(سائرہ غفار)
قسط نمبر 1
”بھائی آپ کا بہت بہت شکریہ۔“یہ اس کی روز کی عادت تھی۔
”ہاہاہا……“وہ دل سے ہنسے تھے:”ہوگیا اب فون بند کردوں؟“
”جی بس مجھے یہی کہنا تھا کہ علی احمد کے لئے آپ کا بہت شکریہ۔“اس کی آواز کی کھنک اس کے بھائی کو سکون دیتی تھی۔
”چلو ٹھیک ہے۔پھر بات کریں گے۔“بھائی نے مسکراتے ہوئے فون بند کیا۔
جب سے انہوں نے اپنی بہن کی شادی کی تھی وہ روزانہ فون کرتی اور اپنے بھائی کا شکریہ ادا کرتی کہ انہوں نے بہت اچھی جگہ بہن کی شادی کروائی ہے۔ اور بھائی روزانہ خوشی سے نہال ہوجاتے۔
………………٭٭٭………………
فضل الدین نادرہ بیگم کو جلدی کرنے کے لئے کہہ رہے تھے اور نادرہ بیگم اپنی تینوں بچیوں کو ہدایات سے رہی تھیں۔
”نایاب بیٹا تم گھر کے سارے دروازے کھڑکیاں چیک کرلینا……اور ماہم بیٹا تم ذرا بوا کا کمرہ سیٹ کرلو جلدی سے ڈسٹنگ کرلو اور ہاں چادریں بھی بد لو جلدی سے……ثمرہ …… ثمرہ……“ثمرہ دوڑتی ہوئی سامنے آئی:”ثمرہ بیٹا بہنوں کو تنگ مت کرنا۔ ٹھیک ہے۔“
”ارے بھئی جلدی کروناں ……“فضل الدین جھلا کر بولے۔
”جلدی کرو بیٹا پریشان مت ہونا تم لوگ……ہم لوگ صورتحال کا جائزہ لے آئیں پھر میں تم تینوں کو ساتھ لے جاؤں گا……ابھی تک تو مجھے خود بھی یقین نہیں آرہا۔“
”یقین تو مجھے بھی نہیں آرہا لیکن ہونی کو کون ٹال سکتا ہے بھلا۔“نادرہ بیگم نے پریشان لہجے میں کہا۔
”دروازہ بند کر لو بیٹا اور کسی کے لئے بھی مت کھولنا۔“فضل الدین نے نایاب کو دروازے تک آتے آتے ہدایت کی۔
فضل الدین اور نادرہ بیگم گھر سے باہر نکل کر گاڑی میں بیٹھے۔ نایاب نے اندر سے دروازے کو لاک کردیا۔
………………٭٭٭………………
فضل الدین اور نادرہ بیگم کی تین بیٹیاں تھیں۔ نایاب انیس سال کی، ماہم پندرہ سال کی اور ثمرہ دس سال کی تھی۔
فضل الدین اور نادرہ بیگم دونوں کے والدین کا انتقال ہوچکاتھا۔ نادرہ بیگم کے دونوں بھائی کینیڈا جبکہ بڑی بہن ملتان میں مقیم تھے۔جبکہ فضل الدین کی ایک ہی بہن جمیلہ تھی جو ان سے سات برس چھوٹی تھی۔جمیلہ اپنے نام کا ہو بہو عکس تھی وہ بے حد خوبصورت خاتون تھی۔ ان کی شادی فضل الدین نے بہت دھوم دھام سے اپنے ایک عزیز دوست عامر احمدکے بھائی علی احمدسے کی تھی۔ان کا ایک تین سال کا بیٹا تھا جس کا نام باسط تھا۔ آج اچانک علی احمد کا رضائے الٰہی سے انتقال ہوگیاتھا۔ جب سے فضل الدین اور نادرہ بیگم کو یہ اطلاع ملی تھی دونوں بہت پریشان تھے کیونکہ جمیلہ ان دونوں کی ہی بہت لاڈلی تھی۔ فضل الدین نے اگر ان کو باپ بن کر پالا پوسا تھا اور شادی کی تھی تو نادرہ بیگم نے بھی ہمیشہ ان کو اپنی بیٹی ہی سمجھا تھا۔ ان دونوں کو یقین نہیں آرہاتھا کہ ایسے ایک پل میں ایک ہارٹ اٹیک کسی کی زندگی اجاڑ کر اس میں ویرانیوں کا مسکن بنا سکتا ہے۔ وہ دونوں تینوں بچیوں کو گھر میں چھوڑ کر اسپتال جارہے تھے تاکہ صورت حال کا جائزہ لے سکیں۔
………………٭٭٭………………
جمیلہ دکھ اور صدمے کی کیفیت سے دوچار اپنے ننھے معصوم بلکتے ہوئے بیٹے کو سنبھالنے کی کوشش کرتے ہوئے خود بھی ہلکان ہوئی جارہی تھی۔ ننھا معصوم باسط بار بار اپنے ابو کے پاس جانے کی ضد کررہاتھا۔ فضل الدین نے اسے اپنی گود میں اٹھا لیا اور اسے چپ کرواتے ہوئے بولے:”روتے نہیں بیٹا۔آپ تو بہت اچھے بچے ہو بالکل نہیں رونا اب……“
مگر وہ مسلسل رو رہاتھا۔جمیلہ نادرہ بیگم کے شانے پہ سر ٹکائے مسلسل رو رہی تھی۔نادرہ بیگم خود بھی آنسو بہا رہی تھیں۔
فضل الدین کوہی سب کچھ دیکھنا تھا۔وہ ضبط کے کڑے مراحل سے گزرتے ہوئے اپنی اجڑی بہن کو بھی سنبھال رہے تھے اور اپنے مضطرب دل کو بھی جو معصوم بھانجے باسط کو دیکھ کر کٹا جارہاتھا۔ بے آواز بہہ آنے والے آنسوؤں کو مسلسل آنکھوں کے گوشوں سے رگڑنے کی وجہ سے ان کی آنکھیں لال ہوچکی تھیں۔وہ اسپتال کی ساری فارمیلیٹیز کو عامر احمد کے ساتھ مل کر نمٹا رہے تھے۔ علی احمد کی ڈیڈ باڈی کو گھر تک منتقل کرنے کے تمام انتظامات میں فضل الدین پیش پیش تھے۔ انہوں نے اپنی لاڈلی بہن کو پھولوں کی طرح پال پوس کر بڑا کیا تھا مگر وہ اسے زمانے کی دھوپ سے بچا نہیں سکتے تھے نہ ہی اس کا نصیب اپنے ہاتھوں سے لکھ سکتے تھے۔ ان کا بس چلتا تو وہ اس کے تمام آنسوؤں کو اپنے دامن میں جذب کرلیتے مگر وہ بے بس تھے۔ وہ خود بہت زیادہ دکھی تھے۔
………………٭٭٭………………
فضل الدین جمیلہ کو اپنے گھر لے آئے تھے اور ہر ممکن اس کی دلجوئی کرنے میں مصروف تھے۔باسط کو نایاب،ماہم اور ثمرہ نے سنبھال لیاتھا۔علی احمد کو گزرے چالیس دن پورے ہوچکے تھے۔ چالیسویں کے سلسلے میں قرآن خوانی کا سلسلہ چل رہاتھا۔ خواتین آرہی تھیں ……جارہی تھیں ……کچھ خواتین سپارہ پڑھ رہی تھیں ……کچھ خواتین یٰسین شریف پڑھ رہی تھیں ……کچھ خواتین پڑھ پڑھ کر تھک چکی تھیں اس لئے باتوں میں مصروف ہوگئیں تھیں ……غرض جتنی بھی خواتین آجارہی تھیں سب کی زبان پر یہی باتیں تھیں:”بیچاری جوانی میں ہی بیوہ گئی چچ چچ……“
”اب اس کا کیا ہوگا؟“
”بھائی کے سر پہ تو پہلے ہی تین بیٹیاں تھیں اب بہن بھی آگئی……“
”چچ چچ کتنا برا ہوا……“
ؔ”بچے کے ساتھ بہت ظلم ہوا……“
”بچہ رُل گیا……“
”اس کو چاہئے کہ کوئی جاب کر لے……“
”اسے بھائی بھابھی پہ بوجھ نہیں بننا چاہئے……“
”چچ چچ ……بڑا افسوس ہوا……“
”ارے طوبیٰ بھی تو بھری جوانی میں بیوہ ہوگئی تھی بیچاری کی زندگی بڑے عذاب میں گزری……“
ایسی سب باتیں سنتے سنتے جمیلہ جب تھک گئی تو ا س کا ضبط جواب دے گیا اور وہ سسک سسک کر رونے لگی۔نایاب بوا کے لئے دوڑ کر پانی لے آئی۔ نادرہ بیگم اسے چپ کروانے لگیں:”روتے نہیں بیٹا……بس جانے والے کو تکلیف ہوتی ہے۔تم تو اس سے محبت کرتی تھیں ناں تم نہیں چاہو گی کہ اسے تکلیف ہو۔ تو بس چپ ہوجاؤ۔“
”بھابھی میرے ساتھ ہی ایسا کیوں ہوا؟“وہ سسکیاں بھرتے ہوئے رو رہی تھی۔
”اللہ کے ہر کام میں مصلحت ہوتی ہے بیٹا ……ایسا نہیں کرتے……کفر ہوتا ہے۔“نادرہ بیگم سوائے تسلیاں دینے کے کر بھی کیا سکتی تھیں۔
جمیلہ کا رو رو کر برا حال ہو رہاتھا۔فضل الدین کسی کام سے اندر آئے تو انہوں نے اپنی لاڈلی بہن کو بلک بلک کر روتے دیکھا تو ان کا دل کٹ کر رہ گیا۔ انہوں نے جمیلہ کو اپنے سینے سے لگالیا:”میری پیاری بیٹی کیوں روتی ہے؟“
”فضل بھائی میں نے کیا گناہ کیاتھا؟“جمیلہ نے بھائی کے سینے سے سر اٹھا کر آنسوؤں سے بھیگی آنکھوں سے سوال کیا۔
”کچھ بھی نہیں کیا میری بیٹی نے……“فضل الدین نے جمیلہ کے آنسو صاف کئے۔ آنسومزید تواتر سے گرنے لگے۔
”پھر کیوں مجھے سزا مل رہی ہے؟“وہ سسکتے ہوئے بھائی کے کندھے پر ڈھے گئی۔آنسو کالر میں جذب ہونے لگے۔
”ہر کسی نے ایک نہ ایک دن چلے جانا ہے بیٹا……کسی نے آج کسی نے کل……جس کی فلائٹ آجائے گی اسے جانا پڑے گا بیٹا۔“وہ اس کے بالوں میں دھیرے دھیرے ہاتھ پھیر کر اسے تسلی دیتے رہے۔ پھر دیر تک وہ اسے سمجھاتے رہے۔ جمیلہ کی سسکیاں کم ہوگئیں۔ پھر بھائی کے تسلی بھرے لمس اور پیار بھرے انداز کی وجہ سے اسے نیند آگئی۔
فضل الدین نے اسے دھیرے سے خود سے الگ کر کے تکیہ پر سیدھا کر کے لٹا دیااور چادر اوڑھا دی۔ نادرہ بیگم کو انہوں نے اشارتاً کمرے سے باہر آنے کو کہااور دبے قدم کمرے سے باہر نکل آئے۔نادرہ بیگم باہر آئیں تو انہوں نے باسط کے متعلق پوچھا۔نادرہ بیگم نے بتایا کہ وہ نایاب،ماہم اور ثمرہ کے ساتھ ہے۔ اسی وقت شور سا اٹھا:”بابا بابا دیکھیں باسط کو کیا ہوگیا؟“
ثمرہ دوڑتی ہوئی آئی۔ نایاب اور ماہم کے چلانے کی آوازیں آنے لگیں۔ فضل الدین اور نادرہ بیگم فوراً ثمرہ کی معیت میں دوڑتے ہوئے صحن میں پہنچے جہاں باسط خون میں لت پت فرش پر گرا ہواتھا اور نایاب اور ماہم اسے ہوش میں لانے کی کوشش میں بے حال ہورہی تھیں۔
قسط نمبر 2
قسط نمبر 2
دونوں زور زور سے روئے جارہی تھیں۔ کچھ عورتیں ادرگرد جمع ہوگئی تھیں۔ اور باتیں کرنے لگیں۔
”ارے دیکھو تو بیچارے بچے کی ٹھیک سے دیکھ بھال بھی نہیں کرسکے……“
”چچ چچ بیچارہ بچہ……“
”پتہ نہیں جمیلہ کے لئے کیا کیا دکھ لکھے ہیں ……“
وغیرہ وغیرہ
فضل الدین نے فوراً باسط کو بانہوں میں اٹھایا۔ اس کا سر پھٹ گیا تھااور چلائے:”ثمرہ جلدی سے گاڑی کی چابی لاؤ۔ بھاگو۔“
