Skip to main content

Umeed By Saira Ghaffar Online short urdu story complete umeed

Umeed By Saira Ghaffar Online short urdu story complete umeed

امید

(سائرہ غفار)

میں سب آوازیں سن رہا تھا……ہر ایک آواز……لوگوں کی آوازیں ……ان کی باتیں …… ان کی ہنسی…… ان کے قہقہے…… گھر کے فرش پر پاؤں پڑنے سے ہونے والی دھمک دھمک……بچوں کی قلقاریاں ……ان کے کھیل میں لڑائی جھگڑے والی چیخیں ……گھر کے باہر سے گزرتی گاڑیوں کا ہارن…… بغیرسائیلنسر کے گزرنے والی موٹر سائیکل کی بھدی سی آواز …… رکشے والے کا تیز ہارن اور پھر چلانا……دودھ والے کی سائیکل کا بھونپو……سب سنائی دے رہاتھا ……سب صاف سنائی دے رہاتھا……ایک ایک آواز دل پر اترتی ہوئی محسوس ہورہی تھی……ان سب آوازوں سے زیادہ مجھے جو آواز آرہی تھی وہ میری اپنی سانسوں کی آواز تھی……ایک ایک لمحہ ایک ایک آواز میری سماعتوں پر گراں گزر رہی تھی کیونکہ میں میں اپنی بقا کی جنگ لڑ رہاتھا……میرے لئے یہ سب کچھ بہت مشکل تھا…… مجھے لگ رہا تھا کہ آج میری زندگی کا آخری دن ہے اور اب بس میں مرنے والا ہوں مگر کچھ تو تھا جو مجھے زندگی کی جانب کھینچ رہا تھا کوئی احساس کوئی پکار تھی جو مجھے اپنی جانب بلا رہی تھی اور میں اپنی کوشش جاری رکھے ہوئے تھا……مجھے سب کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں، نجانے وہ لوگ جانتے بھی تھے کہ نہیں کہ ان کے پیروں تلے میں ایک خول میں بند پڑا ہوں۔ مجھے نہیں معلوم کہ مجھے وہاں کس نے دفن کیا تھا مگر میں زندہ تھا میرے سینے میں اٹکتی ہوئی سانسیں اس بات کی گواہی دے رہی تھیں کہ مجھ میں اب بھی حوصلہ اور دم باقی ہے اور میں اب بھی زندگی کی طرف پلٹنے کی کوشش کررہا ہوں۔ 

میرے کانوں میں کسی کے ہنسنے کی آواز گونجی اور میرا دل چاہا کہ میں پھوٹ پھوٹ کر رو دوں کیونکہ میں اپنی زندگی کی آخری سانسیں گن رہا تھا اور کوئی میرے اوپر کھڑا اپنی زندگی کے مزے لوٹ رہا تھا۔ اس ہنسی کی کھنک نے میرے دل میں اور بھی زیادہ حوصلہ پیدا کردیا کہ اب تو میں یہاں سے اس خول کو توڑ کر باہر نکل ہی آؤں گا چاہے کچھ ہوجائے آخر لوگوں کو یہ تو پتہ چلنا چاہئے ناں کہ یہاں پہ کوئی دفن ہے۔

