Skip to main content

Kuch Dair Rehny Day Khwab Main By Saira Ghaffar Complete Online Urdu Novel

Kuch Dair Rehny Day Khwab Main By Saira Ghaffar Online short urdu story complete 


کچھ دیر رہنے دے خواب میں 

(سائرہ غفار)


”دنیا والو رہو تم سب اس جہنم میں ……میں تو جا رہا ہوں اس جہنم سے الوداع……“
اس کا لہجہ ٹوٹا ہوا تھا اور دل کرچی کرچی ہوچکا تھا۔ اس نے نیچے جھانکا تھا کچھ لوگ اس کی دیوانی ہذیانی چیخ سن کر اس کی طرف متوجہ ہوگئے تھے اور اس کو اشارے سے چیخ کر چلا کر وہاں سے ہٹ جانے کا کہہ رہے تھے مگر وہ سن کہاں رہاتھا……اسے کے اندر ایک جہنم جل رہاتھا۔وہ اس جہنم کا ایندھن بنتا جارہاتھا……اس کے سامنے بہت سارے چہرے آرہے تھے……
اس کی شفیق ماں کا چہرہ…… جس کے سامنے اس کا خواب ایک بے حیائی تھا……
اس کے باپ کا چہرہ……جس نے اسے ہر آسائش دی مگر اس کی منزل کو بے ہودگی کہا……
اس کے بھائی کا چہرہ ……جو ماں باپ کے ڈر سے اس سے بات نہیں کرتاتھا……
اس کی بہن کا چہرہ……جس کے چہرے پہ بھائی سے رشتہ ٹوٹ جانے کا خوف رقم تھا……
اور اس کی بیوی کا چہرہ……وہ ذرا دھندلا سا گیا تھا کیونکہ اس کی آنکھوں میں اب تک ڈھیر سارا پانی بھر چکا تھا……
اس کی بیوی ہی تھی جو ہر مشکل گھڑی میں اس کے سامنے ڈھال بن جاتی تھی۔وہ اس کی سچی ہمدرد و غم خوار تھی۔
مگر اب وہ فیصلہ کرچکا تھا……اس نے پلٹ کر دیکھا وہاں کچھ نہیں تھا……اسے کوئی ایک وجہ بھی نظر نہیں آرہی تھی کہ وہ رک جائے……کوئی ایسا سہارا اسے نظر نہیں آیا جو اسے روک سکے……
”مجھے معاف کردینا……“اس نے اپنے دل پہ ہاتھ رکھ کر دھیرے سے کہا……اس کا دل اُس سمے بے تحاشہ دھڑکا تھا……اس نے بے دردی سے اپنی آنکھیں رگڑیں اور گہری سانس بھرتے ہوئے چھٹی منزل سے نیچے چھلانگ دی……آخری چیز جو اس نے دیکھی وہ نیچے موجود لوگوں کے خوفزدہ چہرے تھے……
وہ گرا اور ایک دردناک اذیت سے گزر کر بالکل ہلکا پھلکا ہوگیا کیونکہ وہ اس جہنم نما زندگی سے آزاد ہوچکاتھا……وہ مر چکاتھا۔

……………………………………

اس نے چھٹی منزل سے چھلانگ لگا کر خودکشی کی تھی۔ ہر کوئی اس کے اردگرد کھڑا تبصرہ کررہاتھا۔
”ارے دیکھو تو کیسا جوان جہان لڑکا تھا۔“
”اوہو دیکھو تو سفید شرٹ کیسے خون سے لال ہوگئی ہے۔“
”ارے کوئی فون کرو پولیس کو……“
”کوئی ایمبولینس کو بلاؤ۔“
”ابھی تو شادی ہوئی تھی۔“
”دیکھو تو پتہ نہیں کیوں اس نے ایسا کیا حالانکہ اتنا اچھا مشہور سنگر تھا۔“
”پتہ نہیں کیا بات ہوئی جس نے اسے خودکشی کرنے پہ مجبور کیا۔“
وہ اسی وقت رکشے سے اتری تھی اور لوگ اسے دیکھ کر راستہ دینے لگے۔ وہ اتنی بھیڑ دیکھ کر پریشان ہوئی لیکن جب لوگوں نے اس کے لئے شمائل کی لاش تک کا راستہ صاف کیا تو ا سکی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ وہ اپنا پرس ایک طرف پھینکتی دوڑتی ہوئی اس کے پاس پہنچی تھی:”شمائل شمائل شمائل……کیا ہوا ہے تمہیں؟“
”کوئی ایمبولینس کو بلاؤ……ڈاکٹر……کوئی ڈاکٹر کو بلاؤ……پلیز……آ آ آ آ آ ……“وہ چیخ رہی تھی چلا رہی تھی۔ دو خواتین نے آکر اسے شمائل سے الگ کیا۔ وہ ان کے بازوؤں میں مچلنے لگی۔ اس کے کپڑے خون سے لت پت ہوگئے تھے۔ ان خواتین کے کپڑوں بھی خون آلود ہوگئے تھے۔
تھوڑی دیر میں ہی پولیس اور ایمبولینس پہنچ گئیں اور تفتیشی عمل شروع ہوگیا۔
عینی شاہدین میں دو تین لوگ فلیٹس کے رہائشی تھے جو نماز کی ادائیگی کے بعد گھر کو لوٹتے ہوئے نیچے کھڑے آپس میں باتیں کررہے تھے اور ایک چوکیدار بھی تھا۔ ان سبھی نے شمائل کو اپنی آنکھوں سے چھٹی منزل سے چلا کر گرتے دیکھا تھا۔
”اس نے چیخ کر کہاتھا کہ دنیا والوں رہو تم سب اس جہنم میں ……میں تو جا رہا ہوں اس جہنم سے الوداع……“
سبھی عینی شاہدین کے بیانات ایک جیسے تھے اسی لئے کیس بند کردیا گیاتھا۔