ثمرہ دوڑ کر گئی اور چابی لے آئی۔ نایاب نے جلدی سے دروازہ کھول کر دیا۔ نادرہ بیگم نے باسط کو اپنی گود میں بٹھایا اور فضل الدین نے جلدی سے ڈرائیونگ سیٹ سنبھال لی۔
”بیٹا بوا کا خیال رکھنا۔ ہم جلدی آتے ہیں انشا ء اللہ۔“نادرہ بیگم نے چلتی گاڑی سے نایاب کو ہدایت دی۔
”جی امی……باسط کو ٹھیک کروا کے لائیے گا پلیز……“نایاب نے روتے ہوئے کہا۔
”بیٹا دیکھنا ابھی فی الحال بوا کو کچھ بھی نہ بتانا۔“فضل الدین نے گاڑی نکالتے نکالتے کہا تو نایاب صرف سر ہی ہلا پائی اور جلدی سے اندر چلی گئی۔ تینوں بہنوں نے اندر جھانک کر دیکھا تو جمیلہ ہنوز نیند میں تھی۔ انہوں نے خاموشی سے کمرے کا دروازہ بند کر دیا اور جو چند ایک خواتین رہ گئی تھیں ان کے پاس آکر لاؤنج میں بیٹھ گئیں۔ تمام خواتین جاننے کے لئے بے تاب تھیں کہ باسط کو چوٹ کیسے لگی۔ماہم ان کو تفصیل بتانے لگی۔
………………٭٭٭………………
نایاب نے ماہم سے کہا کہ چلو چل کر صحن سمیٹ لیتے ہیں۔ وہاں خواتین کے ساتھ آئے ہوئے بچوں نے کھا پی کر بہت سارا کچرا کردیاتھا تو وہ دونوں وہاں کی صفائی کرنے لگیں۔ اتنے میں ثمرہ آئی اور اس نے پوچھا:”نایاب آپی میں باسط کو لے کر چھت پر جاؤں؟“
”یہیں کھیلو اس کے ساتھ۔ اوپر مت جاؤ۔“ماہم نے کہا۔
”مگر آپی یہاں تو بہت گندا ہے اور اسے بخار بھی ہے۔“نایاب اور ماہم حیران ہوئیں۔
”اسے بخار ہے؟“نایاب نے آنکھیں پھاڑیں:”تم نے بتایا کیو ں نہیں؟بابا کو بتاؤ تاکہ وہ اسے ڈاکٹر کے پاس لے جائیں۔“
”میں نے امی کو بتایا تھا۔ انہوں نے پاپا سے پوچھ کر دوا دی تھی باسط کو۔ ابھی وہ بہتر ہے اور ضد کر رہاہے کہ مجھے چھت پہ لے چلو۔“ثمرہ نے تفصیل بتائی۔
”اچھا تم اور ماہم لے جاؤ اسے چھت پہ۔ میں ذرا یہ سمیٹ لوں پھر میں بھی چھت پہ آتی ہوں اور خیال رکھنا اس کا۔“نایاب نے جلدی جلدی ہدایات دیں۔
ماہم اور ثمرہ باسط کو گود میں اٹھائے چھت پر پہنچ گئیں۔ باسط بیچارہ اپنے ابو سے بہت زیادہ اٹیچ تھا اس لئے ان کے انتقال کے بعد وہ بہت زیادہ کمزور ہوگیاتھا۔ ہڈیوں کا ڈھانچا بن گیاتھا۔ آنکھیں اندر دھنس گئیں تھیں۔چھت پہ جا کر ثمرہ کے ساتھ وہ ایک بڑی سی گیند سے کیچ کیچ کھیلنے لگا۔کھیلتے کھیلتے گیند سیڑھیوں کی طرف گئی تو باسط گیند پکڑنے کو لپکا اور اس کا پاؤں سیڑھی سے پھسل گیا اور وہ نیچے آگرا۔ نیچے گرتے گرتے اس کے لبوں پہ صرف ”امی……ابو……امی……ابو……“کی ہی صدائیں تھیں۔ فضل الدین اور نادرہ بیگم اسے اسپتال لے گئے تھے۔ نایاب، ماہم اور ثمرہ بے چینی سے ان تینوں کا انتظار کر رہے تھے۔
………………٭٭٭………………
”باسط……باسط……“آدھے ایک گھنٹے بعد ہی جمیلہ کی کچی سی نیند ٹوٹ گئی تھی۔تما م خواتین اپنے گھروں کو جا چکی تھیں۔ جمیلہ اپنے بیٹے کو ڈھونڈنے کے لئے پورے گھر کا چپہ چپہ چھان رہی تھی:”نایاب بیٹا باسط کہاں ہے؟“
”بوا……وہ……وہ……باسط کو بابا باہر چکر لگوانے کے لئے لے گئے ہیں ……وہ بہت رو رہاتھا ناں اس لئے……“نایاب نے جلدی میں بہانہ گھڑا۔
”اچھا……“جمیلہ نے اچھا کو مایوسی سے کھینچا:”نجانے کیوں میرا جی بہت گھبرا رہاہے۔“وہ کھڑے کھڑے ایک دم سے بیٹھ گئی تو نایاب لپک کر بوا کو سنبھالنے کے لئے ان کے برابر میں آبیٹھی اور بہن کو آواز دی:”ثمرہ……جلدی سے پانی لے کے آؤ۔“
ثمرہ دوڑتی ہوئی آئی اور پانی کا گلا س نایاب کو تھمایا۔ ماہم بھی ساتھ آکر بیٹھ گئی اور بوا کے پیروں کی مالش کرنے لگی۔ نایاب نے جمیلہ کے منہ میں دو قطرے پانی کے ٹپکائے لیکن اس کی طبیعت نہیں سنبھل رہی تھی۔اس کی سانس پھولنے لگی تھی:
”فضل بھا……ئی……سے کہو……با……سط ……کو……لے کے آئیں ……جل……دی……“جمیلہ رو رہی تھی…… بول رہی تھی…… پریشان تھی……
”ماہم جلدی سے بابا کو فون کرو ناں ……“نایاب نے کہا تو ثمرہ دوڑتی ہوئی کمرے میں گئی اور موبائل سے کال ملانے لگی۔ اس نے فضل الدین کو جلدی جلدی جمیلہ کی صورتحال سے آگاہ کیا اور پھر سے آکر اسے تسلیاں دینے لگی۔
………………٭٭٭………………
باسط کے سر پہ پٹی بندھی ہوئی دیکھ کر جمیلہ کے ہاتھ پاؤں پھولنے لگے تھے:”یہ کیا ہوگیا میرے بچے کو؟“
”فضل بھائی یہ کیا ہوگیا؟“جمیلہ نے باسط کو اپنی گود میں چھپاتے ہوئے بھائی سے شکوہ کیا۔
”کچھ نہیں ہوا بس اللہ کا شکر ادا کرو ……ابھی بالکل ٹھیک ہے باسط۔“
جمیلہ اسے اپنے سینے سے لگا کر روتی رہی۔ نادرہ بیگم نے باسط کو اس سے زبردستی الگ کرکے نایاب کے حوالے کیا:”اسے لے جا کر لٹا دو بیٹا۔اور اس کے لئے جوس بناؤ۔“
”میں جوس نہیں پیوں گا آپی۔“باسط نایاب کی گود میں منمنایا۔
”جوس نہیں پیو گے تو دودھ پینا پڑے گا۔“نایاب اسے گود میں پچکارتے ہوئے بولی۔
”مجھے جام شیریں ڈال کر دیں دودھ میں۔“باسط نے اپنی پسند بتائی تو نایاب اسے لے کر کچن میں چلی گئی۔
جمیلہ اسے دیکھ دیکھ کر روئے جارہی تھی۔فضل الدین نے جمیلہ کے سر پر ہاتھ رکھا:”بس کرو بہن اللہ کا شکر ادا کرو کہ کوئی بڑ ا مسئلہ نہیں ہوا۔سب ٹھیک ہے۔“
نادرہ بیگم نے ہلکی سی آواز میں پوچھا:”کھانا لگا دوں؟“
فضل الدین نے اپنی بیوی کو غور سے دیکھا پھر اثبات میں سر ہلا دیا تو نادرہ بیگم نے اشارتاً جمیلہ کو دسترخوان پر لانے کا کہا۔ انہوں نے ہاں میں سر ہلا کر انہیں کھانا چننے کاا شارہ کیا۔نادرہ بیگم دوسرے کمرے میں جا کر کھانا چننے لگیں۔ تھوڑی دیر میں سب بچے جمع ہوگئے اور فضل الدین جمیلہ کو لے کر آئے۔دستر خوان کے اردگرد بیٹھے سبھی افراد کی نظریں جمیلہ کر اوپر ٹکی تھیں جو خاموشی سے اپنے سامنے رکھی خالی پلیٹ پر بنے نیلے پیلے پھولوں کو انہماک سے تک رہی تھی۔فضل الدین نے کھنکھار کر گلا صاف کیااور بولے:”جمیلہ بیٹا بسم اللہ کرو۔“
جمیلہ نے خالی خالی نظروں سے بھائی کو دیکھا پھر ایک دم سے نظر ان کی خالی پلیٹ پر پڑی پھر باری باری جمیلہ کی نظر سب کی خالی پلیٹوں پر پڑی۔ آخر میں ان کی نظر باسط کی پلیٹ پر پڑی تو باسط نے کہا:”امی بھوک لگی ہے۔کھانا کھاؤ ناں۔“
جمیلہ کی آنکھ سے ایک آنسو نکلا اور اس نے ہاں میں سر ہلاتے ہوئے اپنا ہاتھ سالن کے ڈونگے کی طرف بڑھایا۔
اس دن بہت دنوں بعد جمیلہ نے ڈھنگ سے کچھ کھایاتھا۔
اور اسی رات اسے نیند کے لئے بھی زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا۔
جمیلہ آہستہ آہستہ زندگی کے ساتھ سمجھوتہ کرنے میں کامیابی حاصل کرتی جارہی تھی۔
………………٭٭٭………………
جمیلہ نے عدت پوری ہوجانے کے بعدنادرہ بیگم اور فضل الدین کے بے حد اصرار پر ایک قریبی پارلر میں بیوٹیشن کا کورس کرنے کے لئے داخلہ لے لیا تھا۔بیوگی کی چادر اوڑھنے کے بعد گو کہ اس کا حسن سوگواریت میں بدل گیاتھا مگر پھر بھی ماند نہیں پڑا تھا۔بیوٹی پارلر میں بھی اس کے حسن کی دھوم مچ گئی تھی اور سب سیکھنے والی لڑکیاں اس کا میک اپ کرنا چاہتی تھیں۔ وہ لوگ چاہتی تھیں کہ جمیلہ ان کی ماڈل بن جائے مگر جمیلہ کویہ سب پسند نہیں تھا۔ اور میاں کے گزرجانے کے بعد تو اس نے ایک لپ اسٹک تک نہیں لگائی تھی۔جمیلہ کسی سے وہاں زیادہ بات چیت نہیں کرتی تھی نا ہی ا سنے کسی کو یہ بتایا کہ وہ بیوہ ہے۔ اسے کئی لڑکیوں نے اشاروں کنایوں میں کئی رشتے بتائے مگر وہ ان سب سے دور بھاگ جانا چاہتی تھی۔ سو اس نے ایک آدھ مہینے میں ہی پارلر کو خیر آباد کہہ دیا اور گھر میں نادرہ بیگم کا ہاتھ بٹانے لگی۔
………………٭٭٭………………
جمیلہ کو پارلر کو خیر آباد کئے ہوئے پندہ روز ہی گزرے تھے کہ ایک دن فضل الدین نے نادرہ بیگم کو اطلاع دی:”نادرہ بیگم اپنی نایاب کے رشتے کے سلسلے میں ایک فیملی آنا چاہتی ہے۔ اپنے صدیقی صاحب کے جاننے والے ہیں۔“
”ارے یہ تو بہت ہی اچھی خبر سنائی آپ نے……کیا کرتا ہے لڑکا؟“نادرہ بیگم کا اشتیاق سراٹھانے لگا۔
”لڑکا دبئی میں ملازمت کرتا ہے۔ فیملی میں صرف اس کی والدہ ہیں۔ والدہ بھی وہیں رہتی ہیں۔ اچھا کما لیتا ہے۔ صدیقی صاحب نے بتایا تھا کہ آج کل وہ ان کے گھر میں رہنے آئے ہوئے ہیں۔“
”اچھا……“نادرہ بیگم کا دبئی کا سن کر دل بیٹھنے لگا:”اتنی دوووور کا رشتہ……؟؟“
”قریب اور دور سے کچھ نہیں ہوتا بیگم بس لوگ اچھے ہونے چاہئیں اور آج کل تو فاصلے ویسے بھی سمٹ گئے ہیں۔ دبئی اب اتنا بھی دور نہیں رہا۔‘فضل الدین نادرہ بیگم کو سمجھانے لگے۔