میں خدا سے گڑگڑا کر دعا مانگ رہاتھا کہ وہ مجھے تھوڑی سی زندگی دے دے تاکہ میں بھی دنیا کی رنگینیاں دیکھ کر اس کی عظمت کے گن گا سکوں اور اس کی تعریف بیان کروں کہ اس نے کتنی پیاری دنیا بنائی۔میں نے دعا ختم ہونے کے بعد اپنے اندر ایک سکون اترتا محسوس کیا۔ مجھے لگا کہ مجھ میں طاقت اور توانائی بھر گئی ہے۔میں نے اوپر کی جانب زور لگانا شروع کیا مجھے لگا تھوڑی دیر کے بعد مجھے محسوس ہوا کہ خول میں ایک باریک سا بال آگیا ہے اب کیا تھامیں نے آؤ دیکھا نہ تاؤ فوراً اپنی مکمل طاقت کے ساتھ خول کو اوپر کی جانب دھکا دینے میں مصروف ہوگیا۔ میں اپنی پوری طاقت کے ساتھ خول میں آخر کار اتنا سوراخ کر دیا کہ اس میں سے باہر نکل سکوں۔ میں نے خول میں سے سر نکالنے کی کوشش کی تو مجھے معلوم ہوا کہ مجھے ایک اور امتحان درکار ہے کیونکہ میں جس خول میں دفن تھا وہ زمین کے اندر تھا اب مجھے اپنی زندگی کے لئے زمین کے اندر سے باہر نکلنا تھا۔ میں بہت زیادہ تھک چکا تھا مگر میرا دل اور ذہن ہار ماننے کو تیار نہیں تھا۔ میں نے دو تین سیکنڈ کے لئے اپنی ہمت مجتمع کی اور زمین کو اپنی طاقت کے حساب سے اوپر کی جانب دھکا دینا شروع کردیا۔ اتفاق کی بات یہ تھی کہ جس جگہ پر میں دفن تھا وہاں پر زمین کچھ زیادہ سخت نہیں تھی۔ زمین کی نرمی کا احساس ہوتے ہی میں دل و جان سے اسے دھکا دینے لگا اور تھوڑی ہی دیر بعد مجھے نیلا نیلا آسمان دکھنائی دینے لگا اور ٹھنڈی ہوا کے جھونکے مجھے محسوس ہونے لگے۔میں خوشی کے مارے چلانا چاہتا تھا دنیا کو بتانا چاہتا تھا کہ دیکھو میں زندگی کی اپنی بقا کی جنگ جیت گیا دیکھو میں نے وہ پالیا جس کا خواب میں نے زمین کے اندر ایک خول میں پڑے پڑے دیکھا تھا جب میرے ساتھ کوئی نہیں تھا نہ مجھے کسی کا سہارا تھا بس مجھے زندہ رہنا تھا اور یہی لگن مجھے یہاں اس مقام تک کھینچ لائی ہے۔ میں نے رہی سہی ہمت مجتمع کی اور پھر زمین میں بنی چھوٹی سی درز سے کوشش کر کے باہر نکل آیا۔ ٹھنڈی ہوا کے جھونکے مجھے مست کئے دے رہے تھے اور میں دونوں بانہیں پھیلائے زندگی کو محسوس کر رہا تھا اس کو خوش آمدید کہہ رہا تھا جبھی میں نے ایک آواز سنی:”ارے یہ دیکھیں امی۔“ایک چھوٹی سی لڑکی اپنی امی کو مجھے دیکھنے کو کہہ رہی تھی۔ امی نے مجھے اور میں نے امی کو غور سے دیکھا۔امی کا ہاتھ میری طرف بڑھا پھر اچانک رک گیا اور انہوں نے اپنی چھوٹی بیٹی کو کہا:”بیٹی سبحان اللہ کہو۔دیکھو کیسے اللہ نے اس پکے صحن کی پکی زمین کے اندر سے ایک ننھے نرم و نازک پودے کو جنم دیا ہے۔ سبحان اللہ۔ جاؤ بیٹا پانی لے آؤ اور اس ننھے پودے کا دنیا میں استقبال کرو۔ “
چھوٹی لڑکی سبحان اللہ کہتی ہوئی میرے لئے ایک مگ میں پانی لے آئی۔ پانی کو دیکھتے ہی مجھے پیاس لگنا شروع ہوگئی۔ چھوٹی لڑکی نے مجھے پانی دیا اور میں نے زندگی میں اتنا لذیذ مشروب پہلے کبھی بھی نہیں پیا تھا۔ بے اختیار میرے منہ سے سبحان اللہ نکلا۔

آج بھی میں اس چھوٹی لڑکی کے پکے صحن کے پکے فرش پر ایستادہ ہوں مجھے یہاں اگے ہوئے تقریباً بیس سال ہوگئے ہیں۔ وہ چھوٹی لڑکی بھی بڑی ہوگئی ہے مگر وہ آج بھی میرا بہت خیال رکھتی ہے۔ میں ان کو چھاؤں دیتا ہوں۔ ان کو پھل دیتا ہوں۔ میں اس کے لئے آکسیجن صاف کرتا ہوں۔ میں ان کے تمام گھر والوں کے بہت زیادہ کام آتا ہوں۔ میرے اردگرد کچھ اور بھی ننھے منے پودے اگ آئے ہیں اور میں ان سب کو فخر سے دیکھتا ہوں اور سوچتا ہوں کہ کسی دانشور نے کیا خوب کہا ہے:
”وہ مجھے دفنانے آئے تھے مگر وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ میں ایک بیج تھا۔ “
……………………………………



اہل علم حضرات قلمی چوری سے پرہیز کریں۔
 کاپی پیسٹ کی اجازت نہیں ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