……………………………………

”مجھے یہ بتاؤ کہ پرپوز کس نے کیا تھا؟“ثمینہ ٹھوڑی پہ ہاتھ رکھے بڑےاشتیاق سے پوچھ رہی تھی۔
وہ مسکائی،آنکھوں میں ہلکی سی نمی سی جھلکی:”پرپوز تو میں نے ہی کیا
تھا……“
”تم نے……؟؟“ثمینہ حیران ہوئی۔
”جی میں نے ہی کیا تھا۔“اس نے دھیرے سے آنکھوں کے کونے پہ آٹکا آنسو غیر محسوس طریقے سے صاف کیا۔
”کیا ہوا تھا تفصیل سے بتاؤ؟“ثمینہ کی آنکھوں میں اشتیاق کی چمک ہلکورے لے رہی تھی۔
”میری چچی اس کی خالہ ہیں۔ اس نے امی نے ایک عید پہ ویڈیو بنا کر بھیجی تھی۔ اس میں میں نے اسے پہلی بار دیکھا تھا۔ اس کے گھنگھریالے بال، اس کی پر کشش آنکھیں اور لاابالی انداز……“وہ سر جھکا کر دھیرے سے ہنسی: ’مجھے تو سبھی کچھ بھا گیاتھا۔“وہ رکی تو ثمینہ خاموشی سے اس کے بولنے کا انتظار کرنے لگی۔
تھوڑی دیر بعد وہ بولی تو اس کے لہجے میں اداسیاں گھلی ہوئی تھیں:”اس کے بعد میں نے اسے دو سال بعد دیکھا تھا۔ وہ پاکستان آیاتھا۔ اس کی ایک کزن کی شادی تھی۔ چچی نے ان لوگوں کے لئے گھر پہ دعوت رکھی تھی اور میں نے چچی کی بڑھ چڑھ کر مدد کی لیکن شومئی قسمت کہ میر ے نانا کی اچانک طبیعت خراب ہوئی اور ہم ان کے آنے سے پہلے پہلے ہسپتال روانہ ہوگئے۔اس دن میرے نانا……“وہ روپڑی تو ثمینہ نے اس کے ہاتھوں کو دھیرے سے سہلایا پھر اسے پانی پلایا تو ا سکی حالت سنبھلی۔
”پھر؟پھر کیاہوا؟ تم دونوں کی پہلی ملاقات آخر ہوئی کیسے؟“ثمینہ کی سوئی وہیں اٹکی ہوئی تھی۔
اس نے خود کو سنبھال لیا تھا:”وہ ہمارے گھر آیاتھا چچی سے ملنے تو میں نے ہی دروازہ کھولا تھا۔


……………………………………

بیل کی آواز سن کر اس نے دوڑ کر دروازہ کھولا تھا کیونکہ ابو گول گپے لینے گئے تھے اور اس کا خیال تھا کہ گول گپے آگئے ہیں۔ لیکن یہ کیا…… یہ تو وہی ہے……وہی چچی کی ویڈیو میں جسے دیکھا تھا……جس کی دعوت کے لئے اتنی تیاری کروائی تھی۔
اس نے گلا کھنکھار کر اسے متوجہ کیا۔
”جی؟“اس سے کچھ بولا ہی نہیں گیا۔
”میں شمائل ہوں ……وہ چچی حمنیٰ سے ملنا تھا مجھے۔“
اس نے ایک دم راستہ چھوڑا:”آئیے……میں چچی کو بلاتی ہوں۔“وہ تیزی سے دوڑتی ہوئی چچی کو آوازیں دینے لگی۔ شمائل گیٹ بند کر کے ادھر ہی کھڑا ہوگیا۔
”چچی چچی چچی……“وہ دوڑتی بھاگتی چچی کے پاس پہنچی۔
”کیا ہو گیا حوریہ کیوں غدر مچا رکھا ہے۔ کیا مسئلہ ہے بھئی۔“
”چچی وہ آپ کا بھانجا آیا ہے۔“اس نے سانسوں پہ قابو پاتے ہوئے بتایا۔
”شمائل؟“چچی نے بے یقینی سے پوچھا۔
”جی وہی……“اس نے پانی کا گلاس لبوں سے لگایا اور ایک ہی گھونٹ میں سارا گلاس خالی کردیا۔
وہ وہیں چچی کے کمرے میں بیٹھ گئی تھی۔ اس نے چچی کے تیز تیز بولنے کی آواز سنی تو کمرے کے دروازے پہ آکھڑی ہوئی۔شمائل تیزی سے ڈرائنگ روم کا دروازہ کھول کر باہر نکلتا دکھائی دیا۔ چچی ٹرے پکڑے غصے سے کمرے سے نکلیں اور اسے دیکھتی ہوئی کچن کی طرف چلی گئیں۔
اسی وقت اسے ابو کی موٹر سائیکل کی آواز سنائی دی اور وہ سب بھول بھال کر گول گپے چلاتی ہوئی دروازے کی طرف لپکی۔


……………………………………

ابو نے اسے رنگے ہاتھوں پکڑا تھا اور اب اسے کان سے پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے گھر کی طرف لے جارہے تھے۔
وہ اپنے پڑوسی راج کمار کے پتا جی شری آنند کمار سے گائیکی سیکھ رہاتھا۔ وہ روز کی طرح اپنی ماں سے کہہ آیاتھا کہ وہ راج کمار کے ساتھ پڑھے گا لیکن اتفاق سے اس کے ابو اسے لینے آگئے اور کھڑکی سے انہوں نے دیکھا کہ وہ آنند کمار کے ساتھ بیٹھا ریاض کررہاہے۔ وہ غصے میں آگ بگولہ ہوکر اسے باہر سے ہی آوازیں دینے لگے:
”شمائل شمائل کدھر مر گئے ہو……باہر آؤ……جلدی……“
وہ ڈرتا ہوا اور دوڑتا ہوا جلدی سے باہر آیا تو وہ اسے کان سے پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے گھر لے آئے۔
”آج میں تمہارا سنگنگ کا سارا بھوت اتارتا ہوں ……تمہیں ایک بار کہی ہوئی میری بات سمجھ نہیں آتی……“
وہ اس کی والدہ پر بھی غصہ نکال رہے تھے۔ وہ خاموشی سے سر جھکائے سب سنتا رہا۔ جب ابو کا غصہ تھوڑا ٹھنڈا ہوا تواس نے دھیرے سے کہا:”ابو آج جو آپ نے کیا اگر آئندہ آپ نے ایسا کیا تو مجبوراً مجھے پولیس کو کال کرنی پڑے گے۔“وہ کہتا ہوا تیزی سے سیڑھیاں چڑھتا اپنے کمرے میں گھس گیا۔
”دیکھ رہی ہو اس کے کرتوت؟“ابو امی پہ برس پڑے……
دیر تک اسے آوازیں آتی رہیں پھر آوازیں آنا بند ہوگئیں کیونکہ اس نے کانوں میں ایئر پوڈز لگالئے تھے۔