”چلیں دیکھتے ہیں۔اللہ مالک ہے۔“نادرہ بیگم ہلکے سے بولیں۔
………………٭٭٭………………
اگلے ہی دن رضوا ن اپنی والدہ شمیم بی بی کے ساتھ ان کے گھر آیا۔ ان کی فیملی سے مل کر فضل الدین بہت زیادہ خوش ہوئے۔ رضوان ان کو بہت زیادہ پسند آیا۔نادرہ بیگم کے سارے اندیشے ان دونوں ماں بیٹے سے مل کر دور ہوگئے۔ ان کو اپنی بیٹی کا سنہرا اور روشن مستقبل صاف دکھائی دے رہاتھا۔وہ تو جھٹ پٹ ہاں کردینا چاہتی تھیں۔
”ارے میری ہونے والی بہو سے مجھے بھی تو ملواؤ۔میں نے تو اسے ابھی تک دیکھا ہی نہیں بس رضوان میاں نے کہا کہ ان کو پسند آگئی ہے لڑکی تو جھٹ سے صدیقی سے معلومات لیں اور پٹ سے پہنچ گئے۔“شمیم بی بی کافی باتونی تھیں۔
”جی ابھی بلواتے ہیں۔“نادرہ بیگم اٹھ کر چلی گئیں۔
چند ثانیوں کے بعد ہی نایاب کمرے میں داخل ہوئی۔ اس کو دائیں طرف سے نادرہ بیگم نے تھام رکھا تھا اور بائیں طرف سے جمیلہ نے تھام رکھاتھا۔رضوان احتراماً اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا اور اس نے بآواز بلند سلام کیا۔ جمیلہ نے مسکرا کر سلا م کا جواب دیا جبکہ نایاب نے دھیرے سے سر ہلا کر سلام کا جواب دیا۔
جمیلہ نایاب کے برابر میں بیٹھ گئی۔رضوان کی گہری نظریں بار بار اس کے سراپے میں الجھنے لگیں۔ فضل الدین نے نایاب کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے شمیم بی بی کو بتایا:”یہ ہماری بیٹی نایاب ہیں۔اور یہ ہماری بہن جمیلہ ہیں۔“بعد میں انہوں نے جمیلہ کے سر پر ہاتھ رکھا۔
رضوان نے ایک دم حیرانگی سے فضل الدین کو دیکھا پھر نادرہ بیگم کو دیکھا۔ اتنے میں شمیم بی بی اپنی جگہ سے اٹھ کر نایاب کے برابر میں جا کر بیٹھ گئی تھیں اور اس کے خدوخال کو پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھ رہی تھی۔ وہ نایاب سے سرگوشیوں میں کچھ باتیں بھی کرتی جارہی تھیں جو رضوان کے کانوں تک نہیں پہنچ رہی تھیں۔
رضوان نے خو دکو کمپوز کرتے ہوئے فضل الدین کو مخاطب کیا:”انکل مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے اکیلے میں۔“
فضل الدین اور باقی سبھی نے تعجب خیز نظروں سے اسے دیکھا پھر فضل الدین اپنی جگہ سے اٹھے اور اسے اشارے سے اپنے پیچھے آنے کا کہا اور کمرے سے باہر نکل گئے۔
………………٭٭٭………………
فضل الدین اسے مین گیٹ کے پاس لے آئے اور وہیں کھڑے ہوکر اسے سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگے۔
رضوان اپنے ہاتھوں کی انگلیاں مروڑتے ہوئے بولا:”انکل میں کیسے کہوں بہت ہی عجیب لگ رہاہے۔ آ پ برا تو نہیں مانیں گے ناں؟“
”برخوددار اگر بات برا ماننے والی ہوئی تو ضرور برا مانیں گے۔“فضل الدین نے سپاٹ لہجے میں جواب دیا۔
”انکل ……وہ……انکل……“
”صاف صاف بتاؤ کیا مسئلہ ہے بیٹا؟میں برا نہیں مانوں گا۔“فضل الدین نے نرم پڑتے ہوئے کہا۔
”انکل دراصل میں نے جس لڑکی کو دیکھا تھا وہ آپ کی بیٹی نہیں ہے……“رضوان نے ڈرتے ڈرتے جملہ مکمل کیا۔
قسط نمبر 3
”ہائیں؟؟؟یہ کیا بات ہوئی بھلا؟؟میں کچھ سمجھا
نہیں؟“فضل الدین پر حیرت کے پہاڑ ٹوٹ پڑے رضوان کی بات سن کر۔
”انکل دراصل میں نے آپ کی بیٹی کو نہیں دیکھا
تھا۔لیکن میں نے اس لڑکی کو آپ کے گھر میں داخل ہوتے اور یہاں سے نکلتے ہوئے دیکھا
تھا۔“رضوان کی وضاحت مبہم تھی۔
”مطلب تم نے ایک لڑکی کو میری بیٹی سمجھ لیا
اور اس کے رشتے کے سلسلے میں یہاں آئے ہو۔ یعنی کے میری بیٹی نایاب کے سلسلے میں تم
یہاں نہیں آئے۔“فضل الدین مکمل طور پر کنفیوزڈ ہوگئے تھے۔
”جی انکل وہ لڑکی آپ کی بیٹی نہیں ہے۔“رضوان
نے سر جھکا کر دھیمی آواز میں کہا گویا اپنی غلطی تسلیم کی۔
”انتہائی نامعقول انسان ہو میاں تم تو……چلو
اب نکلو یہاں سے۔“فضل الدین کا ایک دم پارہ چڑھ گیاتھا۔
”وہ……انکل……ایک اور بات بھی ہے۔“رضوان نے ڈرتے
ڈرتے ہلکی سی آواز میں کہا۔
”ہوں ……؟ وہ بھی کہہ چکو……ویسے بھی اب مجھے
تم سے کسی بھی معقول قسم کی بات کی امید تو ہے نہیں،جو بھی کہو گے فضول بات ہی ہوگی۔“فضل
الدین نے جان چھڑانے کے انداز میں کہا۔
”انکل وہ لڑکی آپ کی ……بہن ہے……“رضوان نے گویا
دھماکہ ہی کرڈالا تھا۔
”کیا……؟؟؟کیا کہا تم نے……؟؟؟“فضل الدین ایک
دم حیران بھی ہوئے اور ساتھ میں بدک بھی گئے۔
”جی انکل میں نے آپ کی بہن کو ہی دیکھا تھا۔
اور صدیقی صاحب سمجھے کہ میں آپ کی بیٹی کے متعلق بات کررہا ہوں۔“ رضوان کی وضاحت بالکل
صاف تھی:”یہ سب کچھ صرف ایک غلط فہمی کی وجہ سے ہوا ہے۔“
”تم جانتے ہو……وہ ایک بیوہ ہے……“فضل الدین کو
سمجھ نہیں آرہاتھا کہ وہ کیسے ری ایکٹ کریں۔ ا س بارے میں انہوں نے ابھی تک کچھ سوچا
نہیں تھا۔
”کیا؟“اب کے حیران ہونے کی باری رضوان کی تھی:”کیا
آپ سچ کہہ رہے ہیں؟“
”تم سچ مچ نامعقول انسان ہو میاں ……کوئی آدمی
ہوش و ہواس میں اپنی بہن کو بیوہ کہنے کے متعلق سوچ سکتا ہے بھلا؟سچ ہے تبھی بتا رہاہوں
……صرف یہی نہیں ایک اور بھی سچ ہے……سننا پسند کرو گے؟؟؟“فضل الدین سچ مچ برا مناگئے
تھے۔
”کیسا سچ؟“رضوان کو اپنی آواز دور سے آتی محسوس
ہورہی تھی۔
”میری بیوہ بہن کا ایک تین سال کا بیٹا بھی
ہے۔“فضل الدین نے ایک دھماکہ سا کیا تھا اور رضوان نے دیوار کا سہارا لے کر خود کو گرنے سے بچایا تھا۔
تھوڑی دیر تک فضل الدین رضوان کو خشمگیں نگاہوں
سے گھورتے رہے پھر رضوان اندر کمرے میں گیا اور اپنی والدہ کو اپنے ساتھ لئے فوراً
روانہ ہوگیا۔فضل الدین اسے جاتا دیکھتے رہے۔
………………٭٭٭………………
”کیا کہہ رہاتھا رضوان؟“رضوان کے جانے کے بعد
نادرہ بیگم نے فضل الدین سے پوچھا۔
”تمہارا کیا خیال ہے کیا کہہ رہاہوگا؟“فضل الدین
نے ان کی سوچ کی پرواز جاننی چاہی۔
نادرہ بیگم نے سوچتے ہوئے کہا:”کیا جہیز کے متعلق
بات کررہاتھا؟لیکن ایسا لگ تو نہیں رہاتھا۔“
فضل الدین نے نفی میں سر ہلایا:”نہیں جہیز تک
تو بات پہنچی ہی نہیں ……“
”پھر؟“نادرہ بیگم کی سوئی اٹک گئی تھی۔ فضل
الدین نے بیگم کو غور سے دیکھا پھر ایک دم پوچھا:”تمہارے خیال میں رضوان کیسا لڑکا
ہے؟“
”مجھے تو رضوان بہت اچھا لگا۔اس کی ماں بھی
اچھی خاتون ہیں۔اور ان کو تو نایاب بہت ہی زیادہ پسند آئی۔“نادرہ بیگم کو یہ رشتہ بھا
گیا تھا۔
”لیکن نایاب وہ لڑکی نہیں ہے جسے دیکھ کر رضوان
اس گھر میں رشتے کی بات کرنے آگیا تھا۔“فضل الدین نے بھی گھما پھر ا کر بات کی۔
”کیا مطلب؟“نادرہ بیگم الجھ کر بولیں۔
”مطلب یہ کہ وہ کسی اور لڑکی کو میری بیٹی سمجھا
تھا۔دراصل……“فضل الدین سانس لینے کو رکے:”اس نے جمیلہ کو میری بیٹی سمجھ لیاتھا۔ وہ
اصل میں جمیلہ کے رشتے کے سلسلے میں آیاتھا۔“
نادرہ بیگم کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا:”یہ آپ
کیا کہہ رہے ہیں؟“
”سچ کہہ رہا ہوں بھئی……“
”لیکن ایسا کیسے ہوسکتا ہے؟“
”کیسے ہوسکتا ہے مطلب؟“
”مطلب وہ جانتا تھا کہ جمیلہ بیوہ ہے؟“
”نہیں ……جانتا تو نہیں تھا لیکن میں نے اسے
بتا دیاہے۔یہ بھی بتا دیاہے کہ اس کا ایک بیٹا بھی ہے۔“
”پھر……؟؟کیا کہا اس نے؟؟“نادرہ بیگم کا دل انجانے
وسوسوں سے بھرنے لگا۔
”پھر ……“وہ سوچ میں پڑ گئے:”اس نے کوئی جواب
نہیں دیا۔“نادرہ بیگم کی اٹکی ہوئی سانس جیسے بحال ہوگئی تھی۔
”سنو……؟“
”جی۔“
”بچیوں سے اس بات کا ذکر نہیں کرنا۔“
”جی ٹھیک ہے نہیں کروں گی۔“
وہ
دل ہی دل میں دعا کر رہی تھیں کہ اتنا اچھا رشتہ ہے یہاں نایاب کے علاوہ کسی اور کی
شادی نہ ہوجائے۔ان کے ذہن میں چند ایک باتیں چل رہی تھیں وہ سوچ رہی تھیں کہ کیسے شمیم
کے ساتھ تعلقات مضبوط کر کے ان دونوں کی شادی خانہ آبادی سر انجام دیا جائے۔جبکہ نادرہ
بیگم کے پہلو میں بیٹھے ان کئے میاں فضل الدین کسی اور ہی سوچ میں غلطاں تھے۔
………………٭٭٭………………
”انکل انکل……فضل الدین انکل……“فضل الدین آواز
سن کر ٹھٹک کر رک گئے۔ وہ رضوان کی آواز پہچان گئے تھے۔
رضوان صدیقی صاحب کے ساتھ تیز تیز چلتا ہوا ان
کے سامنے آکھڑا ہوا۔فضل الدین ان دونوں کو چپ چاپ دیکھنے لگے۔
”السلام اعلیکم کیسے ہیں فضل بھائی آپ؟“صدیقی
صاحب بغل گیر ہوئے۔