Wo merey dil ka malal hay by Saira Ghaffar Complete Online Urdu Novel

Wo merey dil ka malal hay  By Saira Ghaffar  Complete Online Urdu Novel وہ میرے دل کاملال ہے (سائرہ غفار) قسط نمبر 1 ”مج……مجھ……جھ……ے……ے……ے……بچ……چا……لل……وووو……“اس کی آواز اُسے صاف سنائی دے رہی تھی۔  وہ اس کے سامنے کھڑی ا س کی ابلتی ہوئی آنکھیں دیکھ رہی تھی۔ وہ دیکھ رہی تھی کہ کیسے اس کی بہن تڑپ تڑپ کر منہ سے خون کی الٹیاں کررہی ہے۔ وہ دیکھ رہی تھی ……صاف……اور واضح……اسے دکھائی دے رہاتھا……سب کچھ……ایک دم صاف ……ایک ایک چیز اسے نظر آرہی تھی……اسے وہ میرون اور گولڈن چوڑیاں بیڈ سے ٹکرا کر ٹوٹتی ہوئی نظر آرہی تھیں جو اس نے خو داس کے ساتھ جا کر پسند کروائیں تھیں۔ ”دیکھو ذرا……یہ چوڑیاں میرے لہنگے کے ساتھ کیسی لگیں گی؟“ ”بہت پیاری……تم یہی لینا۔“ اس کے سامنے وہی چوڑیاں اس کی کلائی میں پیوست ہوتی جارہی تھیں۔وہ درد کے مارے تڑپ کر کبھی اِدھر گر رہی تھی تو کبھی اُدھر۔ اس سب میں اس کی جیولری ہر طرف سے بے ترتیب ہورہی تھی۔ اس کا نیکلس گردن میں پھندا ڈال رہاتھا۔یہ تنگ نیکلس بھی اُسی نے پسند کروایا تھا۔ ”یہ لمبا نیکلس مت لو……اچھا نہیں لگے گا……کوئی چھوٹے سائز کا لو……جو گ...

Adhoora Main Mukamal Tum By Saira Ghaffar Complete Online Urdu Novel

Adhoora Main Mukamal Tum  By  Saira Ghaffar Complete Online Urdu Novel ادھورا میں ۔۔۔ مکمل تُم (سائرہ غفار) فیروز بخت کو آج دیر ہوگئی تھی۔اور اگر دیر نہ ہوتی تو وہ اسے کبھی بھی نہ دیکھ پاتا۔ وہ اپنی سرخ ہوتی آنکھوں کو بار بار ہاتھ کی پشت سے صاف کرتے ہوئے زیبرا کراسنگ پہ سے گزر رہی تھی۔ فیروز بخت کا دھیان اس کی شکل و صورت پہ گیا ہی نہیں ……اس نے نوٹس ہی نہیں کیا کہ وہ خوب صورت ہے یا نہیں ……وہ صرف جاننا چاہتا تھا کہ وہ روکیوں رہی ہے؟اسے کون سا مسئلہ ہے؟ وہ محض اس کی سرخ ہوتی آنکھوں کو نوٹس کررہاتھا۔ وہ اس کی گاڑی کے سامنے سے گزری اور فیروز بخت کی نظریں اسے دوسری طرف سڑک کراس کر کے ٹریفک کے جمگھٹے میں غائب ہوتے دیکھتی رہیں۔وہ اسے تب تک دیکھتا رہا جب تک وہ نظر آتی رہی۔ اس کے غائب ہوتے ہی سگنل بھی گرین ہوگیا اور وہ سر جھٹک کر ایک گہری سانس خارج کرتا گاڑی کو آگے بڑھا گیا۔ ……………………………………………… ”یار میں اس دوٹکے کی نوکری سے تنگ آگیا ہوں۔سوچ رہاہوں کہ کوئی کاروبار سیٹ کرلوں۔ تیرا کیا خیال ہے؟“ سمان احمد نے فیروز سے پوچھاتھا۔ ”اچھا اور نیک خیال ہے۔“فیروز بخ...

Phantosmia (EP 3) By Saira Ghaffar Complete Online Urdu Novel

Phantosmia By   Saira Ghaffar   Complete Online Urdu Novel فینٹوسمیا (سائرہ غفار) قسط نمبر 3 ”یہ تم کیا کرتی رہتی ہو ہروقت؟ کیا فالتو کے اخبار پھاڑ پھاڑ کر پھول بنا کر ان گملوں میں سجاتی رہتی ہو؟“دلاور کے جانے کے بعد سارا نزلہ معصوم سی کائنات پہ گرنے لگاتھا۔ کائنات نے سہم کر ماں کو دیکھا جو جارحانہ انداز میں کاغذ کے پھولوں سے سجے گملوں کی طرف پیش قدمی کر رہی تھی۔ کائنات نے ایک دم سامنے آکر ماں کو روک دیا:”امی یہ میرے پھول ہیں پلیز ان کو کچھ مت کریں۔“ ”فالتو کام تم دونوں باپ بیٹی کے شوق ہیں۔ بیکار اور فضول کاموں میں اپنا وقت برباد کرتے رہتے ہو۔ جاؤدفع ہوجاؤ یہاں سے۔“شاہدہ نے غصے سے بیٹی کو دھکا دیا۔ اور خود دوسرے کمرے میں چلی گئیں۔ کائنات نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ اس کے پھول اور گملے بچ گئے ورنہ شاہدہ کے غصے سے وہ خود بھی واقف تھی۔ وہ پھر سے اپنے محبوب مشغلے یعنی اخبار اور مختلف کترنوں سے پھول بنانے میں نئے سرے سے جت گئی۔ ………………………… دلاور گھر واپس آیا تو گیٹ پہ اس کی ملاقات شہزاد اور اس کی فیملی سے ہوگئی۔ شہزاد اور دلاور سلام دعا کرنے لگے تو طوبیٰ چا...