……………………………………

”کیا تمہیں بھی اس کی طرح میوزک کا شوق تھا؟“
”نہیں اتنا زیادہ تو نہیں تھا ہاں البتہ مجھے گانے سننا اچھا لگتا تھا……مگر اسے جنون تھا۔وہ پاگل تھا میوزک کے لئے۔ اگر میں یہ کہوں کہ اس کی رگوں میں خون نہیں بلکہ دھنیں دوڑتی تھیں تو بالکل بھی غلط نہیں ہوگا۔ اور اس جنون کے پیچھے اس نے بہت کچھ گنوایا ہے بہت کچھ……“
”آئی کین انڈراسٹینڈ حوریہ……کچھ پانے کی جستجو بہت قربانیاں مانگتی ہے۔ اِس جستجو نے اُس سے سب سے بڑی قربانی کون سی مانگی تھی؟“ثمینہ کا سوال اسے سوچنے پہ مجبور کررہاتھا۔
”میں نہیں کہہ سکتی کہ اس کی سب سے بڑی قربانی اس کی فیملی کا اسے اون کرنے سے انکار کرنا تھا یا اس کی سب سے بڑی قربانی اپنی انا کو مارکر اپنے گانے کسی اور کے حوالے کرنا تھا ……میرے خیال سے اس نے جو بھی قربانی دی وہ اپنے آپ میں بہت بڑی تھی۔ کسی دوسری شے سے اس کا موازنہ کرنا شاید دوسری قربانی کی اہمیت سے انکار کرنا ہوگا۔اس لئے میں سمجھتی ہوں کہ اس کی ہر قربانی ایک بڑی قربانی تھی۔“اس کا جواب مفصل اور وضاحتی تھا۔
”اس کی فیملی نے اسے میوزک کی وجہ سے اون کرنے سے انکار کیا تھا؟“
”جی ہاں ……ا سکی فیملی کو اس کا میوزک پسند نہیں تھا۔ حالانکہ وہ لوگ خاصے ماڈرن تھے مگر ان کو یہ سب بالکل بھی پسند نہیں تھا۔ اس لئے انہوں نے پہلے اسے منع کیا لیکن پھر اس کی ضد کے آگے ہتھیار ڈال دئیے لیکن شرط رکھی کہ میوزک کو چننا ہے تو فیملی کو چھوڑنا پڑے گا۔“وہ ایک دم رکی۔
”بہت مشکل حالات رہے ہوں گے؟“نجانے یہ سوا ل تھا یا ایک جھوٹا دلاسہ……
”یقینا ہوں گے اور مجھے افسوس ہے کہ اس وقت اس مشکل کی گھڑی میں میں اس کے ساتھ نہیں تھی۔ مجھے تو بہت دیر بعد اس نے اپنی زندگی کا حصہ بنایا اور وہ بھی بہت مشکل سے……“اس کا لہجہ بھیگنے لگاتھا۔


……………………………………

دو دن کے اندر اندر سب کو پتہ چل چکا تھا کہ شمائل کو میوزک میں نام کمانا ہے۔ اسے گانا گانا ہے ا سلئے وہ اپنی فیملی کو چھوڑ کر پاکستان میں شفٹ ہوگیاہے۔چچی نے اسے سمجھانے کی کوشش کی تھی اور ان کا جھگڑا ہوگیاتھا۔ وہ ہر صورت میں میوزک میں نام کمانا چاہتا تھا اور اس کی فیملی نہیں چاہتی تھی کہ وہ میوزک انڈسٹری کی طرف جائے۔
شمائل نے ایک فلیٹ کرائے پہ لے لیا تھا اور وہ مسلسل مختلف جگہوں پہ گانے کے لئے کوشش کررہاتھا کہ کسی طر ح سے اسے ایک بریک مل جائے اور وہ ایک سنگر بن جائے۔
حوریہ نے چچی کے موبائل فون سے اس کا نمبر نکال لیا تھا۔ اس کی یونی ورسٹی میں ایک فنکشن تھا اور اس نے سب کو کہا کہ میں ایک سنگر کو بلاؤں گی جو فری میں گانے گائے گا۔
حوریہ نے شمائل کو اپنی یونیورسٹی میں آکر گانا گانے کی پیشکش کی جو اس نے بلا جھجھک قبول کرلی۔
اس کو یونیورسٹی میں آتا دیکھ کر حوریہ کی دوستوں نے کہا:”اوو و ہ ہ یہ کتنا ہینڈسم ہے یار……“
”یار یہ گانا نہ بھی گائے تو بھی میں اس کے لئے تالی بجانے کے لئے تیار ہوں۔“
”یار کتنا کیوٹ ہے۔“
اس نے سب کے سامنے اپنا پہلا گانا گاا اور سب کے دل جیت لئے۔
”میں تینوں سمجھاواں کی
نہ تیرے باجوں لگدا جی
تو کی جانے پیار میرا
کروں میں انتظار تیرا
تو جند تو ہی جان میری
میں تینوں سمجھاواں کی۔“
اس کی دوست نے کاغذ پہ چھوٹی سی ریکویسٹ لکھ کر دی۔اور اس نے گانا گا کر سماں ہی باندھ دیا۔
”ایسا دیکھا نہیں خوبصورت کوئی
جسم جیسے اجنتا کی مورت کوئی
جسم جیسے نگاہوں پہ جادو کوئی
جسم نغمہ کوئی جسم خوشبو کوئی
جسم جیسے مہکتی ہوئی چاندنی
جسم جیسے مچلتی ہوئی راگنی
جسم جیسے کہ کھلتا ہوا اک چمن
جسم جیسے کہ سورج کی پہلی کرن
جسم ترشا ہوا، دلکش و دلنشیں 
صندلیں صندلیں، مرمریں مرمریں 
حسن جانا ں کی تعریف ممکن نہیں 
حسن جاناں کی تعریف ممکن نہیں 
آفریں آفریں، آفریں آفریں“
شمائل آنکھیں بند کر کے گائے جارہاتھا لیکن وہاں موجود ہر لڑکی کو لگا جیسے یہ گانا اسی کے لئے گایا جارہاہے۔