”وعلیکم السلام الحمدللہ ……آپ کیسے ہیں؟“فضل
الدین نے اپنے لہجے میں گرم جوشی سمونے کی کوشش کی۔
”السلام اعلیکم انکل……“رضوان نے مصافحہ کے لئے
ہاتھ آگے بڑھایا۔
”وعلیکم السلام۔“فضل الدین نے رضوان سے ہاتھ
ملایا۔
”فضل الدین صاحب اگر آپ کے پاس چند منٹ ہوں
تو کیا ہم کہیں بیٹھ کر بات کرلیں؟“صدیقی صاحب نے کہا۔
”میرے گھر آجائیے۔“فضل الدین نے اپنے گھر کی
جانب اشارہ کیا۔
”نہیں۔کسی اور جگہ سکون سے بیٹھ کر بات کرنی
ہے۔“صدیقی صاحب کے انداز پہ فضل الدین نے ٹھٹھک کر ان کو پھر رضوان کو دیکھا جو کسی
فرمانبردار بچے کی طرح بالکل خاموش کھڑا سب سن رہاتھا۔
”آپ بتا دیں کہاں بیٹھ سکتے ہیں بات کرنے کے
لئے؟“فضل الدین نے آرام سے جواب دیا۔
”چلئے پھر پٹھان کے
ہوٹل پہ ایک ایک کپ چائے کا ہوجائے۔“صدیقی صاحب نے فیصلہ کرتے ہی آگے کی جانب قدم بڑھانا
شروع کردئیے اور وہ دونوں صدیقی صاحب کی معیت میں پٹھان کے ہوٹل پہنچ گئے اور ایک کونے
والی میز پر براجمان ہوگئے۔
صدیقی صاحب نے چائے کا آرڈر دیا اور تینوں اِدھر
اُدھر کی باتیں کرنے لگے۔ اتنے میں چائے آگئی۔ چائے کی چسکی لیتے ہوئے صدیقی صاحب نے
بات کا آغاز کیا:”فضل الدین صاحب آپ کے گھر شمیم بہن اور رضوان آئے تھے میں معذرت چاہتا
ہوں کہ کچھ غلط فہمی کی بناء پر تھوڑی بات بگڑگئی۔“
فضل الدین خاموشی سے ان کو دیکھتے رہے۔
”دراصل میں نے بچی کو دیکھا نہیں تھا بس رضوان
نے کہا کہ اس نے آپ کے گھر آتے جاتے دیکھا تو میں سمجھا آپ کی بیٹی ہے۔دراصل آپ کی
بہن کی طرف میرا دھیان ہی نہیں گیاتھا۔میں بہت زیادہ معذرت خواہ ہوں۔“صدیقی صاحب چائے
کے کپ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہتے جارہے تھے۔
”کوئی بات نہیں صدیقی صاحب۔سب کچھ غلط فہمی
کی بنیاد پر ہوا۔ آپ اس بات کوبھول جائیں۔“فضل الدین نے کہا۔
”دراصل رضوان آپ کی بہن سے شادی کرنا چاہتا
ہے۔“صدیقی صاحب کی بات پہ فضل الدین نے چونک کر انہیں دیکھا۔
”دیکھیں اس میں کوئی قباحت بھی نہیں۔ بیوہ ہیں
تو کیا ہوا شادی کرسکتی ہیں۔“
”میں اپنی بہن کی شادی کے خلاف نہیں ہوں۔ لیکن
میں گھر میں کیسے کہوں گا کہ جو لڑکا میری بیٹی کا رشتہ لایا تھا وہی رشتہ میری بہن
کے لئے قبول کرلو۔میرے لئے دونوں برابر ہیں میری بیٹی اور بہن بھی مگر ……“فضل الدین
کشمکش میں مبتلا تھے۔
”اگر مگر کچھ نہیں فضل بھائی۔آپ کی بہن کا گھر
بس جائے گا تو سب سے زیادہ خوشی بھی آپ ہی کو ہوگی ناں۔“صدیقی صاحب کا مطالبہ زور پکڑ
رہاتھا۔
”کہتے تو آپ ٹھیک ہیں۔میں بھی چاہتا ہوں کہ
میری بہن کو دنیا بھر کی خوشیاں نصیب ہوں۔ اور مجھے تو رضوان کا رشتہ پسند بھی بہت
آیا تھا۔“فضل الدین نے نرم نگاہوں سے رضوان کو دیکھا تو وہ مسکرا دیا۔
”لیکن انکل امی……“رضوان نے صدیقی صاحب کو کوڈ
ورڈ ز میں کچھ یاد دلایا۔
”ہاں فضل بھائی بس ایک مسئلہ ہے۔ شمیم بہن کو
پتا نہ چلے کہ جمیلہ بیٹی بیوہ ہیں اور ان کا بیٹا بھی ہے۔“صدیقی صاحب نے جھجھک کر
اپنا مدعا بیان کیا۔
”کیوں؟ہم جھوٹ کیوں بولیں؟“
”پلیز انکل……امی نہیں مانیں گی پلیز انکل……آپ
مان جائیں ناں۔“رضوا ن نے التجا کرتے ہوئے فضل الدین کے ہاتھوں کو تھام لیا۔فضل الدین
نے فوراً اپنے ہاتھ چھڑاتے ہوئے کہا:”لیکن میں ایسا کیوں کروں بھئی؟“
”انکل میری امی پرانے خیالات کی مالکن ہیں وہ
اس بات کو کبھی قبول نہیں کریں گی کہ میں کسی بیوہ سے شادی کر لوں۔“
رضوان بے بسی سے بولا۔
”صدیقی صاحب رضوان بہت اچھا اور نیک بچہ ہے۔
میں اس کی ضمانت لیتا ہوں آپ کو کبھی کوئی پریشانی نہیں ہوگی آپ صرف ایک بات پہ کمپرومائز
کرلیں۔“صدیقی صاحب نے پھر سے زور ڈالنا شروع کردیا۔
”یہ ایک کمپرومائز کی بات نہیں ہے صدیقی صاحب۔
اس کا ایک بیٹا بھی ہے جیتا جاگتا بیٹا……آپ نے سوچا کہ اگر آپ جمیلہ کو کنواری ظاہر
کریں گے تو اس کا بیٹا کہاں جائے گا؟؟“
”اسے آپ اپنا بیٹا ظاہر کردیجئے گا ناں؟“صدیقی
صاحب سب سوچ کر آئے تھے:”وہ آپ کی فیملی سے اٹیچڈ بھی بہت ہے اسے کوئی مشکل پیش نہیں
آئے گی۔“
”کمال ہے……واہ بھئی واہ……آپ ایک تین سال کے
معصوم بچے کو اس کی ماں سے الگ کرنے کے متعلق سوچ بھی کیسے سکتے ہیں صدیقی صاحب؟؟“فضل
الدین صاحب نے اٹھنے کی کوشش کی لیکن صدیقی صاحب نے ان کو پکڑ کر پھر بٹھا دیا۔
”یہ سب آپ اپنی بہن کے روشن مستقبل کے لئے کریں
گے فضل الدین صاحب۔آپ کی بہن کو ایک نیک اور مخلص جیون ساتھی مل جائے اس سے بڑھ کر
آپ بھی اور کیا چاہیں گے؟“
”نہیں میں ایک جھوٹ کی بنیاد پر رشتہ نہیں کرنا
چاہوں گا اور سب سے بڑی بات یہ کہ میں کسی بھی صورت میں ماں اور بیٹے کو جدا نہیں کرسکتا۔
ماں کا مستقبل سنوارنے کے لئے میں بیٹے کا مستقبل خراب نہیں سکتا۔“فضل الدین نے حتمی
انداز میں بات ختم کی اور اٹھ کر لمبے لمبے ڈگ بھرتے پٹھان کے ہوٹل سے باہر نکل گئے۔
رضوان اور صدیقی صاحب ایک دوسرے کا منہ دیکھنے
لگے۔
………………٭٭٭………………
نادرہ بیگم نے فضل الدین کے سامنے چائے کا کپ
رکھا تو وہ کسی گہری سوچ میں گم نظر آئے۔ نادرہ بیگم نے ان کو کئی بار آواز دی مگر
وہ اپنی سوچ میں گم رہے۔ بالآخر نادرہ بیگم نے ان کا کندھا ہلایا تو وہ چونک گئے :”کس سوچ میں گم ہیں آپ؟ چائے لیں۔ٹھنڈی ہورہی ہے۔“
”ہوں ……“فضل الدین نے چائے کا کپ اٹھانے کے
بجائے خالی گلاس اٹھا لیا اور خاموشی سے پینے لگے۔
نادرہ بیگم نے ایک دم ان کے ہاتھ سے خالی گلاس
چھینا تو فضل الدین نے غصے سے ان کو دیکھا۔
”کیا کررہے ہیں آپ؟چائے کے بجائے خالی گلاس
کیوں پی رہے ہیں؟“نادرہ بیگم نے تشویش بھرے انداز میں پوچھا تو فضل الدین نے غور کیا
اور پھر سر پر ہاتھ مارا:”لگتا ہے کہ میں پاگل ہوگیا ہوں۔“
”کیا بات ہے آخر؟ آپ اس قدر پریشان کیوں ہیں؟“نادرہ
بیگم نے فضل الدین کا ہاتھ پکڑتے ہوئے پوچھا۔وہ سچ مچ بہت پریشان تھیں۔
”آج صدیقی صاحب سے ملاقات ہوئی تھی۔“فضل الدین
نے بات ادھوری چھوڑ کر نادرہ بیگم کے چہرے کو دیکھا جہاں پریشانی کے ڈیرے صاف جمے نظر
آرہے تھے۔وہ خاموشی سے فضل الدین کو پریشان نظروں سے دیکھتی رہیں کچھ بولیں نہیں۔ فضل
الدین نے ساری بات تفصیل سے بتانے کا فیصلہ کیا اور سارا قصہ من و عن نادرہ بیگم کے
گوش گزار کردیا۔
”اب تم بتاؤ کہ کیا کرنا چاہئے؟“فضل الدین نے
نادرہ بیگم کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پوچھا۔
نادرہ بیگم ساری تفصیل سن کر گنگ رہ گئیں تھیں۔
”بولو ناں بیگم کچھ مشورہ تو دوبھلا؟“فضل الدین
کو سچ مچ ایک مخلص مشورے کی ضرورت تھی۔
”میں کیا کہوں میں تو کچھ اور ہی سوچ رہی تھی۔لیکن……؟؟“نادرہ
بیگم نے بات ادھوری چھوڑ دی۔ان کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ فضل الدین سے اپنی سوچ
شیئر کریں کہ نہیں۔
”تم کیا سوچ رہی تھیں؟“فضل الدین کے سوال پر
نادرہ بیگم تذبذب میں مبتلا ہوگئیں تھیں۔
”بیگم آپ کو جو بھی سوچ کھائے جارہی ہے پلیز
مجھ سے شیئر کریں۔ میں نے بھی تو آپ سے کچھ بھی نہیں چھپایا ناں۔“فضل الدین کی اس بات
پہ نادرہ بیگم کی کچھ ڈھارس بندھی اور انہوں نے اپنے دل کی بات کہنا شروع کی۔
”دراصل مجھے تو رضوان اور اس کی امی بہت ہی
اچھے لگے تھے اور میں دل سے چاہ رہی تھی کہ ہماری نایاب کی شادی یہاں ہوجائے۔ میں نے
تو دل ہی دل میں بہت سی پلاننگ بھی کر لی تھی۔ شمیم بی بی کو بھی نایاب بہت پسند آئی
تھی۔ میں تو چاہ رہی تھی کہ میں شمیم بی بی سے تعلقات مضبوط کر کے یہ رشتہ پکا کروالوں۔
لیکن……اب یہ جمیلہ کا مسئلہ ہوگیا ہے بیچ میں۔“ نادرہ بیگم نے جمیلہ کا ذکر کرتے ہوئے
فضل الدین کو کن اکھیوں سے دیکھا مگر وہ نادرہ بیگم کی باتیں سن کر گہری سوچ میں غرق
ہوچکے تھے۔نادرہ بیگم دوبارہ گویا ہوئیں:”ویسے مجھے اس بات پہ کوئی بھی اعتراض نہیں
کہ جمیلہ کی شادی ہونی چاہئے۔ وہ جوان ہے اس کو پورا حق ہے لیکن رضوان سے شادی کے میں
حق میں نہیں ہوں۔“نادرہ بیگم نے بات پوری کر کے پھر سے ایک لمحے کے لئے کن اکھیوں سے
اپنے میاں کو دیکھا۔ فضل الدین نے بھی ایک نظر اپنی بیوی کو دیکھا اور پھر سے کسی سوچ
میں گم ہوگئے۔
………………٭٭٭………………
