں دھندلا رہی تھیں۔۔۔آنسو دل کا سارا غبار دھو رہے تھے۔۔۔۔۔آج وہ سرخرو ہواتھا۔۔۔۔ ہر جنگ جو اس نے ہار دی تھی۔۔۔آج وہ سب جیت چکاتھا۔
------------------------------------------
(ختم شُد)
------------------------------
اہل علم حضرات قلمی چوری سے پرہیز کریں۔
کاپی پیسٹ کی اجازت نہیں ہے۔


Nice boht shandaar likha h
ReplyDeleteNext episode??
ReplyDeleteNext? Waiting for anxiously
ReplyDeleteThis comment has been removed by the author.
ReplyDeleteاتنا عرصہ ہوگیا اب تو بیچاری کی شادی کروادو 🤕
ReplyDeleteNawazish mukhtasir se taveel hogyi bohut
ReplyDelete