……………………………………


یونیورسٹی میں گائے ہوئے گانے نے اسٹوڈنٹس کے دل میں میرے لئے عزت اور شہرت پیدا کردی تھی۔
حوریہ کی یونی ورسٹی کے ایک لڑکے اجمل نے مجھے اپروچ کیا اس کے ابامغل صاحب ایک میوزک کمپوزر تھے۔اس لڑکے کے ابا  کے ساتھ میری ایک پرسنل میٹنگ ہوئی اور مجھے کہا گیا کہ میں اس میٹنگ کو صیغہ راز رکھوں۔
انہوں نے مجھے آفر دی کہ وہ میرے لکھے ہوئے اور کمپوز کئے ہوئے گانے خرید لیں گے۔ انہوں نے مجھے اچھی رقم آفر کی اور مجھے اس وقت پیسوں کی اشد ضرورت بھی تھی سو میں نے ہامی بھر لی اور اور اپنے آٹھ گانے ان کو بیچ دئیے۔ یہ میرے لئے آسان نہیں تھا……وہ گانے میرا سرمایہ تھے……اور میں جانتا تھا کہ میں اس سے بہتر گانے دوبارہ لکھ لوں گا لیکن دل سے وہ خلش مٹتی ہی نہیں تھی……


……………………………………

”اس نے جب یونیورسٹی میں گانا گایا تو بس اس کی دھوم مچ گئی۔ پھر ایک اور یونیورسٹی نے اسے اپنے کسی فنکشن میں بلایا اور نہ صرف بلایا بلکہ اسے پے منٹ بھی کی۔ اور سب سے مزے کی بات یہ تھی کہ اس نے پے منٹ ملنے کے بعد مجھے فون کر کے کہا کہ وہ مجھے ٹریٹ دینا چاہتا ہے۔“وہ منہ چھپا کر ہنسنے لگی۔
”ٹریٹ؟کس لئے؟“ثمینہ مسکانے لگی تھی۔
”اس نے کہا کہ یہ تھوڑی بہت شہرت اسے صرف میری وجہ سے ملی ہے اس لئے وہ مجھے ٹریٹ دینا چاہتا تھا۔لیکن میں نے منع کردیا۔“
”کیوں؟“ثمینہ کے لہجے میں بلاکا تعجب تھا۔
”اس نے بھی یہی پوچھاتھا۔“
”تمہیں جانا چاہئے تھا۔“
”میں نے اس ٹریٹ کے بدلے اس کی دوستی مانگی۔“
”آہ……بیوٹی فل ٹریڈ……اچھی تجارت کی تم نے۔“ثمینہ نے دل کھول کر سراہا۔
”اس نے بلا جھجھک میری دوستی قبول کی۔ اور یوں ہم اکثر یونیورسٹی کے فنکشنز میں ملنے لگے۔ فون پہ بات کرنے لگے۔ اور ہماری دوستی گہری ہونے لگی۔“
”پھر؟پھر کیا ہوا؟“
”پھر ایک دن ہماری یونی ورسٹی میں ایک میلہ لگایا گیا تو میں نے ایک اسٹال بُک کیا اور اسے بلا لیا۔ اور اسے بیچ میں بٹھا کر چاروں طرف کرسیاں رکھ دیں۔ کسی کو فرمائش کرنی ہو تو وہ سو روپے دے کر اپنی پسند کا گانا گنوا بھی سکتا تھا اور سنگر کے ساتھ گا بھی سکتا تھا۔ اسٹوڈنٹس بہت انجوائے کررہے تھے۔ جبھی کسی نیوز چینل نے شمائل کا گانا ریکارڈ بھی کیا اور اسے اپنے چینل پہ چلایا بھی۔ اور یوں اسے پہلی بار ایک میوزک اسٹوڈیو کی طرف سے کال آئی۔“
”گریٹ آخر محنت رنگ لائی اور اس سے ہمیں یہ سبق بھی ملا کہ چھوٹا کام بھی آپ کو بڑی کامیابی دلوا سکتا ہے۔“ثمینہ نے ستائشی انداز میں کہا۔
”جی بالکل لیکن میں سمجھتی ہوں کہ ایک ستارے کے لئے کامیابی حاصل کرنے سے زیادہ ضروری اس کا اسٹرگلنگ پیریڈ ہوتا ہے۔ وہ کامیابی حاصل کرکے جب اونچائی پہ پہنچ جاتا ہے تو وہ وہ ڈیپریشن میں چلا جاتا ہے۔ اس کا سارا چارم غائب ہوجاتا ہے اور اس کی زندگی کا جیسے مقصد پورا ہوجاتا ہے۔ اس لئے مجھے تو شمائل کامیاب ہونے سے پہلے زیادہ اچھا لگتا تھا۔“
”کیا وہ مغرور ہوگیاتھا؟“ثمینہ نے حیرانگی سے پوچھا۔
”مغرور تو نہیں ہوا تھا لیکن سہم گیاتھا۔ جب اس کے ساتھ دھوکہ ہوا تو وہ ڈرنے لگاتھا……“
”کس نے دھوکہ دیاتھا اس کو؟“