کچھ دنوں سے جمیلہ محسوس
کررہی تھی کہ نادرہ بیگم کا موڈ ٹھیک نہیں ہے۔
وہ اس سے بات تو کرتی ہیں مگر ایسے جیسے نہیں
کرنا چاہتی ہوں۔ ویسے تو نادرہ بیگم نے جمیلہ کو ماں بن کر پالا تھا اور بہت ہی لاڈوں
سے رکھا تھا مگر آج کل وہ دیکھ رہی تھی کہ نادرہ بیگم کا رویہ کبھی طنزیہ ہوتا ہے تو
کبھی وہ خوامخواہ غصے میں آجاتی ہیں تو کبھی منہ پھیر لیتی ہیں۔ جمیلہ کو ابتدا میں
تو نادرہ بیگم کا رویہ سمجھ ہی نہیں آیا لیکن آہستہ آہستہ اسے تکلیف ہونے لگی کیونکہ
اسے اِس در سے ہمیشہ پیار ہی ملا تھا۔ کبھی ہلکی سی ڈانٹ بھی نہیں ملی تھی تو وہ کیسے
نادرہ بیگم کے رویے سے مایوسی کا شکار نہ ہوتی۔
کچھ دن تک تو نادرہ بیگم نے جمیلہ کے ساتھ یہی
رویہ روا رکھا پھر آہستہ آہستہ ان کی زبان سے تکلیف دہ باتیں بھی نکلنے لگیں۔ نادرہ
بیگم نہیں جانتی تھیں کہ وہ جمیلہ پر جو نشتر گرا رہی ہیں وہ اس کے دل کے آرپار ہوجاتے
ہیں۔پھر جمیلہ نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنے بھائی سے بھابھی کے رویے کے متعلق بات کرے گی
اوراگر کوئی مسئلہ ہوا تو اپنی رہائش اور خرچے کا مسئلہ حل کرنے کی کوشش بھی کرے گی
کیونکہ اس وقت تک جمیلہ کے ذہن میں صرف یہی بات تھی کہ اس کے بیوہ ہوجانے کی وجہ سے
ان ماں بیٹے کا سارا خرچہ فضل الدین پر آگیا ہے اسی لئے شاید بھابھی اس سے خائف ہیں
مگر وہ اصل بات سے ناواقف تھی۔
………………٭٭٭………………
صدیقی صاحب نے فضل الدین کو فون کر کے بتایا
کہ رضوان اور اس کی ماں شمیم بی بی دس دن کے بعد دبئی واپس جا رہے ہیں۔ اور شمیم بی
بی ان کے گھر آنا چاہتی ہیں۔فضل الدین کافی دیر تک سوچتے رہے اور صدیقی صاحب ہیلو ہیلو
کرتے رہ گئے۔ پھر فضل الدین نے ان سے سوچنے کے لئے ایک دو دن کا وقت مانگا۔ابھی صدیقی
صاحب سے بات ختم کر کے انہوں نے فون رکھا ہی تھا کہ رضوان کی کال آگئی۔ اس نے اپنی
ماں سے بات کروانے کے لئے کال کی تھی۔
”کیسے ہیں آپ فضل بھائی؟“شمیم بی بی نے خوش
دلی سے پوچھا۔
”جی میں ٹھیک ہوں، اللہ کا کرم ہے۔ آپ سنائیے؟“فضل
الدین نے اخلاقاً پوچھا۔
”جی میں بھی ٹھیک ہوں۔ لیکن میں آپ سے ناراض
ہوں۔“شمیم بی بی نے مصنوعی خفگی سے کہا۔
”کیوں؟آپ کیوں ناراض ہیں؟“فضل الدین نے سنبھل
کر پوچھا۔
”ارے ہم سے غلطی سے ایک غلطی ہوگئی تو کیا آپ
ہم سے رشتہ نہیں جوڑیں گے؟“
”کیا مطلب؟“
”مطلب یہ کہ صدیقی صاحب نے آپ کی بہن کے سلسلے
میں آپ سے بات کی تھی……غلط فہمی ہوجانے کی وجہ سے ہم نے آپ کی بیٹی کا ہاتھ مانگ لیا
تھا۔ ہم معذرت خواہ ہیں آپ کا دل دکھا رہے ہیں لیکن ہمیں معلوم ہی نہیں تھا جمیلہ آپ
کی بیٹی نہیں بہن ہیں۔“شمیم بی بی ندامت آمیز لہجے میں صفائیاں دے رہی تھیں۔
”ارے بہن آپ کو شرمندہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔
بس یہ سب تو ایک غلط فہمی ہی تھی۔“فضل الدین نے بڑک پن کا ثبوت دیا:”میری ابھی آپ سے
پہلے صدیقی صاحب سے ہی بات ہورہی تھی وہ بھی رضوان کے رشتے کے سلسلے میں ہی بات کرنا
چاہتے تھے۔ میں نے ان سے د و تین دن کا وقت مانگا ہے سوچنے اور گھر میں مشورہ کرنے
کے لئے۔“
”فضل بھائی آپ دو دن لے لیں۔ تیسرے دن میں ہاں
سنوں گی بس……اور دس دنوں تک ہیں ہم پاکستان میں۔ جانے سے پہلے میں نکاح کر وا کر جاؤں
گی۔ پھر پیپرز آنے کے بعد ہم اپنی امانت لے جائیں گے۔“شمیم بی بی نے سارا پروگرام بنا
کر رکھا تھا۔ فضل الدین نے دل میں سوچا کہ فون پٹخ دے مگر رضوان انہیں خود کو بھی بہت
پسند تھا اور پھر صدیقی صاحب نے انہیں اشاروں کنایوں میں سمجھایا تھا کہ بیوہ عورت
کے لئے ایسا کنوارہ کماؤ پوت ملنا بہت مشکل کام ہے۔ آج کل تو کنواری لڑکیوں کے لئے
اچھا رشتہ ملنا مشکل ہے اور جمیلہ تو پھر بیوہ ہے۔
فون بند کرنے کے بعد سے فضل الدین صدیقی صاحب
کی بتائی ہوئی مثالوں پر غور کررہے تھے۔
پہلی مثال ان کے محلے کے ہی عالم صاحب کی بیٹی
تھیں جو بیوہ ہوکر تین بچوں کے ساتھ ان کے گھر آگئیں تھیں۔ بیٹی کی بیوگی نے ماں باپ
کی کمر توڑ دی تھی۔ پہلے مسسز عالم اور پھر دو ہفتے بعد ہی عالم صاحب بھی اس جہان فانی
سے کوچ کر گئے۔بیوہ بہن کو بھائیوں نے اوپر کے کمرے میں شفٹ کردیا۔ اور اسے اپنا خرچہ
خود اٹھانے کا الٹی میٹم جاری کرتے ہوئے اوپر کے کمرے کا کرایہ بھی وصولنے لگے۔وہ بیوہ
خاتون اپنے بچوں کی خاطر ایک اسکول میں ملازمت کرنے لگیں یوں اپنا اور اپنے بچوں کا
پیٹ پالنے لگیں۔
دوسری مثال صدیقی صاحب کی اپنی ایک کزن کی تھی
جو ادھیڑ عمر میں بیوہ ہو گئیں۔ ان خاتون کی کوئی اولاد نہیں تھی لیکن ان کے میاں نے
بہت ساری جائیداد چھوڑی تھی۔ان خاتون کے میاں کے ایک کزن نے ان سے جائیداد کے لالچ
میں سہارا دینے کی آڑ میں شادی رچا لی اور پھر جائیداد اپنے نام کروا کر ان کے ہاتھ
میں طلاق کے کاغذ تھما کر نکل گیا۔اب وہ خاتون اپنے بھائیوں کے در پر ٹھوکریں کھاتی
ہیں۔
فضل الدین یہ دونوں مثالیں سن کر جھرجھری لے
کر رہ گئے۔ وہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ ان کی بہن کے ساتھ کبھی کچھ غلط ہو۔لیکن وہ
اس کے نصیب کے دکھ کو روک نہیں سکتے تھے۔وہ
اسے بیوگی کے دکھ سے بھی نہیں بچا پائے تھے۔وہ اپنی بہن کے مستقبل کو لے کر بہت زیادہ
پریشانی میں مبتلا ہوگئے تھے۔
………………٭٭٭………………
”یہ تم کیا کہہ رہی ہو؟ایسا کیسے ہوسکتا ہے؟وہ
تو تمہاری ماں ہے۔“فضل الدین نے تعجب سے جمیلہ کو دیکھا تھا۔
”بھائی میں آپ سے کبھی بھی یہ بات نہ کہتی لیکن
میں ایک ہفتے سے سخت اذیت میں ہوں۔مجھے نہیں سمجھ آتی کہ میں نے ایسا کیا کیا ہے کہ
میں اچانک سے بھابھی کی نظروں میں گر گئی ہوں۔“جمیلہ بے بسی سے اپنی انگلیاں مروڑ رہی
تھی۔
”اچھا چلو میں نادرہ سے بات کرتا ہوں۔ پوچھتا
ہوں کہ کیا مسئلہ ہے؟“فضل الدین نے اسے تو دلاسہ دے دیاتھا لیکن وہ اندر ہی اندر خوفزدہ
تھے کہ نجانے پٹاری سے کیا بات نکلے گی۔
رات کو جب نادرہ بیگم کمرے میں چائے لے کر آئیں
تو فضل الدین کمرے میں بے چینی سے ٹہل رہے تھے۔نادرہ بیگم کو دیکھ کر وہ کرسی پہ بیٹھ
گئے۔ نادرہ بیگم نے چائے میز پر رکھی اور پوچھا:”طبیعت تو ٹھیک ہے ناں آپ کی؟“
”جی میری تو ٹھیک ہے لیکن میرا خیال ہے کہ آ
پ کی طبیعت ناساز ہے۔“
”جی؟کیا مطلب؟“
”مطلب یہ کہ آپ جمیلہ کے ساتھ کیا کر رہی ہیں؟“
”جیسی کرنی ویسی بھری فضل الدین صاحب……“نادرہ
نے منہ بنا کر نخوت سے کہا تو فض الدین حیران ہوگئے:”کیا مطلب ہے اس بات کا؟؟؟کیا کیا
ہے میری بہن نے؟“
”آپ کی بہن نے میری
بیٹی کی خوشیوں پر شب خون مارا ہے……“نادرہ بیگم کے ان الفاظ پر فضل الدین ایک دم اپنی
جگہ سے اٹھ کھڑے ہوئے اور ان ہاتھ اٹھا وہ چلائے”نادرہ“ لیکن ان کا ہاتھ ہوا میں ہی
معلق رہ گیا۔ ان کی لال بھبھوکا آنکھیں ابل آئیں تھیں اور ان کے چہرے پر شدید غصے کے
آثار تھے۔
قسط نمبر 4
”بس اسی کی کسر باقی رہ گئی تھی۔“نادرہ بیگم کی آنکھوں سے موٹے موٹے آنسو گرنے لگے۔وہ دوپٹے میں منہ چھپا کر رونے لگیں۔
فضل الدین کرسی پہ گرنے کے انداز میں بیٹھ گئے اور دونوں ہاتھوں سے اپنا سر پکڑ لیا:”یہ تم نے کیا کر دیا نادرہ بیگم…… یہ تم نے کیا کردیا……“
”میں نے……؟؟میں نے کیاکیا ہے؟؟جو بھی کیا دھرا ہے آپ کی بہن کا ہے۔ اچھا بھلا میری بیٹی کا رشتہ آیا تھا لیکن آپ کی بہن سے برداشت نہیں ہوا۔“فضل الدین کو آج نادرہ بیگم کے الفاظ صرف الفاظ نہیں لگ رہے تھے بلکہ خنجر لگ رہے تھے۔
انہوں نے تاسف سے بیوی کو دیکھا:”جمیلہ کو تو کچھ معلوم ہی نہیں ہے۔ تم اس معصوم پہ کیسے گھٹیا الزام لگا رہی ہو۔ یہ سب انجانے میں ہوا ہے۔ لیکن جو بھی ہوا کم از کم میری آنکھیں کھل گئیں۔ تمہارا اصل روپ میرے سامنے آگیا۔“
”میرانہیں آپ کی بہن کا اصل روپ سامنے آگیا ہے۔ اور میں بھی دیکھتی ہوں کہ آپ یہ شادی کیسے کرواتے ہیں۔“نادرہ بیگم کا یہ روپ فضل الدین نے اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھاتھا۔ وہ حیران الگ تھے پریشان الگ تھے۔ نادرہ بیگم غصے سے کمرے سے باہر نکل گئیں اور فضل الدین دل ہی دل میں سوچ رہے تھے:”مجھے نادرہ سے یہ توقع نہیں تھی۔ میں سمجھتا تھا کہ وہ جمیلہ کی ماں ہے مگر آج اس نے بتا دیا کہ وہ صرف بھابھی ہے۔ابھی میں زندہ ہو ں تو وہ جمیلہ کو طعنے دے رہی ہے میری آنکھیں بند ہوگئیں تو پھر نجانے وہ جمیلہ کا کیا حال کرے گی۔ نادرہ تو غلط فہمی کو بنیا دبناکر غلط ہی سوچے جا رہی ہے نجانے اس عورت کو کب عقل آئے گی۔ مجھے جمیلہ کے لئے اس کے بہتر مستقبل کے لئے کوئی نہ کوئی فیصلہ تو لینا ہی پڑے گا۔ دل پہ پتھر رکھ کر میں اس کے بارے میں جھوٹ تو بول دوں مگر باسط کا کیا کروں ……یا اللہ میری مدد فرما……یا اللہ تو ہی مجھے کوئی راستہ دکھا دے۔“
اللہ کی یاد کا دل میں خیال آتے ہی فضل الدین نے جلدی سے اٹھ کر وضو کیا اور جانماز بچھا کر صلوٰۃ الحاجات پڑھنے میں مصروف ہوگئے۔
………………٭٭٭………………
اگلے دن فضل الدین بنا ناشتہ کئے گھر سے نکل گئے اور آفس چلے گئے۔آفس میں ان کا دل نہ لگا تو انہوں نے صدیقی صاحب کو کال کر کے پٹھان کے ہوٹل میں بلا لیا اور خود بھی وہاں پہنچ گئے۔صدیقی صاحب کے آنے کے بعد بھی وہ بہت دیر تک خاموش بیٹھے رہے۔ آخر کار صدیقی صاحب نے ہی خاموشی توڑی:”تو آپ نے فیصلہ کر لیا؟“
”فیصلہ تو کر ہی لیا مگر پھر بھی میں عجیب سی الجھن میں گرفتار ہوں۔ میرے دل کو چین نہیں ہے۔“فضل الدین نے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے اپنی پریشانی بیان کی۔
”کیسی الجھن؟“
”الجھن یہی ہے کہ جھوٹ کو بنیاد بنا کر کیسے میں ایک نیا رشتہ جوڑ لوں۔ ایسا رشتہ جس کی بنیاد جھوٹ پہ ٹکی ہو اس رشتے سے میں کیا امید رکھ سکتا ہوں بھلا؟“
”دیکھئے اس دور میں ایک بیوہ عورت سے شادی کرنے کو کوئی بھی تیار نہیں ہوتا۔ آپ کو خوش قسمتی سے ایسا اچھا رشتہ میسر آرہا ہے تو اللہ کا شکر اداکریں۔آپ کو معلوم ہی ہے کہ یہ دنیا کمزور لوگوں کے لئے کس قدر ظالم ہے۔“
فضل الدین کے کانوں میں ایک دم سے نادرہ بیگم کی آوازیں گونجنے لگیں۔انہوں نے سر جھٹک کر دھیرے سے کہا:”جی دنیا تو واقعی ظالم ہے ہی۔لیکن یہ میرا آخری فیصلہ ہے کہ میں جھوٹ کی بنیاد پر کوئی بھی فیصلہ نہیں کروں گا۔ اگر رضوان جمیلہ سے شادی کرنا چاہتا ہے تو اسے اپنی ماں کو سب کچھ سچ بتانا ہی ہوگا۔“
”دیکھیں فضل بھائی میری مانیں تو آپ ٹھنڈے ذہن سے سوچیں اور رضوان کی جگہ اپنے آپ کو رکھ کر دیکھیں۔پر فیصلہ آپ کے لئے آسان ہوجائے گا۔“صدیقی صاحب کے تمام مشورے فضل الدین کے دل سے لگتے تھے اور وہ ان پر عمل بھی کرتے تھے لیکن جمیلہ کے معاملے میں وہ رسک نہیں لینا چاہتے تھے۔ لیکن نادرہ بیگم کے رویے نے ان کو چوکنا ہونے پر مجبور کردیاتھا۔ وہ بہت کچھ سوچنے پرمجبور ہوگئے تھے وہ رضوان کا رشتہ ہاتھ سے جانے بھی نہیں دینا چاہتے تھے۔وہ بڑی مشکل میں پھنس گئے تھے۔لیکن انہیں کوئی نہ کوئی فیصلہ تو لینا ہی تھا۔
………………٭٭٭………………
فضل الدین نے گھر پہنچ کر سب سے پہلے جمیلہ سے بات کر نے کا فیصلہ کیا۔جمیلہ کو اپنے کمرے میں آنے کاکہہ کروہ تیزی سے کمرے میں چلے گئے۔نادر ہ بیگم کے کان فوراً کھڑے ہوئے اور وہ طنزیہ نظروں سے جمیلہ کو دیکھنے لگیں۔
جمیلہ فضل الدین کے پیچھے پیچھے ان کے کمرے میں پہنچ گئی۔
”بیٹھو بیٹا۔“
”جمیلہ دیکھو تم مجھے غلط مت سمجھنا۔ جو کچھ بھی میں تم سے کہنے جارہے ہوں اس میں میری خوشی سے زیادہ تمہاری بھلائی پوشیدہ ہے۔ اس لئے میری بات ٹھنڈے دماغ سے سننا۔آخری فیصلہ بھی تمہیں ہی کرنا ہے اس لئے پریشان مت ہونا۔“
جمیلہ پریشان الجھن آمیز نظروں سے بھائی کو دیکھنے لگی کیونکہ اسے اپنے بھائی کی ایک بھی بات سمجھ نہیں آئی تھی۔
”چند دن پہلے صدیقی صاحب کے توسط سے ایک رشتہ آیاتھا۔ تمہیں یاد ہے؟“فضل الدین نے غور سے اسے دیکھا۔جمیلہ نے فوراً سر ہلاتے ہوئے کہا:”جی مجھے یاد ہے شمیم آنٹی۔“
”وہ رشتہ نایاب کے لئے نہیں بلکہ……تمہارے لئے آیاتھا……“فضل الدین نے رخ پھیر لیا۔
”یہ……یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں بھائی؟؟“جمیلہ کے لہجے میں شدید حیرت تھی۔
”کیوں ایسا کیا کہہ دیا میں نے؟لڑکیوں کے رشتے تو آتے ہی رہتے ہیں اس میں کون سی انوکھی بات ہے؟“
”انوکھی بات یہ ہے کہ میں بیوہ ہوں بھائی……“جمیلہ کی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے۔
”تو کیا ہوا بیٹا؟زندگی ختم تو نہیں ہوگئی ناں؟ابھی بہت لمبی زندگی باقی ہے جو تمہیں خوش باش رہ کر گزارنی ہے۔“
”نہیں بھائی نہیں ایسا ظلم مت کریں مجھ پر……پلیز بھائی میں شادی نہیں کرنا چاہتی۔“جمیلہ کے آنسوؤں میں شدت آگئی۔
”ایک اور بات ہے جمیلہ……“فضل الدین نے رک کر اسے دیکھا تو اس نے سوالیہ نظروں سے بھائی کو دیکھا:”نادرہ کا موڈ بھی اسے وجہ سے خراب ہے کہ وہ رشتہ تمہارے لئے آیا تھا۔وہ وہاں نایاب کا رشتہ کرنا چاہتی ہے۔“فضل الدین نے جھجھک کر پوری بات مکمل کی۔
”میں نہیں مانتی کہ بھابھی مجھ سے کسی ایسی بات پہ خفا ہو گئی ہیں جس میں میری کوئی بھی غلطی نہیں ہے……وہ میری بھابھی نہیں ماں ہیں بھائی۔“
”میں جانتا ہوں لیکن یہ زندگی ایک تلخ حقیقت ہے بیٹا اور اس تلخ حقیقت کا ادراک مجھے اب ہو رہاہے۔ میرے بعد نجانے وہ تمہارے ساتھ کیسا سلوک کرے گی۔ میں تمہیں اپنی زندگی میں ہی اپنے گھر کا کر دینا چاہتا ہوں۔ اور رضوان کا رشتہ مجھے اپنی بیٹی کے لئے پسند ہے تو مجھے اپنی بہن کے لئے بھی پسند ہے۔“فضل الدین کا فیصلہ صاف اور واضح تھا۔
”لیکن بھائی……میں شادی نہیں کرنا چاہتی۔“
”بیٹا یہ دنیا بہت ظالم ہے۔ تمہاری بھابھی نے کیسی چھوٹی سی بات کا ایشو بنا کر تمہاری ناک میں دم کر دیاہے۔ آگے نجانے تمہارا واسطہ کیسے کیسے لوگوں سے پڑے گا۔ میں تمہیں محفوظ ہاتھوں میں عزت بھرے رشتے کے مان کے ساتھ سونپ دینا چاہتا ہوں۔ اسے تم میری خواہش سمجھ لو بیٹا۔“فضل الدین نے جمیلہ کے سر پر ہاتھ رکھا تو وہ بے بسی سے آنسو بہانے لگی۔ اسی لمحے فضل الدین کے موبائل کی بیل بجی۔
”السلام اعلیکم صدیقی صاحب……جی ……؟؟کب……؟؟اوہو……یہ تو بہت افسوس ناک خبر ہے………………اللہ کرم فرمانے والا ہے……میں آتا ہوں ابھی……“
فضل الدین نے فون بند کرتے ہوئے جمیلہ کو بتایا:”شمیم بی بی کو ہارٹ اٹیک ہوا تھااور وہ انتقال کرگئی ہیں۔“
”اوہ……“جمیلہ نے اپنی آنکھیں رگڑیں۔
”میں اور نادرہ ذرا وہاں سے ہو کر آتے ہیں۔“فضل الدین جمیلہ کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے باہر نکل گئے۔ جمیلہ گہری سوچ میں ڈوب گئی۔
………………٭٭٭………………
شمیم بی بی کے انتقال کے بعد فضل الدین اور نادرہ بیگم نے رضوان کی ہر ممکن دل جوئی کی۔ نادرہ بیگم کا اپنا مفاد تھا اور فضل الدین کا اپنا مفاد تھا۔ فضل الدین نے فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ جمیلہ کی شادی رضوان سے کر دیں گے کیونکہ اب ان کو کوئی جھوٹ بولنے کی ضرورت نہیں تھی۔وہ انتظار کرتے رہے کہ رضوان یا صدیقی صاحب ان سے دوبارہ اس سلسلے میں بات کریں تو وہ جلدی جلدی نکاح کی تیاری کریں لیکن دن گزرتے رہے اور رضوان کی واپسی کا دن آگیا۔
فضل الدین نے رضوان کو کال کر کے خیر خیریت لینے کا سوچا۔ اتنے میں رضوان کی کال آگئی۔سلام دعا کے بعد اس نے بتایا کہ وہ رات کی فلائٹ سے واپس جا رہاہے۔ فضل الدین نے اسے سفر کے لئے بزرگوں کی طرح کافی ساری ہدایات دیں۔ فضل الدین کا خیال تھا کہ وہ بات کرے گا مگر اس نے کچھ نہ کہا۔ فضل الدین نے اس بات کو ماں کے اچانک انتقال کا اثر سمجھ کر نظر انداز کردیا۔
رضوان رات کی فلائٹ سے واپس چلاگیافضل الدین نے رضوان سے مایوس ہو کراِدھر اُدھر بھاگ دوڑ شروع کردی تاکہ وہ کسی اچھی جگہ پر جمیلہ کا رشتہ کر دیں اور اس فرض سے سبکدوش ہوجائیں۔ نادر ہ بیگم کا رویہ جمیلہ کے ساتھ سرد ہوتا جارہاتھا۔ وہ اٹھتے بیٹھتے اسے طعنے دینے لگیں تھیں:
”اتنا اچھا رشتہ گنوا دیا ہم نے صرف اس لئے کہ بوا گھر بیٹھی ہیں ……“
”ارے بی بی تم اپنے گھر کی ہوجاؤ تاکہ میری بچیاں بھی اپنے گھر کی ہوسکیں۔“
قسط نمبر 5
نادرہ کی جلی کٹی باتیں سن کر جمیلہ کا دل کٹ کر رہ جاتا مگر وہ لاچار تھی بے بس تھی۔ بھائی کے گھر میں رہتی تھی، کوئی ٹھکانہ نہیں تھا کہاں جاتی۔ سو چپ چاپ سنتی رہتی اور دل ہی دل میں کڑھتی رہتی۔