……………………………………

ایک اسٹوڈیو میں مجھے گانا گانے کی آفر ملی اور میں بہتر سے بہتر گانا لکھنے اور کمپوز کرنے کی کوشش میں جُت گیا۔اس نے چینل والوں کو گانا سنایا اور وہ ان کو پسند آیا اور یوں اس کا پہلا گانا ریلیز کردیاگیا۔ اس دن وہ خود کو آسمان میں اڑتا ہوا محسوس کررہاتھا……
چہرہ تیرا اب بھلانے لگے ہیں 
پہرے یوں دل پہ بٹھانے لگے ہیں 
سنا ہے بہت تم حسیں ہوگئے ہو
موسم بھی خبریں سنانے لگے ہیں 
چہرہ تیرا اب بھلانے لگے ہیں 
گرد لہجوں کی چھٹنے لگی ہے
زمانے کی رسمیں نبھانے لگے ہیں 
زمانے کی رسمیں نبھانے لگے ہیں 
دل پہ جو بوجھ تھا ہٹ گیا ہے
دکھانے کو اب مسکرانے لگے ہیں 
چہرہ تیرا اب بھلانے لگے ہیں 
پہرے یوں دل پہ بٹھانے لگے ہیں 
چہرہ تیرا  ہاں ہاں چہرہ تیرا ہاں ہاں 
چہرہ تیرا اب بھلانے لگے ہیں 


……………………………………

چینل پہ اس کا ایک گانا ریلیز ہوا اور وہ مقبول ہونے لگا۔ لوگ اسے پہچاننے لگے۔ اسے دیکھ کر اس کے گانے کے بول گنگنانے لگتے۔اس کا گانا ہٹ ہوگیاتھا ہر طرف اس کے گانے کا چرچا تھا۔ 
ایک میوزک اسٹوڈیو نے اس کے ساتھ کنٹریکٹ سائن کیا اور اس کے لکھے ہوئے چھ گانے اس سے لے لئے کہ ہم اس کی دھنیں تیار کر کے آپ کو گانے کے لئے بلا لیں گے۔
ایک مہینے کے اندر اندر اس کے تمام گانے اسٹوڈیو نے ایک مشہور سنگر سے گنوا کر ریلیز کردئیے۔ شمائل کی دنیا اندھیر ہوگئی۔

……………………………………



”میں نے امی ابو کو بتایا کہ میں شمائل سے شادی کرنا چاہتی ہوں تو وہ دونوں مجھ سے بہت ناراض ہوئے۔وہ میرے لئے ایک بہت مشکل وقت تھا۔“
”پھر شادی کیسے ہوئی؟“
”میں نے شمائل کو پرپوز کیا تو وہ پہلے حیران ہوا اور اس نے مجھ سے پوچھا کہ تم میرے حالات سے واقف ہوناں؟ یا میرا مذاق اڑانے آئی ہو؟ میں نے کہا میں اچھی طرح سے واقف ہوں۔ میں جانتی ہوں کہ تمہارے پاس پیسے نہیں ہیں۔ تم کرائے کے گھر میں رہتے ہو اور اسٹرگلنگ پیریڈ سے گزر رہے ہو۔اس نے مجھے بتایا کہ اسٹوڈیو والوں نے اس طرح سے میرے گانے چرا لئے ہیں اور میں اس وقت بہت ہی زیادہ مشکل اور برے حالات سے گزر رہاہوں اور میں بالکل بھی اس وقت کوئی ریلیشن شپ افورڈ نہیں کرسکتا۔ میں نے اس کو کہا کہ اس سب کے گزر جانے کے بعد اگر میں تمہیں پرپوز کروں تو تم میرا پرپوزل قبول کرلوگے؟اس نے بنا ہچکچائے ہاں کہہ دیا۔“ اس نے مسکراتے ہوئے سارا قصہ بیان کیا۔ اس کے چہرے پہ ایک فاتح سی مسکراہٹ تھی۔
”مطلب اس وقت شادی کے متعلق فکس ہوگیاتھا کہ شادی تو تم نے شمائل سے ہی کرنی ہے؟“ثمینہ نے مسکراتے ہوئے اس سے پوچھا۔
”جی یہ تو میں نے اس کی ویڈیو دیکھ کر ہی سوچ لیا تھا کہ زندگی میں اگر ایک بھی موقع ملا تو میں اسے مِس نہیں کروں گی۔“
”یعنی سب کچھ تمہارے حق میں ہی ہورہاتھا۔“
”ہو تو رہاتھا لیکن امی ابو کو منانا لوہے کے چنے چبانے جیسا تھا۔ میں نے بڑی مشکل سے ان کو منایا اور جیسے ہی شمائل کا دوسرا گانا ریلیز ہوا میں نے اس پہ شادی کے لئے دباؤ ڈالنا شروع کردیا کیونکہ وہ خوش شکل تھا، خوب رو تھا کوئی بھی لڑکی اس کو دیکھ کر اس کی دیوانی ہوسکتی تھی۔ اس لئے میں نے سوچا کہ اس سے پہلے کہ کوئی اور اس کی طرف نگاہ غلط ڈالے میں اس سے شادی کرلیتی ہوں۔“
”پھر؟شادی کب ہوئی؟“
”شادی اس کے گانے کے ریلیز ہونے کے دو ہفتے بعد بہت سادگی سے ہوئی۔ امی ابو نے بہت سادگی سے مجھے نکاح پڑھوا کر اپنے گھر سے رخصت کردیا۔ ولیمے میں میری دو تین سہیلیاں اور شمائل کے ایک دو دوست شریک ہوئے او ر بس……میڈیا کوایک ہفتے بعد معلوم ہوا تو شمائل کی شہرت میں اضافہ ہی ہوا۔“
”کیسی رہی شادی شدہ زندگی؟من چاہا جیون ساتھی مل گیا……کیسا گزرا وقت؟“
”وقت ہی تو تھا گزر گیا کاش مجھے معلوم ہوتا تو میں وقت کو روک لیتی……مجھے معلوم ہوتا تو میں وقت کو گزرنے ہی نہ دیتی……میں وقت کا پہیہ جام کردیتی۔ اتنا خوش میں زندگی میں کبھی بھی نہیں رہی جتنا شادی کے بعد رہی ہوں۔ اور وہ خوشیاں بالکل ناپائیدار ثابت ہوئیں۔“حوریہ کی آنکھیں برسنا شروع ہوئیں اور اس کی ہچکیاں بندھ گئیں۔ ثمینہ اپنے صوفے سے اٹھ کر اس کے پاس آکر بیٹھی اور اس کو اپنے ساتھ لگا کر سہلانے لگی۔