نایاب اور ماہم ماں کو بہت سمجھاتیں کہ اس طرح نہیں کہتے ہر کسی کا اپنا نصیب ہوتا ہے لیکن نادرہ بیگم بچیوں کو ڈانٹ ڈپٹ کر چپ کروادیتیں۔ رات کو جب جمیلہ کی سسکیاں بے قابو ہونے لگتیں تو نایاب اور ماہم اپنی محبت کا مرہم رکھتیں اور اسے بہلاتیں۔ ان کی بوا ان کی آئیڈیل تھی۔ وہ اپنی بوا سے بے حد محبت کرتی تھیں۔
………………٭٭٭………………
نادرہ بیگم کی بہن صابرہ اپنے میاں حبیب اللہ اور دونوں بیٹوں کامل حبیب اور شامل حبیب کے ساتھ کراچی آرہی تھیں۔ انہوں نے اشاروں کنایوں میں نادرہ کو بتادیاتھا کہ وہ کامل کے لئے نایاب کا ہاتھ مانگنے آرہی ہیں۔ نادرہ بیگم اپنی بہن کی آؤ بھگت میں کوئی کسر نہیں چھوڑنا چاہتی تھیں۔ انہوں نے آسمان سر پہ اٹھا لیاتھا۔ صفائیاں کروا کروا کر تھک چکی تھیں مگر مطمئن نہیں ہوپارہی تھیں۔آخر دونوں بہنیں تقریباً بارہ سال بعد مل رہی تھیں۔ اللہ اللہ کر کے نادرہ بیگم اور صابرہ حبیب کا انتظار ختم ہوا اور دونوں بہنیں بغل گیر ہوئیں۔ خوشی کے آنسو تھے کہ دونوں کی آنکھوں سے برستے ہی جارہے تھے۔
اتنے سالوں بعد ملاقات کا اپنا ہی مزہ تھا۔ سلام دعا اور خیر خیریت کے بعد سب نے مل کر دوپہر کا کھانا کھایا اور آرام کی غرض سے سب اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے۔شا م کی چائے کے بعد نادرہ بیگم اور صابرہ حبیب کو باتیں کرنے کا موقع ملا۔نئی پرانی ہر بات دونوں ایک ہی دن میں کرلینا چاہتی تھی۔حبیب اللہ اپنے بیٹوں کے ساتھ صحن میں بیٹھے ثمرہ اور باسط کو کرکٹ کھیلتے انہماک سے دیکھ رہے تھے۔نایاب،ماہم اپنے اسائمنٹ بنا رہی تھیں اور جمیلہ ایک میگزین کی ورک گردانی میں مصروف تھی۔ فضل الدین آفس سے اسی وقت واپس لوٹے تھے اور فریش ہو کر وہ بھی باسط اور ثمرہ کے ساتھ کھیل میں شامل ہوئے تو کامل اور شامل بھی اٹھ کر کھیلنے لگے۔
نادرہ بیگم صابرہ سے کرید کرید کر کامل کے بارے میں سوال کر رہی تھیں۔ کامل ایک واجبی صورت کا لڑکا تھا۔اس کی عمر پچیس سال تھی۔ اس نے زیادہ تعلیم بھی حاصل نہیں کی تھی محض میٹرک کر کے باپ کا ہاتھ بٹانا شروع کردیاتھا۔وہ اپنے باپ کے ساتھ ان کا میڈیکل اسٹور سنبھالتا تھا۔ اپنا گھر ذاتی گاڑی سب کچھ اچھاتھا لیکن نادرہ بیگم سب تفصیل جاننے کے بعد کامل کا موازنہ رضوان سے کرنے لگیں۔ انہیں رضوان کا پلڑا ہر لحاظ سے بھاری لگا۔ وہ اکیلا تھا……باہر رہتا تھا……کسی چیز کا جھنجھٹ نہیں تھا نہ ساس سسر، نہ نند دیور۔ان کے خیال میں نایاب کے لئے سب سے موزوں رشتہ رضوان کا ہی تھا۔ لیکن ان کے لئے اس سے بھی بڑا مسئلہ جمیلہ سے چھٹکارا پانا تھا۔نادرہ بیگم کے ذہن میں جھماکا سا ہوا اوران کے سازشی ذہن میں ایک بہت ہی زبردست سا منصوبہ ترتیب پاگیا۔ انہیں رات کا انتظار تھا تاکہ وہ فضل الدین سے بات کر کے ان کو قائل کرسکیں اور جمیلہ کا پتہ صاف کردیں۔
………………٭٭٭………………
نادرہ بیگم کی بات سن کر فضل الدین نے ان کو غور سے دیکھا تھا:”کیا صابرہ باجی نے یہ بات خود تم سے کہی ہے؟“
”کہی تو نہیں ہے لیکن میں ان کے ذہن میں یہ بات ڈال دوں گی۔ آپ کا کیا خیال ہے اس بارے میں؟“نادرہ بیگم نے معصوم بنتے ہوئے اپنے میاں کو آنکھیں پٹپٹا کر دیکھا۔ وہ کسی سوچ میں ڈوبے رہے پھر پرخیال اندا ز میں گویا ہوئے:”بات تو تمہاری ٹھیک ہے نادرہ……پھر لوگ بھی دیکھے بھالے ہیں۔صابرہ باجی اور حبیب بھائی کا تو مزاج بھی بہت ہی ٹھنڈا ہے لیکن……“
”لیکن کیا؟“
”عمر کا فرق؟“
”آج کل کون عمر کو دیکھتا ہے؟“
”لیکن پھر وہی سوال کہ کیا وہ اس رشتے کے لئے مانیں گے؟“
”میں منا لوں گی ان کو لیکن اس رشتے کے بدلے آپ کو میرا ایک کام کرنا ہوگا۔“
”کیسا کام؟“فضل الدین نے ابرو اونچی کرتے ہوئے پوچھا۔
”آپ کو رضوان سے رابطہ کرنا ہوگا۔“
”کیوں؟“فضل الدین نے پوچھا۔
”نایاب کے لئے اور کیوں۔“نادرہ بیگم نے اٹھلاتے ہوئے کہا۔
”میں اپنے منہ سے اپنی بیٹی کا رشتہ دیتا اچھا لگوں گا؟“فضل الدین نے خفگی سے کہا۔
”بہن کا بھی تو دے رہے تھے ناں اپنے منہ سے؟“نادرہ بیگم تنک کر طعنہ دے بیٹھیں۔
فضل الدین نے انہیں شکایتی نظرو ں سے دیکھا:”میں اپنی بہن اور بیٹی کی بہت زیادہ عزت کرتا ہوں۔ اور ان کی کسی قسم کی توہین میں برداشت نہیں کرسکتا۔ میں نے جمیلہ کا رشتہ نہیں دیاتھا۔ وہ خود سامنے سے آیاتھا۔ میں اپنی بیٹی کے رشتے کی بات بھی خود نہیں کروں گا۔“فضل الدین کا دوٹوک انداز نادرہ بیگم کو تپا رہاتھا۔
”ٹھیک ہے پھر آپ ایسا کریں کہ صدیقی صاحب سے بات کریں۔ وہ کوئی راستہ نکال لیں گے۔“نادرہ بیگم نے مصالحتی انداز اپناتے ہوئے کہا۔
”ٹھیک ہے میں بات کر کے دیکھتا ہوں۔“
”میں بھی آپ کو کل خوشخبری سنا دوں گی۔“نادرہ بیگم نے چہک کر کہا تو فضل الدین بس انہیں دیکھتے رہے۔کامل بہت ہی ٹھنڈے مزاج کا انسان تھا۔ وہ ایک ملنسار اور خوش اخلاق لڑکا تھا۔ فضل الدین کو بہت سوچنے پہ بھی اس میں کوئی خامی نظر نہیں آئی۔ وہ ٹھنڈی سانس بھر کر سونے کے لئے لیٹ گئے۔
………………٭٭٭………………
اگلے دن نادرہ بیگم نے صابرہ کے اٹھتے ہی ان کے کان میں جمیلہ اور کامل کے رشتے کی بات ڈال دی۔
صابرہ پہلے تو نادرہ بیگم کو غور سے دیکھتی رہی پھر سوچ میں ڈوب گئی۔پھر اس نے آتی جاتی کام نپٹاتی جمیلہ کو بار بار دیکھا اور حبیب اللہ اور کامل سے بات کرنے کا فیصلہ کیا۔نادرہ بیگم نے فوراً سے پیشتر دونوں کو سامنے لا بٹھایااور بات ان کے گوش گزار کر دی۔
حبیب اللہ سوچ میں پڑگئے پھر انہوں نے ہنکارا بھرتے ہوئے کہا:”مجھے تو کوئی مسئلہ نظر نہیں آرہا۔ جمیلہ بھی گھر کی ہی بچی ہے۔“
اب سب کی نظریں کامل پر ٹکی تھیں۔سب اسے غور سے دیکھ رہے تھے۔اس نے کہا:”امی ابو میں نے یہاں آنے سے پہلے بھی آپ کی مرضی پہ ہاں کہا تھا اور ابھی بھی میرا جوا ب وہی ہے۔آپ لوگ جہاں چاہیں گے میں وہیں شادی کروں گا۔“
”لیکن بیٹا پھر بھی ہم تمہاری رائے سننا چاہیں گے۔“حبیب اللہ نے اصرار کیا:”بیٹا جمیلہ بیٹی کا معاملہ مختلف ہے،وہ بیوہ ہے اور اس کا ایک تین سال کا بیٹا بھی ہے۔اگر تمہیں کوئی اعتراض ہوتو بلا جھجھک کہہ سکتے ہو۔“
”نہیں ابو آپ کوٹھیک لگ رہاہے تو میرے لئے بھی اس رشتے میں کوئی نہ کوئی بہتری ہی ہوگی۔ مجھے منظور ہے۔“کامل نے مضبوط لہجے میں کہا تو حبیب اللہ نے اس کا ماتھا چوم لیا۔
”مبارک ہو ……صابرہ تمہارا بیٹا بڑا ہی نیک ہے ماشاء اللہ……“نادرہ بیگم نے دل سے تعریف کی۔
”خیر مبارک۔تمہیں بھی مبارک ہو۔“صابرہ نے نادرہ بیگم کو گلے لگایا۔
مبارکباد کا سلسلہ چلتا رہا۔ جمیلہ کے لئے یہ خبر عجیب سی تھی لیکن فضل الدین کی وجہ سے وہ خاموش ہوگئی۔
نایاب ماہم اور ثمرہ بہت زیادہ پرجوش تھیں کہ گھر میں شادی ہے لیکن حبیب اللہ اور صابرہ نے فضل الدین کے فیصلے نے فضل الدین کا دل جیت لیا۔
”ہماری بیٹی اپنے گھر جائے گی تو ہم دیر نہیں کرنا چاہتے۔آج ہی نکاح کر لیتے ہیں اور پھر ہم روانہ ہوجائیں گے۔ وہاں جا کر ہم ولیمے کی تیاری کریں گے اور آپ آجائیے گا۔“حبیب اللہ نے پروگرام بتایا۔
”لیکن ہم ایسے کیسے نکاح کردیں؟ مہمان وغیرہ؟تیاری؟شاپنگ؟؟“فضل الدین نے حیرت سے کہا۔
”کچھ بھی نہیں ……ہماری بیٹی کے پاس جو کپڑے ہیں بہت اچھے ہیں ماشاء اللہ……آپ نکاح کردیں باقی ذمہ داری ہماری۔“صابرہ نے جمیلہ کو پیار سے دیکھتے ہوئے کہا۔
”الحمد للہ!“فضل الدین کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے:”میں اس مالک کا کیسے شکر اداکروں کہ میری بہن کو صرف گھر نہیں مل رہا ایک خوبصورت فیملی بھی مل رہی ہے۔مالک بڑا احسان ہے۔آپ جیسے لوگ سرمایہ ہیں۔“فضل الدین نے اٹھ کر حبیب اللہ کا ہاتھ اپنی آنکھوں سے لگا لیا۔
”ارے یہ آپ کیا کررہے ہیں فضل بھائی۔گلے ملئے آج سے ہم سمدھی ہیں۔“حبیب اللہ نے ان کو گلے سے لگا کر بھینچا۔
خوشیوں اور مسرتوں سے بھرے وقت میں جمیلہ کا نکاح کامل حبیب اللہ سے پڑھوا دیا گیا۔ اگلے دن وہ لوگ ملتان کے لئے روانہ ہوئے تو نادرہ بیگم فضل الدین کے سر ہوئیں کہ رضوان سے رابطہ کرو۔
………………٭٭٭………………