……………………………………

میرا گانا ہٹ ہونے کے بعد مجھے ایک اسٹوڈیو والوں نے بلا کر کہا کہ کچھ گانے لکھ کر لاؤ اور آکر گاؤ۔ میں نے بہت محنت اور دن رات کی مشقت سے چھ گانے تیار کئے اور لے کر گیا۔ جب میں وہاں پہنچا تو انہوں نے کہا کہ ہم اس کی دھنیں تیار کروا کر آپ کو بلا لیں گے۔ ایک مہینے کے اندر اندر ایک مشہور سنگر نے وہ گانے گا کر ساری داد وصول کرلی اور میری دنیا جیسے اندھیر ہوگئی۔ مجھے سمجھ نہیں آتی تھی کہ میں کیا کروں ……اسٹوڈیو والوں نے مجھے پہچاننے سے انکار کردیا……میرا کوی ساتھ دینے کو تیار نہیں تھا سوا ئے حوریہ کے……نجانے وہ ٹھنڈی ہوا کا جھونکا بن کر میری زندگی کے جہنم میں کہاں سے آٹپکی تھی……
اس نے مجھے پرپوز کیا شادی کی پیشکش کی……
میں حیران ہوا……پھر پریشان ہوا……
اس نے کہا وہ سب دیکھ لے گی…… اور میں نے اسے کہا کہ تھوڑا وقت دو……وہ مجھے وقت دینے کو تیار نہیں تھی…… مجبوراً ہم نے ایک ڈیل کر لی۔میں نے کہا کہ میں چند دن میں اس صدمے سے ابھر آؤں پھر شادی کر لیں گے…… اور یوں آناً فاناً ہماری شادی فکس ہوگئی……
میں نے گھر والوں کو اطلاع دی……وہاں موت کا سا سناٹا طاری رہا……کسی نے جھوٹے منہ یہ تک نہیں کہ مبارک ہو……میرے اندر کا انسان اس دن جیسے مر گیاتھا……میں جس طرح زندہ تھا ہنستا بولتا تھا یہ میں ہی جانتا ہوں …… میرے اندر کے شمائل کو مارنے میں میرے علاوہ میرے گھر والے بھی شامل ہیں ……ہم سب شمائل کے قاتل ہیں ……اسی لمحے میرے اندر سے ایک گانا پھوٹا تھا ……بالکل کسی بیج کی مانند جو اپنی زمین کے اندر سے پھوٹتے ہیں …… بہت تکلیف سے گزرتے ہیں اور سخت خول کو توڑ کر ایک ننھی کونپل جنم لیتی ہے……اسی طرح ایک آرٹسٹ کو اپنے اندر سے کونپل کو نکالنے کے لئے بہت تکلیف سے گزرنا پڑتا ہے تبھی بیج پھوٹتا ہے اور کونپل پھوٹ کر دنیا کی خوبصورتی دیکھتی ہے اس سے پہلے کی دنیا تو بس ایک سخت خول کی مانند ہوتی ہے اندھیری……اور کالی کتھئی سی…… جس میں کوئی رنگ نہیں ہوتا……
پھر ساون کی رُت آئی ہے
پھر بھادوں برسے نیناں 
پھر دل میں وہی کسک اٹھی
پھر دل نے تمہیں ہے یاد کیا
پھر ہم نے خود سے وعدہ کیا
اب نہ کریں گے یاد تمہیں ……!!
اب نہ کریں گے پیار تمہیں ……!!
پھر جب مہکی پون چلی
دل نے تمہیں پھر یاد کیا
عہد وہی پھر یار کیا
اب نہ کریں گے یاد تمہیں ……!!
اب نہ کریں گے پیار تمہیں ……!!


……………………………………

شادی کے بعد حوریہ جیسے ہواؤں میں اڑ رہی تھی۔ اسے من پسند جیون ساتھی مل گیاتھا اور اسے کیا چاہئے تھا۔ اس کی یونیورسٹی بھی مکمل ہو چکی تھی اور شمائل کی اجازت سے ہی اس نے ایک ایڈ کمپنی میں کری ایٹو ٹیم جوائن کرلی تھی۔
شادی کے بعد شمائل نے کئی گانے گائے اور اس کاہر دوسراگانا سپر ہٹ ثابت ہورہاتھا۔
بھیگا بھیگا سا کیمپس 
تمہاری یاد کی بارش میں کس قدر اداس ہے 
کبھی دیکھو تو جاناں!
ہر کوریڈور میں جھانکتی بارش کی بوندیں 
تمہیں پکارتی ہیں ……
کلاسوں میں سرگوشیاں کرتی ہیں 
میں بے مقصد ہونہی پورے کیمپس میں 
تمہیں تلاش کرتا ہوں جاناں!
کینٹین کی بنچ کے پاس کھلا گلاب کا پھول
زرد پڑنے لگا ہے
تمہاری یاد کی بارش میں 
بھیگا بھیگا سا کیمپس 
کس قدر اداس ہے
کبھی دیکھو تو جاناں!
شادی کے ایک مہینے کے اندر اندر شمائل نے چھ سات گانے کر ریلیز کردئیے۔شادی کے بعد اس کی قسمت کا ستارہ چمک اٹھا تھا۔



……………………………………
”کیا تمہیں اس کا کوئی گانا یاد ہے؟“ثمینہ نے اس کے بال سہلاتے ہوئے پیار سے پوچھا۔
اس نے دھیرے سے اثبات میں سر ہلایا۔ 
”میرے لئے تھوڑا سا گاؤ ناں؟“ثمینہ نے اٹھلا کر فرمائش کی۔
وہ دھیرے سے مسکرائی۔اس نے تھوڑا سا پانی پی کر گلا صاف کیا۔ پھر سوچنے لگی کہ کون سا گانا گائے۔
”ترک تعلق؟“اس نے اپنی پسند کا گانا بتاکر پوچھا۔
”اوہ مائی فیورٹ……“ثمینہ بے طرح خوش ہوئی۔
”آپ نے شمائل کے گانے سنے ہیں؟“حوریہ کو حقیقتاً خوشی محسوس ہوئی۔
”آف کورس……کس نے نہیں سنے اس کے آئی کونک گانے……چلو گاؤ……“ثمینہ نے اسے گانے کو اکسایا۔
اس نے آنکھیں بند کیں اور گانا شروع کیا:
”وہ جب بھی بات کرتا ہے ……ترک تعلق کی بات کرتا ہے
میں محفل کا ذکر کروں تو……ویرانے کی بات کرتا ہے
وہ جب بھی بات کرتا ہے ……ترک تعلق کی بات کرتا ہے
مجھے لگتا ہے گر اچھا……کبھی برسات کا موسم
مجھے لگتا ہے گر اچھا……کبھی برسات کا موسم
وہ خزاں کی بات کرتا……پت جھڑ کو یاد کرتا ہے
وہ جب بھی بات کرتا ہے ……ترک تعلق کی بات کرتا ہے
رنگ تتلی خوشبو ساون……ہنستے موسم کی مہکی بہاریں 
رنگ تتلی خوشبو ساون……ہنستے موسم کی مہکی بہاریں 
میں بہکوں تو ٹال دیتا ہے……آنکھیں چرانے سے کام لیتا ہے
وہ جب بھی بات کرتا ہے ……ترک تعلق کی بات کرتا ہے
وہ جب بھی بات کرتا ہے ……ترک تعلق کی بات کرتا ہے
اس نے آنکھیں کھولیں تو اس کے گال بھیگے ہوئے تھے اور اس کی آنکھوں کے سامنے وہی خوفناک منظر تھا جسے وہ بھولنے کی کوشش میں بے خود ہوجاتی تھی۔


……………………………………

”تمہارے گانوں میں وہ دم نہیں ہے۔کچھ نیا لکھ کے لاؤ بابو۔“
”کیا مطلب دم نہیں؟ یہی گانے چوری کر کے دوسرے سنگر گا کر راتوں رات شہرت کی بلندیوں کو چھو رہے ہیں اور میرے گانوں میں دم نہیں ہے؟آر یو ان یور سینسس؟؟“وہ پھٹ پڑا تھا……سارا لاوا باہر آنے کو بے تاب تھا…… شاید اس کی برداشت جواب دینے لگی تھی……
”دیکھو شمائل اس انڈسٹری میں شارٹ ٹیمپرڈ لوگوں کے لئے کوئی گنجائش نہیں ہے۔دھیرج سے کام لو اور اپنی آواز دھیمی رکھو گے تو فائدے میں رہو گے۔“
”فائدہ مائی فٹ……“اس نے پاؤں سے کرسی کو ٹھوکر ماری اور تیزی سے اٹھ کھڑا ہوا اور اس کے ساتھ ہی اس کی آواز بھی بلند ہوتی چلی گئی:”میرے گانے چوری کر کر کے تم لوگ کما رہے ہو اور مجھی کو آنکھیں دکھاتے ہو۔ میں کسی کو نہیں چھوڑوں گا۔“
”جسٹ گیٹ لاسٹ فرام ہیئر……اور آئندہ مجھے اپنی شکل مت دکھانا تم……“پروڈیوسر نے غصے میں کہا۔
شمائل مٹھیاں بھینچتا باہر نکل آیا……ہر کوئی اسی کو گھور رہاتھا……اسے لگا تھا جیسے وہ شاید اپنے کپڑے اندر ہی بھول آیاہے اس نے بے اختیار اپنی شرٹ درست کی……کپڑوں کو ہاتھ لگا کر محسوس کیا……پھر تیز تیز قدم اٹھاتا آنکھیں صاف کرتا آفس سے باہر نکل آیا……اتنی شدید بے عزتی زندگی میں پہلی بار محسوس کررہاتھا وہ……
اسے لگا کہ ایک بار پھر اسے زندہ کر کے مار دیا گیا ہے…… 
وہ بری طرح سے ٹوٹ چکا تھا……اس کے مزید گانے چوری کر لئے گئے تھے……
اس کے گانے چوری کر کے دوسرے سنگرز سے گنوائے جا رہے تھے اسی کو بریک نہیں دے رہے تھے……وہ بری طرح سے ٹوٹ چکا تھا……ہر طرف اسے اپنی کرچیاں بکھری ہوئی نظر آرہی تھیں اور اسے لگ رہاتھا کہ ان کرچیوں پہ چلتے چلتے اس کے پاؤں چھلنی ہو رہے ہیں ……
محبت کے سبھی تعلق
سبھی رسمیں 
 سبھی قسمیں 
مانو……!!
کوئی بوجھ ہوں جیسے……!!
جانو……!!
کوئی روگ ہوں جیسے……!!
محبت کے سبھی موسم
سبھی لہجے
سبھی قصے
مانو……!!
بس ڈھونگ ہوں جیسے……!!
وقتی شوق ہوں جیسے……!!
اداسی
تنہائی
سر دراتیں 
مانو……!!
کوئی دوست ہوں جیسے……!!
جانو……!!
سچے لوگ ہوں جیسے……!!