”میں نے صدیقی صاحب سے بات کی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ وہ خود ہی بات کرکے مجھے بتا دیں گے۔“فضل الدین نے شرٹ کے بٹن بند کرتے ہوئے بتایا۔
”اس بات کو تو کتنے ہی دن گزر گئے ہیں۔آپ ابھی فون کر کے پوچھیں کہ کیا بنا؟“نادرہ بیگم مصر ہوئیں۔
ناچار فضل الدین نے موبائل فون نکالا اور صدیقی صاحب کا نمبر ملایا۔صدیقی صاحب نے فون اٹھایا۔ سلام دعا کے بعد فضل الدین صاحب نے پوچھا:”صدیقی صاحب آپ سے ایک کام کہا تھا؟“
”کون سا کام؟“صدیقی صاحب بھول گئے تھے۔
”رضوان والا کام صدیقی صاحب……“فضل الدین کو کھل کر بات کرتے ہوئے شرمندگی محسوس ہورہی تھی۔
”جی جی فضل بھائی میں شام کو چکر لگاتا ہوں آپ کے گھر پھر میں تفصیلی بات کرتا ہوں آپ سے۔“صدیقی صاحب نے فون بند کردیا۔ فضل الدین نے نادرہ بیگم کو بتایا تو وہ خوش ہوگئیں:”آپ مٹھائی لے آئیے۔میرا دل کہتا ہے کہ صدیقی صاحب مبارکباد دینے کے لئے خود چل کر آرہے ہیں۔“نادرہ بیگم کے بار بار اصرار کرنے پہ فضل الدین جا کر مٹھائی لے آئے۔ نادرہ بیگم بے صبری سے صدیقی صاحب کا انتظار کررہی تھیں۔
………………٭٭٭………………
صدیقی صاحب شام کو ذرا دیر سے فضل الدین کے گھر کی بیٹھک میں موجود تھے۔ان کا چہرہ اترا ہواتھا اور کندھے جھکے ہوئے تھے۔ کافی دیر تک وہ بالکل خاموش بیٹھے رہے۔ نادرہ بیگم نے ان کے سامنے دھری ٹیبل کو لوازمات سے بھر دیاتھا اور مصر تھیں کہ صدیقی صاحب ہر چیز چکھیں جبکہ انہوں نے کسی چیز کو ہاتھ تک نہیں لگایا۔ کافی دیر تک خود کو کمپوز کرنے کے بعد انہوں نے بولنا شروع کیا:”میں نے آپ کے کہنے کے مطابق رضوان سے بات کی تھی لیکن……“انہوں نے سر مزید جھکا لیا۔
”لیکن کیا……؟“نادرہ بیگم بے صبری سے پوچھنے لگیں۔فضل الدین نے آنکھوں کے اشارے سے ان کو خاموش رہنے کی ہدایت کی۔
”وہ شادی نہیں کرنا چاہتا……“صدیقی صاحب کی آواز دھیمی اور لہجہ کمزور پڑ گیا تھا۔
”کیوں؟“فضل الدین اور نادرہ بیگم کے منہ سے ایک ساتھ نکلا۔
”وہ کہتا ہے کہ وہ صرف اپنی ماں کے اصرار پر شادی کرنا چاہتا تھا۔ وہ وہاں کسی ہندو لڑکی سے شادی کرنا چاہتا تھا تو اس کی ماں اسے زبردستی یہاں لے کر آئی تھی۔ اس نے یہاں جمیلہ بیٹی کو دیکھا تو شمیم بہن کو بتایا کہ وہ یہاں شادی کرے گا۔ اسی لئے تو وہ ہتھیلی پہ سرسوں جمانا چاہتی تھیں۔ لیکن اب شمیم بہن نہیں رہیں تو رضوان کو کسی کا خوف نہیں وہ اپنی مرضی کا مالک ہے اس لئے دبئی واپس جاتے ہی اس نے اُس ہندو لڑکی سے شادی کر لی تھی۔“صدیقی صاحب نے بات مکمل کر کے دونوں میاں بیوی کو باری باری دیکھا پھراٹھ کھڑے ہوئے:”مجھے معاف کیجئے گا میں ایسا خراب رشتہ آپ کے گھر لایا تھا۔“انہوں نے ہاتھ جوڑ دئیے۔ فضل الدین نے فوراً ان کے ہاتھ تھام لئے:”یہ آپ کیا کررہے ہیں صدیقی صاحب۔‘‘
”مجھے معاف کردیجئے گا۔ میں خود بیٹیوں کاباپ ہوں ڈرتا ہوں کسی کی آہ نہ لگ جائے۔ اس لئے مجھے معاف کردیں کہ ایسے خراب لڑکے کی اتنی تعریفیں کرتا رہا۔ مجھے خود بھی معلوم نہیں تھا۔“صدیقی صاحب بہت زیادہ رنجیدہ تھے۔
”اس میں آپ کی بھی کوئی غلطی نہیں ہے صدیقی صاحب۔ بس اللہ کو یہی منظور تھا۔“
”اللہ جو بھی کرتا ہے بہتر ہی کرتا ہے۔ آپ کو اللہ نے کیسے بیٹھے بٹھائے اپنوں میں سے ایسا نیک رشتہ عطا فرمایا۔اللہ کے سب کام نرالے ہیں۔“صدیقی صاحب چلتے چلتے بولے۔
”جی الحمد للہ بس اللہ نے کرم فرمایا۔“فضل الدین نے کہا تو صدیقی صاحب مصافحہ کر لے چلے گئے۔ فضل الدین ان کو گیٹ تک چھوڑ کر واپس آئے تو نادرہ بیگم ابھی تک سکتے کی کیفیت میں صوفے پہ بیٹھی سامنے دیکھ رہی تھیں۔
فضل الدین نے انہیں جھنجھوڑا تو وہ رو پڑیں:”میری بیٹی کے ساتھ ایسا کیوں ہوا؟؟ہم نے کسی کا کیا بگاڑا تھا جو ہمارے ساتھ ایسا ہوا۔ میں نے تو کیا کیا خواب دیکھے تھے اپنی بچی کی شادی کے لئے……“
”کیوں پریشان ہوتی ہو نادرہ۔اللہ کریم ہے اس نے ہمیں کسی بڑے نقصان سے بچا نا تھا اسی لئے یہ سب ہوا۔اور غلطی تو تم نے کی تھی اسی لئے سزا کی حقدار قرار پائی ہو۔“
”کیا غلطی کی تھی میں نے؟“نادرہ بیگم نے روتے روتے پوچھا۔
”تم نے اپنی بڑی بیٹی کا دل دکھایاتھا۔جمیلہ کا……اور دیکھو تم نے اسے ماں بن کر پالا ہے ناں اس لئے اللہ نے اسے اس کے حصے کی خوشیاں بھی تمہارے ہی ہاتھوں سے نصیب فرمائیں۔یہ بڑے اعزاز کی بات ہے۔اللہ سے معافی مانگو وہ بہت غفور و رحیم ہے۔“
”ہاں میں نے اس کا بہت دل دکھایاہے۔ مجھے فون ملا کردیں میں اس سے بات کرنا چاہتی ہوں۔“نادرہ بیگم نے روتے روتے کہا۔فضل الدین نے مسکراتے ہوئے جمیلہ کا نمبر ملایا۔دوسری طرف سے دوسری بیل پر پہ فون اٹھالیا گیا۔جمیلہ کی کھنکتی آواز اس کی خوشیوں کا پتہ بتا رہی تھی۔
”ہم آپ کو ہی فون کرنے والے تھے فضل بھائی۔“
”اچھا ہم یاد ہیں آپ لوگوں کو؟“فضل الدین نے مذاق کیا۔
”آپ لوگوں کو میں کیسے بھول سکتی ہوں بھلا۔آپ سب جلدی سے یہاں آجائیے۔ولیمہ اسی اتوار کے دن رکھا ہے۔“جمیلہ نے ہنستے ہوئے بتایا۔
”ارے زبردست ماشاء اللہ۔ بس ہم کل ہی نکلتے ہیں یہاں سے۔ یہ تمہاری بھابھی بات کرنا چاہتی ہیں۔لو بات کرو۔“
نادرہ بیگم نے اس سے رورو کر معافی مانگی۔ اور جمیلہ نے انہیں کھلے دل سے معاف کردیا۔
اگلے دن فضل الدین سارے خاندان سمیت ملتان پہنچے اور جمیلہ اور باسط کو خوش باش دیکھ کر بہت خوش ہوئے کہ انہوں نے اچھا فیصلہ کیا۔نادرہ بیگم جمیلہ سے معافیاں مانگتے نہیں تھکتی تھی۔
ہفتے کے دن تک سب لوگ ہلہ گلہ کرتے رہے۔ شاپنگ کی۔ خوب مزے کئے اور ولیمے کی دعوت کے بعد سب اپنے اپنے گھروں کو لوٹ گئے۔
تین دن بعد جمیلہ نے فون کرکے بتایا کہ وہ اپنے میاں اور بیٹے کے ساتھ عمرہ کرنے جارہی ہے۔ فضل الدین نے اللہ کا شکر ادا کیا۔ جمیلہ بولی:”بھائی آپ کو یادہے میں علی احمد کے لئے آپ کا شکریہ ادا کرتی تھی کہ آپ نے میرے لئے اتنا اچھا ہم سفر چنا ہے؟“
”ہاں یاد ہے بیٹا……“
”پھر میری زندگی میں اندھیرا چھایا تو میں آپ کا شکریہ ادا کرنا بھول گئی۔لیکن اس کے باوجود آپ میری زندگی میں اجالا لے آئے۔ پہلے سے زیادہ روشنی ……زیادہ چمک دار اجالا……اس لئے میں آپ کا پہلے سے زیادہ شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں۔“
فضل الدین مسکرادئیے:”اس میں شکریہ کی کوئی بات نہیں ہے یہ تو میرا فرض تھا۔“
”نہیں بھائی میں آج سے آ پ کو پہلے کی طرح روز فون کروں گی اور روزانہ آپ کا شکریہ ادا کروں گی۔“جمیلہ نے ہنستے ہوئے کہا۔
فضل الدین ہنس دئیے:”جیسی تمہاری مرضی۔تمہارے وہ فون تومجھے بھی بہت یاد آتے ہیں۔“
”ٹھیک ہے پھر میں کل سے آپ کا روزانہ شکریہ ادا کروں گی انشاء اللہ۔“
”انشاء اللہ……“
فضل الدین نے فون بند کرتے ہوئے سوچا:”جس کی قسمت میں خیر لکھاہو وہ کچھ بھی کر کے شر سے بچ جاتا ہے……اللہ نصیب لکھتا ہے اور وہی مالک اپنے پیارے بندوں کو آزمائش میں ڈالتا ہے تو اس آزمائش سے نکلنے کا سبب بھی پیدا کردیتا ہے۔ کیسے میں نے آخری وقت میں فیصلہ کرلیاتھا کہ جھوٹ ہی بول کر لیکن میں جمیلہ کو رشتہ رضوان کے ساتھ کردوں گا لیکن اللہ کو خیر منظور تھا اور شمیم بی بی کا انتقال ایک طرح سے جمیلہ کے لئے خیر کا پیغام تھا۔اور یوں اللہ اس کے لئے خیر ہی خیر کا رستہ بناتا چلا گیا۔ کامل اس کی زندگی کو مکمل کرنے کے لئے اللہ کی بھیجی گئی آخری کڑی تھا۔یوں جمیلہ اور باسط کی زندگی میں صرف ٹہراؤ ہی نہیں آیا بلکہ خوشی روشنی اور محبتیں بھی در آئیں۔واقعی اس مالک کے ہر کام میں مصلحت ہوتی ہے جو وقت طور پر انسان کی سمجھ میں نہیں آتی لیکن جب وہ اس مصلحت کو سمجھ جاتا ہے توخود بخود انسان کی جبین سجدہ ریز ہوجاتی ہیں۔“فضل الدین بھی اپنے مالک کے حضور سجدہ ریز ہونے کے لئے تیاری کرنے لگے۔
………………٭٭٭………………
ختم شد
اس ناول کو پی ڈی ایف میں ڈائونلوڈ کرنے کے لئے اس لنک پہ کلک کریں:
اہل علم حضرات قلمی چوری سے پرہیز کریں۔
کاپی پیسٹ کی اجازت نہیں ہے۔


Bht zabrdast masha Allah
ReplyDeleteNice
ReplyDeleteInteresting and very nice
ReplyDeleteKamal likha h
Superb
ReplyDeleteSuperb Saira mashallah you will become a big writer inshallah zabardast novel
ReplyDelete