گھر پہنچتے پہنچتے وہ مصمم ارادہ کر چکاتھا کہ اسے اس دنیا کے لوگوں کا منہ اب مزید برداشت نہیں کرنا ہے اس لئے 
اس نے خود کشی جیسا انتہائی قدم اٹھا لیا۔ہوائیں ناچتی ہوئی اس کی لاش کے اردگرد ماتم کررہی تھیں۔


……………………………………

اس نے چھٹی منزل سے چھلانگ لگا کر خودکشی کی تھی۔ ہر کوئی اس کے اردگرد کھڑا تبصرہ کررہاتھا۔
”ارے دیکھو تو کیسا جوان جہان لڑکا تھا۔“
”اوہو دیکھو تو سفید شرٹ کیسے خون سے لال ہوگئی ہے۔“
”ارے کوئی فون کرو پولیس کو……“
”کوئی ایمبولینس کو بلاؤ۔“
”ابھی تو شادی ہوئی تھی۔“
”دیکھو تو پتہ نہیں کیوں اس نے ایسا کیا حالانکہ اتنا اچھا مشہور سنگر تھا۔“
”پتہ نہیں کیا بات ہوئی جس نے اسے خودکشی کرنے پہ مجبور کیا۔“
وہ اسی وقت رکشے سے اتری تھی اور لوگ اسے دیکھ کر راستہ دینے لگے۔ وہ اتنی بھیڑ دیکھ کر پریشان ہوئی لیکن جب لوگوں نے اس کے لئے شمائل کی لاش تک کا راستہ صاف کیا تو ا سکی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ وہ اپنا پرس ایک طرف پھینکتی دوڑتی ہوئی اس کے پاس پہنچی تھی:”شمائل شمائل شمائل……کیا ہوا ہے تمہیں؟“
”کوئی ایمبولینس کو بلاؤ……ڈاکٹر……کوئی ڈاکٹر کو بلاؤ……پلیز……آ آ آ آ آ ……“وہ چیخ رہی تھی چلا رہی تھی۔ دو خواتین نے آکر اسے شمائل سے الگ کیا۔ وہ ان کے بازوؤں میں مچلنے لگی۔ اس کے کپڑے خون سے لت پت ہوگئے تھے۔ ان خواتین کے کپڑوں بھی خون آلود ہوگئے تھے۔
تھوڑی دیر میں ہی پولیس اور ایمبولینس پہنچ گئیں اور تفتیشی عمل شروع ہوگیا۔
عینی شاہدین میں دو تین لوگ فلیٹس کے رہائشی تھے جو نماز کی ادائیگی کے بعد گھر کو لوٹتے ہوئے نیچے کھڑے آپس میں باتیں کررہے تھے اور ایک چوکیدار بھی تھا۔ ان سبھی نے شمائل کو اپنی آنکھوں سے چھٹی منزل سے چلا کر گرتے دیکھا تھا۔
”اس نے چیخ کر کہاتھا کہ دنیا والوں رہو تم سب اس جہنم میں ……میں تو جا رہا ہوں اس جہنم سے الوداع……“
سبھی عینی شاہدین کے بیانات ایک جیسے تھے اسی لئے کیس بند کردیا گیاتھا۔


……………………………………

”کیا تمہیں اندازہ تھا کہ وہ اپنی زندگی ایسے ……ختم کرلے گا……یوں اچانک سے؟“ثمینہ اس کا ہاتھ تھام پوچھ رہی تھی۔
اس نے آنسو صاف کرتے ہوئے نفی میں سر ہلایا:”نہیں مجھے ……بالکل بھی اندازہ نہیں تھاکہ…… وہ یوں اچانک ایسی حرکت کربیٹھے گا……سب کچھ بالکل نارمل تھا……مجھے اندازہ نہیں تھا کہ اس کا ڈیپریشن اس قدر بڑھ گیا ہے۔ ہر عروج کو زوال آتا ہے اور اس کا زوال تو میری بھی زندگی برباد کرگیا ہے۔ میری تو زندگی ہی ختم ہوگئی اس کے ساتھ۔ میں بالکل تہی داماں ہوگئی ہوں۔ بالکل خالی ہاتھ……“وہ رونے لگی تو ثمینہ اسے تسلی دینے لگی۔
”اس کے بعد اس کا گانا انٹرنیشنل لیول پہ گانوں کے ایک مقابلے کے لئے پیش کیا گیا۔ اور اس نے پہلا انعام جیتا جب میں انعال لینے اسٹیج پہ گئی تو میرا دل چاہا کہ یہ ایوارڈ ان سب لوگوں کے منہ پہ ماروں جو زندہ انسان کی قدر نہیں کرتے اور مرجانے کے بعد ان کے مقبرے بنواتے ہیں۔ اور ان مقبروں پہ مجاور بن کر پیسے کماتے ہیں۔ اگر اس کو زندہ رہتے یہ سب مل جاتا تو وہ کبھی خودکشی نہ کرتا۔“وہ رورہی تھی پھوٹ پھوٹ کر……
”ناظرین آج کا پروگرام یہیں ختم کرتے ہیں ……ایسے کتنے ہی شمائل ہمارے اردگرد موجود ہیں۔ کوشش کریں کہ ان کے زندگی ختم کرنے سے پہلے ان کا ہاتھ تھام لیں ……کہیں پھر کوئی حوریہ اس طرح نہ روئے کہ دل کٹ کر رہ جائے۔ اپنی میزبان کو دیجئے اجازت اللہ حافظ۔“
بیک گراؤنڈ میں شمائل کا گانا پلے ہورہاتھا:
خواب چادر کی بَکل مارے
چاندی کے جھولے پہ سوار
تیرا ساتھ……
ستاروں کی مہین ردا اوڑھے
جھلمل کرتا……
پلکوں پہ سولی چڑھتا ہے
رات کی دہلیز پر……
تیرا ساتھ……
میرے دل کے آنگن میں 
صبح نو بن کر چمکتا ہے
خواب چادر کی بَکل مارے
چاندی کے جھولے پہ سوار


……………………………………

ختم شد

اس ناول کو پی ڈی ایف میں ڈائونلوڈ کرنے کے لئے یہاں کلک کریں۔
https://pdfnovelsbank.blogspot.com/2019/12/kuch-der-rehny-dy-khuwab-mein-novel-by-saira-ghaffar.html





اہل علم حضرات قلمی چوری سے پرہیز کریں۔
 کاپی پیسٹ کی اجازت نہیں ہے۔

Comments

Post a Comment